Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12

وہ دونوں شہر کے بڑے ریسٹورنٹ میں قدرے کونے والی ٹیبل پر براجمان تھے۔۔۔۔۔
پورے ہوٹل کی دیوار ٹرانس پیرنٹ بنائی ہوئی تھی۔۔۔ سامنے پکی سڑکوں پر ٹریفک کا ہجوم آپنے جون پر تھا یہاں کی رونق دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ رات آٹھ بج رہے ہوں ۔۔۔ ۔۔۔
وہ ایک بار پھر اس ہجوم کی جانب متوجہ ہوگئی۔۔۔۔۔
میر نے گلا کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔۔۔۔۔
ہنی نے گردن موڑ کر اپنے سامنے بیٹھے میر کو دیکھا :
ریسٹورینٹ میں کافی گہما گہمی تھی ۔۔۔۔ لیکن ماحول میں گرمائش تھی ۔۔۔ باہر کی بہ نسبت یہاں کافی سکون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے کوئی بات کرنی تھی شاید ؟؟
ہنی نے عام سے لہجے میں کہا جبکہ اس کا فوکس وہاں بیٹھے لوگوں کی طرف تھا۔۔۔۔
میر نے محسوس کیا صبح والی گرم جوشی مقصود تھی۔۔۔۔۔
” ہممم میرا خیال ہے آپ صبح کی تلخ کلامی کو ابھی تک یاد رکھے ہوئی ہیں ۔۔۔۔”
میر نے امپورٹڈ موبائل شیشے کی چمکتی میز پر رکھا۔۔۔ اور ہنی کو دیکھتے گویا ہوا۔۔۔۔۔
“سر میں کچھ زیادہ ہی خوش فہم ہوگئی تھی ۔۔۔ مجھے برا لگا ہے لیکن آپ کہہ سکتے ہیں آپ استاد ہیں ۔۔۔ اور استاد کا اپنے شاگرد پر اتنا ہی حق ہوتا ہے جتنا والدین کا اپنی اولاد پر۔۔۔”
میر اسے دیکھ کر رہ گیا ۔۔۔۔ میر بولنے ہی لگا تھا کہ ویٹر آرڈر لکھنے وہاں آیا۔۔۔
سر آپ کیا کھانا پسند کریں گے ؟؟
ویٹر نے مودب انداز میں فوڈ کارڈ اس کی جانب بڑھایا ۔۔۔
میر نے کارڈ لے کر ہنی کی جانب رکھا۔۔۔
“ہنی آرڈر لکھوائیں ۔۔۔”
وہ روانی میں اسے ہنی کہہ گیا تھا ۔۔۔۔ جب کہ ہنی نے کرنٹ کھاکر اس کی جانب دیکھا جو ازلی اعتماد سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
“سر میں ڈنر کر چکی ہوں تھینک یو۔۔۔۔”
آج تو ہنی کے ہر ہر عمل پر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگ رہا تھا۔۔۔۔
اوکے چائے یا کافی ؟؟؟۔
میر نے دوبارہ اسے آفر کی ۔۔۔ وہ منع کرنا چاہتی تھی لیکن میر کے چہرہ پر نرم تاثرات دیکھ کر بلیک کافی کا آرڈر دے دیا۔۔۔۔
میر کو خوشگوار سی حیرت نے ان لیا۔۔۔۔
“دو بلیک کافی ود ہاٹ کریم ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ آرڈر دیتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
ویٹر کے جانے کہ بعد وہ دوبارہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔
“اگر میں یہ کہوں کہ اس وقت میں استاد نہیں ایک دوست کی حیثیت سے آپ کے سامنے بیٹھا ہوں اور آپ سے صبح والی بات پر ایسکیوز کروں تو کیا آپ میری فرنڈ شپ ایکسیپٹ کریں گی ؟؟؟
لیکن آپ مجھ سے دوستی کیوں کرنا چاہتے ہیں اس سب کا کیا مقصد ہے ؟؟؟
ہنی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے اس سے ۔۔۔۔
آپ کو کیا لگتا ہے میں کیا چاہوں گا؟؟؟؟
میر نے اس کے دماغ میں گردش کرتے سوالوں کو
جاننے کیلئے اسے بولنے پہ اکسایا ۔۔۔
“ڈونٹ نو سر ۔۔۔”
“دیکھیں ہنی ۔۔۔ آپ کو ہنی کہہ سکتا ہوں نہ مائنڈ تو نہیں کریں گے ۔۔۔۔”
میر نے رک کر اس سے اجازت چاہی ۔۔۔ جس پر ہنی نے ہولے سے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
اوکے اب یہ بتائیں آپ ہرٹ ہوئی نہ میرے سخت رویہ سے ؟؟؟
“جی ۔۔۔”
ہنی نے دہیمی آواز میں کہا :
“میں مکرم چوہدری حنا زئی سے اپنے تلخ رویہ کی معافی چاہتا ہوں۔۔۔”
آج وہ اپنے خول سے باہر آیا ہوا تھا خرم اسے اس لہجے میں کسی سے وہ بھی صنف نازک سے بات کرتا دیکھ لے تو غش کھا کر گرجائے۔۔۔۔۔
“اوکے آئی ایکسیپٹ یورر اپولوجائس ۔۔۔ “
ہنی نے مسکراتے ہوئے میر کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
“تھینکس ہنی ۔۔۔۔ “
اب یہ بتائیں کہ آج صبح جو لڑکے فضول گوئی کررہے تھے ان میں سے کسی کو جانتی ہیں ؟؟؟؟
“ان میں سے ایک کے نے مائرہ کو ہٹ کیا تھا جس پر میں نے اسے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔۔”
ہنی نے بنا کچھ چھپائے صاف لفظوں میں بتایا۔۔۔ ۔
“اوہ تو پھر تو کافی طلبات نے آپ کو وہاں اس کے ساتھ دیکھا ہوگا اور ہوسکتا ہے وہ تھپڑ کا بدلہ لینے کیلئے کوئی اسکینڈل بھی بنا سکتا ہے ۔۔۔۔۔”
“آئی ڈونٹ کئیر سر جو گناہ کرے ڈرے وہ جب میں نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں تو میں کیوں ڈروں ۔۔۔۔”
ہنی نے اعتماد کے ساتھ پختہ لہجہ میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
“یوور رائٹ لیکن جہاں تک میرا تجربہ ہے اسکی خاموشی کوئی نہ کوئی رنگ ضرور لائے گی ۔۔۔ “
میر نے پر سوچ انداز میں اسے دیکھا۔۔۔
سر آپ نے مجھے یہاں ڈارنے کیلئے بلایا ہے ،؟؟۔
“نہیں میں بس اپ کو یہ باور کروانا چاہتا ہوں کہ آپ محتاط رہیں تو زیادہ بہتر ہے اور اگر ہوسکے تو جب تک سیکنڈ سیمسٹر شروع نہ ہو آپ کراچی چلی جائیں ۔۔۔۔”
۔۔۔۔
ہنی نے میر کو خاموشی سے دیکھا لیکن کہا کچھ نہیں اتنے میں وہی ویٹر ان دونوں کا آرڈر لئے چلا آیا ۔۔۔۔۔۔۔
“سر آپ کو کہیں ڈر تو نہیں ہے کہ میں روز آپ کے ڈیپارٹ چلی آوں گی اگر ایسی بات ہے تو سراسر غلط سوچ رہے ہیں آپ۔۔۔ ہنی کو جہاں اہمیت کم ہونے کا احساس ہو ہنی وہاں دوبارہ جانا پسند نہیں کرتی ۔۔۔۔۔۔”
“افففف ایک تو یہ عقل سے پیدل مس یونیورس ۔۔۔۔”
وہ رخ پھیر کر بڑبڑانے لگا ۔۔۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے آپ اپنے اندازہ نہ لگائیں ۔۔۔ اور ابھی جاکر ضروری سامان پیک کرلیجئے گا۔۔۔۔ “
میر نے مگ عنابی ہونٹوں سے لگائے اسے دیکھا:
ڈوپٹہ جارجٹ کا تھا اس لئے سر سے بار بار ڈھلکے جارہا تھا جسے وہ ٹھیک کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اسکارف کہ بغیر وہ اس کے سامنے تھی کچھ آوارہ لٹیں اس کے گالوں کو چوم رہیں تھیں ۔۔۔۔
اسے میر کی گہری نظروں کا احساس ہوا تو لابنی پلکیں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا جو کمال مہارت سے نگاہیں پھیر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر جب جب اسے دیکھتا تو اسے احساس ہوتا وہ اسی کی ہے اور اسی کیلئے بنائی گئی ہے لیکن وہ فارم میں موجود میریٹ پر ٹک کا نشان اسے تلخ حقیقت میں لاپٹختا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
میر بل کارڈ میں رقم رکھتا ہوا ہنی کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ریسٹورنٹ عبور کرتے ہوئے پارکنگ لاٹ میں آئے ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی پکے راستوں پر چلنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی جس کی انکھیں آج گلاسس سے خالی تھیں۔۔۔۔۔
کچھ کہنا چاہتی ہو ؟؟؟؟
میر نے گردن موڑ کہ اسے تکتے پایا تو بول اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“”
” جی لیکن آپ کو غصہ آجائے گا ۔۔۔۔ “
وہ ابھی تک اس کے غصہ کو بھولی نہیں تھی ۔۔
“تو پھر نہ کرو ۔۔۔۔”
میر نے آنکھوں میں چمک لئے اسے دیکھا:
سر آپ سنگل ہیں یا میریڈ ؟؟؟؟
ہنی کی بات پر میر کا پاوں بریک پر لگا گاڑی چڑچڑاتی آواز کہ ساتھ رکی ۔۔۔
واٹ ؟؟
میر نے حیرت سے اسے دیکھا :
“نو سر کچھ نہیں سوری وہ بس روانی میں کہہ گئی۔۔۔۔ “
اسکے اس طرح گاڑی روکنے پر وہ گھبرا کر جلدی سے معذرت کرنے لگی۔۔۔۔
میر نے چہرہ موڑ کر اپنے تاثرات نارمل کیئے۔۔۔۔
پھر دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کی کیوں کہ اس کے اچانک گاڑی کو بریک دینے سے پیچھے کافی گاڑیوں کا ہجوم جمع ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔ اور کچھ تو آوازیں نکال کر اس سے سبب بھی پوچھ رہے تھے سائیڈ مرر پر دیکھ کر اس نے ونڈو سے ہاتھ نکال کر انگوٹھا دیکھایایعنی سب صحیح ہونے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔
ہاں تو کچھ پوچھ رہیں تھیں آپ ؟؟؟
“نہیں سر اٹس اوکے ۔۔۔”
ہنی نے دوبارہ پوچھنے کی غلطی نہیں کی تھی کیا خبر وہ گاڑی سے ہی نیچے اتاردے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد ان دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسٹل کے سامنے گاڑی رکی تو وہ فرنٹ ڈور کھول کر باہر آئی۔۔۔۔۔۔۔
میر گاڑی سے اتر کر اس کے سامنے آیا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اس کہ ہاتھ میں کچھ تھا جسے اس نے ہنی کہ سامنے کیا۔۔۔۔
یہ کیا ہے سر ؟؟؟
ہنی نے ناسمجھی سے میرون ڈائری کو ہاتھ میں لیا۔۔۔
اس کہ فرنٹ صفحہ پر ہی موتی کی طرح الفاظ بکھرے ہوئے تھے۔۔۔
اور نیچے واضح الفاظوں میں لکھا تھا فروم میر خرم چوہدری ۔۔۔۔
اس نے بے یقینی سے میر کو دیکھا جیسے وہ یقین نہ کرپارہی ہو۔۔۔۔
“یہ آوٹوگراف ۔۔۔ اوہ واو واٹ اا گریٹ سرپرائز سیریس لی ۔۔۔”
ہنی کو اپنی خوشی بیاں کرنا نہیں آرہی تھی ۔۔ شوکڈ اتنی تھی کہ اس سے بولا نہیں جارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ہنی کو اس طرح خوش دیکھ کر میر اندر تک سرشار ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
“سر یو آر ااا گریٹ میں اب تک جو سوچتی آئی ہوں وہ فضول ہہی تھا واقعی آپ بہت آچھے ہیں تھینک یو تھینک یو سو مچ ۔۔۔۔”
وہ کھلکھلاتے چہرہ کہ ساتھ اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ میر کو لگا جیسے اس کا چہرہ کی مشابہت اگر گلاب کہ پھول سے دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
“میں میریڈ نہیں ہوں لیکن آپ میریڈ ہیں ۔۔۔”
“ہے نہ کتنی تلخ حقیقت ۔۔۔۔”
اس کی بات پر ہنی نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔۔ “جائیں اندر بہت رات ہوگئی ہے ۔۔۔۔”
اس کی انکھوں میں رقم سوال کو وہ نظر انداز کرکے اسے اندر جانے کا کہا :
“جی اگین تھینکس ۔۔۔”
وہ زیادہ محسوس نہیں کرپائی آوٹوگراف ملنے خی خوشی میں ۔۔۔۔
وہ ڈائری کی جانب اشارہ کرکے اندر کی طرف مڑ گئی۔۔۔ اور وہ جب تک وہاں کھڑا رہا تب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوئی۔۔۔۔۔
گارڈ کہ ہلکے ہلکے خرانٹے فضا میں عجیب آواز پیدا کررہے تھے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
~~~~~~•~~•••~~~~~~~~~~~~~~~
یہ یہ کیا بکواس ہے ڈیڈ خرم ایسا کیسے کرسکتا ہے ؟؟؟؟
وہ کارڈ کو ہوا میں اچھال کر اپنے سامنے بیٹھے شکیل سومرو کو دیکھ کر چیخی ۔۔۔۔۔۔
“میں تمھیں پہلے بتا چکا تھا اس کا نکاح ہوچکا ہے اب ظاہر سی بات ہے رخصتی تو ہونی ہی ہے اس میں اتنا آوور ریکیٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔”
شکیل سومرو اس کہ چیخنے چلانے کو کسی خاطر میں نہ لائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوہ تو تم مجھے برباد کرکے اپنی خوشیاں منانا چاہتے ہو ۔۔۔ بھول ہے تمہاری نگہت وہ ناگن ہے جو تمھیں ڈس کر ٹرپنے بھی نہ دے گی ۔۔۔”
اس پر پھر سے جنونیت کا دورہ پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زہر جند لہجے میں بولی جسے شکیل نے واضح سنا تھا۔۔۔۔
ماریہ بی !!!
نگہت نے وہیں سے ہانق لگائی۔۔۔۔
“ماریہ بی چھٹیوں پر گئیں ہیں ۔۔۔”
شکیل نے ریموٹ سے چینل سرچ کیا تبھی بریکنگ نیوز پر اس کی انگلیاں ساکت ہوگئیں۔۔۔۔۔
“ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ شکیل سومرو کا خادم خاص خادم حسین مردہ حالت میں کوڑھ کے ڈھیڑ سے بے یارو مدد گار پائے گئے ہیں ۔۔۔ “
تبھی شکیل کا موبائل بجنے لگا۔۔۔۔
“لو ایک نئی مصیبت ۔۔۔ ان لوگوں سے کہا بھی تھا دریا میں بہادو لیکن حرام خوروں کو حرام کھانے کی عادت ہوچکی ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ غصہ سے آنے والی کال کو ڈسکنیکٹ کرتا ہوا بولا۔۔۔ جب کہ نگہت کو اس سب سے کوئی سروکار نہیں تھا اس کا ذہن کوئی اور ہی پلینگ میں مصروف تھا ۔۔
وہ کمرے میں اکر اپنی پرسنل سیکرٹری کو میٹنگ کا کہہ کر سلیپر سمیت بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔ اور موبائل پر کسی کی انفورمیشن سرچ کرنے لگی۔۔۔۔۔ لیکن اس سے پہلے جو کام اس نے کیا وہ دیوار پر نصب کیمرہ کی انکھ کو بند کرنا تھا۔۔ ۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~`~`~`~~~~~“`
بھیو یہ کس چیز کے کارڈز ہیں ؟؟
وہ ٹیبل پر ڈھیڑ کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔۔۔۔
“مکرم یہ آپ کے بھیو کے رخصتی کا دعوت نامہ ہے ۔۔۔”
نظیر صاحب نے مسکرا کر خرم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
کیا مطلب رخصتی ؟؟؟ نکاح کب ہوا بھیو کا ؟؟ اور بھیو آپ نے بتایا بھی نہیں ؟؟
“آرام سے میرو اتنا جذباتی نہ ہوں ۔۔۔۔ ۔ جہاں تک بات نکاح کی ہے تو وہ بابا اپنی حیات میں کرگئے تھے ماں اور بابا دونوں کی رضامندی شامل تھی اس نکاح میں ۔۔۔”
تو پھر انکل آپ بھی انوائٹڈ ہوں گے اس نکاح میں ؟؟؟
میرو نے خفگی سے نظیر صاحب کو دیکھا۔۔۔
بچے میں آپ کے نکاح میں بھی شریک تھا ۔۔۔۔
نظیر صاحب نے بم پھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکرم نے بے یقینی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات کہ ساتھ خرم اور نظیر صاحب کو دیکھا :
میرا نکاح کیا مطلب میں ابھی بھی کچھ نہیں سمجھا۔۔۔
اسے لگا جیسے اسے سننے میں غلطی ہوئی ہو۔۔۔
“میری منکوحہ یعنی تمہاری بھابھی اور تمہاری منکوحہ دونوں نظیر صاحب کی بیٹیاں ہیں ۔۔۔ بابا ماں نے اپنی باہمی رضامندی اور نظیر صاحب کی رضا مندی پر ہی یہ نکاح پڑھائے ہیں ۔۔۔۔ یہ فرض ادا کرکے وہ حج کےلیے روانہ ہوئے اور جب واپس آرہے تھے ان کا زور دار ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا۔۔۔۔”
خرم نے انکھوں میں آئی دھند کو پرے دھکیلا۔۔۔۔۔
“شاید انھیں پہلے ہی پتا چل چکا تھا جبھی تو چھوٹی عمروں میں ہی ہمیں مکمل طور پر نظیر صاحب کی سر پرستی میں دے گئے۔۔۔۔۔ “
“اور اس بات کو تو تم بھی بہتر جانتے ہو کہ اگر نظیر صاحب ہمیں نہ تھامتے تو ہم سازشوں کا شکار ہوجاتے ۔۔۔۔۔۔ “
مکرم نے اپنے بھائئ کہ جھکے سر کو دیکھا۔۔۔۔
بھیو آپ کو تو مجھے بتانا ہی چاہیئے تھا نہ ؟؟؟
اسے سمجھ نہئں آیا کہ ایا وہ خوشی کا اظہار کرے یا ناراضگی کا۔۔۔۔
“ہاں مجھ سے تو تم سوال و جواب کرنے کا حق رکھتے ہو لیکن خبردار جو تم نے نظیر صاحب سے گلہ بھی کیا ہو ۔۔۔۔۔”
“ہاں میں جانتا ہوں بھیو انکل نے ہمیشہ سب سے پہلے جسے اہمیت دی ہے وہ ہم دونوں ہی ہیں ورنہ اب تک ہمیں علم ہوچکا ہوتا۔۔۔۔ “
نظیر صاحب نے محبت بھری نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھا ۔۔۔
بھیو بھابھی کا نام ہی بتادیں ؟؟؟
میر نے ہنسی دباکر کہا :
“ابھی بتاتا ہوں ٹہرو ذرا۔۔۔۔”
خرم اس۔ کی شرارت سمجھتے ہوئے مصنوعی گھوری سے نوازنے لگا۔۔۔۔۔
“اچھا نا بتائیں میں تو اپنی منکوحہ کا نام دیکھ لوں ۔۔۔۔ “
میر نے معصومیت سے کہا :
“دیکھ لیں نظیر صاحب سب جانتا ہے یہ ۔۔۔۔”
نظیر صاحب نے مسکراتی نظروں سے دونوں کی نوک جھوک انجوئے کی۔ ۔۔ حقیقی خوشی کیا ہوتی ہے دونوں کہ چہروں سے عیاں ہے ۔۔۔۔۔۔
ایک باپ کو اس سے بڑھ کر کیا خوشی حاصل ہوگی کہ دونوں بیٹیاں اپنے شوہروں کی من چاہی بیوی بنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“خرم آپ اپنا اور مکرم اپ اپنا نکاح نامہ دونوں اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔۔۔۔”
نظیر صاحب کی بات پر دونوں نے اثبات میں سر ہلائے ۔۔۔۔
کیا خیال ہے میرو تمہاری بھی رخصتی نہ کروادیں؟؟
خرم نے انکھ دباتے ہوئے نظیر صاحب کو دیکھا:
“کیا ہوا بھیو مجھے کیوں اپنے ساتھ گھسیٹ رہے ہیں آزادی کس کو اچھی نہیں لگتی ۔۔۔ “
میر نے سنجیدگی سے کہا آیا وہ تاریخ ہی نہ دے ڈالیں ۔۔۔۔۔
“ابھی مجھے آپ کی شادی انجوائے کرنی ہے ۔۔۔ “
“ہاں ہاں ایک دو سال تک عیش کرو۔۔۔۔ “
خرم کہ کہنے پر وہ مسکرا دیا۔۔
~`~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
امی کتنے لوگوں کو اور ایڈ کروں ؟؟؟
“اپنے بابا سے معلوم کرو جہاں تک مجھے یاد تھے بتادیئے میں نے ۔۔۔ “
“بجوووووو امییییییی میں آگئی ۔۔۔۔”
لاونج میں اس کی آواز پر ان دونوں نے چونک کر پیچھے دیکھا ۔۔۔ جہاں سے وہ آرہی تھی۔۔۔۔۔
کس نے ساتھ آئیں ہنی ؟؟۔
“امی وہ بابا کا ڈرائیور چھوڑ گیا ہے۔۔۔”
کیا تم اکیلی ڈرائیور کہ ساتھ اتنا لمبا سفر طے کرکے آئی ہو؟؟؟
نصرین بیگم سنا تو پارہ ہائی ہوگیا۔۔۔۔۔۔
“ارے نہیں امی بابا نے اسٹیشن تک اسے چھوڑا ہے ۔۔۔ یہ تو آدھی ادھوری باتیں کرتی ہے۔ ۔”
ورشہ نے بیچ میں ہی تفصیلاً بتایا۔
“دیکھنا کسی دن اس لڑکی کی وجہ سے مجھے دل کا دورہ پڑے گا۔”
“اللہ نہ کرے امی ۔۔۔۔ میں تو بس ایسے ہی مزاق کرتی ہوں اور آپ سیریس ہی لے لیتیں ہیں ۔۔۔”
ہنی کا۔ موڈ آف ہوگیا تھا۔۔۔ وہ دکھی دل کہ ساتھ اپنے کمرے میں چلی آئئ۔۔۔۔۔۔۔۔
“ایک تو اس لڑکی کو کوئی بات کہو تو منہ بنا کر بیٹھ جاتی ہے ۔۔۔”
“آپ پریشان نہ ہوں میں دیکھتی ہوں ۔۔۔”
ورشہ کمرہ میں آئی تو محترمہ کال پر مائرہ سے محو گفتگو تھی ۔۔۔
“اوکے آجاو لیکن ذرا زیادہ ٹائم دے کر آنا ۔۔ آتے ساتھ ہی تمھیں جانے لی لگ جاتی ہے ۔۔۔۔”
“اوکے بائے ۔۔”
کیا ہوا ہے ہنی اتنی سیریس ؟؟؟
ورشہ نے اسے مزاقًا چھیڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون سیریس میں تو نہیں ہوں ہوں کیا ؟؟
ہنی کی بات پر ورشہ نے افسوس سے اسے دیکھا ۔۔۔ جو بدل جائے وہ ہنی ہی کیا ۔۔۔
یہ دیکھیں بجو ؟؟؟؟
یہ کیا ہے ؟؟
ورشہ نے میرون ڈائری کو دیکھا
“ڈائری ہے بجو ۔۔۔”
“ویری فنی یہ تو مجھے بھی پتا ہے ۔۔۔۔”
“یہ دیکھیں چوہدری خرم کا آٹوگراف ۔۔۔”
تمھیں کہاں سے ملا ؟؟
ورشہ نے بکھرے موتی پر انگلیاں پھیریں ۔۔۔۔
“میں نے بتایا تھا نہ کہ ان کے بھائی ہماری یونی کہ ہیڈ اکاونٹ ہیں انہوں نے دیا ہے ۔۔۔ اور وہ کل مجھے ریسٹورنٹ بھی لے کر گئے تھے ۔۔ ۔۔۔”
تم چلی گئیں ؟؟؟
“تم کیسے جاسکتی ہو ہنی ایسے کسی کہ بھی ساتھ وہ بھی انجان شہر میں ۔۔۔۔”
ورشہ کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ حد درجہ کی بیوفوف ہوسکتی ہے ۔۔۔
“بابا کو بتایا تھا میں نے بجو ۔۔۔۔”
اور بابا نے جانے دیا کیسے ؟؟
ورشہ دور اندیش تھی اس لئے ہر بات کو حساسیت سے پرکھتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ تو مجھے نہیں پتا کہ کیوں جانے دیا ۔۔۔۔ ۔میں بھی بور ہورہئ تھی اس لئے چلی گئی۔۔۔۔۔
“ویسے بجو آپ بہت لکی ہیں آپ کا رشتہ میرے فیوریٹ بندے سے ہورہا ہے ۔۔۔۔”
تمھیں کس نے بتایا ؟؟
“افکورس بابا نے ۔۔۔۔”
“دیکھ لینا آپ سے زیادہ میری جمے گی بھائئ کے ساتھ۔۔۔”
“ہاں جتنی باتونی تم ہو ہر ایک کا دماغ چاٹنے بیٹھ جاتی ہو ۔۔۔۔۔ “
ہائے گائز ؟؟
مائرہ نے کمرہ میں اکر اپنی جانب متوجہ کیا :
بیٹھو تم لوگ گپ لگاو میں چائے بھجواتی ہوں ۔۔۔”
جاری ہے :-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *