Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739
Last updated: 29 June 2026
No Download Link
642.3K
20
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir
خرم نے دل سے چاہا وقت رک جائے اور وہ اسے قریب سے محسوس کرے ۔۔۔۔۔۔اور ہمیشہ یوں ہی کرتا رہے ۔۔۔ وہ اس کی فکر کرے ۔۔ اس کہ کھانے پینے کا خیال کرے بات بات پر ڈانٹے ۔۔۔۔۔
اور وہ بس اسے مسکرا کر دیکھتا چلا جائے ۔۔۔۔
وہ جانتا تھا جس ایج میں لوگ میچیور ہوجاتے ہیں وہ اس ایج میں اکر ٹین ایجر والی حرکتیں کررہا ہے ۔۔۔۔ لیکن دل تو پھر دل ہی ہے نہ اسے کیا پتا کہ انسان عمر کہ کس حصہ میں ہے ۔۔۔ بس جس پر بھی اجائے اس کو ہمسفری میں لانے کی بے تابیاں اور چاہے جانے کا نشہ پانا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خرم کی جانب دیکھنے سے گریز ہی برت رہی تھی جبکہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو بااعتماد رکھنے کی تگ ودود میں لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اب جب وہ اس کے روبرو آہی گئی ہے تو فیصلہ کر کے ہی جائے گی ۔۔۔۔۔
وہ دونوں اپنی ہی سوچوں میں نجانے کہاں تک نکل آئے۔۔۔۔
دروازہ کی کھٹکٹھاہٹ پر خرم نے بے ساختہ نظریں چرا کر دروازہ کی جانب دیکھا ۔۔۔
اجازت ملتے ہی خانسامہ کھانے کہ لوازمات سے سجی ٹرالی گھسیٹتا چلا آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پیچھے میر بھی آیا تھا ۔۔۔ اسے ڈاکٹر سے مل کر تسلی کرنی تھی ۔۔۔۔
"آپ کا بلیڈ پریشر نارمل نہیں ہے ۔۔۔ آپ کو ابھی بگی ریکوری کی ضرورت ہے اس پر آپ مسلسل کام میں لگے ہوئے ہیں یہ بات کچھ مناسب نہیں ہے۔۔۔ "
وہ اجنبی شخص کا آنا دیکھ چکی تھی اسی لئے وضاحت دینا ضروری سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ میرا بھائئ چوہدری مکرم میر ہے ۔۔۔۔۔ "
ورشہ کی بات پر خرم نے میر کا تعارف کروایا۔۔۔۔
"دیکھ لیں بھیو آپ خود سن لیں اب ۔۔۔"
میر نے خفگی سے دیکھا۔۔۔۔
"آپ کچھ لیں نا ۔۔۔۔"
خرم نے میر کو انکھیں دیکھائی پھر ورشہ کو کھانے کی آفر کی ۔۔۔۔۔
"نہیں شکریہ ۔۔۔۔ "
"آپ کی میڈیسن میں چینج کردیتی ہوں ۔۔۔۔ "
وہ پیڈ پر قلم کو گھسیٹنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پرچہ پیڈ سے الگ کر کے میر کی جانب بڑھایا۔۔۔۔۔۔۔۔
"اگر آپ ابھی یہ منگوالیں تو میں اس کا استعمال با آسانی آپ کو سمجھا دوں گی ۔۔۔"
وہ اب بھی میر سے ہی مخاطب تھی۔۔۔۔
"جی جی میں منگواتا ہوں ۔۔۔ "
میر کہہ کر وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔۔
اب کہ کمرے میں ان دونوں کہ علاوہ کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا....
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ؟؟
وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہاں سے شروع کرے اور کیا کیا بتائے ۔۔۔۔
"جی جی میں ہمہ تن گوش ہوں آپ کہیئے۔ ۔۔ "
خرم تو پہلے ہی اس کے بولنے کا انتظار کررہا تھا۔۔۔۔۔
ورشہ کو اس کے نرم لہجے سے ڈھارس ہوئی۔۔۔۔۔
"شاید آپ کے علم میں یہ بات ہو یا نہ ہو میں نہیں جانتی ۔۔۔ لیکن میں اپنی بے مائیگی اور برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔ "
"آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ اپنی پسند کو ترجیح دیں میں آپ کو فورس نہیں کروں گی اور نہ ہی کسی قسم کی جذباتی بلیک میلنگ کریٹ کروں گی ۔۔۔۔۔
لیکن آپ جو بھی فیصلہ کریں گے میرے سامنے ہی کریں گے ۔۔۔۔۔"
وہ سانس لینے کیلئے رکی ۔۔۔۔
آپ مجھ سے کس طرح کا فیصلہ چاہتی ہیں؟؟؟
خرم اس کی باتوں کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔۔۔۔۔۔
حیرت و استعجاب کی ملی چلی کیفیت چہرہ پر رقم تھی۔۔۔۔۔۔
"آپ کا نکاح آپ کے والد چوہدری واجد میر نے اپنی زندگی میں ہی کردیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ "
وہ رک کر خرم کے تاثرات کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔۔ جہاں مکمل اطمینان تھا ۔۔۔۔
"آپ نے اپنی پسند میرے بابا تک پہنچائی ۔۔۔ اچھی بات ہے اور یہ آپ کا حق بھی ہے لیکن میں یہ چاہتی ہوں آپ میرا فیصلہ میرے ہاتھ میں تھما دیں ۔۔۔۔۔ "
ورشہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا اور نگاہیں پھیر لیں۔۔۔۔۔۔۔
نجانے کیوں اس کی انکھیں بھیگ گئیں جبکہ خرم سر کوئی دلی وابستگی نہ تھی۔۔۔۔۔
"بہت خوشی ہوئی آپ نے اپنی مصروفیت سے کچھ وقت نکالا اور میرے چیک اپ کیلئے یہاں آئیں۔۔۔۔۔۔ "
خرم کہ لہجے میں رتی برابر بھی نرمی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔
"آپ کا شکریہ ۔۔۔۔ "
"میر ڈرائیور سے کہہ کر انھیں کلینک چھڑوا دیجیئے۔۔۔۔ "
وہ کہہ تو آنے والے میر سے رہا تھا لیکن دیکھ ورشہ کو رہا تھا ۔۔۔۔
ورشہ نے خفا نظروں سے اسے دیکھا اور آلہ بیگ میں رکھ کر کمرہ سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔
جب کہ میر بھی اسی کی تقلید میں کمرہ سے نکلا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ کوئی بچہ تو تھا نہیں جو اس کہ فیصلہ کا مطلب نہیں سمجھتا۔۔۔۔ ایک عمر اس نے سیاست میں گزاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
غصہ تو بہت آیا لیکن اگر وہ اسے جانے کا نہیں کہتا تو اسے جھاڑ کر رکھ دیتا۔۔۔ اور یہ ہی۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
حال ہی میں ورشہ نے اپنا کلینک کھول لیا تھا۔۔۔ دن کا وقت وہ ہسپتال میں جب کہ شام سے رات تک کا وقت وہ اپنے کلینک پر گزارتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ نیا نیا تھا اسی لئے زیادہ محنت اور زیادہ وقت درکار تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بات سے نصرین بیگم سکون میں اگئیں تھیں ۔۔۔۔ کم از کم وہ رات تو۔ آرام سے گھر میں گزار لیتی ہے ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
