Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01
No Download Link
642.3K
20
Rate this Novel
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 (Watching)Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01
“آنکھ بھرنے لگی ہے یادوں سے،
شور دریا ہے چپ کنارہ ہے ،
یہ دبے پاوں کون آیا تھا ،
کس کی آہٹ نے پھر پکارا ہے .”
لہریں اپنی دھن میں مست آسمان کو چھونے کی خواہش میں اونچا اونچا اٹھ رہی تھیں۔۔۔۔۔ ایک لہر کہ بعد دوسری ، دوسری کہ بعد تیسری اور تیسری کہ بعد چوتھی لہر پوری قوت سے آسمان کی طرف اٹھی ۔۔۔۔۔
وہ پورے انہماک سے سمندر کے پانی کی لہروں کو دیکھ رہا تھا جو من مست آسمان کو پانے کی تمنا کئے ہوئے تھیں ۔۔۔۔ اچھلتی بہتی ان لہروں کہ شور میں وہ اپنے آپ کو ڈوبتا ابھرتا محسوس کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کاش وہ ان لہروں کی طرح ہوتا جو زندگی کی تلخ حقیقتوں سے مُبرا اپنی ہی جون میں مگن تھیں ۔۔ جنھیں کوئی خوف ، کوئی ڈر، کوئی فکر نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کاش” ہماری زندگی کا وہ اہم حصہ ہے جو ہمارے ساتھ ہی چلتا رہتا ہے۔۔۔ انسان کی خواہشات ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہوتی ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتیں ۔۔۔۔۔ انسان کو اللہ تعالی نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جائز اور ناجائز خواہشات کو لگام ڈال سکے ۔۔۔۔۔۔
کہنے کو تو دو لائن کی بات ہے لیکن اس پر عمل کرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں اپنے نفس کو مارنا بھی ایک جہاد ہے ۔۔۔
بہت سے لوگ اس نفس کے غلام بن جاتے ہیں اور کہیں کہ نہیں رہتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ خواہشات جو ہماری کوششوں سے بھی پوری نہ ہوپائیں وہ کسک بن جاتی ہیں جو ساری زندگی دل میں ایک پھانس کی طرح چھبتی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ کوئی شہزادہ گلفام نہیں تھا لیکن اس سے کم بھی نہ تھا ۔۔۔۔ مگر پھر بھی اس کی اب تک کی زندگی میں ایک خلاء رہ گیا تھا جو کوئی نہیں پُر کرسکا تھا ہاں اسکا اپنا بھائی بھی اس کے خالی پن کو ختم نہ کرسکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لہروں کا یہ تسلسل اب بھی اپنی روانی پہ تھا ۔۔۔۔سرد ہوا کی خنکی بھی اس کہ خیالوں کو بھٹکا نہ سکیں تھیں۔۔۔۔ رات کے بارہ بج چکے تھے ۔۔۔ لیکن وہ وہاں کھڑا اسی جزیرے کا باشندہ لگ رہا تھا جو بھٹک کر وہاں آگیا ہو۔۔۔
موبائل فون کی مسلسل وائنریشن نے اسے ہوش کی دنیا میں لاپٹخا۔۔۔۔۔
سیدھا ہاتھ منہ پر پھیر کر اپنے تاثرات نارمل کئے۔۔۔
دوسرے ہاتھ سے موبائل نکال کر آنکھوں کہ سامنے کیا۔۔۔۔
جی بھیو ؟
“کہیں نہیں ۔۔”
“اوکے آرہا ہوں ۔۔۔”
بمشکل دو منٹ کی بات کرنے کہ بعد موبائل کو پینٹ کی جیب میں آڑسا اور قدم واپسی کی جانب بڑھا دیئے۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“سر تمام پوسٹرز لگ چکے ہیں بس آپ نے کانفرنس کرنا ہے ۔۔۔۔ اور باقی کی تیاری نظیر صاحب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔”
ہمممم اور سیکیورٹی؟؟؟
“سر آپ اس کی قطعی فکر نہ کریں ہیوی سیکیورٹی کے بیچ میں ہی آپ اسٹیج تک پہنچیں گے۔۔۔۔”
“ایک بات آپ سب کان کھول کر سن لیں کسی کی ساتھ کوئی زبردستی کوئی جبر نہیں کیا جائے گا آپ کا کام ہے ووٹ کیلئے کنویس کرنا ناکہ زبردستی کسی کو ووٹ دینے پر مجبور کرنا ۔۔۔۔ کوئی بات نہیں میں الیکشن ہار بھی جاوں لیکن مجھے اگر پتہ چل گیا کہ عوام سے جبراً ٹھپہ لگوایا گیا ہے تو آپ نوکری سے اپنے آپ کو فارغ سمجھئے گا۔۔۔۔۔”
“سر آپ بلکل بے فکر ہوجائیں پچھلے سال کی طرح اس بار بھی جو خوشی خوشی ووٹ کاسٹ کرے گا اس کا ہم ناکہ شکریہ ادا کریں گے بلکہ جو نا بھی ووٹ دے اسے نہایت عزت و احترام کے ساتھ اس کے فیصلہ کا احترام کریں گے ۔۔۔۔۔”
“مجھے یقین ہے تم میرے مزاج کے خلاف کوئی کام نہیں کرو گے ۔۔۔۔”
اسد نے مسکراہٹ کے ساتھ اپنی تعریف وصولی۔۔۔۔۔۔
سوٹ بوٹ پہنے ایک شخص نے اندر قدم بڑھائے۔۔۔ پچاس کی عمر میں بھی وہ ابھی تک نوجوان نظر آتے تھے ۔۔۔ جس کی وجہ ان کی رروزانہ کی ورزش اور کھانے پینے میں احتیاط تھی۔۔۔۔۔۔۔
“آئیے آئیے نظیر صاحب ابھی آپ ہی کا ذکر ہورہا تھا۔۔۔”
خرم نے خوش دلی سے کہا :
“آپ کی کرم نوازی ہے ۔۔۔ آپ نے یاد کیا اور آپ کا خادم حاضر۔۔۔”
نظیر صاحب نے اخلاقیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر خم کیا:
“خادم تو ہم ہیں آپ کے ۔۔۔ بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا آپ کی ایمانداری اور دیانتداری سے میں تو آپ کا اسیر ہوچکا ہوں ۔۔۔۔۔”
“تعریف اس رب کریم کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔۔۔”
“بے شک ، بے شک ۔۔۔۔۔۔”
وہاں موجود ہر فرد نے یک زبان ہوکر کہا:
ان کی مشترکہ ملاقات جب بھی ہوتی تو بات سیاسات سے نکل کر دین کی جانب مائل ہوجاتی ۔۔۔۔۔ باہر سے آنے والے بندے کو یہ ہی لگتا کہ یہاں موجود بیٹھے آفراد کسی ایک پارٹی کیلئے نہیں بلکہ دین اسلام کیلئے کوشاں ہیں۔۔۔۔۔۔
سالوں پہلے چوہدری واجد میر نے جو طرز زندگی اپنایا تھا ان کے جانے کہ بعد آج بھی پوری شان سے وہ ہی طرز زندگی ان کے بڑے بیٹے چوہدری خرم میر اپنائے ہوئے تھے ۔۔۔۔
چوہدری واجد صاحب کا تعلق سیاست سے تھا ۔۔۔۔ اپنی مسلسل محنت و جدو جہد سے انہوں نے یہ مقام حاصل کیا تھا ۔۔۔۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ انھیں اپنے حاصل کردہ مقام سے رقبت تھی ۔۔۔۔۔ ان کا تعلق تحریک اسلامیہ جموریہ پارٹی سے تھا۔۔۔۔
جو اب ان کے جانے کے بعد بڑے بیٹے کہ حصے میں آئی ہے۔۔۔
میر خرم نے ہوبہو اپنے باپ کے نقش چرائے تھے ۔۔۔اور اپنے باپ کہ کہے گئے اصولوں پر عمل کر کہ وہ نہ صرف گھر میں بلکہ عوام کی نظر میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“یا ہو!!!!!!”
“امی !!! امی کہاں ہیں !!!”
وہ پر جوش سی لیپ ٹاپ کو کشن پر گراتی اچھلتی کودتی شور مچاتی ہوئی کمرہ سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔
کیوں شور مچارہی ہو پاگل تو نہیں ہوگئیں؟؟؟
نصرین بیگم نے اس کہ اس طرح چیخنے چلانے پر ڈانٹا۔۔۔
“اففف امی آپ گڈ نیوز سنیں گی نہ تو آپ بھی میری طرح خوش ہوجائیں گی ۔۔۔۔۔”
“لڑکی یوں سر جھاڑ منہ پھاڑ کمرہ سے نکلتی چلی آئیں نہ بال سنوارنے کا ہوش نہ منہ دھونے کا ہوش اللہ نے تمھیں لڑکی بنایا ہے مجال ہے جو ذرا لڑکیوں والی عادات ہو ۔۔۔۔”
نصرین بیگم اس کہ اول جلول حلیہ دیکھ کر سیخپا ہونے لگیں۔۔۔۔۔۔۔
“امی آپ سنیں تو صحیح یہ غصہ وصہ سب بھول جائیں گی ۔۔۔۔”
“پہلے اپنا حلیہ درست کر کے آو پھر سنانا جو بھی بات ہے ۔۔۔”
“امی یار سن لیں نہ پھر ویسے بھی مجھے مائرہ کے گھر جانا ہے ۔۔۔”
ابھی کل ہی تو ہوکر آئی ہو ایسا کون سا ضروری کام پڑگیا تمھیں ؟؟؟
“وہ ہی تو بتارہی ہوں آپ سنیں تو ۔۔”
بولو ؟
“مائرہ کو پرمیشن مل گئی “
کس بات کی ؟؟
ان کہ دماغ سے کل کی بات مخفی ہوگئی تھی ۔۔۔
“میرے ساتھ لاہور جانے کی ۔۔۔”
اور تمھیں کس نے اجازت دی وہاں جانے کی ؟؟
نصرین کو اس کی بے تکی بات پر غصہ آنے لگا۔۔۔
“آف کورس آپ نے اور بابا نے “
اس نے بڑے آرام سے کہا جیسے ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کی بات ہو۔۔۔۔
“تم کہیں نہیں جارہی سنا تم نے ۔۔۔”
“امی اب کچھ نہیں ہوسکتا کالج سے لیونگ سرٹیفکیٹ ایشو ہوچکا ہے ۔۔۔”
کون سی یونیوسٹی میں اپلائے کیا تھا تم نے ؟
“لاہور گاریسون یونیورسٹی ۔۔۔”
دماغ ٹھیک ہے تمہارا آوٹ آف سٹی جاکر پڑھو گی اب تم ۔؟؟؟
“اففف ممی کیا ہوگیا آپ کو آوٹ آف سٹی ہی ہے نہ آوٹ آف کنٹری تو نہیں ہے نہ ۔۔۔۔”
اچھا میڈم اور آپ رہیں گی کہاں ؟؟۔
نصرین نے تیکھے چتونوں سے گھورا ۔۔۔ جو سب کچھ پہلے ہی سوچ کر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
“امی ہاسٹل بھی کسی چڑیا کا نام ہے بھول گئیں کیا آپ “
“حنا عقل کے ناخن لو اور بھول جاو اس مائگریشن کو۔۔۔۔ میں اور تمہارے بابا کبھی تمھیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔۔۔”
نصرین بیگم کی بات پر حنا منہ کھولے اپنی ماں کو دیکھے گئی۔۔۔۔
لیکن امی آپ جانتی ہیں نہ میں نے کتنی محنت کی ہے اس کیلئے ؟
“میں کچھ نہیں جانتی ۔۔ بس تم اتنا جان لو کہ میں کبھی نہیں بھیجوں گی ۔۔۔ اس لئے خاموشی سے یہیں کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
نصرین بیگم اس کہ خوابوں پر پانی پھیرتی ہوئی لان کی جانب چلی گئیں۔۔۔۔۔
بھوری انکھوں میں موٹے موٹے آنسو جمع کئے وہ کمرہ میں آگئ اور پوری قوت سے دروازہ بند کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظیر ولا تین پورشن پہ مشتمل تھا ۔۔۔
بیک سائیڈ پر بڑا سا لان بنایا گیا تھا جس کہ فرنٹ پر کمرہ نما ہال بنا ہوا تھا وہ کمرہ نہیں تھا بلکہ بارش کے پانی سے بچنے کیلئے چار دیواری بنادی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے دروازہ کی جگہ بڑا سا لکڑی کا جھولا رکھا ہوا تھا۔۔۔۔
یہ حصہ خاص الخاص دونوں بہنوں کی پسند پر بنایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جی بھیو آپ نے بلایا تھا ؟۔
مکرم کے آتے ہی تمام لوگ اپنی نشست برخاست کرگئے تھے اب ڈرائنگ روم میں ان دونوں کے علاوہ جو شخص وہاں براجمان تھے وہ نظیر صاحب تھے۔۔۔۔۔
کہاں تھے تم ؟
“بھیو میں ساحل سمندر تک گیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔”
“تم اپنے سینسز میں تو ہو ایک تو تم گارڈ کو ساتھ نہیں لے کر گئے اوپر سے ڈرائیور کو بھی چھٹی دے دی۔۔۔۔”
“بھیو اب میں بڑا ہوگیا ہوں آپ بچوں کی طرح ٹریٹ نہ کیا کریں۔۔۔۔”
مکرم نے چڑتے ہوئے کہا :
“دیکھ رہے ہیں نظیر صاحب ۔۔ اب اسے میرا روکنا ٹوکنا بھی برا لگتا ہے ۔۔۔”
نظیر صاحب دونوں کی نوک جھوک بڑے۔ مزے سے سن رہے تھے ۔۔۔۔۔ خرم کے کہنے پر مسکرا کر رہ گئے ۔۔۔۔۔۔۔
“نظیر انکل آپ بھیو کو سمجھائے میں اپنی حفاظت بلکہ بھیو کی بھی حفاظت بخوبی کرسکتا ہوں۔۔۔۔”
مکرم فخریہ بول کر بھیو کہ برابر ٹک گیا۔۔۔۔۔۔
“بس اب جو میں کہہ رہا ہوں وہ سنو جب تک یہ الیکشن نبٹ نہیں جاتے تم نہ صرف ڈرائیور کہ ساتھ جاو گے بلکہ دو گارڈز ہمہ وقت سائے کی طرح تمہارے ساتھ رہیں گے ۔۔۔۔۔”
یہ کیا نئی مصیبت لادنا چاہ رہے ہیں اپ؟
“مصیبت سمجھو یا مصلحت جو کہہ دیا اس پر عمل کرو ۔۔۔۔”
خرم کہ اٹل لہجہ میں کہنے پر مکرم نے معصومیت سے نظیر صاحب کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
“نظیر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔ واضح مطلب تھا کہ اب اسے عمل کرنا ہی کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔”
“جی بھیو جیسا آپ کہیں۔۔۔”
مکرم سنجیدگی سے کہتا ہوا ایل ای ڈی کی جانب متوجہ ہوگیا ۔۔ جہاں نسوانی آواز میں وہ اینکر چیخ چیخ کر ہونے والے جلسوں کی خبریں سنا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“ایڑی چوٹی کا زور لگادو لاکھوں روپے خرچ کرو یہ الیکشن ہمارے حق میں ہونے چاہئیے ۔۔۔۔”
کروفراور تنتنے سے کرسی پہ بیٹھا وہ شخص مخالف پارٹی کا لیڈر تھا ۔۔۔۔۔۔۔
“سر جو بن پارہا ہے ہم کررہے ہیں تمام علاقوں ، محلہ کے ایک ایک گھروں میں جاکر ان کو خرید رہے ہیں ۔۔۔۔یہاں کہ علاقوں کی تو خیر ہے وہ لوگ انھیں ہی ووٹ دیں گے جنھیں ہم کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لیکن عوام کا زیادہ دباو اس چوہدری کی جانب ہے ۔۔۔۔”
“اسی لئے تو کہہ رہا ہوں پیسا پانی کی طرح بہادو جہاں لگے یہ کام کرنے سے عوام ہماری طرف ہوگی وہ کام کرڈالو۔۔۔۔ “
“جی سر جی جو حکم۔۔۔”
اور تم سے جو کام کہا تھا وہ کروایا؟؟؟
“جی سر یہ رہی وہ لسٹ۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے ذاکر کو بھی کہہ دو کہ آج ہم مریضوں کی عیادت کو جناح ہسپتال جائیں گے ۔۔۔ اور تین چیک بوک بھی ساتھ رکھ لینا۔۔۔۔۔۔۔”
“جی سر ابھی انفارم کردیتا ہوں ۔۔۔۔”
“ہممم ٹھیک ہے کھانے کا انتظام یہیں کروالو۔۔۔۔”
شکیل سومرو نے خادم خاص کو چلتا کیا اور خود سگار سلگالی۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
آج تمہاری نائٹ ڈیوٹی ہے ؟؟
“ہاں نائٹ ہے ۔۔۔”
تم جارہی ہو کیا ؟
ہاں میری تو صبح کی شفٹنگ تھی ۔۔۔”
“اوہ ہاں یار وہ روم نمبر پانچ میں جو بیڈ نمبر نو۔ تھے وہ پیشنٹ ڈیسچارج ہوگئے ہیں ان کی جگہ ایک ضعیف شخص آئے ہیں میں نے کچھ رپورٹ کروائی تھی تم چیک کرلینا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں ٹھیک ہے ۔۔۔”
“ارے ڈاکٹر ورشہ آپ یہاں موجود ہیں ڈاکٹر عاشر ایکس رے کی رپورٹ مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔”
“جی جی میں وہ ہی دینے آرہی تھی ۔۔۔۔”
ورشہ نے الماری میں بلو کلر کی فائل نکالی۔۔۔۔
اچھا وری میں چلتی ہوں پھر ملاقات ہوگی۔۔۔
سفید آوور آل ہاتھ میں اٹھائے کیبین سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔
ثناء کے جانے کہ بعد وہ استیتھواسکوپ گلے میں ڈالے دوپٹہ سر پہ درست کرتی ہوئی ایک ہاتھ آوور آل کی جیب میں جبکہ دوسرے میں فائل تھامے وہ ہموار قدم اٹھاتی ہوئی کیبن سے نکل گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“گڈ ڈاکٹر ورشہ کیپ اٹ اپ۔۔۔”
“زبردست تشخیص کیا ہے آپ نے مرض کو ۔۔۔۔”
“تھینکس سر ۔۔۔”
ورشہ نے اعتماد کہ ساتھ سامنے بیٹھے سینیئر ڈاکٹر کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔
“روم نمبر چھ میں رفیق نامی شخص ایڈمٹ ہے۔۔ یہ فائل آپ اسے جاکر دیں اور دو تین ٹیسٹ کروانے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر اس کے علاوہ بھی کوئی اور مرض لاحق ہوا تو بڑی مشکل ہوجائے گا ان کا سروائیو کرنا۔۔۔۔ آپ ان کو ڈیٹیل سے چیک کریں جو جو ٹیسٹ کروانے ہوں وہ لکھ دیں۔۔۔۔”
“جی سر ۔۔۔”
ورشہ فائل اٹھاکر کمرہ سے باہر آئی اور سامنے لفٹ میں داخل ہوگئ۔۔۔۔۔
یہ اس شہر کا بڑا پرائیوٹ ہسپتال تھا جہاں بڑے سے بڑا اپریشن کیا جاتا تھا ۔۔۔ یہاں کہ قابل ڈاکٹرز زیادہ تر باہر سے ایم بی بی ایس کرکے آئے ہوئے تھے ۔۔۔۔
ورشہ کے تعلیمی ریکارڈ اور شوق نے اسے آج یہاں پہنچایا تھا ۔۔۔ وہ اسی شہر کی باسی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
” ہر مقام کو حاصل کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی قربانی دینی پڑتی ہے ۔۔۔”
ورشہ نے اپنے شوق کو پورا کرنے کیلئے تمام سرگرمیوں کو ایک طرف رکھ کر ساری توجہ اسی فیلڈ کیلئے سرو کردی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ انتھک محنت اور مسلسل جدوجہد نے اس مقام پر پہچایا ۔۔۔ اور آج اس کا نام کامیاب ڈاکٹروں میں لیا جاتا ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“بابا آپ بھی وہیں ہیں اور رہنے کا بھی کوئی ایشو نہیں ہے ۔۔۔”
وہ آئی فون کان سے لگائے دوسری طرف موجود شخص کی بات سننے لگی۔۔۔
بابا آپ ہی امی کو سمجھائیں نہ ؟
“میں سمجھادوں گا۔۔۔ لیکن تم نے صبح سے کھانا کیوں نہیں کھایا ۔۔۔۔۔۔”
“امی کی ڈانٹ کھالی تھی نہ! پیٹ اب تک بھرا ہوا ہے۔۔۔”
صبح کی عزت افزائی یاد آئی تو پھر سے افسردہ لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔۔۔
“اوہ کوئی بات نہیں میرا بچہ تو بہادر ہے نہ وہ چھوٹے موٹے طوفانوں سے تھوڑی نہ ڈرتا ہے۔۔۔۔”
“امی چھوٹا نہیں بڑا طوفان ہیں بابا۔۔۔”
“اچھا چلو اب رونا بند کرو اور کھانا کھاو شاباش میں کل آوں گا نہ پھر بات کریں گے۔۔۔۔۔”
“پر بابا پرسوں لاسٹ ڈیٹ ہے آپ ابھی بات کریں امی سے۔۔۔۔۔”
“ہممممممم اچھا ابھی بات کرتا ہوں ۔۔۔”
اب یہ اسٹرائیک بند ہوجانی چاہیئے۔۔
“اوکے بابا لیکن آپ یاد سے بات کرلیجیئے گا۔۔ “
“کل دوپہر تک میں اور مائرہ یہاں سے نکل جائیں گے آپ ہمیں اسٹیشن پر ریسیو کرلئے گا۔۔۔”
“اوکے لیکن اب کوئی بحث نہیں کرنا اپنی ماما سے میں کود ہینڈل کرلوں گا اپنی بیگم کو۔۔۔”
انہوں نے مذاقاً کہا جس پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
یونیورسٹی کی راہداری میں چم چم کرتی بلیک ہیلکس کے رکتے ہی ٹائرز چڑچڑائے۔۔۔۔
دو حفاظتی گارڈز اصلحہ لئے پیچھے براجمان تھے متعدی انداز میں جمپ لگا کر گاڑی سے اترے ۔۔۔۔۔ عقابی نظریں چاروں طرف دوڑا کر مطمئن انداز میں فرنٹ ڈور کھولا۔۔۔ ۔
بلیک پینٹ کوٹ اور بلیک ہی گلاسس میں وہ شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والا شفاف چمکتی جلد پر سر سے لیکر پیر تک سیاہ ڈریسنگ میں ملبوس دیکھنے والوں کی انکھوں کو خیراہ کررہا تھا۔۔۔
درمیانے قدم اٹھاتا ہوا وہ یونیورسٹی کہ احاطے میں داخل ہوا ۔۔۔
اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ محسوس کی تو گردن موڑ کر دیکھا۔۔۔
ایک گارڈ اس کہ عین پیچھے اصلحہ لئے چلا آرہا تھا۔۔۔۔۔
شہادت کی انگلی اٹھاکر اسے واپسی کا اشارہ دیا جس پر اس گارڈ نے پریشان نظروں سے اپنے سر کو دیکھا۔۔ ۔۔۔
“لیکن چودھری صاحب کا حکم ہے ۔۔۔۔”
“میرا حکم ہے کہ اگر دو منٹ بھی یہاں تم نے ضائع کئے تو کل سے اپنی شکل لے کر اس شہر سے دفع ہوجانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ دانت پیس کر گارڈ کو دھمکاتے ہوئے ڈاریکٹنگ آف یونیورسٹی ڈیپارٹ کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
جبکہ وہ گارڈ لمحوں میں وہاں سے غائب ہوا تھا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
” بججو آپ امی کا خیال رکھیئے گا ۔۔۔”
وہ ورشہ کے گلے سے لگی اسے نصیحت کررہی تھی ۔۔
“ہاں میری ماں کرلوں گی خیال تم جب تک سفر میں رہو تب تک کانٹیکٹ میں رہنا ۔۔۔”
“جی بججو ۔۔”
اچھا امی معاف کردیا نہ آپ نے ۔۔۔؟
وہ ان کہ گلے میں ہاتھ ڈالے اپنا پورا وزنان پر ڈال گئی تھی۔۔۔۔
یہ اس کے منانے کا انداز تھا اسی کی طرح مختلف ۔۔۔
“نہیں ہوں خفا بس ڈرتی ہوں کوئی ۔۔”
“امی دعائیں دے کر رخصت کریں کیوں وہم پال رہیں ہیں۔۔۔”
ورشہ نے بیچ میں ہی نصرین سے کہا۔۔۔
“اللہ امان میں رکھے تمھیں اور مائرہ کو ۔۔۔”
مائرہ بھی اپنے سامان سے لدا بھندا بیگ اٹھائے اپنے بھائی کے ساتھ اسٹیشن چلی آئی۔۔۔
“شکریہ آنٹی ۔۔”
“چلو بھئی جلدی کرو۔۔”
ٹرین کی آواز پر وہ دونوں اندر جاکر بیٹھ گئیں ۔۔۔ٹرین سست روی سے پٹری پر رینگنے لگی ۔۔۔۔
اسٹیشن میں موجود لوگوں میں افراتفری کا عالم تھا کوئی اپنے پیاروں سے مل رہا تھا تو کوئی ایک دوسرے کو نصیحتیں کررہا تھا ۔۔۔۔
آہستہ آہستہ ٹرین کہ چلنے میں روانگی آتی گئ ۔۔۔۔۔۔۔
دور کھڑے لوگ ٹرین میں بیٹھے اپنے پیاروں کو ہاتھ ہلا کر الوداع کررہے تھے یہ منظر دیکھ کر ان دونوں کی انکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جاری ہے
