Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02
No Download Link
642.3K
20
Rate this Novel
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 (Watching)Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02
ٹرین طویل سفر کے بعد آخر کار لاہور جنکشن ریلوے اسٹیشن رکی تھی ۔۔۔۔۔
وہ دونون اپنا سامان اٹھائے ٹرین سے اتریں تو سامنے ہی نظیر صاحب کھڑے نظر آگئے ۔۔۔۔
اسلام و علیکم انکل ؟
مائرہ نے جھٹ سے سلام کیا اور ان کہ اگے سر جھکا گیا۔۔
وعلیکم اسلام بچے ٹھیک ہو ؟
نظیر صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
“جی انکل ۔۔۔۔ “
کیا ہوا ہنی منہ کیوں بن گیا یہاں اکر ؟
انہوں نے اپنی لاوبالی بیٹی کو دیکھا جو انھیں دیکھ کر چہکی نہیں تھی ۔۔۔
“کچھ نہیں بابا بس امی کی یاد آرہی ہے “
چلو گھر چل کر بات کرلینا ۔۔۔ انہوں نے ہاتھ کہ اشارہ سے ڈرائیور کو بلایا ۔۔۔۔۔۔
“یہ سامان کھڑی گاڑی میں رکھو ۔۔۔”
بابا پہلے آپ یونیورسٹی لے چلیں اس بہانہ دیکھ بھی لیں گے اور فائنل ایڈمیشن بھی کروالیں گے ۔۔۔۔
لیکن کچھ کھا تو لو ؟
“نہیں بابا ہم یونی میں کھالیں گے ۔۔۔”
“اچھا بھئی ڈرائیور گاریسن یونیورسٹی لے چلو ۔۔۔”
وہ جانتے تھئ اسے یونی دیکھنے کا کتنا اشتیاق تھا۔۔۔۔ اس کا ارادہ یہیں پولیٹکس میں ماسٹرز کرنے کا تھا ۔۔۔
اور یہ وقت نے طے کرنا تھا کہ حنا کو کیا دینا تھا اور کیا لینا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
سر آپ کی یہاں موجودگی خالصتاً الیکشن کی وجہ سے تو نہیں ؟
نیوز اینکر نے بھیڑ کو چیرتے ہوئے جگہ بنائی اور شکیل سومرو کے عین سامنے جاکر سوال داغا۔۔۔۔
اتنے سارے کیمرے اور نیوز اینکر کے سامنے وہ اس سوال پر گھبراگیا ۔۔ لیکن لمحوں میں اپنے تاثرات نارمل کرلئے ۔۔۔ شکیل سومرو کا گھبرانہ کیمرے کی انکھ نے قید کرلیا تھا ۔۔۔۔
“آپ کی بات محض فضول گوئی اور بے تکی کہ سوائے کچھ نہیں ہے۔۔۔ “
اگر ہم اپنے لوگوں کا حال دریافت کرنے نہیں آئیں گے اور ان کی داد پرسی نہ کریں تو یہ بچارے تو وقت سے پہلے ہی مرجائیں۔۔۔۔”
“لیکن سر یہ تو کئی دنوں سے یہاں موجو۔۔۔۔۔”
“آپ سوال پوچھ چکے ہیں دوسروں کو موقع دیں۔۔۔۔”
وہ اینکر دوبارہ شکیل سومرو کی بخیئہ اڈھیڑتا اس سے پہلے ہی شکیل نے اسے خاموش کروادیا۔۔۔
اب تک آپ نے کتنے مریضوں کی مالی مدت کی ہے ۔؟؟؟
انکھوں پہ نظر کے گلاسس لگائے اس نیوز اینکر نے مہذبانہ انداز میں پوچھا:
“آپ دکھنے میں تو کافی ذہین لگتی ہیں لیکن آپ کا سوال سن کر انتہائئ مایوسی ہوئی ۔۔۔۔”
شکیل نے موڈرن پینٹ شرٹ پہنے اس دوشیزہ کو مسکرا کر کہا:
“لیکن چونکہ آپ سوال کرچکی ہیں اس لئے میرا جواب بنتا ہے ۔۔ مریضوں کی تعداد دو سو سے زائد تھی اس لئے ہم سے جتنا ہوسکا ہم نے ان کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔”
شکیل سومرو کا سیاسی جواب سن کر اس دوشیزہ کہ چہرہ پر استہزائیہ مسکراہٹ رینگ گئی ۔۔۔۔۔۔
آپ کو کیا لگتا ہے سر اس بار آپ کو موقع دیا جائے گا یا اس بار بھی چوہدری خرم ہی بازی لے جائیں گے ؟؟؟
“ہماری پوری کوشش ہو گی کے عوام کی خواہش کا احترام کیا جائے اور الیکشن کو پر امن طریقہ سے انجام دیا جائے ۔۔۔۔۔۔”
شکیل نے چالاکی کے ساتھ بات کو دوسرا رخ دیا ۔۔۔۔۔۔
“تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ ۔۔۔”
“بس اب باقی سوالات اگلے سیشن میں کرلیجئے گا شکریہ شکریہ۔۔۔۔”
شکیل سومرو ہاتھ ہلاتا ہوا گارڈز کی ہمراہی میں گاڑی میں آبیٹھا۔۔۔۔۔
سر اگے کا کیا ارادہ ہے ؟؟
“خادم فارم ہاوس ۔۔۔۔ اس وقت آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
“یہ بلاڈی دو کوڑی کے اینکرز خون کھولا دیتے ہیں۔۔۔”
“سر مجبوری ہے آپ فکر نہ کریں شراب اور شباب دونوں کا انتظام ہے سارا غصہ ہوا ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
خادم نے معنی خیزی سے کہتے ہوئے ڈرائیور کو حکم سنایا۔۔۔۔۔۔۔۔
جس پر شکیل سومرو کا فلک شگاف قہقہ گونجا ۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
یار ماریہ کیا مصیبت ہے یہ ؟؟؟
“میں کیا کرسکتی ہوں ہنی تم خود دیکھ سکتی ہو ۔۔۔۔”
وہ دونوں تیسری لائن میں لگی ہوئی تھیں ۔۔ ان کے اگے دس سے زائد لڑکے ، لڑکی لائن میں کھڑے اپنے باری کا انتظار کررہے تھے۔۔۔۔۔۔
“یار جن کو حرام کھانے کی عادت ہو وہ کسی دوسرے کا خیال کیسے کرسکتے ہیں۔۔۔۔”
اس اجنبی لڑکی کی بات پر دونوں نے پلٹ کردیکھا۔۔۔۔۔۔۔
“یہ بات سو فیصد درست کی ہے آپ نے۔۔۔۔”
ماریہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔۔
“اب آپ بھی صبح سے ہی میرے ساتھ لائن میں لگی ہوئی ہیں ساتھ بجے سے بارہ بج گئے ۔۔۔ لیکن لائن اگے بڑھنے سے انکاری ہے۔۔۔۔”
ماریہ نے بات کو اگے بڑھایا ۔۔۔۔
“بائے دا وے مائے سیلف زنیرہ امتیاز فرام
اسلام آباد”
اس پیاری سی لڑکی نے اپنا تعارف کروایا۔۔۔
“مائے نیم ماریہ فرام کراچی ۔۔۔۔”
“حنا فرام کراچی ۔۔۔۔”
” مطلب آپ دونوں ایک ہی شہر سے ڈیٹس گڈ ۔۔۔”
ان دونوں کی دوستی میں تیسرا شریک زنیرہ ہوگئی ۔۔۔۔
ایک گھنٹہ کے کٹھن انتظار کے بعد اخر ان کا نمبر آگیا ۔۔۔۔۔۔
ماریہ نے ہاتھ میں تھامی فائل سامنے بیٹھے شخص کے اگے بڑھائی۔۔۔۔
تمام چیزیں چیک کرنے کہ بعد ماریہ کا فائنل سلیکشن کردیا گیا تھا۔۔۔۔
ماریہ کے جانے کہ بعد حنا کی باری تھی ۔حنا نے اپنی فائل سامنے کی ۔۔۔۔۔۔
“آپ کی چالان سلپ پر کمشنر کے سائن نہیں ہیں بی بی۔ پہلے وہ کروائیں پھر ہی سلیکش ہوسکتی ہے۔۔۔”
اس شخص کی بات سن کر حنا کے چھکے چھوٹ گئے ۔۔۔
۔۔۔۔
“سر پلیز آپ کوئی تجویز دے دیں میں آوٹ آف سٹی سے ہوں۔۔۔”
اس نے لہجہ کو نارمل کرنا چاہا ۔۔۔۔
“میدم یہاں سارے ہی اسٹوڈینٹس آوٹ آف سٹی اور آوٹ آف کنٹری سے آئے ہوئے ہیں ۔۔۔”
“آپ کی وجہ سے لائن دسٹرب ہورہی ہے آپ ذرہ لائن سے نکل کر سائیڈ پر ہوجائیں ۔۔۔”
اس شخص نے عینک چڑھا کر حنا سے کہا ۔۔۔
“سر پلیز آپ میری کوئی ہیلپ کردیں اتنی بڑی یونی ہے آخر اسٹوڈینٹس کیلئے کوئی آسانی تو رکھی ہی ہوگی آپ نے ۔۔۔۔”
حنا نے ملتجی انداز میں اس شخص کو دیکھ کر کہا :
“میڈم آپ اپنی کوتاہی کو چھپانے کیلئے ہماری آرگنائز کو الزام نہیں دے سکتیں۔۔۔”
اس شخص نے کڑے چتونوں سے گھورا۔۔۔۔
“سوری سر میرا مطلب یہ نہیں تھا ۔۔۔ آپ پلیز فائنل سلیکشن دے دیں میں کل ہی ارینج کروا کر آپ کو سبمٹ کروا دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔”
دیکھیئے میڈم میں کچھ نہیں کرسکتا ہاں یونی “میں ایک دیپارٹ ہے جہاں آپ کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔۔۔”
جی سر کونسا ڈیپارٹ ہے ؟
“میں آپ کو سر مکرم میر صاحب کو ریفیر کرتا ہوں آپ ان سے مل لیں “
یہ صاحب کہاں ہوتے ہیں؟؟
حنا نے پر امید نظروں سے اس شخص کو دیکھا ۔۔۔
“ایڈمیشن آف ڈاریکٹر ڈیپارٹ میں ان کا اکاونٹ آفس ہے آپ وہاں چلی جائیں ۔۔۔۔”
حنا۔ شکریہ ادا کرتی ہوئی لائن سے نکلی ۔۔ اس کے نکلتے ہی ایک لڑکی نے با آواز بلند شکریہ ادا کیا۔۔۔۔
حنا اسے گھورتی ہوئی ماریہ کی طرف چلی آئی۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
اسی رات نظیر صاحب نے نصرین بیگم کو منالیا تھا ۔۔ ۔ اجازت ملتے ہی اس نے تمام ضروری کام ماریہ کہ ساتھ مل کر کئے۔۔۔۔۔۔ اور نظیر صاحب کہ آنے سے پہلے پہلے ہی وہ ماریہ کہ ساتھ لاہور روانہ ہوچکی تھی۔۔۔۔ سب سے پہلے وہ یونیورسٹی ہی آئی تھی تاکہ مکمل سلیکشن کروا سکے ۔۔۔ لیکن وہ جلد بازی میں چالان سلپ پر کمشنر کہ سائن لینا بھول گئ تھی ۔۔۔۔ جبکہ ماریہ نے اپنے بڑے بھائی سے کہہ کر پہلے ہی کروا لئے تھے ۔۔۔۔۔
نظیر صاحب بھی یہاں نہیں تھے جو اسکے ڈکومینٹس چیک کرتے وہ ازلی لاپرواہی کی وجہ سے بھول گئی تھی ۔۔۔جس کا خمیازہ یہاں اکر بھگتنا پڑھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ رات کی ڈیوٹی پوری کر کہ تھکی ہاری گھر پہنچی تو خلاف معمول گھر میں سناٹہ چھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اپنے کمرہ میں جانے کا ارادہ ترک کرتی ہوئی وہ پچھلے حصہ کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔ جہاں نصرین ملازمہ کو کام کا بتا رہی تھیں ۔۔۔۔۔
“اسلام و علیکم امی ۔۔”
“وعلیکم اسلام ۔۔۔”
تم اب آئی ہو ؟
نصرین نے اس کے شفاف چہرہ پر دیکھا جہاں تھکاوٹ کہ اثار رقم تھے۔ ۔۔۔
ہاں امی رات کی ڈیوٹی لگ گئی تھی ۔۔۔۔۔
یہ اچھا ہے تم اپنے سنیئرز سے بات کیوں نہیں کرتی ؟
“امی مجھ انوکھی کی نہیں لگتی اور بھی دو ڈاکٹرز تھیں میرے ساتھ۔۔۔”
وہ منہ بناتے ہوئے چڑچڑاہٹ سے گویا ہوئی۔۔۔۔
“دو ہوں یا دس یہ اخری بار تھا ورشہ ۔۔”
“افف امی یہ میرا خواب تھا جو پورا ہورہا ہے آپ اس طرح سے نہ کہیں ۔۔۔ آپ کو اپنی بیٹی پر اعتبار ہونا چاہیئے۔۔۔۔”
“لڑکی اولاد پر تو سب کو ہی اعتبار ہوتا ہے لیکن جو حالات و واقعات ہیں اسے دیکھ کر کوئی ماں اپنی جوان جہان اولاد کو ساری رات گھر سے باہر نہیں رہنے دیتی ۔۔۔۔”
“امی میں کسی کی نہیں آپ کی بیٹی ہوں ۔۔۔ آپ کو اللہ پر توکل رکھنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔”
ورشہ ناراضگی سے کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔
نصرین پر سوچ نظروں سے اسے جاتا دیکھے گئیں ۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ دونوں اکاونٹ ڈیپارٹ پہنچی تو یہاں بھی بہت سے اسٹوڈینٹس اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔۔۔ چہروں پر پریشانی کہ اثار واضح تھے ۔۔۔۔۔ یعنی یہ مسئلہ صرف اسی کہ ساتھ نہیں بلکہ وہاں موجود ہر دوسرے شخص کے ساتھ تھا۔۔۔۔
اللہ اللہ کر کے اس کی باری آئی ۔۔۔
بروان گہری انکھیں گھنی موچھوں تلے عنابی لب ۔۔۔ تھوڑی کہ اطراف میں ہلکی ہلکی داڑھی نفاست سے بنی ہوئی تھی۔۔۔ شفاف پیشانی پر مخصوص بل اس کی شخصیت کو روعب دار بنا رہے تھے ۔۔۔۔
مکرم موبائل کان سے لگائے دوسری طرف چہرہ کا رخ کئے محو گفتگو تھا۔۔۔
“اففف کیا مصیبت ہے آج کا دن ہی منحوس ہے ۔۔۔۔”
جنجھلاتی نسوانی آواز اس کی توجہ کامرکز بنی تھی۔۔۔ مکرم ایک لمحہ کو ساکت ہوگیا تھا۔۔۔
بلیک کلر کے مخملی اسکارف کہ احاطہ میں معصوم سا چہرہ باریک ہونٹ جو بار بار دانتوں سے کاٹے جانے کی وجہ سے سرخ پڑرہے تھے ۔۔۔ موٹی موٹی انکھیوں میں کاجل لگائے گھنیری پلکیں اٹھتی گرتی اس پر ایک سحر طاری کررہی تھیں چہرہ پر حد درجہ پریشانی چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔
کبھی ہاتھ میں بندھی ریسٹ واچ کو گھورتی تو کبھی اپنی فائل کو ۔۔۔۔
حنا نے اسے اپنی جانب دیکھتا پایا تو شکر کا سانس لیتی ہوئی فائل اس کہ سامنے کی۔۔۔۔
وہ لمحہ کہ ہزارویں حصہ میں حقیقت کی دنیا میں آیا تھا چہرہ پر آئے تاثرات کو کمال محارت سے چھپاتا ہوا اس کی فائل دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
جبکہ حنا اپنی پریشانی میں ہونٹوں کے ساتھ ساتھ سیدھے ہاتھ کی نازک انگلیوں کو بھی توڑ مڑوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ دیکھ تو فائل کو رہا تھا لیکن اس کی حرکتیں بھی مکرم کی زیرک نگاہوں سے مخفی نہ رہ سکیں۔۔۔۔۔
آپ کا ایشو ؟؟
بھاری گھنبیر آواز میں استفسار کیا گیا۔۔۔۔
“میں اپنے چالان سلپ پر کمشنر کے دستخط لینا بھول گئی۔۔۔۔”
سر جھکا کر اپنی کوتاہی کا جھنڈہ گاڑا ۔۔۔۔۔
یہ تو انتہائی غیر ذمہ دارانہ بات ہوئی ؟؟
“جی میں جانتی ہوں ۔۔”
اگر آپ پلیز کوئی حل نکال دیں تو ؟
ازلی اعتماد کہ ساتھ کہتی ہوئی ملتجی ہوئی۔۔۔۔
“اس کیلئے آپ کو انتظار کرنا پڑے گا ۔۔۔”
حنا نے ضبط سے اس مغرور شہزادہ کو دیکھا جو ظالم بادشاہ لگ رہا تھا۔ ۔۔۔
“اوکے ۔۔”
وہ کہتی ہوئی سائیڈ میں رکھے صوفوں کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔
لڑکیوں سے کوسوں دور رہنے والا آج وہ حنا کہ سامنے نرم پڑھ گیا تھا۔۔۔۔ یہ مکرم کا اپنا نکتئہ نظر تھا ۔۔۔۔ لیکن کوئی حنا سے پوچھتا تو وہ اس کی تمام اگلی پیچھلی نسلوں کا جنازہ نکال دیتی ۔۔ پہلے وہ بڈھا اور اب یہ مصیبت۔۔۔
وہ ٹیڑے میڑے منہ بناتی ہوئی دل ہی دل میں اسے صلاواتوں سے نواز رہی تھی۔۔۔۔
وہ حنا کہ منہ کے زاویہ دیکھ کر لطف اندوز ہورہا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے اسے یہاں بیٹھنے اور کام کرنے میں اتنا مزہ نہیں آیا تھا جتنا وہ آج محسوس کررہا تھا۔۔۔۔
کوئی تو خاص بات تھی اس من موہنی میں جو ہر دم بھینچے رہنے والے لب آج مسکرائے بنا نہ رہ سکے تھے ۔۔۔۔۔۔مزید آدھا گھنٹہ گزرا تو اس کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا رخ داخلی دروازہ کی طرف تھا ابھی وہ کوئی قدم اٹھاتی کہ مکرم کی آواز نے اسے پلٹنے پر مجبور کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈم آپ کہاں جارہی ہیں ؟
حنا نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا ۔۔۔۔
اس کا گھورنا مکرم کو ایک آنکھ نہ بھایا۔۔۔
کیا آپ اپنے سنیئر کے ساتھ اسی بی ہیویئر کہ ساتھ پیش آتی ہیں ؟
صبیح پیشانی پر دو بل کی جگہ چار بلوں کا آضافہ ہوا۔۔۔
اور آپ کا اپنے یونی سسٹم کہ بارے میں کیا خیال ہے سر؟
دانت پہ دانت جما کر دو بدو کہا گیا۔۔۔۔
“”غیر ذمہ دارانہ حرکت تو آپ ہی کی طرف سے ہوئی ہے۔۔۔”
مکرم نے استہزائیہ انداز میں کہا :
وہ صرف شکل سے معصوم تھی لیکن پوری تیکھی مرچی تھی ۔۔۔۔۔
یہ نیا حوالہ تھا جو اس نے ابھی ابھی اس کی ذات میں شامل کیا تھا۔۔۔۔۔
“صبح ساتھ بجے سے میں یہاں خوار ہورہی ہوں کوئی کہیں بھیجتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے ۔۔۔ کوئی دس دس بجے آرام سے چلا آرہا ہے ۔۔۔۔ آپ کو پہلے اپنے انتظامیہ کا از سر نو جائزہ لینا چاہیئے اور خود اپنا بھی مسٹر ۔۔۔”
حنا نے سر کا سفر مسٹر تک چند گھنٹوں میں طے کیا تھا۔۔۔۔
“اوہ تو اب آپ کو مجھ میں بھی کیڑے نظر آنے لگے خیر ۔۔۔۔”
موبائل کے رنگ ٹون پر وہ موبائل کان سے لگا چکا تھا۔۔۔۔
سیکنڈوں کی کال لینے کہ بعد موبائل ٹیبل پر رکھا ۔۔۔۔۔
“یہ لیجیئے مس حنا آپ کا سلیکشن ہوچکا ہے۔۔۔”
مکرم نے جتاتی نظروں سے اسے گھورا۔۔۔۔۔۔۔
“یہ آپ وہاں سبمٹ کروادیں ۔۔۔”
“بہت شکریہ ۔۔۔”
وہ لٹھ مار انداز میں فائل اٹھا کر وہاں سے واک آوٹ کر گئی۔۔
جبکہ وہ اس مغرور حسینہ کو جاتا دیکھے گیا۔۔۔ آج کہ دن میں اس لڑکی کہ ہزاروں رنگ اس نے دیکھے تھے ۔۔۔ بیک وقت شرمندگی ، غصہ ، خجالت ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تھی وہ کوئی اپسرا یا پھر ایک عام سی لڑکی جسے اس کی معصوم اداوں نے خاص بنا دیا تھا مکرم کی نظروں میں۔۔۔۔۔
اس کا کیس تمام اسٹوڈینٹس سے مختلف تھا اس میں ایک دن لگتا ۔۔ اگر حنا کی جگہ کوئی اور طلبہ ہوتی تو وہ کبھی بھی ذرائع استعمال کرکے اتنی جلدی اسکا سلیکشن نہیں کرواتا۔۔ کیوں کہ اسکا اپنا نظریہ یہ تھا کہ بیچلرز کہ اسٹوڈینٹس کو اس قدر لاپرواہ نہیں ہونا چاہیئے ۔۔۔
ایسی کیا خاص بات تھی کہ اس کی پریشانی اسے اپنی پریشانی لگی ۔۔۔۔
سر یہ لیں آپ کی بلیک کافی ؟
اس کی سوچوں کہ تسلسل کو پیون کی آواز نے توڑا تھا ۔۔۔
وہ سر جھٹکتا ہوا کپ لبوں سے لگاگیا تھا۔۔۔۔
گرم تلخ مائع اس کہ حلق سے نیچے اترا تو گونا گو سکون کا احساس رگ و پہ میں اتر گیا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جاری ہے
