Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
اسلام و علیکم نظیر انکل آپ کب آئے ؟
وہ سیدھا ڈائنگ روم میں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
“وعلیکم سلام بس کل ہی آیا تھا “
تم کہاں غائب تھے ؟
“پرنسپل سجاد سے میٹنگ میں بزی تھا۔۔۔”
خرم اسے ہی دیکھ رہا تھا انکھیں خطرناک حد تک سرخ ہورہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
“آو ڈنر کرو”
نظیر نے برابر والی کرسی کی جانب اشارہ کیا۔
“آپ لوگ کریں میں آرام کروں گا ۔۔۔”
وہ مسکراہٹ کہ ساتھ کہتا ہوا اپنے کمرہ کی طرف چلاگیا ۔۔۔۔
کیا ہوا آپ نے کھانا کیوں بند کردیا ؟؟
نظیر نے خرم کو دیکھا جس کی نظریں ان ہی راستہ پر تھیں جہاں سے وہ گزرا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“آپ نے دیکھا نہ وہ الجھا ہوا تھا ۔۔۔”
“ہاں دیکھا ہے لیکن ابھی نہ جائیں ہوسکتا ہے وہ چڑچڑاہٹ کا شکار ہوجائے کچھ ٹائم بعد خود جاکر کھانے کا کہنا ۔۔۔۔”
نظیر صاحب نے طمانیت سے اسے سمجھایا۔۔۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ میری بات کو اس حد تک محسوس کرے گا۔۔۔”
خرم نے افسوس سے کہا اور پلیٹ میں چمچ ہلانے لگا ۔۔۔۔
کیا بات ہوئی تھی آپ کی ؟
“وہ ہی گارڈذ ساتھ نہیں رکھوں گا ۔۔۔ آپ خود بتائیں فیصلہ آچکا تھا اگلے چوبیس گھنٹے کتنے خطرناک ہوتے ہیں یہ آپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ ۔۔۔
آپ ہی تھے نہ جب میں نے ان نھنے ہاتھوں سے ان دونوں کو لہد میں اتارا تھا ۔۔۔۔”
“حوصلہ رکھیں وہ علیحدہ مزاج کا بچہ ہے آپ اسے سپیس تو دیں اس سے نہ کہیں ساتھ رکھنے کا لیکن گارڈز کو تو حکم دے سکتے ہیں نہ کہ میر کے سایہ کی طرح ساتھ رہیں ۔۔۔۔ ایسا کہ اسے خود بھی احساس نہ ہو ۔۔۔۔”
نظیر صاحب نے انھیں میر کی سیکیورٹی کی راہ دیکھائئ تھی وہ پر سوچ انداز میں انھیں دیکھنے لگا۔۔۔
“اسے پتا چل جائے گا دوسرے دن وہ گارڈذ آپ کو نظر بھی نہیں آئیں گے دوبارہ ۔۔۔۔”
وہ افسوس سے دائیں بائیں سر ہلاتا ہوا پلیٹ میں بچے چائینز رائس کھانے لگا۔۔۔۔۔
“آپ فکر نہ کریں میں خود انھیں ہینڈل کرلوں گا ۔۔۔ “
“آپ اطمینان رکھیں وجہ کچھ اور ہے ۔۔۔”
نظیر صاحب نے نیپکن سے منہ صاف کرتے ہوئے کہا :
“چلیں دیکھتے ہیں اپ ٹرائفل لیں ۔۔۔”
خرم نے کانچ کا باول اگے کیا ۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~••~~
“شکر ادا کرو کہ فارم سبمٹ ہوگیا ورنہ تمہارا سمسٹر رہ جانا تھا۔۔۔۔”
مائرہ نے بلنکٹ کی تہہ کھولتے ہوئے حنا سے کہا جو کل کے پیپرز کی تیاری کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“ہاں یار ۔۔۔”
کتاب پر جھکے جھکے ہی جواب دیا۔۔۔۔
“تمھیں نہیں لگتا سر نے اب تک تمہاری اتنی ہیلپ کی ہے تمھیں تھینکس تو کہنا ہی چاہیئے۔۔۔۔”
“نجانے اب تک کتنے اسٹوڈینٹس کی ہیلپ کرچکے ہوں گے ۔۔۔ وہ جس سیٹ پر براجمان ہیں یہ ان کا فرض ہے مجھے نہیں لگتا کہ اسپیشلی میری ہی ہیلپ کی ہو ۔۔۔”
کتاب بند کر کہ حنا نے سنجیدگی سے کہا:
“تمہاری یہ عقل مندی کی باتیں مجھ سے ہضم نہیں ہوتیں ۔۔۔۔ میرا خیال ہے اگر سر مکرم نے اسپیشلی نہیں تو ہیلپ تو کی ہی ہے نہ ۔۔۔۔”
“اور میری آج ایک لڑکی سے اس بارے میں بات بھی ہوئی تھی ۔۔۔”
کیسی بات ؟؟
حنا نے تھوڑی ہاتھ کے نیچے رکھی۔۔۔۔
“وہ مائگریٹ ہو کر آئی ہے یہاں اس کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں تھا لیکن یہ جو سر مکرم ہیں نہ انہوں نے کسی بھی قسم کی کوئی ہیلپ نہیں کی تھی بے چاری کی ۔۔۔”
“دیکھا کتنا آل مینرڈ بندہ ہے “
کیوں تمہارے ساتھ تو اچھا ہی کیا ہے نہ ؟
ہاں تو!!!
“تو یہ کہ تم انھیں تھینکس کہو گی کل ۔۔۔”
یار کل تو پیپر ہے کل کیسے ؟
“پیپر کہ بعد چلیں گے ۔۔۔۔۔”
“اچھا ابھی کیوں دماغ کھارہی ہو اگر نہیں پڑھنا تو سوجاو۔۔۔۔”
وہ جنجھلا کر دوبارہ کتاب کی جانب متوجہ ہوگئی۔۔
جبکہ مائرہ اس کے کندھے پہ دھموکہ مار کر بلینکٹ میں چھپ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
حنا کی مائرہ سے دوستی اسکول کے زمانے سے چلی آرہی تھی ۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ دو جان ایک قلب کی طرح رہنے لگیں۔۔ ۔
یوں خاندان میں بھی راہ و رسم بڑھنے لگے ۔۔۔۔۔۔ اب تو کبھی مائرہ حنا کے یا حنا مائرہ کہ پائی جاتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
حنا کہ شوق میں مائرہ نے بھرپور ساتھ دیا اور سامان اٹھائے اس کی ہم سفر بنے منزل کی طرف گامزن ہوگئی ۔۔
~~~~~~~•~•~~~~~~~~~~~~~~~~
میرو !!!!
خرم نے بیڈ کے قریب کشن اٹھا کر جگہ بنائی ۔۔۔۔
وہ گہری نیند میں تھا جبھی وجود میں جنبش تک نہ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم نے ہاتھ بڑھا کر اس کی سفید چمکتی پیشانی سے بال ہٹائے۔۔۔۔۔
اب کہ سوئے ہوئے وجود نے خرم کی جانب کروٹ لی۔۔۔۔۔
وہ اس کی پکی گہری نیند سے بخوبی واقف تھا ۔۔۔
چاہے اس کہ سراہنے گلا پھاڑ کر چیخ لو لیکن وہ سوتا رہتا تھا۔۔۔۔۔
ہلہ گلہ کرنے والا تو وہ پہلے بھی نہیں تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا وہ مزید سنجیدہ اور بردبار ہوتا چلا گیا ۔۔۔ خرم اپنی سیاسی جھمیلوں میں اتنا مصروف ہوگیا کہ اپنے لاڈلے پر دھیان ہی نہ دے سکا ۔۔۔۔۔۔ کب اس نے ہسنا چھوڑا کب وہ ہر چیز کو سیریس لینے لگا۔۔۔۔ ۔۔
بڑی بڑی بات کو دل میں چھپانے لگا۔۔۔۔۔۔۔
اس کا لاڈلا قد سے نہیں بلکہ ذہنی طور سے بھی بڑا ہوتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔
میر نے گردن سیدھی کی لیکن کسی رکاوٹ کے تحت اس کی آنکھ کھل گئ وہ رکاوٹ خرم کا ہاتھ تھا۔۔۔۔۔
بند ہوتی انکھوں کو بمشکل کھول کر دیکھا:
بھیو آپ کب آئے ؟
وہ ویسے ہی لیٹا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“جب تم گہری نیند میں کسی اپسرا کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔”
خرم نے شرارت سے کہا :
کون اپسرا بھیو ؟
ارے کوئی نہیں تم بتاو آج اتنی دیر تک سوتے رہے یونی بھی نہیں گئے؟
“سیمسٹر اسٹارٹ ہوگئے ہیں اسی لئے سوچا پینڈنگ کے کام نبٹالوں گا۔۔۔”
“ہاں اور پینڈنگ کی نیند بھی ۔۔”
وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
کہاں کی تیاری ہے ؟
میر نے خرم کو سرمئی کلر کے کلف لگے قمیض شلوار میں ملبوس دیکھا۔۔۔
وہ آج بھی اتنے ڈیسنٹ تھے ۔۔۔۔
“کراچی جارہا ہوں کام کے سلسلے میں ۔۔۔”
اچھا !!
تم بتاو میرو۔ کیا بات ہوئی تھی کل ؟؟؟
“کوئی بات نہیں ۔۔۔”
پھر کھانا نہ کھانے کی وجہ ؟
“بھوک نہیں تھی ۔۔۔”
“تمھیں پتا ہے میں اپنے ذرائع استمال کرکہ پتا لگوالیتا ہوں لیکن اس بار میں چاہتا ہوں کہ تم خود مجھے بتاو۔۔۔۔”
“کوئی بات ہوگی تب ہی تو آپ کو بتاوں گا۔۔۔”
لڑکی وڑکی کا تو معاملہ نہیں ہے ؟؟
میرو ان کی بات پر دیکھ کر رہ گیا :
“آپ جانتے ہیں میں صنف نازک سے دور ہی رہنا پسند کرتا ہوں۔۔۔”
“ہاں یہ بات تو درست ہی کہی ہے اس معاملے میں تم ہوبہو مجھ پر ہی گئے ہو ۔۔۔”
بھیو آپ کو نہیں لگتا کے آپ کو شادی کرلینی چاہیئے؟
“نہیں ۔۔۔”
کیوں ؟
“میری اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں میرے پاس اپنے لئے وقت نہیں ہے اسے کہاں سے دوں گا ۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ میں اسے اس رشتے میں باندھ کر پابند کردوں ۔۔۔”
دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز پر خرم نے اندر آنے کی اجازت دی۔۔۔
سرنظیر صاحب آپ کا ویٹ کررہے ہیں ؟
“اوکے ۔۔۔”
ملازم کے جانے کے بعد وہ میر کو نیچے آنے کا کہہ کر خود بھی کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔
~““~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیسا ہوا پیپر ؟
“بہت ہی زبرست آسان تھا ۔۔”
“کوئی آسان نہیں تھا میرا تو ایک سوال بھی رہ گیا ۔۔۔”
مائرہ نے منہ بگاڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔
“اور لگاو راتوں کو گپے کہہ رہی تھی پڑھ لو ۔۔۔۔”
حنا نے اسے جھاڑا ۔۔ جو کل اسے باتوں میں لگائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم جیسے دوست ہوں تو دشمن کی کسے ضرورت ہے ۔۔۔۔”
مائرہ نے گھور کر اس پر طنز کیا ۔۔۔
چلو اب کیا یہیں سٹیچو بنی رہو گی ؟؟؟
حنا نے اسے وہیں ایستادہ پایا:
“ہر وقت لڑاکا طیارہ بنی رہنا ۔۔۔۔”
مائرہ پاوں پٹخ کر اگے بڑھ گئ۔۔۔
یہ یونیورسٹی کافی بڑی جگہ پر بنائی گئی تھی ہر ہر ڈیپارٹمنٹ دس منٹ کی دوری پر واقع تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکاونٹ ڈیپارٹ جاکر پتا چلا کہ وہ نہیں آیا تھا وہ دونوں تھینکس پر لعنت بھیج کر کینٹین کی جانب چلی آئیں۔۔۔۔۔۔
انھیں وہاں دیکھ کر زنیرہ بھی وہیں چلی آئی ۔۔۔۔
زنیرہ کا دیپارٹ ان دونوں سے الگ تھا یوں ان کی کبھی کبھی راہ چلتے ملاقات ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہورہا ہے گائز؟؟
“نتھنگ ۔۔”
مائرہ نے کولڈ ڈرنگ کا سپ لیتے ہوئے کہا :
“اور بتاو ۔۔۔”
تینوں باتوں میں لگیں تو ٹائم کا احساس نہیں ہوا ۔۔۔ پہلے زنیرہ کو ہی ہوش آیا تھا۔۔۔
وہ دونوں بھی بڑے بڑے قدم اٹھاتی ہوئی ہاسٹل کی طرف چلی گئیں۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا آج کے دور میں بھی ماں باپ اپنی اولاد کی جلدی شادی کردیتے ہیں وہ تو ابھی چھوٹی ہے اس کا لاوبالی پن کیا واقعی وہ اس رشتے سے خوش ہے ۔۔۔
یا اللہ اس پوری دنیا میں مجھے وہ ہی دل و جاں سے بھانی تھی جو میری ہی نہیں ہے ۔۔۔
کیوں نظر آئی وہ مجھے ؟؟
اففف میں پاگل ہوجاوں گا اپنی اس بدلتی کیفیت اور بے چینی کو کس طرح سکون دوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
پتا نہیں اس کا شوہر کیسا ہوگا شاید بہت اچھا ہوگا تبھی تو اسے یہاں پڑھنے کیلئے بھیج دیا ۔۔۔۔
ہاتھوں کی انگلیوں کو سر میں پھنسائے وہ بے بسی کی انتہا پر تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا یاسٹل جائے اور اسے چھپا کر یہاں سے بہت دور لے جائے اتنا کہ کوئی اس سے اس کی من موہنئ کو جدا نہ کرسکے۔۔۔۔۔۔۔۔
نجانے کیا اس کے دماغ میں سمائی وہ جس کام کیلئے باہر آیا تھا اسے پس پشت ڈال کر ہیلکس میں آبیٹھا۔۔۔۔
اور فل سپیڈ سے گاڑی سڑکوں پر دوڑانے لگا۔۔۔ اسے خود نہیں پتا تھا کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“سر میر سر تیز رفتار ڈرائیو کررہے ہیں اور آبادی سے ہٹ کر وہ گاوں گوٹ کی جانب چلے جارہے ہیں ۔۔۔”
دوسری طرف کی بات سن کر خرم کا غصہ سے برا حال ہوگیا:
تمھیں کیا بکواس کر کے گیا تھا میں سنا نہیں تھا بہرے ہوگئے تھے ؟؟؟؟
“سر میں کھانا کھانے گیا تھا جب وہ گھر سے نکلے تھے ۔۔۔”
ممناتے ہوئے خوف زدہ انداز میں بتایا گیا ۔۔۔
اگر اس نے کچھ الٹا سیدھا کیا تو تم سب کو آگ لگادوں گا میں۔۔۔۔
“اپنی ڈیوٹی اگر پوری ایمانداری کے ساتھ نہیں نبھا سکتے تو کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے تم لوگوں کی ۔۔۔”
خرم نے آواز کو نیچی ہی رکھا تھا کیوں کہ پیسنجر سیٹ پر نظیر صاحب بیٹھے تھے ۔۔۔
“خرم مجھے دیجئے موبائل ۔۔۔”
نظیر صاحب نے گردن گھما کر نرمی سے کہا :
خرم نے لبوں کو آپس میں بھنیچ کر موبائل انھیں تھمایا۔۔۔۔
دوسری طرف فائرنگ کی زور دار آواز کے ساتھ خرم اگے کو گرا تھا ۔۔۔۔
دو گولیاں مزید چلیں تو ڈرائیور گاڑی قابو میں نہ کرسکا اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی پل سے جا ٹکڑائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے :-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *