Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15
No Download Link
642.3K
20
Rate this Novel
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 (Watching)Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15
“ہنی یہ سوٹ ہینگ کردو ۔۔۔۔۔۔ “
ورشہ نے مصروف سے انداز میں حنا سے کہا جو ورشہ کہ جہیز میں آئے کپڑوں کو وارڈ روب میں جما رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“بجو آپ کا روم کافی بڑا ہے بندہ اس میں ہی گھوم لے کہیں جانے کی بھی ضرورت نہ ہو ۔۔۔۔۔۔”
ورشہ نے مسکرا کر ہنی کو دیکھا جو ستائشی نظروں سے کمرہ کا جائزہ لینے میں مصروف تھی ۔۔۔۔
” ایسا ہی کمرہ بلکہ اس سے اچھا کمرہ تمہارے نصیب میں ہے ہنی ۔۔۔۔”
کیا مطلب ؟؟
وہ الجھ کر ورشہ کی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل رات مکرم کی ذو معنی باتیں اور اب ورشہ کا اتنا یقین سے کہنا ۔۔۔۔ اسے تشویش میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
تبھی روم کا دروازہ کھلا اور خرم کمرہ میں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے رے گڑیا کہاں چلیں ؟؟؟
حنا کو جاتا دیکھ خرم نے ہینڈ واچ اتارتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا :
“وہ بھائی مائرہ کو دیکھ لوں زرا وہ کہے گی مجھے روک کر خود نجانے کہاں گم ہوگئی ۔۔۔۔”
وہ مسکراہٹ کہ ساتھ کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔۔ ۔
جبکہ ورشہ الماری میں گھسے ترتیب سے چیزیں رکھنے لگی ۔۔۔۔۔
وری ؟؟
خرم کی آواز پر ورشہ نے منہ نکال کر خرم کی جانب دیکھا :
“یہاں آئیے ۔۔۔۔ “
ورشہ الماری کا پٹ بند کرکے صوفہ کی جانب آئی جہاں وہ ٹانگ پہ ٹانگ چرھائے نیم دراز تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈنر کیا آپ نے ؟؟؟؟
“نہیں ابھی تو نہیں کیا آپ فریش ہوجائیں پھر ساتھ ہی کرلیں گے ۔۔۔۔”
مجھے تو دیر بھی ہوجاتی ہے اور کئی دفعہ پورا پورا دن میرا لائبریری میں گزر جاتا ہے تب تک یوں ہی رہیں گی ۔۔۔۔۔؟
“جی ۔۔۔”
ورشہ نے اس کی جانب دیکھ کر کہا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“جی نہیں ۔۔۔ “
خرم بھی مسکرا کر اس کی بات کی تردید کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
“آپ کو اگر خیال ہوگا میری بھوک کا تو آپ سارے کام پس پشت ڈال کر آئیں گے ۔۔۔۔۔۔”
اچھا !!!
اور ؟؟؟
خرم نے تھوڑی پر انگلی رکھ کر اسے گہری نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔
“اور یہ کہ ابھی آپ فریش ہوکر آئیں گے ۔۔۔ اور دوسرا یہ کہ میں چاہ رہی تھی کہ کل ہنی کے ساتھ ہی کراچی واپس چلی جاوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ورشہ کی بات پر خرم کی صبیح پیشانی پر بل نمودار ہوئے ۔۔۔۔۔
کیوں ؟؟
ورشہ نے چور نظروں سے اسے دیکھا اور سوکھے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔ وہ جانے دے گا بھی یا اس کو منع کردے گا ۔۔۔
“ان چھٹیوں میں میرے پیشنٹ کافی پریشان ہوئے ہیں ۔۔۔ آپ جانتے تو ہیں میرا کتنا حساس پیشے سے تعلق ہے ۔۔۔۔ میری ایک دن کی غفلت بھی مریضوں کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے ۔۔۔۔۔ “
“ہمممم اس پہلو پر میں نے غور نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ خیر آپ جب تک چلی جائیں لیکن ہفتہ بھر میں میں بلوالوں گا ۔۔۔۔ ایک دو مہینہ تو لگے گے ریجیسٹڑیشن میں ۔۔۔۔ “
وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
ریجیسٹڑیشن کیوں؟؟
“یا آپ ایسا کریں یہاں کہ ہسپتال میں جوائن کرلیں ۔۔۔ اس طرح آپ کا لوس بھی نہیں ہوگا اور وہاں کراچی میں آپ کی جگہ ہم کسی اور اسپیشلسٹ کے نام کردے گے وہ کلینک ۔۔۔۔۔۔”
” جی یہ ٹھیک ہے اب روز روز کا سفر سے مشکل پیش آئی گی پھر میرا دھیان یہیں رہے گا ۔۔۔۔ “
یہاں کہاں ؟؟؟
“آپ کے پاس ۔۔۔”
ورشہ کہ برجستہ کہنے پر خرم نے پرشوخ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔ اور اس کا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کیا ۔۔۔۔۔۔
خرم کی اس حرکت پر ورشہ سرخ پڑھ گئی تھی ۔۔۔۔
” آپ کہ چہرہ کے یہ خوبصورت رنگ مجھے بے خود کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔ “
“آپ سادگی میں بھی بے مثال حسن رکھتی ہیں ۔۔۔ ۔”
“خرم نے جذب سے کہہ کر اس کے ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی ۔۔۔ جس پر وہ اس کے سینے میں سر چھپا گئی۔۔۔۔ “
خرم نے اسے اعتماد دیا یقین دیا تو وہ پر اعتماد ہوتی چلی گئی۔۔۔۔
اعتماد تو پہلے بھی تھا لیکن خرم کی سنگت میں جو محبت آحترام اسے ملا وہ چاہ کر بھی نہ بھولا سکے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
‘گڑیا آپ میرو کو بلالو ۔۔۔۔۔ ‘
خرم نے سامنے ڈائنگ ٹیبل پر براجمان حنا کو دیکھ کر کہا جو مائرہ سے محو گفتگو تھی ۔۔۔
حنا اپنی حیرانی کو چھپاتے ہوئےان سب کی جانب دیکھنے لگی جو مزے سے ناشتہ میں مگن تھے پھر لاپرواہی سے کندھے اچکا کر سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔۔
کافی دیر دستک دینے کہ بعد کوئی جواب نہ آیا تو ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا۔۔۔۔
کیا بڑا شاندار کمرہ تھا ۔۔۔۔ ہر چیز اپنی جگہ پرفیکٹ تھی بڑا سا جہازی سائیز بیڈ کمرہ کے بیچ میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ سامنے سیاہ کلر کی ڈریسنگ ٹیبل رکھی تھی جس پر ہلکہ ہلکہ سرمئی ٹچ دیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
سڑو ہیں بلکل ہر جگہ بلیک بلیک کلر نظر آرہا ہے بندہ کوئی اور رنگ بھی پسند کرلیتا ہے ۔۔۔۔۔
پانی گرنے کی آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔
“اوہ تو اس وجہ سے جواب نہیں دیا ۔۔۔۔ “
چلو میں جب تک سر کی چیزوں کا ہی معائنہ کرلوں ۔۔۔۔
وہ کمرہ میں موجود ہر شئہ کو بغور دیکھ رہی تھی ۔۔۔ مہنگے ترین پرفیومز کا ڈھیر لگا ہوا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔تبھی سائیڈ ٹیبل پر اسے کچھ کاغذات نظر آئے۔۔۔۔
وہ لاپرواہی سے مڑی ہی تھی کہ ہاتھ لگنے سے وہ فائل زمین بوس ہوئی ۔۔
“اوئی اللہ ۔۔ اب کیا ہوگا ۔۔۔۔ “
وہ پریشانی سے بند دروازہ کو دیکھنے لگی اور جھک کر زمین پر پھیلے کاغذات سمیٹنے لگی ۔۔۔۔
تبھی اس کی نظر نکاح نامہ پر پڑی ۔۔۔۔۔
اس نے میکانکی انداز میں وہ خاکی رنگ کا کاغذ اٹھا کر انکھوں کہ سامنے کیا :
وہ جیسے جیسے پڑھتی جارہی تھی چہرہ کی رنگت پیلی پڑنے لگی۔۔۔ ۔
وہ ایک دم گھٹنے کہ بل زمین پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
مکرم شاور لے کر نکلا۔۔۔۔ ۔۔۔ تو اسے زمین پر بیٹھی وہ نظر آئی ۔۔۔ ارد گرد فائل بکھری ہوئی تھی۔ ۔
کئی سوال اس کہ ذہن میں اپنی جگہ بنانے لگے ۔۔۔
ہنی آپ تھیک ہیں ؟؟؟
وہ پریشانی سے اس کی جانب آیا ۔۔۔۔۔ اور پیلا پڑتا چہرہ دیکھ کر پریشان ہو اٹھا۔۔۔۔۔۔
حنا نے نظریں اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا۔۔۔۔۔
بالوں سے بوند کی شکل میں پانی اس کہ چہرہ اور کندھے پر ٹپک رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہنی نے بے ساختہ نظروں کا زاویہ بدلا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آر یو اوکے ؟؟؟
مکرم نے تشویش سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔
یہ یہ کیا ہے ؟؟؟؟
حنا نے خاکی کاغذ اس کہ سامنے کیا ۔۔۔
“آپ بیڈ پر آئیں اٹھیں یہاں سے ۔۔۔”
مکرم نے بنا کاغذ کو دیکھے اس۔ کا ہاتھ پکڑ کر کر بولا۔۔۔۔۔
اپنی زندگی کی اتنی اہم بات یوں کسی سے پتا لگنا کسی شوکڈ سے کم نہ تھا ۔۔۔۔ وہ خود بھی اس سے کم حیران نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
وہ سمجھ سکتا تھا اس کی کیا کیفیت ہوگی لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کیا وہ اس فیصلہ پر راضی ہوگی ؟؟؟؟
“سر پلیز جو میں پوچھ رہی ہوں اس کا جواب دیں ۔۔۔۔۔۔۔ “
ہنی نے خرم کی جانب دیکھ کر بھرائے لہجے میں کہا :
وہ اس کی انکھوں میں آنسو دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
یہ ہم دونوں کا نکاح نامہ ہے جو میرے والدین اور تمہارے والدین نے بچپن میں کیا تھا۔۔۔۔۔۔
ہنی نے مکرم کی بات پر بے دردی سے ہاتھ کی پشت سے سفید روئی کہ مانند گالوں کو رگڑا۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔
حنا میری بات سن کر جائیں ؟؟؟
حنا نے گردن موڑ کر اسے جن نظروں سے دیکھا تھا وہ مکرم کو اندر تک ہلا گئیں ۔ ۔۔۔۔۔
کیوں سنوں میں اپ کی بات ؟؟؟
جب آپ نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا سب جانتے ہوئے بھی تو کیوں نہیں اگاہ کیا اس نکاح سے ؟؟؟
“میری بے بسی دیکھنا چاہتے تھے آپ یا پھر یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ۔۔۔۔ “
“ہنی اس وقت تو میرے فرشتہ کو بھی علم نہیں تھا کہ آپ میری منکوحہ ہو بلیو می ۔۔۔۔”
مکرم نے اس کا ہاتھ تھام کر پوری سچائی سے کہا :
کیا مطلب ؟؟؟؟؟
ہنی اس کی انکھوں میں پختہ یقین دیکھ کر نرم پڑی تھی ۔۔۔۔۔۔
“بیٹھو گی تو بتاوں گا نا ۔۔۔”
“آپ شرٹ تو پہن لیں پھر بعد میں بات ہو گی ۔۔۔۔۔۔”
وہ سرخ چہرہ کہ ساتھ کہتی ہوئی ہاتھ چھڑا کر یہ۔جا وہ جا ۔۔۔۔ جب کہ پہلے تو وہ اسے جاتا دیکھے گیا بعد میں جی بھر کر ہنسنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رکی نہیں اور تیز تیز قدموں سے اپنے کمرہ میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
~~`~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“نگہت میڈم آپ مان لیں کہ اپنی ہی بچھائی گئی بساط پر آپ بری طریقہ سے ہار چکی ہیں ۔۔۔۔۔۔”
سامنے بیٹھے اس نوجوان نے ہاتھ میں پکڑے وہسکی کے گلاس کو منہ سے لگایا ۔۔
“مسٹر حارث آفندی اگر تم نے یہاں دو منٹ بھی ضائع کئے تو پھر کندھوں پر جاو گے ۔۔۔۔۔۔ “
نگہت کو اس کی مسکراہٹ ایک آنکھ نہ بھائی۔۔۔
“ڈیئر کزن نگی کیا تم یہ پسند نہیں کرو گی کہ گھی بھی نکل جائے اور انگلی ٹیڑھی بھی نہ کرنا پڑے ۔۔۔۔۔ سوچ لو میری آفر محدود مدت کیلئے ہوتی ہے ۔۔۔۔ “
“نگہت آپنے معملات میں اپنے باپ کو بھی شامل نہیں کرتی تم کہاں سے آئے ۔۔۔۔ “
“گیٹ آوٹ ۔۔۔”
“کوئی بات نہیں ایک وقت آئے گا تم میرے پاس خود چل کر آو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ خالی گلاس میز پر رکھ کر گلاسس انکھوں پر لگائے نگہت کو ایک نظر دیکھنے کہ بعد چلا گیا ۔۔۔۔۔
“میڈم کوئی مہران نامی بندہ ہے آپ سے ملنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ “
ملازم نے مودب انداز میں کہا :
“ہممم بھیج دو ۔۔۔ اور جب تک وہ یہاں رہیں کسی کو اندر آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔”
“جی میدم “
“کسی سے مطلب کسی کو نہیں چاہے ڈیڈ ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔۔”
‘بہتر میڈم ۔۔۔۔۔’
سوٹ بوٹ میں ملبوس وہ شخص نپے تلے قدم اٹاتا ہوا عین نگہت کہ سامنے آبیٹھا۔۔۔۔
اور ہاتھ میں پکڑا لفافہ ٹیبل پر رکھا:
جسے نگہت نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ اٹھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا میں سمجھوں کہ یہ کام خفیہ طریقہ سے ہوا ہے ؟؟؟؟
“کوئی شک نہیں مس ۔۔۔ کمپنی کہ ٹیگز ریموو کردیئے ہیں اور اگر پھر بھی جانچ پرتال ہوئی تو میں تو یہاں ہوں ہی نہیں اور جس دکان سے یہ تصویریں تیار کروائیں ہیں وہ اب بند ہوچکی ہے ۔۔۔۔ “
“ہممم گڈ آپ جاسکتے ہیں رقم آپ کو پہنچ جائے گی ۔۔۔”
نگہت نے مکاری سے ان فوٹو گرافس کو دیکھا ۔۔۔۔۔
جب کہ وہ شخص اب وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔ ۔
نگہت نے کبھی ہارنا نہیں سیکھا ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہایاییا۔۔۔ چھت پھاڑ قہقہہ سن کر ماریہ بی نے افسوس سے اسےدیکھا :
جس کا انجام سوائے بربادی کہ کچھ نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کل ہی چھٹیوں سے واپس آئیں تھیں۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
تم ناشتہ کی ٹیبل پر کیوں نہیں آئیں ؟؟؟
ورشہ اس کے سر پہ کھڑی پوچھ رہی تھی جبکہ وہ گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
“جائیں یہاں سے آپ ۔۔”
حنا نے نم آواز میں کہا :
ہنی میری جان کیا ہوا کسی نے کچھ کہا ہے ؟؟؟
حنا کہ سر اٹھانے پر ورشہ پریشانی سے اس سے پوچھنے لگی ۔۔۔
“آپ بابا سے کہیں گھر چلیں ۔۔۔۔ “
ہنی نے ناراضگی سے کہا :
ورشہ جانتی تھی وہ چھوٹی بات پر کبھی نہیں روتی ۔۔۔ یقیناً کوئی بڑی بات ہوئی ہے ۔۔۔
بتاو تو سہی میری جان ہوا کیا ہے ؟؟؟
ورشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کس طرح اس سے پوچھے ۔۔۔
آپ کو پتا تھا نہ میرے نکاح کا ؟؟؟
حنا کی بات پر ورشہ نے چونک کر اسے دیکھا :
تمھیں میر نے بتایا ہے ؟؟
بجو میں آپ سے پوچھ رہی ہوں آپ کو پتا تھا نہ ؟
“ہاں پتا تھا مجھے اور میں نے اسی لیئے نہیں بتایا تھا کہ تمہارا رد عمل یہی کچھ ہوگا۔۔۔۔۔ “
“بجو اگر آپ بابا یا امی بتاتے تو شاید یہ نہ ہوتا لیکن ۔۔۔ “
“خیر آپ خود بولیں گی بابا کو یا میں سب کے سامنے جاکر خود سے کہوں ۔۔۔۔”
ورشہ نے افسوس سے اسے دیکھا وہ اس بات پر ضد باندھ چکی تھی ۔۔۔ اور جب وہ ضد پر آجائے تو بابا کی بھی نہیں سنتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں کہہ دیتی ہوں ۔۔۔۔۔ “
“میں ناشتہ بھجوارہی ہوں کرلینا ۔۔۔۔”
ورشہ گئی تو وہ ایک بار پھر سسک اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
میر ناشتہ کی ٹیبل پر آیا تو سب تھے وہاں لیکن وہ موجود نہ تھی ۔۔۔۔ مائرہ سے پوچھا تو کہا جب سے بلانے گئی تھی واپس ہی نہیں آئی۔۔۔۔۔
انکل انٹی اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو میں حنا سے مل لوں کچھ بات کرنی ہے ؟؟
نظیر صاحب کہ مسکرا کر اجازت دینے پر خرم نے اسے شرارتی نظروں سے دیکھا جسے نظر انداز کر کہ وہ خانسامہ کو ناشتہ لانے کا کہہ کر سیڑھیاں عبور کرگیا جبکہ وہاں بیٹھے سبھی کہ چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی لیکن مائرہ اسے تو نوالہ گلے میں اٹکتا محسوس ہوا ۔ ۔۔۔۔۔
مکرم ناب گھما کر اندر داخل ہوا تو میڈم منہ تک کمبل اوڑھے سسک رہیں تھیں ۔۔۔۔
“بجو کہہ چکی ہوں نہیں کھانا تو نہیں کھانا کیوں بھیج دیتی ہیں ہر بار ملازم کو ۔۔۔۔۔۔ “
وہ بنا دیکھے زور سے بولی یہ جانے بغیر کہ بجو کی جگہ کوئی اور کمرہ میں آیا تھا۔۔۔
کیوں نہیں کھانا ؟؟؟
مردانہ آواز پر وہ جھٹکہ سے اٹھ بیٹھی۔۔۔
سلکی بال کچھ کندھے اور کچھ چہرہ کو ڈھانپے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
“ایسی لاپرواہی تو کسی کی بھی جان لے سکتی ہے ۔۔۔”
کالی گھٹا میں چھپے چاند کو دیکھ کر وہ ذو معنی لہجہ میں بولا۔۔۔۔
سر آپ ۔۔۔ آپ بغیر اجازت کیسے آسکتے ہیں کسی کہ کمرہ میں ؟
حنا نے غصہ سے بالوں کو پیچھے کی جانب کیا جس سے دو تین بال ٹوٹ بھی چکے تھے۔۔۔۔
میں تو اپنی بیوی کے کمرہ میں آیا ہوں تمھیں کوئی اعتراض ہے ؟؟
مکرم نے اس کہ قریب جگہ بناتے ہوئے کہا:
‘میں آپ کی بیوی نہیں ہوں۔۔’
وہ فوراً چمک کر بولی ۔۔۔
اچھا پھر کیا ہو ؟؟
مکرم نے اسی کہ انداز میں کہا :
“منکوحہ ہوں ۔ ۔۔”
افسردہ لہجہ میں گویا ہوئی ۔۔۔۔۔
“چلو اس کا بھی کچھ کرتے ہیں۔۔۔”
پہلے یہ بتاو بھوک نہیں لگ رہئ کیا ؟؟
“اب آپ سے کیا چھپاوں سر لگ رہی ہے لیکن میں ناراض ہوں ان سب سے اس لئے بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ “
مجھ سے تو نہیں ہو نہ ؟؟
“نہیں آپ تو خود لا علمی میں مارے گئے ہیں ہم دونون کو ہی بیوقوف بنایا گیا ہے ۔۔۔۔”
“ہممممم اب کیا کرسکتے ہیں ۔۔”
وہ بھی منہ بسور کر بولا۔۔۔۔۔
“ویسے آپ کا گھر ہے یہ آپ چھپ چھپا کر ناشتہ منگوالیں۔۔۔۔”
آئیڈیا تو اچھا ہے ۔۔۔ ویسے تمہارے دماغ میں اس طرح کہ آئیڈیاز آتے کہاں سے ہیں۔؟؟؟
مکرم اس کہ سامنے جب بھی ہوتا تھا اپنے قائم کردہ خول سے باہر ہوتا تھا۔۔۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا سامنے بیٹھی اس کی بیوی نازک مزاج ہونے کہ ساتھ ساتھ شفاف دل کی مالک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
“بہت لمبی کہانی ہے پھر کبھی سناوں گی ۔۔۔۔”
اتنے میں ملازم کھانے کی ٹرالی لئے کمرہ میں چلا آیا۔۔۔۔
یہ بجو نے بھیجی ہے ؟؟؟
حنا نے تفتیشی انداز میں ملازم سے پوچھا :
“نہیں بی بی جی میرو سر نے منگوایا ہے ۔۔۔۔”
مکرم کہ اشارہ پر ملازم نو دو گیارہ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔
ملازم کہ جاتے ہی وہ تو جو کھانا شروع ہوئی جبکہ مکرم اسے دیکھ دیکھ کر اپنے پیٹ بھر رہا تھا۔۔۔۔۔
“آپ شرمائے نہیں جلدی جلدی کھائیں کوئی اجائے گا تو ایویں باتیں سننے کو ملیں گی ۔۔۔۔”
حنا کہ کہنے پر مکرم نے مسکراتے ہوئے اس کہ ساتھ پہلی دفعہ ناشتہ کیا تھا ۔۔۔۔ اور پوری زندگی اسے اتنا مزہ نہیں آیا جتنا اس لمحے وہ محسوس کررہا تھا۔۔۔۔
جبکہ ہنی کھانے کہ ساتھ ساتھ باتیں بھی کررہی تھی ۔۔۔ کیوں کہ وہ ہنی تھی ۔۔ ۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
پھر اس کی ضد کہ اگے سب نے ہی گھٹنے ٹیک دیئے ۔۔۔
نظیر صاحب کو اس کی وجہ سے اب دوبارہ سفر کی خواری کرنی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن انھیں یہ بھی منظور تھا ۔۔۔ وہ جانتے تھے ہنی ان ساری باتوں کو اپنی ذات سے دور رکھنے والی لڑکی ہے ۔۔۔۔ وہ تو بھولے سے بھی اپنے نکاح کی بات نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔
نظیر صاحب اس کے احساسات اور جذبات کا خیال کرتے ہی اس کی ضد مان گئے تھے ۔۔۔۔۔ ویسے بھی اب بیٹی کا سسرال پہلے تھا ۔۔۔۔ بعد میں ان کی سیاست تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“مائرہ میرا بیگ گاڑی میں رکھواو میں آتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ حتمی انداز میں مائرہ کو کہہ کر گھر سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ جب اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئی تو پھر اس کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا ۔۔۔۔
مائرہ کو میر کہ نکاح کا سن کر دکھ ہوا تھا لیکن خوشی سے زیادہ حیرت تھی ۔۔۔۔
ان دونوں کہ مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔۔۔۔ جتنی حنا باتونی تھی اتنا ہی کم گو میر تھا۔۔۔ ۔۔
یہ بھی مائرہ کی خام خیالی ہی رہی ۔۔۔۔۔۔
مکرم ادھ جلی سگریٹ کو۔ لبوں سے لگاتا گہرا کش لے رہا تھا ۔۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ جذبات میں فیصلہ لینے والئ ایک لاوبالی لڑکی ہے ۔۔۔۔
سوچوں کہ گرداب سے باہر آیا۔ تو دروازہ کی دستک نے چونکایا۔۔۔۔۔
اجازت ملنے پر وہ ایک ہاتھ سے شال سنبھالتی دھیرے دھیرے چلتی ہوئی کمرہ میں داخل ہوئی ۔۔۔۔
میر کھڑکی کی جانب رخ کئے کھڑا تھا اس لئے اسے نہ دیکھ سکا۔۔۔۔۔
ماحول میں سگریٹ کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے اسے گھٹن ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔
وہ بری طرح کھانستی چلی گئ۔۔۔۔۔
نرم نسوانی آواز پر مکرم کرنٹ کھا کر پلٹا۔ ۔۔۔۔
اسے تو یہ بتایا گیا تھا کہ وہ واپس کراچی جارہی ہے ۔۔۔۔۔ ۔۔ وہ جلدی سے سگریٹ ایش ٹرے میں رگڑ کر سارے پردے کھڑکی سے ہٹاتا اس کی جانب آیا ۔۔۔۔۔۔۔
پانی کا گلاس بھر کر اس کی جانب کیا جو مستقل کھانس رہی تھی۔۔۔۔۔۔
حنا نے گلاس تھام کر ایک ہی سانس میں پانی چڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپنے آپ کو نارمل کرکہ اس نے بولنا شروع کیا :
انکھیں گریہ و زاری سے خطرناک حد تک سرخ ہورہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔
یہ لڑکی اتنے سارے ڈرامہ ایک ساتھ کیسے کرلیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اسکارف کہ ہالے میں آج اس کا گلاب چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔۔۔۔ شاید وہ جانے کیلئے تیار تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کہ نظریں اٹھا کر دیکھنے پر اپنا رخ پھیر گیا۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو اس نکاح کا علم کب ہوا تھا ؟؟
‘اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔ آپ جو بات کہنے آئی ہیں وہ کہیں۔۔’
مکرم نے سنجیدگی سے اس کہ بے تکے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل بات کی طرف توجہ دلائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے آپ کو پر اعتماد ثابت کرتی ہوئی آخر بول ہی پڑی۔۔۔۔
“میں اگلے ہفتہ تک یہ رخصتی چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔”
حنا کی بات پر مکرم نے اسے بے یقینی اور حیرت کہ ملے جلے تاثرات کہ ساتھ دیکھا :
آر یو سیریس ؟؟؟
وہ بس اتنا ہی کہہ پایا ۔۔۔ کیا ہنی واقعی بے وقوف تھی یا ظاہر کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے ہنی سے اس طرح کہ سوال کی قطعی امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“یس ۔۔۔۔۔۔ “
ہنی نے پختہ لہجے میں کہا جیسے اس کہ بعد کسی اور بات کی گنجائش باقی نہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میرا خیال ہے ابھی آپ کی پڑھائی مکمل بھی نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔ اس طرح اسٹیڈیز کہ بیچ میں رخصتی بہر حال کسی طور میں نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔”
“آپ اپنا سارا دھیان لگا کر یہ چار سال مکمل کریں اس کہ بعد ہی رخصتی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘
مکرم نے اس کی بات کو رد کرتے ہوئے سختی سے کہا جس پر ہنی کا چہرہ سپاٹ ہوگیا تھا۔۔۔۔
مکرم کو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا تھا کہ آیا اسے یہ بات پسند آئی بھی ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
میری اسٹیڈیز ہیں آپ کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا۔ چاہیئے ۔۔۔۔ اور اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو ایسا ہی سہی لیکن ایک بات یاد رکھیئے گا میں بھی اگے نہیں پڑھوں گئ ۔۔۔۔
“وہ اپکا فیصلہ تھا ۔۔۔ اور یہ میرا فیصلہ ہے ۔۔۔۔ “
وہ کہہ کر رکی نہیں ۔۔۔۔۔
جبکہ وہ اس کے بچکانہ فیصلہ پر سر ہاتھوں میں تھام گیا :
ورشہ جو اسے ہی بلانے آرہی تھی میر کہ کمرہ سے یوں خطر ناک تیوروں میں نکلتی حنا کو روکا۔۔۔۔
کیا کررہیں تھیں میرو کہ روم میں ؟؟؟
ورشہ نے شک بھری نظروں سے ہنی کو دیکھا :
“یہ میرے شوہر کا کمرہ ہے آپ کو حق نہیں ہے پوچھنے کا ۔۔۔۔۔ “
مکرم اس کی یہ بات سن لیتا تو عش عش کر اٹھتا۔۔۔۔۔
اوہو شوہر!!!!
اگر شوہر سے اتنا ہی پیار ہے تو یہ ٹسوے بہا بہا کر سب کو پریشان کیوں کر رکھا ہے ؟؟؟
ورشہ کو اس کی بات غصہ دلا گئی تھی ۔۔۔ نجانے کیا کیا اپنے دماغ میں محاز بنائے رکھتی ہے ۔۔۔۔۔
“بجو میں آپ کو یا کسی کو جواب دینے کی پابند نہیں ہوں ۔۔۔ اگر آپ بڑی بہن بن کر مجھ سے پوچھتیں تو شاید میں آپ کو بتادیتی لیکن آپ کی نظروں میں اپنے لئے میں شک دیکھ چکی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اپنے آپ کو رونے سے روک رہی تھی ۔۔۔۔۔ آج کہ دن وہ اتنا روئی تھی کہ زندگی میں کبھی روئی ہو۔۔۔۔۔۔
وہ شال کندھوں کہ گرد لپیٹ کر پورچ کی جانب چلی آئی۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ دونوں نظیر صاحب کی فیملی کو اسٹیشن چھوڑ کر گھومنے پھرنے نکل آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم نے نوٹ کیا ورشہ بجھی بجھی سے تھی اس کی بات کا جواب ہاں ہوں میں ہی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ شاید ان کہ جانے پر اداس تھی ۔۔۔۔ لیکن بات کچھ اور ہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ دونوں ریسٹورینٹ میں بیٹھے اپنا آرڈر لکھوارہے تھے جب نگہت ان کی ٹیبل پر اکر براجمان ہوگئی۔۔۔۔۔۔
خرم نے پہلے اسے پھر گردن گھما کر ریسٹورینٹ کا جائزہ لیا جو کچھا کھچ لوگوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔ نگہت کہ گارڈر تھوڑا دور ہی کھڑے تھے ۔۔۔۔
“ایسکیوز می یہ ٹیبل پہلے سے ہی بک ہے آپ کہیں اور جاکر بیٹھیں ۔۔۔۔۔ “
ورشہ کو دھڑلے سے اسکا بیٹھنا ناگوار گزرا تھا ۔۔۔۔
“ورشہ زئی رائٹ یہ ہی نام ہے نہ آپ کا ۔۔”
آپ نے مجھے پہچانا نہیں ؟؟؟
نگہت نے بڑے بڑے ناخنوں پر لال کلر کا نیل پینٹ شدہ ہاتھ شیشے کی چمکتی میز پر دھرا ۔۔۔
“جی نہیں آپ کوئی شدید غلط فہمی کا شکار ہیں میں مسز میر خرم ہوں ۔۔۔۔ “
“اور نگہت آپ جیسی عورت کو کون نہیں جانتا ۔۔۔۔ “
ورشہ کہ لہجہ کا استہزائیہ پن نگہت کو اندر تک کاٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلیں اس بات کا فیصلہ کچھ دیر میں ہی ہوجائے گا ۔۔۔ “
“ہاں تو چوہدری صاحب ماننا پڑے گا ۔۔۔۔ واقعی داد کہ مستحق ہیں آپ جس طرح آپ نے ورشہ کو پانی میں اتارا ہے ۔۔۔۔ “
“دیکھیئے مس نگہت یہ تو میں جانتی ہوں کہ آپ کو اپنی عزت کا کوئی پاس نہیں ہے ۔۔۔ لیکن مجھے خرم اور اپنی عزت ہر شہہ سے زیادہ عزیز ہے سو پلیز آپ کہیں اور جاکر اپنا وقت ضائع کریں ۔۔۔۔ “
“ہمیں اپ کی مداخلت انتہائی ناگوار گزررہی ہے ۔۔۔۔ “
ورشہ کی بات پر نگہت کا چہرہ احساس توہین سے سرخ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کہ خرم کہ لب اپنے اپ ہی مسکرا اٹھے۔۔۔
نگہت نے بامشکل آپنے آپ کو کمپوز کیا ۔۔۔ اور ساتھ کھڑی سیکرٹری سے وہ لفافہ لیا ۔۔۔۔۔
“باتیں تو ہوتی رہیں گی لیکن یہ کچھ تصویریں ہیں گزرے ہوئے ان لمحات کی جس میں سوائے خرم کے اور میرے کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
“خرم تو ایک مرد ہے اس کیلئے ان قربتوں کو بھلانا کوئی انوکھی بات نہیں ۔۔۔”
اس سے پہلے کہ نگہت اپنی بات مکمل کرتی ورشہ کا ہاتھ اٹھا اور نگہت کہ چہرہ پہ جاکر لگا۔۔۔۔۔۔
پیچھے کھڑے اسلحہ لئے چاقو چوبند گارڈر خرم کے ایک اشارہ پر ان دو گارڈز کو قابو میں کرچکے تھے۔۔۔۔۔۔
ماحول میں ایک دم سناٹہ چھا گیا ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جاری ہے:
