Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“آپ میری بات کو مذاق میں نہ ٹالیں ۔۔”
نصرین نے خشمگی نظروں سے اپنے مزاجی خدا کو دیکھا ۔۔
نظیر صاحب انھیں دیکھ کر ہولے سے مسکرا دیئے۔۔۔۔۔۔
“کیوں اپنی جان جلارہی ہیں ۔۔ بچیوں کو اپنے شوق پورے کر لینے دیں ۔۔۔۔”
مبہم سا کہہ کر انھوں نے سیب کی کٹی ہوئی کاش منہ میں رکھی ۔۔۔۔۔۔۔
“رات رات بھر ورشہ گھر سے باہر خوار ہوتی پھررہی ہے کیسا شوق ہے اس سے بہتر ہے آپ ان کے گھر بسانے کے بارے میں سوچیں ۔۔۔۔ “
“اس کا بھی سوچتیں ہیں آپ یہ کھائیں پریشان نہ ہوں ۔۔۔۔”
انھوں نے ان کی طرف پلیٹ بڑھاتے ہوئے کہا :
وہ نظیر صاحب کی اطمینانی کو دیکھ کر رہ گئیں ۔۔۔۔
“آپ کہیں سے نہیں لگتے کہ دو بیٹیوں کے باپ ہیں ۔۔۔۔”
“ٹھیک کہا امی آپ نے کیوں کہ میں تو اپنے بابا کا بیٹا ہوں ۔۔”
کیون بابا میں نے ٹھیک کہا نہ ؟
ورشہ نے نظیر کے برابر میں بیٹھ کر ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔
“بلکل سو فیصد درست فرمایا ۔۔۔”
نظیر نے ورشہ کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر کہا:
” بس اب آپ دونوں کے اگے تو میری چلنے سے رہی ۔۔۔”
تین گھنٹے کی بھرپور نیند لینے کے بعد وہ فریش ہوگئی تھی ۔۔۔۔
اس کا ارادہ الٹرا ساونڈ رپورٹ چیک کرکہ سلپ بنانے کا تھا لیکن نظیر کی آواز پر وہ لاونج میں چلی آئی۔۔۔۔
بیگم ساری زندگی تو آپ ہی کی چلی ہے پھر اس شکوے کا کیا جواز ؟
نظیر نے بائیں انکھ دبا کر ورشہ کو دیکھا پھر سنجیدگی سے نصرین سے گویا ہوئے۔۔۔۔
ورشہ کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔۔
“بابا کی بات میں وزن ہے امی ۔۔۔”
ورشہ نے۔ شرارت سے ماں کو دیکھا:
“آپ دونوں باپ بیٹی بیٹھ کر کچہری لگائیں میں کھانے کو دیکھ لوں ۔۔۔۔۔”
نصرین اٹھ کر کچن کی جانب چل پڑیں جبکہ نظیر صاحب نیوز دیکھنے لگ گئے ۔۔۔
گاہے بگاہے ورشہ سے آنے والے حالات کے بارے میں اظہارے خیال بھی کررہے تھے۔۔۔۔۔۔
____________________________
نظیر صاحب کا شمار ان مردوں میں ہوتا ہے جو کم نظری اور روک ٹوک سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔۔۔۔ انھوں نے اپنی دونوں بیٹیوں پر کسی قسم کی کوئی بے جا پابندی نہیں لگائی تھی۔۔۔
نصرین اور نظیر نے اپنی بچیوں کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔۔ ہمیشہ دونوں کی جائز خواہش کا حترام کیا تھا ۔۔۔۔ ان کا رویہ اپنی اولاد سے دوستوں والا تھا ۔۔۔۔
شاید یہ ہی وجہ تھی کہ وہ دونوں ہر بات با آسانی اپنے والدین سے کرلیتی تھیں ۔۔۔
والدین کو اپنی اولاد کو اتنا گیپ تو دینا چاہیئے کہ وہ ہر اچھی بری بات اپنے بڑوں سے کرسکیں ۔۔۔ زیادہ روعب اور غصہ اولاد کو متنفر کردیتا ہے یا زیادہ لاڈ اولاد کو سرکش ، ضدی بنادیتا ہے ۔۔۔
نظیر صاحب کا نظریہ اپنی والاد کیلئے ایسا تھا کہ انھیں” کھلاو سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ سے ۔۔۔۔۔”
جس پر وہ آج تک قائم تھے ۔۔۔۔
نصرین ماں تھیں اور ماں اپنے جگر کے ٹکڑوں کیلئے ہمیشہ فکر مند ہی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
___________________________
سارے دن کی خواری کے بعد وہ دونوں شام کو تھکی ہاری ہاسٹل پہنچیں ۔۔۔۔۔
ان کا کھانا بنانے کا ہرگز موڈ نہیں تھا ۔۔۔ کینٹین میں جو چاٹ کھائی تھی اسی میں دن گزار دیا تھا۔۔۔
بھوک بھی اتنی محسوس نہیں ہورہی تھی تو دونوں سونے کیلئے لیٹ گئیں ۔۔۔
حنا کی انکھ فجر کی آذان کی آواز پر کھلی ۔۔۔
آہستہ آہستہ ذہن بیدار ہونا شروع ہوا تو کل کا سارا منظر اسکی آنکھوں کہ سامنے گھوم گیا ۔۔۔۔۔
گھر میں تو اسے ہمیشہ بجو یا امی ہی اٹھاتی تھیں لیکن یہاں اس کی خود بخود آنکھ کھل گئی۔۔۔۔
وہ کلمہ طیبہ پڑھ کر اٹھی اور وضو کی غرض سے واش روم میں چلی گئ۔۔۔۔۔
آج سے ان کی کلاسس اسٹارٹ تھیں ۔۔
نماز سے فارغ ہوئی تو کچن کی جانب چلی آئی ۔۔
یہ ہاسٹل یونیورسٹی سے پانچ منٹ کی دوری پر واقع تھا۔۔۔۔
ہاسٹل میں تقریباً پندرہ سے زائد روم بنے ہوئے تھے ایک روم میں دو بیڈ اور اسی کے ساتھ اٹیچ باتھ تھا۔۔۔ روم سے ہٹ کر چھوٹا سا کچن بنا ہوا تھا ۔۔۔ یوں ہر اسٹوڈنٹس کو اپنا پکانا اپنا کھانا تھا۔۔۔۔۔ مائرہ اور حنا نے ایک ساتھ ریجیسٹڑیشن کروائی تھی تو انھیں ایک ہی روم دے دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ ہاسٹل کے ہر کمرہ میں دو ہی لڑکیوں کو رہنے کی اجازت تھی۔۔۔۔۔۔
“اٹھ جاو مائرہ ابھی وارڈن کے پاس بھی جانا ہے”
حنا ہاتھ میں ناشتہ کی ٹرے پکڑے کمرہ میں داخل ہوئی تو مائرہ کو سوتا پایا۔۔۔۔
“بس تھوڑی دیر ہنی ۔۔۔”
وہ تھکیہ میں منہ چھپاتی ہوئی سر تک کمبل اوڑھ گئ۔۔۔۔۔
گھڑی نے چھ بجائے تو دروازہ پر دستک ہوئی۔۔۔
حنا نے ناسمجھی سے دروازہ کو دیکھا مائرہ پر ایک نگاہ ڈال کر دروازہ کھول دیا۔۔۔
عمر رسیدہ خاتون کو دیکھ کر احتراماً سلام کیا :
“آپ دونوں نیچے آجائیں پانچ منٹ لیٹ ہونے کی صورت میں فائن پانچ سو ہوگا ۔۔۔۔ “
وہ ہزار بار کہی ہوئی لائن کو ایک سانس میں بول کر دوسرے روم کی جانب بڑھ گئ جبکہ حنا نے عجلت میں ناشتہ کیا اس دورانیہ میں مائرہ بھی اٹھ چکی تھی ۔۔۔
بھاگتی دوڑتی وہ دونوں نیچے بڑے سے ہال میں پہنچیں جہاں پہلے سے لڑکیاں موجود وارڈن کو حاضری دے رہیں تھیں۔۔۔۔۔
___________________________
خاموشی سے وہ ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھا فورک کی مدد سے ہاف فرائی انڈہ کھا رہا تھا۔۔۔ دائیں جانب ایک ملازم سر جھکائے کھڑا تھا جبکہ خانسامہ کچن سے نکل کر ہاتھ میں پکڑی ٹرے جس میں موجود چائے کا بھاپ اڑاتا کپ لئے اس کی جانب آیا ۔۔۔۔۔
سیدھے ہاتھ سے کپ تھام کر چائے کا گھونٹ بھرا تبھی میر بھی ڈائنگ ایریہ میں داخل ہوا۔۔۔۔
“گڈ مارننگ بھیو “
“مارنگ میر ۔۔۔”
وہ اب سیٹ کی پشٹ سے ٹیک لگائے چائے پینے لگا۔۔۔
میر کہ بیٹھتے ہی خانسامہ نے میر کا ناشتہ اس کہ سامنے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر کا ناشتہ خرم سے مختلف ہوتا تھا ۔۔۔۔
خرم کہ برعکس میر ناشتہ میں سلائس کے ساتھ ماملیٹ لیتا ۔۔۔ اور اورنج جوس لازمی اسے چاہیئے ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ سیاہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا ۔۔ نجانے اسے کیوں دیوانوں کی حد تک یہ رنگ پسند تھا ۔۔۔۔ گاڑی سے لے کر موبائل تک اس کی ہر چیز سیاہ رنگ کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرو آج تو تم کوئی اور رنگ پہن لیتے ؟
مکرم کہ نرمی سے کہنے پر میر نے ناشتہ سے ہاتھ روک کر انھیں دیکھا:
“بھیو آپ کو معلوم ہے میں اپنی چیزوں میں کسی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کرتا ۔۔۔۔”
“تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میری اس بات کے پیچھے کیا مقصد ہے ۔۔ لیکن تم ہمیشہ کی طرح مجھے دلیل دے کر چپ کروا دوگے۔۔۔۔”
مکرم نے چائے کا مگ ٹیبل پر رکھ کر موبائل کی اسکرین آن کی ۔۔۔
“بھیو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے دو گارڈز جو آپ نے میرے سر پر مسلط کئے ہیں وہ ہی کافی ہیں میرے لئے ۔۔۔۔”
“کیسی بچوں جیسی باتیں کرتے ہو میں نہ کروں تمہاری فکر تو تم خود کو بھول جاو ۔۔۔”
خرم نے سنجیدگی سے اسے دیکھا:
بھیو صرف آج آپ کی بات پر میں ڈرائیور کے ساتھ جارہا ہوں لاسٹ ٹائم بھیو !!
“اوکے ڈن ۔۔”
اور تم نے خالد کو واپس کیوں بھیجا تھا ؟
“بھیو وہ میرا دم چھلہ بنا میرے ساتھ ڈیپارٹ کی جانب جارہا تھا۔۔۔”
“وہ تمہارے ڈیپارٹ نہیں بلکہ تمہاری راہ محفوظ کررہا تھا۔۔۔۔”
“آئی ڈونٹ کئیر میں ایک گولی سے مر نہیں جاوں گا۔۔۔۔”
مکرم نے ہتھیلی کا مکہ بناتے ہوئے شیشہ کی ٹیبل پہ مارا۔۔۔۔۔
“ہاں لیکن تمہاری اس بے پرواہی سے میں اپنی کل کائنات کھو بیٹھوں گا۔۔۔”
خرم کی انکھیں ضبط سے سرخ ہوگئیں تھیں اسے مکرم کی بات ناگوار گزری تھی جس کا براملا اظہار کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“بھیو میرا وہ۔۔۔”
خرم اسکی وضاحت سنے بغیر ٹیبل چھوڑ کر کھڑا ہوگیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا پیلس عبور کرگیا ۔۔۔۔۔۔۔
___________________________
وہ دونوں پروفیسر رفیق کی ڈیڑھ گھنٹہ کی کلاس لے کر اب کینٹین میں بیٹھی ہوئی گپے ماررہی تھیں اور گرم سموسے اور پودینہ کی
چٹنی کے ساتھ پورا پورا انصاف کررہیں تھیں۔۔۔۔
“یار یہ سر تو بہت ہی سلو لیکچر دیتے ہیں مجھے تو نیند آنے لگی تھی ۔۔۔”
“ہاں گزارہ لائق ہے ویسے بھی یہاں کا پورا سسٹم ہی سست ہے ۔۔۔ میں جتنا ایکسائٹڈ ہورہی تھی یہاں اکر اتنی ہی مایوسی ہوئی ۔۔۔۔”
ہنی ایک دو لوگوں کی کاہلی پر تم پورے سسٹم کو کرپٹ کیسے کہہ سکتی ہو؟
“رہنے دو بس ۔۔۔”
ہنی نے سر جھٹک کر کوک کی بوتل میں لگی اسٹرا کو منہ سے لگایا۔۔۔۔
ارے ہاں یاد آیا تم نے ووٹ کاسٹ کیا تھا نہ ؟
“ہاں میری دادی ماں تمہارے ہی کہنے پر میں نے اسلامی جمہوریہ کو ہی دیا ہے ۔۔”
پچھلے ایک ہفتہ سے حنا اس کے پیچھے پڑی تھی عین الیکشن کے دن مائرہ کہ سر پہ کھڑی ہو کر ووٹ ڈلوایا تھا۔ ۔۔۔
“تھینکس یار!! تم خود مانو گی کہ تمہارا ووٹ ضائع نہیں ہوا ۔۔۔۔۔”
اچھا وہ کیسے ؟
ماریہ نے ابرو اچکا کر پوچھا:
“تمہاری انکھوں کے سامنے ہے سب کچھ ، کتنا قرضہ اترا ہے ملک کا ۔۔۔ ورنہ ہمیں تب ہوش آتا جب ہم مغربی ممالک کے خریدے ہوئے غلام بن کر ان کی جائز ناجائز باتیں مانتے ۔۔۔۔”
اور ملک کی معیشیت اس کہ بارے میں کیا خیال ہے تمہارا ؟؟
مائرہ نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر تھوڑا اگے ہو کر سنجیدگی سے پوچھا :
“بڑا روشن خیال ہے ۔۔”
بھرپور سنجیدگی سے کہا گیا:
“میں جانتی ہوں تم مجھے دلائل سے لاجواب کردو گی لیکن یار بات ہے میرے اپنے دل کی میں جب تک خود اپنی انکھوں سے دیکھ نہ لوں مجھے یقین نہیں آتا ۔۔ “
“میں تمھیں یقین کرنے پر مجبور کردوں گی ۔۔۔۔۔”
حنا نے اعتماد سے کہا :
“ہاں یہ میں جانتی ہوں ۔۔۔”
“مائرہ میں نے خود چوہدری خرم پر ارٹیکل پڑھے ہیں ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی ریسرچ کی ہے ۔۔۔ وہ جیسے خود ہیں بظاہر بھی ایسے ہی نظر آتے ہیں عموماً ہمیں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک سیاسی لیڈر بظاہر خوش اخلاق اور عوام کا حامی ہوتا ہے لیکن یہ سب باتیں صرف دکھاوے کیلئے ہوتیں ہیں ۔۔ حقیقت میں وہ ہی ملک کے لٹیرے ہوتے ہیں ۔۔۔”
حنا سانس لینے کو روکی پھر سے اپنی بات مکمل کرنے لگی۔ ۔۔۔۔۔
“تم یقین نہیں کروگی مائرہ چوہدری خرم کے اپنے ہر ہر عمل سے ان کی کہی ہوئی باتوں کی تصدیق ہوتی ہے “
ہنی کہیں تم کوئی اور جذبہ کے تحت تو ۔۔۔؟
ہنی کی انکھوں میں اتنا احترام دیکھ کر بے ساختہ مائرہ کہ منہ سے نکلا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ کی باتوں سے ہنی کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
دماغ ٹھیک ہے تمہارا ؟؟
یہ کیا فضولیات سوچ رہی ہو تم ؟؟؟
حنا نے غصہ سے سرخ ہوتے چہرہ کہ ساتھ پاس رکھا ریجیسٹر اس کہ کندھے پہ مارا۔۔۔۔
“یار ہنی مذاق کررہی ہوں مجھے پتا ہے تم ان کی عزت کرتی ہو بس ویسے ہی تنگ کررہی تھی۔۔”
مائرہ نے کندھا سہلاتے ہوئے کہا:
جب کے دوسری ٹیبل پر بیٹھے نفوس نے شکر کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔
____________________________
“ایک بار پھر مبارک باد وصول کریں چوہدری صاحب۔۔۔۔”
“خیر مبارک ہو آپ کو بھی ۔۔۔”
بغلگیر ہوتے ہوئےایک دوسرے کو مبارک دی جارہی تھیں ۔۔۔
آج ہی تو الیکشن کا آخری فیصلہ سنایا گیا تھا ۔۔ عوام ایک بار پھر خوشی سے جھوم اٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہ برعکس مخالف پارٹی کانفرنس کے ذریعہ جھوٹے منہ تعریفی کلمات ادا کررہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
“آج کے دن آپ آرام کریں ۔۔۔ کل صبح میں نے میڈیا کو بلوایا ہے۔۔۔ آپ تیاری کرلیں۔۔۔”
“بہتر ۔۔۔۔ “
نظیر صاحب کہاں مصروف ہیں ؟
“وہ کراچی گئے ہوئے ہیں ہوسکتا ہے کل تک آئیں ۔۔”
“سر آپ کہ کہنے پر پورے علاقے میں مٹھائیاں تقسیم کروا دیں ہیں ۔۔۔”
“ہممم ٹھیک ہے ۔۔۔”
میرو کہاں ہے ؟؟
“سر وہ تو یونیورسٹی میں ہیں ۔۔۔”
“اوکے گارڈز کو وہاں بھیجو ۔۔ اور ان سے سختی سے کہدو صاحب کو باحفاظت پیلس لے کر آئیں۔۔۔”
“جی سر ۔۔۔”
مودبانہ انداز میں سر خم کرتا ہوا وہ باہر چلاگیا ۔۔۔۔
“اسے یہ جیت نامکمل لگ رہی تھی کیوں کہ نظیر صاحب جو دکھ سکھ میں اس کا سایہ بنے ہوئے تھے آج وہ اس کہ ساتھ نہیں تھے ۔۔۔۔۔”
غیر ارادی طور پر اسکرین پر اس کی مردانہ سفید انگلیاں تیزی سے حرکت کرنے لگیں۔۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم ؟
سنجیدہ نسوانی آواز پر انکھوں میں حیرت سمیٹے اس نے موبائل اسکرین کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم سلام نظیر صاحب سے بات ہوسکتی ہے؟
“جی بابا تو گھر میں نہیں ہیں اور وہ عجلت کے تحت اپنا موبائل چارجنگ پر لگا بھول گئے ہیں۔۔۔”
دوسری طرف کہ تفصیلی جواب پر اس نے گہری سانس خارج کی۔۔۔۔۔
آپ ؟؟؟
“آپ کو بابا سے کام ہیں اس لئے میرے تعارف کی خاص ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔”
“وہ آئیں گے تو آپ کا پیغام ان تک پہنچ جائے گا ۔۔ خدا حافظ۔۔۔”
دوسری طرف سے سردمہری سے کہا گیا اور لائن کٹ گئ۔۔۔۔
گھنی موچوں تلے لب مسکرا اٹھے تھے ۔۔۔
وہ یقیناً نظیر صاحب کی صاجزادی تھی نظیر صاحب چونکہ اس کہ باپ کے زمانے سے ساتھ تھے تو اس نے کبھی ان کا بیک گراونڈ جاننے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔۔ کیوں کے واجد صاحب کے ساتھ اتنا عرصہ گزارہ تھا انہوں نے یوں باپ کہ دوست کی جاسوسی کرنا اسے زیب نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر جب نظیر صاحب نے ان دونوں کو بیٹوں سے بڑھ کر سمجھا تو واجد صاحب کے بعد وہ انہیں والد کا ہی درجہ دیتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
لیکن خاص تاکید تھی نظیر صاحب کی کہ ان کا نام لیا جائے ۔۔۔ اس کہ پیچھے جو وجہ تھی وہ خرم بخوبی سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
____________________________
اسلامی جمہوریہ
زندہ باد
خرم چوہدری
جئے جئے
اسلامی جمہوریہ
زندہ باد
خرم چوہدری
سلامت رہے آباد رہے
پورا پنڈال کارکنانوں سے بھرا پڑا تھا تل دھرنے تک کی جگہ نہ تھی ۔۔۔
ایک کارکن اونچی آواز میں نعرہ لگاتا جس کے جواب میں پورا پنڈال چیخ چیخ کر خرم کی سلامتی کی دعا دے رہے تھے ۔۔۔
خرم نے ہاتھ اٹھا کر ان کو خاموش ہوجانے کا اشارہ دیا۔۔۔ اس کے اشارہ پر یک دم ہی پنڈال میں خاموشی کی لہر دوڑ گئ۔۔۔۔۔
اور سب اس کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
تمام نیوز چینلز کے اینکرز الرٹ ہوکر اپنے اپنے کیمرہ کو خرم کی جانب فوکس کرنے لگے۔۔۔۔۔۔
“اسلام و علیکم آپ سب کی آمد سے مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے ۔۔۔”
“وعلیکم اسلام “
سب نے یک زبان ہو کر سلام کا جواب دیا۔۔۔
“میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر جان کر آپ سب سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ پہلے سے بھی زیادہ کوشش کروں گا اس صوبہ میں جس طرح پہلے تبدیلیاں آئی اس سے زیادہ آپ کو اس سال نظر آئیں گی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
میں ایک اور بات بھی آپ سب کے ساتھ شئیر کرنا چاہوں گا ۔۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑا اچھا لگا کہ نہ صرف اسی صوبہ کے لوگوں نے بلکہ دیگر صوبوں کہ لوگوں نے بھی مجھے ترجیح دی آپ سب لوگوں کا میں تہئہ دل سے شکر گزار ہوں ۔۔۔۔
لیکن اس کیلئے مجھے آپ سب کے تعاون کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔ “
کیا دیں گے میرا ساتھ ؟؟؟
“دن ہو یا رات ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں
دن ہو یا رات ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں “
خرم کہ سوال پر ایک بار پھر سے پنڈال میں نعرہ بازی شروع ہوگئ۔۔۔۔
“یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے ۔۔”
خرم کے بولنے پر ایک بار پھر سے خاموشی چھاگئی۔ ۔۔۔۔
“یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کا جواب مجھے دنیا میں عوام کو اور آخرت میں اللہ کو دینا ہے ۔۔۔ “
“مجھے یقین ہے آپ سب میرا پورا ساتھ دیں گے زندگی رہی تو پھر آپ سب سے ملاقات ہوگی ۔۔۔”
فی امان اللہ”
وہ ہاتھ اٹھا کر تقریر کا اختتام کرتے ہوئے چار پانچ لوگوں کے نرغے میں اسٹیج سے اتر گیا۔۔۔۔۔۔۔
پنڈال میں نعرہ بازی کا شور پھر سے اٹھا۔۔۔۔۔۔
” چوہدری خرم میر نے عوام سے یہ وعدہ کیا ہے کہ میں اس ملک کو بہتر بنانے میں وزیر اعظم عمران خان صاحب کا بھر پور ساتھ دیں گے۔۔۔۔۔
اور اپنے چاہنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے صوبہ کو بہتر سے بہتر بنایا جائے گا ۔۔۔۔۔ “
کارکنوں کا جوش و خروش آپ دیکھ سکتے ہیں ایک بار پھر سے چوہدری خرم میر کو عوام نے صوبہ پنجاب کا وزیر منتخب کیا ہے ۔ ۔۔۔ جس کہ نتیجہ میں وزیر اعلی عوام سے مخاطب تھے ۔۔۔۔
گلہ پھاڑ پھاڑ کر وہ برینگ نیوز دے رہی تھی۔۔۔
تمام چینلز پر یہ ہی خبر ہیڈ لائنز کی صورت میں آرہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ خرم میر گارڈز کہ حلقے میں اپنی گاڑی میں بیٹھا۔۔
اس کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے برق رفتاری سے گاڑی اگے بڑھادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~`~~~~~~~~~
جاری ہے :-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *