Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10

بڑی جلدی آگئیں تم ؟؟؟؟
“ہاں بس تمہارے لئے ہی آئی ہوں۔ ۔۔۔۔۔”
مکھن بعد۔ میں پہلے یہ بتا کہ پوچھا تو نے انکل سے ؟؟؟
“مانی یار تو سوچ بھی نہیں سکتی کہ کس طرح سے ریلیشن ہے ان سب کا ۔۔۔۔۔ “
“واقعی یار دنیا گول ہی ہے ۔۔۔”
تو تمھیں آج پتا چلا ہے دنیا گول ہے ؟؟؟
مائرہ نے اچھنبے سے پوچھا:
“دفع ہو سیرس نہ لینا کبھی مجھے ۔۔۔۔”
“او میری ماں بتا بھی دے جلدی پوری ڈرامہ کوئن ہے۔۔۔۔۔”
مائرہ نے ہاتھ سے سر پیٹا۔ ۔۔۔۔ ۔
“سر مکرم چوہدری خرم کے بھائی ہیں یار ۔۔۔”
واٹ ؟؟،
۔مائرہ کو سو والٹ کا کرنٹ لگا تھا۔۔۔۔
یو مین کہ ہم اس دن وزیر اعلی کے گھر گئے تھے ؟؟
“وہ اپنی بات دہرا کر یقین چاہ رہی تھی۔۔
جبھی تو میں کہوں کہ اتنا شاندار گھر عام آدمی کا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔”
وہ تھوڑی پر انگلی رکھ کر حیرت سے بولئ ۔۔۔۔
“ہاں یار اب میں سر سے کہوں گی وہ مجھے چوہدری خرم کا آوٹوگراف لادیں گے ۔۔۔۔”
یہ بات تو تم اپنے بابا سے بھی کہہ سکتیں تھیں۔؟،
مائرہ نے اس کی اوٹ پٹانگ خواہش پر سر ہاتھوں میں گرالیا۔۔۔۔
“ایک سو ایک مرتبہ کہہ چکی ہوں کبھی بھول جاتے ہیں کبھی بزی ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔ اب نہیں کہنا میں نے بابا سے۔۔۔۔”
“تم کہو گی اور سر لادیں گے ہنی وہ اکاونٹ کے ہیڈ ہیں تمہاری بے تکی بات بھلا کیوں مانیں گے ۔۔۔۔”
“تم دیکھ لینا بچو وہ ضرور لادیں گے ۔۔۔۔ “
“بلی کو خواب میں چھچھڑے ہی نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔ “
مائرہ مذاق میں اس کی بات ٹال گئی جبکہ وہ اگے کا سوچ کر اکسائیٹ ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
خرم نے دل سے چاہا وقت رک جائے اور وہ اسے قریب سے محسوس کرے ۔۔۔۔۔۔اور ہمیشہ یوں ہی کرتا رہے ۔۔۔ وہ اس کی فکر کرے ۔۔ اس کہ کھانے پینے کا خیال کرے بات بات پر ڈانٹے ۔۔۔۔۔
اور وہ بس اسے مسکرا کر دیکھتا چلا جائے ۔۔۔۔
وہ جانتا تھا جس ایج میں لوگ میچیور ہوجاتے ہیں وہ اس ایج میں اکر ٹین ایجر والی حرکتیں کررہا ہے ۔۔۔۔ لیکن دل تو پھر دل ہی ہے نہ اسے کیا پتا کہ انسان عمر کہ کس حصہ میں ہے ۔۔۔ بس جس پر بھی اجائے اس کو ہمسفری میں لانے کی بے تابیاں اور چاہے جانے کا نشہ پانا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خرم کی جانب دیکھنے سے گریز ہی برت رہی تھی جبکہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو بااعتماد رکھنے کی تگ ودود میں لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اب جب وہ اس کے روبرو آہی گئی ہے تو فیصلہ کر کے ہی جائے گی ۔۔۔۔۔
وہ دونوں اپنی ہی سوچوں میں نجانے کہاں تک نکل آئے۔۔۔۔
دروازہ کی کھٹکٹھاہٹ پر خرم نے بے ساختہ نظریں چرا کر دروازہ کی جانب دیکھا ۔۔۔
اجازت ملتے ہی خانسامہ کھانے کہ لوازمات سے سجی ٹرالی گھسیٹتا چلا آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے پیچھے میر بھی آیا تھا ۔۔۔ اسے ڈاکٹر سے مل کر تسلی کرنی تھی ۔۔۔۔
“آپ کا بلیڈ پریشر نارمل نہیں ہے ۔۔۔ آپ کو ابھی بگی ریکوری کی ضرورت ہے اس پر آپ مسلسل کام میں لگے ہوئے ہیں یہ بات کچھ مناسب نہیں ہے۔۔۔ “
وہ اجنبی شخص کا آنا دیکھ چکی تھی اسی لئے وضاحت دینا ضروری سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ میرا بھائئ چوہدری مکرم میر ہے ۔۔۔۔۔ “
ورشہ کی بات پر خرم نے میر کا تعارف کروایا۔۔۔۔
“دیکھ لیں بھیو آپ خود سن لیں اب ۔۔۔”
میر نے خفگی سے دیکھا۔۔۔۔
“آپ کچھ لیں نا ۔۔۔۔”
خرم نے میر کو انکھیں دیکھائی پھر ورشہ کو کھانے کی آفر کی ۔۔۔۔۔
“نہیں شکریہ ۔۔۔۔ “
“آپ کی میڈیسن میں چینج کردیتی ہوں ۔۔۔۔ “
وہ پیڈ پر قلم کو گھسیٹنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پرچہ پیڈ سے الگ کر کے میر کی جانب بڑھایا۔۔۔۔۔۔۔۔
“اگر آپ ابھی یہ منگوالیں تو میں اس کا استعمال با آسانی آپ کو سمجھا دوں گی ۔۔۔”
وہ اب بھی میر سے ہی مخاطب تھی۔۔۔۔
“جی جی میں منگواتا ہوں ۔۔۔ “
میر کہہ کر وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔۔
اب کہ کمرے میں ان دونوں کہ علاوہ کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا….
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ؟؟
وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہاں سے شروع کرے اور کیا کیا بتائے ۔۔۔۔
“جی جی میں ہمہ تن گوش ہوں آپ کہیئے۔ ۔۔ “
خرم تو پہلے ہی اس کے بولنے کا انتظار کررہا تھا۔۔۔۔۔
ورشہ کو اس کے نرم لہجے سے ڈھارس ہوئی۔۔۔۔۔
“شاید آپ کے علم میں یہ بات ہو یا نہ ہو میں نہیں جانتی ۔۔۔ لیکن میں اپنی بے مائیگی اور برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔ “
“آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ اپنی پسند کو ترجیح دیں میں آپ کو فورس نہیں کروں گی اور نہ ہی کسی قسم کی جذباتی بلیک میلنگ کریٹ کروں گی ۔۔۔۔۔
لیکن آپ جو بھی فیصلہ کریں گے میرے سامنے ہی کریں گے ۔۔۔۔۔”
وہ سانس لینے کیلئے رکی ۔۔۔۔
آپ مجھ سے کس طرح کا فیصلہ چاہتی ہیں؟؟؟
خرم اس کی باتوں کو سمجھ نہیں پارہا تھا۔۔۔۔۔۔
حیرت و استعجاب کی ملی چلی کیفیت چہرہ پر رقم تھی۔۔۔۔۔۔
“آپ کا نکاح آپ کے والد چوہدری واجد میر نے اپنی زندگی میں ہی کردیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ رک کر خرم کے تاثرات کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔۔ جہاں مکمل اطمینان تھا ۔۔۔۔
“آپ نے اپنی پسند میرے بابا تک پہنچائی ۔۔۔ اچھی بات ہے اور یہ آپ کا حق بھی ہے لیکن میں یہ چاہتی ہوں آپ میرا فیصلہ میرے ہاتھ میں تھما دیں ۔۔۔۔۔ “
ورشہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا اور نگاہیں پھیر لیں۔۔۔۔۔۔۔
نجانے کیوں اس کی انکھیں بھیگ گئیں جبکہ خرم سر کوئی دلی وابستگی نہ تھی۔۔۔۔۔
“بہت خوشی ہوئی آپ نے اپنی مصروفیت سے کچھ وقت نکالا اور میرے چیک اپ کیلئے یہاں آئیں۔۔۔۔۔۔ “
خرم کہ لہجے میں رتی برابر بھی نرمی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔
“آپ کا شکریہ ۔۔۔۔ “
“میر ڈرائیور سے کہہ کر انھیں کلینک چھڑوا دیجیئے۔۔۔۔ “
وہ کہہ تو آنے والے میر سے رہا تھا لیکن دیکھ ورشہ کو رہا تھا ۔۔۔۔
ورشہ نے خفا نظروں سے اسے دیکھا اور آلہ بیگ میں رکھ کر کمرہ سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔
جب کہ میر بھی اسی کی تقلید میں کمرہ سے نکلا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ کوئی بچہ تو تھا نہیں جو اس کہ فیصلہ کا مطلب نہیں سمجھتا۔۔۔۔ ایک عمر اس نے سیاست میں گزاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
غصہ تو بہت آیا لیکن اگر وہ اسے جانے کا نہیں کہتا تو اسے جھاڑ کر رکھ دیتا۔۔۔ اور یہ ہی۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
حال ہی میں ورشہ نے اپنا کلینک کھول لیا تھا۔۔۔ دن کا وقت وہ ہسپتال میں جب کہ شام سے رات تک کا وقت وہ اپنے کلینک پر گزارتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ نیا نیا تھا اسی لئے زیادہ محنت اور زیادہ وقت درکار تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بات سے نصرین بیگم سکون میں اگئیں تھیں ۔۔۔۔ کم از کم وہ رات تو۔ آرام سے گھر میں گزار لیتی ہے ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“چلو یار جان چھٹی اب میں لمبی تان کر سووں گی ۔۔۔۔۔ “
“ہاں یار ایک بوجھ سا تھا سر پہ ۔۔۔۔۔ “
چلو آو تھوڑا کھا پی لیں پھر اگلے مشن پر چلتے ہیں ؟؟
ہنی کی بات پر مائرہ نے اسے گھورا۔۔۔۔
“کبھی سیدھی سادھی بات نہ کرنا ۔۔۔ ضروری ہے جب میں تم سے مطلب پوچھوں جبھی واضح کرو۔۔۔۔ “
مائرہ نے چڑھ کر کہا :
“ہاہاہہاہا میں کوڈ ورڈ یوز کرتی ہوں اب تم کن ذہن ہو جو سمجھ ہی نہیں پاتی ۔۔۔ تو اس میں مجھ معصوم کا کیا قصور ۔۔۔ “
“تم اور معصوم تک کی بات کرو ہنی میڈم ۔۔۔ “
مائرہ نے استہزائیہ انداز میں بولی ۔۔۔۔۔
تو کیا میں معصوم نہیں ہوں ؟؟؟
“نہیں بلکل نہیں ۔۔۔۔ “
مائرہ نے صفا چٹ انداز میں کہا :
“اچھا پھر کینٹین سے چیزیں اب خود ہی لانا۔۔۔۔۔۔ “
ہنی نے ہری جھنڈی دیکھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نو پرابلم۔۔۔۔”
مائرہ نے بھی منہ چڑا کر کہا اور تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی اگے کی طرف جانے لگی۔۔۔ نجانے وہ شخص کہاں سے آیا اور زور دار ٹکر سے مائرہ زمین بوس ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔
ارد گرد کہ اسٹودینٹس رک کر اسے حیرت سے دیکھنے لگے اور زور سے ہنس۔ رہے تھے ۔۔۔
مائرہ کپڑے جھاڑ کر کھڑی ہوئی اور اس سے پہلے اس انسان کا دماغ ٹھکانے لگاتی ۔۔۔ ہنی اگے بڑھی اور اپنا سفید مومی ہاتھ اسکے گال پر جڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔
ہنسنے والوں کی ہنسی پل بھر میں غائب ہوئی تھی ۔۔۔
یو ایڈیٹ اندھے ہو دیکھ کر نہیں چل سکتے ؟؟؟
ہنی نے چیخ کر اسے دونوں ہاتھوں سے مائرہ کو اس سے دور دھکیلا۔۔۔۔ وہ انکھوں میں شعلے لئے ہنی کی جانب بڑھتا اس سے پہلے ان میں سے کھڑے ایک لڑکے نے جاکر اسے کندھے سے تھاما۔
“چھوڑ یار نیو اسٹوڈینٹ ہیں انھیں بعد میں دیکھ لینا ایسا نہ ہو سر بریک ٹائمنگ میں تمھیں ہنگامہ کرتے دیکھ لیں ۔۔۔۔ “
اس دبلے پتلے لڑکے نے معاملہ سلجھاتے ہوئے اس کے کان میں گھس کر کہا :
جبکہ ہنی مائرہ کہ پیچھے سے کپڑے جھاڑنے لگی۔۔۔ جہاں ہلکی ہلکی مٹی لگی ہوئی تھی۔۔
وہ خونخوار نظروں سے ہنی کو دیکھنے لگا ۔۔۔ ہنی کو اس کی نظروں سے کرائہیت محسوس ہوئی۔ ۔۔۔۔۔
سرخ انگارہ انکھیں ایک بار بھی نہ جھپکی تھیں ۔۔۔۔ ہنی کو اس سے تھوڑا تھوڑا خوف محسوس ہونے لگا۔۔۔۔
مائرہ نے اس کا بازو پکڑا اور ہاسٹل کی جانب قدم بڑھادیئے۔۔
کافی اسٹودینٹس کا جھمگھٹا لگ گیا تھا۔۔۔۔۔
“آج تو میرے بیچ میں آگیا لیکن آئیندہ یہ غلطی نہیں کرنا ورنہ اگلی بار تجھے غلطی کا موقع نہیں دوں گا۔۔۔ “
وہ کھلے لفظوں میں دیدہ دلیری سے اسے دھمکاتا ہوا لائبریری کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“ڈیڈ اس بار آپ اسے مارنے کا۔ پلین نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔ بلکہ اسے اس طرح اپنے جال میں پھنسائے گے جیسے مکڑی اپنے ہی بنائے گئے جال میں پھنسی ہوتی ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔ “
وہ دونوں اس وقت ڈائنگ ٹیبل پر موجود کھانا کھارہے تھے اور ساتھ پلینگ بھی کررہے تھے۔۔۔۔
مشورہ اچھا ہے لیکن اس سب کا مقصد ۔؟؟
“مقصد صرف ایک کہ وہ میرے پیروں میں گر کر معافی مانگے گا اور میں اسے پاوں کی جوتی کی ٹھوکر سے دھتکار دوں گی۔ ۔۔۔۔ “
نگہت نے ناگن کی طرح پھنکارتے ہوئے کہا:
اور اس سب سے تمھیں کیا ملے گا ؟؟
شکیل سومرو اس کا ذہن جانچنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔
“آگلئ بار آپ کو صوبہ پنجاب کی اتھورٹی کے ساتھ ساتھ ایک بڑی کامیابی ملے گی۔ ۔۔۔۔ “
“مجھ سے زیادہ تو فائدہ آپ ہی کا ہے ۔۔۔۔ “
نگہت نے دوہرے انداز میں کہا :
“تم نے ثابت کردیا کہ تم شکیل سومرو کا ہی جگرا ہو ۔۔۔۔۔ “
شکیل نے فخریہ انداز میں کہا جس پر وہ ہلکا سا مسکرادی۔۔۔۔۔۔
“آپ اسے ٹریپ کریں کہاں جاتا ہے کیا کرتا ہے کس سے ملتا ہے اور مجھے پتا ہے یہ آپ کیلئے اب اتنا آسان نہیں ہے لیکن ناممکن بھی نہیں ہے ۔۔۔”
ایم آاا رائٹ ڈیڈ ؟؟
نگہت نے ابرو اچکھا کر پوچھا :
“یس یو رائٹ ڈیئر۔۔۔۔ “
شکیل سومرو نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔۔۔
ماریہ بی ؟؟؟؟
تبھی نگہت نے ہاتھ روک کر اونچی آواز میں کہا :
ماریہ بی بھاگنے کے سے انداز میں وہاں پہنچیں ۔۔ ۔
جی جی میڈیم ۔۔۔۔؟؟
رشیئین سیلیڈ کہاں ہے ؟؟؟؟
نگہت نے سپاٹ لہجہ میں ماریہ بی سے پوچھا :
“میڈم میں ابھی بنا لاتی ہوں آج ذرا ہاتھ پاوں جسم کا ساتھ نہیں دے رہے تھے اس لئے نہیں بنا پائی ۔۔۔۔”
اور کتنے دن تک یہ ہی بہانا بناتی رہیں گی ؟؟؟
ماریہ بی بے یقینی سے اسے دیکھنے لگیں ۔۔۔ ساری زندگی اس کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور آج کیسے زوراوروں کی طرح وہ منہ کو آرہی ہے۔ ۔۔۔۔۔
ماریہ بی خاموش ہی رہیں ۔۔۔۔ کیا کہتیں اس نے تو ان کی عمر کا بھی لحاظ نہیں کیا ۔۔۔۔۔
“آپ جائیں ماریہ بی آرڈر کردیں۔۔۔”
شکیل نے سر اٹھا کر انھیں منظر سے ہٹایا ۔۔۔۔۔ وہ اپنے سامنے بیٹھی اولاد کو گہری نظروں سے دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگہت نے ان کی جانب دیکھا اورکرسی چھوڑ کر کھڑی ہوگئی۔۔
“بیٹھ جاو نگی۔۔۔۔ “
نگہت ان کی آواز کو پیتے ہوئے واک آوٹ کرگئی۔۔۔۔۔۔۔
ماریہ بی ؟؟؟
شکیل نے نرم لہجہ میں انھیں پکارا۔۔۔۔
“جی سرکار۔۔۔ “
“آپ چھٹیوں پر چلی جائیں اور کسی خانسامہ کا بندوبست کردیئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ “
“جی بہتر سرکار ۔۔۔۔ “
ماریہ بی آنسو پیتی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئی کچن میں اگئیں۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“ہاتھ دیکھ اپنے کتنا سرخ ہورہے ہیں ۔۔۔”
“. کیا ضرورت تھی تمھیں تیس مارکھا بننے کی ۔۔۔۔”
مائرہ نے اس کی لال ہتھیلی کو دیکھ کر افسردگی سے کہا:
“تو تمہارے کہنے کا مقصد ہے میں انکھیں بند کر کہ دیکھتی رہتی ۔۔۔۔ سوری ٹو سے مانی میرے سامنے کوئی میری دوست کو کچھ کہے اور میں سنتی رہوں ۔۔۔ صرف اسی لئے کہ اس کا معاملہ وہ جانے ۔۔۔۔۔ “
ہنی کا چہرہ ضبط سے سرخ ہونے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا چھوڑو دفعہ کرو ۔۔۔ “
آج میں پڈنگ بنارہی ہوں ۔۔۔ کھاو گی ؟؟؟
“ہاں ضرور کھاوں گی ۔۔۔ چلو میں بھی تمہاری ہیلپ کروادیتی ہوں ۔۔۔۔۔ “
“اجاو ۔۔۔”
وہ دونوں ہلکی پھلکی باتیں کرنے کہ ساتھ ساتھ پڈنگ کے اجزاء تیار کرنے لگیں ۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ جتنا خرم کہ رویہ کو سوچ رہی تھی اتنا ہی ڈپریشن کا شکار ہورہی تھی ۔۔۔۔۔۔
اس کی معنی خیز باتیں اس کی سمجھ سے باہر تھیں ۔۔۔ کیا وہ جانتا ہے ہمارے مابین رشتے کو یا سرے سے ہی لاعلم ہے ۔۔۔
اگر وہ لاعلم ہوتا تو حیرت کا مظاہرہ کرتا ۔۔ یا شاید وہ شاک میں تھا ۔۔۔
ہاں وہ شاک میں تھا ۔۔۔ اس نے کیا کیا۔ خواب دیکھے ہوں گے میری بیوی ایسی ہو گی۔۔۔ اسٹائلش ہو گی ایک سے بڑھ کر ایک فیشن کرتی ہو گی اور حقیقت میں مجھے اپنی منکوحہ کے روپ میں دیکھ کر وہ سکتے میں اگیا ۔۔۔۔۔
خیر میں کیوں اپنا دل چھوٹا کروں مجھے کون سا اس سے دھواں دار قسم کا عشق ہے ۔۔۔۔
ویسے بھی میری طرز زندگی اس کی طرز زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔۔۔
بس اب مجھے اس کے حتمی فیصلہ کا۔ انتظار ہے۔۔۔ کیا میں اس انتہائی فیصلہ کو دل سے قبول کرپاوں گی ؟؟؟؟؟
“ہاں کروں گی ۔۔۔ اور ضرور کروں گی ۔۔۔ “
وہ اپنے دل کی آواز کو دبا کر پختہ ارادہ سے گویا ہوئی۔۔۔
کیا فیصلہ ورشہ کے حق میں آئے گا یا خرم اسے لے جائے گارخصت۔ کروا کر اپنے ساتھ ؟؟؟؟؟؟؟
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جاری ہے :-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *