Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04
No Download Link
642.3K
20
Rate this Novel
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 (Watching)Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04
یہ تم کیا سن رہی ہو ؟؟؟
مائرہ بریانی بنارہی تھی جبکہ حنا کانوں میں ہینڈ فری لگائے خرم کی تقریر سن رہی تھی اور ساتھ رائتہ اور سیلڈ بھی بنارہی تھی۔۔۔۔
مائرہ نے پلٹ کر اسے دیکھا اور سانس کھینچ کررہ گئی۔۔۔۔۔
فارغ وقت میں ایک ہی تو شغل تھا اس کا۔۔
ہاں بولو نہ ؟؟
کندھا ہلانے پر اس نے ویڈیو پوس کی تھی۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ نے بات دہرائی ۔۔ ہینڈ فری کی وجہ سے سن نہیں پائی تھی ۔۔۔۔۔
“یہ سن رہی ہوں تم بھی سنو ۔۔۔”
کہتے ساتھ ہی موبائل سے پن نکالی۔۔۔۔۔۔
خرم کی آواز چھوٹے سے کچن میں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اففف مجھے کھانا بنانے دو خود ہی سنو۔۔۔”
وہ ایک نظر ہنی پہ ڈال کر پھر سے دیگچی کی جانب متوجہ ہوگئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~•~••~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“آپ کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی ہے ۔۔۔۔۔”
خادم نے شکیل سومرو کے چہرہ کو بغور دیکھتے ہوئے کہا:
کس طوفان کی بات کررہے ہو ؟
“وہ ہی سر جو آپ کہ دل اور دماغ میں ہلچل مچارہا ہے “
شکیل سومرو نے خاموش نظر خادم کہ کرخت چہرہ پر ڈالی۔ ۔۔۔
“میں سوچ رہا ہوں خادم کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔۔۔۔”
“سر جو پیسہ ہم نے عوام پر لگادیا وہ تو اب واپس آنے سے رہا جو ہے اسے پچانے کا کوئی حل جتنا جلدی ہوسکے سوچ لیں۔۔۔۔”
کیوں ؟
“شکیل نے تیوری چڑھا کر استفسار کیا :
اس کی کامیابی کہ چرچہ اب پورے ملک میں ہونے لگا ہے ایسا نہ ہو کے اگلے الیکشن میں اسے ہی وزیر اعظم کا عہدہ دے دیا جائے”
“
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہہاہ
“خادم تم تو دماغ سے بھی غافل ہوچکے ہو ریزائن لیٹر سائن کر ہی دو ۔۔۔۔۔”
ہہاہاہاہاہاہاہاہاہہاہاہاہہاہااا
اب کے خادم مسکرا بھی نہ سکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم کیا سمجھتے ہو کل کے پیدا ہوئے لڑکے سے میں ہار تسلیم کروں گا تو یہ تمہاری بھول ہے ۔۔۔۔”
“سالے کو ایسی جگہ ماروں گا جہاں پانی بھی نصیب نہ ہوگا ۔۔۔۔”
شکیل نے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارا تھا چھناکے کی آواز کہ ساتھ ٹیبل ٹکڑوں میں کانچ کی صورت بکھر چکی تھی۔۔
آگ اگلتی انکھیں نجانے کیا تباہ و برباد کرنے کا عندیہ دے رہیں تھیں۔۔۔
“پانی دو۔۔۔”
خادم نے ملازم کو کہا :
“سر یہ وقت جذباتی ہونے کا نہیں ہے بلکہ صبر و تحمل سے برداشت کرنے کا ہے ۔۔۔”
شکیل نے گھور کر خادم کو دیکھا ۔۔۔
“سانپ والا مقولہ بہت جلد پورا کروں گا میں لیکن ابھی نہیں ۔۔۔۔”
اور کیسے تم یہ کام انجام دو گے ؟
شکیل نے اگے بڑھ کر اس کہ کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔
“یہ آپ مجھ پہ چھوڑ دیں اور پانی پیئیں ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔”
شکیل سومرو نے ایک ہی سانس میں سارا پانی پیا تھآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اندر بھڑکنے والے لاوے کو وہ کم نہ کرسکا تھا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
• ” وزیر اعلی میر خرم چوہدری کو ڈھیروں مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔”
موبائل کی رنگ ٹون نے اسے اپنی جانب مبذول کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
پرسنل سم پر ان نون نمبر اسے حیرت میں مبتلا کرگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی میں لکھی گئی دو لائن کی سطر کو پڑھتے ہی اچھنبے کا شکار ہوا۔۔۔۔۔۔۔
اتنے میں نظیر صاحب بھی چلے آئے ۔۔۔۔ موبائل کو سائیڈ کر کے وہ پرجوش انداز میں نظیر صاحب سے بغلگیر ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
نظیر صاحب نے اس کا ماتھا چوم کر اس کی کامیابی کو سراہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کراچی روانہ ہوگئے تھے بغیر بتائے خیریت ؟
“ہاں سب خیریت ہی ہے بس بیگم سے ملنے کا دل چاہا اور چلے گئے۔۔۔۔”
نظیر صاحب کی بات پر خرم کہ کانوں کے پردوں پر وہ آواز گردش کرگئی ۔۔۔۔۔۔
میں نے آپ کو کال کی تھی تو ۔۔۔
“ہاں مجھے علم ہے ورشہ نے بتایا تھا بس مصروفیت میں یاد نہیں رہا ۔۔۔”
آپ بتائیں ؟
خرم نے نظیر صاحب کی جانب دیکھا :
“میرا خیال ہے جو یہاں کا مسئلہ پہلے اسے مل کر سوٹ اوٹ کرلیتے ہیں یوں بھی مخالف پارٹی کی خاموشی خطرہ سے خالی نہیں لگ رہی۔۔ “
“ٹھیک ہے پھر آپ مجھے لسٹ فراہم کردیں ایک دو مہینہ بعد کا رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“رکو بس یہ تصویر پیسٹ کردوں پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔۔”
“ہنی تم اتنی لاپرواہ کیوں ہو آخر تمھیں لاسٹ ڈیٹ پر ہی سب یاد آتا ہے ۔۔۔”
“اب باتیں نہ سناو اور یہ پکڑو۔۔۔۔”
وہ فل شدہ فارم لئے پلٹی ہی تھی کہ سامنے سے آتی لڑکی سے بری طرح ٹکرائی اس لڑکی کے ہاتھ میں سیلش حنا کہ کپڑوں اور فارم کو داغ دار کرگیا تھا۔۔۔۔
“اوہ نو “
“سوری سوری مس رئیلی سوری ۔۔۔”
وہ لڑکی گھبرا کر معذرت کرنے لگی ۔۔۔۔
“تم دیکھ کر نہیں چل سکتیں تم نے میرا فارم خراب کردیا “
“اب کیا ہوگا مائرہ میرا سیمسٹر رہ جائے گا میں ایک کلاس پیچھے ہوجاوں گی ۔۔۔۔”
وہ لڑکی حنا کہ تیور دیکھ کر نو دو گیارہ ہوگئ تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ وہیں کرسی پر ڈہ گئی تھی ۔۔۔
میں فیل نہیں ہونا چاہتی مجھے بتاو میں کیا کروں مائرہ ؟
ہنی نے نم انکھوں سے اپنے فارم کو دیکھا ۔۔۔
“مجھے بھی ٹینشن ہورہی ہے یار ایک سیکنڈ رکو میں کلرک سے ایک اور فارم لے کر آتی ہوں تم یہیں بیٹھو۔۔۔۔۔”
وہ اپنی پیاری دوست کا پریشان چہرہ دیکھ کر کلرک کے کیبین کی جانب چلی گئی۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ منہ لٹکائے واپس چلی آئی۔۔۔۔۔
یار کلرک آج نہیں آیا ۔۔۔
مائرہ کا کہنا تھا اور ہنی کا ضبط جواب دے گیا
اور وہ منہ چھپا کر روتی چلی گئی۔۔۔۔
“مائرہ مجھے نہیں پڑھنا میں واپس چلی جاوں گی جب سے یہاں آئی ہوں کوئی نہ کوئی مسئلہ میرے لئے کھڑا رہتا ہے ۔۔۔۔”
آپ کیوں رو رہیں ہیں ؟
مردانہ گھنبیر آواز پر ہنی نے آنسووں میں ڈوبی آنکھیں آٹھا کر آنے والے شخص کو دیکھا ۔۔۔
ہنی نے اسی شخص کے سامنے آجانے پر اپنا فارم پیچھے چھپایا۔۔۔
اس کی یہ حرکت مکرم نے دیکھ لی تھی ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کو دیکھ کر میر کو لگا وہ بھی اس سیلاب کے ساتھ بہتا چلا جائے گا۔۔۔۔
ہنی تو خاموش ہی رہی جب کہ مائرہ مکرم سے مخاطب ہوئی۔۔۔
“سر ایکچویلی آج ایگزیم فارم سبمٹ کروانے کی لاسٹ ڈیٹ ہے اور ہنی۔۔۔”
اس سے پہلے کہ مائرہ اپنا مسئلہ اسے بتاتی حنا نے اس کا ہاتھ دبا کر انکھوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔
جی آپ کیا کہہ رہیں تھیں۔؟
مکرم نے حنا کی انکھیں دکھانے پر بمشکل مسکراہٹ کو روکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“نہیں سر کچھ نہیں ۔۔۔”
ہنی نے جلدی سے بولا کہ مائرہ پھر رٹو طوطے کی طرح نہ بولے۔۔۔۔
آپ خود ہی بتادیں کہ دھواں دھار بارش کس وجہ سے برس رہی ہے ؟؟
مکرم کی بات ہنی کہ سر سے گزر گئی تھی ۔۔
ہیں ؟؟
ہنی نے ناسمجھی سے اسے دیکھا:
یہ فارم ابھی تک سبمٹ نہیں کروایا آپ نے ؟
مکرم اس کہ ہاتھ میں فارم دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
جسے وہ بے پرواہی سے اگے کرچکی تھی۔۔۔
“یہ فارم خراب ہوگیا ہے اور ۔۔۔۔”
مائرہ نے تمام بات اس کے گوش گوار کی ۔۔۔۔۔۔۔
“حد ہوتی ہے لاپرواہی کی “
اسکا غصہ دیکھ کر ہنی نے نم انکھوں سے اس کھڑوس کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“آئیں میرے ساتھ۔۔۔”
وہ لب بھینچ کر مڑ کر جانے لگا ۔۔۔
ہنی اور مائرہ اس کے پیچھے بھاگنے کہ سے انداز میں چل رہی تھیں مکرم کا ایک قدم ان دونوں کہ تین چار قدموں کے برابر تھا۔۔۔۔۔
“منع کررہی تھی نہیں بتاو لیکن تم نہ اب دیکھو طنز ہی کر کر کہ ماردیں گے مجھے آج ۔۔ میری لاش میرے گھر پہنچا دینا۔۔۔ “
“چپ کرجاو تم کام تو کررہے ہیں نہ ۔۔۔۔”
مائرہ نے ڈپٹ کر کہا تو حنا کی دہائیاں رکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ بری طرح کاموں میں الجھا ہوا تھا جب موبائل پر وہ ہی ان نون نمبر بلنک کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
اس کہ ذہن کہ پردہ سے بلکل مخفی ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
خرم نے موبائل کان سے لگایا۔۔۔۔۔۔
“اسلام و علیکم “
ٹہرے ہوئے انداز میں جواب دیا ۔۔۔
آپ نے میرا میسچ تو ریسیو کر ہی لیا ہوگا ؟
ہوا میں تیر پھینکا گیا :
کون سا میسج اور آپ کون بات کررہی ہیں؟
لیکن نشانہ خطا ہوچکا تھا۔۔۔۔
“مانا کہ آپ مصروف رہتے ہیں لیکن ایسی بھی کیا مصروفیات کہ آپ ہمیں فراموش ہی کردیں ۔۔۔”
“محترمہ آپ اپنا تعارف کروانا پسند کریں گی کیوں کہ آپ کی پہیلیاں بوجھنے کیلئے میرے پاس فالتو وقت نہیں ہے ۔۔۔۔”
خرم کے صفا چٹ انداز پر وہ تل ملا گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“آپ اگر مشہور شخصیت ہیں تو ہم بھی کسی طور آپ سے کم نہیں ۔۔۔۔”
اس کی سر پھری بات پر خرم نے جھنجھلا کر لائن کاٹی تھی ۔۔۔۔۔
“ہاں نمبر سینڈ کیا ہے آپ کو اس کا بائیو ڈیٹا نکلوا کر مجھے دیں۔۔۔”
“جی سر ۔۔۔”
سیکرٹری کو کہنے کہ بعد وہ پھر سے اپنے کام کی جانب متوجہ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“اپنی دوست کو پانی دیں ۔۔۔”
پانی سے بھرے گلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئےکہا :
“پلیز سر آپ میرا مسئلہ حل کردیں میں ایک ائیر پیچھے ہوجاوں گی ۔۔۔۔۔”
وہ پھر سے رونے کی تیاری کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں معین لے آئے فارم ؟
“جی سر خوش قسمتی سے مل گیا ۔ ۔۔”
“ٹھیک ہے ۔۔۔”
معین کہ جاتے ہی وہ فارم پڑھنے لگا۔۔۔۔۔
“سر آپ دیں میں ابھی پانچ منٹ میں فل کر کے دیتی ہوں ۔۔۔”
حنا فارم کو دیکھ کر ایک دم چہکی۔۔۔
اس کی بے ساختہ نظریں اس دھوپ چھاوں جیسے چہرہ پر اٹھیں تھیں۔۔۔
“رہنے دیں آپ پھر کوئی مسئلہ کردے گی مجھے بتاتی جائیں میں فل کرتا ہوں ۔۔۔۔”
نام ؟
“حنا نظیر “
والد کا نام ؟
“نظیر آحمد ۔۔۔”
وہ چونکا تھا ۔۔۔
“ضروری تھوڑی ہے کہ وہ ہی ہو ۔۔”
وہ سر جھٹک کر لکھنے لگا۔۔۔۔
کاسٹ ؟
“زئی”
آئی ڈی کارڈ نمبر ؟
“سر وہ تو نہیں ہے “
واٹ آپ کا آئی ڈی کارڈ نہیں بنا ہوا ؟
“سر بنا ہوا تو ہے لیکن میرے پاس نہیں ہے “وہ ہاسٹل میں ہے ۔۔۔”
وہ سر جھکا گئی۔۔
“سر بس دو منٹ میں اپنے بابا سے پوچھ کر بتاتئ ہوں ۔۔۔”
نظیر کا خیال آنے پر وہ جلدی سے بولی تھی اور موبائل نکال کر کال کی۔۔۔
وہ آرام دہ ہو کر اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔
اس سارے عرصہ میں مائرہ چپ چاپ کبھی مکرم کو دیکھتی تو کبھی حنا کو۔۔۔
بابا ایک مسئلہ ہوگیا ہے ؟؟
“نہیں نہ میں آئی ڈی کارڈ بھول گئی آپ اپنا آئی ڈی کارڈ نمبر بتادیں ۔۔۔”
“وہ فارم ایک بدتمیز لڑکی نے خراب کردیا ۔”
“جی لکھا ہوا ہے “
“اوہ بابا میں تو بھول گئی تھی یو آر دا گریٹ اوکے۔۔۔”
مائرہ پہلے والا فارم دو ؟
“یہ لو “
رنگ دار فارم اس نے تھام کر مکرم کی ٹیبل پر رکھا:
“سر اس میں سے دیکھ لیں ۔۔۔۔”
“آپ غلطی سے بیچلرز میں اگئیں آپ کو ابھی سیکنڈری میں ہی رہنا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔۔۔”
نہایت سنجیدگی سے مکرم نے اس لاوبالی لڑکی کو کہا :
کیوں سر ؟
“آپ میں ٹین ایجر والی ساری خصوصیات ہیں۔۔۔”
“تھینکس سر سب یہ ہی کہتے ہیں ۔۔۔”
وہ اپنی سادگی میں اس کی بات کا مطلب نہیں سمجھی تھی ۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلاتا ہوا ایک بار پھر جھک گیا :
جیسے کہہ رہا ہو ان محترمہ کا کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔۔۔
یک دم کرنٹ کھا کر اس نے حنا کو۔ دیکھا :
آپ میریڈ ہیں؟؟
اسے لگا شاید اس نے غلطی سے میریڈ پر ٹک کیا ہو ؟؟
“یس سر آئی ایم میریڈ “
حنا کا اعتراف کرنا تھا کہ مکرم کہ ہاتھ سے قلم گرگیا :
“اب تو آپ کو یقین ہوگیا نہ میں ٹین ایج نہیں ہوں۔۔۔”
وہ ازلی لاپرواہی سے کہنے لگی ۔۔۔۔
کاش وہ اس کی انکھوں میں دیکھ لیتی ۔۔۔ سپنوں کا ٹوٹنا کیا ہوتا ہے کئی خوابوں کے ٹوٹنے کی کرچیاں انکھوں کی سرخی سے ظاہر ہورہی تھیں۔۔۔۔۔۔ ۔۔
~~~~~~~~~•••~~~~~~~~~~~~~~~
“سر جس نمبر کا آپنے بائیو ڈیٹا نکلوانے کو کہا تھا وہ نکل گیا ہے ۔۔۔”
اس نے شہانہ انداز میں ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائی ۔۔۔
اور انگوٹھے کی مدد سے پیشانی رگڑنے لگا۔۔۔
“ہممم کہو “
“سر یہ نگہت میم کا نیو نمبر ہے ان ہی کہ نام سے رجسٹریشن ہے ۔۔۔۔”
کون نگہت ؟؟؟
“سر شکیل سومرو کی اکلوتی بیٹی ۔۔۔”
“اوکے ٹھیک ہے جاو ۔۔۔”
“کیا۔ مجھے اس بارے میں نظیر صاحب کو بتانا چاہیئے یا خود ہی ہینڈل کرلوں ۔۔۔۔”
“نہیں ہوسکتا ہے شکیل کی کوئی سازش کا ہی ایک مہرہ ہو ۔۔۔”
وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا تبھی نظیر صاحب سیکرٹری کہ ساتھ کمرہ میں داخل ہوئے۔۔۔۔۔
کوئی پریشانی والی بات ہے ؟
نظیر صاحب نے اسکے چہرہ پہ چھائے تاثرات بغور دیکھا:
“ہممم نہیں خیر پریشانی تو نہیں الجھن ہے ۔۔۔”
کیسی الجھن ؟؟
خرم نے سیکرٹری کو اشارہ کیا ۔ وہ اسکا اشارہ سمجھ باہر چلی گئی۔ ۔
کیا شکیل سومرو اپنی شکست کا بدلہ لینے کیلئے اپنی بیٹی کو موہرہ بنا سکتا ہے ؟؟؟
خرم کی بات پر یک دم نظیر صاحب سنجیدہ ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے مجھے ساری بات بتائیں ۔۔”
نظیر صاحب نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا:
ہممممم۔۔ہوسکتا ہے دل کا معاملہ ہو ؟
“خیر دو باتوں میں تو دل لگی ہونئ سے رہی “
خرم نے استہزائیہ انداز میں کہا :
پوچھو کیا کہتی ہے ؟
آپ جانتے ہیں میں روکھا بندہ ہوں ۔۔۔۔ پھر بھی ؟؟؟
“چلو نہ پوچھو میں پوچھ لیتا ہوں ۔۔۔۔”
“تمھیں نہیں لگتا کہ اب میر پیلس میں بھی رونقیں لگانی چاہیئں۔۔۔۔”
نظیر صاحب موضوع سے ہٹ کر غیر ضروری بات کرنے لگے وہ بھی اسی لئے کہ وہ ریلکیس ہوجائے ۔۔۔ سارا سارا دن اس کا مصروفیت کی نظر ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔
کیسی رونقیں؟؟؟
“آپ بھی اب سہرا سجا ہی لیں ۔۔۔۔”
ہاہاہاہہاہا میں اپ کو خوش اچھا نہیں لگ رہا ؟؟
خرم نے ہلکے بھلکے انداز میں کہا :
بھئی ساری عمر یوں ہی تنہا گزارنے کا ارادہ تو نہیں کرلیا کہیں؟؟
“تنہائی کیسی آپ اور میرو جب میرے ساتھ ہیں تو ۔۔۔”
“یہ بھی اچھی کہی آپ نے ۔۔۔”
“چلیں آئیں کھانا ریڈی ہے ۔۔۔”
وہ دونوں بڑے سے ڈائنگ ہال کی طرف چلے گئے جہاں پہلے ہی کانا رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جاری ہے :-
