Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06

“ابھی ابھی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے موجودہ وزیر اعلی خرم چوہدری ہوائی فائرنگ کی زد میں آچکے ہیں ۔۔۔”
ان کی حالات بہت خراب بتائی جارہی ہے وہ اس وقت آئی سی یو میں موجود ہیں ۔۔۔
ان کے ساتھ موجود نظیر زئی صاحب کو خراشیں آئی ہیں لیکن انھیں زیادہ نقصان نہیں ہوا جبکہ ڈرائیور وقار موقع پر ہی دم توڑ گیا ۔۔۔۔”
ہسپتال کے کوریڈور میں کیمرہ مین اور اینکرز کا رش لگ چکا تھا۔۔۔ پولیس ہیوی سیکیورٹی کے ساتھ انھیں دور ہٹارہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
یہ خبر پورے شہر کے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کررہی تھی ۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
سر آپ نے نیوز دیکھیں؟؟
“ہاں دیکھ لی کام تو۔ تم نے اچھا کیا ہے لیکن کیا گارنٹی ہے کہ خرم زندہ بچ جائے گا ۔۔۔”
“سر ٹارگیٹ کلر کا نشانہ بلکل ٹھیک تھا ۔۔۔ اندر کی خبر ہے کہ اس کہ بچنے کے چانسس دس پرسنٹ ہیں۔۔۔۔۔”
“ہممممم دیکھتے ہیں تم اسے غائب کروا دو اسکا نام و نشان پولیس کو نہیں ملنا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔”
بڑی سی ہیل میں مقید سفید پاوں دبیز کارپیٹ پر سہج سہج کر اگے بڑھ رہے تھے ۔۔
“تم جاو جیسا کہا ہے ویسا کرو ۔۔۔”
خادم کو جانے کا کہہ کر اس نے مسکراتی نظروں سے اپنی لاڈو کو دیکھا :
ڈیڈ آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں ؟؟؟
چہرہ کہ تاثرات پتھریلہ تھے ۔۔۔۔
کیا کیا ہے میں نے ؟
شکیل کا اعتماد قائم تھا۔۔۔۔ جبکہ مسکراتی نظروں میں حیرانی مقصود تھی ۔۔۔۔
“آپ نے خرم پر قاتلانہ حملہ کروایا ہے ۔۔۔”
نگہت نے بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھا :
ہاں کروایا ہے پھر؟؟
شکیل نے نڈر انداز میں کہہ کر انگلیوں میں دبہ سگار ایش ٹرے میں رگڑا۔۔۔۔
کیوں کیا ایسا آپ نے ؟؟
اپنی شکست کا بدلہ آپ نے اس سے کیوں لیا آخر ؟؟
“میں تمھیں جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا ۔۔”
وہ بخوبی بیٹی کے جذبات سے واقف تھے ۔۔۔۔۔
“لیکن میں پریس کو یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں ۔۔۔”
تم اپنے باپ کے خلاف جاکر اس کمینہ کا ساتھ دو گی اب بغاوت کرو گی اپنے باپ سے ؟؟
شکیل سومرو نے تیز آواز سے کہا گویا بیٹی کو ڈرایا تھا۔۔۔ لیکن وہ شکیل سومرو کی لاڈلی اور انتہا کی ضدی بیٹی تھی اسی کے وجود سے جنم لینے والی اس سے بھی بڑھ کر ۔۔۔۔۔
اور آپ نے کیا کیا میرے ساتھ ؟
نگہت نے دھندلائی نظروں سے شکیل سومرو کو دیکھا :
“میں نے جو کیا بلکل ٹھیک تھا ۔۔۔۔ تم اپنے جذبات پر قابو پاو یہ عاشقی کے قصے سے باہر نکل آو ۔۔۔۔۔”
“ویسے بھی وہ کسی اور کے نکاح میں ہے ۔۔۔”
مجھے اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جو میرا ہے وہ میرا ہی رہے گا یہ بات آپ بھی جتنا جلدی ہو سمجھ لیں ۔۔۔۔۔”
“میں کراچی جارہی ہوں اور مجھے امید ہے کہ آپ کسی قسم کا سو کالڈ اعتراض نہیں کریں گے ۔۔۔۔”
گرے ٹاپ اور جینس میں ملبوس گولڈن بالوں کو جھٹکتی ہوئی واپس اپنے کمرہ میں چلی گئی۔۔ ۔
جب کے شکیل سومرو نے گہری نظروں سے اسے جاتا ہوا دیکھا ۔۔۔۔
وہ کوئی چھوٹی بچی نہیں تھی جسے حیلہ و بہانہ سے بہلادیا جاتا ۔۔ وہ میچیور پڑھی لکھی پچیس سال کی لڑکی تھی جسے اپنا اچھا ، برا بخوبی پتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اگر وہ ذرا بھی کوتاہی کرے گا تو وہ اسی کے خلاف بغاوت پر اتر آئی گئی ۔۔۔ اور وہ یہ ہی نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔۔
“ہاں ماجد میں جیسا کہہ رہا ہوں ویسا کرو ۔۔۔۔ پیرس کی دو ٹکٹ کنفرم کرواو اور یہ آج ہی ہوجانا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
شکیل سومرو نے موبائل پر کسی کو ہدایت دی وہ سوچ چکا تھا اپنی ضدی اور خودسر بیٹی کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جس وقت نظیر صاحب کو اسٹریچر پر لایا گیا اس وقت ڈاکٹر ورشہ ڈیوٹی پر تھیں ۔۔۔ اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر سن پڑگئی ۔۔۔۔
سنیئر ڈاکٹر احتشام نے ان کی ہممت بندھائی تھی ۔۔۔۔۔
[ ] خرم کو چوبیس گھنٹے کی ابزرویشن میں رکھا گیا تھا ۔۔۔ سیکیورٹی اتنی سخت تھی کہ مکھی تک کو وہاں آنے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔۔۔
کارکنان نے لاہور کی سڑکوں پر احتجاج شروع کردیئے تھے ۔۔۔ تمام تعلیمی اداروں کو بند کروا دیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے پورے شہر کی آمدو رفت کو جام کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں نصرین بیگم رو رو کر ہلقان ہوچکیں تھیں اور وہاں ہنی نے الگ حال برا کرلیا تھا ۔۔۔۔۔۔
مائرہ کو اسے سنبھالنے میں مشکل ہورہی تھی وہ ایک ہی رٹ لگائے بیٹھی تھی بابا کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔
شہر میں ہڑتال کردی گئی تھی ۔۔۔۔۔ تمام لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہوچکے تھے ۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
تمام سیاست دان اپنے اپنے طریقہ سے افسوس کررہے تھے سب سے پہلے بیان شکیل سومرو کا آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“اپنے بیان میں اس نے بتایا کہ وہ پیرس میں موجود ہونے کی وجہ سے ملاقات کرنے سے قاصر ہے ۔۔۔”
اس نے پاس پڑا کانچ کا۔ گلاس اٹھا کر ایل ای ڈی کو نشانہ بنایا ۔۔۔ جس سے کمرہ میں گونجتی آواز بند ہوگئ ۔۔۔۔
“بلاڈی جھوٹا کمینہ اسی نے ہی بھیو کو اس حالت میں پہنچایا ہے میں اسے اس کے گھر میں گھس کر ماروں گا ۔۔۔۔”
اس نے پاس کھڑے ملازم کو قہر بھری نظروں سے گھورا۔۔۔۔
جو اپنی شامت آنے کہ ڈر سے سر جھکائے۔ تھر تھر کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“میرے سر پر تم سب ہر وقت سوار رہتے ہو اور بھیو کو بغیر پروٹوکول کے جانے دیا۔۔۔۔۔”
وہ دہیمہ مگر سرد لہجہ میں پھنکارا۔۔۔
“سر ان کا حکم تھا کہ یہ سفر وہ خاموشی سے طے کریں گے ۔۔۔ کسی پریس کے بندے کو بھی علم نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔۔”
تو پھر اس شارپ شوٹر کو کیسے بھنک پڑی ؟؟
“سر میں سچ کہہ رہا ہوں مجھے نہیں پتا ۔۔”
ملازم نے کانپتی آواز میں اپنی صفائی پیش کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پیشانی کو شہادت کی انگلی اور انگھوٹھے سے رگڑا ۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا پوری دنیا کو اگ لگادے۔۔۔۔۔۔
“اخر کون تھا وہ غدار جس نے پیٹھ پیچھے چھرا گھونپا ہے ۔۔۔۔”
وہ جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھتا جارہا تھا ۔۔۔۔
“اب یہاں کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو دفعہ ہوجاو ۔۔۔۔۔”
وہ جانا چاہتا تھا لیکن بھیو کا حکم اسے پیلس سے باہر قدم نکالنے نہیں دے رہا تھا ۔۔۔ جب تک وہ خود کال کرکے اسے آنے کا نہ کہیں گے وہ نہیں جاسکتا ۔۔۔۔۔۔
جی سر آپ نے بلایا؟؟؟
“نظیر صاحب نے کوئی اطلاع دی “
“ابھی تک تو نہیں ۔۔”
گارڈ کا کہنا تھا کہ وہ نڈھال سا صوفہ پہ بیٹھا۔۔۔
سر آپ ٹھیک ہیں ؟
اس نے خوف زدہ نظروں سے میر کا چہرہ دیکھا جو ضبط کی شدت سے سرخ ہوگیا تھا ۔۔۔۔
“سر آپ بلکل فکر نہ کریں ڈی آئی جی اور ایس آئی ہمہ وقت بھاری نفری کہ ساتھ ہسپتال میں موجود ہے ان کی حفاظت کیلئے ۔۔۔۔۔۔”
اب کیسی حفاظت ؟؟؟
” کتنی تکلیف سہی ہوگی بھیا نے “
یہ ہی سوچیں اس کے جسم کی ساری طاقت نچوڑ رہیں تھیں ۔۔۔۔
اس نے دھیرے دھیرے ساری صورتحال بتائی۔۔۔۔
“جاو تم ۔۔۔”
میر نے بغیر اسے دیکھے دھیرے سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“تم پاگل ہوگئی ہو ہنی ۔۔”
مائرہ نے ناراضگی سے اس دیکھا ۔۔۔
تمھیں چلنا ہے یا نہیں ؟؟؟؟
ہنی نے بھرپور سنجیدگی سے پوچھا : روئی روئی انکھیں مسلسل رگڑنے سے ناک سرخ ہوگئ تھی۔۔۔۔
“ظاہری سی بات ہے تمہارے اس پاگل پن میں اکیلا تو چھوڑنے سے رہی اب تمھیں ۔۔۔۔”
تمھیں ایڈریس معلوم ہے ؟؟؟
مائرہ نے ٹہر کر اس سے پوچھا :
“ہاں بابا سے پوچھ لیا تھا میں نے ۔۔۔”
“لیکن یار وارڈن اس سے کیا کہیں گے وہ تو کبھی نہیں مانے گی ۔۔۔”
مائرہ کو خرانٹ سی عورت یاد آگئی جسے سوچ کر ہاسٹل کی لڑکیوں کی سٹی گم ہوجاتی تھی ۔۔۔۔۔۔
“ضروری ہے ہر کام میں اسے بھی شامل کریں پیچھے کہ راستے سے نکل جائیں گے۔۔۔”
وہ اس ٹینشن میں بھی حواس بحال کئے ہوئے تھی۔۔۔
مائرہ نے رشک سے اسے دیکھا اگر وہ اس کی جگہ ہوتی تو بستر سنبھال لیتی لیکن وہ اس کی جگہ کیسے ہوسکتی تھی کیوں کہ قدرت نے انوکھا پیس ایک ہی بنایا ہے پوری روئے زمین پر ۔۔۔۔۔۔”
ہنی بیٹھ کر قسمت کے لکھے پر صابر ہونے والوں میں سے نہ تھی بلکہ ہممت اور حوصلہ سے قسمت کی خوش بختی کو اپنی جانب موڑ دینے والی زندہ دل تھی۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
نظیر صاحب کو ہوش آگیا تھا جس پر ورشہ نے سجدہ شکر کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی کل کائنات ہی اس کے ماں باپ اور ہنی تھے ۔۔۔۔۔ وہ ان میں سے بھی کسی کو کھونے کا سوچ بھی نہ سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی کے ٹکرانے کے باعث نظیر صاحب کے کندھے پر فریکچر آیا تھا ۔۔۔ چہرہ پر جگہ جگہ خراشیں آنی کی وجہ سے پورا چہرہ سوجا ہوا تھا۔۔۔۔۔
ورشہ باپ کو اس حالت میں دیکھ کر آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔۔۔
نظیر صاحب کی دھندلائی نظر شناسہ چہرہ پر گئیں تو لب مسکرا اٹھے۔۔۔۔
مائرہ نے باپ کو مسکراتے دیکھا تو انھیں بے تابی سے پکارنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
اور سینے پر سر رکھتے ہوئے بے آواز روئے چلی گئی۔۔۔۔۔
بلاشبہ وہ باہممت اور بہادر مرد تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وریییییی خرررررم ؟؟؟
ورییئییی خرمممم کیسے ہیں ؟
بولنے میں تکلیف ہورہی تھی جو لفظوں سے عیاں تھی۔۔۔۔۔
” بابا آپ ابھی کچھ نہ کہیں پلیز ۔۔۔”
اس نے التجائی لہجے میں کہا :
“وورری خخخرم ککککا بتاو ۔۔”
آواز کی سختی واضح تھی۔۔
“وہ ابھی بھی ابزرویشن روم میں ہیں حالت کریٹیکل ہے ۔۔۔”
ناچاہتے ہوئے بھی وہ بتانے لگی ۔۔۔
“تتتتو تتم یہاں کیا کررہی ہو ووری جاو اسے ٹریٹمنٹ دددو جااااووو وری ۔۔۔”
“بابا ان کے پاس بڑے بڑے ڈاکٹر ان کا علاج کررہے ہیں آپ ٹینشن نہ لین وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔۔۔۔”
“تم کرو جاو یہاں سے جاو وریییییی انھیں کککچھ نہیں ہوہونا چاچاہیئے۔ “
نظیر صاحب کہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ وہ سمجھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
“اوکے بابا ریلیکس ۔۔۔۔ آپ سکون سے انکھیں بند کرلیں میں جارہی ہوں ۔۔۔”
وہ آنسو پہنچ کر نظیر صاحب پر چادر درست کرکے نرس کو وہاں رکنے کا کہہ کر باہر چلی آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب جو پہلے کام اسے کرنا تھا وہ نصرین کو کال تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اس سب کہ بعد وہ آئی سی یو کی جانب آئی جہاں خاموشی کا راج تھا۔۔۔۔۔۔۔
ایمرجنسی بلب ابھی بھی جل رہا تھا جس کا مطلب تھا کہ سنیئر ڈاکٹر اس کا اپریشن کررہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نرس گلاس ڈور کھول کر باہر آئی تو ورشہ نے اسے اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔۔
کیسی حالت ہے سر کی ؟؟؟
“گولی دل کے قریب گھسی تھی وہ نکال لی ہے اب ان کے ٹانکے لگارہے ہیں ۔۔۔۔۔”
خون کا انتظام کس نے کیا تھا ؟؟؟
” وہ ڈاکٹر احتشام نے ہی ارینج کروایا ہے ۔۔۔”
وہ دونوں باتیں کرتی ہوئی ڈسپینسری کی جانب چلی آئیں۔۔۔۔۔
اچھا تم چیزیں لے کر جاو اور میں کوئی بھی بات ہو مجھے اطلاع کرنا ۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~“““
آنٹی تمھیں کال کررہیں ہیں تم اٹھا کیوں نہیں رہیں؟؟؟
مائرہ نے چڑہ کر کہتے ہوئے اس کا موبائل دیکھا ۔۔۔۔۔
“وہ پوچھیں گی میں کیا کہوں گی مانی مجھے تو خود نہیں پتا ۔۔۔”
تم کال ریسیو تو کرو ہوسکتا ہے کوئی اور بات ہو ؟؟
“نہیں یہ ہی بات ہے تم جلدی جلدی چلو ۔۔۔”
وہ دونوں ہاسٹل سے دور نکل آئیں تھیں ۔۔۔
اسٹرائیک کی وجہ سے سڑکیں سن سان پڑی ہوئی تھیں۔۔ ۔۔۔۔
اوپر سے دسمبر کا مہینہ سردی اپنے عروج پر تھی ۔۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے فٹ پاتھ پر بڑے بڑے قدم اٹھا کر چل رہیں تھیں۔۔۔ جبھی خوفناک کتے کے بھوکنے کی آواز پر دونوں کی ایک ساتھ چیخ نکلی اور آو دیکھا نہ تاو بیچ سڑک پر پاگلوں کی طرح دوڑی چلی گئیں ۔۔۔۔
وہ جس راستے پر جارہیں تھیں وہ صحیح تھا بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔۔
کچھ دور جاکر وہ ایک درخت کے پیچھے چھپ گئیں۔۔۔۔۔
زور سے قہقہ کی آواز پر انہوں نے گردن موڑ کر دیکھا ۔۔۔
تاش کے پتے ایک شخص کے ہاتھ میں تھے جو تیزی سے انھیں الٹ پلٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔ ۔
اوپر ایک کھمبہ سے پیلے کلر کا بلب جلایا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ پانچ چھ آدمی تاش کے پتے کھیل رہے تھے جب کہ ان میں سے دو آدمیوں کے ہاتھوں میں چھوٹی سی شیشی دبی ہوئی تھی جسے وہ منہ تک لیجاتے۔۔۔ پھر اپنا کارڈ دوسرے کے کارڈ کی جانب پھینکتا ۔۔۔۔۔
مانی یہ اتنی ٹھنڈ میں یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں ؟؟؟
وہ اس گروہ کو انکھیں چھوٹی کرکے دیکھنے لگی۔ ۔۔
“رک جاو پوچھ کر آتی ہوں ۔۔۔”
مائرہ نے استہزائیہ انداز میں کہا :
“پاگل واگل تو نہیں ہو اگر انہوں نے تمھیں نقصان پہچایا تو چلو یہاں سے ۔۔۔”
ہنی نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا اور اسے کھینچ کر دوسری سڑک پر لے آئی۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ اس کی سمجھداری پر عش عش کر اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
`~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
آئی کانٹ بلیو !!!!! واٹ دا ہیل
“دفعہ ہوجاو یہاں سے ورنہ سر پھاڑ دوں گی۔۔۔۔”
وہ سامنے کھڑے ملازم کو مغلظات بکنے لگی۔۔۔
“سر کا حکم ہے آپ کو تنہا نہیں چھوڑنا۔۔۔”
“تمہاری تو میں ۔۔”
“تم جانتے بھی ہو کون ہوں میں تمہارے پورے خاندان کو آگ لگادوں گی ۔۔۔”
“میڈم ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں ۔۔۔”
حقیقتاً وہ ڈر گیا تھا کیوں کہ اس کی دھمکی محض دھمکی نہیں ہوتی اشارہ ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔
“ڈیڈ آپ پچھتائیں گے ۔۔۔۔ آپ کو اپنی غلطی کا بہت جلد احساس ہوگا ۔۔۔۔۔۔”
اس نے پاس پڑا موبائل اٹھایا ۔۔۔۔۔۔ نو سگنل انڈیکٹر پر اس نے طیش میں اکر موبائل دیوار سے دے مارا۔۔۔ بچارہ کا نصیب اس کی بیش قیمتی بھی اس کے نصیب نہ بدل سکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کینہ توز نظروں سے دروازہ کو گھورنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نجانے کب تک اسے اپنے باپ کی اس قید میں رہنا تھا۔۔۔۔
اس کی اپنی سیکرٹری بھی اس کے ساتھ نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
___________________________
تم جانتے ہو شارپ شوٹر کو ؟؟؟؟
“ہاں لیکن تمھیں کیسے پتا چلا ۔۔۔”
“اس بات کو چھوڑو تم جانتے ہو اگر میرو سر کو بھنک تک پڑھ گئی تو تمہاری ساتھ پشتوں کا خاتمہ کردیں گے ۔۔۔۔۔”
ہایاہاہاہاہیایایایایاہاہاہاہاہاہاہ
اس کی مکار ہنسی خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کررہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم زندہ بچو گے تو بھنک پڑے گی نہ ۔۔۔۔”
تم مجھےمارو گے تم؟؟؟
وہ بے یقینی سے سامنے کھڑے اپنے ماجائے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“کیا کروں اگر تم نہیں مرے تو میں مار دیا جاوں گا وہ کیا ہے نہ شکیل سومرو کا خادم خاص ہوں ۔۔۔۔۔”
“تم خادم خاص نہیں غدار ہو تم نے چوہدری صاحب کے بیٹوں کے ساتھ غداری کر کہ اچھا نہیں کیا ۔۔۔”
“خاموش!!! لیکن تم تو وفادار کتے ہو نہ تم کیسے خاموش رہ سکتے ہو ۔۔ “
“کوئی بات نہیں میں تو تمھیں خاموش کروا سکتا ہوں نہ ابدی نیند سلا کر ۔۔۔”
ٹھاہ!!
گولی سر کہ آر پار ہوکر گزری تھی۔۔۔۔
بے جان وجود زمین پر گرا۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ چیختی مائرہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے منہ پہ رکھا اور اسے اپنے ساتھ کھینچتی ہوئی پیلس کہ بیک سائیڈ بنی انیکسی کی طرف لے گئی ۔۔۔۔۔۔
“لاش کو ٹھکانے لگادو ۔۔۔”
مختصر کہہ کر وہ چاروں طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔ ریوالور جیب میں اڑسا ۔۔۔۔ اور پیلس سے نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *