Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11
No Download Link
642.3K
20
Rate this Novel
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 (Watching)Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11
“میں تو پہلے ہی آپ کی عزت و احترام کرتا تھا ۔۔۔ لیکن اس بات کہ بعد تو آپ کا مقام اور اونچا ہوگیا میرے دل میں۔۔۔۔”
خرم نے نظیر صاحب کے نحیف ہاتھ تھام کر عقیدت سے کہا:
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ آپ میرے سامنے ایک بیٹی کے باپ بن کر سوال کرتے لیکن آپ کی اعلی ظرفی نے مجھے یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ میں اپنے سسر کے سامنے کھڑا ہوں ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
نظیر صاحب نے محبت سے اپنے ہاتھ میں دبا خرم کا ہاتھ دبایا۔۔۔
“اگر اپ کی جگہ بابا جان ہوتے تو پتا ہے وہ فیصلہ آپ کی بیٹی کہ حق میں دیتے ۔۔۔ لیکن آپ نے مجھے اپنے لہجہ سے کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ آپ میرے باپ نہیں ہیں ۔۔۔۔”
ویسے آپ نے بتایا کیوں نہیں ؟؟؟
“میں بتانے ہی لگا تھا لیکن ایک ڈر تھا جو میرے ذہن میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھا۔ ۔۔ کہ کہیں تم مجھے مطلب پرست کا لقب نہ دے دو۔ ۔۔۔”
نظیر صاحب نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نرم لہجے میں کہا :
“کیا میں اپنے سسر صاحب کو ایسا سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔”
خرم نے پہلی بار ان سے ہلکے پھلکے لہجے میں مزاق کیا تھا۔۔۔۔ نظیر صاحب کو حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو کب سے پتا تھا نکاح کا؟؟؟
“اف کورس جب میرا نکاح ہوا تھا ۔۔۔۔ میں اتنا بھی بچہ نہیں تھا اچھا خاصہ سمجھدار تھا آپ کو یاد ہوگا بابا جان زیادہ تر آپ کے بعد جس سے سیاسی اہم مسئلہ ڈسکس کرتے تھے وہ میں تھا۔۔۔۔ “
“جانتا ہوں خرم آپ بچپن سے ہی سمجھدار اور ذہین ہیں کبھی کبھی آپ اس طرح مسئلہ کا حل تجویز کرتے کہ آپ کے بابا جان بھی چونک جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ “
نظیر صاحب نے وہ وقت یاد کرتے ہوئے کہا:
لیکن آپ نے کچھ دن پہلے مجھ سے کسی پروپوزل کی بات کی تھی وہ کون تھی؟؟؟
کب سے دماغ میں گردش کررتی بات وہ زباں پر لے آئے ۔۔۔۔
آپ نے میلز نہیں دیکھیں ؟؟؟
خرم نے سوالیہ نظروں سے انھیں دیکھا :
“نہیں میں بس آج ہی دیکھنے والا تھا۔۔۔ “
کیوں خیریت ؟؟؟
نظیر صاحب نے الجھ کر خرم کو دیکھا :
“اس میں آپ ہی کے گھر کا ایڈریس ہے ۔۔۔۔”
خرم نے مسکرا کر وضاحت دی ۔۔۔
نظیر صاحب حیرت سے اسے دیکھنے لگے پھر ساری بات ان کہ سمجھ آتی چلی گئ ۔۔۔۔۔۔
اور وہ ہولے سے ہنس دیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“لیکن میرا نہیں خیال کہ میر کو اپنے نکاح کا پتہ ہوگا ۔۔۔۔۔”
خرم نے کچھ سوچ کر نظیر صاحب سے کہا:
“چلیں ابھی تو بہت وقت ہے ابھی تو ہنی بھی تعلیم حاصل کررہی ہے اور جہاں تک میرا اندازہ ہے میر بھی ابھی ان سب کیلئے تیار نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
نظیر صاحب کہ کندھوں سے جیسے بوجھ ہٹا تھا۔۔۔۔
آپ آنٹی اور ورشہ سے پوچھ کر کوئی تاریخ رکھ لیں ۔۔۔
‘میں بھی بس کل ہی لاہور کیلئے نکلوں گا ۔۔۔۔۔ “
“ہممم ٹھیک ہے آپ آخری بار چیک اپ کرواتے ہوئے جائیے گا ۔۔۔۔”
نظیر صاحب نے اس کی حالت کے پیش نظر تنبیہہ کی ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا مصیبت پڑھ گئی اب تو پیپرز بھی ختم ہیں کیوں کھینچ رہی ہو کمبل ؟؟؟
ہنی نے نیچے ہوتے کمبل کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا ۔۔۔۔
“مرتی رہو سوتی رہو جارہی ہوں میں بھائی لینے آئے ہیں نیچے انتظار کررہے ہیں ۔۔۔”
وہ سوتی ہوئی ہنی پر لعنت بھیج کر اپنا۔ سفری بیگ اٹھائے تیز آواز میں بولی ۔۔۔۔۔۔۔
ہنی جھٹکے سے اٹھ بیٹھی پل بھر میں اس کی نیند ہوا ہوئی ۔۔۔
کیا مطلب کہاں جارہی ہو تم ؟؟؟۔
ہنی بستر سے نکل کر اس۔ کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔ ۔۔
“تم اپنی نیند پوری کرو ۔۔۔ “
مائرہ نے منہ بناتے ہوئے کہا:
تم نے بھائی کو بلوالیا اور مجھے بتانا بھی گوارہ نہیں کیا؟؟
ہنی نے اس کے ہاتھ میں سفری بیگ کو دیکھا جو پوری تیاری کہ ساتھ جانے کیلئے کھڑی تھی۔۔۔
“ہنی میری جان آج صبح ہی بھائی نے مجھے اچانک کال کرکے بتایا کہ میں تھوڑی دیر میں آرہا ہوں لینے ۔۔۔۔”
مائرہ نے جلد بازی کا۔ جواز پیش کیا:
کوئی خاص وجہ ؟؟
ہنی نے رازدرانہ انداز میں پوچھا :
“ہاں نہ آج رات کو بھائی کیلئے لڑکی دیکھنے جائیں گے نہ اسی لئے۔۔۔۔”
“اچھا دو سیکنڈ رکو میں منہ پہ پانی مار کر آتی ہوں پھر نیچے تک ساتھ چلتے ہیں ۔۔ “
تھوری دیر میں چادر سر پہ لئے مائرہ کے ساتھ نیچے اتری ۔۔۔۔ اسے دیکھ کر کریم بھی جانے کیلئے کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔
الوداعی کلمات ادا کرکے وہ اپنے بھائی کے ساتھ چلی گئی جب کہ ہنی افسردہ ہوگئی۔ ۔۔ اور دھیرے دھیرے قدم اٹھا کر وہ واپس جانے لگی ۔۔۔ تبھی اسے بلیک ہیلکس تیز رفتاری سے سامنے یونی کے اندر جاتی ہوئی دیکھی ۔ ۔۔ خیال کہ تحت اس کی انکھیں چمک اٹھیں ۔۔۔ وہ تیز قدموں سے اپنے کمرہ کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا بات ہے بابا آج آپ خوش نظر آرہے ہیں ؟؟؟۔
“ہاں میری بیٹی کی رخصتی کی تاریخ مانگی ہے خرم نے تو کیا میں خوش بھی نہ ہوں ۔۔۔۔”
ورشہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔۔۔
“تو کیا وہ اب مجبوراً اس تعلق کو نبھائے گا۔۔۔۔
یا وہ خوش دلی سے اس رشتے کو قبول کرچکا ہے ۔۔۔۔ “
“اگر یہ ہی بات تھی تو اس وقت کیوں نہ بتائی ۔۔۔۔ “
“میں جب تک اپنے خدشات ختم نہ کرلوں میں یہ رخصتی تب تک نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔ “
“وہ آج لاہور جارہا ہے ۔۔۔”
نظیر صاحب کی بات پر وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔
کہاں ؟؟؟
نظیر صاحب نے اچانک اسے اٹھتے دیکھا:
“بابا ہسپتال جارہی ہوں ۔۔۔۔”
اسے اور کوئی بہانہ نہیں ملا اس لئے پسپتال کا کہہ گئی۔۔۔
“اچھا بیٹا خرم چیک اپ کیلئے آئے گا تم اس کا سنیئر ڈاکٹر سے چیک اپ کروا لینا۔۔۔”
“یہ بھی غنیمت تھا اب اسے فلیٹ نہیں جانا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔ “
وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔
“یہ تو بہت اچھی خبر سنائی ہے آپ نے ۔۔۔ لیکن اس مہینہ کے بعد کی ہی تاریخ رکھیئے گا۔۔۔۔ “
ہاں ہاں آپ تسلی رکھیں ۔۔۔۔ ویسے بھی ابھی کافی کام رہ گئے ہیں ۔۔
بیماری کے باعث ابھی تو وہ نبٹانے ہیں ۔۔۔ ہوسکتا ہے میں بھی کل پرسوں تک نکل جاوں ۔۔۔۔”
نظیر صاحب کی بات پر نصرین بیگم مطمئن ہوگئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~•~•~~~~~~~`~~~~~~~~
سر مے آئی کم ان ؟؟؟
جانی پہچانی آواز پر اس نے سر اٹھا کر آنے والے شخص کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
“یس۔۔۔۔”
مکرم نے اسے دیکھا تو ایک بار پھر نظر اس کے معصوم چہرہ پر رک گئ۔۔۔۔
وہ اجازت ملنے پر اندر کی جانب آئی ۔۔۔۔
ابھی وہ اسے بیٹھنے کیلئے ہی کہتا کہ محترمہ پہلے ہی بیٹھ گئیں ۔۔۔۔
اصولاً تو اسےغصہ آنا چاہیئے تھا لیکن وہ مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔ ۔۔۔۔۔
کس سلسلے میں آپ کی یہاں تشریف آوری ہوئی ہے ؟؟؟
مکرم نے سنجیدہ تاثر دیتے ہوئے پوچھا :
“سر مجھے آوٹوگراف چاہیئے تھا پلیز آپ مجھے لے کر دے دیں ۔۔۔”
ہنی کی یہ ہی تو خاص بات تھی کہ وہ گھوما پھرا کر بات کرنے کی عادی نہیں تھی ۔۔۔۔ صاف صاف واضح لفظوں میں اپنی بات کرجایا کرتی ہے۔۔۔
کس کا آوٹوگراف چاہیئے ؟؟؟
مکرم نے کرسی کی بیک سے ٹیک لگا کر ہاتھ تھوڑی کہ نیچے جمایا۔۔۔۔۔۔
“آپ کے بھائی کا ۔۔۔۔ “
مکرم نے ہنسی دبانے کیلئے لبوں کو آپس میں باہم بھینچ لیا۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کوئی خاص بات ہے میرے بھائی میں ؟؟؟
مکرم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کافی کچھ پوچھ چکی ہے نظیر صاحب سے ۔۔۔۔۔
مکرم جو زیادہ بات کرنے کا عادی نہیں تھا وہ اس سے باتیں کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ تو تھا اس میں جو اسے تبدیل کرنے کا ہنر جانتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“یہ بھی کیا بات کی آپ نے سر کیا یہ خاص بات نہیں کہ میں حنا زئی عقیدت کہ ساتھ انھیں سپورٹ کرتی ہوں ۔۔۔۔”
ہنی نے مکمل اعتماد لئے تفاخر سے کہا :
مکرم نے داد دینے والے انداز میں ابرو چڑھائے ۔۔۔۔۔
ویسے آپ آج اکیلی آئی ہیں آپ کی دوست نظر نہیں آرہیں؟؟
مکرم نے اسے اکیلے آتے دیکھا تھا ورنہ وہ ہمیشہ مائرہ کہ ساتھ ہی ہوتی ہے ۔۔۔
” بس سر کیا بتاوں میں آپ کو !!!!! بڑی بے وفا نکلی وہ ۔۔۔۔”
ہنی نے زمانے بھر کا دکھ چہرے پہ لاتے ہوئے کہا :
محترمہ کا اندازہ بیاں دیکھو زرا باتیں تو ایسے کرتی ہے جیسے میں اس کا بچپن کا دوست ہوں ۔۔۔۔۔
کیوں خیریت ؟؟
مصنوعی بل کشادہ پیشانی پر اکھٹا کرتے ہوئے سنجیدگی سے استفسار کیا :
“سر آج اس کے بھائی لینے آگئے تھے اس لئے وہ کراچی چلی گئیں۔۔۔۔”
“اوہ آئی سی ۔۔۔ “
مکرم نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔۔۔۔۔۔
“تو پھر آپ کب جارہیں ہیں کراچی میرے خیال میں آپ کے تو سیمسٹر بھی اینڈ ہوچکے ہیں ۔۔۔۔”
“ہاں شکر ہے جان چھٹی۔ ۔۔۔ اب میں لمبا سووں گی۔۔۔”
ہنی کی بڑبڑاہٹ واضح تھی جسے وہ باخوبی سن چکا تھا ۔۔۔۔۔
“بس میں ایک دو دن میں چلی جاوں گی ۔۔۔ آپ پلیز کل مجھے آوٹوگراف لادیں گے نہ پلیز سر دیکھیں میں جانتی ہوں آپ ہیڈ آف اکاونٹ ہیں لیکن انسان بھی تو ہیں اور ایک انسان ہی دوسرے انسان کے کام آتا ہے ۔۔۔۔۔ “
ہنی نے معصومیت سے کہہ کر پورا بیان ہی سنا ڈالا۔۔۔۔
اور اگر میں یہ کہوں کہ ایم سوری میں آپ کی اس سلسلے میں کوئی ہیلپ نہیں کرسکتا پھر ؟؟؟
مکرم اس کو جانچ رہا تھا کہ کس حد تک وہ اسے سمجھ سکتی ہے ۔۔۔۔۔
“تو پھر میں یہ ہی کہوں گی کہ آپ مین انسان ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لڑکی صحیح ہی کہتی ہے آپ انتہا کہ کھڑوس انسان ہیں ۔۔۔”
میں تو کہتی تھی مانی سے ۔۔۔ آپ کسی کی ہیلپ کیوں کریں گے اپ کو اے سی والا کمرہ آرام دہ کرسی ملتی ہے ۔۔۔۔ باقی سارے جائیں بھاڑ میں۔۔۔ “
وہ کچھ توقف کہ بعد بنا رکے بولتی ہی چلی گئی۔۔۔۔
“حنا زئی بی ہیو یور سیلف ۔۔۔”
اسے انتہائی ناگوار لگی تھی ہنی کی بات اس لئے اٹھتے اشتعال کو دبانا ضروری نہیں سمجھا :
سامنے پیون پانی اور بلیک کافی کا مگ اٹھائے چلا آرہا تھا۔۔۔ وہ بھی ڈر کر وہیں ٹہر گیا۔ ۔
ہنی نے پہلی بار اسے اتنے میں غصہ میں دیکھا تھا اس لئے وہ سہم گئی۔۔۔۔۔
کیوں آئے ہو روم میں بلایا میں نے ؟؟؟
اب کہ دہیمہ مگر سرد لہجے میں وہ پیون سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔
“سر یہ ٹائمنگ آپ کی کافی پینے کی ہے تو ۔۔۔۔”
“تو جب میں کہوں تب لانا ناو گیٹ آوٹ۔۔۔”
وہ اسے شہادت کی انگلی سے باہر کا راستہ دکھانے لگا۔۔۔۔۔۔
پیون جس رفتار سے اندر آیا تھا اس سے دو گنا۔ زیادہ رفتار میں کمرہ سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔
اب کہ اس نے سہمی ہوئی حنا کو دیکھا ۔۔۔ جو بڑی بڑی انکھیں کھول کر اس کے انداز کو دیکھنے لگی۔۔۔
انکھوں میں خوف واضح تھا۔۔۔۔
“سر ایم سوری ۔۔۔ “
اس سے پہلے دو آنسو ٹوٹ کر بے مایاں ہوتے وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہہ کر کھڑی ہوگئ۔۔۔۔۔
وہ مکرم کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
جہاں مکمل خاموشی تھی۔۔۔۔۔
سر میں جاوں ؟؟؟
دہیمی مگر بھیگی آواز میں جھکے سر کے ساتھ پوچھا گیا۔۔۔
وہ اس کے سہمے سہمے انداز کو دیکھ کر پچھتاوے کا شکار ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہمممم جائیے ۔۔۔۔۔”
اس نے اس کے سراپے پر غور کیا تو وہ آج کوٹ پہنے اس پر اسکارف سلیقے سے پہنے ہوئے جازب نظر آرہی تھی۔۔۔ اگر کوئی میر کی نظر سے دیکھتا تو اسے اس کے علاوہ کوئئ خوبصورت لگ بھی کیسے سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اسے بھیجنا نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی اجازت دے دی تھی۔۔ ۔ کیوں کہ روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا اس کے پاس ۔۔۔۔۔
وہ اجازت ملنے پر بغیر اس کی جانب دیکھے دروازہ عبور کرگئی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی پاس رکھا پانی کا گلاس ایک سانس میں چڑایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی کی چابی اٹھائے لیپ ٹاپ کی اسکرین نیچے کی جانب کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی دیپارٹ سے باہر کی جانب آیا ۔۔۔
تو دور کھڑا کچھ لڑکوں کا گروہ جاتی ہوئی ہنی کو فوکس کئے ہوئے بے ہودہ جملے کس رہے تھے۔۔۔۔ چونکہ کلاسس آف پوچکیں تھیں اور صبح کا وقت تھا تو اکا دکا ہی طلبات چہل قدمی کرتے نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہنی کے پیچھے چلنے لگا جو تھوڑا دور اگے کی جانب جارہی تھی۔۔۔۔
مکرم انکھوں پر گلاسس لگائے ان لڑکوں کے گروہ کہ پاس آیا ۔۔۔
آپ سب یہاں کیوں کھڑے ہیں؟؟؟؟؟
برہمئ سے پوچھا۔۔۔
“سر وہ ہم اپنے ایک دوست کا ویٹ کررہے تھے وہ اجائے تو ہم کلاس میں جائیں ۔۔۔”
یہ تگرڈ سیمسٹر کہ لڑکے تھے جن کا ابھی اسٹارٹ ہوا تھا۔۔۔۔
!ان میں سے ایک نے تمیز کے دائرہ میں اکر نرمی سے بتایا۔
کون سا سیمسٹر ؟؟؟
“سیمسٹر تھری۔۔۔۔ “
“سر عبید کلاس میں موجود ہیں جائیے ۔۔۔۔ “
مکرم نے ان سب کو گھورا ۔۔۔۔
“جی ۔۔۔ “
وہ سارے ایک زبان ہوکر بولے اور اپنے مطلوبہ ڈیپارٹ کی جانب چل دیئے۔۔۔۔۔
ان میں سے ایک ابھی بھی وہیں ڈھیٹائی سے کھڑا طنزیہ مسکراہٹ لئے مکرم کو دیکھنے لگا ۔۔۔
آپ کو۔ الگ سے انویٹیشن دینا۔ پڑے گا ؟؟؟
مکرم نے اس کی انکھوں میں ناچتی خودسری کو بغور دیکھا ۔۔۔
“آپ جانتے نہیں ہیں میں کون ہوں ۔۔۔”
“مجھے جاننا بھی نہیں ہے ۔۔۔ ” ناو گو ۔۔۔۔ “
[ ] “مکرم میر سر آپ جس یونی کے ہیڈ آف اکاونٹ ہیں وہ یونی میرے باپ کے پیسوں پر چلتی ہے۔۔۔۔۔ “
[ ] ہم اپنی محنت کا کماتے ہیں اور اگر آپ کی یہ سوچ ہے کہ بقول آپ کے کہ یہ یونی آپ کے والد چلارہے ہیں اور اس۔ بل بوطے پر آپ کو ہرطرح کی چھوٹ دی جائے گی تو یہ سوچ جتنا جلدی ہونکال دیں ۔۔۔۔۔۔ ورنہ اگلی بار آپ کو کہوں گا نہیں بلکہ رسٹیکیٹ کروں گا ۔۔۔۔۔”
مکرم کہہ کر وہاں رکا نہیں اور ایگزیٹ عبور کر گیا جہاں سے تھوڑی دیر پہلے ابھی وہ نکلی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“پٹی کھولو اس۔ کی ۔۔۔”
شکیل سومرو وہاں رکھی نہتی لکڑی سے بنی کرسی پر ٹانگ پہ ٹانگ جما کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تو خادم حسین کیسے ہو بھئی ؟؟؟
“شکیل سومرو نے مکروہ مسکراہٹ کہ ساتھ کہا :
سر میں آپ کو وہ وفا دار بندہ ہوں جو اپنی جان تو دے سکتا ہے لیکن اپنی زبان کبھی آپ کے خلاف نہیں کھول سکتا ۔۔۔۔۔”
خادم نے لڑکھڑاتی آواز کے ساتھ اپنا دفاع کیا ۔۔۔ نظر تو اسے کچھ نہ آیا لیکن وہ شکیل کی آواز پہچان گیا ۔۔۔۔۔۔
کمرے میں ایک کونے کی سائیڈ پر بنے روشن دان سے ہلکی ہلکی روشنی اندر داخل ہورہی تھی ۔۔۔ لیکن وہ بھی نہ ہونے کے برابر ۔۔۔۔
“خادم کبھی کبھار وفادار کتا بھی اپنے بھوکے پیٹ کو بھرنے کیلئے اپنے مالک پر حملہ کردیتا ہے ۔۔۔ جب کہ جانوروں میں سب سے زیادہ وفادار کتا ہی کہلاتا ہے ۔ ۔۔۔ یہ بات تو جانتے ہوں نہ تم ۔۔۔”
“سر آپ کی ہئ وفاداری کا خیال کرتے ہوئے میں نے اپنے ماجائے کو بے دردی سے مار دیا تھا۔۔۔”
اسے اپنا بھائی بے جان حالت میں بے یارو مددگار پڑا یاد آیا جسے وہ پاوں کی ٹھوکر مار کر چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
بس تو پھر تم میرے وفادار کیسے ہوئے خادم ؟؟؟
“اس میں تو تمہارا خون تھا پھر بھی تم نے اس کے بیوی بچوں کا خیال نہ کیا ایک ماں سے تھے نہ تم دونوں ۔۔۔”
خادم سکتے کی حالت میں آگیا ۔۔۔ نڈھال تو پہلے ہئ ہورہا تھا ۔۔۔
“میں الگ ۔۔۔ “
“میرا باپ الگ ۔۔”
“میرئ ماں الگ ۔۔۔”
“اور تو اور ہمارا خون بھی الگ ۔۔۔”
“اس سے پہلے کہ تم میری وفاداری میں اتنا اگے نکل جاو اور غداری کرتے ہوئے بھی یہ خیال نہ رہے کہ تم شکیل سومرو کے ساتھ غداری کررہے ہو ۔۔۔ اور اس سب کو اپنا حق جانو میں تمھیں ابھی آزاد کردیتا ہوں۔ ۔۔۔”
شکیل نے کہتے ساتھ ہی گن لوڈ کی اور ایک فائر اس کی ٹانگ کی جانب کیا ۔۔ جس سے لڑکھڑا کر وہ بائیں جانب گرا ۔۔ خادم کی ہولناک چیخ نے سن سان جگہ پر وحشت طاری کردی ۔۔۔۔
“مجھ سے وفاداری نبھائی شکر گزار رہوں گا تمہارا ۔۔۔”
کہتے ساتھ دوسرا فائر دوسری ٹانگ میں کیا ۔۔۔۔۔
اور چیخ اس کے گلے سے نکلی ۔۔۔
“معاف کرنا۔ خادم میں جانتا ہوں پھر کبھی تم جیسا بہادر ، دلیر اور وفادار انسان مجھے کبھی نہیں ملے گا۔۔۔۔”
اب کہ گولی سیدھی دل پر لگی تھی۔۔۔۔۔
اور وہ منہ کہ بل زمین بوس ہوا تھا۔ ۔۔۔۔
پانچ منٹ کی خاموشی کہ بعد وہ وہاں کھڑے موٹے آدمیوں کو دو تین ہدایتیں جاری کرتا ہوا راتوں رات وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کھڑی اس کے بھائی کی روح اپنے ہی جیسے انداز پر فنا ہوئے خادم کو دیکھ کر مسکرا دی۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔
“بے یارو مددگار ۔۔۔”
“نہ غسل ، نہ کفن ۔۔۔”
بھائی کی قبر پر تو رونے والے اس کے بیوی بچے تھے ۔۔۔ مگر خادم تو لاوارث موت مرا تھا ۔۔۔۔ نہ کوئی اگے اور نہ کوئی پیچھے اس کو رونے والا ۔۔
۔ برائی کا انجام ہمیشہ برا ہی ہے ۔۔۔۔ چاہے تم ہزار تاویلوں سے اسے بدلو ۔۔ لیکن وہ بدلتی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ جس طرح اچھا عمل یاد رکھا جاتا ہے اسئ طرح برے عمل پر لوگ نفرت کا اظہار کرتے ہیں بھلے سے پھر وہ لوگ آپ کہ خیر خواہ ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
دونوں کہ درمیان گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ ابھی ابھی چیک اپ کروا کر آیا تھا ۔۔۔۔۔۔
فلیٹ پہنچ کر پتا چلا کہ ورشہ اس کہ انتظار میں بیٹھی تھی۔ ۔۔۔۔ ۔
آپ مجھے سی آف کرنے آئی ہیں ؟
خرم نے ہی بات کا آغاز کیا۔۔۔۔
“آپ کہہ سکتے ہیں لیکن میں یہاں ایک اور کام سے آئی ہوں ۔۔۔”
“اچھااا مجھے لگا آپ مجھے ۔۔ خیر چھوڑیئے” بتایئے کیا مدد کرسکتا ہوں آپ کی ؟؟
خرم کی بات پر ورشہ نے نظریں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا:
کیا یہ فیصلہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے ؟؟؟۔
“جی بلکل میرے سارے فیصلہ میرے اپنے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔”
خرم نے ترکی بہ ترکی اس کی بات کا جواب دیا۔۔۔۔
آپ کو میرے فیصلہ سے اعتراض ہے ؟؟؟
جب خاموشی پھر سے مداخلت کرنے لگی تو وہ بول اٹھا۔۔۔۔۔
“نہیں ۔۔۔۔ اعتراض نہیں ہے ۔۔۔”
“تو پھر یہاں آنے کی وجہ اگر میں یہ ہی سمجھوں کہ خاص طور پر آپ مجھے الوداع کہنے آئیں ہیں تو کوئی مذائقہ تو نہیں ۔۔۔۔”
خرم نے نرمی سے کہا :
“اس کی بات پر ورشہ نے اپنی نگاہیں پھیر لیں ۔۔۔۔۔”
“میں چلتی ہوں۔۔۔”
وہ جانے کیلئے کھڑی ہوگئی تو خرم نے اسے کھانے پر روکا۔۔۔۔۔
“اب ملاقات رخصتی کے بعد ہوگی میرا مان قائم رکھنے کا شکریہ ۔۔۔۔”
ورشہ میٹھے لہجہ میں بول کر اسے حیرت میں مبتلا کرگئ۔۔۔۔۔
“اللہ حافظ ۔۔۔”
وہ اگے جبکہ خرم اس کے پیچھے اسے نیچے تک چھوڑنے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“سمجھ رہے تھے مسافر قیام کو منزل
خبر نہیں تھی کہ اگے بھی ایک ہجرت ہے۔۔۔”
وہ اداس سی بیڈ پر بیٹھی ہوئی کھڑکھی سے نظر آتے چاند کو تکے جارہی تھی ۔۔۔ مائرہ آج سارا دن اسکے ساتھ نہیں تھی اسے شدت سے اس کا ساتھ محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔
موبائل کی بند اسکرین کو دیکھا پھر افسردہ سی سر گھٹنوں پر گرا گئی۔۔۔۔
اسے دکھ ہوا تھا میر کہ اس رویہ سے ۔۔۔ وہ تو اسے ایک پولائٹ انسان سمجھنے لگی تھی لیکن آج کہ واقع نے ثابت کردیا تھا وہ ہنی کے لئے اچھا نسان ثابت نہیں ہوا۔۔۔
مائرہ کی ساری باتیں جھوٹی تھیں وہ اسے اسٹوڈینٹس سے زیادہ کچھ نہیں گردانتا ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے ہی خیالوں میں سوچوں کا ایک جہان آباد کئے ہوئے تھی کہ اچانک دستک پر چونک گئ۔۔۔
وہ سائیڈ میں پڑا ڈوپٹہ شانوں پہ پھیلاتے سفید پاوں میں چپل اڑسی اور دروازہ کھولا۔۔۔
آپ حنا زئی فرام کراچی سے ؟؟؟؟
“یس ایم حنا ۔۔۔۔”
اس نے سامنے گارڈ کو دیکھتے ہوئے تصدیق کی۔۔۔
“آپ کیلئے نیچے کوئی مہمان آئیں ہیں ۔۔۔۔”
میرے لئے لیکن کون ؟؟
وہ الجھن کا شکار ہوگئی ۔۔۔
“پتا نہیں آپ اکر دیکھ لیں۔۔۔”
وہ گارڈ اسے اطلاع دے کر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
“بابا آنے سے پہلے بتادیتے مجھے ہوسکتا ہے ایمرجنسی میں لینے آئے ہوں ۔۔۔”
وہ سوچتی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگی اور ساتھ ڈوپٹہ سر پہ اوڑھا۔۔۔۔ ۔
سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسے حیرت نے آن لیا ۔۔۔۔
سر آپ یہاں ؟؟؟؟
ہنی نے اپنی حیرت پر قابو پایا ۔۔۔ جب کہ وہ ہی گارڈ اب ہاسٹل کہ دروازہ پہ جا کھڑا انھیں ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ سردیوں کی راتیں تھیں اس لئے سب اپنے اپنے کمرہ میں تھے۔۔۔۔
بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس وہ پر وقار لگ رہا تھا۔۔۔۔
کیا آپ میرے ساتھ کسی ریسٹوڑینٹ میں چل سکتی ہیں ؟
” مجھے دو چار باتیں کرنی ہیں ۔۔۔۔”
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کس طرح اسے اپنے ساتھ لے کر جائے اور اس کی ناراضگی ختم کردے ۔۔۔ یہ محبت بھی انسان سے کیا کیا کرواتی ہے ۔۔۔ اس کے برعکس ہنی فق منہ کے ساتھ اسکے چہرہ کو دیکھتی چلی گئی۔۔۔۔۔
“افففف ایک تو یہ تاثر ایسے عجیب و غریب دیتی ہے ۔۔۔ آدھے گھنٹے میں تو اسے سمجھانے میں ہی لگ جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے گردن گھما کر عقب میں دیکھا ۔۔۔ اس کے دیکھتے ہی گارڈ نے چہرہ موڑ لیا۔۔۔۔۔
“حنا سکتے میں کیوں اگئیں صرف آدھے گھنٹے کی بات ہے ۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔”
خرم نے اس کہ اگے ہاتھ لہراتے ہوئے کہا:
“جی جی سر کوئی ایشو نہیں ہے لیکن وارڈن منحو۔۔۔ میرا مطلب ہے وارڈن کی اجازت نہیں لی ۔۔۔۔”
وارڈن کو دیئے جانے والا طرز مخاطب سن کر وہ ایک بار پھر مسکراہٹ روکنے لگا ۔۔۔۔۔
“میں لے لیتا ہوں آپ شال لے لیں باہر ٹھنڈی ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اس کی جانب دیکھے بنا اندر کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
مجھے جانا چاہیئے یا نہیں ؟؟
“بابا کو بتادوں ہاں بابا کو بتادیتی ہوں ۔۔۔”
“یہ ٹھیک ہے ۔۔۔”
وہ کال ملا کر اسپیکر پر فون ڈال کر سائیڈ میں رکھے بیگ سے ویلوٹ کی شال نکالنے لگی ۔۔۔
نظیر صاحب سے اجازت لے کر وہ نیچے آگئی جہاں وہ اسی کے انتظار میں کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ موبائل کو پاوچ میں رکھ کر شال کو لپیٹے وہ ہیلکس میں فرنٹ سیٹھ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
اس کہ بیٹھتے ہی میر نے گاڑی اسٹارٹ کردی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مائرہ اگر تم مجھے سر کہ ساتھ دیکھ لیتیں تو غش کھا کر گر جاتیں ۔۔۔۔
ویسے اگر میں ان سے مائرہ کی بات کروں تو۔۔۔ بات کرنے میں کیا حرج ہے جو ہو گا دیکھا جائے گا۔۔۔”
وہ اپنی ہی سوچ میں باہر کہ نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی جب کہ میر نے اس کی خاموشی کو ناراضگی ہی تصور کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جاری ہے :
