Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08
No Download Link
642.3K
20
Rate this Novel
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 (Watching)Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08
بھیو کی کال کے بعد اسے تھوڑا سکون ہوا تھا ورنہ دن رات اسے کسی طور چین نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اب جاکر وہ ریلکیس فیل کررہا تھا۔۔۔۔۔
سگریٹ کی طلب شدت سے جاگی تو وہ پیلس کہ داہنی طرف بنے لان میں ائیر فریشر کیلئے آگیا ۔۔۔۔
دسمبر کی یخ بستہ ٹھنڈ اس کے اندر اٹھتے جوار بھاٹے کو کم کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔
عنابی ہونٹوں میں سلگتی سگریٹ کا دھواں ہوا میں تحلیل ہونے لگا۔ ۔۔۔۔
لان کہ چکر کاٹتے ہوئے ابھی پانچ منٹ بھی نہ گزرے تھے ۔۔۔ ہلکی ہلکی آوازیں اس خاموش فضا میں واضح سنائی دے رہیں تھیں۔۔۔۔
گارڈ جس کی نظریں مکرم پر ہی تھیں اسے دیکھ کر اسے روکنے لگا۔۔۔۔۔ لیکن وہ مکرم تھا کسی کی نہ سننے والا۔۔۔۔۔۔۔۔
بے یقینی سے وہ اسے دیکھے گیا ۔۔۔۔۔ جس کہ بارے میں سوچ رہا تھا وہ وجود سمیت اس کے سامنے تھی ۔۔۔
ہنی کا ڈر کے بھاگنا پھر اس سے ٹکرانا ۔۔۔ اس کی فکر میں ایک دم پریشان ہوجانا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ نازک لمس ابھی بھی اسے کمر پر محسوس ہورہا تھا ۔۔۔۔۔
پورچ سے گاڑی نکلی جس کا مطلب تھا وہ جاچکی تھی ۔۔۔۔
اس سب میں حیرت انگیز جو بات تھی وہ نظیر انکل کی بیٹی تھی ۔۔۔ طور طریقہ اور لاوبالی پن سے وہ کہیں سے بھی ان کی بیٹی نہیں لگتی تھی شاید لاڈلی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ تنہائی میں مسکرادیا ۔۔۔۔
لیکن میں اسے اتنا کیوں سوچ رہا ہوں وہ تو پہلے ہی کسی اور کی ہوچکی ہے ۔۔۔۔
تمھیں اپنے قدم روکنے ہوں گے میر وہ کسی اور کی امانت ہے ۔۔۔۔
کیا قدم روکنے سے دل بھی رک جائے گا ؟؟؟
کیسے روک پاوں گا میں خود کو ؟؟؟
اس نے انکھیں میچ کر امڈ آنے والی نمی کو اندر دھکیلا۔۔۔۔۔ ۔
وہ اپنا دل پتھر کرلے گا لیکن اس کو بھنک تک نہ پڑنے دے گا ۔۔وہ چاہے کتنا بھی ٹوٹ جائے مگر اسے کبھی نہیں بتائے گا وہ معصوم سی گڑیا ہے اسے اپنے ساتھ اس راہ پر نہیں لائے گا ۔۔۔۔ اس کا بکھرنا وہ برداشت نہیں کرپائے گا۔۔۔۔۔۔۔
وہ پکا عہد کرکے سونے کیلئے لیٹ گیا ۔۔۔ وہ کوئی اور نہیں تھا وہ مکرم تھا جو محض اپنی محبت کے خاطر اسے توڑ نہیں سکتا تھا یہاں اس کی محبت کی توہین تھی۔۔۔ اور یہ توہین اسے کسی طور برداشت نہیں تھی۔۔۔۔۔
“میں ایک عام سا شخص
اس کی محبت میں خاص ہوگیا “
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
تراشیدہ گولڈن بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتی ہوئی وہ ہولے سے مسکرائی۔۔۔۔۔۔۔۔
میری یہاں آمد آپ کی طبعیت پر گراں تو نہیں گزری چوہدری صاحب؟؟
وہ ناز سے مسکرا کر دریافت کرنے لگی ۔۔۔۔
خرم کو کوفت ہونے لگی تھی اس اوور ایکٹنگ سے لیکن وہ جبراً مسکراہٹ سجائے بیٹھا تھا۔۔۔۔
اس کے بابا نے کبھی گھر آئے مہمان کو خاطر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہنے کو بڑی جماعت کے لیڈر تھے روعب دبدبہ اپنی جگہ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ہر نکات پر عمل کرتے تھے ۔۔۔۔
اور پھر تو وہ پیرس سے داریکٹ اس کی تیمارداری کیلئے آئی تھی ۔۔۔۔۔
“نوٹ اا ٹال ۔۔۔”
‘آپ شکیل صاحب کی صاجزادی ہیں ۔۔۔۔ مخالف پارٹی ہی سہی ۔۔۔ ان سے بھی کسی زمابے میں یارانے ہوا کرتے تھے ۔۔۔۔۔”
چہرہ پہ رقص کرتی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو اندازہ ہے کہ کس نے یہ حرکت کی ہے؟؟؟
کسی اندیشے کہ تحت پوچھنے لگی۔۔
“ایسے تو بہت سے دشمن ہیں ظاہری سی بات ہے جس فیلڈ سے میرا تعلق ہے قدم قدم پر دشمن گھاٹ لگائے بیٹھے ہیں لیکن بہت جلد اس کو بھی بے نقاب کرہی لیں گے ان شاء اللہ ۔۔۔”
“خیر چھوڑیں ہم بھی کیا سیاسی ڈسکشن کرنے لگے ۔۔۔۔ “
وہ آدھے گھنٹے وہیں بیٹھ کر چلا چلا کر بات کرنے لگی جس کا جواب خرم ہوں ہاں میں دے رہا تھا۔۔۔۔
اسے تین دن ہو گئے تھے بستر پر لیٹے لیٹے ۔۔ اکتا گیا تھا وہ ایک ہی ماحول میں رہ کر ۔۔۔۔۔
نرس نے ملاقات ختم ہونے کا کہا تو اللہ اللہ کر کہ محترمہ نے اس کی جان چھوڑی تھی۔۔۔۔۔۔
تبھی ورشہ روم میں آئی ۔۔۔ پورے ایک دن بعد وہ اس کہ روم میں آئئ تھی۔۔۔
ایک دم ماحول خوش گوار ہوگیا تھا یا اسے لگنے لگا تھا ۔۔
طبیعیت پوچھ کر ہارٹ بیٹ چیک کرنے لگی ۔۔۔ پھر رپورٹ فائل کی ورق گردانی کرنے میں مصروف ہوگئ ساتھ وقتاً فوقتاً اس سے بات بھئ کرتی جارہی تھئ ۔۔۔ لیکن اس نے ایک دفعہ بھی اس کی جانب نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ خرم نے اس بات کو بڑی شدت سے محسوس کیا تھا۔۔۔۔
بغیر میک اپ کے بھی چہرہ کتنا پرکشش تھا اور وہ میک اپ کی پوری دکان لگا کر بھی وہ کشش نہیں لاسکی تھی ۔۔۔۔۔
کیسے آتی بھلا !!!! یہ تو قدرت کا تحفہ تھی جو وری کو ملی تھی پانچ وقت کی نماز بغیر بل ڈالے ادا کرتی ہے اپنے رب کے سامنے سجدہ بہ سجود ہوجاتی۔۔۔۔ ۔۔۔ رحمتیں تو نازل ہونا واجب تھیں۔۔۔۔
مورننگ واک کا کہہ کر وہ دوسرے روم کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔
اور وہ جانے انجانے میں اسے ہی سوچتا چلاگیا۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“نگی کو بھیجیں ماریہ بی ۔۔۔۔”
وہ چمچ اور کانٹے کی مدد سے چکن کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولا۔۔۔۔۔۔
“سر وہ تو پاکستان لینڈ کرگئیں ۔۔”
ماریہ بی کی بات پر وہ رک کر انھیں دیکھنے لگا۔۔۔۔
کب کی بات ہے ؟؟؟
بھرپور سنجیدگئ سے پوچھا:
“آج صبح ان کی سیکرٹری نے اطلاع دی ۔۔۔۔”
“تو اب بھی کیوں بتارہی ہو نہ بتاتی ۔۔۔”
وہ ایک دم آپے سے باہر ہوگیا
ماریہ بی سر جھکائے کھڑی رہیں۔۔۔۔۔۔
“دفعہ ہوجاو شکل گم کرو اپنی ڈیم آٹ۔۔۔”
اب وہ بے چاری کیا کہتی وہ خود تو رات سے کلب گیا ہوا تھا ۔۔۔ شراب کے نشے میں تو وہ گھر پہنچا تھا ۔۔۔۔۔
جس انسان کو اپنا ہی ہوش نہیں وہ کیسے ملک کی حفاظت کرسکتا ہے ۔۔۔۔
لیکن ہماری عوام بھیڑ چال والے مقولے پر عمل کررہئ ہے ۔۔۔۔۔
جو انکھیں دیکھتی ہیں وہ ہی سچ لگتا ہے ۔۔۔۔
ماریہ بی کئی سالوں سے ان کے ساتھ ہیں لیکن جب وہ ہی ان کی عمر کا لحاظ نہ رکھ سکا تو بیٹی کیسے رکھ سکتی تھی ۔۔۔ تھی تو اسی کا خون ۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“بات سنو ویسے تو تم نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا اور سر کہ سامنے تم گونگی بن گئیں۔۔۔۔”
وہ دونوں دوسرا پیپر دے کر ایگزیمینشن ہال سے سیدھا کیفے ٹیریا آئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی کا سپ لے کر ہنی نے اسے ناسمجھی سے دیکھا :
مطلب ؟؟؟؟
“تم نے سر کو بتایا کیوں نہیں کہ تمہارے بابا پر حملہ کس نے کروایا تھا۔۔۔۔”
“یار میں نے سوچا تھا کہ بتادوں لیکن نجانے یہ بات کتنی سچ ہے کیا پتا الزام تراشی کرکے ہی اسکا قتل کیا ہو ۔۔۔۔۔”
“تم اس بات کا ذکر کسی سے بھی نہیں کرنا جب تک بات کا صحیح نہ پتہ ہو اگے پہچانا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔”
مائرہ نے گہری نظروں سے اسے دیکھا جو شہادت کی انگلی ڈسپوزل کپ کے اوپری سطح پر پھیر رہی تھی ۔ ۔۔
“ہممممم تھیک کہہ رہی ہو ۔۔۔”
ویسے یار سر کتنے امیر ہیں ان کی جاب دیکھ کر تو نہیں لگتا ۔۔۔ اور یہ نظیر انکل کا تعلق سر سے کیسے ہے ؟؟؟
مائرہ کہ ذہن میں کل رات سے یہ ہی سوال کلبلا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
“مجھے تو خود نہیں پتا اب جلدی سے یہ امتحان ختم ہوں تو میں کراچی جاوں ۔۔۔۔۔”
“آپی کی کل کال آئی تھی تمہارے سوجانے کہ بعد ۔۔۔ ۔”
اچھا کیا کہا ؟؟
“اس وارڈن منحوس نے ساری بات بابا کے گوش گوار کردی جس پر انہوں نے خوب ڈانٹنا تھا۔۔۔”
‘اوہ جبھی میں کہوں کہ یہ تربوزہ جیسا منہ کیوں پھوول گیا تھا تمہارا ۔۔۔۔۔”
مائرہ نے انکھیں نچاتے ہوئے کہا:
“دفعہ ہوجاو ہمیشہ ولن کا رول ادا کرنا ۔۔۔”
وہ مائرہ پر لعنت بھیجتی ہوئی اپنی پسندیدہ بلیک کافی کی جانب متوجہ ہوگئ۔۔۔۔۔۔
“ویسے ہنی ایک بات ہے تم مانو نہ مانو سر ہیں بڑے ہینڈ سم ۔۔۔۔”
“قسم سے جب بھی میں انھیں دیکھتی ہوں میرا دل تیز رفتار میں بھاگنا شروع کردیتا ہے ۔۔۔۔”
“شرم کر لے کچھ استاد ہیں اوپر سے نجانے کتنے سال بڑے ہیں تم سے بہت ہی کوئئ کمینی عورت ہے تو۔۔۔۔”
ہنی نے انکھیں دکھاتے ہوئے شرم دلائی۔۔۔ جس پر وہ معصومیت سے انکھیں پٹپٹانے لگی۔۔۔۔
“ہاں تم تو پہلے سے ہی نکاح شدہ ہو تمھیں کیوں وہ پسند آنے لگے ۔۔۔۔۔۔ “
مائرہ نے مذاقاً ہی سہی انجانے میں نکاح والی بات چھیڑ دی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر ہنی کا رنگ پھیکا پڑھ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
“مائرہ آخری دفعہ تم نے میرے سامنے یہ ذکر کیا ہے آئندہ میں تمہارے منہ سے نہ سنوں۔۔۔ چاہے میں اس کے نکاح میں ہوں لیکن ایسے غیر ذمہ دار انسان سے میں کوئی وابستگی نہیں رکھنا چاہتی جس نے یہ جاننے کی بھی کوشش نہ کی کہ میری منکوحہ کیسی ہے ۔۔۔”
تو محض تم اس غیر زمہ دارانہ والے مقولے کی وجہ سے اپنے پاک اور سچے رشتے کو نظر انداز کررہی ہو ؟؟؟
مائرہ اسے کریدنا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی جو اپنے دل میں غبار لئے بیٹھی بظاہر قہقہ لگاتی ہے وہ کھوکلا پن جڑ سے ختم کردے۔۔۔ جب مسکرائے تو کھل کر۔۔۔۔۔
“میں نہیں وہ اسٹوپڈ نظر انداز کررہا ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ بھولا ہوا ہے ۔۔۔ “
ہنی نے بولتے ہوئے انکھیں بند کی ۔۔۔۔۔ وہ اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ ۔
“ہوسکتا ہے وہ لاعلم ہو ۔۔۔”
مائرہ نے پر سوچ انداز میں کہا :
“ہاں نھنھا کاکا ہے جو اتنی اہم بات سے لاعلم ہوگا۔۔۔ جب میں گریجویٹ میں ہوں تو وہ تو اور بھی بڑا ہوگا ۔۔۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عمر کے اس حصے میں اسے اپنی زندگی کی اہم بات نہ پتا ہو جس کا تعلق اس کی خود اپنی ذات سے ہو۔۔۔۔”
ہنی نے تلخی سے سر جھٹکا۔۔۔۔۔۔
“اتنی نفرت ہنی آخر تم اس رشتے میں گنجائش تو چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔”
واٹ ؟؟
“کون سی گنجائش میں تو اس پہلو پر سوچنا بھی نہیں چاہتی کجا کہ گنجائش ۔ ۔۔۔ “
“تو اس کا مطلب کہ تم کبھی اپنی مدر سے اس بارے میں نہیں پوچھو گی ۔۔۔۔”
“بلکل ۔۔۔۔۔”
ہنی نے خالی کپ وہیں رکھا اور فائل اٹھائے کرسی سے اٹھ گئی۔۔۔ جس کا واضح مطلب تھا بس اب اور کوئی بات نہیں ہوگی اس موضوع پر۔۔۔۔۔
مائرہ لمبی سانس کھینچ کر اس کی تقلید میں کھڑی ہوگئ تھی۔۔۔۔۔۔
~`~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کتنی دیر تک وہ خرم کے گلے سے لگے اس کے وجود کے ہونے کا یقین کررتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بس میرو اب تھوڑا دور ہٹو مجھے درد ہونے لگا ہے ۔۔۔”
وہ جذبات میں اس کا ڈرپ والا ہاتھ دبا۔ گیا تھا۔
وہ خرم کی بات پر ہولے سے پرے ہٹا۔ اور بازو سے دونوں انکھوں کی نمی صاف کی ۔۔۔۔۔۔۔
“یار میرو مجھے دیکھ کر تم تو بلکل چھوٹے بچے بن جاتے ہو ۔۔۔”
خرم نے پیچھے بیک سے ٹیک لگائی۔۔۔۔۔۔
“آپ کو اندازہ ہے نہ بھیو یہ چار دن کس قدر مجھ پر ایک بھاری سل کی طرح گزریں ہیں ۔۔۔”
شکایتی لب و لہجہ میں اسے اتنے دن نہ آنے کی اجازت نہ دینے پر بولا۔۔۔۔۔
“لیکن میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا میرو مجھے اپنی موت کی فکر نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے تمہاری زندگی اپنی ذات سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔۔۔۔ میرے ماں باپ کی اکلوتی نشانی ہو تم میرے پاس ۔۔۔ اب اتنا حوصلہ نہیں ہے کہ تمھیں بھی کھودوں۔۔۔۔”
“اور آپ کہ بغیر مکرم بھی کچھ نہیں ہے ۔۔۔ خرم ہے تو مکرم ہے ۔۔۔۔”
میر مضبوط لہجے میں بولا۔۔۔ البتہ انکھوں میں ابھی بھی نمی تھی۔۔۔۔۔۔۔
“میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ کام خادم حسین کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
میر کی اگلی بات پر وہ کرنٹ کھاکر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
“آپ کو کیا لگتا ہے میں وہاں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ کوئی میرے بھیو کو ہاتھ لگائے اور میں اس کی طرف سے انکھیں بند کرلوں ۔۔۔ یہ ناممکنات میں سے ہے بھیو ۔۔۔۔”
“تم اس سب سے دور رہو ۔۔۔۔”
خرم کی آواز میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔۔۔۔۔۔
میر کو اندازہ تھا کہ خرم اسی طرح کی بات کرے گا۔۔۔۔
“اوکے بھیو۔۔ “
کیا کیا ہے خادم کہ ساتھ ؟؟؟؟؟؟؟؟
خرم نے تیکھے چتونوں سے اسے گھورا۔۔۔
“زیادہ کچھ نہیں بس جس ہاتھ سے اس نے گن پکڑی تھئ ۔۔ اس کی کچھ انگلیاں توڑیں اور بازو جڑ سے اکھاڑا ہے ۔۔۔۔”
میر تمھیں کس نے کہا تھا اسے کچھ بھی کرنے کو ؟؟؟
میر کی بات سن کر خرم ہتھے سے اکھڑ گیا۔۔۔۔
“تم انھیں کہو اسے ابھی اور اسی وقت آزاد کریں ۔۔۔۔۔”
خرم نے اٹل لہجہ میں حکم سنایا۔۔۔۔۔۔۔
میرے لئے مسائل کیوں کھڑے کر رہے ہو ۔؟؟؟
“ہم خود دیکھ لیں گے ۔۔۔۔ اسے تم ابھی اور اسی وقت اسے اپنی قید سے رہائی دو ۔۔۔”
میر نے خاموشی سے خرم کو دیکھا اور وارڈ سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔
یہ پہلی دفعہ تھاکہ مکرم نے اتنا شدید رد عمل دیا تھا ورنہ وہ تو سیاست کہ نام سے ہی دور بھاگتا تھا۔۔۔
خرم نے اسے موبائل کان سے لگاتے ہوئے پرسوچ نظروں سے دیکھا۔۔۔ گلاس ڈور کہ اس پار اس کا عکس واضح دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔
غصے کہ باوجود بھی مسکرا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
اسے آج تک اپنی محبت کا اظہار کرنا نہیں آیا تھا لیکن وہ تو بخوبی پہچانتا تھا اس کے لب و لہجہ میں چھپی محبت کی شدت ۔۔۔ وہ لفظوں کو ضائع کرنے کا قائل نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
نجانے سامنے والا ہمارے جذبات میں ڈھلے لفظوں کو کس انداز میں لے ۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~“`~~~~~~~“~~~~~
ہاں بجو ؟؟؟؟؟
شکر الحمد اللہ آپ میری بات کروائیں نہ ؟؟
بابا میرا چوتھا پیپر تین دن بعد ہے پلیز میں اجاوں گھر ؟؟؟
“وہ تو میری پوری تیاری ہے بس ریوائس کرنا ہوتا ہے ۔۔۔”
“وہ آنا چاہے گی تو آجائے گی مرضی ہے اس کی ۔۔۔”
پھر میں ریڈی رہوں نہ ؟؟؟
“اوکے بابا تھینک یو لو یو۔۔۔”
وہ جوش سے بولتی ہوئی پاس بیٹھی مائرہ کہ گلے لگ گئ۔۔۔
مائرہ اچانک اس پاگل پن پر کڑھ کر رہ گئی۔۔۔۔۔
تمھیں بیٹھے بٹھائے دورے کیوں پڑجاتے ہیں ؟؟
مائرہ نے مصنوعی غصہ سے کہا :
“آہاں مانی جانو تم پہ یہ رول بلکل سوٹ نہیں کرتا ۔۔۔۔”
وہ بائیں انکھ دبا کر شرارت سے گویا ہوئی۔۔۔۔
بھوکو۔ بھی اب کیوں جھوم رہی ہو ؟؟؟
مائرہ نے بے وجہ ہنسی کی وجہ پوچھی۔۔۔۔۔
” میں کراچی جارہی ہوں ۔۔۔”
ہنی کی خوش خبری پر مائرہ ناسمجھی سے اسے دیکھے گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا آج ڈسچارج ہوگئے ہیں اور اپنا پیپر تین دن بعد ہے میں تو دو دن کہ لئے جارہی ہوں ۔۔۔”
اور میں ؟؟ میں یہاں اکیلی کیا کروں گی؟؟
“تم بھی چلو تو۔۔۔”
“اور یاد کون میرا ماما کرے گا۔۔۔”
“سوچ لو میں تمھیں فورس نہیں کررہی ۔۔”
معصومیت سے انکھیں گھما کر فریش ہونے چلی گئی۔۔۔۔
“سارا ٹائم تو آنے جانے میں ضائع ہوجائے گا ۔۔۔ اوپر سے کچھ یاد بھی نہیں کیا میں نے۔۔۔”
مائرہ کو الگ فکر لاحق ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا سوچا مائے ڈیر بیسٹی ؟؟؟
وہ مزے سے اس کے کانوں کے قریب جاکر پوچھنے لگی۔۔۔
“دفعہ ہوجاو نجانے کون سی منحوس گھڑی تھی جو تیرے ساتھ یہاں آئی میں ۔۔۔ اکیلی جا اور دو دن سے پہلے نہ آئی تو اپنا روم الگ کرلینا ۔۔۔۔۔”
وہ خونخوار نظروں سے گھور کر کتاب اٹھائے کمرہ سے نکل گئی۔ ۔۔ جبکہ ہنی کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~`~~~~~~~~~
نظیر صاحب کے ساتھ میر نے خرم کی بھی چھٹی کروالی تھی ۔۔۔۔ ۔۔ یوں بھی خرم ایک ہی جگہ رہ رہ کر اکتاہٹ کا شکار ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔
نظیر صاحب کہ اصرار پر بھی الگ اپارٹمنٹ میں شفٹ ہوگئے تھے دونوں ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نے خرم کو سفر کرنے سے منع کیا تھا۔۔۔ اس لئے ایک دو ہفتہ خرم کو یہیں رہنا تھا۔ ۔۔۔۔۔
میل کئیر ٹیکر ہمہ وقت خرم کہ ساتھ تھا۔۔۔۔ جبکہ نظیر۔ صاحب کی دیکھ بھال نصرین اور وری مل کر کررہے تھے ۔۔۔ وہ محض دو تین دن میں صحت یابی کی طرف آرہے تھے ۔۔
“اللہ نے ہمارے ارد گرد جو رشتے بنائے ہیں یہ کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ ۔۔۔ یہ ہی رشتہ ہیں جن کی وجہ سے ہم میں جینے کی امنگ بڑھتی ہے ۔۔۔۔۔”
آج نظیر صاحب خرم کے اپارٹمنٹ میں موجود تھے ۔۔۔۔ یہ تین افراد بورن فائر کہ ارد گرد بیٹھے محو گفتگو تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دسمبر کی سرد راتوں کی یخ بستہ ٹھنڈ ہڈیوں میں گھستی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔
لکڑی کہ جلنے کی تپش ماحول میں گرمائش پیدا کررہی تھی جو روح میں سکون پیدا کررہی تھی۔۔۔۔۔۔
میر مجھے تو بتا ہی سکتے تھے تم؟؟؟
نظیر صاحب نے سنجیدگی سے مکرم کو دیکھا:
انکل میں کیا بتاتا آپ کو اس وقت ان کی باتیں سن کر میرا خون کھول اٹھا ۔۔۔۔۔۔۔
“اوپر سے آپ کی صاجزادی ماشاء اللہ سے اتنی سمجھدار ہیں چیخ چیخ کر پوری سوسائیٹئ کو اطلاع کردینا تھا۔۔۔”
نظیر صاحب نے غور سے میر کہ چہرہ کے تاثرات کا جائزہ لیا۔۔۔۔ جو نارمل ہی تھے ۔۔۔۔
“بس میر وہ لاڈلی ہے اس وجہ سے بغیر سوچے سمجھے کام کرتی ہے ۔۔۔ اچھا کیا آپ نے مجھے اطلاع کر کہ ۔۔۔۔”
میر پہلے ہی نظیر کو اس کی آمد کہ بارے میں از سر نو بتا چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ میرا فرض تھا انکل آپ ہمارے بابا کی جگہ ہیں ۔۔۔۔”
میر کہ لہجے میں جو احترام تھا اسے محسوس کرکے نظیر صاحب مطمئن ہوگئے تھے۔۔۔۔
خرم کیا رپورٹ ہے شکیل کی بیٹی کی ؟؟؟
نظیر صاحب کو یک دم خیال آیا ۔۔۔
“آئی تھی محترمہ عیادت کیلئے ۔۔۔ یا یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ اندازہ کرنے آئیں تھیں کہ ہم کتنی حد تک لاعلم ہے ۔۔۔۔۔ “
تبھی نظیر صاحب کا موبائل بز ہونے گا۔۔۔۔۔
وہ معذرت کرتے وہاں سے اٹھ گئے۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد دیوار پر نصب ایل آی ڈی ریمورٹ سے آن کی۔۔۔۔۔۔
“شکیل سومرو کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جمہوریہ پارٹی نے غلط فہمی کے باعث اٹھایا ہے ۔۔۔ جب کہ شکیل سومرو کے خاص آدمی کے بیان سے تو کچھ اور اندازہ ہورہا ہے ۔۔۔۔”
“کیا اس سب کے پیچھے جمہوریہ پارٹی کا ہی ہاتھ ہے یا محض غلط فہمی ۔۔۔ یہ جاننے کیلئے دیکھتے رہیئے فلاں نیوز۔ ۔۔۔۔۔”
ایل ای ڈی سے نظر ہٹا کر خرم نے میر کو دیکھا جس کہ چہرہ پر بڑی گہری مسکراہٹ رقصاں تھی ۔۔۔۔۔
“آپ فکر نہ کریں وہ اپنا منہ نہیں کھولے گا اور اگر کسی دباو کہ تحت کھول بھی دیا تو ثبوت کہ طور پر وہ خود ملے گا ۔۔۔ لیکن مرا ہوا۔۔۔۔”
“یہ تم نے صحیح نہیں کیا میرو وہ اتنی آسانی سے یہ بات نہیں بھولے گا۔۔۔۔”
“اور اس نے صحیح کیا رات کہ اندھیرے میں پیلس میں گھسا چلا آیا اور ایک طرف ہمارے آدمی کو خرید کر اس سے کام نکلوایا پھر مروادیا۔۔۔۔۔ “
“اس میں جتنا شکیل ذمہ دار ہے اس سے زیادہ ہمارے گھر کہ ملازم غدار ہیں ۔۔۔”
نظیر صاحب کی بات پر خرم نے الجھ کر انھیں دیکھا۔۔۔
“آپ کیا سمجھتے ہیں اندر کی خبریں کون دیتا ہے اسے یقیناً کوئی دشمن ایسا ہے جو آستین کا سانپ بنا ہوا ہے ۔۔۔۔۔”
“فکر نہ کریں یہ بھی پتا لگ جائے گا ۔۔۔ چور خود پناہ ڈھوندھنے ہمارے پاس آئے گا۔۔۔۔”
نظیر صاحب کی بات خرم کو بخوبی سمجھ آگئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ لوگ باتیں کریں میں ذرا ای میل چیک کرلوں ۔۔۔”
میر کہہ کر اٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔
میر کہ اٹھتے ہی خرم نے نظیر صاحب سے بات کرنے کا سوچا۔۔۔۔۔
“نظیر صاحب یہ بات میں آپ کو باپ مان کر کررہا ہوں آپ تو جانتے ہیں بابا ماں کہ بعد آپ ہی ہیں جو ہمارے بڑے ہیں ۔۔۔”
نظیر صاحب ہولے سے مسکرا دیئے اور بات جاری کرنے کا اشارہ دیا۔۔۔۔
“میں شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔”
خرم کی بات پر نظیر صاحب کہ پیروں سے زمین نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~““~~~~~~~~~
جاری ہے :-
