Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07
No Download Link
642.3K
20
Rate this Novel
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 (Watching)Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07
“اگر تم نے اپنا منہ بند نہیں کیا تو میں تمھیں یہیں چھوڑ کر چلی جاوں گی ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اس کی حد درجہ بے وقوفی سے بھنوٹ ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔۔
“جاو چلی جاو لیکن ان سب کو میں جیل بھجوا کر ہی رہوں گی ان سب نے مل کر میرے بابا پر حملہ کروایا ہے ۔۔۔۔”
وہ بولنے کے ساتھ ساتھ رونے کا شغل بھی پورا کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ نے اسے روتے دیکھ اپنا سر تھام لیا تھا ۔۔۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی جب اس نے ہنی کی بےوقوفی میں اس کا ساتھ دیا تھا۔۔۔۔۔
“دیکھ ہنی پلیز خاموش ہوجاو وہ ابھی بھی یہیں کہیں ہوں گے اگر تمہاری آواز ان تک پہنچ گئی تو وہ ہمیں بھی مار دیں گے پلیز میری بہن چپ کر جا ۔۔۔۔۔”
اس نے ہنی کہ برابر بیٹھ کر اسے خاموش کروانے کی نہ ممکن سی کوشش کی ۔۔۔۔۔
ہنی نے آس پاس دیکھا جہاں ارد گرد درخت اور کئی اقسام کے پودے لگے ہوئے تھے۔۔۔۔ ۔۔۔
چارسوں رات کی رانی اور موتیہ کے پھول کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
تبھی قدموں کی آہٹ پر ہنی اٹھ کر پیچھے کی جانب ہوئی تو پیچھے لگا گملا اس کا پیر لگنے سےلڑھک گیا ۔۔۔۔۔۔۔
کون کون ہے وہاں ؟؟؟
بھاری بھرکم مردانہ آواز پر ان دونوں کی سانسیں رک گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
___________________________
چوبیس گھنٹے کے ٹریٹمنٹ سے آخر کار خرم کو ہوش آگیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موندی موندی آنکھیں کھول کر اس نے اجنبی ماحول کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائٹ کی تیز روشنی آنکھوں میں چھبن پیدا کررہی تھی اس لئے وہ دوبارہ انکھیں موند گیا تھا ۔۔۔۔۔
ہمہ وقت ساتھ رہنے والی نرس نے اس کی انکھوں کی پھر جسم کی حرکت دیکھی تو دوڑ کر ڈاکٹر کو بلانے بھاگی۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہاں سارے ہی سینئر ڈاکٹرز موجود تھے ۔۔۔۔ سیکیورٹی ہی اتنی سخت تھی کہ کسی کو بھی ان چوبیس گھنٹوں میں ہسپتال سے باہر جانے نہیں دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ورشہ بھی ماں کے پاس جانا چاہتی تھی لیکن وہ مجبور تھی لمحہ بہ لمحہ نصرین کی خیریت دریافت کررہی تھی۔ کال پر ۔۔۔۔۔۔۔۔
نظیر صاحب کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا ۔۔ اس وقت وہ دوائی کے زیر اثر نیند میں تھے۔۔۔ ان کے پاس بھی ایک حفاظتی گارڈ ہر وقت موجود رہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر ورشہ آپ میرے ساتھ آئیں ۔۔۔”
وہ موبائل آوور آل کی جیب میں ڈال کر خرم کی رپورٹ فائل لئے سنئیر ہارٹ اسپیشلائزیشن ڈاکٹر حمدان رحمانی کے قدم سے قدم ملا کر چل دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی سر تو کیسا محسوس کررہیں ہیں آپ ؟
ڈاکٹر حمدانی نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کا ڈرپ لگا ہوا ہاتھ تھام کر نبض ٹٹولی۔۔۔۔۔
خرم نے سر اثبات میں ہلا کر اسے بہتر کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
“ڈیٹس گڈ ۔۔۔۔”
ڈاکٹر حمدانی نے نبض دیکھنے کہ بعد بلیڈ پیشر کا آلہ اس کے بازو پر باندھا۔۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر ورشہ آپ گلوکوس کی بوتل چینج کریں ۔۔۔”
پیچھے کھڑی ورشہ کو کہا :
وہ نرس سے گلوکوس کی بوتل لے کر خرم کے بیڈ کے لیفٹ سائیڈ کی جانب آئی۔۔۔۔
[ ] وہ خاموشی سے ان سینئر ڈاکٹرز کی حرکات و سکنات دیکھ رہا تھا تبھی اس کی نظر بدلیوں کہ چاند کی طرف گئی۔۔۔۔۔ کیسا نور تھا اس کے چہرہ پر ۔۔۔۔ ستواں ناک جس میں چاندی کا گول تار پہنا ہوا ، گلابی ہونٹ لانبنی پلیکیں ، شفاف سے چہرہ پر حزن و ملال چھایا ہوا تھا۔۔۔۔ جیسے بادلوں میں گھرا چاند ۔۔۔ ۔۔۔
وہ بے اختیار ہوکر اس چاند سے مکھڑے کو دیکھے گیا ۔۔۔۔۔ ۔۔ جب کہ ورشہ کو تو نصرین کی فکر لاحق ہوگئی تھی اس پر ان کی بات کہ ہنی بھی کال اٹینڈ نہیں کررہی ۔۔۔۔ بابا الگ یہاں اسٹریچر پر ہیں ۔۔۔۔ یہ ساری سوچیں تھیں جو اسے ڈسٹرب کررہیں تھیں لیکن وہ مضبوط عصاب کی مالک تھی ان سب کو ہینڈل کرنا اسے اچھے سے آتا تھا۔۔۔۔
خرم کو پیشہ ورانہ مسکراہٹ سے نواز کر وہ اپنے کام کی جانب متوجہ ہوگئ۔۔۔
اسٹینڈ سے ختم شدہ گلو کوس کی بوتل نکال کر کچرے دان کی نظر کی اور بھری ہوئی بوتل کو اسٹیڈ پر لگایا۔۔۔۔۔
سر آپ کی ڈرپ نڈل نکالنی ہے ؟؟
وہ اس کی آواز پر ہوش کی دنیا میں آیا ۔۔۔
“جی ۔۔۔”
مختصر سا کہہ کر اس نے ہاتھ اگے کردیا۔۔۔ نازک انگلیاں اس کے ہاتھ کی پشت سے لگیں تو انوکھا جذبہ رگوں میں سرائیت کرگیا۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نیا احساس تو جو اسے محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
ورشہ اپنا کام مکمل کر کہ سابقہ جگہ پر آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ کیا فضول سی حرکت کررہا تھا میں نجانے وہ ڈاکٹر بھی کیا سمجھتی ہوگی ۔۔۔”
وہ اپنے آپ کو سرزنش کرکے ڈاکٹر کی جانب متوجہ ہوا۔۔
کیا آپ مجھے موبائل فون دے سکتے ہیں ؟
“سر وہ میرے پاس ہے میں ابھی لاتی ہوں ۔۔۔۔”
احتشام اپنی ڈیوٹی پر تھا جب اسے یہ ساری چیزیں ملی تھیں جو وہ ورشہ کو دے چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ لیں سر ۔۔۔”
موبائل کے ساتھ دیگر چیزیں اور تھیں جو وہ خرم کہ حوالے کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
نظیر صاحب ؟؟
نظیر صاحب کیسے ہیں ؟؟؟
خرم نے کرنٹ کھاکر پوچھا ۔۔۔
“آپ ریلیکس رہیں وہ ٹھیک ہیں انھیں کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔”
ورشہ نے خرم کی بے تابی واضح محسوس کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبھی ورشہ کا موبائل وائبریٹ ہونے لگا۔۔ لیکن جب تک اسے ڈاکٹر حمدانی جانے کا نہیں کہہ دیتے وہ نہیں جاسکتی تھی ۔۔۔۔
“اوکے سر ۔۔۔ ڈاکٹر ورشہ کی ڈیوٹی آپ کے روم میں ہے یہ آپ کو ٹریٹمینٹ دیں گی ۔۔۔ اگر کوئی بھی کسی بھی قسم کا مسئلہ ہو آپ ان سے کہیئے گا یہ ہماری ہونہار قابل اعتبار ڈاکٹر ہیں ۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر حمدانی نے خرم سے مصافحہ کیا۔۔۔۔ اور ساتھ ہی ورشہ کو انٹرو ڈیوس کروایا۔۔۔۔
خرم کو حمدانی کی بات دل کو بھائی تھی ۔۔۔۔۔ اسے خوش گوار سی حیرت ہوئی۔۔۔ وہ ہولے سے مسکرا دیا تھا۔۔۔۔۔
__________________________
“سر آپ پلیز وہاں نہ جائیں ہوسکتا ہے کوئی دشمن اپ کی طاق میں ہو ۔۔۔۔”
میر نے اس کی بات پر اسے غصہ سے گھورا اور سرسراتے ہوئے گھنے درخت کے پاس بڑھا۔۔۔۔۔
“سر پلیز آپ اپنے کمرہ میں جائیں رات ہورہی ہے سر خرم کو معلوم ہوا تو وہ ہم سے ناراض ہوجائیں گے ۔۔۔۔”
آوٹ !!!
میر نے دھیمہ مگر سخت لہجہ میں کہا :
وہ بے چارہ اپنی نوکری بچاتا یا میر کا حکم بجالاتا۔۔۔۔
چپ چاپ دور جاکر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں کہہ رہی تھی نہ چپ ہوجاو اب تیار رہو نئ مصیبت کیلئے۔۔۔۔۔۔۔”
وہ تقریباً ہنی کہ کان میں گھس کر بولی تھی۔۔۔۔
میں نے پوچھا کون ہے وہاں ؟؟؟
میر نے سختی سے کہہ کر درخت کی شاخ ہٹائی جو ان دونوں کے وجود کو چھپائے ہوئی تھی۔۔۔۔۔
ہلکی روشنی کی وجہ سے ان کے چہرہ صاف نظر نہیں آرہے تھے ۔۔۔۔۔۔
ہنی نے اپنے سامنے کھڑے شخص کہ وجود کو دیکھا تو چلا اٹھی۔۔۔
مائرہ بھاگو !!!!!
ہنی نے مائرہ کا ہاتھ پکڑا اور پھر سے ان دونوں نے بنا سوچے سمجھے دوڑ لگادی۔۔۔۔۔۔
میر پہلے تو کچھ سمجھ نہیں پایا پھر اس نے ہنی کی آواز پر غور کیا ۔۔۔ یک دم جھماکہ سا ہوا اس کے ذہن میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ اور حنا یہاں ؟؟؟؟
وہ دونوں زیادہ دور نہیں گئیں تھیں کہ میر جاکر ان کہ راستے میں حائل ہوگیا چونکہ سیدھ اس کی ہنی کی طرف تھی اس لئے تصادم بڑی زور کا تھا ۔۔۔۔۔
بن میں لپیٹے سیاہ ریشمی بال جھٹکے سے کھل کر اس کے چہرہ کہ گرد پھیل گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر اس من موہنے چہرہ کی چمک میں ایک لمحہ غافل ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔
کیا ڈرامئ ٹکر تھی دونوں کی مائرہ سراہے بنا نہ رہ سکی۔۔۔۔۔
جب کہ اس افتاد پر میر بھی گڑبڑا گیا تھا۔۔۔۔
“میں نے کچھ نہیں کیا یہ جو لڑکی کھڑی ہے اسی نے کہا تھا اس گھر میں گھسنے کو ۔۔۔”
ہنی انکھیں میچ کر جلدی جلدی صفائی دینے لگی جبکہ مائرہ کا منہ کھل گیا تھا۔۔۔۔۔
“نو نو سر میں نے نہیں یہ خود ہی اپنے بابا کو ڈھونڈھنے آئی تھی ورنہ ہاسٹل وارڈن ۔۔۔ “
“آپ دونوں آئیں میرے ساتھ ۔۔۔”
وہ دور کھڑے ہونق زدہ گارڈ کو دیکھا اور انھیں اپنے پیچھے آنے کا کہتا ہوا انٹیرنس کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔
ہنئ نے لپک کر مائرہ کا ہاتھ تھامہ اور اس کے پیچھے چل دیں ۔۔۔۔۔۔
___________________________
“ایک منٹ بابا میں مدد کرتی ہوں ۔۔۔”
وہ کہتے ساتھ ہی ایک نرس کی مدد سے نظیر صاحب کو وہیل چیئر پر بٹھانے لگئ ۔۔۔۔۔ اس سب میں اسے کافی دقت کا سامنا ہوا تھا لعیم شعیم نظیر صاحب اس اکیلی سے کہاں سنبھلتے ۔۔۔۔
خرم کے ہوش میں آنے کی خبر تمام نیوز کاسٹرز تک پہنچ چکی تھی۔۔۔۔
وہیل چیئر کا رخ خرم کے روم کی جانب تھا ۔۔۔۔ اب وہ کافی بہتر تھا ۔۔۔ جس پر نظیر صاحب نے خرم سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی بھی ہسپتال میں ہی تھا۔۔۔ البتہ خرم نے میرو کو اپنی خیریت کی اطلاع دے دی تھی۔۔۔۔۔۔
خرم نے نظیر صاحب کو وہیل چیئر پر آتے دیکھا تو اٹھ کر بٹھنے لگا تبھی نرس جو پہلے سے وہیں موجود تھی وہ خرم کو سہارا دینے کیلئے آگے بڑھی ۔۔۔۔ جسے خرم نے اشارہ سے وہیں روک دیا تھا۔۔۔ وہ اتنا بھی لاغر نہیں تھا کہ ایک فی میل نرس سے مدد لے ۔۔۔۔۔۔۔
ورشہ یہ سب دیکھ رہی تھی تبھی بول اٹھی۔۔۔
“سر آپ ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ خود سے اٹھ بیٹھ جائیں ۔۔۔ بد قسمتی سے آپ کو مدد درکار ہی رہے گی ۔۔۔۔”
وہ نرمی سے کہہ کر خرم کہ پاس آئی اور اسے سہارہ دے کر بٹھایا تبھی نرس نے بیڈ کا ہنڈل گھما کر سرہانہ اٹھایا۔۔۔ تاکہ وہ آسانی سے ٹیک لگا کر بیٹھ جائے ۔۔۔۔۔۔۔
خرم آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟
نظیر صاحب نے فکر مندی سے ان کے پیلے چہرہ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔
“جی جی میں ٹھیک ہوں”
آپ بتائیں وقار کی کیسی طبیعیت ہے ؟؟؟
خرم کی بات پر نظیر صاحب یک دم خاموش ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔۔
“وہ اب ہم میں سے نہیں رہا ۔۔۔۔”
جھکے ہوئےسر کہ ساتھ یہ خبر انہوں نے دی تھی ۔۔۔ خرم کہ چہرہ پر جو نرمی تھی اس کی جگہ اب سختی بے اپنا ڈیرہ جمالیا تھا۔۔۔۔
ان دونوں کو آپس میں محو گفتگو دیکھ کر وہ باہر چلی گئی اس کی تقلید میں نرس نے بھی اپنے قدم باہر کی جانب بڑھادیئے ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد تمام سیاسی لیڈرز کا تانتہ بن گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ ڈاکٹر احتشام کی ڈیوٹی لگا کر گھر کے لئے چلی گئ تھی۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~`~~~~~~~
“واو واٹ آا کو انسیڈینٹ ڈیڈ ۔۔۔۔”
“مزہ آگیا اسے کہتے ہیں منہ کے بل گرنا ۔ ۔ ۔”
وہ تالی بجا کر عین شکیل سومرو کہ سامنے والی نشست پر بیٹھی ۔۔ ۔۔۔۔
ابھی یہ خبر خادم نے اسے دی تھی کہ خرم بچ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔
“ویسے اسے کہتے ہیں قدرت کا لکھا یو نو ڈیڈ آپ نے تو اسے مارنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی لیکن دیکھ لیں وہ بچ بھی گیا ہے اور خطرہ سے باہر بھی ہے ۔ ۔۔”
وہ استہزائیہ انداز میں اپنے باپ کو دیکھنے لگی جس کا چہرہ طیش کے مارے سرخ پڑتا جارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ماریہ بی !!!!
شکیل نے دھاڑ کر کئیر ٹیکر کو بلایا ۔۔۔۔ جو بوتل کے جن کی طرح نازل ہوئی تھی ۔۔۔۔
“اسے لے جاو یہاں سے ۔۔۔۔”
ماریہ بی نے چونک کر شکیل کو دیکھا ۔۔۔۔
وہ شش و پنج میں مبتلا ہوگئی ۔۔۔
سنا نہیں تم نے ؟؟؟
“جی جی سائیں سن لیا۔۔۔”
وہ ہڑبڑا کر نگہت کی جانب بڑھی جو بڑے اطمینان سے باپ کا غصہ انجوائے کر رہی تھی۔ ۔۔۔
“اگر تم نے مجھے ہاتھ بھی لگایا تو واپس اپنے پیروں پر چل کر نہ جاسکو گی۔۔۔۔”
وہ زہر خند لہجہ میں پھنکاری ۔۔۔۔
ماریہ بی نے اس کی پرورش کی تھی لیکن تربیت نہ کرسکیں۔۔۔۔۔۔
“کہتے ہیں پیدا کرنے والے سے پالنے والے کو زیادہ محبت ہوتی ہے ۔۔۔ “
لیکن نگہت نے اس کہاوت کو غلط ثابت کردیا تھا۔۔۔۔۔
“ڈیڈ آپ مجھ سے یہ توقع ہر گز نہ رکھیئے گا کہ میں بھرے مجمعے میں آپ کی عزت کا پاس رکھوں گی ۔۔۔ “
وہ شکیل سومرو کو آنے والے حالات کے بارے میں اشارہ دیتی ہوئی وہاں سے واک آوٹ کرگئی۔ ۔۔۔
“ماریہ بی خادم کو بھیجیں ۔۔ ۔ “
وہ کئیر ٹیکر کو روانہ کرنے کے بعد خادم کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
” حاضر سرکار !!!!”
خادم کی آواز پر شکیل نے کینہ توز نظروں سے اسے گھورا۔۔۔۔۔۔۔۔
خیریت سر ؟؟؟
وہ شکیل کی نظروں سے گھبرانے لگا۔۔۔۔۔
وہ سالہ بچ گیا کیسا شوٹر ہائر کیا تھا تم نے ؟؟؟؟
گولی کی آواز پر وہ بوکھلا کر اچھل پڑا۔ ۔شکیل کی گن سے نکلنے والی گولی سامنے لگے آئینہ میں چاروں طرف دراڑ ڈال گئ ۔۔۔۔۔
“سرکار سائیں اس نے تو اپنے تئیں اس کے دل پر ہٹ کیا تھا ۔۔۔”
“اس شوٹر کو مروادو ۔۔۔۔”
شکیل نے خادم کی بات کو نظرانداز کر کے اگلا حکم سنایا۔۔۔
شکیل کی اگلی بات پر خادم کے پیروں سے زمین نکل گئی۔۔۔۔
“جی سائیں لیکن وہ تو انگلینڈ چلا گیا ۔۔۔”
ماتھے پہ آیا پسینہ رومال سے صاف کرنے لگا۔۔۔۔
وہ چاہے مریخ پر کیوں نہ پہنچ جائے اسے ڈھونڈو اور ختم کردو۔”۔۔
“ورنہ دوسری سانس لینے کیلئے تمھیں تکلیف نہیں ہوگی ۔۔۔ ۔”
خادم ایک ایسی دلدل میں پھنسا ہوا تھا جہاں نہ ڈوب سکتا تھا نہ ابھر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ شکیل کی واضح دھمکی بخوبی سمجھ گیا تھا۔۔۔۔ اور کوئی شک نہیں تھا ۔۔۔ شکیل سومرو اپنی جان کے خاطر اپنی بیٹی کو بھی زندہ درگور کروا سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
“کل صبح کا سورج نہ دیکھ سکے وہ ۔۔۔”
“جو حکم سائیں ۔۔۔”
وہ تابعداری سے کہہ کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
آج کا مطلب آج ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
`~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
نظیر صاحب واپس اپنے سابقہ کمرہ میں آئے تو نصرین بیگم وہاں پہلے سے موجود ان ہی کی راہ تک رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
ورشہ ڈاکٹرز کی ارجنٹ میٹنگ میں مصروف تھی جس کا بنیادی مقصد چاک و چوبند رہنا اور ہمہ وقت چوہدری خرم اور نظیر صاحب کے پاس ایٹ آا ٹائم موجود رہنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے کی اس مٹنگ کہ بعد وہ نظیر صاحب کے پاس گئی۔۔۔۔۔۔۔
وری رابطہ ہوا ہنی سے ؟؟؟؟
نظیر صاحب کی بات پر اس نے ماں کو شکایتی نظروں سے دیکھا۔۔۔
“اپنی ماں کو بعد میں دیکھ لینا پہلے میری بات کا جواب دو۔۔”
نظیر کی غصہ میں ڈوبی آواز پر وہ ایک بار پھر ان کی جانب متوجہ ہوئی۔۔ ۔۔
“بابا میں بار بار کال کررہی ہوں لیکن اس کا موبائل آف مل رہا ہے۔۔۔۔”
آخر کار وہ سچ بول گئی۔۔۔۔۔۔
یہ بات تمھیں پہلے بتانی چاہیئے تھی نہ ؟؟؟
نظیر صاحب نے خشمگی نظروں سے بیٹی کو دیکھا۔۔
“بابا آپ کی حالت صحیح نہیں ہے میں کیسے دوسری ٹینشن آپ کو دے سکتی تھی۔۔۔۔”
“میں اتنا کمزور نہیں ہوں محض ایک ایکسیڈینٹ سے ہی ہممت ہار جاوں۔۔۔”
نظیر صاحب نے سرد سانس کھینچ کر کہا :
“ہاسٹل وارڈن کا نمبر ملاو۔۔۔”
نظیر صاحب کہ کہنے پر وہ جلدی جلدی نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~`~~~~““`~~~~~~“
ایسی کیا مشکل تھی آپ کو جو آپ دونوں نے وارڈن کی اجازت کے بغیر ہاسٹل سے باہر نکلیں وہ بھی رات کو؟؟؟
وہ دونوں معصومیت سے ایک دوسرے کا تھوبڑا دیکھنے لگیں ۔۔۔۔
ان دونوں کے اس طرح دیکھنے پر مکرم مسکرائے بنا نہ رہ سکا ۔۔
“یک نہ شدہ دو شدہ۔۔۔”
“وہ سر اصل میں بات کچھ یوں تھی کہ ہنی میرا مطلب ہے حنا کو اپنے بابا سے ملنا تھا ۔۔۔۔ اور انہوں نے اسی گھر کا ایڈریس دیا تھا۔۔۔۔”
مائرہ نے تہذیب وتمدن سے اصل بات بتائی۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن آپ کے بابا کون؟؟
ایک سیکنڈ آپ نے اپنے بابا کا کیا نام بتایا تھا ؟؟؟
مکرم نے الجھ کر ہنی سے پوچھا جو کمرہ کا معائنہ کررہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کب بتایا سر ؟؟؟
اس کے سوال کرنے پر مائرہ نے اپنا ماتھا پیٹا۔۔۔ جب کہ مکرم کو انسلٹ فیل ہوئی ۔۔۔۔
“سوری سر ان کہ والد کا نام نظیر زئی ہیں موجودہ وزیر اعلی خرم چوہدری کہ خاص مشیر ہیں ۔۔۔۔’
مائرہ نے ہی نظیر صاحب کا تعارف کروایا تھا ۔۔۔۔۔
دوسری طرف مکرم جو پانی پی رہا تھا اچھوتا لگا تھا۔۔۔ کھانستے کھانستے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔
ہنی جلدی سے اٹھ کر مکرم کی جانب آئی اور اس کی کمر سہلانے لگی۔۔۔
یہ حرکت بے اختیاری تھی جو حنا سے سرزرد ہوئی تھی۔۔۔۔۔
جبکہ مائرہ منہ کھولے کبھی مکرم کو دیکھتی تو کبھی ہنی کو جو اب پیچھے ہٹ چکی تھی ۔۔۔
مکرم حیرانی سے اسے دیکھنے لگا جبکہ ہنی کا چہرہ شرمندگی سے لال پڑھ گیا تھا۔۔
“سوری سر ریلی سوری مجھے آپ کی تکلیف برداشت نہیں ہوئی تھی تو اسی لئے۔۔۔۔”
وہ نگاہیں جھکائے جو منہ میں آیا بول گئ۔۔ ۔
“اٹس اوکے آپ بیٹھ جائیں۔۔۔۔”
مکرم اب سنبھل چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ دونوں کی یہ حرکت اگر آپ کے والدین تک پہنچی تو کیا نتائج نکل سکتے ہیں اندازہ ہے نہ آپ کو ؟
وہ اب اپنے موڈ میں واپس آچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نو سر پلیز میرے بابا پہلے ہی تکلیف میں ہیں آپ پلیز انھیں نہ بتائیے گا۔۔۔”
ہنی کہ رخسار پر موتی ٹوٹ کر گرنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وارڈن اس کو کیا بہانہ کریں گی آپ ؟؟؟
اس کا دل چاہ رہا تھا وہ ہنی کو اپنی پناہوں میں چھپالے لیکن وہ چاہ کر بھی ایسا نہ کرسکا ۔۔ ۔ ۔۔۔۔
اس بار نرمی سے گویا ہوا۔۔۔۔
“سر آپ اگر میرے بابا سے بات کروا سکتے ہیں تو پلیز کروادیں ان کا سیل آف جارہا ہے ۔۔۔۔”
دو لٹیں اس کہ رخسار کو بوسہ دے رہیں تھیں اس کی معصومیت اسے حسین بنائے ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکرم کہ دل سے دعا نکلی تھی کہ کاش وہ اس کی ہوتی ۔۔۔ وہ واقعی اس دنیا کی لڑکیوں سے مختلف تھی جبھی تو مکرم کہ دل میں رہتی تھی۔۔۔۔ جہاں پر آج تک کوئی نہ رہ سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں آپ کی تھوڑی دیر تک بات کرواتا ہوں تب تک آپ دونوں فریش ہوجائیں ۔۔۔۔۔”
مکرم نے اس کہ چہرہ سے بمشکل نظریں ہٹائیں۔۔۔۔
انٹر کام پر ملازم کو بلوایا۔۔۔۔۔
“انھیں سیکنڈ فلور کا گیسٹ روم دیکھائیں۔۔۔”
انھیں حکم سنا کر وہ ڈرائنگ روم سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ جیسے ہی روم کی جانب آئی تو نظیر صاحب کی آواز پر دروازہ میں ہی ٹہر گئ۔۔۔۔
“ہاں بیگم یہ وہ ہی خرم ہے جس کا نکاح چوہدری صاحب نے ہماری وری سے کیا تھا۔۔۔۔۔۔”
ورشہ کی انکھوں کہ سامنے زمین و آسمان گھوم گئے۔۔۔۔۔
“جبھی آپ نے ڈاکٹر حمدانی کو کہہ کر خرم کے روم میں وری کی ڈیوٹی لگوائی ہے ۔۔۔”
نصرین بیگم نے ذہن پہ زور ڈالا تو انھیں سب سمجھ آتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔
“ماشاء اللہ سے ہماری بیٹی کی قسمت کا ستارہ ایسے چمکے گا میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔۔”
“نصرین آبدیدہ ہوگئیں۔ ۔۔۔۔”
“لیکن نصرین خرم لاعلم ہے اس نکاح سے ۔۔۔”
نظیر صاحب کی اگلی بات پر ایک اور جھٹکا ورشہ کو سن کرگیا۔۔۔ ۔۔۔
اس میں سکت باقی نہ تھی کہ وہ کچھ اور بھی سنتی اس لئے مرے ہوئے قدم اٹھا کر ہسپتال کی راہداری کی طرف چلی آئی۔۔۔۔۔۔
اسے گھٹن کا احساس ہورہا تھا۔ ۔۔ ۔۔۔۔
کیا وہ ہمیشہ ان چاہی ہی بنی رہے گی یا یہ تعلق ختم ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں میں اپنی ذات پر یہ ظلم نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔۔ میں ساری زندگی اس احساس کے ساتھ کیسے رہوں گی ۔۔۔۔۔
ڈھیر سارے آنسو اس کی بینائی کو دھندلا کرگئے تھے ۔۔۔۔۔
کیوں بابا آپ نے ایسا کیوں کیا اپنی وری کے ساتھ ۔۔۔۔
وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
چاروں طرف شیشہ کی دیوار بنائی گئی تھی ۔۔۔ اگر اس پیلس کو شیشے کا محل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس کی پیلس کی چمک دمک میں کھوگئیں تھیں۔۔۔۔ سفیدچمکتے سنگ مرمر پہ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئی ملازم کی ہمراہی میں وہ بڑے سے کمرہ میں پہنچیں تھیں۔۔۔۔
سرمئی کارپیٹ اور اسی کہ کنٹراس میں لگائے گئے پردے انکھوں کو تقویت پہنچا رہے تھے جدید فرنیچر جس میں شامل ڈریسنگ ٹیبل اور بیڈ تھا۔۔۔۔
اسی کہ ساتھ اٹیچ باتھ روم بنایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں فریش ہوکر نکلیں تو کھانے کے لوازمات سے سجی ٹرالی پکڑے ایک ملازم ان کے سامنے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھی بریانی کی دلفریب مہک نے اس کی بھوک جگادی تھی۔۔۔۔۔
“وہ سر سے کہیں مجھے پہلے بابا سے بات کرنی ہے ۔۔۔”
ہنی نے ملازم سے کہا:
ابھی وہ کوئی جواب ہی دیتا کہ مکرم آتا ہوا دیکھائی دیا۔۔۔۔۔
“یہ لیں بات کریں۔۔۔”
مکرم نے بیش قیمت موبائل ہنی کی جانب بڑھایا جسے وہ طے تابی سے تھام گئ ۔۔۔
ہیلو بابا ؟؟۔
آپ کیسے ہیں ۔؟؟۔
زیادہ لگی ہے ؟؟؟
درد بھی ہورہا ہے ؟؟؟
نہیں تو ؟؟
آپ کو کس نے بتایا ؟؟؟
“میں بھی کیا کرتی مجھے آپ سے بات کرنی تھی نہ ۔۔۔۔”
دوسری طرف سے نظیر کی ڈانٹ لگی تھی جبھی ممناتے ہوئے صفائی دینے لگی۔۔۔۔۔۔
“وہ تو میرے ساتھ مائرہ تھی نہ ۔۔۔”
“اچھا ۔۔۔”
“ہاں اوکے ۔۔”
“اللہ حافظ۔۔۔”
چہرہ مرجھا گیا تھا شاید سخت والی ڈانٹ لگی تھی ۔۔۔۔
مکرم نے سوچتے ہوئے موبائل لیا۔۔۔۔۔۔۔۔
“شکریہ سر ۔۔۔”
لہجہ میں پہلے والی بشاشت ندارد تھی۔ ۔۔۔۔۔
“آپ دونوں ڈنر کریں اس کے بعد ڈرائیور آپ کو ہاسٹل چھوڑ دے گا۔۔۔”
وہ اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن کہہ نہیں پایا ۔۔۔۔۔۔
شاہد وہ اسے تنبیہہ کرنا چاہتا تھا ۔۔ اس کی لاپرواہی پر ڈانٹنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ لیکن وہ اس کے آنسو دیکھ کر خاموشی سے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
کیا ہوا ہنی کیوں رو رہی ہو؟؟؟
مائرہ نے اسے آنسو بہاتے دیکھا تو فکرمندی سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔۔
“اچھا چلو کوئی نہیں اجاو کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔ بعد میں رو لینا ۔۔”
مائرہ کی بات پر ہنی مسکرا دی تھی ۔۔۔
“اور بے وفا یاد رکھنا آئندہ جو کبھی میں تمھارے ساتھ کہیں جاوں ۔۔۔۔”
ہنئ اسے اگنور کر کہ جلدی جلدی کھانے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے :-
