Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16

جہاں تھوڑی دیر پہلے چہل پہل مچی ہوئی تھی وہاں اب سناٹہ چھایا ہوا تھا۔۔۔۔ تمام لوگ اصلحہ لئے ہوئے گارڈز کو دیکھ کر خوف و ہراس میں مبتلا تھے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
نگہت غصہ کہ الم میں بل کھائے جارہی تھی ۔۔۔ ان سب میں ایک ورشہ ہی تھی جو اطمینان سے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم اپنی کرسی چھوڑ کر اٹھا اور جوں ہی گردن گھمائئ تو ایک کم عمر لڑکا موبائل سے ویڈیو بنانے لگا۔۔۔۔ ۔۔۔۔
“گارڈز اس بچے سے موبائل لو ہری اپ۔۔۔”
خرم کی آواز اتنی اونچی تھی کہ پورے ہال میں گردش کرگئی۔۔۔۔۔۔۔۔ ریسٹورینٹ کا مینیجر بھی خرم کو دیکھ کر دم سادھے ایک کونے میں کھڑا ہوگیا جبکہ گارڈر پھرتیلے انداز میں اس بچے کہ پاس پہنچا جو ڈر کہ مارے اب موبائل جیب میں ڈال رہا تھا۔۔۔۔
“یہاں موجود کوئی شخص کسی بھی قسم کی تصویریں یا ویڈیوز نہیں بنائے گا۔۔۔۔”
خرم نے ایک دفعہ پھر اونچی آواز میں سب کو تاکید کی ۔۔۔۔
گارڈز نے موبائل لے کر بنائی گئی ویڈیو ضائع کی اور موبائل اس بچے کی ماں کہ ہاتھ میں تھما کر اپنی سابقہ پوزیشن میں آیا۔۔۔۔۔
“میں چاہتا تو پبلک کہ سامنے تمھیں ذلیل کرسکتا تھا لیکن میری تربیت میں یہ شامل نہیں ہے کہ میں عورت ذات پر انگلی بھی اٹھاوں ۔۔۔ تم نے میری نرم مزاجی کو بہت کیش کیا ہے نگہت سومرو ۔۔۔۔ میں تمھیں پہلے بھی وارن کرچکا تھا۔۔۔۔ لیکن تم نہ مانی اور میری پرسنل لائف میں انٹر فئیر کرتی رہیں اور بار بار کرتی رہیں۔۔۔۔ “
“اج میں تمھیں وارن نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔ یہاں جتنی بھی عوام موجود ہے وہ سب دیکھ چکی ہے ۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ اب کسی بھی پریس کہ بندے کو بلا کر مجھے کنفرنس میں یہ بتانا پڑے کہ نگہت سومرو اپنی نام نہاد شکست کا بدلہ لینے کیلئے جھوٹی فوٹوگرافس سے میری بیوی کو مجھ سے بدزن کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ اس کا جواب مسز خرم خود دے چکی ہیں ۔۔۔ “
“۔ یہ سازشیں ان کہ سامنے کرنا جو اس سب سے واقف نہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
“میرا خیال ہے اتنا بہت ہے تمھیں سمجھانے کیلئے۔۔۔۔۔”
اور ہاں مہران سے ہی کروایا تھا نہ یہ کام تم نے ؟؟
“دیکھ لو وہ مہران بکاو مال نکالا۔۔۔۔۔”
وہ نگہت کو اس کی اوقات بتا کر ورشہ کو لئے ریسٹورنٹ سے نکل گیا اس کی تقلید میں گارڈز چلنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہاں موجود لوگ نگہت کو عجیب و غریب نگاہوں سے دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔ کچھ باقاعدہ استہزائیہ تاثر کہ ساتھ اپنی سابقہ جگہ پر بیٹھ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ذاکر میڈیا کو اس بات کی بھنک تک نہیں پڑنی چاہیئے ۔۔۔ تمام ویب سائٹس پر نظر رکھو ۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کہ لوگ وہاں زیادہ تھے ہوسکتا ہے کسی نے ویڈیو بنالی ہو ۔۔۔۔ بات صرف مجھ تک ہوتی تو میں کبھی اتنی سختی نہیں کرتا لیکن میں نہیں چاہتا ورشہ کو لے کر میڈیا الٹی سیدھی خبریں بنائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
“سر آپ فکر نہ کریں میں کوئئ خبر کسی پیپر پر چھپوانے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔”
ورشہ نے اپنے برابر میں بیٹھے اپنے مزاجی خدا کو دیکھا جسے سب سے پہلے اسی کی فکر تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب نجانے وہ موبائل کان سے لگائے کس کو ہدایت دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس لمحے ورشہ کی محبت خرم کہ لئے اور جڑیں پکڑنے لگی ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“ہنی یار تم اب تک خفا ہو انکل آنٹی سے ۔۔۔۔۔۔”
حنا نے مائرہ کی بات پر اسے تیکھے چتونوں سے گھورا ۔۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے میں کچھ نہیں کہتی تم بتاو کب تک جانے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔۔ “
مائرہ نے اس کا موڈ دیکھ کر موضوع ہی تبدیل کردیا۔۔۔
“میں نہیں جاوں گی میں اب اگے نہیں پڑھوں گی ۔۔۔۔”
مائرہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے اس کا دماغ پھر گیا ہو ۔۔۔۔۔
“ایسے مت دیکھ مانی میں فیصلہ کرچکی ہوں۔۔۔”
“اور اس سب سے نقصان صرف تمھیں ہی ہوگا ۔۔۔۔ “
“ہونے دو میری بلا سے ۔۔۔”
“دیکھو ہنی اگر ماں باپ ہمارے لئے کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو وہ ہمارے لئے بہتر ہی کرتے ہیں نہ کون سے والدین یہ چاہیں گے کہ ان کی اولاد دکھ سہے ۔۔۔۔۔ “
“مانی مجھے تم سے اس بات کی امید نہیں تھی یار تم تو مجھے سمجھو ۔۔۔۔”
وہ افسردگی سے مائرہ سے گویا ہوئئ ۔۔۔۔۔
ایک وہ ہی تھی جو بچپن سے لیکر اب تک اس سے ہر ایک بات کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔
تو پھر اگر یہ بات نہیں ہے تو کیا وجہ ہے جو تم پڑھائی تک چھوڑنے کیلئے تیار ہو ؟؟؟
سب نے مل کر میری زندگی کا۔ فیصلہ پہلے ہی “کردیا اب اگر میں کچھ چاہتی ہوں تو کیوں اتنا برا لگ رہا ہے سب کو ۔۔۔۔”
“کیوں کہ تم اپنے ساتھ غلط کررہی ہو ۔۔ارے لڑکیاں تو رو رو کر اپنی شادی رکواتی ہیں کہ ہمیں پڑھنا ہے ۔۔۔
اور ایک تم ہو جو فضول سی ضد لگا بیٹھی ہو ۔۔۔”
یہ تمہارے نزدیک فضول سی ضد ہے ؟؟؟
حنا نے چبھتے لہجے میں اس سے پوچھا :
“ہاں تقریباً سب کی ہی نظر میں ہے ۔۔۔۔”
مائرہ بھی اپنی بات پر قائم ہی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلو پھر میں تو تمھیں سمجھا ہی سکتی ہوں ۔۔۔ میں کل تک واپس جارہی ہوں اگر تمہارا ارادہ بدل جائے تو بتادینا ۔۔۔۔”
“میرا ارادہ کبھی نہیں بدلے گا۔۔۔۔”
حنا نے اٹل لہجے میں کہا جس پر وہ افسوس سے سر دائیں بائیں ہلا کر چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر اس کی ناں ہاں میں نہیں بدلی ۔۔۔۔۔۔۔
نظیر صاحب کہ لاکھ سمجھانے پر بھی وہ ان کے ساتھ لاہور نہیں گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف مکرم اپنے کام کو لے کر اتنا مصروف ہوگیا کہ وہ اس کی ضد کو وقتی ہی سمجھ کر بھلا چکا تھا ۔۔۔ اس کا خیال تھا کہ نظیر صاحب اور باقی لوگ مل کر اسے سمجھائیں گے تو وہ سمجھ جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج جلدی جلدی میں بغیر ناشتہ کئے ہی یونیورسٹی چلا آیا ۔۔۔۔۔
اب لمبی لمبی لگی ہوئی لائنوں کہ نرغے میں پھنسا اسے سانس لینا کا بھی وقت نہ ملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ دوسرا سیمسٹر کہ داخلے فارم کی آخری تاریخ تین بعد تھی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔ اس لئے سبھی کو اپنا فارم وقت پر جمع کروانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کا دن ان ہی مصروفیت کی نظر کر کہ وہ چابی اٹھا کر مین گیٹ کی جانب آیا تو مائرہ اسے نظر آئی ۔۔۔ وہ ہیلکس کا دروازہ بند کر کہ مائرہ کی جانب آیا ۔۔۔۔
“اسلام و علیکم “
اپنی موجودگی کا احساس دلا کر اس نے مائرہ سے اکیلے کھڑے ہونے کی وجہ دریافت کی ۔۔۔۔
“سر ہنی تو اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے انکل آنٹی کہ سمجھانے کہ باوجود بھی وہ ایک انچ اپنے فیصلہ کو بدلنے کہ لئے تیار نہیں ہے ۔۔۔۔”
مائرہ کو لگا شاید مکرم کہ سمجھانے پر وہ مان جائے اس لئے بلا جھجھک وہ مکرم سے تمام باتیں کہہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
مکرم نے اسے چھوڑنے کی بھی آفر کی جس پر وہ صفائئ سے انکار کرکہ ہاسٹل کی طرف چلی گئ۔۔۔
مکرم گاڑی روڈ پر ڈال کر موبائل کان سے لگائے ہوئے تھا۔۔۔
وہ مائرہ سے ہنی کا نمبر لینا نہیں بھولا تھا۔۔۔ اس وقت اسے اتنا غصہ تھا کہ ہنی اگر اس کہ سامنے ہوتی تو ایک لگا ہی دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں مکرم بات کررہا ہوں۔۔۔۔”
اس کہ ہیلو کہنے پر اس نے سپاٹ انداز میں اپنا تعارف کروایا۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف کھٹاک سے کال کاٹ دی گئئ۔۔۔۔۔
مکرم نے فون کو ایسے گھورا جیسے سامنے ہنی ہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈش بورڈ پر موبائل پھینک کر گاڑی فل سپیڈ پر ڈال گیا ۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ورشہ خانسامہ سے کھانے کی ٹرے لے کر کمرہ میں آئی تو خرم کسی گہری سوچ میں کش پہ کش لئے جارہا تھا ۔۔۔۔
کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اس کہ چٹختے اعصاب کو پرسکون کئے دے رہی تھی ۔۔۔ جبکہ ٹھنڈی ہوا کے جھونکہ نے ورشہ کو شال لینے پر مجبور کردیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ورشہ چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی خرم کہ برابر آکھڑی ہوئی۔۔۔
آہٹ پہ چونک کر گردن گھمائی تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم نے ورشہ کو دیکھا تو مسکراتے ہوئے ادھ جلی سگریٹ کو ایش ٹرے میں رگڑ کر اس کی جانب حصار کھینچا۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا ؟؟
ورشہ اس کہ کندھے پہ سر رکھ کر شکایتی لہجہ میں گویا ہوئی ۔۔۔
“بھوک نہیں تھی اور تم نے بھی نہیں کھایا ہوگا نہ۔۔۔”
ورشہ کی خاموشی پر اس نے کندھے سے تھام کر اپنے روبرو کیا :
“ورشہ میں جانتا ہوں آپ ہرٹ ہوئی ہیں ۔۔ اس کہ لئے میں شرمندہ ہوں ۔۔۔ لیکن اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہوگا میرے لئے تو یہ ایک عام بات ہے کیوں کہ جس فیلڈ سے میرا تعلق ہے وہاں بے حس ہو کر سارے سوال جواب سننے پڑتے ہیں۔۔۔۔ کوئی آپ کو کچھ بھی کہے آپ کو کسی کی بات پر کان نہیں دھرنے ۔۔۔۔۔ “
“آپ شرمندہ نہ ہوں ۔۔ مجھے برا لگا تھا لیکن آپ کا تحفظ میرے ساتھ ہے یہ سب سے بڑی بات ہے میرے لئے ۔۔۔۔ “
“اور یقین بھی ۔۔۔ وری جب تک ہمارے بیچ۔ ہم اہنگی اور یقین نہیں ہوگا ہم کسی کی بھی باتوں میں آجائے گے ۔۔۔ جو ہمارے رشتے کی بنیاد میں دراڑ پیدا کردے گا۔۔۔”
خرم نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے نرم لہجے میں سمجھایا۔۔۔ ورشہ نے کھانے کی جانب توجہ دلائی تو خرم اور ورشہ کھانا کھانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ورشہ کھانے کہ برتن اٹھائے باہر گئی اور خرم لائبریری ۔۔۔ ابھی اسے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ ذاکر اجازت لے کر اندر آیا ۔۔۔۔
سر شکیل سومرو آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے ؟؟؟
“اسے ایک مہینہ بعد کا ٹائم دو ۔۔۔۔ “
“جی سر ۔۔۔”
ورشہ چائے کہ دو مگ لئے لائبریری میں چلی آئی ۔۔۔۔ ایک کپ خرم کہ سامنے رکھ کر خود بک شیلف کی جانب آئی جہاں مختلف قسم کی کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
اسی کہ سائیڈ میں دو تین تصویروں کہ فریم آویزاں تھے ۔۔۔
ایک میں خرم اور مکرم ساتھ کھڑے تھے مکرم کہ ہاتھ میں میڈل تھا۔۔۔۔
دوسری تصویر ان چاروں کی تھی جس میں وہ اپنے والدین کہ ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
تبھی اپنے پیچھے اسے فریم کہ شیشے میں خرم کا عکس نظر آیا ۔۔۔۔
وری یہ مام کی اور بابا جان کی تصویر ہے جب میرو اپنے پیروں پر چلنا سیکھا تھا تب یہ تصویر لی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“آنٹی کتنی خوبصورت لگ رہیں ہیں اس تصویر میں ۔۔۔۔۔ “
ورشہ نے اشتیاق سے اس تصویر کو دیکھ کر کہا:
“مام بہت خوبصورت تھیں بابا جان اور مام کی لو میرج تھی ۔۔۔۔ “
ورشہ نے پلٹ کر حیرانی سے دیکھا :
ہاں وری بابا جان کی یہ پہلی نظر کی محبت تھی ۔۔۔۔ اور شادی کہ بعد شدت پکڑتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وری مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ان کا ایکسیڈنٹ نہیں بلکہ مرڈر ہوا ہے ۔۔۔ جس کو ایکسیڈینٹ کی شکل دے دی گئی تھی ۔۔۔۔”
تو آپ نے اس بارے میں پوچھ تاچھ نہیں کروائی ؟؟
“یہ ہی تو مسئلہ ہے ہر اس بندے کو میں نے اس کیس میں انولو کیا جس کا بابا جان سے تعلق تھا لیکن وہاں موجود پولیس نے انکوائری میں ہی یہ بیان دیا کہ ان کی موت کار ایکسیڈینٹ سے ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ فکر نہ کریں جھوٹ کہ پاوں نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ چھپتا ہے کوئی نہ کوئی تو اس واقعہ کو جانتا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ وہ ضرور آپ کہ سامنے آکر اس حقیقت سے اگاہ کرے گا۔۔۔۔ “
“آپ کا ساتھ ہے میرے ساتھ تو مجھے کیا غم ۔۔۔”
خرم نے کہتے ساتھ ہی اس کہ ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی ۔۔۔۔۔۔ جس پر وہ جھینپ گئ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
اس وقت کہاں جارہے ہو؟؟؟
“بھیو ایک ضروری کام ہے ۔۔۔۔ “
وہ ابھی ابھی یونی سے آیا تھا ۔۔۔ شاور لے کر کپڑے چینج کئے ۔۔۔
بال بنائے اور گھڑی ، چابی ، موبائل اٹھائے کف کہ بٹن لگاتا ہوا جلدی جلدی سیڑھیاں اترنے لگا ۔۔۔۔ اس کی جلد بازی پر خرم ٹوکے بنا نہ رہ سکا ۔۔۔۔
گڑیا سے ملنے جارہے ہو ؟
خرم کہ صحیح اندازہ پہ وہ انھیں دیکھ کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
“آپ کی گڑیا کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا ہوا ہے محترمہ کا دماغ ٹھکانے لگانے جارہا ہوں ۔۔۔”
خرم کا اس آفت کی پرکالہ کو گڑیا کہنا مکرم کو تپ چڑھا گیا۔۔۔۔۔۔۔
“میرو اپنے غصہ کو کنٹرول کرو اسے اپنے ذہن سے نہیں اس کے ذہن سے پرکھو گے تو سمجھ سکو گے ۔۔۔۔۔ “
خرم نے بربار طریقہ سے اسے سمجھایا ۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا بھیو میں نکلتا ہوں ۔۔۔۔ “
ہاں جاو گارڈز ساتھ جائے گا تمہارے ۔۔۔۔ “
“بھیو یار کیا ہوگیا اب بندہ اکیلا کہیں جا بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔”
“میر بحث نہیں ۔۔۔۔ جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔”
“اچھا بھیو آپ میری کال کا انتظار کریئے گا ۔۔۔ ہوسکتا ہے آپ کی بات کروانی پڑھ جائے ۔۔۔۔۔۔ “
“ہمممم میرو میں بار بار کہہ رہا ہوں سختی نہیں کرنا ۔۔۔۔”
“سوری بھیو میں اس بارے میں کوئی وعدہ نہیں کرسکتا ۔۔۔ “
“اللہ حافظ ۔۔۔”
وہ الوداعی کلمات ادا کرکہ پورچ میں آیا تو ایک گارڈ پہلے سے ہی اس کہ انتظار میں کھڑا تھا۔۔۔
وہ اسے تیز نظروں سے گھور کر ڈرائیور کو پیسنجر سیٹھ کھولنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ اس کہ بیٹھتے ہی گاڑی پورچ سے نکل گئی۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“اس کل کہ چھوکرے کی اتنی ہممت ۔۔۔۔ “
“ناہنجار تم سن کر آگئے ۔۔۔”
“اپنی منحوس شکل گم کرو ۔۔۔۔”
جب سے اسے گارڈز نے ریسٹورینٹ میں ہونے والے تماشہ کی خبر دی تھی وہ شعلہ جوالہ بنا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
“سائیں وہ اکیلا اتنی پڑی جماعت لے کر بیٹھا ہوا ہے اور کڑوڑوں دلوں پہ راج کرتا ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے ۔۔۔ اور وہ وجہ کوئی نہیں بلکہ نظیر زئی ہے ۔۔۔ جو اس کی بیک بون بنا ہوا ہے ۔۔۔۔ “
یہ وہ ہی وفادار کتا ہے نہ جو واجد کے تلوے چاٹتا تھا ؟؟؟
“آپ کا اندازہ درست ہے سائیں ۔۔۔ “
“تو پھر اس کا۔ بندو بست کرو کیوں کہ عمارت کو گرانے کیلئے بنیاد کو توڑنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔ “
“نہ نہ سائیں آپ پھر غلط سمت میں جارہے ہیں۔۔۔ ہمیں عمارت گرانی ہے تاکہ کبھی وہ دوبارہ تعمیر نہ کروائی جاسکے ۔۔۔۔ “
نعیم زیدی نے شاطرانہ انداز میں بات کہی تھی جو شکیل کہ سر سے گزر گئی۔۔۔۔
“زیدی تم ہی بتادو ۔۔۔ “
“آپ ثبوت اکھٹا کریں نظیر کہ خلاف ۔۔۔۔ خرم نے وقت مانگا ہے نہ اسی کہ دیئے ہوئے وقت میں آپ سچے گواہوں سے جھوٹی گواہی دلوائیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری طرف میں نظیر کو ٹھکانے لگادوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ہمممم۔۔۔
“سائیں آپ ایسے کسی بندے کو جانتے ہو جو کبھی واجد کہ ساتھ رہا ہو اور اس کی موت کہ بعد خرم کہ سامنے بھی آیا ہو ۔۔۔۔۔ “
“ہاں اس کا وکیل جو اب تک خرم کہ لئے کام کرتا ہے ۔۔۔۔ واجد کا بایاں ہاتھ تو وہ نظیر ہے اس کہ بعد وہ جسے اپنے ساتھ رکھتا تھا وہ وکیل ہے جو لندن میں مقیم ہے ۔۔۔۔ “
وہ ہماری بات کیوں مانے گا زیدی ؟؟؟
“اس کا ویک پوائنٹ ڈھونڈیں اور ہٹ کردیں ۔۔۔۔۔۔ “
“ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی اس کی بھی ہوگی یقیناً “
“یہ بھی کر کہ دیکھ لیتے ہیں اس بار میں تمھیں توڑ کہ رکھ دوں گا خرم تم نے شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالا ہے ۔۔۔۔”
نگہت جب سے ریسٹورینٹ سے آئی تھی نہ کچھ بول رہی تھی اور نہ ہی کسی کو کمرہ میں آنے دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
یہ سب دیکھ کر شکیل سومرو انتقام کی آگ میں پل پل جل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
تم نے کیوں بتایا تم میری دوست ہو یا ان کی ؟
حنا کو تو جیسے آگ ہی لگ گئی تھی مائرہ کی حرکت پر ۔۔۔۔۔
“اپنی صفائی اپنے پاس رکھو ۔۔۔۔ “
وہ ہینڈ فری کان سے لگائے ہوئے باتوں مین مصروف دستک کی آواز پر مڑے بنا آجاو کہہ کر دوبارہ آئینہ کہ سامنے کھڑے اپنے بال سلجھانے لگی ۔۔۔۔۔۔
تم آج ہی ڈیسائیڈ کرلو میرے ساتھ ہو یا سر کہ ساتھ ؟؟
وہ جو اس کی ابشار کی طرح بہتی زلفوں میں کھو سا گیا تھا یک دم ہی چونک گیا ۔۔۔۔
“محترمہ زرا یہاں بھی نظر کرم کرلیں ۔۔۔۔”
مکرم نے سنجیدہ آواز میں اسے اپنی جانب متوجہ کیا جس پر وہ چیخ مار کر مڑی اور نتیجتاً موبائل گر کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔
“ہیں یہ یہاں کیسے کہیں ان کا بھوت تو نہیں آگیا ۔۔۔۔ “
وہ آنکھیں بڑی کر کہ بڑبڑانے لگی ۔۔۔ جب کہ مکرم کو اس کی اسٹوپڈ شکل دیکھ کر ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔
ہائے یہ تو پکا بھوت ہے سر تو کبھی ہنستے ہی نہیں تھے۔۔۔
بس یہ سوچ کر اس نے بیڈ پر چھلانگ لگائی اور کمبل اٹھاکر اپنے گرد لپیٹ لیا۔۔۔۔
وہ اس کی اس بچکانہ حرکت پر ہونقوں کی طرح دیکھے گیا۔۔۔۔۔
امی بچاو بھوت بھوت !!!!
اس کی چیخیں شروع ہوئی ہی تھیں کہ مکرم نے لمحہ کہ ہزارویں حصہ میں جاکر اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کی آواز دبائی۔۔۔۔
” میں ہاتھ ہٹا رہا ہوں اگر چیخی تو تھپڑ لگاوں گا کھینچ کر ۔۔۔۔”
وہ اسے انکھیں دکھا کر اپنا ہاتھ اس کہ منہ سے ہٹایا ۔۔۔۔۔ جبکہ وہ تو اتنی قربت پر سکتہ میں آگئی۔۔۔۔۔
پھر اٹھ کر کمرہ کا دروازہ لوک کیا اور واپس چلتا ہوا اس کی جانب آیا ۔۔۔
“تم سچ میں دماغ سے فارغ ہو حد ہوتی ہے بے وقوفی کی ۔۔۔۔۔ “
اس کی چیخ پر پہلے والی نرمی غصہ میں بدل چکی تھی ۔۔۔
آپ یہاں کیسے آسکتے ہیں ؟؟
“پاوں سے اللہ نے مجھے بھی دو ہی پاوں دیئے ہیں۔۔۔۔ “
مکرم کا دل چاہا اپنا ماتھا پیٹ لے ۔۔۔۔۔۔۔۔
“اپ تو تو لاہور میں تھے تو “
“اب انسانوں کی طرح بیٹھ بھی جاو یا یوں ہی کھڑے رہو گی ۔۔۔”
وہ اسے اسٹیچو بنے دیکھ کر بولا جس پر وہ دھم سے بیٹھی ۔۔۔۔۔۔۔
اب بولو کیوں پریشان کررہی ہو سب کو ؟؟
معصوم سے چہرہ پر کالی لٹیں پہرہ دے رہیں تھیں ۔۔۔۔ بڑی بڑی پلکوں کبھی اٹھتی اور کبھی گرتی ۔۔ سیاہ انکھوں میں اب بھی حیرت رقم تھی ۔۔۔۔۔۔
اس کا دل چاہا کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگالے اور مان لے اس کی ہر بات ۔۔۔۔۔ کیوں کہ پہلو میں چھپا جو دل تھا وہ تو اسے کیلئے ہی دھڑکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاہ کر بھی آواز میں سختی نہ سمو سکا۔۔۔۔
“اور جو سب نے مل کر مجھ سے ضد لگائی ہوئی ہے وہ نظر نہیں آتی آپ کو جس کا دل چاہتا ہئے وہ ہی سنانے چلا آتا ہے اور اب آپ بھی ۔۔۔۔ “
وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگی ۔۔۔۔۔
“تمھیں پتا ہے کل لاسٹ ڈیٹ ہے فارم سبمٹ کروانے کی اور محترمہ یہاں آرام سے بیٹھی ہوئی ہیں ۔۔۔۔ “
“ہاں تو جب پڑھنا ہی نہیں ہے تو فارم کیوں ضائع کروں ۔۔۔۔”
ہنی دو بدو ہوکر بولی ۔۔۔۔
مطلب تم ابھی تک اپنی ضد پر قائم ہو ؟؟
“ہاں بکلل ۔۔۔۔”
ہنی نے نڈر انداز میں اعتماد کہ ساتھ کہا :
“ٹھیک ہے چلو پھر ۔۔۔”
وہ کہتے ساتھ ہی اس کا ہاتھ کھینچ کر بیڈ سے اتارنے لگا
لیکن کہاں ؟؟
” رکیں میں ڈوپٹہ اور چپل تو پہن لوں ۔۔۔۔ “
وہ جلدی سے بولی تھی ۔۔۔۔
مکرم نے پلٹ کر اس کہ سراپہ کو دیکھا ۔۔۔۔ ہاتھ چھوٹتے ہی وہ الماری سے اپنا ڈوپٹہ نکالنے لگی ۔۔۔ پاوں میں چپل آڑسی اور وہ جو انتظار میں کھڑا تھا دوبارہ اس کی نازک کلائی تھامی اور اپنے ساتھ لے جانے لگا۔ ۔۔
“انکل آپ کی بیٹی کا شوق پورا کررہا ہوں آپ اس کو رخصتی ہی سمجھ لیں ۔۔۔”
وہ حنا کو سنانے کیلئے زور سے بولا اور اس کہ احتجاج کرنے کا نوٹس لئے بغیر گاڑی میں لا بٹھایا۔۔۔۔
“ڈرائیور اور تم خود ہی آجانا ۔۔۔۔ “
وہ حیران پریشان ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر گاڑی سڑک کی طرف لے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں ؟؟
ہنی نے دکھ سے اس کہ سپاٹ چہرہ کو دیکھا جو تیز رفتار سے گاڑی بھگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہنی میں کوئی آواز نہ سنوں ورنہ یہیں سے اٹھا کر باہر پھینک دوں گا ۔۔۔۔۔ “
وہ منہ بنا کر دروازہ کی طرف رخ پھیر گئی۔۔۔۔۔۔۔
ایک گھنٹہ تک جب ہنی کی آواز نہ نکلی تو مکرم نے اس کا کندھا ہلایا۔۔۔۔
وہ ہنوز اسی پوزیشن میں تھی ۔۔۔ جسکا واضح مطلب تھا کہ وہ سو چکی ہے ۔۔۔۔۔۔
“یعنی کوئی دکھ ہی نہیں تھا میڈم کو ۔۔۔۔ “
“اففف نجانے کیا سوچتی رہتی ہے یہ ۔۔۔ “
وہ گاڑی سائیڈ پر روک کر اس کا سویا ہوا وجود بیک سے لگایا اور بیلٹ باندھ کر آرام دہ کیا ۔۔۔۔۔ تاکہ بریک لگانے پر ڈش بورڈ سے نہ ٹکرا جائے ۔۔۔۔۔۔
بال اسی طرح کندھے پہ بکھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
دل نے اسے گستاخی پر اکسایا جس کو ڈپٹ کر وہ پھر سے گاڑی اسٹارٹ کردی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~`~`~~~~~~~~~~~`~~~~~~~~~~
آپ نے مکرم کو روکا کیوں نہیں ؟؟؟
“بھئی اس نے تو آپ کی بیٹی کا شوق پورا کیا ہے ۔۔۔ دیکھا نہیں تھا کیسا بائکاٹ کیا ہوا تھا ہم سے ہماری ہی لاڈلی نے ۔۔۔۔۔ “
“لیکن اس طرح بغیر رخصتی کہ یہ صحیح نہیں ہے ۔۔۔۔”
“مکرم اس کا شوہر ہے اور وہ کہہ گیا ہے اسے ہی رخصتی سمجھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
لیکن ہم رشتے داروں سے کیا کہیں گے ۔؟؟؟
“ان کو بتانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ ہم انھیں ولیمہ پر لے چلیں گے ساتھ ۔۔۔۔ خدا کا واسطہ آپ بھی سوجائیں اور مجھے بھی سونے دیں ۔۔۔ وہ کسی غیر کے ساتھ نہیں آپنے شوہر کہ ساتھ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
جب کہ نصرین ابھی تک مطمئن نہ ہوسکیں ۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
“ہنی اٹھو ۔۔۔۔ “
اٹھارہ گھنٹے کہ اس سفر میں محترمہ کی چوتھی دفعہ کی نیند تھی ۔۔۔۔۔۔ جب کہ وہ بری طرح تھک چکا تھا ۔۔۔۔ اس کا ہنی کو بانہوں میں بھرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔
اس دفعہ زور سے کندھا ہلایا جس پر وہ اٹھی۔۔۔۔۔
“چلو اترو۔۔۔۔
اس نے مکرم کو دیکھا پھر ادھر ادھر گردن موڑ کر دیکھا۔۔۔
مکرم سرد سانس خارج کرتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی سے اتارا۔۔۔۔۔
دوسرے دن کی شام بھی آہستہ آہستہ رات میں بدل رہی تھی ۔۔۔ ۔۔۔
جب وہ لوگ پیلس پہنچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جس حلیے میں اسے لایا تھا کبھی وہ اس طرح باہر نہیں نکلی تھی ۔۔۔۔۔
مکرم نے کمرہ میں لاکر اس کا ہاتھ چھوڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ورشہ اپنے کمرہ میں جبکہ خرم کام کی غرض سے نکلا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صوفہ پہ بیٹھا جوتے اتارنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ وہیں کھڑی یہی سوچ رہی تھی کہ کیا کرے کیا نہ کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ انٹر کوم پر کھانا لانے کی اجازت دے کر واش روم میں گھس گیا :
“اکڑ تو دیکھو زرا ایک تو خود ہی لے کر آئیں ہیں اوپر سے نخرے بھی دکھا رہے ہیں ۔۔۔۔”
تبھی ملازم کھانے کی ٹرالی گھسیٹے چلا آیا ۔۔۔۔۔۔
بی بی جی آپ یہاں کب آئیں ؟
منصور نے حیرانگی سے پوچھا :
ابھی آئی ہوں آپ کیسے ہو ۔؟؟
“میں ٹھیک ہوں بٹیا ۔۔۔۔ “
اچھا آپ کو ڈانٹا تو نہیں تھا سر نے ؟
“نہیں بٹیا ۔۔ بھلا مجھے کیوں ڈانٹے گے ۔۔۔۔ “
آپ کی فیملی میں کون کون ہے ؟؟
اس نے سوچا کسی نہ کسی سے تو بندہ بات ہی کرلے ۔۔۔۔۔۔
“میری فیملی میں ایک دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔۔۔ “
وہ یہاں نہیں رہتی کیا ؟
“نہیں گاوں میں رہتی ہے ۔۔۔۔ “
اچھا اچھا ابھی وہ کچھ اور ہی پوچھتی کہ منصور مکرم کو دیکھ کر منٹوں میں غائب ہوا جبکہ اس کہ منہ پہ تالا لگ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی ؟؟
مکرم نے اسے تنبیہہ انداز میں کہا :
کیا ؟
“آئندہ میں تمھیں ملازم سے فری ہوتے نہ دیکھوں ۔۔۔۔۔ “
“کیوں کیا وہ انسان نہیں ہے جو میں ان سے بات نہیں کرسکتی۔۔۔۔ یا وہ صرف آپ کی خدمت کیلئے ہی پیدا ہوئے ہیں ۔۔۔۔ “
وہ اس کہ رد کئے جانے کی بھڑاس نکال کر واش روم میں گم ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جاری ہے :-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *