Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14
No Download Link
642.3K
20
Rate this Novel
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 (Watching)Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14
اس خبر نے میڈیا کو جگا کہ رکھ دیا ۔۔۔۔۔ ہر چینل پر وہ ہی بیان ٹیلی کاسٹ کیا جارہا تھا ۔۔۔ کچھ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملہ پر سنگینی سے سوچ رہے تھے اور کچھ مرچ مسالہ لگا کر ایک کی دس دس لگارہے تھے ۔۔۔۔۔ ۔
خرم کہ ساتھ میر بھی ساری رات خوار ہوا تھا نظیر صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے فلحال اسے خاموش رہنے کا کہا :
“بھیو آپ اب جائیں بھابھی کب سے آپ کا ویٹ کررہیں ہیں اب تو اندھیرا بھی چھٹنے لگا ہے ۔۔۔۔”
“تم بھی آرام کرو جاکر ساری رات کے جاگے ہوئے ہو ۔۔۔”
خرم اسے بول کر خود اپنے کمرہ کی طرف بڑھ گیا۔۔ جہاں وہ پری پیکر نیند کی وادی میں اتری ہوئئ تھی۔۔۔۔
خرم نے اسے رات والے لباس میں دیکھا تو بھولی بسری مسکراہٹ کھل اٹھئ۔۔۔ کچھ دیر پہلے درد سے سر پھٹا جارہا تھا اور اب اسے اپنے اعصاب ڈھیلے پڑتے محسوس ہوئے ۔۔وہ کھسوں سمیت کارپٹ پہ چلتا چلا آیا ۔۔
قریب آنے پر یک دم لب بھینچ گئے۔۔۔۔ تھکیہ پر دہری سفید کلائی پہ جگہ جگہ خون کے دھبے اپنا رنگ چھوڑ چکے تھے ۔۔۔۔۔
خرم نے اس کے چہرہ کو دیکھا جہاں آنسو کی لکیر بنی ہوئی تھی البتہ پلکیں خشک تھیں ۔۔۔۔۔
وہ ڈرار میں سے فرسٹ ایڈ باکس نکال لایا اور اس میں سے کوٹن ڈیٹول میں بھگو کر اس کہ زخم صاف کرنے لگا۔۔۔۔۔۔:
نیند زیادہ گہری نہیں تھی تبھی جلن کے احساس سے اس کی انکھیں کھل گئیں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھی اور اپنا ہاتھ کھنچ لیا جو خرم کی نرم گرفت میں تھا۔۔۔
خرم نے اس کی جانب دیکھا جہاں نیند ٹوٹنے کا خمار سرخی لینے لگا۔۔۔۔۔
“وری مجھے آپ سے اس بے وقوفی کی قطعی امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔”
خرم نے اس کی حرکت کو نظر انداز کیا:
“مجھے بھی آپ سے اس طرح کہ کسی افیئر کی امید نہیں تھئ مسٹر خرم ۔ “
ورشہ نے ایک ایک لفظ کو چبا چبا کے ادا کیا۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو میرے ساتھ رہے کتنا عرصہ ہوا ہے جو آپ اس طرح کی بات کررہیں ہیں ؟؟؟
خرم جتنا آپنے آپ کو نارمل کرنے کی کوشش کررہا تھا اتنا ہی ورشہ اس کے غصہ کو ہوا دینے میں لگی تھی۔۔ ۔۔۔۔
ورشہ خرم کی اس بات پر چپ ہوگئ۔ ۔۔۔۔ بات تو سچ ہی ہے ۔۔۔۔۔ آخر وہ کس طرح یقین کہ ساتھ اس کو مورد الزام ٹہرارہئ ہے۔۔ ۔ ۔۔۔
تو کیا آپ کی کبھی نگہت سے اس موضوع پر بات ہی نہیں ہوئئ؟؟۔
ورشہ نے رک کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“بات ہونے میں اور انولو ہونے میں بہت فرق ہے وری آپ تو سیاست کے الف سے بھی واقف نہیں ہیں ۔۔۔ لہذا آپ ناراضگی ختم کریں۔۔۔۔۔ “
خرم نے یہ کہہ کر دوبارہ اس کی کلائی تھامی اور متاثرہ حصہ پر روئی کی مدد سے ڈیٹول لگانے لگا۔۔۔۔۔
اب کہ ورشہ نے ہاتھ نہیں کھینچا تھا ۔۔۔
وہ ایک لڑکی بھی تو ہے کیا کوئی لڑکی خود اس طرح سے اپنی عزت دنیا کہ سامنے پامال کرے گی ؟؟؟۔
“وہ نگہت ہے وری اس کیلیے عزت وغیرت کچھ معنی نہیں رکھتی اسے صرف اپنی ضد عزیز ہے وہ اپنی ضد پوری کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔”
خرم نے نرمی سے اس کی انکھوں میں دیکھ کر کہا :
“آپ اس سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں رکھیں گی اگر وہ ذرائع استعمال کرکے آپ تک پہنچ بھی گئئ تو آپ مجھے بتائیں گی ۔۔۔۔ “
ورشہ نے خاموشی سے اسے دیکھا:
بد گمانی ایک دفعہ اس کہ دل میں جگہ بنا چکی تھئ اس لئے وہ ابھئ بھی وسوں اور اوہام کی زد میں تھئ ۔۔۔۔۔۔۔
“آپ میر خرم چوہدری کی شریک حیات ہیں ۔۔۔ نگہت جیسے لوگوں کو اپ تک پہنچنے نہیں دوں گا جب تک میری زندگی ہے ۔۔۔۔۔ “
“میں ہر گز یہ برداشت نہیں کروں گا کہ وہ مجھے شکست دینے کیلئے میری متاع حیات کو مہرہ بنائے۔۔۔۔۔ “
خرم کی بات پر ورشہ نے ندامت سے سر جھکالیا۔۔۔
“اس لئے آپ جہاں بھی جائیں گی گارڈذ کو ساتھ رکھیں گی دوسرا میرے علم میں لائیں گی ۔۔۔۔ موبائل آپ کا ہر وقت۔، ہرلمحہ چارج اور آن رہنا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔ “
خرم نے محبت سے اسے آنے والے حالات کے بارے میں اگاہ کیا :
ورشہ نے سر ہلاکر اس کی بات پر عمل کرنے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔
“اور آئندہ اس طرح کی جذباتی حرکت نہیں کریئے گا ۔۔ اپنے جسم کو تکلیف دینے کہ ساتھ آپ میری روح کو مجروح کریں گی ۔۔۔۔ “
خرم نے بمشکل یہ الفاظ دہرائے تھے ۔۔۔ وہ اس کہ لفظوں میں چھپا درد واضح محسوس کرگئ۔۔۔
“سوری ۔۔۔۔ “
نمکین پانی کا قطرہ انکھ سے نکل کر رخسار پر بہنے لگا جسے خرم نے محبت سے انگلی کی پوروں پر چنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~“~`~“~~•~~~~~~~~~~~~~
” چوہدری خرم کی جانب سے ابھی تک کوئی ٹوئٹ یا بیان سامنے نہیں آیا ہے اس بات کو کئی گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن خاموشی ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیرت انگیز بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ وہ اپنے رات کے ولیمہ سیرمنی کیلئے تیاریاں کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ “
یہ آپ کیا لگا کر بیٹھ گئیں ؟؟
“بھئی تیاری کریں چلنا بھی ہے ۔۔۔ “
نظیر صاحب نے کہتے ساتھ ہی ٹی وی آف کیا ۔۔۔۔۔
“میرا تو سوچ سوچ کر دماغ ماووف ہورہا ہے اور اپ کتنے سکون سے چلنے کا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔ “
نصرین بیگم نے نارضگی سے کہا :
بیگم جب میں نے آپ کو ساری بات واضح انداز میں بتادی ہے تو اب واویلا کیوں ؟؟؟
“مجھے تو آپ قائل کرلیں گے لیکن ورشہ!!! کیا وہ اس طرح کی باتیں برداشت کرپائے گی ۔۔۔ ابھی تو انھیں ساتھ گزارے بھی زیادہ وقت نہیں گزرا۔۔۔۔۔۔ عورت اگر آدھی زندگی بھی شوہر کہ ساتھ گزار لے پھر بھی وہموں کا شکار رہتی ہے ۔۔۔۔ کہنے کو وہ کافی دن ایک ساتھ رہتے ہیں ۔۔۔ لیکن پھر بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پاتے۔۔۔ اور جب ہمیں ایک دوسرے کی سمجھ آنے لگتی ہے تب وقت ہی گزرجاتا ہے ۔۔۔ “
نصرین کی بات پر وہ انھیں گہری نظروں سے دیکھنے لگے۔۔۔۔۔۔
“دیکھیں نصرین میں نے خرم کہ ساتھ ایک وقت گزارہ ہے وہ اپنے رشتوں کو جس طرح سنبھال کر رکھتا ہے شاید ہی کوئی ایسا مرد میری نظر سے گزرا ہو ۔۔۔۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ دوسرا واجد چوہدری ہے تو اس بات میں کوئی مضائحقہ نہیں ۔۔۔۔۔ “
“میں جانتا ہوں ہماری ورشہ اندر سے بہت حساس ہے لیکن خرم اسے اپنی محبت سے سمجھا دے گا ۔۔۔ نہیں تو ہم جارہیں ہیں وہاں جو بھی کچھ ہوا ہوگا پتا چل جائے گا۔۔۔۔۔ “
“آپ ملازم سے کہہ کر سوٹ کیس گاڑی میں رکھوائیں ۔۔۔ اور ہنی سے کہیں کہ مائرہ اور اس کے گھر والوں کو بھی بلوالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ نصرین سے کہتے ہوئے چائے کا کہہ کر لان کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
میر ناشتہ کی میز پر آیا تو وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔ وہ خاموشی سے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ موبائل استعمال کرنے کہ ساتھ ساتھ وہ کھا بھی رہا تھا ۔۔۔ تبھی قدموں کی آواز پر گردن گھما کر دیکھا تو خرم کہ ہم قدم ورشہ بھی ڈائنگ ہال میں داخل ہوئی ۔۔۔۔
میر ان دونوں کو۔ دیکھ کر ناشتہ چھوڑ کر احتراماً کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم ۔۔
دونوں نے سلام کا جواب بیک وقت دیا ان کہ بیٹھتے ہی وہ بھی اپنی چھوڑی ہوئی کرسی پر براجمان ہوگیا :
“ویلکم بھابھی ۔۔۔”
مکرم نے ورشہ کی جانب دیکھ کر کہا جس پر وہ مسکرا کر شکریہ ادا کرنے لگی۔۔۔۔
ابھی ان لوگوں نے ناشتہ ہی شروع کیا تھا کہ ملازم نے اکر مہمانوں کی آمد کی اطلاع دی ۔۔۔۔۔۔
مائرہ اور ورشہ دونوں لاونج میں آئیں ان کہ ساتھ ملازم انواع و اقسام سے لدا پھندا ان کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔۔۔۔ جہاں میر ، خرم ، اور ورشہ ان کا انتظار کرنے لگے ۔۔
ہنی فوراً سے بیشتر جاکر وری کہ گلے لگی ۔۔۔۔ پھر مائرہ ملی ۔۔۔۔ ملازم نے ان دونوں کے بیٹھنے کیلئے کرسیاں کھسکائیں ۔۔۔ جس پر ہنی نے شکریہ ادا کیا ۔۔۔۔۔۔
نظیر صاحب اور انٹی کہاں ہیں ؟؟
ورشہ استفسار کرتی اس سے پہلے خرم پوچھ اٹھا۔ ۔۔۔۔۔۔
مائرہ ابھی تک پیلس کی آرائش میں کھوئئ ہوئئ تھی۔۔۔۔۔
“وہ لوگ فارم ہاوس میں رکے ہیں بابا کا کہنا ہے کہ ڈاریکٹ ولیمہ میں ہئ شامل ہوں گے ۔۔۔۔”
“ہمممم “
“چلیں کھانا شروع کریں ۔۔۔۔۔ “
مکرم نے کہتے ساتھ ہی بریڈ کی پلیٹ ورشہ کو تھمائی۔۔۔۔۔۔
ناشتہ کہ بعد ورشہ ان سب کو پیلس دکھانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر یہ لوگ ٹہرے پھر ڈرائیور لینے آیا تو چلے گئے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
~~~~~~~`~~~~~~~~~~~~~~~
ڈیڈ کہاں جارہے ہیں ؟؟
شکیل سوٹ پینٹ میں نک سک سا تیار کھڑا تھا ۔۔۔ البتہ باہر کو نکلا پیٹ اس کی اسمارٹ نیس میں رکاوٹ بن رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
خرم کہ ولیمہ پر کیوں چلنا ہے ؟؟
“واٹ یو میںن ڈیڈ آپ اپنی بیٹی کو سپورٹ کرنے کہ بجائے جھوٹا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں ۔۔۔۔”
ہاو ڈو دس ڈیڈ ؟؟؟
وہ غصہ سے چیخی ۔۔۔۔
تم نے چاند چڑھانے سے پہلے مجھ سے مشورہ کیا تھا؟
شکیل نے ابرو اچکا کر اسے لاجواب کرنا چاہا جو کہ ناممکنات میں سے تھا ۔ ۔۔۔۔۔
“میرا خیال ہے ہم پلین ڈسکس کرچکے تھے ۔۔۔۔ ‘
نگہت نے اسے پچھلے دنوں ہونے والئ پلینگ کا یاد دلایا۔۔۔۔
تو تم نے اس دن کیلئے رکھی ہوئی تھی اپنی سو کالڈ پلینگ؟؟؟؟
“فوولش گرل اندازہ کرسکتی ہو تم کہ تم بنا بنایا کھیل بگاڑ چکی ہو ۔۔۔۔ “
تو کیا آپ دوبارہ گول سیٹ کرنے جارہے ہیں اس کہ ولیمہ پر ؟؟؟؟؟
“شٹ آپ نگی کنٹرول یور ٹنگ ۔۔۔۔ “
“وہاں تمام لوگ موجود ہوں گے میرا وہاں نہ ہونا مجھے کمزور ثابت کرے گا ۔۔۔۔ اور شکیل سومرو دنیا کہ سامنے کبھی کمزور نہیں بنے گا ۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ نگہت پر قہر بھری نگاہ ڈال کر پورچ کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ پیچھے کھڑی غصہ سے بیچ و تاب کھانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
محفل اپنے عروج پر تھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کپلز ادھر سے ادھر پھررہے تھے ۔۔۔۔ ویٹرز سافٹ ڈرنک سرو کررہے تھے سریلے انداز میں بجتا دہیمہ میوزک طبیعیت میں خوش کن اثر چھوڑ رہا تھا ۔۔۔۔ کچھ کوفی سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم آف وائٹ کلر کی پینٹ شرٹ میں ملبوس اس کے برعکس ورشہ نے بھی اسی کہ کنٹراس میں گرے اور سرمئ رنگ کے گھیر دار فراک زیب تن کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں کا فوٹو سیشن چل رہا تھا اسی لئے سب کی نظریں اسٹیج پر ہی مرکوز تھیں ۔۔۔۔
وہ انکھ بچا کر اس کی جانب چلا آیا بالوں کو ہاتھ سے سیٹ کرکہ وہ اب ان دونوں سے گویا ہوا ۔۔۔۔
ایسکیوز می ؟؟؟
ہنی نے رخ پھیر کر دیکھا تو سامنے کھڑے شخص کو پل بھر میں پہچان گئی ۔۔۔۔۔۔۔
“جی فرمائیے ۔۔ “
ہنی نے لٹھ مار انداز میں کہا :
آپ مجھے پہچان تو گئیں ہوں گی ؟؟؟
“جی نہیں میری یاداشت خاصی کمزور ہے پہچان نے میں تاخیر سے کام لیتی ہوں ۔۔۔۔”
ہنی نے ٹھنڈے ٹھاڑ لہجے میں طنز کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوہ اس کا مطلب ہے مجھے اپنا تعارف کروانا پڑے گا کیوں مس حنا زئی ۔۔۔۔۔ “
ہنی نے ٹھٹک کر اسے دیکھا ۔۔۔۔ انکھوں کہ تاثرات دیکھ کر ہنی کو خطرے کا الارم بجتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو کب سے ان دونوں کی گفتگو سن رہا تھا برداشت نہیں کرپایا اور اس شخص کہ سامنے اکھڑا ہوا ۔۔۔۔
ایسا کرنے سے ہنی اس کہ پیچھے چھپ سی گئی۔۔۔۔۔۔۔
“جینٹل مین خوش آمدید ڈنر لگ چکا آپ ٹیبل پر تشریف رکھیئے۔۔۔۔۔ “
مکرم نے سرد تاثرات کہ ساتھ اس لڑکے کو کہا :
وہ مکرم کو دیکھ کر گڑبڑا گیا لیکن چہرہ نارمل رکھا ۔۔۔۔
اسمائل لوک دے کر اپنی میز کی جانب چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
مکرم ان دونوں کو ورشہ کہ پاس بھیج کر پھر سے ویٹرز کی جانب چل دیا ۔۔۔۔۔
خرم ورشہ اور نظیر صاحب ، نصرین کھانا کھانے میں مشغول ہوگئے ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
مہمان آہستہ آہستہ رخصت ہونے لگے تو وہ لوگ بھی گھروں کی طرف چل دیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ کے گھر والے ڈاریکٹ ہئ ریلوے اسٹیشن روانہ ہوچکے تھے ۔۔۔۔ جبکہ ہنی نے مائرہ کو روک لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“نظیر صاحب آپ فارم ہاوس کی جگہ پیلس میں اکر رہیں یہ دو دن تو مجھے خوشی ہوگی ۔۔۔۔ “
پھر بہت اصرار پر وہ لوگ میر پیلس میں ہئ ٹہرے ۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~•~~•~~~~~~~~~~~~
یہ لوگ لاونج میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خوش گپوں میں لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
“سر میرو بابا نے کھانا نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔”
خانسامہ ایجیڈ ہوتے ہوئے بھی کھانا پکانے کہ معاملے میں طاق تھے ۔۔۔۔ وہ سالوں سے اسی پیلس میں نوکری کررہے تھے ۔۔۔۔۔۔
“آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا چاچا میں بلوا لیتا ہوں۔۔۔۔”
خرم نے کہتے ساتھ ہی ملازم کو حکم دیا۔۔۔۔
مائرہ اور ہنی دونوں کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنی یار وہ لفنگا سر کے فیملی ٹرمز میں سے ہے تمھیں پہلے پتا تھی یہ بات ؟؟؟
“نہیں مجھے بھی اندازہ نہیں تھا ہوسکتا ہے اس کا باپ امیر پارٹی ہو ۔۔۔ خرم بھائی کا کاروباری دوست بھی تو ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔ “
“ہاں یہ بھی ہے ۔۔۔۔ “
“ہنی یار مجھے ہلکی ہلکی بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔”
مائرہ نے بے چارگی سے کہا :
“لگ تو مجھے بھی رہئ ہے ۔۔۔۔ “
“پھر انتظار کس بات کا ہے چلو ۔۔۔۔۔ “
یار یہیں منگوالو نہ ؟؟
ہوٹل میں بیٹھی ہو یہاں منگوالو!!!
ہنی نے منہ کہ زاویہ تیڑھے کرتے ہوئے کہا اور کمرہ سے باہر نکل گئی ۔۔۔
سامنے اسے ملازم نظر آیا تو اسے پکارا ۔۔۔۔
“جی بی بی ۔۔۔ “
یہ کھانا آپ کس کیلئے لے کر جارہے ہیں ؟؟
ہنی کی بات پر ملازم نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا :
نہیں میرا مطلب ہے کوئی مہمان ٹہرا ہے اس روم میں ؟؟
ہنی نے گڑبڑا کر واضح کیا:
“نہ نہیں بی بی جی یہ تو اپنے میرو بابا کا کمرہ ہے اور انہوں نے رات کا کھانہ نہیں کھایا تو بڑے صاحب نے ان کیلئے بھجوایا ہے ۔۔۔۔ “
واہ بھئی کیا ٹھاٹ ہیں نواب صاحب کے بڑی سے گاڑی اگے پیچھے نوکر چاکر ۔۔۔۔
وہ منہ ہی منہ میں منمنانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جی میں جاوں ؟؟
“نہیں “
“میرا مطلب ہے ہمیں بھی بھوک لگی ہے اگر آپ ہمارے لئے بھی ۔۔۔”
اسے اس طرح کسی کہ گھر میں کھانے کا کہنا عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔ بہن کا سسرال تھا بھی تو وہ بھی نئی ہی تھی۔۔۔۔۔
اتنے میں میر کمرہ سے نکلا تو دروازہ کھلنے کی آواز پر ان دونوں نے گردن موڑ کر دیکھا :
میر نے سوالیہ نظروں سے ملازم کو دیکھا :
وہ شاید ابھی چینج کرکے آیا تھا بال گیلے تھے لیکن سلیقے سے جمے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
“وہ یہ بڑے صاحب نے آپ کے لئے بھیجا ہے ۔۔۔ “
ملازم نے جلدی سے آنے کی۔ وجہ دریافت کی جبکہ ہنی سوچ رہی تھی بھاگ جائے یا یہیں کھڑی رہے ۔۔۔۔۔۔
“حنا آپ کو کچھ چاہیئے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اب کہ ہنی سے براہ راست سوال ہوا۔۔۔۔
“نہ نہ نہیں سر تھینک۔۔۔۔”
“میرو بابا میڈم کو بھوک لگ رہی تھی میں ان کیلئے بھی کھانا لانے جارہا ہوں ۔۔۔۔ یہ شاید گھبراہٹ کی وجہ سے بول نہیں پارہیں ۔۔۔۔ “
وہ ملازم شاید زیادہ باتیں کرنے والا تھا ۔۔۔۔۔ ہنی نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا ۔۔۔۔
“اسٹوپڈ بے وقوف ۔۔۔۔۔ “
دل ہی دل میں صلواتیں نواز رہی تھی ۔۔۔ ملازم ہنی کہ تاثرات دیکھ کر وہاں سے بھاگ گیا ۔۔۔۔۔۔۔
“حنا آپ میرے ساتھ جوائن کر سکتیں ہیں اگر آپ کو کوئی آیشو نہ ہو ۔۔۔۔ “
میر نے مسکراہٹ دبا کر اسے سر تا پیر گہری نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
اس نے ابھی تک ڈریس چینج نہیں کیا تھا البتہ بالوں کا اونچا بن بنا ہوا تھا اور جیولری ساری اتاری جا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“نہیں سر وہ بھائی تھوڑے پاگل ہیں میں چلتی ہوں ۔۔۔”
“وہ کہہ کر رکی نہیں اور فوراً کمرہ میں گم ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ “
کیا ہوا تم تو کھانا لینے گئیں تھیں نہ ؟؟
مائرہ نے اس کو لمبا لمبا سانس لیتا دیکھا تو پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔
“خود لے آو جاکر پہلے ہی عزت کچی کردی اس جاہل نے ۔۔۔۔ “
وہ کہہ کر چوکڑی مار کر بیڈ پر جا بیٹھی ۔۔۔۔
کیا بولے جارہی ہو ؟؟؟
مائرہ نے اس کی سرپھری باتوں پر کہا :
تبھی اجازت لے کر دوسرا ملازم کھانے کی ٹرے پکڑے اندر چلا آیا ۔۔۔
بھائئ ایک بات تو بتائیں ؟
جی بی بی جی ؟؟
یہاں کتنے ملازم ہیں ؟
“پانچ ۔۔۔۔ “
“گارڈز اور گیٹ کیپر کو ہٹا کر ۔۔۔”
اچھا ویسے ان کو ہٹا کر کیوں کیا ان کو تنخواہ کم ملتی ہے ؟؟
“افففف یہ لڑکئ ۔۔۔”
مائرہ اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
“نہیں نہیں بی جی وہ تو کام کہ حساب سے دوگنی ہی ملتی ہے ۔۔۔”
اوہ اچھا اچھا آپ سارے یہیں رہتے ہیں ؟؟
“نہیں ہم گاوں میں رہتے ہیں بی بی جی ہفتہ میں ملنے جاتے ہیں اپنے بال بچوں”
آبھی وہ کچھ اور ہی پوچھتی کہ مائرہ نے ملازم کا شکریہ ادا کیا :
“بی بی جی آپ بہت اچھی ہیں ۔۔۔”
اس منصور نے تو اپ کہ بارے میں غلط ہی کہا تھا۔۔۔
کس نے ؟؟
ہنی فوراً چمک کر بولی ۔۔۔
“اپ جائیں ۔۔۔”
مائرہ نے اس کی جان کی خلاصی کی جس پر وہ جلدی سے کمرہ سے نکل گیا ۔۔۔
“ہنی یار کبھی سمجداری کا مظاہرہ کردیا کرو ۔۔۔۔۔ یہ ملازم ہیں تمہارے گھر کہ مہمان نہیں جن سے تم حسب نسب پوچھنے بیٹھ جاو۔۔۔۔”
“اچھا لیکچر بعد میں پہلے کھانا کھاو۔۔۔”
ہنی نے لاپرواہ انداز میں کہا اور بریانی نکالنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“اب یہ تم نیچے رکھ کر آو گی ڈئیر مائرہ ۔۔۔”
کھانے سے فارغ ہوئی تو ہنی نے کہا :
ہنی کہ کہنے پر مائرہ نے اسے ایسے دیکھا جیسی اس نے انوکھی بات کردی ہو ۔۔۔۔
“اچھا دونوں ساتھ چلتے ہیں ۔۔”
وہ دونوں نیچے کچن میں آئیں تو وہی ملازم برتن دھورہا تھا۔۔۔
لاونج خالی تھا جس کا مطلب سب آرام کرنے کی غرض سے جاچکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منصور؟؟؟
ہنی نے نام پکارا جس پر وہ ملازم پلٹ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ مائرہ دروازہ پر ہی کھڑی تھی ۔۔۔ جب کہ ہنی خالی برتن اٹھائے اندر جاچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
“جی بی بی جی ۔۔۔۔”
آپ میرے بارے میں اپنے دوست سے کیا فرمارہے تھے زرا مجھے بھی بتائیں ؟؟؟
ہنی کہ اس قدر میٹھے انداز پر منصور گڑبڑا گیا۔۔۔
:وہ بی بی جی کچھ نہیں میں تو آپ کی تعریف کررہا تھا۔۔۔۔”
مائرہ نے دبے قدموں کی چاپ پر گردن موڑ کر دیکھا اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا :
“ہنی چلیں ۔۔۔”
گلے میں پھنسی آواز کو بمشکل نکال کر اس نے حنا کو۔ پکارا۔۔۔۔
جب کہ حنا تو منصور سے دو دو ہاتھ کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“اچھا وہی کلمات زرا میںرے سامنے بھی تو کہیں تاکہ میں آپ کا شکریہ ادا کرسکوں ۔۔۔۔۔”
ہنی نے اس کے صاف جھوٹ پر اسے تیوری سے گھورا ۔۔۔ جبکہ مائرہ میر کو کچن کی جانب آتا دیکھ ہنی پر لعنت بھیج کر وہاں سے کھسک گئی۔۔۔۔
“بی بی جی میں تو بس اتنا کہہ رہا تھا کہ آپ خوبصورت ہونے کہ ساتھ ساتھ خوش اخلاق ہیں ۔۔۔۔”
“اچھا !!! رکو پھر میں ان کو بلا کر پوچھ لیتی ہوں یاد رکھنا اس نے بتایا تو تم تو گئے ۔۔۔۔۔ “
میر سینے پہ ہاتھ باندھے اپنی ہنی کو لڑاکا طیارہ کو رول ادا کرتے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
“معافی چاہتا ہوں بی جی جی ہم کو معاف کردو آئندہ آپ کی برائی تو کیا اچھائی بھی نہیں کروں گا ۔۔۔ میرے ماں باپ کی توبہ ۔۔۔۔”
وہ مکرم کو دیکھ چکا تھا تبھی ہنی کہ سامنے ہاتھ جوڑنے لگا۔۔۔۔
“ارے رے پاگل ہو بلکل میں مذاق کررہی تھی ہاتھ کیوں جوڑ رہے ہو ۔۔۔۔ “
ہنی تو بس تفریح کررہی تھی ۔۔۔۔
اچھا ویسے آپ اتنی رات کو یہاں کیا کررہے ہیں ؟؟
وہ واپس اپنے کام کی جانب متوجہ ہوگیا:
بی بی جی آپ کو کچھ چاہیئے ؟؟
‘منصور آپ جاو اپنے کوارٹر میں ۔۔’
جہاں منصور اس کہ کہنے پر کچن سے نکلا تھا وہیں ہنی فق چہرہ لئے میر کی سائیڈ سے نکلنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کہاں جارہیں ہیں میڈم ؟؟؟
میر نے اسے جاتا دیکھا تو پوچھنے لگا ۔۔۔
“وہ۔ سر وہ میں اپنے کمرہ میں۔۔۔”
“پہلے بلیک کوفی تو بنا دیں ۔۔۔۔ “
ہنی نے حیرت سے میر کو دیکھا :
میں بناوں ؟؟؟
“نہیں یہاں جو جن اور بھوت کھڑے ہیں ان سے مخاطب ہوں میں۔۔۔”
میر نے استہزائیہ انداز میں کہا :
“اچھا بناتی ہوں۔۔۔۔ “
وہ منہ بنا کر کوفی کے اجزاء ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔۔
مڑ کر دیکھا تو میر واپس جارہا تھا۔۔۔
سر آپ کہاں ؟؟؟
“میں اپنے روم میں ۔۔۔”
نہیں نہیں سر میں اکیلی یہاں کیسے ؟؟؟
کیوں آپ یہاں اکیلی کیوں نہیں ؟؟
“ایک تو اتنا بڑا کچن ہے اوپر سے رات کا وقت ہے اگر جن بھوت آگیا تو ۔۔۔۔”
“آپ تو ان سب کی استاد ہیں بھلا آپ کو کیا ڈر ۔۔۔”
“ٹھیک ہے پھر خود بنا لیں ۔۔۔”
وہ ہاتھ جھاڑ کر جانے کیلئے مڑ گئی۔۔۔۔
حناااا!!!!
میر کی سنجیدہ پکار پر وہ منہ بنا کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں یہیں ہوں بنالیں۔۔۔۔ “
میر کہ کہنے پر وہ برنر جلانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے سر یہ گھر آئے مہمان سے کام کروانا مینرز کہ خلاف نہیں ہے ؟؟؟
وہ جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے زبان کا بھی استعمال کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“بلکل خلاف ہے لیکن آپ مہمان تو نہیں ہیں۔۔۔”
ہنی نے حیرت سے مڑ کر میر کو دیکھا :
~~~~~~~~~~~~~~~~•~~~~~`~
جاری ہے
