Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09

Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09

” دیکھیئے چوہدری صاحب میں گھما پھرا کر بات کرنے کی قائل نہیں ہوں۔۔۔ میں یہاں ایک اہم مقصد سے حاضر ہوئی ہوں “
خرم نے اس کی جانب بغور دیکھا ۔۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اج بھی میک اپ سے اٹا چہرہ جس پر بلا کی خود اعتمادی ۔۔۔۔۔۔
کہیئے کیا کہنا چاہتی ہیں ؟؟
خرم نے لہجہ کو نرم ہی رکھا۔۔۔۔۔۔۔
“میں چاہتی ہوں آپ مجھ سے کمٹنٹ کرلیں ۔۔۔”
کس قسم کی کمٹمنٹ ؟؟؟
براون کف لگے قمیض شلوار میں شان بے نیازی سے صوفہ پر ٹانگ پہ ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آف کورس میرج کمٹمنٹ بزنس کمٹمنٹ تو ہونے سے رہی۔۔۔”
خرم کو اس کی ازلی اعتمادی زہر لگی تھی۔۔۔
“مس آپ شاید پاکیزہ رشتے کو کمٹمنٹ سمجھتی ہیں ۔۔۔ حقیقت میں یہ زندگی بھر کی بات ہوتی ہے ۔۔۔۔ مجھے آپ سے اتنی میچیوریٹی کہ بعد بےوقوفانہ بات کی امید نہیں تھی ۔۔۔۔”
خرم ابھی اگے بولتا کہ نگہت نے بیچ میں بولنا شروع کردیا۔۔۔۔۔۔
“چوہدری صاحب یہاں بات محبت کی ہے اور جب بات محبت کی ہو تو وہاں کیسی میچیوریٹی اور ام میچیورٹی۔۔۔۔۔”
خرم نے اس کی بات پر سر جھٹکا ۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے آپ کا یوں بے دھڑک اپنا آپ پیش کرنا ناگوار گزرا ہے ۔۔۔۔ “
“جب تک میں اپنی بات مکمل نہ کرلوں آپ منہ بند ہی رکھیں گی ۔۔۔”
اس کے لب وا ہوتے دیکھ خرم نے ہاتھ اٹھا کر اسے سختی سے کہا:
“دوسری بات یہ کہ اگر آپ کو اس طرح کی کوئی بات کرنی تھی تو بہتر تھا کہ آپ اپنے والد کہ ذریعہ یہ بات مجھ تک پینچاتیں ۔۔۔۔ جب آپ نے اپنے والد کو اس قابل نہیں گردانا تو محض ایک لفظی محبت کو بنیاد بنا کر آپ کچھ دن میرے ساتھ اس بندھن میں گزار کر مجھے بھی اسی لسٹ میں شامل کردیں گی ۔۔۔۔۔۔ لہذا مجھے آپ کی آفر منظور نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ “
“آپ جاسکتیں ہیں ۔۔۔”
خرم نے دوسری طرف رخ پھیر دیا۔ ۔۔۔۔
نگہت کا چہرہ احساس توہین سے سرخ پڑھ گیا۔۔۔۔۔
وہ ایک نظر اس کے وجود پر ڈال کر ٹک ٹک کرتی وہاں سے۔ واک آوٹ کر گئ۔۔۔۔۔۔۔۔
انٹر کوم پر منظور کو آنے کا کہا:
جی سر ؟؟
وہ مودبانہ انداز میں پوچھنے لگا۔۔۔۔
“یہ میڈم میٹنگ کا کہیں تو انھیں صاف منع کردینا۔۔۔۔۔”
“بہتر سر بہتر ۔۔۔”
سر ڈاکٹر حمدانی کی کال آئی تھی وہ پوچھ رہے ہیں آپ کے چیک اپ کیلئے ڈاکٹر ورشہ کو بھیج دیں ؟؟
“وہی جو آپ کا ٹریٹمنٹ کررہیں تھیں۔۔۔۔۔”
اس نے پچھلا حوالہ دینا ضروری سمجھا۔۔۔ ۔
“ہممم ہاں ابھی بلوالو۔۔ “
خرم نے کچھ سوچ کر ہی اسے اجازت دی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے والا غصہ کہیں جا سویا تھا۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ ابھی روم نمبر تیس کے پیشنٹ کو ٹریٹ کرکہ آئی تھی کہ ڈاکٹر حمدانی کہ حکم پر اسے غصہ آیا۔۔۔
“سر آپ ڈاکٹر احتشام کو بھیج دیں مجھے الریڈی ایک اوپریٹ کے لئے جانا ہے ۔۔۔۔”
ورشہ اس شخص کا دوبارہ سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ اس کی بڑی وجہ حیا تھی یا خوف تھا وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔
آپ جانتی ہیں نہ آپ کی یہ غیر ذمہ دارانہ باتیں آپ کے پیشے کہ خلاف ہیں ؟؟؟
“جی سر ۔۔۔”
“اوکے آپ جانے کی تیاری کریں ۔۔۔”
وہ خاموشی سے سر ہلاتی ہوئی اپنے کیبن کی جانب چلی آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
یہ اچانک فیصلہ کہ پیچھے کیا وجہ ہے ؟؟؟
نظیر صاحب نے حتی المکاں اپنے لہجہ کو مضبوط رکھا۔۔۔ یہاں وہ صرف خرم کے باپ کا رول ادا کررہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
“وہ مجھے اچھی لگتیں ہیں اور میرا نہیں خیال انھیں کوئی اعتراض ہوگا ۔۔۔”
“ٹھیک ہے آپ مجھے ایڈریس بتائیں ہم بات کرتے ہیں نیک کام میں دیری نہیں کرنی چاہیئے۔ ۔۔۔”
نظیر صاحب نے دل پر پتھر رکھ لیا تھا اگر وہ بیٹی تھی تو وہ بھی ان کہ بیٹوں جیسا تھا ۔۔۔ اس کی پسند کو وہ دل سے قبول کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے میں کل تک آپ کو تمام انفورمیشن میل کردوں گا ۔۔۔۔۔”
خرم نے نرم مسکراہٹ سے کہا :
جب کہ نظیر صاحب بجھے دل سے وہاں سے اٹھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
بیگم مجھے لگتا ہے کہ مجھے اب خرم کو اس کے نکاح کا بتا دینا چاہیئے ؟؟؟
تو آپ نے ابھی تک بتایا کیوں نہیں؟؟؟
نصرین نے اچھنبے سے پوچھا؛
“میں اس دن بتانے ہی لگا تھا کہ اس نے اپنا پروپوزل میرے سامنے رکھ دیا۔۔۔۔”
یہ !!! یہ کیا کہہ رہے ہیں ہماری بیٹی کا کیا ہوگا اب ؟؟؟
“جو اللہ کو منظور میں بتانے کی ہممت نہیں کرپارہا ۔۔۔۔ میں یہ الزام برداشت نہیں کرسکوں گا کہ وہ مجھے مفاد پرست کا تانہ دے ۔۔۔۔”
“پھر آپ پہلے اس لڑکئ کا پتہ کروائیں جہاں وہ رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔ پھر ہی خرم سے کچھ کہیئے گا۔۔۔۔ “
نکاح نامے آپ کے پاس ہیں نہ؟؟
نصرین نے ذہن میں آئی سوچ کو الفاظوں کا رخ دیا۔ ۔
“ہاں دونوں بیٹیوں کے میرے پاس ہیں ۔۔۔ باقی خرم کا نکاح نامہ ان کہ والد کے روم میں ہے۔۔۔”
“پھر میں آپ کو بتاتی ہوں آپ ویسا ہی کریں ۔۔۔۔”
نصرین نے نظیر صاحب کی بات پر کچھ سوچتے ہوئے اگے کا لائحہ عمل بتایا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ نظیر صاحب کے ساتھ خرم کے فلیٹ جانا چاہتی تھی لیکن نظیر کی باتیں اسے ایک بار پھر توڑ گئیں ۔۔۔۔۔۔
وہ فلیٹ جانے کی بجائے پارک کی جانب چلی آئئ ۔۔۔۔ وہ اپنا دل ہلکا کرنا چاہتئ تھی۔۔۔۔
اتنے دن کا غبار جو غلط فہمی کہ باعث اس کے دل میں جمع ہورہا تھا وہ آج آنسووں کہ زریعہ اس غبار کو مٹا دینا چاہتی تھی۔۔۔۔
اسے نجانے کیوں پتا تھا کہ وہ اسے ریجیکٹ کردے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی کم مائیگی سے بچنے کیلئے ہی وہ اس رشتے کو ختم کردینا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔ ۔
لیکن وہ اب اپنے آپ کو ذلیل نہیں ہونے دے گی۔۔۔۔
وہ فیصلہ کن انداز میں وہاں سے اٹھی تھی۔۔۔۔
اسے اپنی ذات ایک طرف رکھ کر کوئی فیصلہ لینا تھا اور وہ خرم سے بات کرکے ہی ممکن تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کہ سائے گھیرے ہونے لگے تو پرندے بھی چہچہاتے ہوئے درختوں کہ گرد چکر کانٹنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔
آہستہ آہستہ بچوں کا رش بڑھتا جارہا تھا۔۔۔ یہ ایک بڑا سا فیملی پارک بنایا گیا تھا تاکہ بچے اور بڑے سیر وتفریح کیلئے یہاں کچھ وقت گزار سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نھنے نھنے بچوں کو بھاگتا دوڑتا دیکھتی ہوئی پارک کا گیٹ عبور کر گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
اس نے کمرے میں آکر توڑ پھوڑ مچادی تھی ۔۔۔ تمام ملازم اس اچانک افتاد سے گھبرا کر ایک ساتھ جمع ہونے لگے ۔۔۔۔۔ ان میں سے کسی ایک کو ہوش آیا تو اس نے کال کر کے یہاں کی ساری صورتحال شکیل سومرو کے سیکرٹری کے گوش گوار ۔۔۔۔۔۔۔
“میڈم آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔۔”
“لیو می الون ڈیم آٹ گو ٹو ہیل ۔۔۔۔”
اندر دے سے آتی اواز پر ملازم اپنا سا منہ لے کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
جو غصہ اور تپن وہ وہاں برداشت کرگئی تھی یہ اس کی شخصیت کا خاصہ نہیں تھا ۔ ورنہ اس کا دل تو چاہ رہا تھا اس کا منہ نوچ لے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم چوہدری خرم آخر غرور کس بات کا ہے تمھیں ۔۔۔۔۔۔ نہ میں نے تمھیں دھول چٹوائی تو میں بھی نگہت سومرو نہیں ۔۔۔”
“اپنی خوشیوں بھرے دن گننا شروع کردو اب۔۔۔۔ ۔محبت راز نہیں آئی تو نفرت تو۔ راز آہی جائے گی۔۔۔۔۔ تمھیں سسکنے پر مجبور کردوں گی ۔۔۔۔۔۔ “
“پیروں میں گر کر مجھ سے معافی مانگو گے تب میں بھی تمھیں دھتکار دوں گی ۔۔۔ ۔۔۔ “
وہ چیخ چیخ کر کمرہ کی ہر قیمتی شئہ کو بے مول کررہی تھی ۔۔ ۔۔۔
“دروازہ کھولو نگی ہری اپ ۔۔۔”
شکیل نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔۔۔
“ڈیڈ چلے جاو یہاں سے مجھے کسی سے بات نہیں کرنی ۔۔۔۔”
وہ اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑے ایک بار پھر چیخی ۔۔
مسلسل چیخنے سے گلے میں خراشیں پڑھ گئیں تھیں۔۔۔۔
:اوکے میں چلا جاوں گا لیکن اب کسی چیز کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔ ۔ “
سن لیا نہ تم نے ؟؟
شکیل جانتا تھا وہ اپنی بات کی پکی ہے اسے ڈر بھی تھا کہ وہ کہیں اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچالے۔۔۔۔۔
دروازہ کو ڈوپلی کیٹ چابی سے وہ خود بھی کھول سکتا تھا ۔۔۔ لیکن اس کے اس عمل سے وہ بھپری ہوئی شیرنی بن جاتی ۔۔۔۔۔۔
“لیو ڈیڈ لیو پلیز ۔۔ “
اس بار اس کی آواز میں نمی گھلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
“ڈرائیور کو بھیجو ۔۔۔”
وہ ملازم کو حکم دے کر اگے بڑھ گیا۔
خادم کا معاملہ پہلے ہی مشکلات پیدا کررہا تھا اس پر نگہت کا رئیکشن اسے مزید پریشان کر گیا۔۔۔۔
لاسٹ ٹائم میڈم کو کہاں چھوڑا تھا؟؟؟
“سر ڈیفینس کینٹومینٹ ایریہ کا ایڈریس بتایا تھا میڈم نے ۔۔۔”
“اوکے ۔۔۔”
وہ اسے جانے کا اشارہ کرکے کال ملانے لگا۔۔۔۔
کچھ بتایا خادم نے ؟؟؟؟
“نہیں سر وہ تو اتنا ڈرا ہوا ہے کہ ایک لفظ نہیں بول سکا۔ ۔۔ “
“ایک کام تم لوگوں سے نہیں ہوتا میں آیا تو تم سب کو اوپر پہنچانے میں لمحیں بھی ضائع نہیں کروں گا۔۔۔۔”
ہاں بولو ؟؟؟
“سر شارپ شوٹر اس فنشڈ۔”
“ڈیٹس گریٹ ۔۔۔۔ “
شکیل سومرو نے دی جانے والی خبر کو سراہا۔۔۔
“واہ خادم تو نے کام تو کروا ہی دیا میرا ویسے بھی اب تیرا زندہ رہنا میرے لئے مشکلات ہی پیدا کرے گا۔ ۔ “
شکیل سومرو نے کمینگی سے کہہ کر وائن کا آدھ بھرا گلاس منہ سے لگایا۔۔۔۔۔ ۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
بابا مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ؟؟
وہ چپس کھاتی ہوئی رازدرانہ لہجہ میں گویا ہوئی۔۔۔۔۔۔۔
بولو ہنی ؟؟
نظیر صاحب نے غور سے اپنی بیٹی کو دیکھا جو خلاف معمول سنجیدہ دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا میں جب سر خرم کہ پیلس کے عقبی حصہ میں چھپی ہوئی تھی تو میں نے وہاں موجود دو شخص کی ساری باتیں سن لیں تھیں ۔۔۔۔”
نظیر صاحب کی پیشانی پر بلوں کا اضافہ ہوا ۔۔۔
کون تھے وہ اور کیا سنا تم نے ؟؟؟
“بابا وہ کہہ رہے تھے کہ تم نے چوہدری صاحب سے غداری کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ “
کیسی غداری ؟؟؟
نظیر صاحب نے اس کے خاموش ہوجانے پر دوبارا پوچھا :
“چوہدری خرم اور آپ پر حملہ کروانے والا شکیل کا خاص آدمی خادم تھا ۔۔۔۔۔۔ “
ہنی کی اگلی بات پر وہ خاموش ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔
کیا ہوا بابا ؟؟
“ہمممم ہاں نہیں نہیں کچھ نہیں آپ جانے کی تیاری کرو میں ساتھ چلوں گا ۔۔۔۔ “
“اور یہ بات دوبارہ اب مت کہنا مائرہ کو بھی سختی سے کہہ دینا وہ اس بات کا ذکر اپنے گھر میں نہ کرے۔۔۔۔”
کیوں بابا کیا آپ نہیں چاہتے کہ ان لوگوں کو ان کے کیئے کی سزا ملے ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
ہنی نے ناسمجھی سے پوچھا:
“انھیں سزا مل چکی ہے خادم اپاہج ہوگیا ہے اور وہ دوسرے بندہ کو انہوں نے مار دیا۔۔۔۔۔ “
لیکن کیوں بابا ؟؟؟
“یہ سیاست ہے یہاں جو جس کا ساتھ دیتا ہے جرم میں آخر کار اسے اسی بندوں کے ہاتھوں مرنا پڑتا ہے ۔۔۔ اور تم دیکھ لینا تھوڑی دیر میں خادم حسین کی بھی سڑک سے لاش برآمد ہوگی ۔۔۔۔ “
نظیر صاحب اس کی سیاست میں دلچسبی سے واقف تھے اسی لئے اپنے تجربات اس سے شئیر کرتے رہتے تھے۔۔۔۔۔۔
“آج بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ تم اپنے۔ اسٹیڈیز پر کنسنٹریٹ کرو۔ ۔۔۔۔”
اچھا بابا آپ سر خرم کو کیسے جانتے ہیں ؟؟؟؟
“کیوں کہ اسی پیلس میں قیام کرتا ہوں جہاں آپ کے سر کی رہائش ہے ۔۔۔۔”
لیکن آپ تو چوہدری خرم کے مشیر ہیں نہ ؟؟؟؟
اففف یہ لڑکی اسے جتنا گھمالو لیکن اسی بات پر اٹک جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔
“کیوں کہ وہ بھائی ہیں خرم چوہدری کے ۔۔۔ “
کیا سچ میں ؟؟؟۔
ہنی بے یقینی سے نظیر صاحب کو دیکھنے لگی ۔ ۔۔۔۔
“ہاں ۔۔۔ نو مور کوئسچن ۔۔۔۔”
نظیر صاحب نے تصدیق کرتے ہوئے گویا بات ختم کی۔۔۔۔ وہ اسے حیران چھوڑ کر اپنے کمرہ میں چلے آئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
سر ڈاکٹر آپ کا چیک اپ کرنے آئیں ہیں لے آوں انھیں روم میں؟؟؟
ملازم نے کمرہ میں آنے کی اجازت لی ۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہاں لے آو۔۔۔۔ “
خرم نے مصروف سے انداز میں کہا :
تھوڑی دیر بعد دروازہ ناک کیا گیا :
“یس۔۔۔۔”
پانچ کمروں پر مشتمل یہ فرنشڈ اپارنٹمنٹ نفاست سے سجا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
سامنے نظر دروازہ کی جانب اٹھی تو پلٹنا ہی بھول گئی۔۔۔۔۔
چمک دار چہرہ پر ہلکی سے گھبراہٹ تھی ۔۔۔۔۔ سفید آوور آل میں ڈوپٹہ سر پہ جمائے وہ اس کی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔۔
خرم اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا:
“آئیے آیئے ۔۔۔”
خرم نے مبہم لہجے میں اسے اندر آنے کی اجازت دی ۔۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم ؟؟
ورشہ نے گھبراہٹ چھپانے کی سعی کی ۔۔۔۔۔
وہ گہری نظروں سے اس کے بوکھلائے تاثرات نوٹ کرنے لگا۔۔۔۔۔
وہ اپنی کیفیت پر جتنا حیران ہوتی کم تھا۔۔۔ آج وہ پہلی بار ہی کسی کا چیک اپ کرنے نہیں آئی تھی بلکہ اپنی بائیس سالہ زندگی میں اسے خاصہ تجربہ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں کہ درمیان گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی جسے ورشہ نے ہی توڑا تھا ۔۔۔
“سر آپ کا جھک کر لیب ٹوپ یوز کرنا ٹانکوں کو کچا کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔”
“آپ کو احتیاط کرنی چاہیئے۔۔ “
پچھلی دفعہ نرس نے ہی اس کا بلیڈ پیشر چیک کیا تھا اس بار اسے خود سے یہ کام انجام دینا تھا۔۔۔۔۔۔
“مصروف سا بندہ ہوں ۔۔۔ کام کہ بغیر میرا گزارہ نہیں ہے لیکن آئیندہ احتیاط کروں گا۔۔۔۔”
اس کی بات پر ورشہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا:
ان دونوں میں زیادہ فاصلہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ورشہ سر جھکا کر اس کے مضبوط بازو پر آلہ باندھنے لگی ۔۔۔۔
جب کہ وہ اس کہ قریب آنے پر اس کے سراپہ میں کھو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی اتنا سادہ اور حسین کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
نہ کوئی ناز نہ کوئی ادا جس سے وہ اسے اپنی جانب راغب کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ورشہ کا چہرہ اس کی نظروں کی تپش سے سرخ ہورہا تھا۔۔۔ اور وہ چہرہ کہ بدلتے ان قوس و قزح کے رنگوں میں کھو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *