Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir NovelR50739 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13
No Download Link
642.3K
20
Rate this Novel
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode01 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode02 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode03 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode04 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode05 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode06 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode07 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode08 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode09 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode10 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode11 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode12 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13 (Watching)Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode14 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode15 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode16 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode17 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode18 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode19 Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Last Episode
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13
Shab E Aarzoo by Syeda Jaweria Shabbir Episode13
جو تیرے قدم میرے گھر چلیں
میرے ساتھ شمس و قمر چلیں
تیری قربتوں میں سمیٹ لوں
راہے زندگی کی مسافتیں
تیرے نام سے میری صبح ہو
تیری یاد میں میری شام ہو
تیرے روبرو رہیں سرخرو
مرے چشم و دل کی عبارتیں
میرے روز و شب کے نصاب میں
میرے پاس اپنا تو کچھ نہیں
تیرا قرض ہے میری زندگی
میری سانسیں تیری امانتیں
یہ احساس کتنا دلفریب سا ہے جسے میں شدتوں کی حد تک چاہتا ہوں وہ کل تک مجھ سے کوسوں دور اتنا دور کہ میں اسے دیکھ تو سکتا تھا لیکن اپنے پاس محسوس نہیں سکتا تھا اور آج اچانک سے وہ جان سے پیارا شخص میرا بنا دیا گیا ۔۔۔۔۔ کیا اس طرح بھی محبتیں ملتی ہیں؟؟؟؟
“میں جتنا اپنے رب کا شکر ادا کروں کم ہے…. ہنی میری باتونی بیوی اب دیکھنا میں کس کس طرح تمھیں تنگ کرتا ہوں ۔۔۔۔”
حیرت انگیز طور پر آج اس کے لبوں میں سگریٹ کہ بجائے مسکراہٹ رقصاں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ نجانے کتنے دن لگے تھے اسے اپنے خول سے باہر آنے میں ۔۔۔۔
وہ جادوگرنی ہے آج تک کسی نے بھی اس دل کو ہٹ نہیں کیا جیسے اس نے میرے دل میں نا صرف اپنی جگہ بنائی ہے بلکہ جینے کی امنگ بھی پیدا کردی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ قدم قدم۔ چلتا بیڈ کی جانب آیا اور دراز ہوگیا کب وہ نیند کی حسین وادی میں اترا پتا ہی نی چلا ۔۔۔۔۔۔۔۔ . .
کچھ دیر پہلے نظیر صحاب اس کا اور ہنی کا نکاح نامہ بھجوا چکے تھے ۔۔۔ جسے پڑھ کر وہ اندر تک سر شآر ہوگیا ۔۔۔۔۔۔.. ۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جاکے تم سآجن کے ساتھ
بھول نہ جانا یہ دن رات
تم کو دیس پیا کا بھائے ۔۔
تیرا پیا تیرے گن گائے۔۔
ہنی اور مائراہ لہک لہک کر سُر ملارہیں تھیں۔۔ جبکہ باقی لڑکیاں تالیاں پیٹنے کہ ساتھ شوروغل بھی مچا رہیں تھیں۔۔۔۔
نصرین بیگم گھونگھٹ میں چھپی ورشہ کی بلائیں لیتی نہ تھکتیں ۔ ۔۔ ۔
ورشہ کا کنفیڈینس لیول آج بری طرح متاثر ہورنے لگا۔۔۔۔۔
بار بار ہتھیلی پسینہ سے بھیگ جاتی ۔۔۔۔ جسے وہ باہم ملا کر اپنے آپ کو نارمل کررنے میں لگی ہوئی تھئ تمام رشتہ دار ایک ایک کر کہ رسم حنا ادا کررنے لگے ۔۔۔۔۔۔
“تاروں کا چمکتا گہنا ہو ۔۔۔
پھولوں کی مہکتی وادی ہو۔۔۔
اس گھر میں خوشحالی آئے ۔۔
جس۔ گھر میں تمہاری شادی ہو ۔۔۔۔”
ہنی نے دوسرا گانا شروع کیا اور ورشہ کے پاس جابیٹھی۔۔۔
کبھی اسے گلے سے لگاتی اور کبھی اس کا ہاتھ تھام کر زور زور سے گاتئ۔۔۔ ۔
دور کھڑے نظیر صاحب اپنی بیٹیوں کو خوش ہوتے دیکھ پھولے نہ سمارہے تھے ۔۔۔
کچھ دیر تک ماحول میں ہنئ اور مائرہ نے رونق لگائئ۔۔۔۔
مہندی آنے کی صدائیں بلند ہوئیں تو تمام لڑکیاں پھولوں کہ تھال اٹھائے باہر کی جانب بھاگیں ۔۔۔۔۔۔۔
مائرہ نے ہنی کو لیا اور کلیوں کا تھال اٹھا کر وہ بھی مایوں میں آئے دلہے اور اس کے گھر والوں کی آمد کیلئے دروازہ کی جانب کھڑیں ہوئیں۔۔۔۔۔
خرم کی تو چھپ ہی نرالی تھی سفید چمکتے کلف لگے قمیض شلوار میں ملبوس وہ بڑی شان سے چلتا ہوا آیا جسے نظیر صاحب نے محبت سے گلے لگایا۔۔۔
چونکہ نکاح پہلے ہی کردیا گیا تھا اس لیئے مہندی اور مایوں کا انتظام نظیر صاحب نے اپنے ذمہ لیا تھا۔۔۔۔
خرم کہ بعد میر۔ نظیر صاحب کہ گلے لگا تبھی اس کی نظر پری پیکر پر رک گئی۔۔۔
پیلے شرارہ اور پیلی ہی لونگ قمیض زیب تن کئے اس پر چندری کا ڈوپتہ سیٹ کئے وہ اپسراوں کو بھی مات دے رہی تھی ۔۔۔ لمبے گھنے بال پیچھے کسی آبشار کی طرح پھیلے ہوئے تھے ۔۔۔ مائرہ کی کسی بات پر مسکرائی تو میر کو لگا سارا ماحول ہنسی کی کھنک سے گونج اٹھا ہو۔۔۔۔
“آیئے آیئے ۔۔۔ تشریف رکھیئے ۔۔ “
نظیر صاحب کی آواز پر وہ حال میں لوٹا۔۔۔۔۔
“اسلام و علیکم خرم بھائی ۔۔۔”
ہنی نے آگے بڑھ کر گلاب کی کلی خرم کہ اگے کی۔۔۔۔
“یہ میری چھوٹی بیٹی ہے ۔۔۔۔ “
نظیر صاحب نے تعارف کروایا۔ خرم نے مسکرا کر تھینکس کہا ۔۔۔۔
میرا چھوٹا سا آٹوگراف چھوٹی سی گڑیا کو پسند آیا؟؟
خرم نے دہیمہ مگر احترام سے اپنی چھوٹی سالی کو دیکھا۔۔۔
“جی بہت پسند آیا ۔۔۔ میں تو پہلے ہی آپ کی فین تھی ۔۔۔ اور اب تو اور زیادہ ہوگئی ہوں ۔۔۔۔”
ہنی نے کھلکھلاتے ہوئے کہا :
“ہنی بیٹا اندر جانے دو سب انتظار کررہے ہیں ۔۔”
نظیر صاحب کی بات وہ مسکراتے ہوئے سائیڈ میں ہوئی ۔۔۔۔
مکرم اسے ہی دیکھ رہا تھا جب مائرہ نے ہنی کو ٹھوکہ دیا۔۔۔
“سر کو تو دیکھ کتنے ڈیشنگ لگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ “
بلیک قمیض شلوار میں وہ پروقار اور وجیہہ لگ رہا تھا۔۔۔۔ آج اس نے پینٹ شرٹ سے ہٹ کر پہنا تھا جو اس پر جچ بھی بہت رہا تھا ۔ ۔۔ ۔
سر یہ آپ کیلئے ؟؟
ہنی نے گلاب کی کلی اس کی جانب کی ۔۔۔
یہ کس لئے؟؟
اس نے پرشوق نظروں سے ہنی کو دیکھا۔ ۔۔۔۔۔
“خوش آمدید سر ۔۔۔ “
” یہ چھوٹا سا تھینک یو سمجھ لیں ۔۔۔”
مگر کس لئے ؟؟؟
میر سائیڈ پر ہو کر ان سے گفتگو کرنے لگا ۔۔۔ جبکہ پیچھے ان کہ ساتھ آئے سارے مہمان اندر جا چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔
“آپ نے اس دن کوفی آفر کی پھر آوٹوگراف ۔۔۔۔ “
“اوکے ۔۔۔۔”
میر نے نرم مسکراہٹ کہ ساتھ کلی تھامی۔۔۔۔
“سر یہ مائرہ کہہ رہی تھی آپ بہت ڈیشنگ لگ رہے ہیں ۔۔۔”
ہنی کی اچانک بات پر جہاں میر نے اسے حیرت سے دیکھا وہیں مائرہ کی سٹی گم ہوگئی۔۔۔
وہ کھسیا کر ایکیوزمی کرتی وہاں سے واک آوٹ کرگئی ۔۔۔ جبکہ میر کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔۔۔
“یہ نہیں سدھرسکتی ۔۔۔۔”
وہ نفی میں سر ہلا کرمسکراتا ہوا اسٹیج کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~`~~~~~~~~~~~~~~~
محفل اپنے عروج پر تھی دلہے کہ ساتھ آئے تمام مہمان جو زیادہ تر دور پرے کہ ہی تھے اور ان میں سے کچھ کاروباری دوست احباب تھے باری باری رسم کرنے لگے۔۔۔۔
بجو اجازت ہے نہ ؟؟؟
“دیکھ لیں پھر بعد میں نہ کہنا ۔۔۔”
ہنی نے ورشہ کہ جھکے سر کو دیکھا اور بلند آواز میں کہا :
“یہ لڑکی نہ موقع دیکھے نہ محل ۔۔۔۔”
ورشہ دانت پیسنے لگی۔۔۔ ایک تو پہلے ہی خرم کی برابر میں موجودگی اس کے اوسان خطا کررہی تھی ۔۔۔
“ایک لاکھ دس ہزار روپے کہ علاوہ کچھ نہیں لینا میں نے ۔۔۔۔”
ہنی نے حتمی انداز میں خرم کو دیکھ کر کہا :
غریب سا بندہ ہوں تھوڑی رعایت ہی کردو گڑیا؟؟
خرم نے معصومیت سے کہا جس پر ہنی اور مائرہ کا بڑا سا منہ کھل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میر پیچھے کھڑا اس کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے لطف اندوز ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“اللہ کو مانیں بھائی اگر آپ غریب ہونے لگے تو ہمارا تو پھر خدا ہی حافظ ہے ۔۔۔”
مائرہ نے انکھیں گھما کر کہا :
“اچھا چلو نہ میری اور نہ تمہاری۔۔۔ آپ دونوں کہ سر سے مشورہ کرلیتے ہیں بس۔۔۔”
خرم نے میر کو بیچ میں گھسیٹا۔۔۔
“چلو بھئی گئی بھینس پانی میں ۔۔۔”
ہنی نے ٹھنڈا سانس بھرا۔۔۔۔
“میں کیا کہوں جو صحیح ہے وہ دے دیں ۔۔۔”
میر نے مسکراہٹ کہ ساتھ کہا :
میر کی بات پر ہنی نے انکھیں کھول کر اسے دیکھا:
مانی یہ ہمارے سر ہی ہیں نہ ؟؟ کہیں بدل تو نہیں گئے ؟؟
ہنی کی بات پر مائرہ نے اسے گھورا۔۔۔۔
نصرین بیگم نے ہنی کو ڈانٹ کر جلدی جلدی رسم ختم کروائی۔۔۔۔
“خرم نے مذاق ایک طرف رکھ کر پورے پیسے ہنی کے ہاتھ میں رکھے ۔۔۔”
“اللہ بھائی آپ تو بڑے فراغ دل نکلے ۔۔۔۔ “
ہنی نے خوش کن لہجہ میں کہا :
“بھائی نہیں بھیو ۔۔۔ وہ میرے اور آپ کہ بھیو ہیں ۔۔۔۔”
میر نے سنجیدگی سے کہا مگر انکھیں کسی احساس کہ تحت چمکنے لگیں ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
“لیکن میں تو بھائی ہی کہوں گی۔ ۔۔۔۔”
“ہنی کبھی میری بھی مان لیا کرو ہر وقت اپنی منواتی ہو۔۔۔۔”
“ایسی کوالیٹیز بھی کسی کسی میں ہوتی ہے سر ہر انسان کہ پاس یہ ہنر نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ “
ہنی نے پر اعتمادی کہ ساتھ کہا :
“ویل یہ تو ہے ۔۔۔ خیر ۔۔۔ “
میر کہ کہنے پر وہ ایسکیوز کرتی ہوئی مائرہ کو لیے اسٹیج سے اتر گئی۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ورشہ آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟
وہ جو دم سادھے سر جھکائے بیٹھی تھی خرم کہ طرز مخاطب پر جان حلق میں اٹک گئی۔۔۔۔
“جی جی ۔۔۔”
“آپ میرا پاوں اپنے جوتے تلے دبائے ہوئے ہیں ۔۔۔”
ورشہ کی بات پر خرم نے جھک کر دیکھا تو سینڈل میں مقید سفید مومی پاوں اس کے کھسے کہ نیچے دبا ہوا تھا۔۔۔
“اوہ ریلی سوری وری آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا ۔۔”
خرم نے ندامت سے اس کہ جھکے سر کو دیکھا۔۔
“اٹس اوکے ۔۔۔”
ورشہ نے دوسرے پاوں سے اپنا سرخ پیر سہلایا۔۔۔۔
فکر مندی سے وری کہنے پر وہ دھیرے سے مسکرادی۔۔۔
خرم نے دیکھا شروع کی دو انگلیاں بری طرح لال ہوچکی تھیں ۔۔۔
“اگر زیادہ پین ہورہا ہے تو میں ائینمنٹ منگوالیتا ہوں ۔۔۔”
“نہیں میں ایوینٹ کہ بعد لگالوں گی ۔۔۔۔”
خرم کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس طرح اس کہ درد کو کم کرے ۔۔۔ تبھی مائرہ سے گپے مارتی ہنی کو بلوایا۔۔۔۔
“جی بھائی ۔۔۔”
“گڑیا تمہاری بجو کا پاوں سرخ ہورہا ہے انھیں اندر لے جاو ۔۔۔”
خرم کی بات پر ہنی نے دیکھا۔۔۔
اوہ یہ کیسے ہوا بجو؟؟
“چلیں آئیں میرے ساتھ آپ تھک بھی گئی ہوں گی ۔۔۔”
ورشہ نے گردن اٹھا کر قریب بیٹھے خرم کو نرم نگاہوں سے دیکھا۔۔۔
کیسا روپ آیا تھا اس کے شفاف مکھڑے پر ۔۔۔
پنکھڑی لبوں میں حرکت ہوئی ۔۔۔
اور وہ تو اس کے سہر میں کھو گیا ۔۔۔ اس کی نظر اسی جگہ جم گئی۔۔۔۔۔۔
“بھیو بھابھی جاچکی ہیں “
میر کی آواز پر وہ حواسوں میں لوٹا۔۔۔
خرم نے گھور کر اسے دیکھا :
“اچھا اچھا نہیں کرتا تنگ اپنے پیارے بھیو کو۔۔۔”
اج کل تمہارے چہرے پر الوہی سی چمک رہتی ہے کیا وجہ ہے ؟؟؟
خرم نے تفتیشی انداز میں پوچھا:
“بھیو وہ انکل بلارہے ہیں میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔”
اس سے پہلے کہ خرم اس سے اگلواتا وہ بہانے سے واک آوٹ کرگیا۔۔۔۔ ۔ ۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ہنی کریم لگا کر چلی گئی تھی ۔۔۔۔
ورشہ کہ لب آپ ہی آپ کھل آٹھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فکر کرنا، چاہنا، کیسے انمول جذبات ہوتے ہیں جو آج ورشہ کہ حصے میں آئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔
تبھی کمرہ کا دروازہ کھلا اور نظیر صاحب اندر چلے آئے۔۔۔۔
“اللہ تمہارے نصیب بلند کرے ورشہ ۔۔۔”
انہوں نے بھیگی انکھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔۔
“بابا آپ کیوں رو رہے ہیں ۔۔۔ “
“نہ روئیں مجھے دکھ ہوتا ہے ۔۔۔”
ورشہ نے افسردگی سے کہا :
“اچھا میری بیٹی دکھی ہوتی ہے تو نہیں رووں گا۔۔۔۔۔۔”
بابا میں نے سنا ہے آپ جارہے ہیں ؟؟؟
ہنی نے اندر اکر پریشانی سے کہا :
“ہاں میں کل بارات کہ ساتھ ہی آوں گا۔۔۔۔ “
نظیر صاحب کی بات پر ورشہ نے ناسمجھی سے دیکھا:
“ارے میرے بچوں ۔۔۔ کیوں پریشان ہوتی ہو یہاں تو سارے انتظام مکمل ہیں اور مکرم نے بہت مان سے کہا ہے اب تم دونوں تو میرے جگر کہ ٹکڑے ہو سمجھتے ہو نہ بابا کو ۔۔۔۔”
“لیکن بابا آپ انھیں کہہ دیں کہ میں یہاں سے ویلکم کروں گا۔۔۔”
ہنی کی بات پر نظیر صاحب نے ورشہ کو دیکھا۔۔۔
ہنی کیوں تنگ کررہئ ہو بابا کو ؟؟
“بابا آپ خیریت سے جائیں آپ نے کچھ سوچ کر ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا۔۔۔۔”
ورشہ نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہنئ کو خاموش رہنے کو کہا :
پھر یہ لوگ نظیر صاحب کو لے کر لاہور کیلئے نکل گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
بجو آپ ریڈی ہیں ؟؟؟
ہنی کو جب بیوٹیشن نے مکمل تیار کردیا تو وہ ورشہ کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔ بیوٹیشن آخری ٹچ دے رہی تھی۔۔۔
“ماشاء اللہ بجو یو آر آا لوکنگ بیوٹیفل ۔۔۔”
“ہنی کی تعریف پر وہ جھینپ گئی ۔۔۔ تبھی ڈرائیور کہ آنے پر وہ دونوں کار میں آبیٹھیں ۔۔۔۔۔۔”
بارات آئی تو نظیر صاحب جو کہ ان کے ساتھ ہی آئے تھے۔۔ میزبانوں میں شامل ہو کر ان کا شہانہ طریقہ سے استقبال کیا ۔۔۔۔
فوٹو والے کہ کہنے پر تمام بینکوئیٹ کی لائٹس آف ہوگئیں۔۔۔
تبھی گلوکار عاطف اسلم کی آواز ماحول میں گونجنے لگی ۔۔۔۔ سپوٹ لائیٹس کا فوکس خرم اور ورشہ پہ تھا۔۔۔۔۔
خرم نے گولڈن شیروانی کہ ساتھ میرون کلا پہنا ہوا تھا۔۔۔۔۔
آرڈر پر نظیر صاحب نے بیش قیمتی شیروانی بنوائی تھت ۔۔۔ جس پر خرم نے باقائدہ ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔۔۔۔۔
اس کہ برابر میں کھڑی نازک سی ورشہ نے میرون شرارہ زیب تن کیا ہوا تھا جس کا گولڈن ٹشو کا ڈوپٹہ سر پہ جمایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
نفاست سے کئے میک اپ پر اس کے حسین نقش ونگار خوبصورت دیکھائئ دے رہے تھے ۔۔۔ خرم نے نرمی سے ورشہ کا ہاتھ تھامہ اور واک کرنے کہ انداز میں اگے بڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
ساتھ ساتھ فوٹو گرافرز کی ہدایتوں پر عمل بھی کیا جارہا تھا ۔۔۔۔۔
“ہنی تم پھر سے رونا شروع نہ کردینا ۔۔۔۔”
مائرہ نے اس کا منہ بنا دیکھا تو تنبیہہ کی ۔۔ مائرہ کی آواز اتنی تیز تھی وہین لوگوں میں کھڑے میر گردن گھما کر اسے دیکھا۔۔۔۔
سیاہ سلکی بال دائیں طرف سے اگے کو گررہے تھے جبکہ بائیں کندھے پر ڈوپٹہ پھیلا ہوا تھا ۔۔۔ شفاف ماتھے پر ٹیکہ ایسے سج رہا تھا جسیے بنا ہی اس ماتھے کیلئے ہو۔۔۔۔
میک اپ زیادہ نہیں تھا لیکن وہ اس میں بھی چاند کو مات دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
“اسپیکر میں بول دو جاکر ۔۔۔۔”
ہنی نے گھور کر پہلے میر کو اور پھر مائرہ کو دیکھا۔۔۔۔۔
“مائرہ یار مجھے لگ رہا ہے سر کی یاداشت پر گہرا اثر پڑا ہے ۔۔۔”
تمھیں ایسا کیوں لگا۔؟؟؟؟
“تم نے دیکھا نہیں کیسے انکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھورے جارہے ہیں جیسے میں انکی سیلری کھاگئی۔۔۔۔۔”
ہنی کی بات پر مائرہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔۔
“دفعہ ہو بھاڑ میں جاو۔۔۔۔”
ہنی ہائی سینڈل والا پیر کارپیٹ پر پٹخ کر اسٹیج کی جانب چل دی ۔۔۔۔۔۔۔۔
عاطف اسلم کا گانا بند ہوا تو دوسرا چلنے لگا۔۔۔
میرے ہاتھ میں تیرا ہاتھ ہو
ساری جنتیں میرے پاس ہو
تو جو پاس ہو پھر کیا یہ جہاں
تیرے پیار میں ہوجاوں فنا۔۔۔۔
مایوں سے زیادہ بارات میں مہمان آئے تھے ۔۔۔۔ نظیر صاحب کی طرف سے کم و بیش ہی تھے جبکہ بارا ت کہ ساتھ آئے بڑے بڑے سیاسی لیڈر اور ان کی فیملیز نے شرکت کی تھی ۔۔۔۔۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو نظیر صاحب اور خرم کے ایک ہی مہمان تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
رسومات کا سلسلہ ختم ہوا تو سلامی کا شروع ہوگیا ۔۔۔۔
ان تمام چیزوں میں کافی وقت لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے سر کیسے ہیں ؟؟
مائرہ ہنی کو کھینچتی ہوئی میر کے پاس لے آئی۔۔۔۔۔۔
میں ٹھیک آپ سنائیں ۔؟؟
میر کسی سے بات کررہا تھا جب مائرہ کی آواز پر پلٹ کہ دیکھا:
اور ایسکیوز کرتا ہوا ان کی جانب متوجہ ہوا۔ ۔۔
ہنی نے مصنوعی مسکراہٹ سے نوازہ اور اسٹیج کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
میر نے محسوس کیا آج وہ شوخی شرارت کہیں جا سوئی تھی محترمہ کہ منہ پر بارہ بج رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
یہ لوگ قدرے سائیڈ والی جگہ پر کھڑے تھے ۔۔۔ اس لئے آرام سے محو گفتگو تھے ۔۔۔۔
ہنی آپ اپنے ہذبینڈ سے نہیں ملائیں گی ؟؟
میر کی بات پر ہنی کو جھٹکا لگا۔۔۔ جبکہ ساتھ کھڑی مائرہ کہ لبوں پر مسکراہٹ غائب تھی۔۔۔۔۔
“سوری ٹو سے بٹ سر میں اپنے پرسنلز میں کسی کو بھی انٹر فئیر نہیں کرنے دیتی کجا کہ وہ مائرہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔ “
ہنی نے سپاٹ لہجہ میں کہا :
مائرہ میں اور مجھ میں کچھ تو فرق رکھا ہی ہوگا نہ آپ نے ؟؟؟
مکرم نے سنجیدگی سے کہا :
نجانے وہ اسے کیا بلوانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“مائرہ میری بچپن کی دوست ہے” ۔۔۔۔
“اور میں تمہارا بچپن کا شوہر ۔۔۔”
وہ صرف سوچ ہی سکا۔۔۔ کہنے کی ہممت فلحال اس میں نہیں تھئ ۔۔۔۔
ہنی کہہ کر وہاں رکی نہیں اور مائرہ کو وہیں چھوڑ گئی۔۔۔۔ ۔
رخصتی کہ موقع پر ہنی کہ رکے آنسو کسی سیلاب کہ مانند بہتے چلے گئے۔۔۔
اسے اپنے میک اپ کی لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔۔ ورشہ نظیر صاحب اور نصرین بیگم سے ملنے کہ بعد اس کی جانب آئی جو دھندلائی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
“بجو آئی مس رئیلی رئیلی مس یو آلوٹ۔۔۔۔”
وہ ورشہ کہ گلے لگی بھرائی آواز میں بولی ۔۔۔۔۔ ورشہ نے بمشکل اپنے اپ کو رونے سے پچایا ہوا تھا۔۔۔۔
میر کا کھڑا رہنا وہاں مشکل ہوگیا تو باہر گھڑی گاڑی میں جابیٹھا۔۔۔۔
وہ سخت دل تھا لیکن ہنی کی محبت میں اس کا دل موم ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کشادہ بیڈ جس کہ دونوں سائیڈ پر گلابی پھولوں کا بوکے سجایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ کمرہ جتنا بڑا تھا اتنا ہی نفیس فرنشڈ بھی تھا ۔۔۔۔ نیوی بلو مخملی پردے کھڑکھی پر پڑے تھے ۔۔۔ اور اسی کہ کنٹراس کا دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔۔۔۔
کمرہ خرم نے اپنی سادہ طبیعیت کہ مطابق ہی سیٹ کروایا تھا۔۔۔۔
وہ بیڈ پر بیچوں بیچ بیٹھی ہوئی کمرہ کو چاروں طرف سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ کوئی چیز وہاں مس فٹ نہ تھی ۔۔۔۔۔
تبھی کلک کی آواز پر دروازہ کھلا۔۔۔ اور وہ اندر آیا ۔۔۔۔۔۔
سائیڈ ٹیبل کی ڈراز سے کچھ نکالا اور عین ورشہ کے سامنے جابیٹھا ۔۔۔۔
وری اپنا پاوں دیکھائیے ؟؟؟
اس کی عجیب و غریب فرمائش پر ورشہ نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو نظریں اس کے پاوں پر ٹکایا ہوا تھا ۔ ۔۔
جی ؟؟۔ورشہ نے دھیمی انداز میں پوچھا ۔۔۔
جو پاوں آپ کا دبا تھا وہ دیکھائیں ؟؟؟
اب کہ خرم نے نطریں اس کے چہرہ پہ گاڑیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ورشہ نے وہی پاوں اس کہ سامنے ۔۔۔ جہاں نہ سرخی تھی نہ کوئی خراش۔۔۔۔۔
ائنمنٹ کریم کھول کر خرم نے اسے مہندی سے رچے پاوں پر کریم لگائی۔۔۔۔۔
ورشہ حیران پریشان اس کی کاروائی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
کریم لگانے کہ بعد وہ کمرہ سے ملحق اٹیچ باتھ روم سے ہاتھ دھو کر آیا۔۔۔۔۔۔
“میری زندگی میں اکر اسے خوبصورت بنانے کا شکریہ زندگی ۔۔۔۔۔”
خرم نے چوڑیوں سے لیس ہاتھ تھامہ ۔۔۔۔۔
ورشہ نے مسکراہٹ کہ ساتھ سر جھکا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ تو سادگی میں بھی کمال ہیں ان زیب و آرائش سے تو غضب ڈھارہیں ہیں مسز خرم ۔۔۔۔۔”
چہرہ کندہ انار کی طرح سرخ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
خرم نے بڑا سا مخملی ڈبہ ورشہ کے اگے کیا۔۔۔۔
ورشہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے کھولا۔۔۔
ایک پل کو تو انکھیں چندھیا گئیں تھیں ۔۔۔
ڈائمنڈ کا چمکتا نیک لیس شعاعیں ماررہا تھا ۔۔۔
“بہت عمدہ ۔۔۔”
ورشہ نے خرم کو دیکھ کر توصیفی انداز میں کہا :
خرم نے چمکتی ہیرے کی انگھوٹھی اٹھائئ اور اپنی ہتھیلی ورشہ کہ سامنے پھیلائئ جس پر اس نے محبت سے ہاتھ رکھا۔۔۔
خرم نے انکھوں میں جذبوں کا جہاں آباد کئے ہوئے وہ انگھوٹی اس کی انگلی میں پہنادی ۔۔۔۔
دروازہ بجنے کی آواز پر خرم نے ورشہ کو آنے کا کہا اور اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔۔۔
“پریشان کرنے کیلئے معذرت مگر آپ کیلئے یہ فون ہے ۔۔۔۔”
ملازم نے گھبراہٹ کہ ساتھ موبائل آگے کیا۔۔۔۔۔
خرم نے ایک نظر اس پر ڈالی اور موبائل لے کر اسے جانے کا اشارہ کیا دروازہ بند کر کے موبائل کان سے لگایا۔۔۔
کیسا لگا میرا سپرائیز مسٹر خرم چوہدری ؟؟
نسوانی آواز پر اس نے ورشہ کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
کال کرنے کا مقصد ؟؟؟
وہ پہچان گیا تھا اس کی آواز۔۔۔۔
“لگتا ہے آپ اپنی شب زقاف میں آج خبریں دیکھنا بھول گئے۔ ۔۔۔۔ چلیں آپ خبریں دیکھیں اب ولیمہ پہ ملاقات ہوتی ہے۔۔۔۔”
وہ بے ڈھنگے انداز میں قہقہہ لگاتے ہوئے کال کاٹ گئی۔۔۔۔۔
“کیا مصیبت ہے اس کا کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔ “
اس نے بڑبڑاتے ہوئے دیوار پہ نصب ایل آی ڈی ریمورٹ سے آن کئ ۔۔۔۔
“سیاسی جماعت کہ لیڈر چوہدری خرم سے میڈیا کا سوال ہے اگر انہوں نے معروف نگہت سومرو کو زندگی کا حصہ نہیں بنانا تھا تو عہد و پیماں باندھنے کا کیا مقصد تھا ۔۔۔۔
کیا اس کا مقصد شکیل سومرو کو شکست دینی تھی یا یہ ٹائم پاس کا ایک بہانہ تھا۔۔۔۔۔۔ “
خرم تو سناٹوں کی زد میں آگیا یہ بکواس کررہی تھی وہ ۔۔۔۔
جبکہ ورشہ کا وہ حال تھا بدن کاٹو تو خون نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ یک ٹک اس اینکر کو دیکھے جارہی تھی ۔۔۔ جو خرم کے کردار کی دھجیاں بکھیر رہا تھا۔۔۔۔
نگہت سومرو نے واضح بتایا ہے کہ وہ دونوں پچھلے چار سال سے ایک دوسرے میں انوالو تھے ۔۔۔۔۔ آئیے ہم ان کا دکھ ان کی زبانی سنتے ہیں ۔۔۔۔
پریس کلب کہ سامنے وہ اپنی سیکرٹری کہ ساتھ کھڑی ٹسوے بہاتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔۔
“خرم کی یہ بے وفائی میری برداشت سے باہر ہے ۔۔۔۔ مجھے ہر گز اندازہ نہیں تھا ایک چھوٹی سی بات پر وہ تمام تعلقات بھلا کر کسی اور سے شادی کرلے گا ۔۔۔۔ اس نے مجھے اتنے سال دھوکے میں رکھا کہ وہ کسی اور کے نکاح میں ہے۔۔۔۔”
خرم نے غصہ میں ریموٹ ایل ای ڈی پہ دے مارا۔۔۔۔۔۔۔
ورشہ ڈر کر پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
خرم نے سرخ نگاہوں سے ورشہ کو دیکھا ۔۔ جہاں بے یقینی ہی بے یقینی رقم تھئ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ورشہ آپ کو مجھ پر یقین ہے یا نہیں ؟؟،
خرم نے وہیں بیٹھ کر پتھریلہ لہجے میں ورشہ سے پوچھا :
ورشہ کی خاموشی پر وہ اسے تیز نظروں سے گھور کر بیڈ روم سے نکل گیا۔۔۔ اس کے پاس ابھی ورشہ کو صفائی دینے کا وقت نہیں تھا فوری طور پر وہ نظیر صاحب سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
ورشہ نے اسے جاتا دیکھا تو منظر دھندلا گیا ۔۔۔۔ “کیا واقعی وہ لڑکی سچ کہہ رہی ہے اتنی بڑی بات وہ میڈیا کہ سامنے کیسے کرسکتی ہے ۔۔۔۔
سیاسی لیڈروں کا کیا دین ایمان یہ تو اپنی خواہشات کیلئے کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”
اس کی اس سوچ پر شیطان مکمل حاوی ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھوڑی دیر پہلے والا محبت سے لبریز رویہ بھلا کر اینکر کی بات پر یقین کربیٹھی۔۔۔۔
بے دردی سے چوڑیاں اتار کر ورشہ نے اپنی کلائی زخمی کرلی ۔۔۔ اور چینج کئے بنا تھکیہ پر سر رکھے رونے لگی ۔۔۔۔۔
~~~~~~~`~~~~~~~~““`~~~~~
بلند وبالا قہقہہ پورے کمرہ میں گونج رہے تھے۔۔۔
الکوہل کی زیادتی سے اس کی انکھیں انگارہ ہوچکی تھیں لیکن وہ پھر بھی نہ رکی اور الکوہل کو میدے میں اتارتی چلی گئ۔۔۔۔
” مجھے بے عزت کرو گے تم مجھے بتاو گے کہ محبت نہیں ہے ۔۔۔۔ اب ساری زندگی اپنی سو کالڈ بیوی کو یقین دلانا۔۔۔۔ “
ہاہاہاہایاہاہاہ
اسی کہ جیسے کچھ عیاش دوست اس کہ ساتھ ناچ گا رہے تھے ۔۔۔۔
“واہ مان گئے نگی کیا دماغ پایا ہے تم نے ۔۔۔”
شراب کہ نشے میں جھومتے ایک لڑکے نے کہا جس کی انکھیں بھی پوری طرح سے نہیں کھل پارہیں تھیں۔۔۔۔
نگہت نے کمینگی مسکراہٹ کہ ساتھ سگریٹ سلگائئ اور لپ اسٹک زدہ ہونٹوں کہ بیچ میں دبا کر کش لیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
“انجوئے کرو میری نفرت ۔۔۔۔۔”
وہ زہر خند لہجے میں بولی اور دوسرا کش لے کر دھواں فضا میں تحلیل کیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
جاری ہے :
