Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sanam By Sheeza Writer Last Episode

Sanam By Sheeza Writer Last Episode

________________________________________________
وہ اُسے بیڈ پر لیٹا کر پیچھے ہوا تو حیا دروازہ کھول کر اندر آٸی….
جو شاید اُسے ڈھونڈ رہی تھی
کیا ہوا اسے؟ وہ فکر مندی سے بولی
پتہ نہیں پوچھے اس سے خود ہی وہ بے زرا سا اٹھا اور پانی کا گلاس ساٸیڈ ٹیبل سے لے کر اس پر چھنٹے مارے
جس پر اُس نے کسمسا کر انکھیں کھولی
اور جیسے ہی ذہن بیدار ہوا ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گٸی
کیا ہوا مشی ؟ حیا نے جھٹ سے سوال کیا
مشی نے گھور کر افاق کو دیکھا جو فل تپ ہوا تھا…..
اُس کی طرف کیا دیکھ رہی ہو ادھر دیکھو میری طرف….
حیا کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا مشی نے ایک نظر افاق کو دیکھیں اور پھر ٹیرھے میرھے منہ بنا کر وہ حیا کو بتاتا گٸی…..
مشی کی بات ختم ہونے پر حیا کھلکھلا کر ہنس لگی اور پھر ہنستی ہی گٸی
آپ ہنس رہی ہے آنی…..اُس نے منہ پھلایا
تو میری جان تمہاری حرکتیں بھی تو ایسی ہے اظہار محبت پر کوٸی بے ہوش ہوتا ہے
مگر آنی اس کمبے نے مجھے ڈرا دیا وہ حیا کے گرد بازو حاٸل کر لاڈ سے بولی
جبکہ افاق اُس کے ڈرامہ دیکھ کر بد مزا ہو رہا تھا…..
بھابھی اس سمجھ دے شادی تو میں اس سے کرو گا چاہے جو بھی ہو جاۓ
وہ تن فن کرتا کمرے سے باہر چلا گیا…
آنی میں اس کمبے پلس لنگور سے شادی نہیں کرو گی وہ غصہ سے بولتی واشروم میں گُھس گٸی……
جبکہ حیا وہی سر پکڑ کے بیٹھ کر سوچنے لگی
________________________________________________
مایوں کا فنکشن ختم ہوا تو سب تھکے ہارے جہاں جگہ ملی وہی سو گٸے…..
سکندر !!!وہ اُس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹی تھی
ہممم جانم!!!!! وہ بند انکھوں سے بولا
سو گٸے کیا؟ نہیں تو
آپ سے بات کرنی ہے….
ہم تو دل و جان سے متوجہ ہے بولے کیا بات ہے وہ شوخ ہوا……
حیا نے گھور کر اُسے دیکھ جس سے وہ ہنس دیا
اچھا اچھا سوری …. بولو جانم
میں سوچ رہی تھی کل مسکان اور عمر بھاٸی کی مہندی پر مشی اور افاق کی منگنی کی چھوٹی سی رسم کر دے
ہممممم خیال تو آپ کے نیک ہے کیونکہ افاق کی انکھوں میں مشی کے لیے محبت دیکھ چکا ہوں……
مگر مشی کو مناۓ گا کون جانم ؟
وہ آپ مجھ پر چھوڑ دے وہ ایک ادا سے بولی
ہاہاہا یہ بھی ٹھیک ہے
اچھا زرا پاس آٶ تم سے بات کرنی ہے وہ پھر سے پٹڑی سے اترا
حیا قریب ہوٸی تو سکندر نے کینھچ کر اُسے خود میں سمو لیا…..
حیا نے بھی سکون سے انکھیں موند لی……
______________________________________________
مہندی کے فنکش کا انتظام بھی لان میں کیا گیا تھا… ہر طرف برقی قمقموں کی بہار تھی….
مسکان شرماٸی گھبراٸی سی عمر کے پہلو میں بیٹھی تھی ..
جو کوٸی نا کوٸی شوخ جملہ کہتا اُس کی دل کی دھڑکن تیز کر دیتا تھا
اس وقت وہ مہندی رنگ کے کرُتے اور سیفد شلوار میں مبلوس ہنڈسم لگ رہا تھا
جبکہ مسکان گرین اور اونج کلر کی میکسی پہنے ہاتھوں میں بھر بھر کر پیا کے نام کی مہندی لگاۓ اور ہلکے سے میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی…..
عمر کی ضد پر آج اُسے گھونگھٹ نہیں کروایا
چلے عمر انکل مسکان آنی کا منہ میٹھا کریں مشی جو اونج اور پرپل کلر کے گرارے میں سر پر سلیقے سے ڈوپٹہ سیٹ کیے چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی شرارت سے بولی
عمر نے گھور کر اُسے دیکھا اور پہلے خود کھایا پھر وہی ساٸیڈ مسکان کی طرف کی مسکان نے تھوڑا سا کھایا اور چہرا جھکا لیا….
جاناں!!!!! بندہ کمزور دل کا ہے ان اداٶں سے بہک بھی سکتا ہے کچھ خیال کریں وہ شوخ ہوا…..
مشی مسکان کے ساتھ جگہ بنا کر بیٹھ گٸی اور اُس سے باتیں کرنے لگی…..
افاق کی بار بار نظر بھٹک کر مشعل کے سراپے پر ٹہر رہی تھی
جو آج اُسے مکمل اگنور کر رہی تھی مگر اُس کی بات منانے پر وہ دل سے خوش ہوا…
_______________________________________________
پیاس کی شدت سے وہ اٹھ کر اندر آٸی تاکہ پانی پی سکے
مگر ہاتھوں پر مہندی لگی ہونے کی وجہ سے وہ پانی نہیں پی سکتی تھی ابھی وہ کھڑی سوچ رہی تھی جب اُسے اپنے گرد مضبوط حصار محسوس ہوا…..
اور اپنی گردن پر لمس جس سے اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آٸی….
جانم بندہ پہلے ہی گھاٸل ہے ایسے کیل کانٹوں سے لیس ہو کر آپ ہمارا سکون برباد کر رہی ہے
اس وقت وہ گرین کلر کا بیل بلٹم اور ساتھ شوٹ شرٹ پہنے ہلکے سے میک اپ میں وہ اُس کو بےتاب کر رہی تھی
گرین انکھیں جو سکندر کی کمزوری تھی وہ اُسے دیوانہ کر رہی تھی……
اففف نا تنگ کریں کوٸی دیکھ لے گا وہ اُس کی گرفت میں کسمساٸی
پیاس لگی ہے میری جان کو شوخ ہوا اور اُس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا جب حیا نے ہاتھ اُس کے ہونٹوں پر رکھ
مجھے پانی کی پیاس لگی ہے مسٹر
سکندر بدمزا ہو کر پیچھے ہوا اور پھر فریج سے پانی نکل کر گلاس میں ڈالا اور اُسے پلانے لگا…..
پھر اُس کے ماتھے پر بوسا دیا خدا تمہارے ہونٹوں پر ہنسی یوہی قاٸم رکھے…..
وہ اُسے محبت سے دیکھتا بولا اور اُس کے گال چومتا باہر چلا گیا…..
جبکہ وہ ابھی تک اُس کی خوشبو میں کھوٸی تھی….
________________________________________________
آنی میں اُس کمبے سے منگنی نہیں کرو گی وہ منہ بسور کر بیٹھی تھی جبکہ افاق کو کمبا کہنے پر عمر اور سکندر نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہقہ روکا…..
وہ تم سے بہت پیار کرتا ہے چندا پلیز مان جاو حیا پیار سے بولی….
مگر آنی وہ مجھے انکھیں دیکھتا ہے ایک اور شکایت
چندا کچھ نہیں کہے گا
مگر آنی!!!!!مشی اب بس چپ اگر مگر کچھ نہیں تھوڑی دیر بعد رسم ہے اپنی شکل ٹھیک کر کے باہر آو…
وہ مضوعی غصہ سے بولتی سب کو لیے باہر آگٸی….
اللہ کریں لنگور تمہیں دلہن کالی ملے اُس کے دانت نا ہو وہ اونچا سنے وہ ہاتھ اٹھ کر بددعا دینے لگی جب کچھ یاد آنے پر چپ ہو گٸی “اففف وہ تو مجھے ہی بنا ہے اللہ جی اُس کی دلہن بہت پیاری ہو…..
کیا مصبیت ہے وہ جھںجھلا کر واشروم میں گُھس گٸی……
_______________________________________________
مشی نے اپنے نام کی انگھوٹی افاق کی انگلی میں ڈال دی افاق کی خوشی کا تو کوٸی ٹھکانہ نہیں تھا
افاق نے انگھوٹی پہننے کے لیےاپنا ہاتھ بڑھایا
ایک منٹ میری کچھ شرط ہے اُس کے بعد ہی میں یہ انگھوٹی پہنو گی وہ سب کی طرف دیکھ کر بولی
ہممم بولو چندا کیا ہوا
پہلی شرط یہ مجھے ڈانٹے کا نہیں دوسری ہر ہفتہ شوپنگ کرواۓ گا اور ہم ڈنر باہر کریں گے تیسری اسے میں جو مرضی بلاٶ یہ مجھے صرف مشی کہے گا چوتھی…..
اوووو ہیلو بریک لگاٶ بی بی وہ غصہ سے بولا اور ہاتھ پکڑ کے انگھوٹی اُس کی انگلی میں پہناٸی….
وہ حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی جبکہ کہ سب کے ہونٹوں پر دبی دبی ہنسی تھی……
________________________________________________
وہ دلہن بنے عمر کی سیج پر بیٹھی گلاب کے پھولوں سے سجا کمرا ایک الگ ہی فسوں پیدا کر رہا تھا…..
آنے والے لمحوں کے بارے میں سوچ کر وہ مسلسل اپنے ریڈ لپسٹک سے سجا ہونٹ کاٹ رہی تھی…
.
ڈیپ ریڈ گرارا پہنے اور اوپر شاٹ شرٹ ڈالے جس پر خوبصورتی سے نفیس کام ہوا تھا
اُس پر ٹوٹ کے روپ آیا تھا…..
تھوڑی دیر بعد کمرے کا دراوزہ کھولا اور وہ چہرے پر مسکراہٹ لیے اندر داخل ہوا….
شروانی کے بٹن کھول کر وہ اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا
دھیر سے اسلام کیا اور پھر اُس کا سرد ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا….
جاناں!!!!! بہت خوبصورت لگ رہی ہو وہ اُس کی تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر چہرا اونچا کیا…..
تم سے وعدہ کرتا ہوں جاناں دنیا کی ہر چیز تمہارے قدموں میں لا کر رکھ دو گا تمہیں اتنا پیار دو گا کہ تم تنگ آ جاو گی وہ شرارت سے بولا…..
اس دل نے تمہیں دیکھتے ہی پانے کی چاہ کی تھی اور خدا نے میری دل کی آواز سن لی
وہ مدھم سرگوشی کرتا اُس کے زیور اتر رہا تھا پھر اُس نے اپنی گرفت میں لیے اور ہونٹوں پر جھک گیا
جبکہ مسکان نے سکون سے انکھیں موند لی…..
________________________________________________
ایک سال بعد……
وہ ہسپتال کے کاریڈورا میں یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا پریشانی اُس کے چہرے پر عیاں تھی….
عمر اور مسکان بھی حیا کی زندگی کے لیے دعا گو تھے تھوڑی دیر بعد آپریشن تھیٹھر کا دروازہ کھولا اور ڈاکٹر باہر آۓ…..
ڈاکٹر ماٸی واٸف وہ بے چینی سے بولا….
وہ بلکہ ٹھیک ہے مسٹر سکندر مبارک ہو خدا نے آپ کو ایک چھوٹی سی ڈول دی ہے
وہ مسکراتےہوۓ بولے تھوڑی دیر میں ہم انہیں روم میں شفٹ کر دے گے…..
تھینک یو ڈاکٹر وہ خوشی سے بولا…
مبارک ہو یار میں چاچو بن گیا عمر اُس کے گلے لگا جبکہ سکندر رونے لگا…..
او کیمنے بسوری شکل بناٸی تو مار کھاۓ گا مجھ سے عمر نے ایک تھپڑ اُس کی کمر میں مارا……
_______________________________________________
تمہیں کہا بھی تھا جلدی چلو مگر تم تو آدمیوں کے ساتھ شرط لگا کر سوتی ہو….
افاق غصہ سے بولا او ہیلو اگر زیادہ مجھے باتیں سناٸی تو میں یہ انگھوٹی اتر دو گی
مشی نے اُس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا …..
دیکھ لو گا تمہیں اپنا ٹاٸم آۓ گا وہ دانت پیستا کمرے میں چلا گیا جہاں حیا کو رکھا تھا…..
_______________________________________________
جانے پہچانے لمس پر اُس نے کسمسا کر انکھیں کھولی تو اپنے اوپر جھکے سکندر کو دیکھا جو نم انکھوں سے مسکرا رہا تھا….
ان کی پیاری سی ڈول حیا کے ساتھ لیٹی سو رہی تھی
تھینک یو حیا مجھے اتنا پیارا گفٹ دینے کے لیے
حیا مسکراٸی آپ خوش ہے سکندر
بہت خوش ہوں جانم دل کر رہا ہے بھگڑے ڈالو وہ شوخ ہوا اور اُس کے ہونٹ نرمی سے چھوے….
کچھ دیر بعد روم میں افاق مشی عمر اور مسکان داخل ہوۓ
مسکان کو چوتھا مہینا تھا اس لیے عمر اس کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھتا تھا…
اففففف یہ کتنی پیاری ہے آنی اُس نے جھٹ سے اُس کے گال چومے
بھاٸی ویسے نام کیا رکھا ہے اس ڈول کا افاق اُسے پیار سے دیکھتا بولا…
تم پیچھے ہو کمبے وہ غصہ سے بولی جبکہ وہ ڈھیٹ بنا اُسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیے کھڑا رہا…..
عبیرہ سکندر علی وہ مسکرایا اور حیا کو دیکھا جو خوشی سے اپنے پورے خاندان کو دیکھ رہی تھی
جہاں اب صرف خوشیاں تھی غم کا دور دور تک نشان نہیں تھا
ختم شدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *