Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode01
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode01
Sanam By Sheeza Writer Episode01
______________________________
چاند کی مدہم روشنی کھڑکی سے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑا باہر نظر آتے عکس کو دیکھ رہا تھا جو ہلکی سی روشنی میں ایک الگ منظر پیش کر رہے تھے،،،،،،،
آج اُسے جدا ہوۓ دس سال ہو چکے تھے۔۔۔۔وہ ہر روز ایک نٸی اذیت سے گزرتے تھے۔
کون سی ایسی جگہ نہ تھی جہاں انہوں نے اُسے تلاش نہ کیا ہو
اُن کی ایک غلطی کی سزا وہ اپنی جداٸی کی صورت میں دے کر چلی گٸی تھی۔۔۔۔۔
اب تو نیند بھی انکھوں سے دور تھی۔۔کون کہہ سکتا ہے ایک یہ شخص کبھی ایسے بھی کمزور پر جاۓ گا
______________________________
تم بھی اُس جیسی نکلی اپنے حُسن کے جال میں پھنس کر ہم دونوں کو پاگل کرتی رہی۔۔۔۔۔
ابھی تو اس کے ساتھ ہو اور نہ جانے کون کون ہو گا!!!!!!!
یہ الفاظ کسی تیر کی طرح اُس کے دل کو چھلنی کر جاتے تھے۔۔۔۔
دس سال ہو گٸے تھے اُس واقعے کو مگر درد تھا کہ ختم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
اب تو وہ زندگی سے بھی بیزار ہونے لگی تھی ، مگر شاید خدا کو ابھی اُس پر ترس نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح یہ رات بھی اُس نے خدا کے حضور سجدہ میں گزری جہاں اُسے سکون ملتا تھا۔۔۔۔۔
_____________________________
وہ اس وقت ڈاٸنگ ٹیبل پر سربراہی کرسی پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔۔
داٸیں طرف اُس کا دس سالہ بیٹا افاق بیٹھا تھا،،،،جبکہ کے باٸیں طرف بی بی جان بیٹھی تھی۔۔۔۔
تمام ملازم سر جھکاۓ کھڑے اُس کے اگلے حکم کے منتظر تھے۔۔۔۔۔
سکندر ہمیں تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے____یہ بات اگر میری شادی کے متعلق ہے تو کوٸی ضرورت نہیں
مگر کیوں ؟ بتانا پسند کرۓ گے آپ
دیکھے ہم اکیلے اس گھر کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے
اب ہم بوڑھے ہو گٸے ہیں۔،،،، اور پھر پتہ نہیں کب یہ چلتی سانس بھی روک جاۓ۔۔۔۔۔
وہ تھکے ہوۓ لہجے میں بولی
آپ کو کچھ نہیں ہو گا امی جان،،اور رہی شادی کی بات تو وہ میں کبھی نہیں کرو گا۔۔۔۔۔۔
کیوں کے مجھے عورت پر بھروسہ نہیں!!! میرے لیے میرا بیٹا ہی کافی ہے
سرد لہجے میں کہتا وہ اپنا کوٹ اٹھا کر چل گیا
روبن کہاں ہو تم ؟وہ ایک دم دھاڑا
ج۔۔جی سر
گاڑی کیوں نہیں تیار کروائی وہ درشتگی بولا۔۔۔۔۔
سس۔۔سوری سر وہ افاق بابا کے سکول کا بیگ تیار کرنے لگا تھا۔۔۔۔
میرے کام کے وقت صرف کام کیا کرو سمجھے۔۔۔۔
جاو اب میری شکل کیا دیکھ رہے ہو،،،، اور روبن بوتل کے جن کی طرح کہی غائب ہوا۔۔۔۔۔
_____________________________
حیا بیٹا کالج نہیں جانا ؟ وہ کمرے میں داخل ہوتی بولی۔۔۔۔۔
جی امی بس ہو گٸی تیار ،آج تمہیں میری وجہ سے دیر ہو گٸی۔۔۔۔۔
نہیں امی وہ مامی نے برتن دھونے کا کہاں تھا اس لیے۔۔۔۔۔
وہ عبایا پہنتی بولی..
اب کیسے جاو گی کالج عرفان بھاٸی تو علیزے کو لے کر چلے گٸے ہے
وہ پریشان ہوٸی!!! کوٸی بات نہیں امی میں رکشہ سے چلی جاو گی
زینب کے شوہر کے انتقال کو گیارہ سال ہو گٸے تھے…تب سے وہ اپنے بھاٸی کے گھر رہتی ہیں،بھاٸی کا تو ان کے ساتھ رویہ ٹھیک ہے۔۔
مگر اُن کی بھابھی ان کے ساتھ نوکروں سے بھی بدتر سلوک کرتی ہے
ٹھیک پھر اللہ کے امان میں، اچھا یہ لو کچھ پیسے وہاں سے کچھ کھا لینا وہ اُس کا ماتھا چومتی ہوٸی بولی۔۔۔۔۔
______________________________
ایک تو آج رکشہ بھی نہیں ملا
پتہ نہیں کب میری زندگی ٹھیک ہو گی خدا نے اور کتنے امتحان لکھیں ہے میرے نصیب میں۔۔۔۔
وہ خدا سے شکوہ کرتی جا رہی تھی جب وہ اچانک گاڑی کے سامنے آ گٸی ۔۔۔۔ڈرائيور نے بروقت بریک لگائی ورنہ بہت برا حادثہ ہونا تھا
کیا ہوا ہے ؟ سر کوٸی لڑکی گاڑی کے سامنے آ گٸی وہ ڈرتے بولا
وہ گاڑی سے باہر نکلا اور لمبے لمبے ڈگ بڑھتا اُس کے قریب پہنچا
جو انکھیں بند کیے کھڑی تھی
اندھی ہو تم یا انکھیں کسی کو دے آٸی ہو
وہ اپنا سارا غصہ اُس پر نکلنے لگا
اگر اتنا ہی شوق ہے خودکشی کا تو زہر کھا کے مرو میری گاڑی کے نیچے نہیں
و۔وہ میں کچھ نہیں کیا بس اچانک پتہ نہیں کیوں لیکن حیا سے اُس کے سامنے بولا نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔۔
پتہ ہے مجھے تم جیسی لڑکیوں کا امیر گاڑی کے آگے آتی ہے اور ایسڈنٹ ہونے کی صورت میں اُسے پیسے لیتی ہے
دیکھے میں ایسی نہیں ہوں وہ اپنی سبز انکھیں اٹھا کر بولی اس وقت وہ مکمل نقاب میں تھی
سکندر نے اُس کی انکھوں میں نمی دیکھی پتہ نہیں کیوں لیکن ایک پل کے لیے اُس کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔۔۔۔
نہیں یہ جال ہے وہ اپنے دل کو سنبهالتا بنا اس کی طرف دیکھ گاڑی میں جا بیٹھا
ڈرائيور گاڑی چلاو
اوکے سر وہ تابعدای سے بولا
وہ جا چکا تھا مگر وہ ابھی بھی وہاں ہی کھڑی تھی
پھر وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گھر کی طرف چل دی کالج جانے کا تو اب کوٸی فائدہ نہیں تھا
______________________________
چھ منزلہ عمارت اپنی پوری شان سے کھڑی تھی
ٹاپ فلور پر اُس کا شاندار آفس تھا جہاں وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا
آفس کا دروازہ کھلا اور ایک باٸیس سالہ لڑکی اندر داخل ہوٸی
ڈوپٹہ سے بے نیاز جینز اور ریڈ کلر کی شرٹ پہنے بال کھولے چھوڑے، پنک لپ سٹک ہونٹوں پر لگاۓ
وہ اُس کے سامنے بیٹھی تھی سکندر نے ایک نظر اُسے دیکھا اور پھر نظروں کا زاویہ بدل لیا
کیوں آٸی ہو؟
تم سے ملنے کا دل کر رہا تھا اور یقينی تمہارا بھی دل کر رہا ہو گا میرے ساتھ وقت گزرنے کا۔۔۔۔۔وہ ایک ادا سے بولی
میرے پاس دل نہیں ہے وہ سرد لہجے میں بولتا منہ موڑ گیا
اگر میرے ساتھ وقت گزرو گے تو دل بھی دھڑکنا شروع کر دے گا
وہ قریب ہو کر اُس کے گلے میں بازو ڈالتی بے باکی سے بولی
اس وقت وہ سکندر کو زہر سے بھی زیادہ بری لگ رہی تھی
مس تعبير مجھے ایک ضروری میٹنگ میں جانا ہے پلیز آپ یہاں میرا انتظار کریں۔۔۔۔۔
مجھے سے بھی ضروری ہے
ہاں!!! وہ ایک لفظی جواب دیتا اپنا موبائل اٹھاتا باہر چلا گیا
تمہارا یہی انداز تو پسند ہے مجھے اور ایک دن میں تمہیں ضرور حاصل کرو گی
یہ وعدہ ہے میرا تم سے وہ بڑبڑاٸی اور اپنا بیگ اٹھا کر وہ بھی چلی گٸی
______________________________
وہ تھک سا گھر میں داخل ہوا ،تو لاونج میں بی بی جان کو بیٹھا پایا
آپ ابھی سوٸی نہیں ؟
بس نیند نہیں آ رہی تھی
کوٸی بات کرنی ہے وہ اُن کا چہرا دیکھتا بولا
جانتے ہو ہم نے کون سی بات کرنی ہے آپ سے
پلیز امی ختم کریں اس ٹوپک کو جب میں کہا دیا کہ نہیں کرنی شادی تو نہیں کرنی
وہ غصہ سے پھٹ پڑا
صبع بھی کہا تھا میرے لیے میرا بیٹا کافی ہے
وہ آپ کا بیٹا نہیں ہے سکندر
وہ میرا ہی بیٹا ہے امی سمجھی آپ
آپ کے کہنے سے حقیت بدل نہیں جاۓ گی
وہ آپ کو کسی کوڑے دان سے ملا تھا یہ مت بھولے آپ
امی بس میں نے کہا دیا تو وہ میرا ہی خون ہے
وہ غصہ سے جانے لگا جب بی بی جان بولی
آپ یہ شادی ضرور کریں گے نہیں تو میرا مرا ہوا منہ دیکھے آپ
امی جان وہ جلدی سے اُن کے قریب آیا
ہم آپ کو ایسے تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتے سکندر
آپ کب تک اُس بے وفا عورت کے سوگ میں رہے گے
جانتے ہے آپ کے بابا نے برا کیا آپ کے ساتھ جو آپ کی شادی کروا دی جب آپ راضی نہیں تھے
سکندر نے کرب سے انکھیں بند کی
اب ہماری بات مان لے وہ بہت اچھی لڑکی ہے ،میری دوست کی بیٹی ہے”حیا“
جسے آپ کو ٹھیک لگے امی وہ تھکے سے انداز میں کہتا اوپر اپنے روم میں چلا گیا
_____________________________
حیا!!!! فاٸزہ بیگم چلا کر بولی
کیا ہوا ہے بھابھی ؟اب کیا کر دیا حیا نے
زیب حواس بختا ہوتی کیچن سے باہر آٸی
یہ دیکھو میری نہیں قمیض جلا دی اُس نے
آج تو اس کو نہیں چھوڑو گی
بھابھی بچی ہے معاف کر دے
نہیں اگر میں ایسے ہی معاف کرتی رہی تو تم دونوں تو میرے سر پر چڑھ جاو گی۔۔۔۔
حیا!!!!!جی مامی کیا ہوا وہ سر پر ڈوپٹہ لیتی باہر آٸی
کیا ہوا کی بچی یہ کیا کیا تم نے وہ اُسے بالوں سے پکڑتی اپنے سامنے کرتی بولی
مامی قسم سے یہ میں نے نہیں کیا ، میں علیزے کو کہا کر گٸی تھی
مجھے امی نے بلا لیا تھا وہ اپنی صفاٸی دیتی بولی
میری مصوم بچی پر الزام لگاتی ہو ، انہوں نے ایک تھپڑ اُس کے نازک گال پر مارا
جس سے وہ دور جا گری اور ہونٹ سے خون رسنے لگا۔۔۔
آج تم دونوں ماں بیٹی کا کھانا بند سمجھی۔۔۔۔
وہ قمیض اُس کے منہ پر مارتی چلی گٸی
پیچھے وہ ماں کے سینے لگی رو دی
______________________________
جاری ہیں۔۔۔۔۔۔۔
