Sanam By Sheeza Writer NovelR50773
Last updated: 10 July 2026
No Download Link
635.8K
18
Sanam By Sheeza Writer Episode01Sanam By Sheeza Writer Episode02Sanam By Sheeza Writer Episode03Sanam By Sheeza Writer Episode04Sanam By Sheeza Writer Episode05Sanam By Sheeza Writer Episode06Sanam By Sheeza Writer Episode07Sanam By Sheeza Writer Episode08Sanam By Sheeza Writer Episode09Sanam By Sheeza Writer Episode10Sanam By Sheeza Writer Episode11Sanam By Sheeza Writer Episode12Sanam By Sheeza Writer Episode13Sanam By Sheeza Writer Episode14Sanam By Sheeza Writer Episode15
Sanam By Sheeza Writer
چاند کی مدہم روشنی کھڑکی سے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑا باہر نظر آتے عکس کو دیکھ رہا تھا جو ہلکی سی روشنی میں ایک الگ منظر پیش کر رہے تھے،،،،،،،
آج اُسے جدا ہوۓ دس سال ہو چکے تھے۔۔۔۔وہ ہر روز ایک نٸی اذیت سے گزرتے تھے۔
کون سی ایسی جگہ نہ تھی جہاں انہوں نے اُسے تلاش نہ کیا ہو
اُن کی ایک غلطی کی سزا وہ اپنی جداٸی کی صورت میں دے کر چلی گٸی تھی۔۔۔۔۔
اب تو نیند بھی انکھوں سے دور تھی۔۔کون کہہ سکتا ہے ایک یہ شخص کبھی ایسے بھی کمزور پر جاۓ گا
______________________________
تم بھی اُس جیسی نکلی اپنے حُسن کے جال میں پھنس کر ہم دونوں کو پاگل کرتی رہی۔۔۔۔۔
ابھی تو اس کے ساتھ ہو اور نہ جانے کون کون ہو گا!!!!!!!
یہ الفاظ کسی تیر کی طرح اُس کے دل کو چھلنی کر جاتے تھے۔۔۔۔
دس سال ہو گٸے تھے اُس واقعے کو مگر درد تھا کہ ختم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
اب تو وہ زندگی سے بھی بیزار ہونے لگی تھی ، مگر شاید خدا کو ابھی اُس پر ترس نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح یہ رات بھی اُس نے خدا کے حضور سجدہ میں گزری جہاں اُسے سکون ملتا تھا۔۔۔۔۔
_____________________________
وہ اس وقت ڈاٸنگ ٹیبل پر سربراہی کرسی پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔۔
داٸیں طرف اُس کا دس سالہ بیٹا افاق بیٹھا تھا،،،،جبکہ کے باٸیں طرف بی بی جان بیٹھی تھی۔۔۔۔
تمام ملازم سر جھکاۓ کھڑے اُس کے اگلے حکم کے منتظر تھے۔۔۔۔۔
سکندر ہمیں تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے____یہ بات اگر میری شادی کے متعلق ہے تو کوٸی ضرورت نہیں
مگر کیوں ؟ بتانا پسند کرۓ گے آپ
دیکھے ہم اکیلے اس گھر کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے
اب ہم بوڑھے ہو گٸے ہیں۔،،،، اور پھر پتہ نہیں کب یہ چلتی سانس بھی روک جاۓ۔۔۔۔۔
وہ تھکے ہوۓ لہجے میں بولی
آپ کو کچھ نہیں ہو گا امی جان،،اور رہی شادی کی بات تو وہ میں کبھی نہیں کرو گا۔۔۔۔۔۔
کیوں کے مجھے عورت پر بھروسہ نہیں!!! میرے لیے میرا بیٹا ہی کافی ہے
سرد لہجے میں کہتا وہ اپنا کوٹ اٹھا کر چل گیا
روبن کہاں ہو تم ؟وہ ایک دم دھاڑا
ج۔۔جی سر
گاڑی کیوں نہیں تیار کروائی وہ درشتگی بولا۔۔۔۔۔
سس۔۔سوری سر وہ افاق بابا کے سکول کا بیگ تیار کرنے لگا تھا۔۔۔۔
میرے کام کے وقت صرف کام کیا کرو سمجھے۔۔۔۔
جاو اب میری شکل کیا دیکھ رہے ہو،،،، اور روبن بوتل کے جن کی طرح کہی غائب ہوا۔۔۔۔۔
