Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode14
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode14
Sanam By Sheeza Writer Episode14
_______________________________________________
حیا عمر کے ساتھ یونی پہنچی تو مشی اُسے گیٹ پر کھڑی نظر آٸی ….جو اپنی دوست کی بات پر ہنس کر کچھ کہہ رہی تھی…عمر نے حیا کی نظروں کی سمت میں دیکھ تو اُس وہ نیلی انکھوں والی ڈول بہت پسند آٸی….
مشی جو کھڑی حیا کا ویٹ کر رہی تھی اُسے کسی کار سے باہر آتا دیکھ چونکی مگر بولی کچھ نہیں…۔
مشی میری جان کیسا رہا آج کا دن ؟
وہ اُس کے قریب پہنچ کر پیار سے بولی
بہت اچھا آنی…. بس میں نے اپنی ڈرالنگ کو بہت مس کیا وہ منہ بسور کر بولی.
حیا اس کی بات پر مسکرا دی…
یہ کون ہے ؟ اُس نے عمر کی طرف اشارہ کیا جو کسی سے فون پر بات کر رہا تھا….
تمہیں بتایا تھا جان کہ میری فیملی گُم ہو گٸی تھی…
مشی نے اثبات میں سر ہلایا
بس آج مجھے سب دوبارہ مل گٸے …اب چلو باقی باتیں گھر میں جا کر سب سے مل کر کرنا…..
او زبردست آنی یعنی اب میری بھی ایک فیملی ہو گی چل پھر چلتے ہے وہ تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھی اور بیک ڈور کھول کر بیٹھ گٸی
اس کی جلدبازی پر حیا ہنس دی….
ہیلو ڈول کیسی ہے آپ عمر پیار سے بولا
اس کے ڈول کہنے پر وہ کھکھلا کر ہنس دی ، میں ٹھیک ہو انکل ویسے میری دوست بھی مجھے ڈول کہتے ہے…
جبکہ اس کے انکل کہنے پر عمر نے خود کو شیشے میں دیکھ کہ وہ کہا سے انکل لگ رہا ہے…
حیا بھی اب مشی کے ساتھ بیٹھی عمر کے چہرے کے زاویہ دیکھ کر مسکرا رہی تھی….
ویسے انکل آپ کی شادی ہوٸی ہے؟ اگر نہیں ہوٸی تو ٹینشن نا لے اب میں آ گٸی ہوں بس جلدی سے آپ کے لیے ایک خوبصورت سی آنٹی ڈھونڈو گی…..
ویسے بھی آپ کی عمر نکلی جا رہی ہے …. وہ پٹر پٹر بول رہی تھی جبکہ عمر ہونقوں کی طرح کبھی حیا اور کبھی اس چھوٹی پٹاکا کو دیکھتا…..
حیا نے بڑی مشکل سے اپنا ہنسی کنٹرول کی تھی …..
ویسے انکل آپ مسکراتے نہیں کوٸی مسلہ ہے آپ کے ساتھ چلے چھوڑے میں آپ کو کل جاگنگ پر لے کر جاو گی دیکھے کتنے ڈل لگ رہے ہے آپ صبع اٹھے گے تو فریش ہو جاۓ گے…..
اور شاید پارک میں آپ کو کوٸی اچھی آنٹی پسند آ جاۓ
بیٹھا آپ کتنے سال کی ہے؟ عمر نے ٹوپک چینج کرنے کے لیے پوچھا….
مگر شاید آج اُس کی قسمت خراب تھی
اففف انکل کسی لڑکی سے اُس کی عمر نہیں پوچھتے اُسے برا لگتا ہے اسی وجہ سے ابھی آپ کی شادی نہیں ہوٸی
مشی نے افسوس سے کہاں
جبکہ عمر نے مدر طلب نظروں سے حیا کو دیکھا اور حیا کو بھی عمر پر ترس آ گیا….
مشی چپ کر کے بیٹھو اب تمہاری آواز نا آۓ وہ مضوعی غصہ سے بولی….
اور وہ بھی منہ بسور کے باہر کے نظارہ دیکھنے لگی
________________________________________________
کار جب خوبصورت سے بنگلے کے اندر داخل ہوٸی تو مشی نے شاٸتشی نظروں سے پورے بنگلے کا جاٸزہ لیا
حیا کے چہرے پر پہلے جو مسکراہٹ تھی سکندر کو داخلی دروازے پر کھڑا دیکھ کر کہی غاٸب ہوگٸی…
مشی حیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا رہی تھی وہ جیسے ہی اندر داخل تو سامنے ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھا
مشی اس ملو یہ میری بیسٹ دوست میری جان مسکان ہے
مشی بھاگنے کے انداز میں اُس کے گلے لگی….
کسی ہے آپ مسکان آنی آپ تو بہت خوبصورت ہے میری آنی کی طرح
آنی مجھے آپ کی بہت باتیں بتاتی تھی وہ مسکرا کر اُسے بتا رہی تھی
تم بہت کیوٹ ہو لٹل ڈول مسکان نے اُس کی ناک کھینچی
عمر مسکراتا ہوا مسکان کے ساتھ کھڑا ہو گیا جبکہ حیا سکندر کی نظروں سے بچتی اوپر افاق کے کمرے میں چلی گٸی
کیونکہ وہ اُسے لاونج میں کہی نظر نہیں آیا تھا…..
ویسے لٹل ڈول یہ میری پیاری سی واٸف ہے عمر نے مسکان کے گرد بازو پھیلایا….
اوووو ویسے مسکان آنی آپ نے شادی کی کچھ جلدی نہیں کر دی وہ اُس کے کان میں سرگوشی کرتی پیچھے ہوٸی
اس کی بات پر وہ مسکرا دی
انہیں چھوڑو لٹل ڈول تم اپنی آنی کے ہسبنڈ سے ملو…
اُس نے سکندر کو مشی کے سامنے کیا….
اسلام و علیکم اُس نے جھٹ سے سلام کیا
اُسے وہ بہت اپنا اپنا لگا….
سکندر نے ایک نظر اُسے دیکھا پھر اُس کے سر پر ہاتھ رکھا
ہمارے اس بے رونق گھر میں ولکم پرنسز
آو میں تمہیں کمرا دیکھاٶ جہاں میری یہ چھوٹی سی پرنسز رہے گی…..وہ پیار سے بولا
وہ اُسے اپنے ساتھ لگتا کمرے کی طرف چل دیا
ویسے میں آپ کو کیا کہہ کر بلاٶ گی وہ ٹھوڑی پر انگلی رکھتی سوچتی بولی
اس طرح کرنے سے وہ اور کیوٹ لگ رہی تھی، تم مجھے بڈی کہہ لینے پرنسز
اووو یہ تو زبردست ہو گیا ٹھیک ہے پھر بڈی آج سے ہم پکے والے فرینڈ اوکے
اوکے پرنسز سکندر نے اُس کے گال پر چٹکی کاٹی
جس سے وہ کھلھلا کر ہنس دی
اورپھر سے باتوں میں مگن ہو گٸی جس سے سکندر کی بھی ہنسی کی آواز گھر میں گونجتی …
جبکہ پیچھے کھڑے مسکان اور عمر اُن کی خوشیوں کے لیے دعا گو تھے…
ویسے جان کیا واقعی میں انکل لگتا ہوں وہ اپنا چہرا چھوتا شررات سے پولا….
مسکان دھیرے سے اُس کے قریب ہوٸی اور اُس کے گال کو ہونٹوں سے چھوا…
بلکہ بھی نہیں ،تم تو میرے پرنس ہو …..اب تم میری نیت خراب کر رہی ہو پھیکا پلوان
عمر تم نے باز نہیں نا آنا روکو زرا وہ اُسے مارنے کے لیے دوڑی ……
_______________________________________________
بھابھی آپ کو بتا نہیں سکتا آج میں کتنا خوش ہو تھنک یو میرے پاس واپس آنے کے لیے
اس کی بات پر حیا مسکرا دی
آپ کے جانے کے بعد میں ہوسٹل چلا گیا تھا بی بی جان نے بھی بھاٸی سے تعلق ختم کر دیا اور آپ کا انتظار کرتی کرتی اس دنیا سے چلی گٸی وہ افسردہ ہوا
بھاٸی بہت اکیلے ہو گٸے تھے بھابھی ہر وقت اپنے آپ کو کام میں مصروف رکھتے کافی دفعہ میں نے انہیں روتے دیکھا ہے….
آپ جانتی ہے دو سالوں میں بھاٸی میں ایک اور تبدیلی آٸی ہے
وہ نماز پڑھنا شروع ہو چکے ہے
اب اُن کی سزا ختم کر دیجٸے بھابھی وہ نم انکھوں سے اُس کے ہاتھ پکڑتا بولا….
حیا تو ششدہ سی بیٹھی سکندر کے بارے میں سن رہی تھی…ایک پتھر دل موم ہو گیا اُس کے لیے سمجھنا مشکل تھا
ابھی تم آرام کرو افاق صبع ملاقات ہوتی ہے
وہ اُس کے بال سنوارتی کمرے کی لاٸٹ بند کرتی روم سے باہر چلی گٸی…..
_______________________________________________
وہ بے چینی کی کیفیت میں کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا…..
گیارہ بج گٸے تھے مگر اُس نے روم میں قدم نہیں رکھا تھا…..سکندر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا وہ تن فن کرتا کمرے سے نکل اور سڑھیاں اترتا نیچے آیا….
عمر اور مسکان بھی یہاں روکے تھے پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا….
وہ کچھ جھجھکتا ہوا مشی کے کمرے کی طرف گیا اور ہلکی سے دستک دی دو تین بار دستک دینے پر بھی جب دروازہ نا کھولا تو وہ مایوس ہو کر واپس جانے لگا….
جب کسی سے زور دار ٹکراٶں ہوا…..
اس پہلے کے وہ وجود زمین بوس ہوتا سکندر نے اُسے اپنی باہہوں میں لے لیا……
اُس نے آہستہ سے انکھیں کھولی تو خود کو سکندر کے بازوں میں پایا…
کیا ہے آپ کو کیوں چوروں کی طرح پورے گھر میں گھوم رہے ہے عقل ہے کے نہیں
حیا تپ کر اُس پر چڑھ دوڑی …..
تم کمرے میں کیوں نہیں ؟
میری مرضی اور ہاتھ ہٹاۓ اپنے وہ اُس کی گرفت سے نکلتی ہوٸی بولی….
حیا یہ اب تم اوور ہو رہی ہو چپ کر کے میرے ساتھ کمرے میں چلو ورنہ پھر انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گی….
آپ کی دھمکیوں سے میں پہلے ڈرتی تھی آپ مجھے ان سے کوٸی فکر نہیں پڑتا وہ مشی کے کمرے میں جانے لگی…
جب سکندر نے اُس کے گرد بازوں حاٸل کر کے اُسے پھر سے اپنی گرفت میں لے لیا…..
سکندر پلیز چھوڑے ہمارے درمیاں ایسا کوٸی رشتہ نہیں آپ نے ایسا رشتہ قاٸم ہی کہاں کیا ….
لیکن اگر پھر بھی آپ میرے ذات کو حاصل کرنا چاہتے ہے تو میں حاضر ہوں….
کیونکہ آپ مجھ پر حق رکھتے ہے جو آپ کبھی بھی حاصل کر سکتے ہے….وہ نم انکھوں سے اُس کی بات لوٹاتی بولی….
سکندر نے نرمی سے اپنی گرفت سے آزاد کیا….
ہم پرانی باتیں بھول نہیں سکتے حیا پیار کرتا ہوں میں تم سے وہ اُسے نظروں کے حصار میں لیا بولا….
کوشش کرو گی مگر میں اتنی جلدی آپ کے پیار کو تسلیم نہیں کر پا رہی
ہاں اگر آپ نفرت کا اظہار کرتے تو بات کچھ اور ہوتی…
وہ کہتی کمرے میں بند ہو گی جبکہ وہ کتنی ہی دیر نم انکھوں سے بند دروازے کو تکتا رہا ….
وہ خاموشی سے بیڈ پر مشی کے ساتھ جا کر لیٹ گٸی اس کے لیٹے ہی اُس نے انکھیں کھولی…..
ہمممم آنی ناراض ہے بڈی سے اب تو کچھ کرنا پڑے گا وہ سوچتی مسکرا کر انکھیں موند گٸی…..
_______________________________________________
اُس کی انکھیں کھولی تو شدید بھوک کا احساس ہوا افاق نے گھڑی میں ٹاٸم دیکھا تو دو بج رہے تھے..
وہ پیروں میں سیلیپر پہنتا نیچھے آیا تاکہ کچھ کھا سکے …
کیچن کے قریب پہنچ کر وہ چونکا کیونکہ اندر سے کچھ کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھی….
وہ تیزی سے اندر داخل ہوا مگر وہ کسی لڑکی کو دیکھ کر ایک بار پھر حیران ہوا…..
جیسے ہی اُس نے چہرا موڑا افاق کو ایک اور جھٹکا لگا وہ بار بار اپنی انکھیں َمل کے اُسے دیکھنے لگا
مگر وہ کہی غاٸب نا ہوٸی…..
تو کیا یہ مشی ہے ؟یا اللہ رحم ہم پر وہ دل میں بولا
وہ کیچن میں پانی پینے آٸی تھی مگر اُسے اپنے پیچھے کسی کے ہونے کا احساس ہوا
اُس نے چہرا موڑا تو وہ انکھیں پھاڑ کر کھڑے وجود کو دیکھنے لگی..
تتت…تم یہاں چوری کرنے آۓ ہو شکل سے تو اچھے خاصے امیر لگتے ہو مگر کام ایسے ہے
توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے……
افاق ہونقوں کی طرح اُس کی قنچی کی طرح چلتی زبان دیکھ رہا تھا….
دیکھو میں تو آج ہی اس گھر میں آٸی ہوں میرے پاس ایسی کوٸی چیز نہیں مگر…..
اووووو مسس خیالی پلاٶ اپنے بریک کہی پر بھول کے آتی ہو
اور تمہیں میں شکل سے چور لگتا ہوں وہ اپنے چہرے کی طرف اشارہ کرتا بولا
مشی گھور سے اُس کا چہرا دیکھنے لگی اور پھر بولی لگتے کیا تمہاری تو شکل ہی چوروں والی ہے وہ ہنسی…
تم!!!!! پتہ ہے بہت عقل مند ہوں میں تعریف کی ضرورت نہیں وہ شرمانے کی ایکٹنگ کرتی اُسے اور زچ کر گٸی…..
لڑکی میرے صبر کا امتحان مت لو اور میں مالک ہو اس گھر سمجھی
پتہ نہیں آنی کیسے برداشت کرتی ہو گی وہ بڑبڑایا اور تن فن کرتا کیچن سے باہر چلا گیا
________________________________________________
وہ چھ بجے اٹھی اُس کا ارادہ آج سب کو جوگنگ کروانے کا تھا….
اُس نے پہلے افاق کو اٹھایا جو سڑا ہوا منہ بنا کر اُس کے ساتھ چل رہا
پھر اُس نے انکل عمر کو اٹھایا جو بیچارا کہی سے بھی انکل نہیں لگتا تھا…..
بڈی اٹھ جاۓ پھر ہم جاگنگ پر جاۓ گے اُس نے دراوزے پر دستک دی… وہ ٹریک سوٹ پہنے سب کی استانی بنی تھی….
عمر نیند میں جبکہ افاق بےزرا سا کھڑا تھا اُس کی کارواٸی دیکھ رہا تھا…..
تھوڑی دیر بعد سکندر ٹریک سوٹ پہنے فریش فریش سا باہر آیا
چلے بڈی وہ مسکرا کر بولا
افففف بڈی بہت ہنڈسم لگ رہے ہے آپ
آتے ہی میرے بھاٸی پر قبضہ کر لیا مس خیالی پلاٶ نے افاق نے جل کر سوچا…
وہ سڑھیاں اترتی نیچھے آٸی بڈی آنی کے ہاتھ کا ناشتہ کریں گے وہ شررات سے اُس کی طرف جھکتی بولی
تمہاری آنی نے مجھے قتل کر دینا ہے اگر میں نے فرماٸش کی کوٸی….. وہ مسکرایا
آنی!!!!! مشی نے وہی کھڑے آواز دی وہ جو فجر سے اٹھی کیچن میں گُھسی تھی باہر آٸی….
بولو چندا کیا ہوا؟ وہ آلو والے پراٹھے بنا دے آج ناشتہ میں وہ سکندر کی طرف ایک انکھ دباتی بولی….
ٹھیک چندا وہ مسکراٸی اور دوبارہ کیچن میں گُھس گٸی….
چلے انکل عمر وہ شرارت سے بولی
سکندر اپنی پرنسز کو سمجھا لے میں انکل نہیں ہو وہ منہ پھولا کر باہر چلا گیا
جبکہ پیچھے سب ہنس دیے…..
_______________________________________________
جاری ہیں …….
