Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode16
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode16
Sanam By Sheeza Writer Episode16
_______________________________________________
سس….سکندر اُس کے لب پھڑپھڑاۓ جینے چھونے کی خواہش اُسے بے چین کر رہی تھی….
سکندر کی جان تمہاری یہ اداٸیں کسی دن میری جا…. اس سے پہلے وہ آگے بولتا حیا نے اپنا نازک ہاتھ اُس کے منہ پر رکھ دیا اور نفی میں سر ہلایا…
سکندر نے اُس کا ہاتھ چوما اور پھر اپنی گرفت میں لے کر اُسے بیڈ پر بیٹھایا اور خود نیچھے اُس کے قدموں میں بیٹھ گیا….
کیا میں اب بھی معافی کے لاٸق نہیں باخدا تمہاری جداٸی اب عذاب بنتی جا رہی ہے…..
بہت تھکا ہوا ہوں جانم تمہارے حصار میں پرسکون ہونا چاہتا ہو….. زرا ہم پر بھی نظر کرم کر دے
وہ نرمی سے اُس کا ہاتھ دباتا بولا جبکہ وہ انکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہی تھی….
اب تم ایسے دیکھو گی تو پھر مجھے آفس سے دیر ہو جاۓ گی وہ اُس کی سبز جھیل سی انکھیں چومتا واشروم میں چلا گیا….
جبکہ وہ اپنی دھڑکنوں کا شمار کرتی اٹھی اور اُس کے کپڑے نکل کر رکھ وہ فریش ہو کر باہر آیا تو وہ شیشے کے آگے کھڑی اپنے بال بنا رہی تھی فریش وہ دوسرے کمرے سے ہو آٸی تھی….
سکندر نے پیچھے سے اُسے حصار میں لیا شام کو تیار رہنا شاپینگ پر جاۓ گے اور آج ڈنر بھی باہر کریں گے…
وہ اُس کی گردن اپنی ناک سے چھو کر مدھم سا بولا
مگر سکندر میں تو اپنی…
ششششش بس آج کا وقت میرا جانم اور کوٸی بہانا نہیں
وہ اپنے کپڑے اٹھاۓ ڈراٸسنگ روم میں چلا گیا جبکہ وہ نیچھے ناشتہ بنا چلی گٸی
_______________________________________________
وہ کیچن میں آٸی تو اُس کی انکھیں حیرت سے کھولی کہ واقعی یہ اُس کا کیچن ہے
ہر جگہ چیزیں بکھری تھی سلیب پر آٹا پڑا تھا جو آٹا کم سیفد پانی زیادہ لگ رہا تھا
انڈے اپنی ناقدری پر رو رہے تھے جبکہ پیاز آدھا کاٹا تھا باقی وہی تھا….
حیا نے یہاں وہاں نگاہ دوڑاٸی تو اُسے نیچھے مشی بیٹھی نظر آٸی جو آنسو بہا رہی تھی….
حیا تیزی سے اُس تک پہنچی ….. چندا کیا ہوا اور یہ کیا حالت بناٸی ہے
وہ اُس کے منہ پر جگہ جگہ آٹا دیکھ کر بولی….. اس کے پوچھنے پر وہ اور تیزی سے رونے لگی
آنی…(ہچکی ) وہ میں پراٹھے اور آملیٹ بنانے لگی سوچا تھا آپ کو سپراٸز دو گی مگر مجھے بنے ہی نہیں…
افففف چندا اتنی سی بات پر تم نے رو رو کر برا حال کیا ہے حیا نے اپنا ماتھا پیٹا… چلو اٹھو فریش ہو کر آو پھر یونی بھی جانا ہے
مگر آنی!! شششش پس چپ چلو اٹھو حیا نے اُسے کھڑا کیا اور پھر وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کیچن سے باہر آٸی….
جب وہ کسی وجود سے زور سے ٹکراٸی افاق جو ناشتہ کا پوچھنے آنے والا تھا مشی سے ٹکرایا
افففف صبع صبع اندھے ہو گٸے ہو کیا وہ جھجھلا کر اپنا سر پکڑ کے بولی…..
افاق نے اُسے دیکھا اور مسکرا دیا ویسا آج تم بہت کیوٹ لگ رہی ہے مس خیالی پلاٶ وہ اُس کے چہرے پر نگاہ ڈالتا شررات سے بولا…
مشی نے جھپب کر اُس کی طرف دیکھا آج لاٸن مارنے کے لیے کوٸی نہیں ملا جو تم میرا ساتھ شروع ہو گٸے….
اب ہٹو مجھے فریش ہونے جانا ہے لنگور کہی کا وہ بڑبڑاٸی اور ساٸیڈ سے ہو کر اپنے کمرے میں چلی گٸی….
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکرا دیا افففف مس خیالی پلاٶ…..
________________________________________________
اوکے آنی اب میں چلتی ہو اُس نے دو گھونٹ جوس کے لیے اور اپنی بُک اٹھاتی بولی…
چندا ناشتہ تو کر لو ٹھیک سے اور آج تم افاق کے ساتھ جاو گی ڈرائيور کو میں نے کسی کام کے لیے بھیجا ہے…..
مگر آنی!!! کچھ بھی مت بولنا بہت کام ہے چندا کل مایوں ہے مسکان کا اور افاق تم لے جانا اسے اپنے ساتھ
افاق کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت سا تبسم بکھر جسے وہ چھپا گیا….. اور گاڑی کی کیز اٹھاۓ مشی کو آنے کا اشارہ کرتا باہر چلا گیا
وہ پیر پیٹتی اُس کے پیھچے آٸی وہ پورچ میں گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا
وہ بیک سیٹ پر جا کر بیٹھ گٸی مگر وہ وہی کھڑا رہا
اب یہاں کیوں کھمبا بن کر کھڑے ہو مجھے دیر ہو رہی ہے وہ باہر نکل کر جھجھلا کر بولی…افاق نے مضوعی غصہ سے اُس کی طرف دیکھا….
مس خیالی پلاٶ تم آگے بیٹھو میں تمہارا کوٸی ڈرائيور نہیں اب جلدی کرو میرے پاس ٹاٸم نہیں
اگر مجھے قتل کی اجازت ملے تو میں تمہیں ضرور قتل کر دو گی وہ دانت پیستی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گٸی اور زور سے دروازہ بند کیا جس سے افاق کو اپنے کانوں میں انگلیاں گھسانی پڑی
وہ ڈرائيور کرتا مسلسل اُسے نظروں کے حصار میں لیا ہوا تھا مگر وہ انجان بنی باہر دیکھ رہی تھی
خاموشی سے تنگ آ کر افاق نے میوزک اُون کیا، راحت کی خوبصورت آواز اُسے اپنی دل کی آواز لگی
تیرا میرا ساتھ ہو تاروں کی بارات ہو،،،،
یہی دل چاہے روز تم سے ہی بات ہو،،،
دونوں کو نا بھولے کبھی ایسی ملاقات ہو،،،،
دونوں کو نا بھولے کبھی ایسی ملاقات ہو،،،،
وہ اپنے چہرے پر تیپش محسوس کرتی مزید دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گٸی گانے سے ماحول میں ایک فسوں سا پھیل گیا…
مشی نے گھبرا کر اُس بند کیا ….. یہ کیا آج کل تو لوفروں والی حرکتیں کر رہے ہو منہ توڑ دو گی اگر پھر ایسے بکواس گانے میرے سامنے سنے،،،،،،
وہ غصہ سے بولی اور بک اٹھاتی گاڑی سے نکلتی یونی چلی گٸی جبکہ وہ وہی بیٹھا اُسے دیکھتا رہا
نیلی انکھوں والی پری وہ بھی خطرناک وہ بڑبڑاتا مسکرا اور اُس کا ڈوپٹہ اپنے منہ پر اوڑھ لیا جو وہ غصہ سے یہی بھول گٸی تھی…..
______________________________________________
وہ سو رہی تھی جب اُس کا موبائل وابرٸٹ ہوا اُس نے کسمسا کر انکھیں کھولی اور موبائل اٹھایا جہاں عمر کے لا تعداد میسج آۓ تھے….
اُس نے لاسٹ والا میسج کھولا اور پڑھ کے پل بھر میں سرخ ہوٸی….
جاناں ہماری نیند اڑا کر سو رہی ہو دو دن بعد گن گن کر بدلے لو گا اور اچھا ہے اپنی نیندیں پوری کر لو جان پھر میری شدتیں بھی برداشت کرنی ہے…..
ساتھ لو والے اور کس والے ایموجی تھے
تھوڑی دیر بعد کال آٸی جسے اُس نے کانپتے ہاتھوں سے ریسو کیا..
جاناں!!!! مدھم بھاری سرگوشی نما آواز آٸی
اپنی شکل مبارک دیکھا دے بندہ دو دن سے بے چین ہے وہ مہذب بنا…..
بیگم سو گٸی کیا قسم سے یار یہاں میری جان ہلکان ہو رہی ہے اور تمہاری نیند ہی پوری نہیں ہو رہی….
لگتا ہے تم مجھے سے پیار ہی نہیں کرتی میری پھیکا پلوان بدل گٸی وہ دہاٸی دیتا شرارت سے بولا…
ننن….نہیں میں نے ایسا کب کہا کرتی ہوں بہت پیار کرتی ہو آپ سے
اگر ثبوت مانگوں تو دو گی اُسے اپنے کان کے پاس کیسی کی سانسیں محسوس ہوٸی
موبائل چوٹ کر بیڈ پر گرا….آپ یہاں کیسے
تمہاری یاد آ رہی تھی جان اس لیے آ گیا وہ اُسے ایک جھٹکے سے اپنی طرف کیھنچتا اپنے اوپر گرا گیا
اور اب تو ثبوت بھی لینا ہے تم سے
کیسا ثبوت!!! وہ انکھیں پھاڑے اُس دیکھ کر بولی
تم مجھے کس کرو گی بیگم وہ شوخ ہوا
مگر ایسے پلیز آپ جاۓ
نہیں پہلے کس ورنہ میں سمجھ لو گا تم بدل گٸی
آپ بہت برے ہے مرتی کیا نا کرتی اُس نے عمر کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا اور ماتھے پر بوسا دیتی
گرفت سے نکلتی واشروم میں گُھس گٸی…..
افففف ہماری بیگم شرماتی بھی ہے وہ واشروم کے دروازے کے قریب پہنچ کر بولا….
چبکہ وہ اندر اپنی سانس بحال کر رہی تھی…..
پرسوں دیکھوں گا تمہیں جاناں وہ مسکراتی نگاہ بند دروازے پر ڈالتا کھڑی کے راستے جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا……
______________________________________________
وہ چار بجے کے قریب گھر آیا کیچن میں دیکھا تو وہ وہاں نہیں تھی وہ لمبے لمبے ڈگ بڑھتا اوپر کمرے میں آیا …..
جہاں وہ واٸٹ کلر کی فراک پہنے حجاب کر رہی تھی
سکندر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اُس کے قریب پہنچا
جانم چلے کیا…. اُس نے حیا کا گال نرمی سے چھوا
جج…جی،،، سکندر نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور کمرے سے باہر لے آیا
حیا نے ایک نظر اپنے مجازی خدا کو دیکھا جس کی انکھوں میں اب محبت تھی صرف حیا کے لیے…
آج اُس نے سکندر کو لفظوں کی معافی دینے کا عہد کیا
سکندر نے اُس فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا اور خود گھوم کر ڈرائيورنگی سیٹ پر آیا اور کار سٹارٹ کی…..
وہ مسلسل اُسے دیکھ رہی تھی …. جانم اب تم مجھے ایسے دیکھو گی تو میں ڈرائيو نہیں کر سکو گا… رحم کرو میرے نازک دل پر
وہ شوخ ہوا ،جبکہ حیا خجل ہو کر باہر دیکھنے لگی گاڑی ایک بڑی شاپنگ مال پر جا کر روکی
ہاتھ پکڑ کے سکندر نے اُسے باہر نکلا اور پھر اپنے بازو کے گھیر میں لیتا مال کے اندر داخل ہوا
حیا نے سٹپٹا کر یہاں وہاں دیکھا
سکندر نے اُسے بہت ساری شاپنگ کرواٸی سینڈلز، جیولیری ،بیک ڈریس ،میک اپ ہر طرح کی چیزیں لے کر دی
اس کے بعد انہیں نے اچھا سا ڈنر کیا
اب ہم کہاں جا رہے ہے سکندر گاڑی کسی اور راستہ پر دیکھ کر حیا بولی…..
ششششش بس خاموشی سے بیٹھی رہو جلد پتہ لگ جاۓ گا سکندر نے اُس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی…..
________________________________________________
گاڑی فارم ہاوس داخل ہوٸی گارڈ سے دروازہ کھولا وہ ڈرائيورنگی سے سے نکل کر حیا تک آیا اور پھر اُسے اپنی گود میں اٹھا کر داخلی دراوزے سے اندر داخل ہوا….
حیا نے جب پورے لاونج میں نگاہ دوڑاٸی تو اُس نے حیرت سے سکندر کی طرف دیکھا….
جاری ہیں…..
