Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode09
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode09
Sanam By Sheeza Writer Episode09
باہر بارش اپنے زور پر جاری تھی وہ زمین پر بیٹھا اپنے وجود کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا
جب اُس حیا کا خیال آیا کیونکہ باہر سے اب اُس کی آواز آنا بند ہو چکی تھی
وہ تیزی سے ٹیرس کی طرف لپکا گلاس ڈور ساٸیڈ کر کے وہ اُس تک پہنچا جو زمین پر گری تھی
بارش اتنی زیادہ تھی کے وہ کچھ ہی لمحوں میں مکمل بھیگ چکا تھا
اففف یہ مجھے سے کیا ہو گیا میں کیوں ایک مصوم کو سزا دے دیتا ہوں
وہ خود کو ملامت کرتا اُسے گود میں اٹھا کربیڈروم میں آیا
بارش میں رہنے سے حیا کے ہونٹ نیلے جبکہ کے چہرا بلکل سفید ہو چکا تھا
جسے اُس میں خون موجود نہیں
سکندر نے اُسے بیڈ پر لیٹایا اور پھر اس کے کپڑے لینے وڈاروب کی طرف گیا
اب میں کیسے چینج کرو اُس نے سوچا؟ بیوی ہے تمہاری حق ہے اُس پر تمہارا
اُس کے دل سے آواز آٸی
لاٸٹ بند کر کے اُس نے حیا کے کپڑے چینج کیے
پھر ہیٹر اون کر کے اُس کے اوپر بلینکٹ دیا
اُس کے پاس بیٹھ کر ہاتھوں اور پیروں کی مالش کرنے لگا
حیا انکھیں کھولو تھوڑی دیر بعد اُس کا چہرا تھپتھایا
مگر اُس میں کوٸی حرکت نہیں ہوٸی
سکندر نے اپنا والا بھی بلینکٹ اُس پر دے دیا
تقریبا دو گھنٹے بعد اُس نے مندی مندی انکھیں کھولی
تو خود کو اپنے بیڈروم میں پایا
شکر ہے تمہیں ہوش تو آیا وہ اُس کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑنے لگا تھا
جب حیا نے اپنا چہرا دوسری طرف موڑ لیا
میں آرام کرنا چاہتی ہوں وہ معدم آواز میں بولی اور انکھیں موند لی
سکندر اس کے منہ موڑنے پر اٹھ کر اسٹڈی میں چلا گیا
______________________________
صبع اُس کی انکھیں کھٹ پھٹ کی آواز سے کھلی
اُس نے گھڑی کی طرف دیکھ جو دس بجا رہی تھی
ایک جھٹکے سے وہ اٹھ کر بیٹھ گٸی اففف میں اتنا سو گٸی
کالج بھی جانا تھا مجھے وہ بڑبڑاتی اپنے بالوں کو کیچر میں قید کیا
لیٹی رہو!!!!
وہ حکم دیتا پھر سے اپنی ٹاٸی کی ناٹ ٹھیک کرنا لگا
حیا اُس کی بات کی پرواہ کیے بغیر اٹھا کر واشروم میں چلی گٸی
دس منٹ بعد وہ نکلی اور اُسے اگنور کرتی شیشے کے آگے کھڑی اپنے بال بنانے لگی
سکندر نے ایک جٹھکے سے اُس کا رخ اپنی طرف موڑا
یہ جو تم نخرے دیکھا کر میری توجہ حاصل کرنا چاہتی ہو
وہ تو تمہیں کبھی نہیں ملے گی
میں تمہارا کوٸی عاشق یا دیوانہ نہیں جو تمہاری ناراضگی سے میری جان پر بن آٸے گی
مجھے کوٸی فرق نہیں پڑتا
کیونکہ سکندر علی کے پاس دل نہیں پتھر ہے اور پتھر میں کبھی محبت کا پھول نہیں کھل سکتا سمجھی۔
اگر محبت نہیں تھی تو مر جانے دیا ہوتا مجھے رات کو کیوں اندر لاۓ۔
باقی باتیں میں آفس سے آ کر کرو گا
اپنی شکل ٹھیک کرو آج میں نے پروجیٹ ملنے کی خوشی میں ایک پارٹی رکھی ہے
اور مجھے مسز سکندر ہنستی مسکراتی دیکھنی چاہیے
وہ اُس کا گال سہلاتا بولا
حیا نے ایک شکوہ سی نظر اُس پر ڈالی اور اپنا ہاتھ چھڑاتی اُس سے دور ہوٸی
ایسی نظروں سے دیکھ کر مجھے شرمندہ کرنے کی ضرورت نہیں
کل جو سزا میں نے تمہیں دی وہ تمہاری ہی غلطی تھی
کیا میں پوچھنے کا حق رکھتی ہوں کہ وہ کس کی چیزیں تھی؟
وہ دھیمی آواز میں بولی
نہیں میں یہ حق میں کسی کو نہیں دیا
ٹھیک ہے نہیں پوچھتی مگر ماضی کو بھولا دینا چاہیے سکندر
کیونکہ یہ ایسا زہریلا سانپ جو وقفہ وقفہ سے انسان کو اندر ہی اندر ڈستا رہتا ہے
آپ خود بھی تکلیف میں رہتے ہے اور مجھے بھی پل پل تکلیف دیتے ہے
اگر آپ مجھے سے شیٸر کریں گے تو آپ کی گُھٹن اور وحشت کم ہو گی
میرا خیال ہے مجھے آفس سے دیر ہو رہی ہے تمہارا ڈریس میں ڈرائيور کے ہاتھ بھیجوا دو گا
ایک نظر اُسے دیکھتا اپنا والٹ اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا
یا خدا مجھے ہمت اور صبر دے وہ آنسو پیتی بڑبڑاٸی
______________________________
وہ اپنے گلاسس لگتی باہر نکلی جب اُسے عمر کھڑا نظر آیا
راٸل بیلو شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے داٸیں بازو پر کوٹ کو سلیقہ سے رکھے وہ اُس کے انتظار میں کھڑا تھا
میں نے آپ کو گھر کا راستہ اس لیے نہیں دیکھایا کہ آپ گھنٹوں میرے انتظار میں یہاں کھڑے رہے
عمر کے ہونٹوں پر تبسم بکھرا
وہ میں نے سوچا پھر آپ کو کوٸی کیوٹ سا کتا نظر آ جاۓ آپ اُسے چھڑے گی
وہ آپ کے پیچھے پڑے گا پھر مجھے سے ٹکرا کر مدد مانگے گی
اس لیے میں پہلے ہی حاضر ہو گیا وہ شوخ ہوا
مسکان اس کے انداز پر ہنس دی
ہنستی ہوٸی بہت خوبصورت لگتی ہے آپ ایسے ہی سدا مسکراتی رہے
وہ گہری نظر سے اُسے دیکھتا بولا
جبکہ وہ کنفوز ہو کر نظریں جھکا گٸی
چلے آپ کو دیر ہو رہی ہو گی کالج سے
ہمممم چلے …..
ویسے آٸی کام کر رہی ہے بلینس شیٹ بنانی آتی ہے یا نقل مار کر پاس ہوتی ہے
وہ روڈ پر نظریں جماتا کار ڈرائيو کر رہا تھا
آپ نے مجھے اپنے جسے سمجھا ہے میں اور حیا ٹوپ کرتے ہے
اور بلینس شیٹ تو اتنی اچھی آتی ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے
وہ تو میری بھابھی ہے ہی لاٸق مگر آپ ٹوپ کریں یہ بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی
وہ اُسے چھڑاتا بولا
مسٹر عمر آپ کا ارداہ میرے ہاتھوں سے قتل ہونے کا لگ رہا ہے
ہم تو پہلی ملاقات میں ہی گھاٸل ہو گٸے تھے بڑا میٹھا زخم دیا ہے آپ نے
دل ہلکا ہلکا درد رہتا ہے آج کل
لگتا ہے شاعری شوق سے پڑھتے ہے آپ
پہلے نہیں مگر اب پڑھتا ہوں
اوکے باقی باتیں پھر ہو گی میرا کالج آ گیا وہ اپنا بیگ اٹھاتی بولی
آج ایک پارٹی رکھی ہے سکندر کو پروجیٹ ملنے کی خوشی میں
تو کیا آپ اس ناچیز کے ساتھ پارٹی میں جانا پسند کرۓ گی وہ محبت سے بولا
آپ کا انتظار رہے گا اتنا کہتی وہ گاڑی سے نکلی اور اندر چلی گٸی
افففف شام کب ہو گی!!!! گاڑی ریورس کرتا وہ اپنے آفس کی طرف چل دیا
______________________________
آج پارٹی میں ہم اپنا کام سر انجام دے گے
بس تم نے کسی طرح اُسے کمرے میں لانا ہے
باقی کا کام مجھے پر چھوڑ دو
وہ سگریٹ اپنے ہونٹوں میں دباتا خباست سے بولا
یعنی آج پارٹی میں بہت مزا آنے والا ہے
یہ تو ہے بے بی بس میرا انعام زبردست سا تیار رکھنا
یہ میرا پرومس ہے ایسا اںغام تم نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا
کہو تو ایک جھلک دیکھا دو
کہتے ساتھ وہ اُس کے قریب ہوٸی ایک نازک سا لمحہ دونوں کے درمیان آ گیا تھا
باقی کام ہونے کے بعد وہ اُس کے گال چھوتی روم سے نکلتی چلی گٸی
______________________________
پانچ بجے کے قریب بیوٹیشن اُسے تیار کرنے آ گٸی تھی
گرے کلر ساڑی جس پر بہت خوبصورتی سے کام ہوا تھا وہ سادگی میں بھی بڑی خوبصورت لگ رہی تھی
واٶ میم یو لُکنگ سو بوٹیوفل وہ تعریف کیے بنا نہ رہے سکی
تھنک یو….
اُس نے حیا کا ہلکا سا پارٹی میک اپ کیا اور بالوں کو پیچھے کھلا چھوڑ دیا
پلیز آپ انہیں بندھا دے
بٹ میم سر نے کہا تھا کہ آپ کے بال بندھنے نہیں ہے
اوکے ٹھیک ہے اُس نے ایک نظر خود کو آٸینہ میں دیکھا
بی بی جان افاق کے ساتھ اپنے کسی رشتہ دار گھر گٸی تھی
سب لاٸٹس چیک کر کے وہ مین ڈور بند کر کے گاڑی میں بیٹھ گٸی
جسے سکندر نے اُس کے لیے بھیجا تھا
تقریبا آدھے گھنٹے بعد گاڑی کے خوبصورت ہوٹل کے سامنے روکی
سکندر اُسے باہر ہی کھڑا نظر آیا اُس نے گاڑی کا دروازہ کھولا
اور ہاتھ پکڑ کے حیا کو باہر نکلا بہت سے میڈیا والے اُن کی تصویریں لے رہے تھے
وہ خاموشی سے سکندر کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی چل رہی تھی
جسے ہی انہیں نے ہال میں قدم رکھا سب طرف سکوت چا گیا
دونوں ساتھ کھڑے بہت پیارے لگ رہے تھے
تعبیر نے ایک نفرت بڑی نگاہ حیا کے وجود پر ڈالی
لیڈیز اینڈ جنٹل مین میٹ ماٸی واٸف حیا سکندر علی
جس سے قدم میری زندگی میں پڑتے ہی مجھے اتنا بڑا پروجیٹ ملا
پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو سب سے زیادہ تمہاری جھیل سے سبز انکھیں
وہ سرگوشی کرتا پیچھے ہوا
_____________________________
وہ کب سے باہر کھڑا اُس کا انتظار کر رہا تھا مگر وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
اُسے انتظار سے کوفت ہونے لگی تھی کہتے ہے نا انتظار موت سے بھی زیادہ برا ہوتا ہے
بس یہی حال ہمارے عمر کا بھی تھا
تھوڑی دیر بعد وہ آتی دیکھاٸی دی واٸٹ شوٹ فراک اور ساتھ میچنگ چوری پاجامہ
انکھوں پر لاٸنر اور ہلکی سی پنک لپسٹک لگاۓ۔
وہ عمر کے ہوش اڑا رہی تھی
ایم سو سوری مجھے زرا دیر ہو گٸی وہ اپنا ڈوپٹہ سنبھالتی گاڑی میں جا بیٹھی
جبکہ کے عمر اب بھی پتھر بنا کھڑا تھا
مسکان نے ایک نظر اُسے دیکھا پھر گاڑی سے باہر نکل کر اُس کا بازو ہلایا
جس سے اُسے ہوش آیا
چلے مسٹر دیر ہو رہی ہے
ہا..ہاں چلو ویسے آج بہت پیاری لگ رہی ہے
اچھا تھنک یو مگر آپ بکل ایک جوکر لگ رہے ہے وہ شررات سے بولی
عمر ہنس دیا اور وہ باقی راستہ کبھی لڑتے اور کبھی باتیں کرنے لگتے
______________________________
حیا مسکان کے ساتھ کھڑی تھی جب اُسے شدت سے پیاس کا احساس ہوا
اُس نے یہاں وہاں نگاہ ڈورای مگر سکندر اُسے کہی نظر نہ آیا
مسکان میں دو منٹ میں آتی ہوں اوکے
ٹھیک ہے مکھنا جلدی آنا
وہ دوبارہ سے میسج پر عمر سے بات کرنے لگی
ویٹر ادھر او وہ جوس کا گلاس جو حیا کے لیے لے کر جا رہا تھا
تعبیر نے اُسے اپنے پاس بلایا
یہ لو پیسے اور کسی کو کچھ مت بتانا وہ بھی پانچ ہزار کا نوٹ دے کر خاموش ہو گیا
تعبیر نے الکوحل اُس کے جوس میں ملا دیا
جاو اور اُس میڈم کو دے کر آو
حیا نے دو گھونٹ لیے تو اُسے ٹیسٹ کچھ اجیبی سا لگا
مگر وہ کچھ نہ بولی اور جوس ختم کر کے گلاس ویٹر کو دیا
اچانک اُسے انکھوں کے سامنے اندھیرا آنے لگا
جب تعبیر اُس کے پاس پہنچی اور اُس سہارا دیا
لگتا ہے تمہاری طیبعت خراب ہے میں تمہیں روم میں لے جاتی ہوں
مگر میں نہیں جاو گی وہ مدہوشی میں بولی
دیکھو مجھے سکندر نے کہا ہے چلو اب وہ دونوں قد خاموش کونے میں کھڑی تھیں
وہ اُسے روم میں لے آٸی جہاں پہلے سے حامد موجود تھا
یہ لو میں تو اپنا کام کر دیا اب تمہاری باری وہ ایک انکھیں دباتی بولی
اور روم سے چلی گٸی اب اُس کا کام سکندر تک یہ خبر پہچانا تھا
اففففف بے بی بڑا انتظار کروایا ہے تم نے وہ اُس کے سراپے پر خباست بڑی نگاہ ڈالتا بولا
سکند….سکندر میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں
مگر آپ بہت برے ہے وہ نشے میں بول رہی تھی
سکندر جب حیا کو لینے آیا اُسے کسی سے ملوانا تھا مگر وہ وہاں نہیں تھی
اُس نے مسکان سے پوچھا تو اُس نے کہا وہ پانی پینے گٸی ہے
وہ اُسے ڈھونڈتا کمروں کی طرف آیا جہاں اُسے حیا کی آواز آٸی
سکندر کے قدم وہی جم گٸے کیوں کے اُس کے ساتھ کوٸی اور بھی تھا
وہ تیزی سے کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا
دل میں وہ منظر نہ دوہرانے کی دعا کر رہا تھا
حیا حامد کے گلے میں بازو ڈالے اُس کے بلکل قریب کھڑی تھی
سکندر نے جھٹکے سے اُسے دور کیا اور ایک تھپڑ اُس کے نازک رخسار پر مارا جس سے اُس کا نشہ پل میں ختم ہوا
تیری ہمت کیسے ہوٸی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی کمینے انسان وہ لاتوں اور گھونسوں سے اُس کی تواضوں کر رہا تھا
حیا منہ پر ہاتھ رکھے سکندر کا جنونی روپ دیکھ رہی تھی
تیری بیوی نے خود مجھے بلایا تھا مجھے پسند کرتے ہے ہم ایک دوسرے کو
سکندر کا ہاتھ ہوا میں ہی روک گیا وہ بے یقينی سے حیا کو دیکھنے لگا
سکندر پلیز میری بات سنے یہ جھوٹ بول رہا ہے
میرا اس سے کوٸی تعلق نہیں
وہ اُس کا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر بولی
جبکہ سکندر تو جسے برف کا ہو چکا تھا
حیا کا کسی اور کی باہوں میں ہونا کہا برداشت کر سکتا تھا
اُس نے ایک جٹھکے سے اُسے خود سے دور کیا
جس سے وہ صوفے پر جا گری.. حامد چہرے پر شیطنی مسکراہٹ لیے کھڑا تھا
تم بھی اُس جسیی نکلی اپنے حُسن کے جال میں پھنس کر ہم دونوں کو پاگل کرتی رہی
ابھی تو اس کے ساتھ ہو اور پتہ نہیں کون کون ہو گا
اپنے الفاظ سے وہ اُس کے دل کو چھلنی کر چکا تھا
کیوں کیوں کیا تم نے ایسا کیا کمی تھی مجھے میں
کب سے چل رہا ہے یہ کیوں دھوکہ دے رہی تھی مجھے
وہ اُسے جھنجھوڑتا دیوار کے ساتھ لگا گیا
اپنے شوہر کے ہوتے ہوۓ کسی غیر مرد سے رشتہ بناتے ہوۓ تمہیں شرم نہیں آٸی بولو
کیوں کیوں اُس نے زور سے دیوار پر مُکا مارا
جس سے اُس کے اپنے ہاتھ سے بھی خون نکلنے لگا
سکند….سکندر آپ کو چوٹ لگ گٸی وہ اُس کا ہاتھ پکڑنے لگی
ہاتھ مت لگانا مجھے اپنا غلیظ وجود دور کرو مجھے سے
وہ جنونی ہو رہا تھا اُس کا دنیا تہس نہس کرنے کا دل کر رہا تھا
جب کے وہ خود کو پل پل موت کے قریب دیکھ رہی تھی
عورت سب کچھ برداشت کر سکتی لیکن اپنے پاک دامن پر تمہمت برداشت نہیں کر سکتی
بس سکندر صاحب بہت کر لی آپ نے میری تذلیل.
میں آپ کو وضاحت نہیں دو گی مگر جب آپ کو سچا پتہ لگے گا بہت پچتھاۓ گے آپ
وہ اپنی ساڑی کو سنبھالتی کمرے سے نکلتی چلی گٸی
مسکان اور عمر اُسے آوزیں دیتے رہے مگر وہ کسی کی بھی سنے بغیر ہوٹل سے نکل گٸی
______________________________
جاری ہیں۔۔۔۔۔۔
