Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode06
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode06
Sanam By Sheeza Writer Episode06
______________________________
وہ آفس میں بیٹھا کوٸی فاٸل دیکھ رہا تھا
جب روم کا دروازہ کھولا اور تعبیر میک اپ سے سجا چہرا لے کر اندر داخل ہوٸی
سکندر نے اُسے دیکھا اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو گیا
تعبیر اپنا اگنور کیا برداشت کرتی اُس کے قریب آ کر گال پر کس کرنے لگی
جب سکندر نے اُسے روک لیا
کیوں آٸی ہوں؟
سرد لہجے میں سوال کرتا وہ دوبارہ اپنا کام کرنے لگا
تم سے ملنے آٸی ہو سکندر تمہیں پتہ کتنا یاد کرتی ہوں میں تمہیں اور ایک تم ہو جو بات بھی ٹھیک سے نہیں کرتے
وہ لاڈ سے بولتی سکندر کے کندھے پر سر رکھ گٸی
اس کی یہ حرکت اُسے سخت ناگوار گزری
مس تعبیر حیات اگر تمہارے کے والد میرے بزنس پاٹنر نہ ہوتے۔۔۔۔۔
تو اس وقت تمہیں اس آفس سے دھکے دے کر نکلتا۔۔۔۔۔۔
وہ سخت آواز میں بولا اور اُسے ایک جھٹکے میں اپنے سامنے کیا۔۔۔۔۔
شدید نفرت ہے مجھے اُن لڑکیوں سے جو خود کو پلیٹ میں سجا کر کسی کے سامنے پیش کرتی ہے
کیا فرق ہے تم میں اور کسی طواٸف میں
تم حد سے بڑھ رہے ہو سکندر علی
حد سے تو تم بڑھ رہی ہو مجھے اپنی حدود پتہ ہے مس تعبیر
اس لیے آپ جا سکتی ہے اب وہ سگریٹ لبوں میں دباتا بولا
تعبیر سرخ انکھیں لیے واپس جانے لگی جب عمر روم میں داخل ہوا
اووو مس تعبیر یہ آپ کا انویٹیشن مجھے وقت ہی نہیں ملا آپ کو کارڈ دینے کا
پرسوں سکندر کا ولیمہ ہے آپ ضرور آٸیے گا
وہ شرارت سے بولا
تم ایسا کیسے کر سکتے ہو سکندر وہ کارڈ میز پر پھنکتی چیخی
آہستہ یہ میرا آفس ہے اور میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا
تم سے نہ تو میں نے کوٸی وعدہ کیا نہ ہی ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاٸی
اس لیے اوریکٹ کرنے کی ضرورت نہیں
اپنے ان جذبات کو کنٹرول رکھو سمجھی وہ وارن کرتا عمر کی طرف متوجہ ہوا
جاو عمر مس تعبیر کو پارگنگ تک چھوڑ کے آو
جو حکم سر وہ سر خم کرتا شوخ ہوا
چلے مس تعبیر
تعبیر نے غصہ سے اُس کی طرف دیکھا اور تن فن کرتی روم سے باہر چلی گٸی
______________________________
تم نے مجھے ٹھکرا کر اچھا نہیں کیا سکندر
تعبیر حیات نام ہے میرا اور جو چیز مجھے پسند آ جاۓ …..
اُسے میں کسی کا ہونے نہیں دیتی
وہ اس وقت اپنے روم میں بیٹھی سگریٹ پی رہی تھی
رف سے حلیہ میں وہ ایک جنونی انسان لگ رہی تھی
تمہیں تو میں ہر حال میں حاصل کر کے رہوں گی
اب تم میری ضد بن چکے ہو سکندر علی وہ بڑبڑاتی غنودگی میں چلی گٸی
______________________________
وہ اس وقت اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگا کر بیٹھی تھی
نہ نہ کرنے کے باوجود بی بی جان نے اس کی ایک نہ سنی اور اُسے مہندی لگوا دی
افاق اس کے پاس بیٹھا اپنے سکول کے قصے سنا رہا تھا
جس سے اُس کی کھنکھناتی ہنسی کمرے میں گونج رہی تھی
سکندر ابھی آفس سے آیا تھا جب دروازے کے پار حیا کی ہنسی نے اُس کی ساری تھکاوٹ دور کر دی
ان دو ہفتوں میں سکندر کو حیا کی عادت ہو گٸی تھی
اُس کے دل پر وہ مکمل اختیار کر چکی تھی بس زبان سے اقرار باقی تھا
مگر وہ کبھی حیا پر یہ ظاہر نہیں ہونا دینا چاہتا تھا.
اُسے ابھی بھی عورت ذات پر بھروسا نہیں تھا
سنجيدہ صورت لیے وہ کمرے میں داخل ہوا
ایک نظر ان دونوں پر ڈالتا وہ چینج کرنے کے لیے ڈریسنگ روم میں چل گیا
اوکے بھابھی گڈ ناٸیٹ باقی کی باتیں کل کریں گے ٹھیک ہے
وہ حیا کی گال پر کس کرتا چلا گیا
______________________________
سکندر فریش ہو کر باہر آیا تو اپنی مہندی سوکنے کی کوشش کر رہی تھی
لمبے بالوں کا جوڑا کھل کر پیشت پر بکھرا تھا
ہوا سے کچھ لیٹیں چہرے پر جھول رہی تھی
جن کو وہ بار بار ساٸیڈ پر کرتی جھجھلاہٹ کا شکار تھی
وہ ٹرنس کی کفیت میں چلتا اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا
حیا نے ایک نظر اُسے دیکھا اور پھر اپنا کام کرنے لگی
کس نے کہا تھا یہ لگانے کو وہ سرد لہجے میں بولتا
اُس کے بال سمیٹنے لگا
حیا اُس کے لمس پر سانس روکے بیٹھی تھی
اُس نے بالوں کو کیچر میں قید کیا اور پھر اُس کا چہرا دیکھا
جو شرم اور گھبراہٹ سے سرخ ہو رہا تھا
اس کا شرمایا روپ دیکھ کر اُسے شررات سوجھی
وہ اپنی انگلی سے اس کے چہرے کے نقش چھونے لگا
حیا کے جسم میں خون کی گردش تیز ہوٸی
سکن…..سکندر پلیز
ایک دفعہ پھر لینا میرا نام وہ اخیتار سے اپنی گرفت میں لیتا بولا
سکند….سکندر
پھر……
سکندر!!!!!!
پھر
حیا نے پلکیں اٹھا کر اُسے دیکھا جو اس کے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا
سکند…… اس سے پہلے وہ پورا نام لیتی وہ جھکا اور حیا کے ہونٹوں پر اپنے تشنہ لب رکھ دیا
سکندر کی اس جسارت پر وہ پوری انکھیں کھولے اُسے دیکھ رہی تھی
وہ اپنی تمام شدتیں اُس پر منتقل کر رہا تھا
اور حیا کو ایسا لگ کہ جسے اُس کی سانس بند ہو جاۓ گی
تھوڑی دیر بعد وہ پیچھے ہوا تو وہ بھیگے لبوں سے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی
یہ مت سمجھنا کہ مجھے تم سے پیارا ہو گیا ہے جو دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ کیا
اس عمل سے تمہیں بس یہ بتایا ہے کہ تم صرف میری ہو تم پر حق صرف سکندر علی کا ہے جسے میں کبھی بھی لے سکتا ہوں
وہ لمحوں میں اُسے آسمان سے فرش پر پھینک کر بیڈ پر لیٹ گیا
اور حیا کی انکھیں ایک دفعہ پھر آنسوٶں سے لبریز ہو گٸی
اُس نے چہرا موڑ کر اُس پتھر کے صنم کو دیکھا جو آرام سے سو چکا تھا
______________________________
آج ملک ولا میں رونق لگی تھی بی بی جان اس ولیمہ میں کسی بھی قسم کی کمی نہیں رہنے دینا چاہتی تھی
اُس کی انکھیں تقریبا گیارہ بجے کھولی
اپنی دوسری طرف دیکھا تو وہاں حیا نہیں تھی
رات اُس نے کچھ زیادہ ہی برا بے ہیو کر دیا تھا
اُس کا ارادہ حیا کو ہرٹ کرنے کا نہیں تھا مگر وہ اُس نازک لڑکی کو ایک بار پھر تکلیف دے چکا تھا۔
لیکن وہ خود کو حیا کے سامنے کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ بھی منال کی طرح اس کے دل سے کھیل جاۓ
وہ اٹھا اور فریش ہونے واشروم میں چلا گیا
وہ فریش ہو کر نیچے آیا جہاں ہر کوٸی کام میں مصروف تھا
اُس کی تلاش میں یہاں وہاں نگاہیں ڈوری مگر وہ نظر نہ آٸی
حیا بھی کہاں ہے؟
اُس نے پاس گزرتی ملازمہ سے پوچھا
وہ جی وہ افاق بابا اور ڈرائيور کے ساتھ پالر گٸی ہے
ہممممم ٹھیک ہے جاو تم کام کرو
نیوز پیپر پکڑاتا لاونج میں بیٹھ گیا
سکندر آپ کا ڈریس میں آپ کے روم میں رکھوا دیا ہے
بی بی جان اُس کے پاس بیٹھی پیار سے بولی
7بجے کے قریب مہمان آنا شروع ہو جاۓ گے
آپ باقی کے انتظام دیکھ لے
جی ٹھیک ہے امی وہ بجھے دل سے اٹھا اور باہر چلا گیا
______________________________
یہ کیا کر دیا آپ نے بھابھی کے بال کیوں باندھ دیا
کھولے جلدی سے وہ بیوٹیشن کو گھورتا بولا
حیا بہت پچتھا رہی تھی اُسے ساتھ لا کر جو ہر دو منٹ بعد نٸی فرماٸش کر دیتا تھا
افاق میری جان اُن کو اپنا کام کرنے دو
نہیں بھابھی ایسے آپ بلکل اچھی نہیں لگی رہی
یہ بہت اولڈ فیشن ہے
پلیز آپ ان کے بال کھولے اور یہ لپسٹک بھی لاٸٹ کریں
ایسے لگ رہا ہے جسے کسی کا خون پیا ہو
آدھے گھنٹے بعد وہ تیار ہو کر اُس کے سامنے کھڑی تھی
بھابھی ڈوپٹہ سر پر کیوں لیا آپ پلیز ان کا ڈوپٹہ سر پر نہ دے
ایک دفعہ اُس نے پھر ٹوکا
مجھے سے مار کھا لو گے افاق چلو اب دونوں بھاٸی ایک جسے ہے
وہ اُسے گھورتی بولی
وہ افاق کے ساتھ گاڑی میں آ بیٹھ گٸی پیچھے گارڈ کی گاڑی تھی
یو لُگنگ بیوٹیفل بھابھی میں آپ کے ساتھ بہت سی پک بناو گا
اور پھر اپنے سب فررینڈ کو دیکھاٶ گا کہ میری بھابھی کتنی پیاری ہے بلکہ ایک پرنسسز کی طرح……
وہ چہکتا ہوا بولا
حیا بھی اس کی باتوں سے مسکرا رہی تھی
______________________________
بلکہ بیوی لگ رہا ہے توں اس وقت
عمر جو اُس کی ٹاٸی باندھ رہا ہے اُسے گھور کر دیکھا
پھر دھیان رکھ کچھ ایسے ویسا نہ ہو جاۓ وہ انکھ دبا کر بولا۔
کیوں کہ میرا دل کر رہا ہے
ہم تم ایک کمرے میں بند ہو اور چابی کھو جاۓ
تیرا کچھ کرنا پڑے گا بہت کمینا ہوتا جا رہا ہے توں سکندر کوٹ ڈالتا بولا
اچھا انکل آ رہے ہے نہ آج؟
اگر اپنی مصروفيات سے وقت ملے گا تو آ جاۓ گے
اور توں پلیز اُن کی باتیں کر کے میرا موڈ خراب مت کرنا
اففف راجا بابو قیامت لگ رہے ہو
دل پر چھریاں چل رہی ہے
چھچھوڑا!!!!!!
چل اب دیر ہو رہی ہے ساری لڑکیاں آ گٸی ہوں گی عمر خود کو شیشے میں دیکھتا بولا
آ رہا ہوں کمینے انسان تو گاڑی میں بیٹھ
جلدی آٸیے گا ہم آپ کا انتظار کرۓ گے عالم پناہ وہ ہنستا کمرے سے باہر چلا گیا
سکندر بھی شیشے میں خود کو دیکھتا اپنا موبائل اٹھاتا باہر آ گیا
____________________________
تم یہاں کیا کر رہے ہو حامد تعبیر ڈرنک کا گلاس ہاتھ میں پکڑتی اُس کے قریب آٸی
یار بس وہ پاپا کے فررینڈ کا ولیمہ تھا تو وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے آۓ۔
تم بتاو کیسی جا رہی ہے لاٸف نعمان کی سناو
یار اُسے تو میں کب کا چھوڑ چکی ہوں
ہممم گڈ اور پھر کون ہے وہ جسے آج کل آپ میسر ہے
وہ شوخ ہوا
تعبیر بھی اس کی بات پر ہنس دی
کوٸی بہت خاص جو صرف تعبیر حیات کا ہے اور کسی کا نہیں
______________________________
حیا مسڈر کلر کی میکسی پہنے ایک پری لگ رہی تھی
لمبے بال ایک ساٸیڈ پر تھے جن کے نیچے ہلکے سے کلرل ڈالے گٸے تھے
سکندر بلیک ٹو پیس میں ہنڈسم لگ رہا تھا جس کی شرٹ حیا کی میکسی سے میچ تھی
ایک لاٸٹ انہیں فوکس کر رہی تھی وہ سکندر کا ہاتھ پکڑے اُس کے چلتی اسیٹج تک آٸی
اوووو تو تم یہاں چھپی ہوں اور میں تمہیں پورے شہر میں تلاش کر رہا تھا
نظریں اُس پر گاڑے وہ آگے کا لاٸل عمل سوچ رہا تھا
حیا کو کسی کی نظروں کی تیپش محسوس ہوٸی
تو اُس نے سر اٹھا کر اُس سمت دیکھا جہاں وہ کھڑا ہاتھ میں ڈرنک کا گلاس لیے انہیں دیکھں رہا تھا
اُس نے سکندر کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر لی
اُس نے بھی خاموشی سے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا
جس سے وہ پرسکون ہو گٸی
کہ وہ اکیلی نہیں ہے اُس کا محافظ اُس کے ساتھ ہے
______________________________
ملواٶ گے نہیں اپنی بیوی سے سکندر وہ اور حامد ایک ساتھ اسٹیج پر پہنچے
حیا ان سے ملو یہ ہے مس تعبیر میرے بزنس پارٹنر کی بیٹی
اور یہ حامد رضا میرے پاپا کے فررینڈ کا بیٹا
حیا ڈری سہمی اُس کے ساتھ کھڑی تھی
آپ سے مل کر بہت اچھا لگا مسز سکندر وہ گہری نظروں سے اُسے دیکھتا ہوا بولا
ویسے بیوی بہت خوبصورت ہے تمہاری اوکے اب ہم چلتے ہے باقی باتیں بعد میں ہو گی
وہ ایک نفرت بڑی نگاہ حیا پر ڈالتی اسیٹیج سے نیچے اتری گٸی
______________________________
تم سکندر کو پسند کرتی ہو تعبیر وہ اسوقت ایک کلب میں بیٹھا ڈرنک کر رہے تھے
وہ میرا جنون ہے اور اُسے میں حاصل کر کے ضرور رہو گی
وہ نشہ سے مدہوش ہو کر بولی
میں تمہاری کچھ مدد کر سکتا ہوں
کیسی مدد؟
آو گھر چلے پھر بتاتا ہوں میں تمہیں
وہ اُسے پکڑتا بولا
______________________________
ولیمہ کا فنکشن خیر و عافیت اپنے اختتام کو ہوا
وہ تھکے ہارے تقریبا بارہ گھر پہچنے
بی بی جان نے اُسے سکندر کے کمرے میں بٹھایا
جسے عمر نے خوبصورتی سے سجایا تھا
وہ کمر کے پیچھے تکیہ رکھ کر بیٹھ گٸی
لیکن سکندر تھا کہ آنا کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
اُس نے گھڑی کی طرف دیکھا جو دو کا ہندسہ عبور کر چکی تھی
وہ بھی صبع کی تھکی تھی انکھیں بند کرتے ہی نیند اُس پر غالب آ گٸی
______________________________
جاری ہیں…….
