Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode10
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode10
Sanam By Sheeza Writer Episode10
______________________________
تھنک یو یار تم نے میرا کام اتنی آسانی کر دیا وہ اُس کے گلے لگتی اُس کے گال کو چھوا
میرے اور سکندر کے بیچ کے کانٹے کو تم نے باہر نکل دیا وہ چہک کر بولی
ویسے بڑا آسان تھا اُسے دھوکا دینا
”مگر یار کیمنے نے مارا بہت زیادہ ہے مجھے“ ابھی بھی منہ درد کر رہا ہے
وہ اپنے پھٹے ہوۓ ہونٹ پر انگلی پھیرتا بولا
میرے ساتھ جب وقت گزروں گے تو سارے درد بھول جاو گے
بس میں ہی تمہیں یاد رہو گی جان اور میری قربت وہ مخمور لہجے میں بولی
اور دھیرے دھیرے وہ ایک دوسرے کے قریب ہونے لگے
جبکہ باہر کھڑے سکندر کا اپنے پاٶں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا
وہ جو حامد سے دوبارہ پوچھنے والا تھا کہ وہ کیسے جانتا ہے حیا کو
اس انکشاف نے اُس کی دنیا ہلا دی
جب آپ کو سچ کا پتہ لگے گا تو بہت پچھتاۓ گے
حیا کی آواز اُس کے گرد گونجی
وہ مرے مرے قدموں سے واپس چلا گیا
کیونکہ اندر جا کر وہ اب مذید تماشا نہیں کرنا چاہتا تھا
______________________________
وہ سڑک کے کنارے چلتی جا رہی تھی کتنی بےدردی سے اُس پتھر کے صنم نے مصوم دل توڑا
امی آپ ہی مجھے چھوڑ کر نہ جاتی کون ہے میرا اب اس دنیا میں وہ سوچو میں گری تھی جب وہ کسی سے ٹکراٸی
بہن آپ ٹھیک ہے؟ ایک باٸیس سال کی خاتون جس کے ساتھ ایک دس گیارہ سال کی بچی تھی
شاید کہی سے خریداری کر کے آ رہی تھی اُس نے پوچھا
حیا کچھ نہ بولی بس خاموشی سے اُس کا چہرا تکنے لگی
آپ اتنی رات کو اس سنسان سڑک پر کیا کر رہی ہے
می…میں کیا کر رہی ہو یہاں وہ غاٸب دماغی سے بولی
مجھے آپ کی طیبعت ٹھیک نہیں لگ رہی
یہاں سے کچھ فاصلہ پر ہی میرا گھر ہے آپ چلے میرے ساتھ
میرا شوہر ایک پولیس والا ہے ایک حادثہ میں اُن کی دونوں ٹانگیں ضائع ہو گٸی اس وجہ سے وہ اب چل نہیں سکتے
میں ایک گورنمنٹ سکول میں ٹیچر ہوں
اُس نے اپنا تعارف کرایا
آپ اس حال میں یہاں کیسے آٸی وہ اُس کے بکھرے بال اور مٹے ہوۓ میک اپ کو دیتی بولی
شوہر نے گھر سے نکل دیا اس دنیا میں میرا کوٸی نہیں وہ پھر سے رو دی
آپ روۓ نہیں آج سے میں آپ کی دوست آپ میرے گھر آرام سے رہا سکتی ہے
اور آپ کا شوہر ایک دن آپ کو تلاش کرتا ضرور آۓ گا
وہ اُسے اپنے گھر لے آٸی آپ بیٹھے میں اپنے شوہر کو لے کر آتی ہوں
حیا کو وہ باہر چھوٹے سے لاونج میں بیٹھا کر خود وہ اندر چلی گٸی
حیا نے گھر کو ایک نظر دیکھا دو منزل کا مکان جسے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا
تھوڑی دیر بعد وہ ایک خوش شکل آدمی کو ویل چیٸر پر لے کر باہر آٸی
اسلام و علیکم اُس نے سلام کیا
وعلیکم اسلام بہن آپ گُل کی دوست ہے وہ خوش دلی سے بولے
حیا نے ایک نظر گُل کو دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلایا
سن کر بہت برا لگا کہ آپ کا اب اس دنیا میں کوٸی نہیں
آپ مجھے اپنا بھاٸی سمجھے یہاں آپ کو کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی
یہ میرا ایک بہن سے وعدہ ہے
آپ آرام سے رہے یہاں تھوڑے دنوں میں ہم لاہور جا رہے ہے آپ بھی ہمارے ساتھ چلیے گا
حیا کے ہونٹوں پر ایک زخمی سی مسکراہٹ آٸی
جی ضرور وہ معدم سا بولی
آپ وہ سامنے والے کمرے میں چلی جاۓ میں کوٸی کپڑے لے کر آتی ہوں
معشل بیٹا جاو آنی کو لے کر روم میں
آۓ آنی میں آپ کو اپنی کلر بُک دیکھاتی ہوں
حیا کو وہ نیلی انکھوں والی بچی بہت پیاری لگی
واٶ آنی اب آپ میرے ساتھ سوۓ گی ہم ڈھیر ساری باتیں کریں گے آپ مجھے روز سٹوری سنانا ٹھیک ہے
وہ خوشی سے چہک رہی تھی
حیا اس کی معصومیت پر مسکرا دی
تھوڑی دیر بعد روم میں گُل کھانے کی ٹرے لے کر آٸی
حیا کھانا کھا لو
مگر مجھے بھوک نہیں ہے آپ لوگ کھا لے
میری خاطر تھوڑا سا کھالو ورنہ طبیعت خراب ہو جاۓ گی
وہ پیار سے اُس کا گال چھو کر بولی
حیا نے عقیدت سے اُسے دیکھا اپنوں سے تو غیر اچھے تھے جنہوں نے اُسے سہارا دیا تھا
جی آپی میں کھا لیتی ہوں وہ دھیما سا بولی
وہ مسکراتی ہوٸی اُسے دیکھتی باہر چلی گٸی
______________________________
وہ لاونج میں پریشانی سے یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا
اُس نے ہر جگہ اُسے تلاش کر لیے مگر وہ نا ملی
کہاں ہوں تم حیا واپس آجاو تم سے اپنی ہر غلطی کی معافی مانگ لو گا
اُس کے دل نے کہا
تم کیوں پریشان ہو رہے ہو خود ہی آ جاۓ گی دماغ نے کہا
تقریبا دس بجے افاق اور بی بی جان گھر آۓ
سکندر انہیں لاونج میں ہی بیٹھا سگریٹ پیتا نظر آیا
اُس کی انکھیں خطرناک حد تک سرخ ہوٸی تھی
کیسی رہی پارٹی سکندر حیا کہاں ہے
انہوں نے پاس بیٹھے سوال کیا
حیا نہیں ہے امی
کیا مطلب ہے کہاں ہے میری گڑیا کمرے میں جاتے افاق کے قدم روکے
اُن کے پوچھنے پر سکندر نے ساری بات بتا دی
کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوۓ اور پھر بی بی جان کا ہاتھ اٹھا اور سکندر کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا
شرم آ رہی ہے ہمیں آپ کو اپنا بیٹا کہتے آپ اتنے ظالم ہو سکتے ہے ہمیں اندازہ نہیں تھا
کیا قصور تھا اُس مصوم بچی کا جس آپ نے اتنی بڑی سزا دی اُسے
کم سے کم اُس کی ماں کو دیا وعدہ ہی نبھا لیتے
پتہ نہیں کہاں ہو گی ہماری بیٹی وہ آنسوں بہاتی بولی
جبکہ افاق ویسے ہی سُن کھڑا تھا
جب تک آپ ہماری گڑیا کو نہیں لاۓ گے اپنی شکل مت دیکھایے گا مجھے
وہ اپنی بھیگی انکھیں صاف کرتی اپنے کمرے میں چلی گٸے
جبکہ وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا
آپ بہت برے ہے بھاٸی بکل پاپا کی طرح
وہ کہتا بھاگتا ہوا باہر لان میں چلا گیا
______________________________
مسکان سنبھالے خود کو اس طرح رو رو کے آپ اپنی طیبعت خراب کر لے گی
وہ فون کان سے لگاۓ جھجھلاتا بولا آدھا گھنٹہ پہلے اُس کی کال آٸی تھی
وہ کچھ بولے بغیر بس روۓ جا رہی تھی
پلیز آپ چھپ ہو جاۓ بھابھی مل جاۓ گی میں پوری کوشش کر رہا ہوں
انہیں تلاش کرنے کی
آپ بس دعا کریں
پلیز عمر جلدی ڈھونڈے میری مکھنا کو نہیں تو میں مر جاو گی اُس کے بغیر
پتہ نہیں کس حال میں ہو گی
اللہ نہ کرے آپ کو کچھ ہو اور میں ضرور انہیں ڈھونڈا لو گا وہ پر عزم ہوا
اب آپ ریسٹ کرۓ رات بہت ہو گٸی ہے
محبت سے بولتا فون بند کر گیا
______________________________
وہ مدہوشی کی حالت میں کار ڈرائيو کر رہا تھا
تعبیر اُس کے ساتھ بیٹھی کبھی اپنی انکھیں کھولتی تو کبھی بند کرتی
اس وقت دونوں فل نشہ میں تھے جب اچانک گاڑی کا بلینس بگڑا
اور وہ سامنے آتے ٹرک میں جا لگی
______________________________
آپ بہت پچھتاۓ گے میں کبھی معاف نہیں کرو گی
پلیز سکندر دروازہ کھولے
آوازیں گڈمڈ ہو رہی تھی وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا
اُس کا پورا وجود پیسنے سے بھیگا ہوا تھا
وہ اٹھا اور ساٸیڈ ڈور کھولتا باہر ٹیرس پر چلا گیا
______________________________
جاری ہیں…….
