Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode17
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode17
Sanam By Sheeza Writer Episode17
____________________________________________
پورے لاونج کو اُس نے گلاب کے پھولوں سے سجایا تھا …. ہر طرف کنیڈلز لگی تھی جن کی روشنی ماحول میں ایک فسوں پیدا کر رہی تھی….
نیچے زمین پر اُس نے گلاب کے پھولوں سے سوری لکھا تھا…
سکندر نے آرام سے اُسے نیچھے اترا ، اور پھر اُس کا ہاتھ پکڑتا لاونج کے درمیان میں لایا ….
حیا حیرانگی سے پورے لاونج کو دیکھ رہی تھی ، سکندر اس کی حیران نظریں دیکھ کر مسکرایا……
اور پھر گھٹنوں کے بل اُس کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنے کان پکڑ لیے…
جانم … محبت سے پکارا
میں تم سے اپنی ہر زیادتی کی معافی مانگتا ہوں جو تکلیف میں تمہیں جانے انجانے میں دی جس سے تمہاری خوبصورت انکھوں میں آنسو آۓ، اُس کے لیے معاف کر دو جانم
تم سے وعدہ کرتا ہوں کبھی تمہیں کوٸی تکلیف نہیں دو گا بس ایک آخری چانس دے دو
حیا آنکھوں میں آنسو لیے اپنے ہمسفر کو دیکھ رہی تھی جس کے ہر انداز میں اُس کے لیے احترام تھا…..
یار اب کچھ بول بھی دو وہ جھنجھلایا….
جس سے وہ کھلکھلا کر ہنس دی، ہممممم ہنسی تو پھنسی
وہ شرارت سے بولا اور پھر اٹھ کر اُس اپنے قریب کیا….
اور وہ اُس کے سینے لگی رونے لگی سالوں کا غم دکھ تکلیف وہ آنسوٶں کے ذریعہ وہ نکل رہی تھی
جبکہ وہ خاموشی سے اُسے اپنے حصار میں لیے اُس کی تکلیف کم کر رہا تھا……
کافی سارا رونے کے بعد اُس نے اپنا سر اٹھایا روٸی روٸی سبز جھیل سی انکھیں کپکپتے گلابی ہونٹ اُس مدہوش کر گٸے
وہ بے اخیتار جکھا اور انہیں نرمی سے چھو گیا… اس کے لمس پر حیا شرم سے چہرا اس کے سینے میں چھپا گٸی
جانم!!!! اُس نے کان کے پاس گھبیر سرگوشی کی
کیا مجھے اجازت ہے ، وہ اُس کی کان کی لو کو چھوتا بولا…
حیا نے اُس کی انکھوں میں دیکھا جہاں جذبات کا ایک سمندر تھا وہ اثبات میں سر ہلاتی اُس کے گلے لگ گٸی
سکندر نے ہونٹ اُس کے بالوں پر رکھے اور پھر اُسے گود میں اٹھاتا روم میں لایا جو ویسے ہی خوبصورتی سے سجا تھا…..
پھر آرام سے اُسے بیڈ پر بیٹھایا اور خود اُس کے پاس بیٹھ گیا
ایسے کیا دیکھ رہے ہے ؟ تمہاری انکھیں بہت خوبصورت لگتی ہے مجھے، اُس نے حیا کا حجاب اتر کر ایک طرف رکھا
اور پھر اُسے لیٹا کر اُس پر جھکا گیا ، جانم آج میں بہت خوش ہوں شکریہ مجھے پر ایک دفعہ پھر اعتبار کرنے کے لیے…
وہ اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھوتا مخمور لہجے میں بول رہا تھا….
جبکہ وہ خاموشی سے اپنی دھڑکنوں کا شمار کر رہی تھی
اور پھر وہ اُس چھاتا گیا اور کھڑکی سے باہر چاند اس حیسن ملن پر شرما کر بادلوں میں چھپ گیا……
______________________________________________
کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی سے سکندر کی انکھ کھولی…..رات کے بارے میں سوچ کر بےساختہ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آٸی….
گردن گھما کر اُس نے اپنے پہلو میں دیکھا جہاں وہ ایک بازو اس کے سینے پر رکھے بے خبر سو رہی تھی….
جانم!!!! اُس کے کان میں سرگوشی کی
ہممم….وہ کسمساٸی
اٹھنا نہیں وہ اُس کے بال کان کے پیچھے کرتا بولا… فریش ہو جاو میں ناشتہ بناتا ہوں وہ اُس کی گال پر پیار کرتا اٹھا اور واشروم میں چلا گیا….
وہ دس منٹ بعد فریش ہو کر نکلا تو وہ اب بھی سو رہی تھی
جانم اٹھ جاو گھر بھی جانا ہے ….
حیا نے مندی مندی سی اںکھیں کھول کر اُسے دیکھا جو مسکرا کر دیکھتا اُس کے اوپر جھکا ہوا تھا…..
رات کی بارے میں سوچ کر وہ پلکیں جھکا گٸی ….چہرا شرم سے سرخ ہو گیا تھا….
اففففف جانم اب تم صبع صبع میرا دل بے ایمان کر رہی ہوں
سکندر نے اُس کی پلیکں چھوٸی
پلیز آپ پیچھے ہو مجھے فریش ہونا ہے وہ نظریں جھکا کر منمناٸی
ہمممم چلو باقی کی تھکاوٹ گھر جا کر اتر لے گے وہ پیچھے ہوا تو حیا ایک جھکٹے سے اٹھتی واشروم میں بند ہو گٸی
افففف میری زندگی…. وہ نیچھے ناشتہ بنانے چلا گیا..…
وہ فریش ہو کر نکلی تو ناشتہ ٹیبل پر پڑا تھا اور وہ خود کسی سے فون پر بات کر رہا تھا…..جبکہ نظریں اپنی شریک حیات کی طرف تھی….
حیا نے اپنے بال سلجھے اور پھر انکھوں میں کاجل لگتی وہ اپنا ڈوپٹہ کندھوں پر پھیلا کر اُس کے ساتھ بیٹھ گٸی…
سکندر نے کال بند کر کے اس کی طرف دیکھا جو اُسے دیکھ رہی تھی….
کیا دیکھ رہی ہو جانم ؟
وہ آپ غصہ تو نہیں کریں گے وہ انکھوں میں شررات سمو کے اُس دیکھ رہی تھی
سکندر اس کی انکھوں میں شرارت دیکھ چکا تھا….
ہممممم بولو وہ سنجیدہ ہوا….
وہ آپ کے بال سیفد ہو رہے ہے اور آپ مجھے سے بڑے لگتے ہے اس لیے کلر لگایا کریں وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دباتی بولی….
کیا بات کر رہی ہو تم ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ بھی بھرپور سنجیدگی ظاہر کر رہا تھا…..
سچ کہہ رہی ہو….وہ کھکھلاٸی
جانم ہم تو ابھی بھی جوان ہے لگتا ہے آپ کو پھر بتانا پڑے گا سب کچھ
ابھی مجھے دو بیٹیاں چاہیے پیاری سی
وہ کان کے قریب معنی خیزی سرگوشی کرتا اُسے شرمانے پر مجبور کر گیا….
پھر اُس نے اپنے ہاتھوں سے اُسے ناشتہ کروایا اور پھر وہ گھر کے لیے نکلے
کیونکہ آج عمر اور مسکان کی مایوں تھی اس وجہ سے گھر جا کر باقی تیاریاں بھی کرنی تھی
______________________________________________
وہ سیفد کاٹن کا کُرتا پاجامہ پہنے خوبصورت لگ رہا تھا براٶن میں ایک خوبصورت چمک تھی …
وہ تیار ہو کر نیچھے آیا تو مشی کے کمرے سے ہنسے کی آواز آ رہی تھی
اس کیا ہوا ہے؟
وہ دستک دے کر اندر داخل ہوا پورے کمرے میں نگاہ دوڑاٸی تو وہ تیار ہو کر صوفے پر بے ترتیب سی بیٹھی ٹوم اینڈ جیڑی دیکھ رہی تھی….
اور ساتھ کھلھلا ہنس رہی تھی ..افففف یہ لڑکی بلکل بچی ہے
وہ سرد آہ ہوا کے سپرد کرتا اس کی طرف متوجہ ہوا….
مشی!!!!! اُس نے پکارا
کیا ہے؟؟؟ انداز پھاڑ کھانے والے تھا
جانا نہیں ہے کیا بھابھی ویٹ کر رہی ہو گی ہمارا وہ اُس کے سراپے سے نگاہیں ہٹا کر بولا…..
اس وقت وہ پیلے رنگ کے شوٹ فراک اور ساتھ گرین پاجامنہ پہنے پنک لپسٹک ہونٹوں پر لگاٸیں انکھوں میں ہلکا سا کاجل لگاٸیں….
کانوں میں چھوٹے سے جمکے پہنے اور ہاتھوں میں بھر بھر کے سبز رنگ کی چوڑیاں ڈالے وہ اُس کا چین لوٹ رہی تھی
ڈوپٹہ ایک ساٸیڈ پر صوفے پر رکھا تھا…..
مشی!!!!! اُس نے پھر پکارا
کیا مصیبت ہے یار میرے فیورٹ کارٹون آ رہے ہے اور کمبے کو جانے کی پڑی ہے اُس نے جھنجھلاتے ہوے ڈوپٹہ لیا
اور تن فن کرتی کمرے سے نکل گٸی
یا اللہ رحم کرنا مجھ پر جنگلی بلی سے دل لگا بیٹھا ہوں….
وہ باہر آیا تو مشی منہ پھلا کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی
افاق ڈرائيورنگی سیٹ پر بیٹھا اور ایک نظر ظالم حیسنا کی طرف دیکھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی…..
اب تم نے میری طرف دیکھ تو میں تمہارا قتل کر دو گی وہ اُس کی نظروں سے گھبراتی غصہ سے بولی…
کیوں تم چڑیل ہو کیا؟
وہ اُسے زچ کرتا پھر بولا…. جب تمہارا قتل کرو گی تو تمہیں پتہ لگ جاۓ گا
اور گاڑی دیکھ کر ڈرائيو کرو کیونکہ مجھے مرنے کا کوٸی شوق نہیں
اگر تم مرنا چاہتے ہو تو مجھے یہاں اتر دو پھر میری طرف سے جہنم میں جاو
اففف ظالم کا غصہ قسم سے بہت کیوٹ لگ رہی ہو اُسے شاید تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا……
تم فلرٹ کر رہے ہو کوٸی لڑکی دیکھی نہیں اور اپنا ٹھرکی پن شروع کر دیا اس لیے تو لڑکیاں آزادی سے زندگی نہیں گزر سکتی …..تم!!!!! او ہیلو مسی خیالی پلاٶ کبھی بریک بھی لگا لیا کرو
ایسے ہی لڑتے لڑتے وہ عمر کے گھر پہنچے
_______________________________________________
مایوں کا فنکشن کمبین تھا جس کا انتظام لان میں کیا گیا تھا پورے لان کو گیندے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا….
کیمنے اب بس بھی کر کتنا نہاۓ گا سکندر جو باہر انتظار کرتے کرتے تھک گیا تو بے چارگی سے بولا
وہ اس وقت کالے رنگ کی شلوار قمیض میں موجود تھا جو اس کے کساتی وجود پر جچ رہی تھی
عمر اور سکندر کی ڈریسنگ ایک جیسی تھی
کیا مصیبت پر گٸی ہے یار میری مایوں ہے وہ بھی پہلی پہلی وہ بال رگڑتا باہر نکلا…..
سب کی پہلی پہلی ہی ہوتی ہے توں الگ نہیں… یار کیسی لگ رہی ہو گی
میری زندگی تو یہاں روک میں ساتھ والے کمرے میں دیکھ کر آتا ہوں
اوۓ روک کیمنے حیا نے منع کیا ہے رخصتی تک ملنا بند توں تیار ہو
وہ اُس کا بازو کینھچتا پھر سے شیشے کے سامنے کھڑا کرتا مضوعی غصہ سے بولا…..
توں کتنا ظالم ہے اپنے دوست کے لیے تو تھوڑی دیر اپنی بیوی نہیں سنبهال سکتا
کیا فائدہ تیرا بھابھی بیگم سے شادی کرنا کا جب میں اپنی زندگی سے مل بھی نہیں سکتا….
وہ مضوعی آنسو انکھوں میں لاۓ بولا
ابے ڈرامہ کوٸین بس کر دو دن بعد دیکھ لینا ویسے بھی صبر کا پھل میٹھا ہوتا
اس وقت میرا دل تجھے اچھی اچھی گالیاں دینے کا کر رہا ہے
سکندر میری جان میرا گردہ میرا دل مان جا نا تھوڑی دیر کے لیے بھابھی بیگم کو باہر بلالے
وہ چپالوسی پر اتر آیا…..
نہیں جی اب تو آپ شادی پر ہی دیدار کرنا وہ ہنسی دباتا بولا…..
اللہ کریں تو گنجا ہو جاۓ بے غیرت انسان وہ غصہ سے بولا اور اپنی تیاری مکمل کرنے لگا
جبکہ سکندر اُس کا پھولا منہ دیکھ کر مشکل سے اپنی ہنسی دبانے لگا…..
_____________________________________________
آہم آہم یہ تیار تم مجھے کر رہی ہے مکھنا مگر دھیان کہی اور لگ رہا تمہارا..ہونٹوں پر مسکراہٹ
انکھوں میں چمک گال سرخ اناری،، لگتا ہے ملن ہو گیا ہے پیا جی سے مسکان معنی خیزی سے بولی
افففف مسکان بدتمیزیں نا کرو مار کھا لو مجھے سے ….
ہاۓ آپ کا شرمانا ہم تو مر مٹے مسکان دل پر ہاتھ رکھتی شوخ ہوٸی
تم خوش ہو مکھنا مسکان نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے بولی
حیا نے اثبات میں سر ہلایا ….اُن کی انکھوں میں میں نے اپنے لیے بہت عزت دیکھی ہے مسکان جس نے مجھے اُن پر یقین کرنے پر مجبور کر دیا ہے
وہ دل سے بولی
سدا خوش رہو مکھنا اور مجھے جلدی سے ماسی پلس چچی بناو
وہ شرارت سے بولی جب حیا نے اُس گھورا اور پھر کھلکھلا کر ہنس دی
حیا اور مسکان کا بھی ڈریس سیم تھا اس وقت وہ دونوں پیلے رنگ کے خوبصورت لہنگے میں ملبوس تھی
سیم کلر کی چوڑیاں ہاتھ میں پہنے ہلکے سے میک اپ میں وہ دونوں بہت پیاری لگ رہی تھی،،،،،،
_______________________________________________
کتنی محبّت ہے تجھ سے لفظوں کے سہارے کیسے بتاؤں
محسوس کر میرے احساس کو اب گواہی کہا سے لاؤں
وہ کمرے سے اُبٹن لینے جا رہی تھی جب کسی نے اُسے اپنے حصار میں لیا اور کان کے پاس سرگوشی کی
جانم بہت خوبصورت لگ رہی ہو
وہ اُس کا چہرا اپنی طرف موڑتا ماتھے پر بوسا دیتا بولا
سکندر چھوڑے کوٸی دیکھ لے گا ویسے بھی مجھے سلمہ آنٹی نے بلایا ہے کوٸی کام ہے
وہ اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کرتی بولی مگر سکندر گرفت مضبوط کر گیا…..
پہلے ایک کس، پھر چھوڑا گا تمہیں
سکندر!!!!!
حیا!!!!!
پلیز نا کرے نا
پلیز دے دو صرف ایک وہ بچوں کی طرح بولا
اچھا انکھیں بند کریں
سکندر نے انکھیں بند کی تو وہ اپنی انگلی ہونٹوں سے ٹچ کرتی اُس کی گرفت ڈھیلی پڑتی بھاگ گٸی…
آنا تو میرے پاس ہی ہے دیکھ لو گا جانم وہ مسکرایا
جبکہ وہ کھلکھلاتی جا چکی تھی…
_______________________________________________
مسکان آنی آپ بہت پیاری لگ رہی ہے مشی اسیٹج پر رسم کرنے آٸی
اور انکل عمر آج تو آپ بھی بہت ہنڈسم لگ رہے ہے
وہ شرارت سے بولی….
مشی میرا پہلے ہی موڈ خراب ہے مجھے سے بات نا کرو اس وقت وہ سخت بےزار ہو رہا تھا مسکان کے منہ پر گھونگھٹ دیکھ کر…..
اچھا آۓ ہم ڈنس کرتے ہے وہ اُس کا ہاتھ پکڑاتی اسیٹج سے نیچھے لے آٸی
اور ڈی جے کو اشارہ کیا سونگ لگانے کے لیے
وہ دونوں ڈانس کر رہے تھے جبکہ افاق ایک ساٸیڈ پر کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا….جو لڑکوں کی پروا کیے بنا ناچ رہی تھی……اس وقت وہ مشکل سے ضبط کیے کھڑا تھا
مشی آہستہ آہستہ سب کو ڈانس کے لیے لے آٸی جب وہ افاق کی طرف آٸی تو اُس نے ایک جھٹکے سے اُس کا ہاتھ پکڑا اور سب میں سے ہوتا وہ اندر لے آیا….
وہ اُسے کیھنچتا ہوا کمرے میں لایا اور زور سے دروازہ بند کرتا اس کی طرف موڑا
گھر میں میوزک کی آواز سے کسی نے دھیان نہیں دیا
وہ لمپے لمبے ڈگ بھرتا اُس کے قریب پہنچا اور اُس کا نازک بازو اپنی گرفت میں لیا….
کس کی آجازت سے تم ڈانس کر رہی تھی عقل ہے کہ نہیں کتنے لڑکے تھے وہاں
وہ غصہ سے پھنکارا…..
تمہیں کا تکليف ہو رہی ہے میں جو مرضی کرو اور بازو چھوڑو میرا درد ہو رہا ہے مجھے…..
آٸندہ سے میں تمہارے سر پر ڈوپٹہ اترتا نا دیکھو سمجھی تم وہ اُس کی بات کی پرواہ کیا بنا درشتگی سے بولا..
نہیں لو گی کیا کر لو گے اور تم کیوں مجھ پر اتنا حق جتا رہے …. تمہاری غلام نہیں میں سمجھے
افاق کا یوں حکم چلانا اُسے آگ لگا گیا
اور کس حق سے تم نے مجھے چھوا چھوڑا میرا ہاتھ وہ چیخی …..
کیونکہ محبت کرتا ہوں تم سے ڈیم اٹ عزت سمجتا ہوں تمہیں میں اپنی…..
اپنی محبت کو یوں سب کی سامنے دیکھنا مجھے منظور نہیں وہ اُس سے زیادہ سرد آواز میں بولا…..
مجھے برداشت نہیں کوٸی تمہیں دیکھے جان لے لو گا میں اُسکی
وہ انکھیں پھاڑے اُس کا جنوں دیکھ رہی تھی ایسا نہیں ہو سکتا یہ کمبا مجھے سے محبت کرتا ہے …..
نہیں نہیں
افاق اس کے ردعمل کا منتظر تھا
جو اس کی سوچ کے برعکس ہوا وہ اُس کی باہوں میں جھول گٸی
جبکہ اس عمل سے افاق کو شدید تپ چڑھی
بے چاری اظہار محبت کا صدمہ برداشت نہیں کر سکی
یا خدا مجھے صبر دے وہ دل میں بولا
اور پھر اُسے گود میں اٹھاتا بیڈ کے قریب لایا اور پھر آرام سے لیٹا دیا
_______________________________________________
جاری ہے ……
