Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sanam By Sheeza Writer Episode05

Sanam By Sheeza Writer Episode05

______________________________
بی بی جان آپ سے ایک اجازت لینی ہے ؟
وہ اُن کے پاس بیٹھی بولی جو کوٸی کتاب پڑھ رہی تھی۔
بولا چندا کیا ہوا؟
وو۔۔وہ آج رات کا ڈنر میں بناوں
اس کی بات پر وہ مسکراٸی مگر چندا ابھی دن ہی کتنے ہوۓ ہے تمہاری شادی کو
ویسے بھی اگلے ہفتہ ولیمہ کا فنکشن ہے اُس کے بعد کرنا کوٸی کام ابھی آرام کرو
وہ اُس کے گال تھپتھپاتی بولی
مگر میں بور ہو رہی ہوں اُس نے منہ بسورا
اس کے انداز پر وہ مسکراٸی
اچھا چلو کچھ میٹھا بنا لو اس کے علاوہ کچھ نہیں
اگر کسی اور کام کو ہاتھ لگایا تو مار پڑے گی
تھینک یو بی بی جان وہ اُن کے گلے لگی
اور اٹھا کر کیچن کی طرف چل دی
______________________________
بی بی جان نماز پڑھ کر باہر لان میں آ کر بیٹھی تھی
جب پیچھے سے عمر دبے قدموں سے چلتا آیا اور اُن کی انکھوں پر ہاتھ رکھ دیا
تم کب آۓ عمر؟
یہ کیا بی بی جان آپ کو ہمیشہ کیسے پتہ لگ جاتا ہے
وہ منہ بسوارتا اُن کے سامنے نیچھے گھاس پر بیٹھ گیا
ارے اوپر بیٹھو اور ماں اپنے بیٹے کی خوشبو سے پہچان لیتی ہے
میں یہی ٹھیک ہوں وہ اُن کی گود میں سر رکھتا بولا
کیسی رہی میٹنگ ؟
اے ون بی بی جان ، بس وہ آپ کا جو بیٹا ہے اُس کی بڑی یاد آٸی وہ شرارت سے بولا۔۔۔۔۔۔چلے اندر چلتے ہے باہر سردی ہو رہی ہے
وہ انہیں کھڑا کرتا اندر لے کر چلا گیا
______________________________
افاق کہاں ہے ؟ وہ میٹھا بنا کر فارغ ہوٸی تو اُسے افاق کا خیال آیا
میڈم!!!! افاق بابا اوپر ٹیرس پر ہے روبن نے نظریں جھکا کر کہا۔۔۔۔
اتنی سردی میں وہ اوپر کیا کر رہا ہے
حیا سوچتی ہوٸی سڑھیاں چڑھتی اوپر گٸی
وہ اُسے ریلینگ کے پاس بیٹھا نظر آیا
افاق بیٹا یہاں کیا کر رہے ہوں وہ اپنی شال کندھوں پر درست کرتی اُس کے قریب آٸی
کچھ نہیں بھابھی وہ ہاتھ میں پکڑی تصویر چھپاتا بھراٸی آواز میں بولا
کیا ہوا ہے کسی نے کچھ کہا ہے تمہیں وہ اُس کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیتی بولی
نہیں کسی نے کچھ بھی نہیں کہا بھابھی
وہ نظریں چرا گیا
ادھر دیکھو کیا چھپا رہے ہوں ،
کچھ بھی تو نہیں
اچھا یعنی تم مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتے اس لیے مجھے سے کوٸی بھی بات شیٸر نہیں کر رہے
وہ افسردہ ہوٸی
ایسی بات نہیں آپ بہت اچھی ہے بھابھی
میں یہ دیکھ رہا تھا اُس نے ایک تصویر آگے کی
جس میں ایک بہت خوبصورت خاتون تھی اس کی انکھیں بلکہ افاق جسی تھی براٶن اور اُن میں ایک خاص چمک
یہ کون ہے ؟
میری ماما ہے وہ سر گھٹنوں پر رکھتا بولا
مگر تمہاری ماما تو………..
بھا بھی نیچے چلے بہت سردی ہو رہی ہے
وہ اٹھا اور سڑھیاں اترتا نیچے چل دیا
حیا نے بھی اُس سے دوبار پوچھنا مناسب نہ سمجھا
______________________________
وہ سکندر کے کمرے میں آٸی تاکہ فریش ہو سکے بی بی جان نے آج دوپہر کو ہی اُس کا سامان یہاں رکھوا دیا تھا
اُس نے اپنے لیے پیلے رنگ کا جوڑا نکلا جس پر سیفد کڑھاٸی ہوٸی تھی
ساتھ سفید ہی رنگ کی کپیری تھی اور پیلے اور سفید رنگ کا دوپٹہ تھا
وہ پندرہ منٹ بعد فریش ہو کر نکلی اور اپنے لمبے بالوں کو سلجھنے لگی
انکھوں میں کاجل ڈالے وہ خود پر ایک نظر ڈالتی سر پر دوپٹہ لیتی نیچے آٸی
______________________________
وہ لاونج میں آٸی تو بی بی جان کے پاس ایک بہت ہی خوش شکل لڑکا بیٹھا تھا
حیا نے وہاں جانا مناسب نہ سمجھا اس لیے الٹے قدم واپس جانے لگی
جب بی بی جان کی پکار نے اُسے روک لیا
حیا بیٹا یہاں آو
جی اچھا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اُن تک پہنچی
یہ کون ہے بی بی جان ؟ عمر حیا کو دیکھتا بولا
یہ حیا ہے سکندر کی بیوی
کیا!!!!!!!!
جتنے آرام سے انہیں نے بولا تھا وہ اُتنا ہی اُچھل کر کھڑا ہوا
اُس گدھے نے شادی بھی کر لی اور مجھے اب پتہ لگ رہا ہے
وہ غصہ سے بولا
سکندر کو گدھا کہنے پر حیا نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی
آنے دے اس بدتمیز اتنی بڑی بے وفاٸی وہ بھی میرے ساتھ
وہ لاونج میں ٹہلتا اُس کو سبق سکھنے کے بارے میں سوچ رہا تھا
ویسے بھابھی آپ سوچ رہی ہو گی کے میں کون ہوں
وہ حیا کی طرف دیکھتا بولا ، جس پر اُس نے اثبات میں سر ہلایا…….
میں آپ کے بے وفا شوہر کا جگری دوست عمر ہوں
وہ ہر کام مجھے سے پوچھا کر کرتا ہے پتہ نہیں شادی کیوں نہیں پوچھ کر کی
اُس نے منہ بسورا
اسلام و علیکم وہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے
جب سکندر اندر آیا اور سب کو سلام کیا
عمر بی بی جان کی گود میں سر رکھ کر لیٹا تھا
آتے ہی میری ماں پر قبضہ کر لیا وہ اپنا کوٹ حیا کو پکڑتا بولا
بس یہ اس نے برا کیا جو سوتے ہوۓ شیر کو جگا دیا
کمینے ،بے مروت،بے وفا توں نے شادی کر لی دلہن گھر لے آیا اور مجھے اب پتا لگ رہا ہے
بچپن کا دوست ہے توں میرا مجھے زکام بھی ہو تو میں تجھے کال کر کے بتا ہوں
اور توں نکاح کر آیا مجھے بتایا بھی نہیں
وہ لڑاکا عورتوں کی طرح سکندر کی طرف ہاتھ کر کے باتیں کر رہا تھا
حیا اور بی بی جان مشکل سے اپنی ہنسی ضبط کیے کھڑی تھی
ابے میری بات تو سن!!!!
کچھ نہیں سنا مجھے
دوست دوست نہ رہا…..
پیار پیار نہ رہا۔۔۔۔
ابھی تو پیار بھی نہیں ہوا
وہ نہ نظر آنے والے آنسو صاف کرتا بولا
محبت کے وعدہ وہ ساری قسمیں جو توں نے کھاٸی تھی
کیا ہوا اُن کا ،
اس کے انداز پر سکندر کا قہقہا گونجا
حیا نے پہلی بار اُسے ہنستے دیکھا بلاشبہ وہ یوں ہنستا بہت پیارا لگتا تھا
ہنس لو راجا بابو۔۔۔۔۔۔۔۔
جا میری بھی دعا ہے تیرے بچے روز صبع آفس جانے سے پہلے تیرے کپڑے خراب کر دے
تیرے بال کینھچ کر وہ تجھے گنجا کر دے
عمر باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف منہ کر بولا
اور تیری طرف چھوارے ادھار ہے سمجھے
چلے امی کھانا لگاۓ بھوک لگی ہے مجھے ، وہ سکندر کو منہ چڑھتا بی بی جان کا ہاتھ پکڑ کر لے گیا
جبکہ کے سکندر کھڑا اس ایکٹنگ کی دکان کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
اور حیا اُسے مسکراتے ہوۓ
سکندر کو کسی کی نظروں کی تپیش کا احساس ہوا تو اُسے نے حیا کو دیکھا
جو بت بنی کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی
وہ مسکراتا قریب ہوا اور اُس کے کان میں سرگوشی کی
مسز کیا مجھے ایک گلاس پانی مل سکتا ہے
اُس کے ہونٹ حیا کے کان پر ٹچ ہو رہے تھے
ج۔۔جی میں ڈالتی ہوں
وہ بوکھل کر الٹا بول گٸی
اور پھر جب غلطی کا احساس ہوا تو شرمندہ ہو کر سر جھکا لیا
سوری آپ فریش ہو میں لے کر آتی ہوں
وہ پانی کا گلاس روم میں لے کر آٸی تو سکندر بنا شرٹ کے کھڑا اپنے بال سلجھا بنا رہا تھا
وہ جلدی سے چہرا موڑ کر کھڑی ہو گٸی
سکندر نے بغور اسے دیکھا پیلا رنگ میں اُس چہرا دمک رہا تھا
لمبے بال پشت پر پھیلے تھے…سکندر نے پہلی بار کسی کے اتنے لمبے بال دیکھے تھے
وہ اُس کا دل بے ایمان کر رہی تھی
پ…پانی
ہممممم رکھ دو
اور وڈراب سے میری کوٸی ٹی شرٹ نکال دو اُس نے حکم دیا
وہ جو یہاں سے جانے کا بہانہ سوچ رہی پانی کا گلاس ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا اور شرٹ نکالنے لگی
کیا ہوا نہیں ملی شرٹ وہ اُس کے پیچھے کھڑا بولا
حیا کی پشت سکندر کے ساتھ لگ رہی تھی
ایک کرنٹ سا اُس کے جسم میں ڈورا
ن۔۔۔نہیں ملی زبان جسے اُس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی
ایک بیوی کو اپنے شوہر کی تمام ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے
آگے سے دھیان رکھنا اُس نے بلیو کلر کی شرٹ نکالی اور پیچھے ہوا
حیا کا روکا سانس بحال ہوا
______________________________
کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا
سکندر نے عمر سے بات کرنے کی کوشش کی جس پر اُس نے صاف انکار کر دیا
وہ اس وقت روٹھی محبوب کی طرح بیٹھا تھا
حیا بیٹا جاو میٹھا لے کر آو جو تم نے خاص کر سکندر کے لیے بنایا ہے
اہمم اہمم عمر نے معنی خیزی سے سکندر کو دیکھا
بی بی جان سکندر کو دیکھتی بولی
جبکہ حیا حیرت سے اُنہیں دیکھ رہی تھی کیونکہ اُس نے یہ کب کہا تھا اُن سے
وہ ٹرلی میں گاجر کا حلوا لے کر آٸی
اُس نے بی بی جان کو ڈال کر دیا
پہلے سکندر کو دو انہیں نے پلیٹ سکندر کے آگے رکھی
اُس نے ایک نظر حیا کو دیکھا جو نروس سی کھڑی اپنی انگلیوں پر ظلم کر رہی تھی
کیسا لگا سکندر نے چمچ منہ میں ڈالا جب عمر بولا
بس ٹھیک ہے،،، اس کے ایسا کہنے پر حیا کا منہ اترا
کتنی محنت سے اُس نے حلوا بنایا تھا
پھر اُس نے بے دلی سے سب کو سرو کیا
اور اوپر روم میں آ گٸی
اچھا تو ہے کھڑوس انسان بھابھی کو ہرٹ کر دیا تم نے
کچھ نہیں ہوتا توں کھانا کھا اور نکل یہاں سے سکندر مضوعی غصہ سے بولا
دیکھ سکندر مجھے پہلے ہی بہت غصہ ہے میرے غصہ کو ہوا مت دے
مجھے تو رہے رہے کر چھواروں کا دکھ کھاۓ جا رہا ہے
سکندر کا فلک شگاف قہقہ گونجا
تجھے میں کل چھوارے لا دو گا کھا لینا کمینے انسان
تو ہو گا کمینا میں تو ہیڈسم اور ڈیشنگ ہوں
وہ ایک ادا سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھراتا بولا
اور آج میں یہی رہو گا اپنی بی بی جان کے پاس وہ اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھتا شوخ ہوا
چلے بی بی جان میں آپ کو امریکہ کی حسینوں کے قصہ سناتا ہوں……
کیسے وہ آپ کے اس ڈیشنگ بیٹے پر مر مٹی تھی
وہ انہیں کمرے میں لے گیا اور سکندر حیا کے بارے میں سوچتا سڑھیاں چڑھتا اپنے روم کی طرف چل دیا
______________________________
وہ روم میں داخل ہوا تو حیا صوفے پر سو رہی تھی
چہرے پر آنسوٶں کے نشان موجود تھے
سکندر نے اُسے باہوں میں اٹھایا
حیا تھوڑا سا کسمساٸی اور پھر سو گٸی
وہ اُسے بیڈ پر لے آیا اور پھر آرام سے لیٹا کر اُس پر بلینکٹ دیا
اور خود اُس کے پاس بیٹھا اُسے تکنے لگا
لمبے بال تکیہ پر بکھرے تھے
دوپٹہ نہ ہونے کی وجہ سے اُس کی خوبصورت گردن سکندر کو بے خود کر رہی تھی
پھر وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر جھکا اور گردن پر ایک مہر ثبت کی
حلوا بہت مزے کا تھا کان میں سرگوشی کی جیسے وہ سن رہی ہوں
اور پھر اُس کے ساتھ لیٹ گیا اور حیا کو دیکھتے کی نیند کی وادی میں کھو گیا
______________________________
جاری ہیں……..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *