Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode02
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode02
Sanam By Sheeza Writer Episode02
وہ اپنے کمرے میں آیا اور غصہ سے اپنا کوٹ بیڈ پر پھینک اور کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔
جسے اپنے اندر بھرتے غصہ کو کنٹرول کر رہا ہو
کیوں امی آپ ایک لڑکی کی زندگی برباد کرنا چاہتی ہے
کتنے ارمان ہو گے اُس کے بھی اور اُسے ملا گا کیا صرف بکھرا ہوا شخص
آپ کا وہ شوخ سکندر مر چکا ہے اب بس جسم سے روح نکلنا باقی ہے
وہ نیچے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا چلا گیا
انکھیں بند کی تو کوٸی عکس نظر آیا جس سے وہ بے انتہا نفرت کرتا تھا
”سکندر ویسے بھابھی بڑی خوبصورت ہے“ کسی کے الفاظ اُس کے گرد گونجا
ہوٹل کا کمرا جس میں موجود اُس کی بیوی اور جان سے پیارا دوست
ماضی کی تلخیوں نے اُسے پھر گھیرے میں لے لیا تھا
شہد رنگ سے جسے لہو ٹپکنے لگا تھا
اُس کے اندر کی وحشت بھرنے لگی
تھی ۔۔۔۔ایک اور رات اُس کی اذیت میں گزرنی تھی
______________________________
ایک نٸی صبع کا سورج طلوع ہوا جس سے ہر طرف روشنی پھیل گٸی
وہ لان میں بیٹھی اڑتے پرندوں کو دیکھ رہی تھی
جب فاٸزہ بیگم نے پکارا
حیا!!!!!!
جی مامی وہ ایک دم سے ڈر کر کھڑی ہو گٸی۔۔۔۔۔۔
آج تم کالج نہیں جاو گی میرا بھتیجا آ رہا ہے لندن سے ،اس لے کچھ کھانے کا انتظام کرنا ہے
مگر مامی میری کل بھی چھٹی ہو گٸی تھی اُس کی زبان سے پھسلا
زبان چلتی ہو میرا آگے جتنا کہا ہے صرف اُتنا ہی کرو
نہیں تو تم دونوں کا خرچہ بند کر دو گی وہ دھمکی دیتی بولی
اور یہ شروع سے ہی ہوتا تھا جب بھی عرفان صاحب شہر سے باہر جاتے تھے
ان دونوں پر زندگی تنگ پڑ جاتی تھی
ٹھیک ہے مامی میں دیکھتی ہو کیچن وہ آنسو پیتی اندر چلی گٸی
______________________________
حیا اندر آٸی تو زینب بیگم ڈسٹنگ کر رہی تھی۔۔۔۔
امی یہ کیا کر رہی ہے میں کر لو گی ،وہ اُن کے ہاتھ سے کپڑا لیتی بولی۔۔۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں چندا تم نے اور بھی تو کام کرنے ہے۔۔۔۔۔۔
نہیں میں سب کر لو گی آپ آۓ میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
وہ انہیں لے کر کیچن میں داخل ہوٸی اور پھر فریج سے جوس نکلا اور گلاس میں ڈال کر انہیں دیا۔۔۔۔۔۔۔
یہ میں نہیں پی سکتی حیا تمہیں بھابھی کا پتہ ہے وہ پھر ناراض ہو جاۓ گی۔۔۔۔۔۔۔۔
چپ کر کے پی لے مامی کمرے میں تیار ہو رہی ہے ایک گھنٹے سے پہلے نہیں نکلے گی۔۔۔۔۔
مگر حیا!!!!!!
اگر مگر کچھ نہیں
آپ ختم کریں رات سے بھوکی ہے وہ انہیں کہتی کباب بنانے کے لیے سامان نکلنے لگی
اب آپ روم میں جا کر آرام کریں میں سب کچھ کر لو گی
نہیں میں ٹھیک ہوں اب لاونج کی دسٹنگ کر دیتی ہوں
وہ گھٹنے پر ہاتھ رکھتی اٹھی گٸی آپ جاۓ ورنہ میں آپ سے ناراض ہو جاو گی
وہ خفگی سے بول
اچھا ٹھیک میں جا رہی ہوں کوٸی کام ہو تو مجھے آواز دے دینا
وہ اُس کے ماتھے پر اپنا شفقت بڑا لمس چھوڑتی چلی گٸی
______________________________
وہ رات سے ایک ہی پوزیش میں بیٹھا تھا سگریٹ کی ڈبی وہ ختم کر چکا تھا
مگر سکون جسے اب بھی نہیں تھا وہ اٹھا اور بیڈ پر جا کر لیٹ گیا
اور کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادی میں کھو گیا
پھر اُس کی انکھیں بارہ بجے کھولی وہ اٹھا اور فریش ہونے واشروم میں چلا گیا
وہ باہر آیا بلیک کلر کی شرٹ اور پنٹ پہنے وہ بہت ہنڈسم لگ رہا تھا
شہد رنگ ابھی بھی گلابی تھی وہ ہاتھ سے بال سیٹ کیے نیچے آیا جس سے کچھ بال ماتھے پر بکھر گٸے
لاونج میں ہی اُسے افاق بیٹھا نظر آیا
وہ اُس کے قریب پہنچا اور اُس کے ساتھ بیٹھ گیا
کیا ہوا ہے آپ آج سکول کیوں نہیں گٸے ؟
پاپا دادو مجھے سے پیار نہیں کرتی وہ روتا ہوا اُس کے سینے سے لگ گیا
آپ کو ایسا کس نے کہا وہ بہت پیار کرتی ہے میرے شیر سے
نہیں پاپا انہوں نے کہا کہ میری وجہ سے آپ خوش نہیں رہے سکتے
وہ مجھے بوڈنگ بیھجنا چاہتی ہے ، مگر میں نہیں جاو گا آپ کو چھوڑ کر
اُس نے اپنی گرفت مضبوط کر لی
سکندر کی انکھوں میں ایک دم غصہ آیا
روبن!!!!! وہ انتی زور سے دھاڑا کے سینے سے لگا افاق ڈر کے اُس کے ساتھ چیپک گیا
”جی سر“ امی کہاں ہے ؟
اپنے کمرے میں ہے سر!!!!
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اُن کے کمرے میں داخل ہوا
وہ بیڈ پر بیٹھی کوٸی کتاب پڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔
آپ نے افاق سے ایسی بات کیوں کہی امی
وہ اُن کے پاس کھڑا سوال کر رہا تھا
کون سی بات؟
آپ اب انجان نہ بنے امی آپ کو اُس مصوم بچے سے کیا دشمنی ہے
کیوں کے وہ دشمن ہے آپ کی خوشیوں کا اُس کی وجہ سے آپ دوسری شادی نہیں کر رہے
پتا نہیں اُس گندہ کو کیوں آپ نے اس گھر کی زینت بنایا ہے۔۔۔۔۔
وہ اپنے الفاظ سے سکندر کے دل کو زخمی کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
امی پلیز بس کریں!!!!!!
نہیں تم بتاو کیا لگتا ہے وہ تمہارا جس کے لیے تم اپنی ماں کے سامنے کھڑے ہو گٸے۔۔۔۔۔
آپ سچ برداشت نہیں کر سکے گی امی
اس لیے پلیز بس کریں ختم کریں یہ سب۔۔۔۔۔
نہیں آج تم بتا ہی دو!!!!!
تو سنایے امی یہ آپ کے محروم شوہر وجاہت علی کا خون ہے۔۔۔۔
یہ اُس کی اولاد جسے سے میرا باپ رات کو چھپ کر ملتا تھا۔۔۔۔۔۔
اور جب میرا باپ اسے نام نہیں دے پایا تو وہ عورت رات کے اندھیرے میں اس مصوم کو کچرے کے ڈھیر پر پھینک گٸی۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں اُن کے پیچھے نہ ہوتا یہ ایک سال کا بچہ کسی جانور کی خوراک بنا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
یاد ہے وہ رات جس دن بابا سے میری تلخ کلامی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔
وہ اسی وجہ سے تھی امی،،،،،،
مل گیا آپ کو اپنے سوال کا جواب
وہ اُن کے فق چہرے پر ایک نظر ڈالتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر ڈھا سی گٸی
_____________________________
وہ دو بجے تک سب کاموں سے فررغ ہو گٸی تھی
اب اُس کا فریش ہونا کا تھا وہ تمام چیزوں کو ایک نظر دیکھتی اپنے کمرے کی طرف چلی گٸی
وہ فریش ہو کر اپنی کتابيں لیے لان میں آ گٸی
تاکہ تھوڑا پڑھ سکے
ابھی اُس نے بک کھولی ،جب بیرونی دروازہ کھولا اور ایک کار اندر داخل ہوٸی۔۔۔۔۔۔
کار کا دروازہ کھولا اور ایک 25 نوجوان باہر نکلا
اور اندر داخل ہو گیا
حیا نے اپنی کتابيں سمیٹی کیوں کے ابھی مامی کی آواز آ جانی تھی
______________________________
ویسے پھوپھو یہ لڑکی کون ہے ؟ وہ حیا کی ضرف اشارہ کر بولا
عرفان کی بہن کی بیٹی ہے وہ نخوت سے بولی
بیوٹیفل اُس نے بے ساختہ کہاں
اگر کام ہو گیا ہے تو جاو یہاں سے وہ جل کر بولی
اچھا مامی وہ ویسے بھی حامد کی اجبی نظروں سے گھبرا رہی تھی
اس فورا اپنے کمرے میں چلی گٸی۔۔۔۔۔۔
حامد کی نظروں نے دور تک اُس کا پیچھا کیا
پھر وہ اُسے کے جانے تک کمرے سے باہر نہ نکلی
_____________________________
وہ افاق کے پاس بیٹھا اُسے ٹھنڈی پاٹیا کر رہا تھا
کیونکہ اُسے رو رو کر بہت تیز بخار ہو گیا تھا …
نوکروں کی ڈوریں لگی تھی کیوں کے سکندر کے غصہ سے سب واقف تھے….
جو بھی مگر سکندر کو اُس سے بہت پیار تھا۔۔۔۔
وہ فجر کی اذان ہونے تک وہاں بیٹھا اُسے پٹایا کرتا ہے۔۔۔۔
پھر کہیں جا کر اُس کی طبیعت سمبھالی۔۔۔۔۔
پھر وہ وہی اُس کے پاس سر رکھ کر سو گیا
______________________________
وہ جب سے اپنی پھوپھو کے گھر سے آیا تھا۔۔۔۔۔
بار بار حیا کا چہرا انکھوں کے سامنے آرہا تھا
اُس کی جھیل جیسی سبز انکھیں گلابی گال
اور اُن میں شاید ڈمپل پڑتا تھا وہ اُسے بے چین کر رہے تھے
وہ بس اُسے حاصل کرنا چاہتا تھا
اتنی خوبصورتی میں نے پہلی بار دیکھی ہے
تمہیں تو میں جلد اپنا بنا لو گا بے بی
وہ بڑبڑایا
_____________________________
آج اتوار کا دن تھا اس وجہ سے فاٸزہ بیگم علیزے کو لے کر کسی دوست کی طرف چلی گٸی
اُس نے گھڑی میں وقت دیکھا تو بارہ بجنے والے تھے
وہ اٹھی اور کیچن کی طرف چلی گٸی تاکہ دوپہر کے کھانے کے لیے کچھ بنا سکے
اُس نے ابھی کیچن کے اندر قدم ہی رکھا تھا جب دروازہ کھولا اور کوٸی اندر داخل ہوا
آپ کب آۓ ؟ وہ اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتی بولی
مامی اور علیزے گھر پر نہیں ہے ۔۔۔
اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔۔۔وہ دھیرے دھیرے اُس کے قریب آ رہا تھا
میں تو یہاں تم سے ملنے آیا!!!! تمہارے حسن نے کل کا مجھے بے چین کیا ہے
وہ خباست سے بولتا ،اُس کے بلکل سامنے کھڑا ہو گیا
آپ پلیز دور رہے کر بات کریں میں امی کو بلا کر لاتی ہوں
کون کمبخت تمہارے نزدیک آ کر دور جانا چاہے گا اور تمہاری امی کو میں نے باہر جاتے دیکھا ہے۔۔۔۔
تب تک ہم ساتھ وقت گزرتے ہے ،آو تمہیں پیار کرنا سکھتا ہوں۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ پکڑتا اپنے ساتھ لے کر جانے لگا
جب حیا کا ہاتھ اٹھا ،اور اُس کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا
تمہاری اتنی ہمت تم مجھے پر ہاتھ اٹھاو
اُس نے حیا کا بازو پیچھے کو موڑا
بہت ہمت ہے نہ آو دیکھتا ہوں تم مجھے کیسے روکتی ہوں
حامد رضا نام ہے میرا اور مجھے تم جیسی لڑکیوں کا سمبالنا اچھی طرح آتا ہے
اُس نے حیا کو اپنے کندھے پر ڈالا اور اندر کمرے کی طرف چل دیا
حیا مسلسل اُس کو مُکے مار رہی تھی
وہ اُس کو کمرے میں لے کر داخل ہونے لگا
جب دروازہ کھولا اور زینب اندر آٸی
اپنی بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کر اُن کی انکھیں پھٹی پھٹی رہا گٸی
ہاتھ میں موجود چیزیں نیچھے گر گٸی
حامد اُسے نیچے اتر چکا تھا زینب بیگم آگے بڑھی اور ایک تھپڑ اُس کے منہ پر مارا پھر دوسرا
تم گھٹیا انسان آنے دو بھابھی بتاتی ہوں میں کہ تم ایک حیوان ہوں۔۔۔۔۔
تمیز سے بات کرو بڑھیا اور اگر عزت بچانا چاہتی ہوں تو اپنی زبان بند رکھنا
ورنہ!!!!
وہ انہیں ڈرتا اپنی شرٹ ٹھیک کرتا وہاں سے چلا گیا
اور زینب بیگم اپنی بیٹی کو چھپ کروانے لگی
جو ڈری سہمی اُن کے سینے سے لگی تھی
چھپ کر جاو چندا اور جا کر اپنا ضروری سامان پیک کرو
وہ کچھ سوچتی بولی
______________________________
جاری ہیں۔۔۔۔۔
