Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode11
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode11
Sanam By Sheeza Writer Episode11
________________________________________________
وہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے باہر کا منظر دیکھنے لگا….. کمرے میں اُسے شدید گُھٹن ہو رہی تھی اس لیے وہ باہر آ گیا….رات کی سیاہی سب کو اپنی باہوں میں لیے سکون کی نیند سو رہی تھی…..آسمان پر چمکتے تارے اور ان میں موجود چاند اُسے اپنی جانب متوجہ کر رہا تھا….
وہ سبز گہری جھیل سی انکھیں سکندر کو ہر طرف دیکھاٸی دے رہی تھی….. کہاں کہاں نہیں اس نے اُسے تلاش کیا مگر اُسے شاید زمین کھا گٸی….
وہ سگریٹ پیتا سوچ رہا تھا کہ اور اُسے کہاں ڈھونڈو
سکندر آپ بہت پچھتاۓ گے “ یہ الفاظ تیر کی مانند اُس کا دل زخمی کر رہے تھے۔۔۔۔۔
کیوں نہیں کیا میں یقين تم پر کیسے میں کسی کی باتوں میں آ سکتا ہوں؟وہ خود سے سوال کرنے لگا۔۔۔۔
کیوں کے تم ماضی میں کھو اتنے پاگل ہو جاتے تھے جس سے تم اُس مصوم لڑکی کو ہر بار تکلیف دے دیتے تھے
اندر سے کہیں آواز……
آسمان پر ہلکی روشنی پھیلنا شروع ہو چکی تھی مگر نیند انکھوں سے کوسوں دور تھی…
________________________________________________
کیا ہوا اُداس لگ رہی ہو؟ گُل چاۓ کا کپ لے کر اُس کے پاس آٸی وہ نماز سٹاٸل سے ڈوپٹہ لیپٹے وہ چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی
نہیں اُداس نہیں بس اپنی قسمت کے بارے میں سوچ رہی ہوں…..
کیا سوچ رہی ہو؟ گُل نے اُس کے سامنے بیٹھتے سوال کیا
مجھے لگتا ہے خدا مجھے سے محبت نہیں کرتا وہ مایوسی سے دور آسمان پر اڑتے پرندوں کو دیکھتی بولی
اور ایسا کیوں لگتا تمہیں پیاری،
کیوں کے ساری زندگی اُس نے مجھے محرومیاں دی ہے
ایک بات کہوں حیا!!!!ہممممم بولے آپی
اللہ کے پیار کا ہم اندازا نہیں لگا سکتے حیا وہ تو اپنے گنہار بندہ سے بھی محبت کرتا ہے اُسے بھی موقع دیتا ہے ٹھیک ہونے کا تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو کہ وہ تم سے محبت نہیں کرتا…..رہی محرومیوں کی بات تو کبھی وہ ہم دے کر ازماتا اور کبھی ہم سے لے کر وہ دیکھتا ہے کہ اُس کا بندہ صبر کرتا یا شکوہ……
تو میری جان کبھی خدا سے شکوہ نہیں کرنا چاہیے بس اُس کی دی آزمائش پر صبر کرنا چاہیے…..
چلو اٹھو ناشتہ کرو پھر نکلنا ہے لاہور کہ لیے میں معشل کو دے کر آتی ہو….
_______________________________________________
مسکان یہ آپ نے ایک دن میں اپنا کیا حال بنا لیا ہے؟ وہ اس وقت مسکان کے گھر کے لاونج میں بیٹھا تھا رات کو اُس کا رونا سن کر کسی بھی طرح چین نہیں آ رہا تھا اس لیے وہ صبع ہی اُسے دیکھنے کے لیے آ گیا……
مسکان کی سوجی انکھیں اور مرجھایا چہرا دیکھ کر اُس کا دل کٹ رہا تھا……
عمر پلیز مجھے حیا سے ملنا ہے پتہ نہیں وہ کہاں ہو گی اُس کا تو اس شہر میں کوٸی نہیں….وہ سوں سوں کرتی بولی
میں نے اُس کے ماموں گھر بھی کال کی تھی وہ وہاں بھی نہیں گٸی….. وہ ایک دفعہ پھر رونے لگی.…..
مسکان آپ ایسے رو کر انکل آنٹی کو پریشان کر رہی ہے پلیز سنبھلے خود کو یار وہ بے بس ہوا…..
میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہو مگر آپ کے یہ آنسو مجھے پریشان کر رہے ہے.…..
میں اب نہیں رو گی بس آپ حیا کو جلدی سے ڈھونڈ کر لا دے….
ٹھیک ہے اب چلو ناشتہ کرو وہ اُسے اٹھانے لگا جب اُس کے موبائل کی ٹون بجی….
ہیلو جی کون؟
دوسری طرف سے جو خبر اُسے سناٸی گٸی عمر کو سن کر بہت افسوس ہوا
اللہ اُس کی مغفرت کریں وہ فون بند کرتا مسکان کی طرف متوجہ ہوا جو ہونق بنے اُسے دیکھ رہی تھی
کیا ہوا عمر؟
کچھ نہیں وہ تعبیر تھی نہ جس سے تم پارٹی میں ملی تھی اُس کی ڈتھ ہو گٸی ہے جبکہ حامد اب کبھی چل نہیں سکے گا اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگی ہے….
اچھا ہوا ان دونوں کے ساتھ جو اپنے انجام کو پہنچ گٸے….. اچھا یہ فضول باتیں چھوڑو چلو اٹھو اور چلو ناشتہ کرتے ہے انکل آنٹی ویٹ کر رہے ہو گے…..
وہ اُسے ساتھ لیے ڈاٸنگ ٹیبل پر آیا
________________________________________________
روبن ماما نے ناشتہ کیا وہ مرجھایا چہرا لے کر نیچے آیا جس چہرے پر پہلے سختی ہوتی تھی اب وہ افسوس اور ندامت نظر آتی تھی…..
نہیں وہ کہہ رہی ہے ابھی بھوک نہیں.. اچھا تم ناشتہ تیار کر کے مجھے دو میں لے کر جاتا ہوں….
وہ جو انکھیں موند کر لیٹی تھی دروازے پر ہونے والی دستک نے انہیں متوجہ کیا…..
روبن تمہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ابھی ہمیں بھوک نہیں وہ غصہ سے بولی
سکندر آہستہ سے دروازہ دھکیلتا اندر آیا…..
کیوں آۓ ہو اب یہاں کچھ رہا گیا ہے کرنے کو
مما پلیز معاف کر دے اور ناشتہ کر لے ورنہ آپ کی طبعت خراب ہو جاۓ گی
اگر آپ کو اتنا ہی ہمارا خیال ہوتا تو ہماری بیٹی کو دور نہ کرتے نہ ہی اُس پر شک کرتے……
ناشتہ یہاں رکھے اور جاۓ ہمیں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنی وہ غصہ سے بولتی چہرا موڑ گٸی…..
سکندر تھوڑی دیر انہیں دیکھتا رہا پھر مرے مرے قدموں سے واپس چلا گیا…..
وہ باہر لاونج میں بیٹھا تھا جب افاق قدم قدم چلتا اُس کے پاس آیا…
بھاٸی آپ سے بات کرنی ہے!!!!!!
بولو کیا بات ہے جان وہ اُس کے گال چھونے لگا جب افاق دو قدم پیچھے ہوا……
بھاٸی میں ہوسٹل جانا چاہتا ہوں….
مگر کیوں تم اپنی اسٹڈی یہاں بھی کرسکتے ہو
سوری مگر اب میرا دل نہیں لگے گا یہاں میرے سارے دوست جا رہے ہے
اگر آپ اڈمیشن کروا سکتے ہے نہیں تو میں عمر بھاٸی کو کہہ دو گا….
آپ میرے ہیرو تھے بھاٸی مگر آپ بھی ملک وجاہت جیسے نکلے وہ کہتا روکا نہیں اور اپنے کمرے میں چلا گیا…..
پیچھے وہ کتنی دیر ساکت بیٹھا رہا….. اُس نے اپنے ہاتھوں سے تمام رشتوں کو خود ہی آگ لگا دی تھی….
_______________________________________________
تھک گیا ہوں عمر چوبیس گھنٹے ہو گٸے ہے اُسے غاٸب ہوا کہاں ڈھونڈو میں اتنی بڑی سزا تو نہ دے وہ مجھے
وہ پریشانی سے سر سیٹ پر ٹکا گیا
یہ تھکن تم نے خود اپنی قسمت میں شامل کی ہے اگر تم حیا بھابھی کا یقین کر لیتے تو آج یوں دربدر بھٹکتے نا
وہ اس وقت ٹریفک سگنل پر روکے تھے…..
تھوڑی دیر پہلے انہیں ہسپتال سے کال آٸی تھی کسی لڑکی کی لاش آٸی تھی اُُس کی نشاندہی کرنے کے لیے…..
وہ کھڑکی سی باہر دیکھنے لگا
اُسے دو گاڑیاں آگے ایک لڑکی نظر آٸی جو بکل حیا لگتی تھی….سکندر اُسے غور سے دیکھنا لگا
حیا کو اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپیش محسوس ہوٸی تو اُس نے یہاں وہاں دیکھا اور پھر نظر سکندر پر جا روک گٸی جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا….
حیا نے جلدی سے نظریں پھیر لی
عمر وہ لڑکی حیا ہے!!! وہ جلدی سے بڑبڑاتا گاڑی سے باہر نکلا
عمر بھی نکل کر یہاں دیکھنے لگا
عمر وہ یہاں تھی…. وہ لڑکی جو گاڑی میں جا رہی ہے وہ حیا ہی تھی..توں چھوڑ مجھے میں لے کر آتا ہوں اُسے ابھی
تم پاگل ہو گٸے ہو سکندر!!! چلو اب یہاں سے“ سڑک پر تماشہ لگانے کی کوٸی ضرورت نہیں…..
میں جھوٹ نہیں بول رہا یار وہ انکھیں وہ حیا ہی تھی….وہ عمر کی گرفت سے ایک جھٹکے سے نکلا اور تیز تیز قدموں سے اُس ٹکیسی تک پہچنے لگا……
تب ہی ٹریفک سگنل کی بتی سبز ہوٸی اور وہ ٹیکسی آگے چل دی…..
روکو پلیز گاڑی روکو!!!! وہ اُس ٹکیسی کے پیچھے بھاگنے لگا لوگ اُسے کوٸی پاگل سمجھ رہے تھے….. جو چلتی گاڑیوں کی پرواہ کیے بغیر بھاگتا جا رہا تھا
گاڑی نظروں سے اوجھل ہو گٸی اور وہ بت بنا وہی کھڑا رہا……اُسے لگا جسے جان آہستہ آہستہ جسم سے نکل رہی ہے…..
سکندر گھر چلو تمہاری طیبعت ٹھیک نہیں لگ رہی عمر پھولی ہوٸی سانس سے بولو….
سکندر نے سکت نظروں سے اُسے دیکھا اور پھر وہ اُسے کے گلے لگ کر رونا لگا وہ اونچا لمبا مرد جو کبھی اپنے باپ کے مرنے پر نہیں رویا تھا
ہاں وہ سکندر علی جس کے پاس دل نہیں وہ ایک عورت کے لیے رو رہا تھا
وہ چلی گٸی مجھے چھوڑ کر یار وہ چلی سکندر سنبھال خود کو ……
_______________________________________________
دس سال بعد……..
ان دس سالوں میں بہت کچھ بدل چکا تھا…. بی بی جان حیا کا انتظار کرتی کرتی اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی…..ملک ولا میں اب صرف سناٹوں کا راج تھا….
جس کی دردیواروں نے کچھ دنوں کے لیے ہنسا سکیھا تھا اب وہ ایک وحشت زدہ خاموشی تھی….
افاق بی بی جان کی موت کے بعد ملک ولا آ چکا تھا… وقت نے اُس کی ہنسی چھین لی تھی…
اب وہ سنجیدہ نظر آنے والا اکیس سال کا مرد تھا جس کا جنون اپنے بھاٸی سے زیادہ نام بنانا تھا….
سکندر نے خود کو ایک میشن بنا لیا تھا نیند تو جسے اُس نے خود پر حرام کر لی تھی…. ان دس سالوں میں وہ اور بھی ہیڈسم ہو گیا تھا مگر چہرے پر ایک ملال رہتا تھا….
جب زیادہ دل اُداس ہوتا تو وہ یتیم بچوں سے ملنے چلا جاتا……کانوں میں اب بھی حیا کی آواز گونجتی تھی جو اُسے کہیں چین نہیں لینے دیتی تھی
حیا کو ڈھونڈے کی کوشش اُس نے اب بھی بند نہیں کی تھی…
عمر اور مسکان ایک رشتہ میں بندھ چکے تھے مگر رخصتی حیا کے ملنے کے بعد ہونی تھی
انہیں جسے یقین تھا کہ وہ ایک دن واپس ضرور آۓ گی….
________________________________________________
.
وقت بڑا ظلم ہوتا اس کا کام ہوتا گزرنا تو وہ جیسے تیسے گزر جاتا ہے….
مگر کچھ زخم بڑے گہرے ہوتے ہے جو ساری عمر نہیں بھرتے ان میں سے خون رستا رہتا ہے….
وہ سبز انکھوں والی لڑکی جس کی انکھوں میں ایک خاص چمک تھی اب وہ مانند پر چکی تھی…..
وہ زندہ تھی تو بس معشل کے لیے چس کی زمہ داری گُل اُس کے نازک کندھوں پر ڈال کر اس دنیا سے چلی گٸی تھی…
تین سال پہلے معشل کے والدین ایک کار حادثہ کا شکار ہو کر اس دنیا سے چلے گۓ
_______________________________________________
بوا بھاٸی نے ناشتہ کیا ؟ نہیں چھوٹے صاحب وہ تو صبع ہی جلدی دفتر چلے گٸے تھے
ہممممم ٹھیک ہے آپ ناشتہ پیک کروا کر ڈرائيور کے ہاتھ بھیجوا دے
وہ آملیٹ کا ٹکرا منہ میں ڈالتا بولا
جی اچھا صاحب…..
ایک دوسرے سے وہ دونوں بات تو نہیں کرتے تھے مگر احساس کا رشتہ اب بھی قاٸم تھا
________________________________________________
جاری ہیں…..
