Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sanam By Sheeza Writer Episode12

Sanam By Sheeza Writer Episode12

آنی!!! کہاں ہے آپ
یہاں ہوں میں مشی بولو وہ پودوں کو پانی دیتی بولی
آنی آپ سے ایک اجازت چاہیے وہ اُس کے گلے میں بازو ڈال کر لاڈ سے بولی
بولو کیا کام ہے جو ہمیں مکھن لگایا جا رہا ہے
وہ شوپنگ کرنے جانا ہے اپنی دوستوں کے ساتھ
مشی ابھی ایک مہنیہ ہوا ہے ہمیں یہاں اسلام باد آۓ ہوۓ اور تم نے دوست بھی بنا لیے
آنی پلیز جانے دے نہ کل سے یونی سٹاٹ ہو رہی ہے میں اپنے کچھ نٸے کپڑے لینے ہے….
جاو گی کیسے ؟
رکشے سے چلی جاو گی اب منا بھی جاۓ آنی
اوکے ٹھیک ہے مگر جلدی آنا ورنہ بہت مار پڑے گی
اوکے ماٸی بیوٹیفل آنی ویسے آپ اب بھی میری بڑی بہن لگتی ہے یار اُس نے پیار سے حیا کا گال چوما….
باقی مکھن بعد میں لگا دینا مشی میڈم جاۓ تیار ہو دیر ہو رہی ہے…..
اوکے میڈم مشی نے سر کو خم کیا…..اور اندر بھاگ گٸی
اس کے انداز پر حیا مسکرا دی
ان کا گزر بسر اچھے سے ہو رہا تھا حیا اپنی اسٹڈی مکمل کر کے گُل کی سیٹ پر ٹیچر لگی تھی
اب اُس نے اپنا تبدلہ اسلام باد میں کروا لیا وہ لوگ اب بھی گُل کے گھر رہتے تھے جو اُس نے بیچا نہیں تھا…. حیا کو اپنی امی کی یاد آ رہی تھی …. یہاں قدم رکھتے ہی اُن تکلیف دہ یادوں نے اُسے گھیر لیا جن سے وہ اب بھی بھاگ رہی تھی اور ایک عرصہ اُن سے دور رہی …. وہ اُس شخص کو سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر اُس کی یاد کے بغیر وہ زندہ بھی نہیں رہ سکتی تھی
یہاں آتے ہی وہ اپنی امی کی قبر پر گٸی
مگر وہاں دیکھ کر حیران ہوٸی کے کسی نے تازہ گلاب ڈالے ہے پہلے تو وہ سمجھی غلطی سے کسی نے کیے مگر اکثر جب بھی وہ جاتی تھی وہاں تازہ گلاب ہی ہوتے تھے…..
اُسے نے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کوٸی آدمی روز آتا ہے صبع اور گلاب ڈال کر فاتحہ پڑھ کر چلا جاتا ہے
________________________________________________
ہاۓ میں چھتری لے آتی وہ آسمان پر چھاۓ بادل دیکھتی بڑبڑاٸی
پلیز اللہ جی ابھی بارش نہ شروع کرنا جب میں گھر میں داخل ہو جاٶ تو پھر
اُس نے جلدی جلدی شوپنگ کی مگر جسے ہی اُسے گول گپے نظر آۓ اُسے سب بھول گیا کہ بارش ہونے والی ہے جلدی گھر جانا ہے
وہ جلدی سے ریڑھی کے قریب پہنچی
بھاٸی ایک چٹپٹی سی پلیٹ بناۓ گا
ابھی وہ کھا ہی رہی تھی جب ایک دم تیزی سے بارش شروع ہو گٸی…..
افففف!!!! یہ بارش کو بھی ابھی شروع ہونا تھا میری محبت میرے گول گپے ہاۓ وہ افسوس سے بولی
اور چیزیں سنبھالتی کوٸی جگہ تلاش کرنے لگی۔۔۔۔
چاروں طرف دیکھنے کے باوجود اُسے کوٸی بھی جگہ نظر نہ آٸی
سوائے ایک کار کے۔۔۔
وہ جلدی سے گاڑی کے پاس پہنچی اور دروازہ کھول کر بیٹھ گٸی
شکر ہے زیادہ نہیں بھیگی میں وہ عبایا کے ڈوپٹہ کو ٹھیک کرتی بڑبڑاٸی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ڈروازے کھولا اور کوٸی اندر آ بیٹا
او ہیلو مسٹر کون ہو تم اور ایسے کیسے بیٹھ گٸے کار میں۔۔۔۔
افاق نے بیک مرر سے پیچھے دیکھا تو حیران رہا گیا۔۔۔۔۔
کون ہو تم اور یہاں کیوں بیٹھی ہو؟وہ غصہ سے بولا
جس سے مشعل تھوڑی ڈر گٸی مگر پھر سنبهال کر بولی
کون ہوں کیا مطلب مالک ہوں میں اس کار کی
اس کی بات سے افاق کا دماغ گُما۔۔۔
کیا کہا ؟ یہی کہ میں مالک ہوں اس کار کی اور ضرور پاپا نے تمہیں آج ہی جاب پر رکھ ہے
اس لیے تمہیں میرا نہیں پتہ وہ بھرپور ادکاری کرتی بولی
افاق تو اس لڑکی کو دیکھتا ہی رہا گیا جو کتنی آسانی سے جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔۔ اس تو ایوارڈ ملنا چاہیے اُس نے دل میں سوچا
اچھا تو تم مالک ہو اس کار کی؟ ”جی بلکہ“ مشی سینے پر ہاتھ باندھتی ایک ادا سے بولی
تو بتاو پھر ماڈل کیا ہے اس کار کا
وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھا
پہلے تو وہ کنفوز ہوٸی مگر مشی میڈم نے کہاں ہارنا سیکھا تھا حساب تو پورا کرنا تھا
و۔۔وہ ہم امیر لوگ کہاں یاد رکھتے ہے ماڈل یہ تو تم جسے فضول لوگوں کا کام ہے
کہاں پھنس گٸی تو مشی وہ منہ میں بڑبڑاٸی …..
کچھ کہا کیا تم نے؟
نہیں میں کیا کہنا ہے…..
لیکن میں اب بہت کچھ کہوں گا ….. مطلب کیا کہوں گے وہ مصومیت سے بولی
اگر تم گاڑی سے نا اتری تو تمہیں سیدھا پولیس اسٹيشن لے جاو گا وہاں آرام سے بات کرۓ گے کہ کون مالک ہے اس کا
وہ جتنا آرام سے بولا مشی اُتنی حیرانگی سے انکھیں بڑی کرتی دیکھنے لگی
افاق نے بغور اُسے دیکھا نیلی انکھیں جو بڑی کیا وہ اور بھی پیاری لگ رہی تھی سرخ سیفد رنگت چھوٹی سی ناک اور گلابی ہونٹ دیکھنے میں وہ ایک حیسن لڑکی تھی
کیا ایسے کیا دیکھ رہی ہو چلو جلدی اترو نیچے وہ ہاتھ میں پکڑے شیک کا ایک سپ لیتا بولا
اتنی بارش میں آپ مجھے نیچے اتر دے گے بھاٸی افاق کا شیک فوارے کی صورت میں باہر نکلا
دیکھو لڑکی میں تم سے تمیز سے بات کر رہا ہوں میں کسی کا بھاٸی نہیں اب تم نیچے اتر رہی ہو کہ میں جاو پولیس اسٹيشن …..
جا رہی ہوں جس گاڑی پر اکڑ رہے ہو اللہ کرۓ بارش کا پانی اس میں بھر جاۓ
رات کو اس کے پُرزے کھل کر گر جاۓ تمہارے چلنے کے قابل نہ رہے کوٸی چور آۓ وہ وہ اسے اٹھا کر کہیں بیچ آۓ وہ لڑاکا عورتوں کی طرح بددعا دیتی گاڑی سے باہر نکلی اور زور سے دروازہ بند کرتی آگے چلی گٸی
بارش کی رفتار اب کچھ کم ہو چکی تھی…… جبکہ افاق حیرانگی سے اس پٹاکا لڑکی کو دیکھنے لگا
استغفر اللہ افاق نے ایک دم جھر جھری لی اور کار سٹاٹ کر کے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا
_______________________________________________
یہ تمہارا آنے کا وقت ہے مشی جانتی ہو میں کتنی پریشان تھی…. گھر میں داخل ہوتے وہ مشی پر چڑھ ڈوری….
سوری آنی وہ بارش تیز تھی اس لیے لیٹ ہو گٸی پلیز معاف کر دے اُس نے اپنے کان پکڑے
حیا دیکھ کر ہنس دی …. چلو کپڑے چینج کرو میں کھانا لگتی ہوں
وہ اُس کے گال تھپتھپتی کیچن کی طرف چل دی….
کھڑوس آوارہ کہی کا
کچھ کہا کیا مشی تم نے حیا نے پوچھا….
نہیں آنی میں تو کچھ نہیں کہا وہ میں دیوار سے باتیں میرا مطلب ہے خود سے باتیں کر رہی تھی
میں چینج کر لو وہ کہتی روم میں چلی گٸی،جھلی کہی کی پتہ نہیں کیا ہو گا اس لڑکی کا
_______________________________________________
وہ گھر میں داخل ہوا تو افاق اُسے لاونج میں بیٹھا نوٹ بناتا نظر آیا…..
وہ وہی اُس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا اُس نے ایک نظر بھی اٹھا کر نہیں دیکھا
بوا ایک گلاس پانی دیجٸے گا
یہ لے صاحب جی۔۔۔ کھانا لگاٶ؟
نہیں بھوک نہیں ہے ایک سٹرونگ سی کافی بنا دے
اسٹڈی کیسی جا رہی ہے افاق وہ محبت سے بولا
اچھی!!! ایک لفظی جواب اور پھر خاموشی
کب تک ناراض رہنا ہے یار
حیا بھابھی کو لے آۓ میں ناراضگی ختم کر دو گا وہ اپنے نوٹ اٹھاتا اپنے کمرے میں چلا گیا
پیچھے وہ ہمیشہ کی طرح تنہا رہ گیا وہ تھکا سا اٹھا اور ایک نظر افاق کے بند کمرے کو دیکھا اور اپنا بکھرا وجود لے کر روم میں چلا گیا
جہاں اُس کی سبز انکھوں والی بلی کی بے پناہ یادیں تھی
چاند کی مدہم روشنی کھڑکی سے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑا باہر نظر آتے عکس کو دیکھ رہا تھا جو ہلکی سی روشنی میں ایک الگ منظر پیش کر رہے تھے،،،،،،،
اُسے جدا ہوۓ دس سال ہو چکے تھے۔۔۔۔وہ ہر روز ایک نٸی اذیت سے گزرتے تھے۔
کون سی ایسی جگہ نہ تھی جہاں انہوں نے اُسے تلاش نہ کیا ہو
اُن کی ایک غلطی کی سزا وہ اپنی جداٸی کی صورت میں دے کر چلی گٸی تھی۔۔۔۔۔
اب تو نیند بھی انکھوں سے دور تھی۔۔کون کہہ سکتا ہے ایک یہ شخص کبھی ایسے بھی کمزور پر جاۓ گا
______________________________
تم بھی اُس جیسی نکلی اپنے حُسن کے جال میں پھنس کر ہم دونوں کو پاگل کرتی رہی۔۔۔۔۔
ابھی تو اس کے ساتھ ہو اور نہ جانے کون کون ہو گا!!!!!!!
یہ الفاظ کسی تیر کی طرح اُس کے دل کو چھلنی کر جاتے تھے۔۔۔۔
دس سال ہو گٸے تھے اُس واقعے کو مگر درد تھا کہ ختم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
کبھی کبھی تو وہ زندگی سے بھی بیزار ہونے لگتی تھی ، مگر شاید خدا کو ابھی اُس پر ترس نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح یہ رات بھی اُس نے خدا کے حضور سجدہ میں گزری جہاں اُسے سکون ملتا تھا۔۔۔۔۔
________________________________________________
جلدی نیچے آو میں تمہارا ویٹ کر رہا ہوں…. موباٸل سے عمر کی بے چین آواز آٸی
کیوں کون سی آفات آ گٸی ہے وہ نیند میں خلل کی صورت میں بے زاری سے بولی
تم آ رہی ہو یا میں کھڑکی کے راستہ آو تمہیں لینے
آ رہی ہوں یار بندہ بارش میں تو سکون سے گھر بیٹھ جاتا ہے
اچھا جانم اب آ بھی جاو
اوکے!!! فون بند کر کے بیڈ پر اچھالا اور فریش ہونے چلی گٸی
ہاں جی فرماں سرتاج کیوں میری نیند خراب کی وہ گاڑی میں بیٹھی اُس پر چڑھ ڈوری
عمر نے بنا کوٸی لمحہ ضائع کیے اُسے خود میں بھیچ لیا اس اچانک افتاد پر اُس کی زبان کو بریک لگی…..
مسکان!!!! کان کے قریب سرگوشی کی اور اُس کی گردن کو ہونٹوں سے چھوا……
جانتی ہو ان دو دنوں میں کتنا مس کیا ہے تمہیں اوپر سے تم کال نا اٹھا کر الگ ظلم کرتی رہی ہوں
وہ شکوہ کرتا اُس کے بالوں میں منہ چھپنے لگا اور وہ سن ہو کر اُس کی گرفت میں بیٹھی تھی
ع.۔م….عمر پلیز مسکان کی ہلکی سی آواز آٸی
عمر نے اپنی گرفت ہلکی کی اور وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوٸی….
تم نکاح کے بعد کچھ زیادہ فری نہیں ہو گے وہ اپنی سانس بحال کرتی بولی
جبکہ وہ اُسے گہری نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھا
تم جانتی ہو کتنی مشکل سے گزرے ہے میں نے یہ دن
اچھا سوری تم بھی تو بنا بتاۓ چلے گٸے تھے
اب کہاں جا رہے ہے ہم عمر ؟وہ اُسے کار سٹاٹ کرتی بولی
لونگ ڈرائيو پر اب بلکہ خاموش ورنہ میں اپنے طریقے سے چپ کروا گا……
اُس کی دھمکی پر مسکان بھی خاموشی سے باہر دیکھنے لگی
______________________________________________
جاری ہیں…….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *