Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode08
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 Sanam By Sheeza Writer Episode08 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode08
Sanam By Sheeza Writer Episode08
______________________________
اُس کی انکھیں دوبارہ فجر کی اذان سے کُھلی
سکندر ابھی بھی اُس کی گود میں سر رکھے سو رہا تھا
حیا نے آرام سے اُس کا سر تکیہ پر رکھا تا کہ نیند خراب نا ہو
اور خود نماز پڑھنے چلی گٸی
نماز پڑھ کر وہ آٸی اور دوبارہ سے اُس کے قریب بیٹھا کر دیکھنے لگی
جو سوتے ہوۓ ایک مصوم سا بچہ لگ رہا تھا ورنہ تو ہر وقت چہرے پر غصہ ہی ہوتا ہے
براۓ مہربانی اپنی نظروں کا زوایہ بدلو میں ڈسٹرب ہو رہا ہوں
وہ بند انکھوں سے بولا شاید اُس کی نظروں کی تپیش تھی
جب کے حیا خجل سی ہو کر اپنی کالج کی تیاری دیکھنے لگی کیونکہ نیند تو اب آنی نہیں تھی
______________________________
اُس کی انکھیں چہرے پر پڑنے والی سورج کی روشنی سے کھلی
انکھیں کھول کے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں سات بج چکے تھے
وہ بیڈ سے اٹھا اور یہاں وہاں نگاہ ڈوری مگر وہ شاید روم میں نہیں تھی
مگر اس کے کپڑے وہ نکال کر رکھ گٸی تھی
وہ سر جھکٹا فریش ہونے چل گیا
پندرہ منٹ بعد وہ واشروم سے نکل مگر وہ اب بھی کمرے میں موجود نہیں تھی
سکندر نے اپنی پہنی ہوٸی شرٹ کی طرف دیکھا اور ایک جھٹکے سے دو بٹن کھنیچ کر اتر دیے
حیا!!! کہاں برداشت تھا اُس کا یوں اگنور کرنا
جی آپ نے بلایا؟ وہ کالج کے کپڑوں میں کمرے میں داخل ہوٸی
جس میں اس کی سفید رنگت کھل رہی تھی لمبے بالوں کی ہاٸی پونی بناۓ وہ چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی
یہاں آو اور یہ میری شرٹ کے بٹن لگاو
مگر بٹن تو ٹھیک تھے صبع وہ مصومیت سے بولی
یعنی تم کہہ رہی ہو کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں وہ ایک ابرو اچکا کر بولا
نہی….نہیں میں نے ایسا کب کہا آپ پلیز شرٹ اتر کر دے میں لگ دیتی ہوں
ایسے ہی لگاو… سکندر کو وہ کالج یونیفارم میں بہت پیاری لگ رہی تھی
مرتی کیا نا کرتی وہ ساٸیڈ دراز سے سوٸی دھاگا لے کر اُس کے قریب آٸی
اور پھر کانپتے ہاتھوں سے اُس کی شرٹ کے بٹن لگانے لگی
جبکہ سکندر اُس کے چہرے کا ایک ایک نقش حفظ کرنے لگا
ہو گیا وہ سوٸی دھاگا بوکس میں رکھتی بولی
اتنی جلدی
چلے ناشتہ کر لے پھر دیر ہو جاۓ گی
وہ بولتی کمرے سے چلی گٸی کیونکہ سکندر اُس گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا
______________________________
چلے وہ اپنا بیگ اٹھاتی بولی
سکندر نے ایک نظر اُس کے سراپے کی طرف دیکھا
وہ قدم قدم چلتا اُس کے قریب آیا بی بی جان اور افاق بھی اُس کو یوں اٹھاتا ہوۓ دیکھنے لگے
”یہ مت بھولو حیا تم سکندر علی کی امانت ہو“ اپنے اس حُسن کو مجھ تک محدود رکھو
وہ اس کے سر پر ڈوپٹہ دیتا گھبیر لہجے میں بولا
تمہیں اس لیے کالج جانے کی اجازت نہیں دی میں نے سمجھی کہ تم اپنے حُسن کی نماٸش کرتی رہو
اب جلدی آو تمہارا انتظار کر رہا ہوں میں وہ اُس کے ماتھے پر بوسا دیتا چلا گیا
پیچھے وہ کھڑی اس دھوپ چاٶں جسے اپنے سر کے تاج کے بارے میں سوچتی رہی
وہ بی بی جان سلام اور افاق کو پیار کرتی باہر آٸی
جہاں وہ بیک سیٹ پر بیٹھا کوٸی فاٸل دیکھ رہا تھا
حیا نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اُس کے ساتھ بیٹھ گٸی
چلو!!!! وہ حکم دیتا دوبارہ سے اپنا کام کرنے لگا اور حیا اُس کی اس قدر سرد مہری پر آنسو پیتی باہر دیکھنے لگی
______________________________
وہ جاگنگ کرنے آیا تھا جب اُسے سکندر کا میسج آیا
جو اُس سے خان انڈسٹریل کے بارے میں پوچھا رہا تھا
جب اچانک کوٸی بہت زرو سے اُس سے ٹکرایا
جس سے بچارے کا موبائل زمین بوس ہو گیا
پلیز مجھے بچاو میرے پیچھے وہ لگے ہے وہ اُس کی پشت پر چھپتی بولی
مس پھیکا پلوان صاحبہ آپ نے کیا ہمیشہ مجھے سے ٹکرانے کا ٹھیکہ لیے ہے
وہ جھکا اور موبائل اٹھایا جس کی سکرین ٹوٹ چکی تھی
اب آپ یوں فارغ ہو کر ہر جگہ گُمے گے تو اس میں میرا کیا قصور
ہاۓ میرا پیارا موبائل دو دن مجھے بخار رہنا ہے اب
اتنی مشکل سے سکندر سے چھینا تھا وہ اُسے کسی بچے کی طرح سینے سے لگتا بولا
یہ کچھ زیادہ نہیں ہو رہا وہ بے زاری سے اُس کی ایکٹنگ دیکھتی بولی
ایسی کون سی آفات پڑی ہے آپ کے پیچھے اُسے اپنے موبائل کا دکھ کم نہیں ہو رہا تھا
وہ میرے پیچھے کتا لگا ہے
کیا!!!!!! پھر بھاگو جلدی وہ اُس کا ہاتھ پکڑتا پارک سے باہر بھاگا.
مگر کیوں پڑا ہے کتا؟
وہ میں نے اُسے چِڑا تھا
تمہیں کوٸی انسان نہیں ملا جو تم کتوں کو چِڑے رہی ہو
وہ گاڑی کے قریب پہنچ کر اپنی سانس بحال کرنے لگا
وہ مجھے بڑا کیوٹ لگ رہا تھا میں نے تو بس پیار کیا
انسان تو کبھی کیوٹ نہیں لگے وہ منہ میں بڑبڑایا
جسے مسکان نے سن لیا اور مسکراتی ہوٸی گاڑی میں جا بیٹھی
اڈریس بتاو گھر کا وہ کار ڈرائيور کرتا بولا
مسکان نے اڈریس بتایا اور باہر دیکھنے لگی جبکہ عمر اُسے دیکھنے لگا
اوکے اللہ حافظ
اللہ حافظ مسکان عُرف پھیکا پلوان صاحبہ
وہ اُس کے چہرے پر ایک مسکراتی نگاہ ڈالتا گاڑی ریورس لے گیا
جب کے وہ کتنی دیر اُس کی ہنستی انکھوں میں کھوٸی رہی
______________________________
وہ آفس میں بیٹھے تھے عمر مسلسل کسی بات پر مسکراٸی جا رہا تھا
جبکہ سکندر کل سے اُس کی حرکتیں نوٹ کر رہا تھا
مجھے تجھ پر گہرا شک ہو رہا ہے وہ پین کو انگلی میں گھومتا بولا
یہ جو توں کل سے کھویا کھویا ہے کیا چکر چل رہا ہے جلدی بتا
ابے کچھ نہیں کیمنے انسان بس کام کی وجہ سے وہ صوفے پر بیٹھا بولا
ہممم اچھا یعنی توں خان انڈسٹریل کے شمش خان کو خیالوں میں اپنی محبوبہ تصور کر کے مسکرا رہا ہے
توبہ توبہ کیا باتیں کر رہا ہے توں اُس نے کُشن سکندر کو مارا جس کو اُس نے بڑی مہارت سے کیچ کیا
خود ہی توں نے کہا ہے ابھی اُس نے مسکراہٹ دباٸی
عمر نے لمبے چوڑے شمش خان کو اپنی محبوبہ کے روپ میں دیکھ کر جھرجھری لی
یار کچھ نہیں ویسے ہی بس
شکل تو کچھ اور بتا رہی ہے تیری
اچھا کیا بتا رہی ہے میری شکل تجھے
تجھے کسی سے زبردست والا پیار ہو گیا ہے اور آج تیری اُس سے ملاقات ہوٸی
چل جلدی بتا نام کیا ہے اُس کا
سکندر نے پانی پینے کے لیے گلاس ہونٹوں سے لگایا
پھیکا پلوان!!!!! وہ آرام سے مسکراتے بولا
جبکہ کے سکندر کو پھندا لگا
آرام یار کیا ہو گیا ہے
یہ توں کس قسم کی لڑکی سے پیار کر لیا کیمنے
ہاہاہاہا اُس کا نام مسکان ہے حیا بھابھی کی دوست
اچھا وہ لڑکی اچھی ہے بلکہ تیرے جیسی ہے اچھی رہے گی دونوں کی جوڑی
پھر بھابھی سے بات کر نا میرے بارے میں
اچھا کرو گا اب زرا اپنی خیالی دنیا سے باہر نکل کر کوٸی کام کر لو گے تم
وہ سنجیدہ ہوا …..
اچھا جی ولن وہ منہ میں بڑبڑایا
______________________________
وہ کالج سے ڈرائيور کے ساتھ گھر آٸی جب اُسے لاونج میں ہی بی بی جان نظر آٸی
جو کوٸی بک پڑھ رہی تھی
اسلام و علیکم بی بی جان وہ اُن کے گلے لگتی بولی
وعلیکم اسلام آ گٸی میری بیٹی کیسا رہا آج کا دن
بور کیونکہ کے مسکان نہیں آٸی تھی
چلو کوٸی بات نہیں تم جاو فریش ہو جاو
اور افاق کو بھی دیکھ لینا میں ملازمہ سے کہہ کر کھانا لگتی ہوں
اوکے وہ اپنا بیگ اٹھاتی اوپر چلی گٸی روم میں آ کر اُس نے واڈروب سے کپڑے نکلے اور واشروم میں گُھس گٸی
دس منٹ بعد وہ فریش سی پنک کلر کے سوٹ پہن کر باہر آٸی
بالوں کو سلجھ کر اُس نے سلیقہ سے ڈوپٹہ لیا
اب اُس کا رخ افاق کے کمرے کی طرف تھا
وہ افاق کے کمرے میں داخل ہوٸی جہاں دن کے وقت بھی اندھیرا تھا
اُس نے دیبز پردوں کو ساٸیڈ پر کیا جس سے پورا کمرا روشن ہوا
وہ اُس بیڈ کے پاس نیچھے بیٹھا نظر آیا
افاق کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھے ہو
کچھ نہیں آپ کب آٸی وہ خود کو نارمل کرتا مسکرا کر بولا
میں ابھی آٸی ہوں اور آج تمہیں میری قسم ہے بتاو کیا پروبلم ہے
افاق نے تڑپ کر اُسے دیکھا
اور گلے لگتا رونے لگا
بھابھی میری ماما طواٸف تھی وہ مجھے مارنے کے لیے سڑک پر کوڑے میں پھینک آٸی
میرا باپ مجھے اپنا نام نہیں دینا چاہتا تھا کتنا بد نصیب ہوں میں
وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دیا اُس دن سکندر اور بی بی جان کی باتیں سن کر اُس کے دل میں جو غبار بڑھا تھا
وہ حیا کے گلے لگ کر نکل رہا تھا
ششش بس چپ یہ لو پانی پیو اُس نے پانی کا گلاس اُسے پکڑیا
وہ آج اپنی عمر سے بڑی باتیں کر رہا تھا
یتيمی چھوٹی عمر میں ہی بچوں کو بڑا کر کے اُن سے مصومیت چھین لیتی ہے
چلو اپنا منہ دھو کر آو پھر نیچے چلتے ہے
تھوڑی دیر بعد وہ اپنا منہ دھو کر آیا
تمہیں پتہ ہے افاق میرے پاپا بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گٸے تھے
پھر ہم اپنی مامی کے رحم و کرم پر آ گٸے
وہ اُس کے بال بناتی بولی
وہ مجھے روز مارتی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر
میں بھی کبھی مایوس ہو جاتی تھی لیکن میری ماما مجھے سے کہا کرتی تھی
کہ اللہ سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اگر وہ ہم سے ایک خاص چیز چھین لیتا ہے تو اُس کے بدلہ میں دو خاص چیزیں عطا کرتا ہے
وہ ہمارا کبھی برا سوچ ہی نہیں سکتا کیوں کہ وہ ہمیں ستر ماٶں سے زیادہ پیار کرتا ہے
اس لیے میری جان کبھی بھی خود کو بدنصیب نہ کہوں کیوں کے ہمارا نصیب ہمارے اللہ نے لکھا ہوتا ہے
چلو اب آو نیچے کھانا کھاۓ
وہ مسکراتا ہوا اُس کے ساتھ نیچھے آیا اور پھر دونوں نے ساتھ کھانا کھایا
______________________________
شام کا وقت تھا آسمان پر کالے بادلوں کا ڈھیرا تھا
وہ وڈاروب سے اپنی کوٸی چیز تلاش کر رہی تھی
جب اُس کی نظر ایک لُاکر پر پڑی جو کھولا ہوا تھا
تجس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اُس نے موجود چیزیں دیکھنا شروع کر دی
بہت سے گفٹ اور دوسری بہت سی چیزیں
یہ کس کی چیزیں ہے وہ مسکراتی ہوٸی انہیں باہر نکلنے لگی
وہ ان میں اتنا کھوٸی تھی کے سکندر کے آنے کا بھی پتہ نہیں چلا اُسے
جو سرخ انگارہ انکھوں سے تمام چیزوں کو دیکھ رہا تھا
(یہ کیا تم تھرڈ کلاس عشقوں کی طرح فضول چیزیں لے آتے ہوں)
اُسے لگا چاروں طرف منال کی آوازیں گونج رہی ہے جو اُس کے گفٹس کا مزاق اڑا رہی ہے
باہر بارش اپنا زور پکڑنے لگی تھی
وہ ایک جست سے حیا کے قریب پہنچا
کس کی اجازت سے تم نے یہ چیزیں نکلی ؟وہ اُس کے بال پکڑتا غرایا
حیا اُس کی حد سے زیادہ سرخ انکھیں دیکھ کر ڈر گٸی
کیوں تم میری پرسنل چیزیں چیک کر رہی تھی…. بالوں پر گرفت مضبوط ہوٸی
سک…سکندر مجھے درد ہو رہا ہے پلیز چھوڑے
ان سب چیزوں کو دیکھ کر مجھے بھی تو درد ہوا ہے اُس کا کیا
می…میں سب رکھ دیتی ہوں پلیز مجھے معاف کر دے
تم کیوں مجھے سکون سے نہیں رہنے دیتی مسلہ کیا ہے تمہارا
جب سے زندگی میں آٸی ہوں جینا مشکل کیا ہے
اتنی آسانی سے میں تمہیں معاف نہیں کرو گا تمہاری غلطی کی سزا تمہیں ضرور ملے گی
اُس نے ایک جھٹکے سے حیا کے بال چھوڑے جس سے وہ بیڈ پر اوند منہ جا گری
اُس نے حیا کا ہاتھ پکڑا اور گھیسٹتے ہوے وہ باہر ٹیرس پر آیا جہاں بارش ہو رہی تھی
تمہاری یہی سزا ہے کہ تم ساری رات یہی رہو گی
پلیز سکندر ایم سوری پرومس آٸندہ سے نہیں کرو گی مجھے بہت ڈر لگتا ہے اندھیرے سے پلیز آپ کو اللہ کا واسطہ
وہ اُس کے پیروں میں گر گٸی
یہ تمہیں پہلے سوچنا چاہیے تھا وہ اُس سے اپنے پیر چھڑواتا اندر آ گیا
ڈراٸسنگ ٹیبل پر اُس نے بہت سے ڈیکوریش پس دیکھے
جینے دیکھ کر غصہ کا ایک اُبل اُس کے اندر اٹھا
جاو!!!!! نفرت ہے مجھے تم سے شدید نفرت زندگی سے چلی گٸی ہو تو میرے دل دماغ سب سے چلی جاو …..
وہ شدید کرب سے گزر رہا تھا
اُس نے ایک جھٹکے سے ساری چیزیں ہاتھ مار کر گرا دی
اُس کا اپنا ہاتھ بھی شدید زخمی ہو گیا تھا مگر یہاں پروا کیسے تھی
وہ وہی زمین پر بیٹھا چلا گیا انکھوں سے آنسو بہنے کو بی تاب تھے
پتہ نہیں اُسے زیادہ دکھ حیا کو سزا دینا کا ہو رہا تھا یا منال کی چیزیں دیکھنے کا
______________________________
پلیز سکندر کھولے ایم سوری وہ مسلسل گلاس ڈور بجا رہی تھی
مگر اندر بیٹھا شخص پتھر کا دل رکھتا تھا
مجھے ڈر لگتا ہے پلیزززز
جبکہ کہ وہ اندر اپنا ٹوٹا بکھرا وجود لے کر بیٹھا تھا
بجلی کے کڑکنے سے وہ کوٸی جگہ تلاش کرنے لگی جہاں وہ خود کو چھپا لے
پلیز اللہ جی مدد اُس کے منہ سے الفاظ نکلے اور پھر وہ بے ہوش ہو کر گر گٸی
______________________________
جاری ہیں……..
