Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sanam By Sheeza Writer Episode04

Sanam By Sheeza Writer Episode04

______________________________
آپ یہاں کیا کر رہے ہے وہ پیچھے ہوتی بولی
آپ کی معلومات میں اضافہ کے لیے بتا دو،کہ یہ میرا گھر ہے
اس کی بات پر وہ چپ ہو کر نظریں جھکا گٸی
بتایا نہیں کیسی طبیعت ہے تمہاری
سکندر کو اُس کا یوں چپ ہونا اچھا نہیں لگا
ج۔۔جی ٹھیک ہے اب
چلو روم میں آو اپنی ذمہ داری سمجھو
وہ اُسے کہتا آگے بڑھ گیا
جبکہ وہ وہی کھڑی اپنی ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی
کیا اب تم اونچا بھی سنتی ہوں، وہ اُسے وہی کھڑا دیکھ مضوعی غصہ سے بولا
م۔۔مگر میں روم میں کیا کرو گی؟
ہم دونوں فٹبال کھیلے گے!!!!وہ بےچارگی سے بولا
مطلب آپ مجھے کمرے میں فٹبال کھیلنے کے لیے لے کر جا رہے ہے
سکندر کا دل کیا اپنا سر کسی دیوار میں مار دے یا حیا کو دو لگا کر اس کا دماغ ٹھکانے لگا دے
مس حیا سکندر مہربانی کر کے آپ کمرے میں آ کر میرے آفس جانے کے لیے کپڑے نکال دے گی۔۔وہ اُس کی سبز انکھوں میں دیکھتا بولا
ج۔۔جی میں آتی ہوں۔۔۔۔
وہ اُس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوٸی
سکندر کا روم گھر کے تمام روم سے بڑا تھا
پورے کمرے میں لکڑی سے مہارت سے کام کیا گیا تھا
چھت پر خوبصورت فانوس لگا تھا جب کے داٸیں طرف گول شیپ بیڈ تھا
باٸیں طرف ٹو سیٹ صوفہ جبکہ ایک طرف ڈریسنگ روم اور اسٹڈی موجود تھے
کھڑکی سی آتی سورج کی روشنی پورے کمرے کو روشن کر رہی تھی
یہ واقع ہی ایک شہزادہ کا کمرا تھا
سکندر قدآوار آٸینہ کے سامنے کھڑا اُسے دیکھا رہا تھا۔۔۔۔۔
اگر جاٸزا ہو گیا ہے تو میرے کپڑے نکال دو،میں فریش ہو کر آتا ہوں……
وہ پندرہ منٹ بعد فریش ہو کر نکلا تو حیا ابھی وڈراب میں سر گھسے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
کپڑے کیوں نہیں نکلے میرے ابھی وہ سخت تیور لیے بولا
وہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی پلیز آپ خود دیکھ لے وہ بے چارگی سے بولی
جبکہ کہ اس کی بات نے سکندر کو کسی اور دنیا میں پہنچا دیا تھا
(منال میرے کپڑے نکال دو مجھے آفس کے لیے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا بولا!!! وہ جو موبائل پر میسج کر رہی تھی ایک دم حیرانگی سے اُسے دیکھنے لگی جسے کوٸی پہاڑ توڑنے کا کہا ہے۔۔۔۔ مسٹر سکندر میں آپ کی غلام یا نوکر نہیں ہوں، جو یہ فضول کام کرتی رہو سمجھے)
کسی کی آواز اُس کے گرد گھومی جس سے درد نے ایک دفعہ پھر اُسے گھیر لیا تھا۔۔۔۔۔
وہ حیا کے قریب ہوا اتنا کے اُس کی گرم سانس وہ اپنے منہ پر آسانی سے محسوس کر سکتی تھی
سنو بی بی یہ تمہارا فرض ہے ۔۔اس لیے جلدی کرو مجھے آفس جانا ہے۔۔۔۔۔
چہرے پر پہلے جو نرمی تھی اب وہ سرد مہری میں بدل چکی تھی۔۔۔۔
حیا نے واٸیٹ شرٹ ساتھ بلیک پینٹ نکل کر بیڈ پر رکھی اور ایک ساٸیڈ پر کھڑی ہو گٸی
اب ایسے کیوں کھڑی ہو ،جاو ناشتہ تیار کرو
جی اچھا!!!!حیا نے جان چھوٹنے پر خدا کا شکر ادا کیا۔۔۔۔
اور اب اُس کا رخ بی بی جان کے روم کی طرف تھا۔۔۔۔۔۔
______________________________
وہ بی بی جان کے روم میں داخل ہوٸی تو اندر ایک بہت ہی خوبصورت بچہ بیڈ پر بیٹھا تھا
آپ کون ہے بیٹا ؟ وہ سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی
تب ہی اسٹڈی سے بی بی جان باہر آٸی
انہوں نے حیا کی بات سن لی تھی۔۔۔۔
یہ افاق ہے ہمارا بیٹا سکندر کا بھاٸی
وہ مسکرا کر اُسے دیکھتی بول
اُس دن کے بعد بی بی جان کا رویہ افاق سے بہتر ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
کچھ بھی تھا اُس کی رگوں میں بھی ملک خاندان کا خون تھا
یہ کتنا کیوٹ ہے بی بی جان
کیا آپ مجھے سے دوستی کریں گے وہ اُس کے آگے اپنا ہاتھ کرتی بولی۔۔۔۔
جسے اُس نے بنا دیر کیا تھام لیا، افاق کو بھی حیا بہت پسند آٸی تھی۔۔۔چھوٹی سی سبز انکھوں والی بلی
یہ بھابھی ہے آپ کی افاق،سکندر کی واٸف
کسی ہے بھابھی آپ وہ مسکرا کر بولا
میں بلکہ ٹھیک ہوں چھوٹے دیور جی آپ سناۓ
امی آج میں سکول نہیں جاو گا پلیز آج کا سارا وقت بھابھی کے ساتھ گزراو گا
مگر سکندر ڈانٹے گا آپ کو۔۔۔۔
نہیں وہ مجھے کچھ نہیں کہتے چلے بھابھی ہم باہر فٹ بال کھیلتے ہے
مگر مجھے نہیں آتا کھیلنا……
کوٸی بات نہیں میں سکھا دو گا آپ بس آۓ
وہ حیا کا ہاتھ پکڑتا ہوا اُسے باہر لان میں لے آیا
حیا بھی مسکراتی ہوٸی اُس کا ساتھ دینے لگی
______________________________
کہاں گٸی وہ ؟بڑھیا کو بھی مارنے کا کوٸی فاٸدہ نہیں ہوا
وہ کمرے میں ٹہلتا حیا کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اُس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی…..
اُس نے کال پک کی مگر دوسری طرف جو خبر ملی اُس کے غصہ کو ہوا دے گٸی……
تم سب ہو کمینے کام چور ایک لڑکی کو تلاش نہیں کر سکے ….
بس پیسے سے اپنا منہ بھر لیتے ہوں وہ درشتگی سے بولتا فون بند کر گیا…..
کہاں چلی گٸی تم حیا چھوڑ گا نہیں تمہیں…..
حامد رضا کو تھپڑ مار کر بہت بڑی غلطی کی ہے تم نے…..
غصہ سے اُس نے پاس پڑا گلدن سامنے دیوار پر مارا
______________________________
وہ کمرے سے تیار کو کر نیچھے آیا مگر ناشتہ کا ٹیبل خالی تھا
وہ روبن کو آواز دینے لگا جب اُسے کسی کے ہسنے کی آواز آٸی
وہ ٹرنس کی کفیت میں لان کی طرف گیا جہاں سے ہسنے کی آواز آ رہی تھی
یہ جھوٹ ہے تمہارا گول نہیں ہوا افاق
آپ چیٹنگ کر رہی ہے بھابھی میرا گول ہوا ہے وہ بضد ہوا
ٹھیک ہے پھر مجھے نہیں کھیلنا وہ منہ موڑے کھڑی ہو گٸی
جب افاق نے پودوں کو پانی دیتے مالی سے پاٸپ پکڑا اور حیا کو پانی سے بھگو دیا
روکو تمہیں میں بتاتی ہوں وہ ہنستی ہوٸی اُسے بھگونے کے لیے ڈوری
کتنے سالوں بعد اس گھر کے دردیوار کسی کی ہنسی سن رہے تھے
سکندر وہاں پہنچا تو دونوں کو ایک دوسرے کو بھگوتا پایا
وہ بے خودی کے عالم میں حیا کو دیکھ رہا تھا جس کی سبز انکھیں اس وقت مسکرا رہی تھی
داٸیں گال پر پڑنے والا ڈمپل سکندر کو اپنی طرف کینھچ رہا تھا
سکندر کی نظر جب ملازموں پر گٸی جو ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
غصہ کی ایک شدید لہر اُس کے اندر اٹھی
کیونکہ بھیگنے کی وجہ سے حیا کا سراپا واضع تھا۔۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے ؟ وہ دھاڑا
سب ملازم ڈر کر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گٸے
جبکہ حیا اور افاق اپنی جگہ پر جمع گٸے تھے
تم دونوں کو آواز نہیں آ رہی میری
ج۔۔۔جی چلو افاق وہ اُس کا ہاتھ پکڑتی اندر جانے لگی
تم روکو یہاں…..
افاق تم جاو روم میں
افاق نے ایک نظر سکندر کو دیکھا اور پھر وہ اندر چلا گیا
سکندر حیا کا ہاتھ پکڑاتا کینھچتا ہوا اوپر کمرے کی طرف چل دیا
اور وہ خدا سے اپنی سلامتی کی دعا مانگنے لگی
______________________________
سکندر اُس لے کر کمرے میں آیا اور زور سے دروازہ بند کر اُس کی طرف پلٹا جو ڈری سہمی کھڑی تھی
سکندر کی سرخ انکھیں دیکھ حیا کو اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی
تمہیں میں نے ناشتہ بنانے کا کہاں تھا نہ پھر تم باہر کیا کر رہی تھی…..
وہ اُس کے بازو کو اپنی گرفت میں لیتا بولا…..
بولو جواب دو….. وہ دھاڑا
میں بنانے لگی تھی …. وہ افاق!!!!!
وہ اپنی صفاٸی پیش کر رہی تھی مگر سکندر کی نظر اس کے سراپے سے ہوتی ہوتی ہوٸی
اُس کے ہونٹوں پر ٹھہر گٸی
حیا نے پلکیں اٹھا کر اُسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لی
دل بڑی زور سے دھڑکا
اس کی ادا پر سکندر کے ہونٹوں پر تبسم بکھرا
تم جانتی ہوں وہاں کتنے ملازموں نے تمہیں اس حالت میں دیکھا
اس کی بات حیا نے ایک نظر اپنے اوپر ڈالی
اور پھر انکھیں بڑی کیے وہ اُسے دیکھ رہی تھی
سکندر کا غصہ کرنا اُسے سمجھا آ گیا تھا
سس۔۔۔۔سوری
وہ شرمندہ ہوٸی!!!!
سکندر بے خود ہوتا جھکا اور اس کی انکھیں چوم لی
پھر ایک نظر حیا پر ڈالے وہ کمرے سے چلا گیا
اور وہ ویسے ہی کھڑی اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالنے لگی
______________________________
وہ آفس پہنچا تو وہاں پہلے سے ہی عمر بیٹھا ہوا تھا
عمر اور سکندر بچپن سے ہی اچھے دوست تھے اکھٹے ہی ایک سکول سے پڑھے پھر کالج اور یونی میں بھی ساتھ تھے
اور دونوں نے ساتھ ہی بزنس شروع کیا
توں کب آیا وہ اُس سے بغلگیر ہوا
عمر نے حیرت سے اُسے دیکھا جس کے چہرے پر آج ہنسی تھی
دل میں اُسے نے اس کی ایسے ہی مسکرانے کی دعا مانگی
بس یار وہاں تیری یاد آ رہی تھی تو آ گیا تجھے تو پتہ ہے میں اپنی محبوبہ سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتا
وہ ایک انکھیں دباتا شرارت سے بولا
میٹنگ کیسی رہی ؟
ایک دم زبردست تجھے تو اپنے دوست کا پتہ ہی ہے
اچھا بس اب کام کریں اور آج گھر آنا امی تجھے یاد کر رہی ہے
اچھا جی میرے راجا بابو
______________________________
وہ کام کر رہا تھا جب انکھوں کے سامنے پھر سے وہ سبز انکھیں آ گٸی
اُس نے انکھیں موند لی اور مسکرا دیا
تھوڑی دیر بعد اُس کی آواز گونجی
یہ محبت کیا ہوتی ہے عمر؟ وہ بیٹھے کوٸی فاٸل ڈسکس کر رہے تھے
جب وہ اچانک بولا…..
عمر نے حیرانی سے سر اٹھا کر سکندر کو دیکھا
جو کہی اور ہی کھویا تھا
وہ اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کر باہر دیکھنے لگا
کیا دیکھا رہا ہے باہر ۔۔۔۔۔۔
دیکھا رہا ہوں آج سورج کہاں سے نکلا ہے
مطلب!!!!!
مطلب یہ کہ سکندر علی جس کے پاس دل نہیں ہے لڑکیوں کو وہ پسند نہیں کرتا۔۔۔
وہ مجھے سے محبت کے بارے میں پوچھا رہا ہے۔۔۔۔۔
زیادہ فری نہ ہو جو پوچھا ہے وہ بتا۔۔۔۔
توں کیوں پوچھ رہا ہے وہ اُس کے چہرے پر کچھ کھوجتا ہوا بولا
ویسے ہی جرنل نالج کے لیے،اگر کبھی محبت کرنے کی ضرورت ہو تو مجھے پتہ ہو کہ وہ کیا ہے
تمہاری باتیں مجھے شک میں مبتلا کر رہی ہے۔۔۔۔۔
سچ بتا میرے بغیر محبت تو نہیں کر لی توں نے۔۔۔۔۔ وہ مشکوک سا بولا
ابے ایک سوال پوچھا ہے تجھ سے اُس پر بھی توں نخرے دیکھا رہا ہے۔۔ جا مجھے نہیں پوچھنا کچھ
اووو میرے راجا بابو ناراض ہو گٸے
چل آ تجھے بتاتا ہوں
وہ اُسے لیے صوفے پر جا بیٹھا
تو محبت وہ ہوتی ہے جو اچھے خاصے انسان کا ستیاناس کر دیتی ہے
وہ شرارتی ہوا
توں مار کھا لے گا مجھے سے کمینے انسان
اچھا چل بتاتا ہوں…..
جب کسی کی انکھوں میں آنسو تکلیف دے ، اُسے دیکھنے کو دل بار بار کریں
اُس کی تکلیف اپنے دل پر ہوتی محسوس ہو
کوٸی اور جب اُسے دیکھے تو دل کریں اُسے دنیا سے چھپا کر اپنے دل میں بسا لے
جب یہ علامات ہونے لگے تو سمجھ لینا کہ تم پیار جسے مرض میں مبتلا ہو چکے ہوں
اس کی بات پر وہ مسکرا کر اٹھا بیٹھا
سکندر مجھے دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے
اب کی بار اُس کا قہقہا گونجا اور پھر وہ ہنستا ہی چلا گیا….
اتنا کہ اُس کی انکھوں میں پانی آ گیا
______________________________
جاری ہیں………

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *