Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sanam By Sheeza Writer Episode13

Sanam By Sheeza Writer Episode13

💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
مشی اٹھ جاو نو بج گٸے ہے یونی نہیں جانا تم نے حیا اُس کا بازو ہلاتی بولی
مشی چندا اٹھ بھی جاو مجھے بھی دیر ہو رہی ہے سکول جانا ہے
ج..ی جی آنی میں اٹھ وہ نیند سے بند ہوتی انکھوں سے بامشکل اٹھ کے بیٹھی
گڈ گرل میں ناشتہ لے کر آتی ہوں تم جب تک فریش ہو جاو وہ اُس کا گال تھتھپتی کمرے سے باہر نکل گٸی
جبکہ مشی میڈم پھر سے نیند میں کھو گٸی حیا جو اُس کے لیے ناشتہ لے کر آٸی تھی اُس کو بیٹھ بیٹھ سوتا دیکھ کر مسکرا دی
مشی!!! جی آنی میں اٹھ گٸی وہ اُس کی آواز سن کر جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری اور مشکل سے قدم زمین پر جماتی وہ واشروم میں گُھسی گٸی
حیا نے اُس کے کپڑے نکالے اور پھر کمرے کی تمام چیزیں اپنے مقام پر رکھی جو مشی میڈم نے یہاں وہاں پھیلی تھی…
دس منٹ بعد وہ فریش ہو کر نکلی بلیک کلر کی شلوار قمیض میں اُس کی گوری رنگت دمک رہی تھی
اُس نے جلدی جلدی سے ناشتہ کیا اور پھر برتن اٹھا کر کیچن میں رکھے ہاتھ صاف کرتی وہ باہر آٸی جہاں حیا چھوٹے سے لاونج میں بیٹھی اُس کا ویٹ کر رہی تھی..
چلے آنی!!! ہمممم باہر ٹیکسی کھڑی ہے تم بیٹھو میں لاک کر کے آتی ہوں
اوکے!!!
پانچ منٹ بعد حیا اُس کے ساتھ آ کر بیٹھ گٸی….
یونی میں تم نے لڑکوں سے دور رہنا ہے اور ان کے ساتھ کوٸی شررات نہیں کرنی فضول باتیں نہیں کرنی ورنہ مار کھاو گی مجھے سے….
اور…. آنی یار آپ مجھے بچوں کی طرح کیوں ٹریٹ کر رہی ہے میں اب بڑی ہو گٸی ہوں
کوٸی بڑی نہیں ہوٸی بلکہ بچی ہو سمجھی تم جاو یونی آ گٸی ہے گیٹ پر ٹیکسی روکی اور وہ باہر آٸی اپنا دھیان رکھنا اوکے….
اوکے ماٸی سویٹ آنی ڈرالنگ
حیا اُس کے اندر جانے تک وہی کھڑی رہی اور جسے ہی وہ موڑی ایک چہرے کو دیکھ کر مجمند ہو گٸی جسے سانس سینے میں ہی کہی اٹک گٸی ہو…..
دوسری طرف اُس کا بھی یہی حال تھا…..
_______________________________________________
افاق آج تم یونی میرے ساتھ جاو گے…. اس وقت وہ دونوں ڈاٸنگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے
مجھے کسی کے احسان کی ضرورت نہیں میں خود چلا جاو گا ڈرائيو کرنی آتی ہے کار مجھے
وہ زرا تلخی سے جواب دیتا دوبارہ اپنی پلیٹ کی طرف جھک گیا….
تم سے پوچھا نہیں بتایا ہے اور جو تم بات بات پر طنز کے تیر چلتے ہو میں خاموش ہو مجھے پہلے والا سکندر بنے پر مجبور نا کرو…..
جلدی آو میں ویٹ کر رہا ہوں باہر وہ اپنا کوٹ بازو پر ڈالتا باہر چلا گیا
افاق نے اپنا منہ نیپکین سے صاف کیا اور غصہ سے اپنا بیگ اٹھاتا باہر نکلا جاہا وہ پیچھے کسی سے فون پر بات کر رہا تھا….
افاق خاموشی سے جا کر اُس کے ساتھ بیٹھ گیا راستے میں دونوں کے درمیان کوٸی بات نہیں ہوٸی سکندر کبھی کبھی اُس پر ایک نظر ڈال لیتا جو اپنی کتابوں میں پتہ نہیں کیا تلاش کر رہا تھا…..
یونی کے گیٹ پر ڈرائيور نے گاڑی روکی وہ تیزی سے باہر نکل کر اندر چلا گیا مگر سامنے کا منظر دیکھ کر سکندر کو جسے اپنی انکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا….. وہ جلدی سے کار سے باہر نکلا…
________________________________________________
وہ یونی کے اندر داخل ہوٸی تو سامنے ہی اُس کو کھڑا پایا جو بار بار گھڑی میں ٹاٸم دیکھتا شاید کسی کا انتظار کر رہا تھا……
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اُس تک پہنچی
تم!!!!! یہاں بھی پہنچ گٸے …. وہ اُس کا راستہ روکتی بولی
افاق اُسے دیکھ کر الٹے قدموں سے واپس جانے لگا
او روکو میری بات سن کر جاو میرا پیچھا کیوں کر رہے ہو وہ مشکوک نظروں سے اُسے دیکھتی بولی
ہمممم سمجھ آیا… تم جیسے لڑکے ایسے ہی کرتے جسے ہی لڑکی دیکھی نہیں اُس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا
میں نے بہت سے ناول میں ایسا پڑھ ہے ….. افاق بے زرا سا کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا جو خود ہی سوال کرتی اور خود ہی جواب دے دیتی
پہلے دو تین دفعہ ٹکراوں ہوتا ہے لڑائی ہوتی پھر لڑکے کی راتوں کی نیند اڑنا شروع ہو جاتی ہے اُسے پھر وہ لڑکی کا راستہ روک کر اُس سے نمبر مانگتا ہے پھر…..
او ہیلو مس خیالی پلاٶ میرا ایسا کوٸی ارداہ نہیں اب براۓ مہربانی میرا راستہ چھوڑ دے بندہ کو کلاس لینے جانا ہے وہ تمیز سے دانت پیستا بولو……
ہاں تو جاو میں نے کون سا تمہیں روکا ہے اور یہ نخرے کسی اور کو دیکھنا بندر نا ہو تو …. وہ اپنا ڈوپٹہ سنبهالتی چلی گٸی..
یا تو یہ لڑکی پاگل ہے یا کچھ دنوں میں مجھے پاگل کر کے چھوڑے کی وہ بڑبڑاتا اپنی کلاس کی طرف چل دیا…..
_______________________________________________
اُس نے ایک نظر سامنے بُت بنے سکندر کو دیکھا اور جلدی سے ٹیکسی میں بیٹھ گٸی….
بھاٸی جلدی چلے یہاں سے وہ نقاب کرتی بولی
سکندر نے اُس یوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھتے دیکھا تو اُس تک پہنچنے لگا جب ٹیکسی جلدی سے آگے بڑھ گٸی
گاڑی سے باہر نکلو جلدی اُس نے ڈرائيور کو حکم دیا اور خود ریش ڈرائيورنگی کرتا اُن کا پیچھا کرنے لگا
سکندر نے گاڑی ٹیکسی کے سامنے روکی اور جلدی سے باہر آیا….
حیا نے اُسے یوں اپنے سامنے کھڑا دیکھا تو وہ بھی جلدی سے باہر آٸی اور ٹیکسی ڈرائيور کو اُس کا کرایہ دے کر وہی کھڑی اُسے دیکھنے لگی….
جو چہرے پر دنیا جہان کی سنجيدگی لیے اُسے تِک رہا تھا
وہ اُس کے سامنے کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا…سبز انکھوں میں پہلے جو ایک خاص چمک تھی اب وہ چمک کہیں مانند پر چکی تھی…..
گال میں پڑنے والا ڈمپل شاید اب کسی نے دیکھا بھی نہیں تھا …..دس سال سے جس کی تلاش میں وہ دربدر بھٹکتا رہا وہ اُس کے سامنے کھڑی تھی
اس کی حالت پر سکندر کا دل کسی نے مٹھی میں لیا
دوسری طرف حیا کا بھی یہی حال تھا وہ پتھر کا مجسمہ بنی اُس دیکھے رہی تھی….جس شخص سے وہ دن رات محبت کرتی رہی کتنی بے دردی سے اُس نے اس کا مصوم دل توڑا تھا
اشک انکھوں سے نکل کر گالوں پر پھسل رہے تھے جن کو وہ جلدی سے صاف کرتی ایک قدم پیچھے ہوٸی ویسے ہی سکندر لمبے لمبے ڈگ بڑھتا اُس تک پہنچا……
حی….حیا!!!! دکھ اور خوشی کی کیفیت میں سکندر کے منہ سے الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے….
دونوں کی انکھیں اشک بار تھی ایک کی انکھوں میں ندامت کے آنسو تھے جبکہ ایک کی انکھیں شکوہ کرتی ہوٸی رو رہی تھی
سکندر نے اُس کے داٸیں گال پر اپنا ہاتھ رکھا جو ٹھنڈا برف ہو رہا تھا
اس کے لمس کو انکھیں بند کیے حیا نے محسوس کیا اور پھر وہ جھک کر اُس کے قدموں میں بیٹھ گیا…
ہاں وہ بدل گیا تھا اُسے نے جھکنا سکھیا لیا تھا وہ محبت کے رمز کو پہچنا گیا…..
حیا ایک قدم پیچھے ہوٸی اُس نے کب چاہا تھا کہ اُس کا محبوب یوں شکست حال ملے اُسے…..
مجھے معاف کر دو حیا میں جانتا ہوں بہت تکلیف دی ہے لیکن گزرے ان ہجر کے سالوں میں، میں خود بھی ایک پل چین سے نہیں رہے پایا….
وہ رو رہا تھا جس کی انکھوں میں حیا نے غرور دیکھا تھا وہ انکھیں اشک بار تھی
اُس کے دل کو کچھ ہوا وہ جھکی اور اُسے اپنے سامنے کھڑا کیا…..
وقت کتنا ظلم ہے نا سکندر صاحب آج ایک مغرور شہزادہ ایک عام سی لڑکی کے قدموں میں بیٹھا معافی کی بھیک مانگ رہا ہے
وہ زخمی سا مسکراٸی
اس وقت دونوں ایک سنسان سڑک پر کھڑے تھے جہاں بڑی مشکل سے ٹریفک کا گزر ہوتا ہے….
سکندر نے کرب سے انکھیں بند کی…. حیا تم جانتی نہیں ان گزرے ماہ وسال میں کس قدر اذیت میں گزرے ہے میرا ضیمر مجھے روز ملامت کرتا تھا کہ ایک پاک دامن عورت پر میں نے تہمت لگاٸی اپنے سکندر کو معاف کر دو …..
وہ اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا بولا
واہ سکندر آۓ بھی ہے تو ضیمر کی پکار پر میرے گزرے سالوں کا حساب کون دے گا
بولے ہاں بولے!!! وہ اُس کے سینے پر تھپڑوں کی بارش کرتی بولی
حیا محبت کرتا ہوں میں تم سے اپنی غلطیوں کا ازلا کر دو گا تمہیں اتنی محبت دو گا کہ کوٸی پرانی یاد ہمارے درمیان نہیں رہے گی….
یہ جھوٹ ہے سکندر آپ صرف نفرت کرنا جانتے ہے محبت نہیں…… آپ کے وہ زہریلے الفاظ ابھی بھی میری روح کو زخمی کرتے ہے
وہ اپنا چہرا صاف کرتی جانے لگی جب سکندر نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا
چلو میرا ساتھ گھر افاق بہت خوش ہو گا … میں نے نہیں جانا وہ اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوٸی بولی
سکندر نے دوبارہ ہاتھ پکڑ کر اُس پر گرفت مضبوط کر لی اور کنیھچتا ہوا گاڑی تک لایا
اور اُس گاڑی میں بٹھا کر ڈور لاک کر لیے
چھوڑے مجھے سکندر میں نے نہیں جانا آپ کے ساتھ وہ ہاتھ پاٶں مارتی بولی
ششش چپ اب آواز نہ آۓ ورنہ چلتی گاڑی سے نیچے پھینک دو گا
وہ وارن کرتا گاڑی کی سیپیڈ بڑھا گیا……
اُسے دیر نہیں لگی پہلے والا سکندر بنتے ہوے
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
اسلام و علیکم!!!!آنٹی انکل اُس نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کیا…..
وعلیکم اسلام !!!!کیسا ہے ہمارا بیٹا کب آۓ لاہور سے
رات کو آیا تھا آنٹی پاپا کی طیبعت اب کچھ بہتر ہے اُس نے تفیصل بتائی …..
سلمہ بیگم اُسے لیے صوفے تک آٸی اور کیسا چل رہا ہے بزنس سلمان صاحب نے پوچھا
اللہ کا شکر ہے اُس نے یہاں وہاں نگاہ دوڑای…
جسے ڈھونڈا رہے ہو وہ سخت ناراض ہے تم سے روم میں ہے جاو مل لو….
ان کی بات پر وہ خجل سا ہوتا مسکان کی روم کی طرف چل دیا…..
اُس نے روم کا دروازہ کھولا تو پورا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا جبکہ کے واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی…
تھوڑی دیر بعد وہ بالوں کو تولیہ سے لیپٹے باہر نکلی سبز رنگ کی کُرتی اور ساتھ بلیک پاجامہ پہنے وہ سادگی میں بھی عمر کا چین لوٹ رہی تھی….
وہ دھیرے دھیرے چلتا اُس کے قریب پہنچا اور پھر اُسے اپنے حصار میں لیا…
جبکہ اس طرح سے وہ ڈر کے ایک دم اچھلی مگر جب جانی پہچانی خوشبو اپنے گرد محسوس ہوٸی تو اُس نے نگاہیں اٹھا کر اُسے دیکھا….
تمہیں چین نہیں ہے جب دیکھو یہاں آ جاتے ہو….
جب دل کا قرار یہاں موجود ہے تو آو گا نا وہ مصومیت سے بولا….
ابھی وہ کوٸی اور شرارت کرتا موبائل پر موصول ہونے والے میسج کو وہ بے یقينی سے دیکھنے لگا…..
مسکان جلدی چلو سکندر کے گھر وہ اُسے حکم دیتا باہر بھاگا خوشی اُس کے چہرے سے عیاں تھی…..
مسکان بھی جلدی سے ہاتھ چلاتی باہر آٸی سلمہ بیگم نے پوچھا تو عمر نے کوٸی ضروری کام کا بتا کر ٹال گیا…..
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
وہ جسے ہی حیا کو لے کر گھر میں داخل ہوا تو مسکان ،عمر، اور افاق پہلے سے اُس کے استقبال کے لیے موجود تھے….
وہ راستے میں ہی سب کو میسج کر چکا تھا ، اتنے سالوں کے بعد اُسے دیکھ کر سب کی انکھیں نم تھی
سب سے پہلے مسکان آگے بڑھی اور زور سے اُسے گلے لاگیا
مکھنا میں تم بہت بہت ناراض ہو ایسے کوٸی روٹھا ہے اپنی جان سے دوست سے وہ بھیگی انکھوں سے بولی
حیا کی انکھیں بھی نم تھی اُس نے دوبارہ سکندر کی طرف نہیں دیکھا….
بہت لیٹ کر دی آنے میں بھابھی ابھی تک آپ ماسی پلس تاٸی بن جاتی…. اور ہمارے چنوں منوں اس دنیا میں جلدی آ جاتے وہ بات کو مزاق کا رنگ دیتا اُس کے سر پر ہاتھ رکھا….
حیا نے افاق کو دیکھا جو مسلسل اُسے دیکھ رہا تھا…. وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اُس تک پہنچی…..
افاق!!!!! مدہم سا پکارا
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوا بس کھڑا اُسے دیکھتا رہا
حیا نے اُس کے ماتھے سے بال ساٸیڈ پر کیے جسے وہ بچپن میں کرتی تھی….
افاق وہی ہاتھ اپنے ماتھے پر لگاتا رونے لگا اس وقت کوٸی اُسے دیکھتا تو وہ ایک باٸیس سال کا مرد نہیں گیارہ سال کا مصوم بچا لگا رہا ہے…..
بھابھی کیوں گٸی مجھے چھوڑ کر جانتی ہے کس قدر مس کیا ہے آپ کو…… آپ مجھے ایک دفعہ پھر یتیم کر گٸی تھی
وہ روتا ہوا اُسے بتا رہا تھا….
بس چپ اتنے لمبا مرد روتا ہوا اچھا لگتا ہے کیا وہ اُس کے آنسو پونچھ کر بولی….
سب نم انکھوں سے مسکرا دیے حیا نے گھڑی کی طرف دیکھا جو دوپہر کا ایک بجا رہی تھی….
وہ مجھے مشی کو لینے جانا ہے اُس نے اپنا بیگ اٹھایا روکو میں بھی ساتھ آتا ہوں
کوٸی ضرورت نہیں…
عمر بھاٸی آپ چلے…..
ویسے یہ مشی کون ہے؟ مسکان نے تجس سے پوچھا
آ کر بتاتی ہوں یقينا مل کر تم بھی کانوں کو ہاتھ لگاو گی…
وہ عمر کی کار میں بیٹھ کر چلی گٸی اور سکندر سرد ہوا خارج کرتا اوپر اپنے روم میں چلا گیا……
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
جاری ہیں…….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *