Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sanam By Sheeza Writer Episode15

Sanam By Sheeza Writer Episode15

_______________________________________________
یہ ہم کہاں آۓ ہے پرنسز ؟ ہم تو جاگنگ کے لیے آۓ تھے..
وہ تو ایک پلین تھا بڈی آپ بس خاموشی سے دیکھتے جاۓ…..
تو محترمہ بتانا پسند کرۓ گی ہماری کیوں نیند خراب کی ہے افاق اُسے دیکھتے چبا چبا کے بولا…
وہ میں نے سوچا زرا آپ کی بھی صحت اچھی ہو جاۓ گی آپ جاۓ عمر ان..خبردار اگر انکل کہا …
عمر نے اُس کی بات بیچ میں ہی کاٹی جس پر وہ کھکھلا کر ہنس دی…
اوکے آپ دونوں جاۓ ہم آدھے گھنٹے تک آتے ہے….
وہ کہتی ایک گھر کی طرف روانہ ہوٸی ….
مشی نے ڈور بیل بجاٸی، تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا
کیا مصبت پڑ گٸی تمہیں جو صبع صبع کال کی ….. آرام سے یار ثنا انکل گھر ہے
وہ اندر داخل ہوتی بولی
کیسی ہو مشی بیٹا خیریت ہے نا سب تھوڑی دیر بعد لاونج میں ثنا کے والد ناصر داخل ہوۓ جو ایک ڈاکٹر تھے
جج…جی انکل سب ٹھیک ہے ان سے ملے یہ میرے بڈی ہے
اسلام وعلیکم سکندر جو پورے گھر کو دیکھ رہا تھا سلام کیا….
آپ سے مل کر خوشی ہوٸی…
انکل آپ میری بات سنے ، ان کی آپ نے بینڈیج کرنی ہے اور ایسا لگنا چاہیے جیسے بہت سیریس اکیسڈنٹ ہوا ہے
اس کی بات پر سکندر نے حیرانی سے اُس کی طرف دیکھا جبکہ ناصر صاحب اور ثنا کا بھی یہی حال تھا…..
مگر کیوں؟؟؟؟وہ میں آپ کو بعد میں بتاو گی ایک لمبی سٹوری ہے
آپ پلیز جلدی کریں انکل …..اوکے بیٹا میں سامان لے کر آتا ہو
پھر تھوڑی دیر بعد سکندر کے بازو اور ماتھے پر بینڈیج ہو چکی تھی …..اور دیکھنے پر لگتا تھا کہ کافی سیریس اکسڈنٹ ہوا ہے….
پرفیکٹ انکل اب آنی مان جاۓ گی وہ خوشی سے چہق کر بولی……جس سے سکندر مسکرا دیا
اوکے انکل اللہ حافظ پھر ملاقات ہوتی ہے
چلے بڈی گھر، وہ اُسے لیے گھر سے نکلی اب انہوں نے ملک ولا جانا تھا….
میری بات سنے بڈی آپ نے ایکٹنگ کرنی ہے بہت زبردست اپنا چہرے پر درد کے تاثر لاۓ تاکہ آنی یقین کر سکے
وہ مسلسل اُسے ہدایت دے رہی تھی جسے وہ مسکراتا ہوا سن رہا تھا…
تھوڑی دیر بعد وہ ملک ولا داخل ہوۓ
_______________________________________________
بھابھی بیگم کیا پراٹھے بناۓ دل خوش کر دیا عمر ایک لقمہ لیتا بولا
ویسے عمر بھاٸی آپ کا پراٹھا مسکان نے بنایا ہے دل سے حیا شوخی سے بولی
افففف بیگم کمال ذاٸقہ ہے آپ کے ہاتھ میں ہم تو دیوانے ہو گٸے وہ اپنے ساتھ بیٹھی مسکان کا ہاتھ چومتا شررات سے بولا….
جبکہ سب کے سامنے ایسا کرنے سے وہ پل میں سرخ ہوٸی افاق اور حیا چہرا جھکاۓ مسکرا رہے تھے….
عمر کیا کر رہے ہے سب بیٹھے وہ دانت پستے بولی، اوکے ناشتہ کے بعد بیڈروم میں آنا پھر یہی سے شروع کریں گے وہ ایک انکھ دباتا ہوا ناشتہ میں مصروف ہو گیا…..
ویسے بھابھی بیگم آپ کا مجازی خدا پتہ نہیں کہا رہے گیا آیا نہیں ابھی تک آٹھ بج رہے ہے….
کوٸی کام ہو گا شاید آپ ناشتہ کریں ٹھنڈا ہو رہا افاق بیٹا آپ بھی لو…
نہیں بھابھی بس وہ جوس کا سیپ لیتا بولا…. حیا کی اچانک نظر گلاس ڈور سے باہر گٸی جہاں سکندر 1 کے سہارے چل رہا تھا….
بازو اور ہاتھ تر پٹی بندھی تھی وہ دوڑتی اُن کے پاس پہنچی باقی سب کا بھی یہی حال تھا…..
مشی مصوم سی شکل بناۓ اُس کے ساتھ کھڑی تھی جبکہ وہ بھی بھرپور ایکٹنگ کر رہا تھا…
ییی….یہ کیسے ہوا اتنی چوٹیں وہ اپنا غصہ بھولے نم انکھوں سے بولی
سکندر نے بغور اُسے دیکھا نم سبز انکھیں اور اُن میں محبت کے دیپ
جھوٹ کہتی تھی وہ کے محبت ختم ہو گٸی ہے اُس کی انکھوں نے آج سارا راز کھول دیا….
کچھ نہیں آنی چھوٹا سا اکسینڈیٹ ہو گیا تھا ایک ہفتہ میں ٹھیک ہو جاۓ گے…..
تم اسے چھوٹا سا اکیسینڈیٹ کہہ رہی ہو کتنی چوٹیں آٸی ہے ضرور تم نے کوٸی شرارت کی ہو گٸی
افاق جو پہلے سے بھرا بیٹھا تھا اُس پر چڑھ دوڑا
بیٹا اس کی غلطی نہیں بس اچانک ہو گیا سکندر نے اُس کی حمایت کی ….
نہیں بھاٸی ضرور اس نے کچھ کیا ہے ہر وقت کی شرراتیں اچھی نہیں ہوتی بی بی
اگر بھاٸی کو کچھ ہو جاتا تو وہ غصہ سے بولا
مشی نے حیا کی طرف دیکھا تو وہ خاموش تھی یعنی وہ بھی غلط سمجھ رہی تھی …
افاق!!!!! سکندر نے کچھ کہنا چاہا تو وہ بیچ میں بولی
بڈی میں روم میں جا رہی ہوں بعد بات کرتی ہوں وہ افاق پر ایک شکوہ سی نگاہ ڈالتی اپنے کمرے میں چلی گٸی….جبکہ افاق کو وہ نیلی انکھیں بے چین کر گٸی کچھ تھا اُن انکھوں میں جو اُسے ساکت کر گیا….
سکندر یہ ہوا کیسے عمر اُسے سہارا دیتا اندر لایا
سکندر اُسے وہ ساری کہانی سناٸی جو مشی نے کہی تھی
چلو آٶ میں تمیہں کمرے میں چھوڑ دو عمر نے سہارا دے کر اُسے اٹھایا
بھابھی!!! سکندر کے لیے سوپ اوپر لے آٸیے گا…..
_______________________________________________
وہ سوپ لے کر کمرے میں آٸی تو سکندر بیڈ پر نیم دراز تھا جبکہ عمر جا چکا تھا…
عمر بھاٸی چلے گٸے وہ سوپ ساٸیڈ ٹیبل پر رکھتی بولی
ہممم اُسے کوٸی ضروری کال آ گٸی تھی وہ اُسے نظروں کے حصار میں لیا بولا
حیا اُس کے پاس کھڑی پورا کمرا دیکھ رہی تھی ان سالوں میں کچھ بھی نہیں بدلا تھا بس دیوار پر سکندر اور حیا کی ولیمہ کی تصویر تھی جو بڑے ساٸز میں کمرے میں موجود خوبصورتی میں اضافہ کر رہی تھی….
مہربانی کر کے مجھے سوپ پلا دے گی ابھی ہاتھ کام نہیں کر رہا
وہ اُسے مسلسل کھڑا دیکھ کر جھجھلا کر بولا…
حیا نے ایک نظر اُسے دیکھا اور پھر آرام سے اُس کے پاس بیٹھ کر سوپ پلانے لگی
اور وہ اُس کا ایک ایک نقش حفظ کرنے لگا
آپ پلیز ایسے نا دیکھے اُس کی مدھم سی آواز آٸی کیسے دیکھ رہا ہو میں وہ اپنا چہرا قریب کرتا سرگوشی کر گیا….
جبکہ اُس کی سانس سینے میں کہی اٹک گٸی سس…سکندر
وہ اپنا ہاتھ اُس کے سینے پر رکھتی پیچھے کرتی منمناٸی
بولو سکندر کی جان …..
وہ مم…میں..آپ…سس….سے…..ناراض ہوں
بولو پھر کیسے ناراضگی دور کرو تمہاری وہ اُس کا بازو اپنی گرفت میں لیتا اپنے قریب کر گیا….
تمہاری ناراضگی میری جان لینے کے درپے ہے کچھ تو رحم کر لو مجھ پر جانم
تمہیں پتہ ہے جانم تمہاری انکھیں سارے راز بتا دیتی ہے اور آج انہیں نے بتا دیا کہ تمہارے دل میں اب بھی سکندر علی بستا ہے اور میری ہر سانس میں حیا وہ مدھم بھاری لہجے میں بولتا اُس کے ہونٹ ہلکے سے چھو گیا
جبکہ اُس کے انداز پر حیا کی انکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے
سکندر نے ایک نظر اُسے دیکھا اور پھر اپنے جذبات پر بندھ بندھتا پیچھے ہوا
تمہاری انکھوں میں آنسو مجھے بہت تکلیف دیتے ہے لیکن میں تمہارا انتظار کرو گا اپنی سانسوں کے بند ہونے تک وہ اُس کا ماتھا چومتا اپنی گرفت سے آزاد کر گیا
اور وہ بھاگ کر واشروم میں بند ہو گٸی
_______________________________________________
وہ لاونج میں بیٹھا بے چینی سے اُس کا انتظار کر رہا تھا صبع سے شام ہونے کو تھی مگر وہ کمرے سے باہر نا آٸی
ناشتہ بھی اُس نے نہیں کیا تھا اُس کی نظر بھٹک بھٹک کے بند دروازے کی طرف جا رہی تھی
تجھے کیوں اتنی تکلیف ہو رہی ہے نہیں کھاتی کچھ تو نا کھاۓ دماغ نے اُسے کہا….
لیکن اُس کی انکھوں میں میری وجہ سے آنسو آۓ اور وہ ہنستی مسکراتی اچھی لگتی ہے
دل نے جواز پیش کیا
وہ جھجھلا کر وہی اپنا موبائل لے کر بیٹھ گیا مگر وہ کمرے سے باہر نا نکلی
______________________________________________
ایک ہفتہ پر لگا کر گزر گیا سکندر اور حیا میں اب بھی سب ویسا تھا بس اُس نے اپنی جاب چھوڑ دی تھی اب وہ اُس کا دھیان رکھتی تھی اُس کی ہر چیز کا خیال دل سے وہ اُسے معاف کر چکی تھی بس زبان سے قرار کرنا باقی تھا….
عمر اور مسکان کی رخصتی کی دیٹ واٸنل ہو گٸی تھی دو دن بعد مایوں تھا اُس کے بعد دوسرے فنکشن…..
دونوں گھروں میں تیاریاں عروج پر تھی….
مسکان نے اُس دن کے بعد خاموشی اخیتار کر لی اب وہ صرف سکندر اور حیا سے تھوڑی بہت بات کرتی تھی اس کے علاوہ وہ خاموش رہتی
______________________________________________
وہ کب سے اٹھا اُس کا چہرا تک رہا تھا جو اُس کے بازو پر سر رکھے مصوم سی گڑیا لگ رہی تھی
بند انکھوں پر پلکیں اُسے بہکا رہی تھی دل اُس کے ہر نقش کو چومنے کا کر رہا تھا…..
مگر وہ اپنے جذبات کو کنٹرول کیے بیٹھا تھا….
سکندر نے اُس کے چہرے پر پھونک ماری جس سے وہ کسمساٸی اور پھر اُس کے سینے پر لگ کر سو گٸی جبکہ اُس کی جان مشکل میں ڈال گٸی
افففف تو میڈم نے نیا طریقہ تلاش کیا ہے بدلا لینے کا
جانم بندہ بشر ہو کیوں مجھے آزاما رہی ہو وہ سرگوشی کرتا اُس کی کان کی لو چھوتا بولا
اپنے چہرے پر پڑتی گرم سانسوں سے اُس کی انکھ کھولی
حواس بیدار ہونے پر اُس نے دیکھ وہ جھکا اُسے پیار بڑی نظروں سے دیکھ رہا ہے…..
سسس..سکندر!!!!!
_______________________________________________
جاری ہیں…….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *