Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sanam By Sheeza Writer Episode03

Sanam By Sheeza Writer Episode03

_____________________________
شام کے ساۓ پھیل رہے تھے۔اور وہ سڑک کے کنارے کھڑی کسی ٹیکسی کا انتظار کر رہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
امی اب ہم کہاں جاۓ گے ،حیا نے کب سے اپنے دل میں پیدا ہونے والا سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کی زمین بہت بڑی ہے چندا کہی نہ کہی جگہ مل ہی جاۓ گی۔۔۔۔۔
ویسے اس وقت میں تمہیں اپنی دوست کی طرف لے کر جا رہی ہوں۔۔۔۔۔
آو ہم اُس ساٸیڈ پر چلتے ہے وہ بیگ پکڑتی ہوٸی بولی۔۔۔۔۔
ابھی وہ سڑک کے درمیان ہی پہنچی تھی ،جب ایک تیز رفتہ ٹرک انہیں اپنی طرف آتا دیکھی دیا۔۔۔
انہوں نے حیا کو دھکا دیا جس سے وہ دور جا گری۔۔۔۔۔۔
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ حیا کو کچھ پتا ہی نہیں چلا
اور ٹرک زینب بیگم کو ہوا میں اڑرتا آگے نکل گیا۔۔۔۔۔
امی!!!!!! وہ چیخ کر بولی اور اُن کے خون سے لت پت جسم کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔۔۔
لوگ اُن کے گرد جمع ہونا شروع ہو چکے تھے۔۔۔۔۔
لگتا ہے مر گٸی ،کسی کی آواز کانوں میں پڑی
نہیں خدا یہ ظلم مجھ پر نہیں کر سکتا وہ اُن کا سر اپنی گود میں رکھتی بولی
امی پلیز اٹھے میرا کیا ہو گا،مجھے کس کے سہارے چھوڑے جا رہی ہے
پلیز وہ اُن کا چہرا تھپتپتی ہوٸی بڑبڑاٸی
کوٸی اُن کے قریب آ کر بیٹھا، اور زینب بیگم کی نبض چیک کی جو سلو چل رہی تھی
یہ زندہ ہے آپ میری مدد کریں انہیں ہسپتال لے کر جاتے ہے
حیا کو جسے کسی نے زندگی کی نوید سنا دی
اُس نے چہرا اوپر اٹھایا!!!!!!
تو یہ وہی تھا
(وہ بی بی جان کے ساتھ اُن کی دوست کے گھر جا رہا تھا
جب اُس نے دیکھا کسی کا بہت برا ایسیڈنٹ ہوا ہے
وہ اور بی بی جان اُن کی مدد کو پہنچی ،کیوں کے باقی تو سب تماشہ دیکھ رہے تھے
اور جب انہوں نے اپنی پیاری دوست زینب کو اس حالت میں دیکھا تو اُن کا دل جسے کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو)
سکندر جلدی چلو انہیں ہسپتال لے کر
اُس نے انہیں اختیار سے پیچھلی سیٹ پر لیٹایا اور ساتھ اُن کے حیا بیٹھ گٸی۔۔۔۔۔
جو اب بھی خود کو نقاب میں چھپاۓ ہوے تھی۔۔۔۔۔
سکندر جلدی سے ڈرائيورنگ سیٹ پر بیٹھا ، اور ساتھ اُس کے بی بی جان بیٹھ گٸی……
دس منٹ میں وہ ریش ڈرائيورنگ کرتا ہسپتال پہنچا…….
ڈاکٹر!!!! وہ چلایا
جی سر دو ڈاکٹر کمرے سے باہر آۓ
ان کا ٹریمنٹ جلدی سے کرو وہ ہدایت دیتا بولا
مگر سر یہ پولیس کیس ہے اُن میں سے ایک بولا
میری بات سمجھ نہیں آٸی ٹریمنٹ شروع کرو وہ دھاڑا…….
اوکے سر…..
وہ جلدی سے زینب بیگم کو آپریشن تھیٹر کی طرف لے گٸے
کیونکہ وہ اُس کو پہچان گٸے تھے معروف بزنس ٹاٸیکون سکندر علی…..
حیا بی بی جان کے ساتھ بینچ پر بیٹھی رو رہی تھی
سکندر نے اُس کی طرف دیکھا
پتہ نہیں کیوں لیکن حیا کی انکھوں میں موجود نمی نے اُسے تکلیف دی
اک لمحہ کے لیے اُسے لگا جسے وقت ٹہر گیا ہے ، مگر صرف ایک لمحہ کے لیے
وہ خود کو کمپوز کرتا باہر چلا گیا
بس میرا بچا چپ ہو جاو زینب ٹھیک ہو جاۓ گی
وہ اپناٸیت سے اُسے گلے لگاتی بولی
دعا کرو تم خدا سے بہت جلد وہ صحت یاب ہو کر ہمارے ساتھ ہو گی
وہ اُسے سینے سے لگاۓ بیٹھی تھی
______________________________
دو گھنٹے کے انتظار کے بعد آپریشن تھیٹر کا دراوزہ کھولا
اور ڈاکٹر باہر آٸیں۔۔۔۔ کیسی ہے میری امی حیا نے بے تابی سے پوچھا
دیکھ مس خون بہت زیادہ بہہ چکا ہے اُن کے پاس وقت بہت کم ہے
کیا ہم اُن سے مل سکتے ہے؟ سکندر حیا کے چہرے کو دیکھتا بولا
جس کی انکھیں پھر سے برسنا شروع ہو چکی تھی
جی تھوڑی دیر میں انہیں روم میں شفٹ کر دیا جاۓ گا ۔۔۔۔۔
وہ پرویشنل انداز میں کہتے اپنے کیبن کی طرف چل دیے۔۔۔۔۔۔۔
وہ کب سے زینب بیگم کے پاس بیٹھی آنسو بہا رہی تھی
ح۔۔حیا!!!!!
جی امی بولے وہ اُن کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیتی بولی۔۔۔
بی بی جان بھی اُن کے پاس کھڑی تھی
عا۔۔عاٸشہ۔۔۔ انہوں نے بی بی جان کی طرف دیکھ کر پکارا
بولا کیا ہوا ہے زینب ؟
میر۔۔۔۔میرے۔۔۔۔پا۔۔پاس۔۔۔و۔۔۔وقت۔۔۔۔بہہہت۔۔۔ک۔۔۔کم۔۔۔ہ۔۔ہیں۔۔۔میر۔۔میری۔۔۔ای۔۔۔۔ایک۔۔۔۔بات۔۔۔۔م۔۔۔مانو۔۔۔گی
وہ بہت مشکل سے بول پا رہی تھی
بولا میں سن رہی ہوں زینب،اور تمہیں کچھ نہیں ہو گا بہت جلد تم ٹھیک ہو جاو گی۔۔۔۔وہ آنسو پیتی بولی
م۔۔میری۔۔۔۔بی۔۔۔۔بیٹی۔۔۔۔ک۔۔۔کو۔۔۔۔ا۔۔اپنی۔۔۔م۔۔۔مامتا۔۔۔کی۔۔۔۔چھا۔۔۔چھاوں۔۔۔م۔۔۔میں۔۔۔لے۔۔۔۔ل۔۔لو
ایسا کیوں کہہ رہی ہو زینب، حیا میری بھی بیٹی ہے۔۔۔اور پلیز تم ایسی باتیں نہ کرو
نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔م۔۔مجھے۔۔۔بہہت۔۔۔۔ک۔۔۔کم۔۔۔۔و۔۔۔وقت۔۔۔۔م۔۔۔۔ملا۔۔۔ہے۔۔۔۔خدا۔۔۔۔۔س۔۔۔سے!!!!
امی!!! ان کی بات پر حیا کے آنسو میں روانی آٸی
م۔۔۔میں۔۔۔۔سکندر۔۔۔ک۔۔۔۔کے۔۔۔ہا۔۔۔ہاتھ۔۔۔۔م۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔اپن۔۔اپنی۔۔۔۔بی۔۔۔بیٹی۔۔۔۔ک۔۔ہاتھ۔۔۔دی۔۔۔۔دیتی۔۔۔۔ہوں
وہ حیا کو ایک نظر دیکھتی بولی
ٹھیک زینب تمہاری یہی خواہش ہے،تو یہ ضرور پوری ہو گی
بی بی جان نے اُن کا ہاتھ پکڑا کر تسلی دی
جس سے اُن کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری۔۔۔۔۔۔
میں ابھی سکندر کو کہتی ہوں وہ قاضی کو لے کر آۓ۔۔۔۔
اور تمہیں کچھ نہیں ہو گا سمجھی،، وہ اپنی انکھیں صاف کرتی اٹھ کر باہر چلی گٸی
______________________________
وہ باہر آٸی تو سکندر کسی سے فون پر بات کر رہا تھا
بی بی جان کو اپنے قریب آتے دیکھ اُس نے کال بند کی اور اُن کی طرف متوجہ ہوا
سکندر آپ ہماری بات مانے گے ؟
بولے امی کیا ہوا۔۔۔۔۔۔
آپ حیا سے نکاح کر لے
یہ آپ کیا کہا رہی ہے امی ؟
ٹھیک ہی تو کہا رہی ہوں،ہماری خواہش پوری کر دے سکندر
حیا بہت اچھی لڑکی ہے
مگر امی وہ ابھی اٹھارہ کی ہے اور میں27 کا ہوں ، وہ کیسے اس رشتہ کے تقاضوں کو سمجھ پاۓ گی۔۔۔
آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا سکندر بھولے مت
ٹھیک ہے میں لے کر آتا ہو قاضی کو وہ بے بس ہوا
______________________________
حیا احمد آپ کا نکاح سکندر علی ولد وجاہت علی سے سکہ راٸج وقت پانچ لاکھ حق مہر دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔
کیا آپ کو قبول ہے؟
وہ سر جھکے بیٹھی آنسو انکھوں سے مسلسل بہہ رہے تھے۔۔۔۔
کب سوچا تھا کہ اُس کی شادی ایسے بھی ہو گی
مگر قسمت کا لکھ کون جان سکا ہے ۔۔۔
قب۔۔۔قبول ہے
وہ کانپتی آواز میں بولی الفاظ جسے زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے
زینب بیگم کے چہرے پر ایک سکون سا چھا گیا
مولوی صاحب نے دستخط کے لیے نکاح نامہ آگے بڑھایا
جس پر اُس نے کانپتے ہاتھوں سے ساٸن کیے
اور وہ حیا احمد سے حیا سکندر بن گٸی
______________________________
عاٸشہ۔۔۔۔۔۔
بولو زینب کیا ہوا؟
مج۔۔مجھے۔۔۔۔سکندر۔۔۔۔۔سے۔۔۔۔با۔۔۔۔بات۔۔۔۔کر۔۔۔کرنی۔۔۔۔۔ہے
عاٸشہ بیگم باہر چلی گٸی اور تھوڑی دیر بعد سکندر اندر داخل ہوا
حیا اُن کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی تھی
سکن۔۔۔۔سکندر
جی آنٹی بولے!!!!!!
می۔۔۔۔میری۔۔۔۔بیٹی۔۔۔۔ک۔۔۔۔کا۔۔۔۔۔خیال۔۔۔۔رکھنا۔۔۔۔۔۔اسے کبھی۔۔۔۔۔کوٸی۔۔۔۔تکلیف۔۔۔۔مت دینا
وہ اُس کے ہاتھ میں حیا کا ہاتھ دیتی بولی
اور پھر انکھیں موند لی۔۔۔۔سانسوں نے ساتھ چھوڑ دیا
آنٹی کیا ہوا آپ کو وہ اُن کی نبض چیک کر بولا
جو نہیں چل رہی تھی
ڈاکٹر!!!!!!وہ باہر ڈاکٹر کو بلانے گیا
جبکہ حیا اب بھی بے یقینی سے کھڑی اُن کی بند انکھیں دیکھ رہی تھی
سوری!!! شی از نو موڑ
نرس نے اُن کے چہرے پر سفید کپڑا ڈال دیا
عاٸشہ بیگم بھی کھڑی رو رہی تھی ، کتنے سالوں بعد دونوں ملی تھی اور کتنے کم عرصے کے لیے
نہیں یہ نہیں ہو سکتا، امی اٹھے پلیز مجھے اکیلا مت چھوڑے
وہ اُن کے بے جان وجود کو جھنجوڑ کر بولی
حیا بیٹا سمبھالوں خود کو
عاٸشہ بیگم نے اُسے اپنے سینے سے لگایا
سکندر خاموش کھڑا اُسے آنسو بہاتا دیکھ رہا
مگر تکلیف اُس کے دل میں بھی ہو رہی تھی
نہیں آنٹی ڈاکٹر جھوٹ بول رہے ہے میری امی سو رہی ہے
وہ مجھے یوں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی
حیا اُن کی گرفت سے نکلتی دوبار زینب کے پاس چلی گٸی
سکندر تم ہی سمجھو اسے
اُس نے حیا کے کندھے پر ہاتھ رکھا
شششش کوٸی نہ بولے میری امی آرام کر رہی ہے وہ تھک گٸی ہے نہ کام کر کے
سکندر نے ایک جھٹکے سے اُسے اپنے سامنے کھڑا کیا
وہ چلی گٸی ہے ہمیں چھوڑ کر پاگل لڑکی یوں تم رو کر اُن کی روح کو تکلیف مت دو ……وہ غصہ سے بولا
دعا کرو اُن کے لیے
اس کا اتنا کہنا تھا حیا لہرا کر اُس کی باہوں میں گر گٸی
______________________________
زینب کو اس دنیا سے گٸے ایک ہفتہ ہو چکا تھا
حیا بلکہ چپ ہو گٸی تھی۔۔۔۔۔
رات میں اٹھ کر چیخنے لگتی پھر عاٸشہ بیگم اُسے اپنے سینے سے لگاتی
تو وہ کچھ پر سکون ہوتی
سکندر سے اُس کا دوبار سامنا نہیں ہوا تھا
وہ فجر کی نماز پڑھ کر باہر لان میں آگٸی تھی
پتہ نہیں کیوں آج اُس گُٹن سی ہو رہی تھی
ننگے پاوں گھاس پر چہل قدمی کر رہی تھی
اداسی کی تصویر بنے وہ اس مناظر کا حصہ لگ رہی تھی
دیکھنا میری بیٹی کو لینے ایک شہزادہ آۓ گا اور پھر وہ اُسے گھوڑے پر بیٹھا کر اپنے گھر لے جاۓ گا۔۔۔۔۔۔جو تم سے بہت پیار کرۓ گا
زینب بیگم کی بات پھر سے اُس کے گرد گونجی انکھوں میں نمکین پانی پھر سے جمع ہونے لگا تھا
وہ جوگنگ کر کے آیا تھا جب اُس نے لان میں اداسی سے کھڑی حیا کو دیکھا
قدم خوبخود اُس کی جانب اٹھے
وہ دھیرے دھیرے چلتا اُس کے قریب پہنچا
کسی طیبعت ہے بے ساختہ سکندر کے منہ سے نکلا
حیا اُس کی آواز پر بدک کر پیچھے ہوٸی
اور سیدھے اُسے کے چوڑے سینے سے ٹکرا گٸی
______________________________
جاری ہیں۔۔۔۔۔🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *