Sanam By Sheeza Writer NovelR50773 Sanam By Sheeza Writer Episode07
No Download Link
635.8K
18
Rate this Novel
Sanam By Sheeza Writer Episode01 Sanam By Sheeza Writer Episode02 Sanam By Sheeza Writer Episode03 Sanam By Sheeza Writer Episode04 Sanam By Sheeza Writer Episode05 Sanam By Sheeza Writer Episode06 Sanam By Sheeza Writer Episode07 (Watching)Sanam By Sheeza Writer Episode08 Sanam By Sheeza Writer Episode09 Sanam By Sheeza Writer Episode10 Sanam By Sheeza Writer Episode11 Sanam By Sheeza Writer Episode12 Sanam By Sheeza Writer Episode13 Sanam By Sheeza Writer Episode14 Sanam By Sheeza Writer Episode15 Sanam By Sheeza Writer Episode16 Sanam By Sheeza Writer Episode17 Sanam By Sheeza Writer Last Episode
Sanam By Sheeza Writer Episode07
Sanam By Sheeza Writer Episode07
_____________________________
وہ تقریبا چار بجے کمرے میں داخل ہوا وہ بیڈ کراٶن سے ٹیک لگا کر سو رہی تھی
ڈوپٹہ ایک طرف کو ڈھل چکا تھا۔۔۔۔سکندر نے ایک نظر اُس کے سراپے پر ڈالی اور فریش ہونے واشروم میں چلا گیا
آدھا گھنٹا وہ شاور کے نیچے کھڑا رہا شاید دماغ کو کچھ سکون ملے
لیکن سکون اُس کے نصیب میں کہاں
وہ بیڈ پر حیا کے قریب بیٹھ گیا اور ایک ایک کر کے اُس کی جیولری اترنے لگا
پنوں سے ڈوپٹہ آزاد کر کے ساٸیڈ پر رکھا اور پھر آرام سے اُس کا سر تکیہ پر رکھتا خود اُس کے ساتھ لیٹ گیا
وہ حیا کو پیار دینا چاہتا تھا مگر وہ جب بھی اُس کی طرف قدم بڑھاتا تھا منال کا عکس اُس کا مزاق اڑنے کے لیے آ جاتا تھا
جس نے اپنے دوست اور بیوی پر اتنا یقین کیا کہ اُن کے درمیان تعلق کی اُسے خبر بھی نہ ہوٸی
یہی باتیں جب اُس کے ذہین میں آتی ہے وہ حیا کو ہرٹ کر دیتا تھا
وہ اُس کے ایک ایک نقش کو دل میں اترتا انکھیں موند گیا
دونوں ایک رشتہ میں بندھ چکے تھے مگر اجنبیوں کی طرح ایک دوسرے سے بات کرتے تھے
______________________________
دو ہفتوں بعد……
سنٸیے!!!!!
وہ آفس کے لیے اُس کے کپڑے نکل رہی تھی
وہ بیڈ پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا
ہممم بولو….
وہ آپ سے ایک آجازت لینی تھی وہ ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتی بولی
کس لیے…..
وہ کالج سے کافی چھٹیاں ہو گٸی ہے میرا یہ آٸی کام میں آخری سال ہے.
کیا میں کالج جانا اسٹارٹ کر دو وہ روانی سے بولتی اُس کا چہرا دیکھنے لگی
جہاں اس وقت کوٸی تاثر نہیں تھا
مجھے کیا مسلہ ہو گا ویسے بھی ایک عورت کو پڑھ لکھ ہونا چاہیے
لیکن اگرتم اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہی تو جان لو حیا مجھے میری ہر چیز ٹاٸم پر چاہیے
میرے آفس جانے کے بعد جتنا پڑھنا ہے پڑھ لینا مگر چھ بجے کے بعد تم مجھے روم میں نظر آو میرا انتظار کرتی ہوٸی
ٹھیک ہے!!!! جب جانا ہو گا مجھے بتا دینا میں چھوڑ آو گا
وہ فریش ہونے کی غرض سے واشروم میں چلا گیا
______________________________
تم اب آ رہی ہوں مسکان کب سے میں تمہارا ویٹ کر رہی ہوں
وہ مضوعی غصہ سے بولتی رخ موڑ کر کھڑی ہو گٸی
اففف سوری مکھنا بس راستہ میں ٹریفک تھا
وہ حیا کا منہ اپنی طرف کرتی محبت سے بولی
میں بھلا اپنی جان کو انتظار کروا سکتی ہوں
اچھا اب مکھن نہ لگاو تم
اتنی جلدی مجھے کیوں بلایا ؟
تمہیں ایک خوشخبری دینی وہ چہقتی بولی
او ایم جی!!! یعنی میں ماسی ماں بنے والی ہوں
بہت بہت مبارک ہو حیا اُس نے ورختگی میں حیا کے دونوں گال چوم لیے
جو سرخ چہرا لیے اُسے گھور رہی تھی
دیکھو اگر لڑکی ہوٸی تو اُس کا نام میں رکھو گی اور اگر لڑکا ہوا تو پھر بھی نام میں ہی رکھو گی
تم ایسا کرو جلدی سے تیار ہو جاو ہم بے بی کی شاپنگ کرتے ہے
کیوں کے آج اُن کی ماسی ماں بہت خوش ہے
اوووو لڑکی بریک لگاو ایسا کچھ نہیں ہے
حیا نے پاس پڑا کُشن اُسے مارا
شروع ہو جایا کرو بس تم
اچھا پھوٹو کیا ہے وہ منہ بنا کر بولی
سکندر نے مجھے کالج جانے کی آجازت دے دی ہے
اب کل سے میں تمہارے ساتھ کالج جاو گی
حیا اُس کے گلے میں بازوں ڈالتی بولی
یار یہ تو بڑی اچھی خبر ہے
کب تک روکو گی ؟
یہی کوٸی ایک گھنٹہ ماما پاپا نے آج کسی پارٹی پر جانا ہے اس لیے گھر جلدی چلی جاو گی
پھر وہ ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگی اور وہاں آفس میں بیٹھے سکندر کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آٸی
حیا کو ہنستا ہوا دیکھ کر اُسے اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس ہوا
اُس کے سامنے تو وہ سریس ہو کر رہتی تھی مگر سکندر کے آفس جانے کے بعد وہ افاق اور بی بی جان سے ہنستی مسکراتی باتیں کرتی تھی
کبھی افاق کے ساتھ کھیلنا اور کبھی اپنی دوست سے فون پر باتیں کرتی تھی
اور سکندر اُسے لیپ ٹوپ پر مسکراتا دیکھ کر اپنا دن گزرتا تھا
………………………………………….
عمر کوٸی فاٸل لینے ملک وِلا آیا تھا اُس نے گاڑی پورچ میں کھڑی کی اور اندر چلا گیا
جب اُس کی نظر سڑھیاں اترتی ہوٸی ایک لڑکی پر پڑی
سیٹپ کیٹنگ میں کاٹے براٶن بال کالی شفاف انکھیں اور سانوالا رنگ لیکن ایک کِشش جو دیکھنے والے پر ایک اثر چھوڑتی تھی
اور مسکراتے شرارتی ہونٹ بلیک اور پنک کلر کی شلوار قمیض پہنے اور پنک ڈوپٹہ شانوں پر پھیلے وہ حسین لڑکی عمر کے قریب آ رہی تھی
وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی کہ اچانک اُس کا سر کسی پتھر جیسے وجود سے ٹھکرایا
اندھے ہو کیا ؟ مسکان جو حیا سے ملنے آٸی تھی…..
عمر کے ساتھ ٹکرانے سے برہمی سے بولی……
ابھی تو نظر آنا شروع ہوا ہے، پہلے اندھا ہی تھا۔۔۔وہ اُسے دیکھتا بولا
تھوڑے پاگل بھی لگتے ہوں علاج کی سخت ضرورت ہے تمہیں
وہ بے زاری سے بولی اور ایک ساٸیڈ سے جانے لگی
جب عمر پھر سے راستہ میں حاٸل ہوا
کون ہوں تم؟
میں ایک انسان ہوں
نام کیا ہے تمہارا؟
کیوں آپ نے نام کا اچار ڈالنا ہے
بتاو تو!!!!
”پھیکا پلوان “وہ ہنسی ضبط کرتی بولی
جبکہ عمر حیرانگی سے اُسے دیکھا رہا تھا…..
کافی مردانہ نام ہے آپ کا
بس مجھے پیدا ہوتے ہی شوق تھا ایسے ناموں کا
کافی عجیب شوق ہے آپ کے
ہاں جی کبھی غرور نہیں کیا اُس نے فرضی کالر جڑا
رہتی کہاں ہے آپ؟
جہنم میں!!!!! وہاں کا اڈریس مل سکتا ہے وہ حد درجہ مصوم بنا
نہیں اُس کے لیے آپ کا مرنا لازمی ہے اُس نے منہ بسورا
عمر نے اپنا قہقہ بڑی مشکل سے دبایا
عمر کیا ہے آپ کی؟
میری عمر
جی!!!!!!!
یہی کوٸی تین سو سال
آپ مجھے کافی خوفناک لڑکی لگتی ہے
جی اور کوٸی مجھے اگر دیکھے لے تو میں اُس کی زندگی مشکل کر دیتی ہوں
وہ اُسے ڈرتی بولی
انٹرویو ہو گیا ہوں تو میں جا سکتی ہوں……
میرا ڈرائيور ویٹ کر رہا ہو گا
وہ اپنی کالی شفاف انکھوں پر گلاسس لگاتی بولی
وہ گاڑی میں آ بیٹھی اور پھر قہقہ لگتی ہنستی چلی گٸی
کیونکہ عمر کی شکل دیکھتے اُس نے بڑی مشکل سے ہنسی روکی تھی
اور آگے بیٹھا ڈرائيور پریشانی سے اُسے دیکھنے لگا کہ بی بی جی کو کون سا دورا پڑا ہے
______________________________
وہ بی بی جان کو سلام کر کے حیا کے کمرے کی طرف چل دیا
اُس نے دروازے پر دستک دی
تھوڑی دیر بعد حیا سر پر ڈوپٹہ اوڑھے باہر آٸی
اسلام و علیکم بھابھی کیسی ہے آپ
وعلیکم اسلام!!!!
میں باکل ٹھیک .کوٸی کام تھا آپ کو مجھے سے
جی بھابھی یہ راجا بابو نے آپ کے لیے موبائل بھیجا ہے
اور اندر اسٹڈی میں ایک بلیک کلر کی فاٸل ہو گی پلیز وہ لا دے
اچھا میں لے کر آتی ہو
تھوڑی دیر بعد حیا ہاتھ میں فاٸل پکڑے باہر آٸی
شکریہ بھابھی
کوٸی بات نہیں وہ مسکرا کر بولی
بھابھی ایک اور بات پوچھوں؟
جی پوچھے
وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک لڑکی گٸی تھی کون تھی وہ
وہ مسکان کی بات کر رہے ہے آپ میری دوست ہے بہت اچھی
”مسکان“ عمر نے زیرلب نام لیا
اوکے بھابھی اب میں چلتا ہوں پھر ملاقات ہو گی
وہ دھیمی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر لیے سڑھیاں اترتا باہر چلا گیا
______________________________
یہاں کیوں بلایا ہے حامد مجھے وہ اپنا بیگ ساٸیڈ پر رکھتی بولی
اس وقت وہ دونوں ایک کلب میں موجود تھے جہاں بہت سے امیروں کے بگاڑے بچے اپنی زندگی خراب کرتے تھے
تعبیر واٸٹ شرٹ اور ساتھ جینز پہنے بے زار سی بیٹھی تھی
تمہارے مسلہ کا حل بتانے کے لیے وہ اُس کے آگے واٸن کا گلاس رکھتا بولا
کیسا حل؟
ایک پلین نے آگے تم راضی ہو تو
بولو کیا پلین
اس کے بدلہ مجھے کیا ملے گا؟
کیا چاہیے تمہیں……
تمہارے ساتھ کچھ حسین پل وہ گہری نظروں سے دیکھتا بولا
ٹھیک ہے منظور ہے مجھے بتاو
پھر جسے جسے وہ بتاتا جا رہا تھا تعبیر کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ پھیلتی جا رہی تھی
ٹھیک ہے میں کل ہی جاتی ہوں اُس سے ملنے
وہ واٸن کا آخری گھونٹ پیتی بولی
______________________________
وہ تقریبا نو بجے گھر آیا پورے گھر میں سناٹا چھایا تھا
گرے کلر کی شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے شرٹ کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے
وہ کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا
وہ سڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں داخل ہوا
خالی کمرا اُس کا منہ چڑھ رہا تھا اُس نے واشروم اور پھر اسٹڈی میں دیکھا مگر وہاں بھی کچھ نہیں تھا
نظریں بے تابی سے اُس کی منتظر تھی وہ ٹیرس پر دیکھنے گیا
جب وہ اُسے جھولے پر بیٹھی چاند کو دیکھتی نظر آٸی
حیا!!!!! اُس نے دھیرے سے پکارا
جی آپ کب آۓ؟
ابھی آیا ہوں تم پلیز ایک کپ چاۓ اور ساتھ مڈیسن لے آو بہت درد ہو رہی ہے سر میں
وہ اپنی پیشانی مسلتا بولا
آپ فریش ہو میں لے کر آتی ہوں
ہممممم!!!!
تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں داخل ہوٸی وہ انکھوں پر ہاتھ رکھے بیڈ پر لیٹا تھا
چاۓ!!!
وہ اٹھا اور میڈیسن لی پھر چاۓ کے دو گھونٹ پی کر لیٹ گیا
حیا نے کپ ساٸیڈ پر رکھا اور اُس کے قریب بیٹھ گٸی
اگر زیادہ درد ہو رہا ہے تو دبا دوں
سکندر نے اثبات میں سر ہلایا اور اُس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
اس کی حرکت پر وہ دھڑکنوں کو سنمبالتی اس کا سر دبانے لگی
وہ کچھ پر سکون ہوا پھر اُس کا دوسرا ہاتھ پکڑ کے لبوں سے لگاتا انکھیں موند گیا
جبکہ حیا کی جان وہ مشکل میں ڈال چکا تھا
کچھ ہی دیر میں حیا کو اُس کی معدم سانسوں کی آواز آٸی
جس کا مطلب وہ اب سو چکا تھا
حیا نے اُس کے ماتھے پر بکھر بال ساٸیڈ پر کیا
”کھڑوس“ زیرلب بڑبڑاتی وہ اُس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتی وہ بیڈ کراٶن سے ٹیک لگا کر اُسے دیکھنے لگی
اور باہر چاند نے مسکرا کر اُنہیں دیکھا مگر قسمت کی انکھوں میں آنسو تھے
______________________________
جاری ہیں…….
