Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49

ڈاکٹر نے کبیردادا کے زخموں پر لگانے کے لیے پائیوڈین دی اور کھانے کے لیے درد کش اور سکون آور گولیاں دے کر رخصت ہو گیا ۔وہ ڈاکٹر کبیردادا کے گینگ کا حصہ ہی تھا ۔
تناوش دودھ گرم کرکے لے آئی ۔اس کے گولیاں لیتے ہی پاشا کھڑا ہوتا ہوا بولا ۔
”اب آپ آرام کریں ۔“اور کبیردادا کے سر ہلانے پر وہ کمرے سے نکل گیا ۔
دودھ کا خالی گلاس کبیر دادا کے ہاتھوں سے لے کر اس نے تپائی پر رکھا اور سر کے نیچے دو تکیے رکھ کر اسے سہارا دے کر لٹانے لگی ۔
”درد تو نہیں ہو رہا۔“اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے وہ چاہت سے پوچھنے لگی ۔
کبیردادا متبسم ہوا ۔”اگر ہو رہا ہوا تو تم کیا کرو گی ۔“
وہ شوخی سے بولی ۔”پھر میں تکیے کے بجائے آپ کا سر اپنی گود میں رکھ لوں گی اور درد ختم ہو جائے گا ۔“
”جب یہ چہرہ میری آنکھوں کے سامنے مسکراتا ہوا موجود ہو نا تو مجھے گردن کٹ جانے پر بھی تکلیف نہیں ہو گی ۔“
وہ ناز سے مسکرائی ۔”جھوٹا ۔“
”جھوٹا کسے کہا؟“کبیردادا نے مصنوعی غصہ ظاہر کیا ۔
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”جھوٹے کو ۔“
کبیردادا چند لمحے اس کے چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر اس نے دونوں بازو واکیے ۔وہ فوراََ اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی ۔اس کے ساتھ ہی اس کے دماغ میں لڑائی کا منظر جاگا اور وہ گلوگیر لہجے میں بولی ۔
”میں ڈر گئی تھی کبیر !….مجھے لگا میں آپ کو کھو دوں گی ۔“
اس کی ریشمی زلفوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کبیردادا کہنے لگا ۔”تمھاری دعائیں میرے ساتھ تھیں نا ،مجھے بھلا کیا ہو سکتا تھا ۔“
اسے ربّ سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا اور وہ کہنے لگی ۔”ایک بات مانیں گے ۔“
”کبھی ٹالی بھی ہے ۔“
”یہ سارے کام چھوڑو ،کہیں دور چلے جاتے ہیں ،ایک چھوٹا سا گھر جہاں بس میں اور آپ ہوں گے ۔کوئی خوف ،کوئی ڈر ،کوئی قتل و غارت ،کوئی سازش نہیں ہو گی ۔“وہ جیسے سپنوں میں کھو گئی تھی ۔
”تو تمھارا خیال ہے یہ اتنا آسان ہے ۔“
”کیوں ؟“اس نے سر اٹھا کر کبیردادا کی آنکھوں میں جھانکا جہاں اضطراب کی لہریں اٹھ رہی تھیں ۔
”اس راستے پر کوئی یوٹرن موجود نہیں ہے میری جان ۔یہ سارے گینگسٹر میری جان کے دشمن بن جائیں گے ۔“
”مگر کس لیے ؟“وہ پریشان ہو گئی تھی ۔اس نے تو سوچا تھا کہ وہ کبیردادا سے ہر بات آسانی سے منوا لے گی مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ کبیردادا مجبور بھی ہو سکتا ہے۔اورجس کام میں کبیردادا کی جان کو کوئی خطرہ ہوتا اس کے تو وہ قریب بھی پھٹکنا نہیں چاہتی تھی ۔کبیردادا اس کے لیے کتنا اہم تھا اس بارے اسے صحیح اندازہ تب ہوا تھا جب کبیردادا زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا ۔
”کیوں کہ میں تمام کے راز جانتا ہوں ۔زیر زمین دنیا کے کام کے طریقہ کار سے مکمل واقفیت رکھتا ہوں ۔اور میرے علاحدہ ہوجانے کی صورت میں انھیں ہمیشہ یہ خطرہ رہے گا کہ میں قانوں نافذ کرنے والے اداروں کو مخبری نہ کر دوں میرا وجود ان کے سر پر لٹکتی ہوئی ننگی تلوار کی مانند ہوگا ۔وہ ہر قیمت پر میری جان لینا چاہیں گے ۔اور یہی اس دنیا کا اصول ہے۔یہاں ہر کسی کو بڑی آسانی سے خوش آمدیدکہا جاتا ہے ۔آنے والے کے لیے کئی دروازے کھلے ہیں ۔ لیکن واپسی کاصرف ایک رستا ہے اور وہ ہے موت ۔“
”تو آپ کو کس نے کہا تھا غنڈہ بننے کو محنت مزدوری کرتے ،کوئی سبزی کی ریڑھی ہی لگا لیتے ۔مجھے تو آپ کے ساتھ جھونپڑی میں رہنا بھی قبول تھا ۔“
”پگلی ،تم مجھے گینگسٹر ہونے کی وجہ سے تو ملی ہو ۔“یہ کہتے ہوئے وہ شرارتی انداز میں ہنسا ۔”مزدور ہوتا تو تم نے میری جانب دیکھنا بھی نہیں تھا ۔یوں بھی اب تک کئی بچوں کا باپ بن گیا ہوتا ۔“
”میں آپ کی دوسری بیوی بن جاتی ۔“وہ ہٹ دھرمی پر اتر آئی ۔”آپ کی پہلی بیوی کی بھی خدمت کرتی وہ ضرور مجھے قبول کر لیتی ۔“
کبیردادا نے کہا ۔”مطلب میرے لیے دوسری شادی کا دروازہ کھلا ہے ۔“
”میں اپنی جان لے لوں گی ۔“روہانسا ہو کر اس نے کبیردادا کی چھاتی پر تھپڑا مارا ۔ کبیردادا کے چہرے پر تکلیف ابھرتی دیکھ کر وہ فوراََ اس کی چھاتی سہلانے لگی ۔
سوری میری جان ،مجھے یاد نہیں رہا تھا ۔“
کبیردادا نے قہقہہ لگایا۔”مذاق کر رہا تھا پگلی ۔ان ملائم ہاتھوں سے بھی چوٹ لگ سکتی ہے بھلا ۔“اس نے تناوش کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لیا ۔
”تو ڈرایا کیوں ؟“اس نے منھ بسورا۔”اور خبردار اگر دوسری شادی کا نام لیا ،سچ میں کچھ کھا کر جان دے دوں گی پھر روتے رہنا ۔“
”یار ہر وقت دھمکیاں دینا اچھا تو نہیں ہوتا ۔“
”اس کے علاوہ آپ سدھرتے بھی نہیں ہیں نا ۔“مسکراتے ہوئے وہ اٹھی ۔”اچھا میں نماز پڑھ لوں ۔اور یاد ہے نا آپ نے بھی وعدہ کیا تھا ۔“
”وہ اس صورت میں کہ تم تین دن حیدر آباد گزارو گی ۔“
”اچھا یہ بات ہے ۔“وہ تیکھے لہجے میں بولی ۔”ٹھیک ہے میں بہرام بھیا کو کہہ دیتی ہوں مجھے امی کے گھر چھوڑ دے ۔چار دنوں بعد لوٹ آﺅں گی ۔“
”جاﺅ ….“کبیردادا نے بے پروائی سے کہا ۔”اگر واپسی پر تمھیں زندہ ملا تو ضرور شرط پوری کروں گا ۔“
”یوں مرنے کا ذکر کر کے مجھے تکلیف دیتے ہوئے مزہ آتا ہے شاید ۔“ناراضی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ غسل خانے میں گھس گئی ۔
٭٭٭
کبیر دادا کی خواب گاہ سے نکل کر پاشا پارکنگ کی طرف بڑھا ۔اپنے محافظوں کو اس نے کال کر کے تیار ہونے کا بتا دیا تھا ۔ملازموں کے کوارٹر کے سامنے اسے باقر اور رخسار پریشان بیٹھے نظر آئے ۔پاشا کو دیکھتے ہی وہ اس کی طرف بڑھے ۔
رخسار نے کہا ۔”دادا ،ہم آپ کے پاس ہی آنے والے تھے ۔“
”کیوں خیریت ؟“اس نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”دادا ،ہم بے خبری میں مار کھا گئے ۔انھوں نے پولیس کی وردیوں میں قریب آکر ایک دم ہی ہمارے سروں پر رائفلیں تان لی تھیں ۔“
”چلو ٹھیک ہے ،جو ہوا سو ہوا ۔اب پریشانی کیا ہے ؟“
”کبیردادا ،تو یہ نہیں کہیں گے کہ جو ہوا سو ہوا ….انھوں نے تو رخصت کرتے وقت ہمیں ہوشیار رہنے کی خصوصی تاکید کی تھی ۔اور اب یقینا وہ ہماری چمڑی ادھیڑ دیں گے ۔پلیز دادا ہماری سفارش کر دیں ۔“دونوں کی شکل رونے والی ہوگئی تھی ۔
”یار،ابھی تو میں جا رہا ہوں شہاب قصوری کی کوٹھی میں وہاں شمشیر دادا کی لاش کا کچھ بندوبست کرنا ہوگا ۔میری واپسی تک کبیردادا سو جائیں گے ۔البتہ کل ان سے ضرور بات کر لوں گا۔“
”اگر اس سے پہلے انھوں نے ہمیں طلب کر لیا تو ۔“باقر نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
اچانک ایک خیال آنے پر پاشا مسکراتے ہوئے بولا ۔”اچھا ایک حل ہے ،تمھیں تھوڑی سی ہمت کرنا پڑے گی ۔اس کے بعد یقین مانوباز پرس تو چھوڑو کبیر دادا اس واقعے کا ذکربھی تم دونوں کے سامنے نہیں کرے گا ۔“
”آپ حل بتائیں دادا ،ہمت ہم میں بہت ہے ۔“دونوں حل جاننے کے لیے بے تاب نظر آنے لگے ۔
”ایسا کرو گڑیا کو جا کر اپنی پریشانی بتا دو ، پھر وہ جانے اور کبیر دادا ۔تم دونوں کو کوئی افف تک نہیں کرے گا ۔“
”گڑیا ؟“وہ بیک زبان سوالیہ لہجے میں بولے ۔
”یار بیگم صاحبہ کی بات کر رہا ہوں ۔“پاشا نے وضاحت کی ۔
”ان سے کیسے بات ہو سکے گی اس وقت ۔“رخسار نے حیرانی سے پوچھا ۔”خواب گاہ کے دروازے پر دستک دینے سے تو رہے ۔“
”اس نے عشاءکی نماز اب تک نہیں پڑھی ۔اور وہ نماز خواب گاہ کے ساتھ والے کمرے میں پڑھتی ہے ۔شاید اب تک وضو کر کے نکل آئی ہو یا تھوڑی دیر تک نکلے گی ،تم بس ڈرائینگ روم میں اس کا انتظار کرنا ۔“یہ کہتے ہی پاشا نے کار آگے بڑھا دی ۔اس کے محافظوں کی جیپ اس کے پیچھے چل پڑی تھی ۔
”کیا کریں ؟“پاشا کے جاتے ہی باقر نے پوچھا ۔
”کوشش کرتے ہیں ۔“رخسار نے ہمت کر تے ہوئے ڈرائینگ روم کی طرف قدم بڑھا دیے ۔باقر بھی دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے ساتھ ہو لیا تھا ۔
وہ ڈرے ڈرے خواب گاہ کے باہر کھڑے ہو گئے ۔انھیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ پندرہ بیس منٹ بعد ہی تناوش سر پر دوپٹا لپیٹے کمرے سے باہر نکلی ۔اس کا تازہ دھلا چہرہ ظاہر کر رہا تھا کہ وہ وضو کر کے آرہی ہے ۔ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے اچانک اس کی نظر ان دونوں کی جانب اٹھیں ۔ایک دم رکتے ہوئے وہ ان کی طرف متوجہ ہوئی ۔
”ارے ،آپ لوگ آگئے ۔ٹھیک تو ہو نا ،کوئی چوٹ وغیرہ تو نہیں لگی ۔“
”ہم بالکل ٹھیک ہیں باجی صاحبہ ….مم میرا مطلب ہے بیگم صاحبہ۔“باقر جلدی میں بیگم کی جگہ باجی کہہ گیا تھا ۔
تناوش کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”آپ مجھے باجی کہا کرو ،اچھا لگتا ہے ۔“
باقر نے کہا ۔”شکریہ باجی ۔“
”اچھا ،آپ لوگ آرام کرو ،میں نماز پڑھنے لگی ہوں ۔“وہ کمرے کی طرف مڑی ۔
رخسار نے جلدی سے کہا ۔”باجی ،ہم آپ کا انتظار کر رہے تھے ۔“
”کیوں خیریت ۔“وہ حیرانی سے ان کی طرف مڑی ۔
رخسار نے کہا ۔”باجی ،آپ جانتی ہیں ہم بے قصور ہیں انھوں نے ایک دم ہی ہمارے سروں پر ہتھیار تان لیے تھے ۔ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔“
”بالکل ۔“تناوش نے اثبات میں سر ہلایا۔
رخسار نے رونی صورت بنا کر کہا ۔”باجی ،یہ بات کبیر دادا کو کون سمجھائے گا وہ تو اسے ہماری غفلت سمجھتے ہوئے ہماری چمڑی ادھیڑ دیں گے ۔“
تناوش کے نقرئی قہقہے نے ان کے دلوں کی ڈھارس بندھائی ۔وہ خوش کن لہجے میں بولی ۔”ارے اتنی چھوٹی سی بات پر پریشان ہیں آپ دونوں ۔جائیں کبیر آپ سے اس واقعے کا ذکر بھی نہیں کریں گے ۔ یہ تو میرا اور میرے بھائیوں کا معاملہ تھا ۔“
اطمینان کا گہرا سانس لیتے ہوئے وہ بیک زبان بولے ۔”شکریہ باجی ۔“
”شادی کی ہے آپ لوگوں نے ؟“
”جی باجی ۔“انھوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اچھا ایسا کرو ،عظیم کے پاس چلے جاﺅاور اسے میری طرف سے کہوکہ آپ دونوں کو بیس بیس ہزار روپے دے دے ۔ان پیسوں سے آپ دونوں نے اپنی بیگمات کو شاپنگ کرانا ہے۔“
”جی باجی ،شکریہ باجی ۔“وہ خوشی سے کھل اٹھے تھے ۔
تناوش مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہو گئی ۔وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے اپنی رہائش گاہ کی طرف بڑھ گئے ۔
”ویسے اللہ پاک نے جیسی صورت دی ہے اس سے زیادہ اخلاق دیے ہیں ۔“باقر متاثر کن لہجے میں بولا۔”ہمیں بھائی اور آپ کہہ کر مخاطب کر رہی تھی ۔“
رخسار بولا ۔”امید نہیں تھی کہ یہ مسئلہ اتنی آسانی سے حل ہو جائے گا ۔اور بجائے پٹائی کے انعام ملے گا ۔“
”شکر ہے پاشا دادا کی بات مان لی تھی ۔“باقر نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔ اس وقت وہ دونوں ملازموں کے کوارٹرز کے قریب پہنچ گئے تھے ۔عظیم کے کمرے میں روشنی جلتے دیکھ کر وہ دروازہ کھٹکھٹا کر اندر گھس گئے۔وہ اس وقت ٹی وی پر کوئی انگلش فلم دیکھ رہا تھا ۔
”آئیں جناب ۔“انھیں دیکھتے ہی وہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔”سنا ہے کافی کارنامے سر انجام دیے ہیں تم دونوں نے ۔“
”اس میں شک ہی کیا ہے عظیم صاحب۔“باقر نے فخریہ انداز میں سینہ چوڑا کیا ۔
”یہ تو صبح کبیر دادا بتائیں گے کہ اس کارنامے پر کتنا انعام دینا بنتا ہے ۔“
رخسار نے کہا ۔”کبیر دادا کا تو کچھ نہیں کہہ سکتے البتہ باجی نے بتا دیا کہ آپ سے بیس بیس ہزار روپے لے لیں ۔“
”باجی ،کون باجی اور کوئی باجی میرا کیسے بتا سکتی ہے ؟“عظیم حیران رہ گیا تھا ۔
باقر نے جواب دیا ۔”باجی ہیں ،مسز کبیر دادا۔اور اب آپ نے تصدیق کرنا ہے تو جائیں کر لیں ،ہم ابھی ان سے مل کر آرہے ہیں ۔“
”سچ کہہ رہے ہو ۔“عظیم اب تک حیران تھا ۔
رخسار نے پوچھا ۔”کیا ایسا جھوٹ ہم بول سکتے ہیں ۔باقی آپ بے شک تصدیق کر سکتے ہیں ۔“
”تصدیق کیسی جی ،اس باجی کی وجہ سے تو آج شمشیر دادا جیسے گینگسٹر کی گردن سلامت نہ رہی ۔تصدیق کر کے میں نے کبیردادا کا تھپڑ کھانا ہے ۔“عظیم کو تناوش کی وجہ سے کبیر دادا کا لگنے والا تھپڑ اب تک بھولا نہیں تھا ۔تکیے کے نیچے سے چابی نکال کر وہ لوہے کے سیف کی جاب بڑھ گیا جس میں ضرورت کے لیے چند لاکھ کی ہر رقم ہر وقت موجود رہتی تھی ۔
٭٭٭
اگلے تین چار دن اس نے کبیردادا کو بستر سے اٹھنے نہیں دیا تھا ۔گو کبیر دادا دوسرے دن ہی خود کو تندرست سمجھنے لگا تھا ۔یوں بھی مار کٹائی اس کے لیے نئی بات نہیں تھی ۔مگر تناوش کا حکم ٹالنا بھی اس کے بس سے باہر تھا ۔وہ بھی صبح سویر ے نماز کے بعد نئے کپڑے پہن کر مکمل میک اپ کرتی اور سارا دن کبیر دادا کی خدمت میں لگی رہتی ۔ایسی تیماردار کے ہوتے کس کم بخت کادل بستر چھوڑنے کو کرتا ۔ایک رات وہ اس کی کہانی سننے پر مصر ہوئی ۔
”آپ نے کہا تھا کہ آپ حافظ ہیں ،مجھے اپنے بارے بتائیں نا کبیر….“
”زخم کریدنے سے تکلیف ہی ملتی ہے گڑیا ۔“کبیردادا دکھی ہو گیا تھا ۔
”میں ہوں نا آپ کے تمام زخموں کا مرہم ۔“وہ لاڈ سے بولی ۔”کیا نہیں ہوں ۔“
کبیردادا اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہیں سوچوں میں گم ہو گیا تھا ۔چند لمحے گہری سوچ میں کھوئے رہنے کے بعد وہ دھیمی آواز میں بولا ۔”ابوجان کا نام مولوی عمرعلی خان تھا ۔وہ امام مسجد تھے اور مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ بھی بنا رکھا تھا جہاں بچوں کو حفظ کرانے کے ساتھ عالم کا مختصر کورس بھی کراتے تھے ۔ابوجان کے ساتھ مدرسے میں دو اور استاد بھی تھے ۔میں پانچ سال کا تھا جب ابوجان نے مجھے اسکول میں داخل کرایا اور اس کے ساتھ میرا نورانی قاعدہ بھی شروع کرادیا ۔صبح کی نماز میں وہ مجھے ساتھ لے جاتے اور پھر اسکول کا وقت ہوتے ہی میں وہیں سے اسکول چلا جاتا ۔مجھ سے تین سال بڑی بہن اسماءمیرا ناشتا مدرسے ہی لے آیا کرتی تھی ۔ آٹھویں کلاس میں تھا جب میں نے قرآن مجید حفظ کر لیا ۔اس دن ابوجان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ امی جان نے پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی ۔ باجی اسماءکی خوشی بھی دیدنی تھی۔ بہت پیار کرتی تھیں وہ مجھ سے ۔ہم دونوں سے چھوٹی رقیہ گڑیا تھی ۔وہ مجھ سے چھے سال چھوٹی تھی۔ قران مجید کی دہرائی کے بعد ابو جان نے مجھے صرف و نحو پڑھانا شروع کردیا ۔وہ مجھے عالم بنانا چاہتے تھے ۔شاید ان کے خوابوں کی تکمیل ہوجاتی کیوں کہ مجھے بھی دینی تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا ۔مگر ابوجان کی خواہش ،امی جان اور باجی کی دعاﺅں اور میری کوشش کے باوجود ایسا نہ ہوسکا ۔ہمارے گھرانے کو پتانہیں کس کی نظر لگ گئی تھی ۔تبھی تو ابوجان نے وہ واقعہ ہوتے دیکھا تھا۔ وہ دن دھاڑے ہونے والے قتل کی ایک واردات تھی ۔ابو جان گھر سے مدرسے آرہے تھے۔ ان کے علاوہ بھی درجنوں افراد نے وہ منظر دیکھا تھا ۔قاتل ایک نامی گرامی بدمعاش تھا تو مقتول اچھے خاصے متمول خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔مقتول کے خاندان والوں کی کوشش سے وہ بدمعاش گرفتار تو ہو گیا، مگر اس کے ڈر سے کوئی عینی شاہد گواہی دینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔مقتول کے خاندان والوں کو ابوجان کے بارے سن گن ملی اوراس کے ورثا ءابوجان سے ملنے مدرسے میں پہنچ گئے ۔ابو جان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے گواہی دینے پر آمادہ ہو گئے تھے ۔اوروہی ہماری بد بختی کی شروعات تھی ۔میں شام کی نماز پڑھ کر مدرسے میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ ابو جان شام کی نماز پڑھ کر گھر تشریف لے جاتے اور کھانا وغیرہ کھا کر عشاءکی نماز کو لوٹتے ۔ میری روز مرہ عشاءکی نماز پڑھ کر کھانا کھانے کی تھی ۔امی جان اور اسماءباجی میرے انتظار میں بیٹھی ہوتیں ۔امی جان ہمیشہ مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی تھیں ۔جس دن ابوجان نے عدالت جا کر گواہی دی اس سے اگلے دن مغرب کی نماز کے تھوڑی دیر بعد چند غنڈے ہمارے گھر پہنچ گئے۔ان کی تعداد پانچ تھی ۔انھوں نے جاتے ہی امی جان ،ابوجان اور رقیہ گڑیا کے سامنے اسماءباجی کی عزت خراب کی اور پھر خنجر سے تمام گھر والوں کو قتل کرکے گھر کو آگ لگا دی ۔کوئی محلے والا ، کوئی راہگیر انھیں بچانے کی جرّات نہ کر سکا ۔اس دن بھی میں نے عشاءکی آذان دی جو عموماََ میں ہی دیا کرتاتھا، کیوں کہ ابوجان میری آذان کو بہت پسند فرمایا کرتے تھے ۔اس دن جانے کیوں میں نے بہت محبت ، محنت اور تجوید وقرات کے تمام اصولوں کی رعایت رکھتے ہوئے آذان دی تھی ۔ ایک ایسی آذان جس کی نماز ادا کرنے کی سعادت سے میں محروم رہ گیا تھا اور اس کے بعد میں کبھی نماز نہ پڑھ سکا ،کبھی آذان نہ دے سکا اور کبھی تلاوت نہ کر سکا ۔میںاس دن جیسے ہی آذان دے کر اسپیکر کے سامنے سے ہٹا اسی وقت ایک جاننے والا وہاں پہنچ گیا ۔اس نے مجھے میرے گھر میں بیتنے والی قیامت سے آگاہ کیا ۔میں دیوانگی کے عالم میں بھاگتا ہوا گھر پہنچا۔ آگ نے پورے گھر کو لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔شاید میں اسی دیوانگی میں آگ کے اندر گھس جاتا ، مگر لوگوں نے مجھے پکڑ لیا ۔میں خالی ذہن تمام کی باتیں سنتا رہا ۔اپنے پیاروں کی صورت دیکھنا مجھے نصیب نہیں ہوا تھا ۔نہ ابو جان کی نورانی شکل نظر آئی ،نہ امی جان کی شفیق صورت ،نہ اسماءبہن کی مقدس شکل اور نہ رقیہ کی معصوم صورت تمام جل کر کوئلہ ہو گئے تھے ۔“کبیردادا کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں سے بے اختیار پانی بہنے لگا ۔تناوش تڑپ کر آگے بڑھی اور اس کے اشکوں کو اپنے لبوں سے چننے لگی۔
”میں ہوں نا کبیر ،میں آپ کے پاس ہوں نا ۔میری طرف دیکھیں، روتے کیوں ہیں ،بس مجھے نہیں سننا آپ کی کہانی ،آپ روتے کیوں ہیں ؟“وہ وارفتگی سے اسے تسلی دیتی رہی۔ لیکن اس کی اپنی آنکھوںسے بھی پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔اپنے کبیر کے غم نے اسے بھی رلا دیا تھا۔ چند گہرے سانس لے کر کبیر دادا نے اپنی حالت سنبھالی اور پھر اس کی بات جاری رہی ۔
”گھر والوں کی لاشیں دیکھنے کے بعد میں وہاں رکا نہیں تھا بلکہ اس غنڈے صغیر عرف خنجر شاہ کی تلاش میں بھاگ پڑا ۔مجھے اس کا ٹھکانہ وغیرہ معلوم نہیں تھا لیکن عقل نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا تھا ۔بس بے فائدہ بھاگ رہا تھا ۔اسی طرح بھاگتے ہوئے سڑک عبور کرنے کی کوشش میں ایک کار سے ٹکرا گیا ۔اور وہ کار شمشیر دادا کی تھی ۔مجھے اتنی زیادہ چوٹیں نہیں آئی تھیں لیکن حواس گم کر بیٹھا تھا ۔اور اس حالت میںبھی میں خنجر شاہ کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ شمشیر دادا کو میری حالت پر حیرانی ہوئی اور وہ مجھے اپنے ٹھکانے پر لے آیا ۔دو دن ا نھوںنے مجھے نیند کی گولیاں دے کر سلائے رکھا ۔جاگنے پر میرے حواس کام کر رہے تھے ۔شمشیر دادا نے میری کہانی سن کر مجھے تسلی دی اور ساتھ ہی کہا کہ خنجر شاہ کو مارنے کے لیے مجھے اس قابل بننا پڑے گا کہ اسے ہلاک کر سکوں ورنہ تو وہ ایک تھپڑ سے مجھے والدین کے پاس پہنچا دے گا ۔اور اس دن کے بعد میں شمشیر دادا کا ہو کر رہ گیا ۔ اس نے مجھے سخت تربیت دی ۔دو تین سال کے اندر گینگ میں سوائے شمشیر دادا کے کوئی میرے سامنے ٹک نہیں پاتا تھا ۔وہیں میری ملاقات کاشف راجپوت سے بھی ہوئی ۔وہ یتیم خانے سے بھاگ کر شمشیر دادا کے گینگ میں شامل ہوا تھا ۔اور پھر ایک دن مجھے شمشیر دادا نے اپنا انتقام لینے کی اجازت دے دی ۔خنجر شاہ جو ابو جان کے مرنے کے بعد بڑی آسانی سے چھوٹ گیا تھا ۔میں اس کے اڈے پر پہنچ گیا اور اس کے ہاتھ پاﺅں کی ہڈیاں توڑ کر میں نے اسے زندہ جلا دیا تھا ۔اور اسی سے معلوم کر کے اس کے ان پانچوں آدمیوں کو جو میرے گھرپر ہونے والے حملے میں ملوث تھے ان کا بھی وہی حشر کیا ،جو اُن کے گرو خنجر شاہ کا کیا تھا ۔اور اس کے بعد میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔کسی کو قتل کرنا میرے لیے ایسا ہی تھا جیسا مرغی فروش کے لیے مرغی ذبح کرنا ۔میں حافظ عبدالکبیر علی خان سے کبیر دادا بن گیا ۔“کبیردادانے رک کر گہرا سانس لیتے ہوئے اپنی جانب محبت پاش نظروں سے دیکھتی ہوئی تناوش کو دیکھا ۔اس کے دکھی چہرے پر سکون بھرا تبسم ابھرا ،تناوش کے کندھوں کے پیچھے سے اپنا بازو لپیٹتے ہوئے اس نے اپنے قریب کیا ۔ایک ہاتھ اس کی گھنے ریشمی بالوں میں گھسایا اور اپنی بات آگے بڑھائی ۔ ”اور پھر میری زندگی میں ایک پری ،ایک اپسرا ،ایک گڑیا ،ایک پاکیزہ روح کی آمد ہوئی ۔شاید میرے سارے زخموں پر مرہم رکھنے لیے ،میرے ساتھ ہونے والی ساری زیادتیوں کا ازالہ کرنے لیے ، مجھ سے چھینی گئی نعمتوں کے بدل کے طور پر،میری روکھی پھیکی زندگی کو رونق دینے کے لیے ۔میری ننھی دلھن میری تناوش آگئی ۔“
”میں نے آپ کے زخموں کو کرید کر آپ کو اذیت دی ہے نا ؟“وہ دکھی نظروں سے اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی ۔
”اگر کوئی دوسرا یہ سوال کرتا تو میرا جواب ہاں میں ہوتا ۔“
”اور میرے پوچھنے پر کیا جواب ہو گا ۔“
”کہہ تو دیا ہے تمھیں پا کر میرے سارے دکھوں کا ازالہ ہو گیا ہے ۔“
”میرے لیے آپ کے دکھ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کبیر ،یہ وقت مجھ پر بھی بیت چکا ہے ۔بھیا کے بے گناہ قتل پر میری بھی یہی حالت ہوئی تھی ۔اور ان کے قتل کا دکھ اور غم ساری زندگی مجھے بے چین و بے قرار رکھتا ،مگر پھر اللہ پاک نے میری جھولی میں آپ کو ڈال دیا ۔“
”پتا ہے گڑیا ،مجھے لگتا ہے میں بہت عرصے سے تمھیں جانتا ہوں ۔شاید اس وقت سے جب میں چھوٹا سا بچہ تھا ۔“
”جی ….جی ،اس وقت میں پیدا بھی نہیں ہوئی تھی ۔باقی چھوٹے سے بچے تو آپ اب بھی ہیں ۔“
اس کے انداز پر کبیر دادا مسکرا دیا ۔
”ایک بات مانیں گے ؟“اس نے ملتجی نظروں سے اسے گھورا ۔
”اگر بس میں ہوئی تو ضرور مانوں گا ۔“
”آپ نے عشاءکی آذان دی تھی اور اس کی نماز نہیں پڑھی تھی ۔اٹھیں اور اس دن جو نماز رہ گئی تھی اسے آج پورا کریں ۔“
”تناوش ……..“اس نے انکار میں سرہلانا چاہا۔
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی ۔”کبیر آپ کہتے ہیں نا ،مجھے آپ کی قسمت میں لکھ کر اللہ پاک نے آپ کے سارے دکھوں کا ازالہ کر دیا ہے ۔“
”ہاں ۔“
”تو اٹھیں پھر ،جب اللہ پاک نے آپ کے دکھوں کا مداوا کر دیا ہے پھر ناراضی کیسی ، اب تو آپ بھی اس کی بارگاہ میں سر جھکا کر اپنی کمیوں اور کمزوریوں کا اعتراف کر لیں ۔وہ بہت جلدی معاف کر دیتا ہے ۔اتنی جلدی کہ ندامت کا آنسو آنکھ سے نکل کر زمین نہیں چھو پاتا اس سے پہلے وہ فرما دیتا ہے اے میرے بندے میں نے معاف کر دیا ۔“
کبیردادا کی آنکھوں میں جوار بھاٹا اٹھا اور وہ گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگا ۔تناوش اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی محبت بھرے انداز میں کہتی رہی ۔”بس اتنی سی تو بات تھی ۔معاف کر دیا نامیرے اللہ نے ۔اب اٹھیں نماز پڑھتے ہیں ۔پھر میں آپ کی قرا¿ت سنوں گی ۔“
تھوڑی دیر بعد کبیردادابرسوں پہلے ٹوٹ جانے والے تعلق کی ڈوری کا سرا تھامے اپنے اللہ پاک کے سامنے سر بہ سجود تھا ۔تناوش نے اس کے وضو کے لیے جاتے ہی دیواروں پر لگی شیر کی تصاویر اتار کر الٹی لٹا دی تھیں ۔تاکہ وہاں اطمینان سے نماز ادا کی جا سکے ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *