Rakhail by Riaz Aqib Kohler NovelR50760 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29
No Download Link
503.3K
53
Rate this Novel
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode01 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode02 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode04 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode05 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode10 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode13 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode14 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode15 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode16 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode17 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode18 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode20 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode21 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode22 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode24 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode25 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode27 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode28 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29 (Watching)Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode30 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode32 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode34 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode35 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode36 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode37 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode38 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode40 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode43 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode44 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode45 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode46 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode47 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode48 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode50 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode51 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode52 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29
تناوش منھ ٹیڑھا کر کے بولی ۔”ایک جھوٹی تسلی نہیں دے سکتی اور کہتی ہیں ماں نہیں سہیلی ہوں ۔“
بشریٰ ہنسی ۔”جھوٹ کا فائدہ ۔“
”بس مجھے اچھا نہیں لگتا کہ کوئی ان کے خلاف بات کرے ۔“
”اچھا اب آگئی ہو تو چاے ہی لے آﺅ ۔“
تناوش سر ہلاتی ہوئی باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی ۔
ماں کے لیے چاے بنا کر وہ گھر کے کام کرنے لگی ۔بشریٰ سو گئی تھی ۔گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر اس نے سونے کی کوشش کی مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی لیٹتے ہی کبیردادا کا وجیہہ چہرہ آنکھوں کے سامنے نمودار ہوا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھا گئی ۔
”کبھی تو مان لو گے کہ میں آپ کو اچھی لگتی ہوں ۔“وہ خیالوں ہی خیالوں میں اس سے وہ باتیں کرنے لگی جو ابھی تک سامنے نہیں کر پائی تھی ۔رات کے کھانے پر اس نے ایک دو نوالوں کے بعدہاتھ کھینچ لیا ۔
بشریٰ نے پوچھا ۔”کیا ہوا ؟“
”جی نہیں چاہ رہا ماں جی !“
بشریٰ معنی خیزلیجے میں بولی ۔”اس نے تو ڈٹ کر کھا لیا ہو گا ۔“
”تو ۔“وہ چڑتے ہوئے بولی ۔
”میری بلا سے ۔“ناک بھوں چڑھاتے ہوئے بشریٰ کھانا کھاتی رہی ۔اس کی طبیعت اب بہتر تھی ۔
عشاءکی نماز پڑھ کر وہ سونے کے لیے لیٹ گئی۔اپنی اور ماں کی چارپائی اس نے صحن ہی میں لگا لی تھی ۔
”ماں جی ،کیا مرد کبھی محبت کا اعتراف کرتے ہیں ۔“
بشریٰ ہنسی ۔”ہاں ،جنھیں کسی سے محبت ہو جائے وہ ایک منٹ نہیں لگاتے ۔یہ تو ہے ہی مردوں کا شعبہ ،عورت بے چاری تو بس شرما کر چہرہ جھکا لیتی ہے اور اس کا اظہار محبت ہو جاتا ہے ۔“
”تو وہ کیوں اپنی محبت چھپاتے ہیں ۔“
”اسے محبت ہو گی تو اظہار کرے گا نا ۔“بشریٰ نے اسے چھیڑا ۔”ضروری تو نہیں کہ ہر خوب صورت لڑکی سے محبت ہو جایا کرے ۔“
”وہ بس اپنی محبت چھپاتے ہیں ،ورنہ میری ہر بات مانتے ہیں ۔بس تھوڑا سا بیزاری کا اظہار کرتے ہیں ۔“
”صاف ظاہر ہے وہ تم سے جان چھڑانا چاہتاہے ۔“
”آپ سے بات کرنا ہی فضول ہے ۔“اس نے خفا ہو کر ماں کی جانب پیٹھ موڑ لی ۔
بشریٰ ہنسی ۔”خفا کیوں ہو رہی ہو ۔“
”آپ بس مجھے تنگ کر رہی ہیں ۔“
بشریٰ نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا ۔”شاید اس نے کبھی کسی سے محبت نہیں کی، اس وجہ سے اسے معلوم ہی نہیں کہ محبت کیسے کی جاتی ہے ۔“
”ہاں نا ں ،یہی بات ہے ماں جی ۔“اس نے فوراََ ماں کی جانب رخ پھیرا ۔
”تو تم کس کالج میں محبت کی کلاسیں حاصل کرتی رہی ہو ۔“
”کک…. کیا مطلب ؟“وہ ہکلائی ۔
”بالشت بھر کی ہو اور تمھیں محبتوں کے بارے خوب معلوم ہے ،وہ تم سے دگنی عمر کا بھی ہو کر کچھ نہیں جانتا ….بڑی آئی محبت پڑھانے والی پروفیسر۔“بشریٰ نے اسے لتاڑا ۔
”سو جائیں ماں جی ،مجھے نیند آرہی ہے ۔“ وہ منھ بسورے لیٹ گئی ۔
بشریٰ کھل کھلا کر ہنسی ۔”سچ سننا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا ۔“
وہ چلائی ۔”ابھی آپ سے ملنے نہیں آﺅں گی ،سمجھیں آپ۔“
”ارے میری شہزادی خفا ہو گئی ۔“بشریٰ نے اسے پچکارا ۔
”نہیں ہوں میں شہزادی ….اگر خوب صورت ہوتی تو وہ یہ نہ کہتے کہ دو تین دن گھر پر گزار لو ….انھیں ذرا بھی تو محبت نہیں ہے مجھ سے ۔“
”ارے ایسا کچھ نہیں ہے ،میں مذاق کر رہی تھی ۔“بشریٰ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”یہ کہاں ممکن ہے کہ میری شہزادی کسی کو پیاری نہ لگے ۔“
”آپ بس مجھے جھوٹی تسلی دے رہی ہیں ۔“
”اچھا ،اگر آج رات اس کی کال آگئی بے شک کچھ بھی کہے یا پوچھے ،تب تو سمجھ لینا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے اور تمھیں یاد کر رہا ہے ۔دوسری صورت میں تمھاری سمجھ میں آجانا چاہیے کہ دیوار سے سر پھوڑ رہی ہو ۔“
اس نے فوراََتکیے کے نیچے رکھا موبائل فون اٹھا کر اپنی چھاتی پر رکھ لیا ۔اس کے ساتھ ہی وہ اس کی کال آنے کی دعائیں کرنے لگی گویا کبیر دادا کی کال نہ ہو محبت کرنے نہ کرنے کا فیصلہ ہو ۔
بشریٰ کو نیند آنے لگی تھی ، وہ سو گئی ۔مگر تناوش کال کے انتظار میں جاگتی رہی ۔ایک دو بار خود اس کا جی چاہا کہ کبیر دادا کو کال کر لے مگر پھر اس کے دل کا حال جاننے کی تمنا میں وہ کال نہ کر سکی ۔گاہے گاہے وہ موبائل کی سکرین جلا کر وقت بھی دیکھ لیتی ۔ہندسوں نے پونے دو ہونے کا اعلان کیا ۔ایک دم اس کا دل رونے کو کرنے لگا ۔اور اس پہلے کہ وہ باقاعدہ رونے کا آغاز کرتی اچانک اسے گلی میں کسی کار کی آواز سنائی دی ۔
”کاش یہ اس کی کار ہوتی ۔“اس کے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی ۔اچانک کار اس کے گھر کے سامنے رکی گئی ۔تناوش کا دل یوں دھڑکنے لگا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا ۔اسی وقت گلی میں کتوں کے بھونکنے کی زوردار آواز بلند ہوئی ۔بشریٰ کی آنکھ بھی کھل گئی تھی ۔وہ نیند میں ڈوبی آواز میں پوچھنے لگی ۔”یہ کم بخت اتنا زیادہ کیوں بھونک رہے ہیں ۔“
”امی جان !کوئی کار دروازے پر آ کر رکی ہے ۔اور مجھے شک ہے آپ کے داماد جی آئے ہیں ۔“
بشریٰ نے منھ بنایا۔”لوگ سوتے ہوئے خواب دیکھتے ہیں ،تم نے جاگتے ہوئے یہی کام کرنا شروع کر دیا ۔“
اس سے پہلے کہ وہ ماں کی بات کا جواب دیتی ، موبائل فون بجنے لگا تھا۔سکرین پر کبیردادا کانام جگمگا رہا تھا ۔فوراََ کال وصول کرنے کا بٹن دبا کر اس نے خوشی سے بھرپور لہجے میں کہا ۔”جی ۔“اس کے ساتھ ہی ایک ہاتھ سے دوپٹا اپنے سر پر ٹھیک کرتی ہوئی وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔
٭٭٭
شام کی آذان کے وقت کبیردادا گھر کی طرف لوٹ رہا تھا ۔
”میں شرط لگا سکتا ہوں کہ آج نمازن پھر کہیں گئی تھی ۔“امتیاز نے ساتھ بیٹھے بخش کو للکارا۔
”مہربانی ۔“بخش نے منھ بناتے ہوئے انکار میں سر ہلایا اور امتیاز قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ ڈرائیور نے اس کا ساتھ دیا ۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی کھوجتی نگاہیں ڈرائینگ روم کے دروازے کی طرف اٹھ گئیں ۔آج چوکھٹ پھر خالی تھی ۔لیکن گزشتا کل اسے کم از کم یہ امید تو تھی وہ خواب گاہ میں موجود ہو گی آج تو یہ سہارا بھی چھن گیا تھا ۔صبح ناشتے کے بعد سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا اس کے باوجود اسے بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔
پر تعیش سجی سجائی خواب گاہ اسے کاٹ کھانے کو دوڑی تھی ۔صوفے پر بیٹھ کر اس نے ٹائی کی گرہ ڈھیلی کی ۔محبت بھرے انداز میں یہ کام کرنے والی اپنی گھر میں بیٹھی تھی ۔
ٹائی اتار کر وہ بوٹو ں کے تسمے کھولنے جھکا ۔
”صبر کرو نا میں کھولتی ہوں ۔“اسے لگا وہ سامنے بیٹھی اسے ڈانٹ رہی ہے ۔بوٹ اتار کر وہ کافی دیر صوفے سے ٹیک لگائے خاموش بیٹھا رہا ۔اسی دوران دستک دے کر راحت خالہ اندر داخل ہوئی ۔
”صاحب جی کھانا لگاﺅں ۔“
”نہیں تھوڑی دیر بعد کھاﺅں گا ۔“وہ سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی ۔کبیردادا بھی تھکے تھکے انداز میں کھڑا ہو گیا ۔قمیص کے بٹن کھولتے ہوئے اس کے دماغ میں دوبارہ ایک منظر ابھراجب تناوش کے بٹن کھولنے پر اس نے کہا تھا ۔”یہ بٹن میں ڈریسنگ روم میں جاکر بھی کھول سکتا ہوں ۔“
”ہاں ،مگر اس پر وقت صرف ہوگا ۔اور جب میرے جیسی پیاری بیوی موجود ہو تو آپ کو یہ سب کرنے کیا ضرورت ہے ۔“
”آجاﺅ نا وقت تو میرا اب بھی ضائع ہو رہا ہے ۔“وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑا کر رہ گیا تھا ۔
سوٹ اتار کر اس نے نیچے قالین ہی پر پھینک دیا تھا ۔”خود ہی اٹھاﺅ گی ۔“اس کے دماغ میں ناراضی بھری سوچ ابھری اور وہ ٹریک سوٹ نکال کر پہننے لگا ۔تناوش کی آمد کے بعد سے وہ ایک مرتبہ بھی ورزش نہیں کر سکا تھا حالانکہ ہفتے میں دو دن سخت قسم کی مشقیں کیا کرتا تھا ۔اس مقصد کے لیے اس نے گھر کا ایک کمرہ بہ طور جمنازیم مختص کر رکھا تھا ۔جہاں ،ورزش مشینیں اور ڈمبل ،باربل وغیرہ رکھے تھے ۔
ٹریک سوٹ پہن کر اس نے تناوش کے کپڑوں کی الماری کھولی ۔لمحہ بھر اس کے کپڑوں کو دیکھنے کے بعد وہ باہر نکل آیا ۔تھوڑی دیر بعد وہ پنچنگ بیگ پر مکے برساتے ہوئے پسینہ پسینہ ہو رہا تھا ۔گھنٹا ڈیڑھ جم میں گزار کر وہ باہر نکل آیا ۔پسینہ خشک کر کے اس نے جوس پیا اور غسل خانے میں گھس گیا ۔نہا کر باہر نکلا تو راحت خالہ ایک بار پھر کھانے کا پوچھنے آئی ہوئی تھی۔
”راحت خالہ تم آرام کرو میں باہر جا کر ہی کھا لوں گا ۔“
وہ جی صاحب ۔“کر کے واپس مڑ گئی ۔وہ بھی عظیم کو تیار ہونے کا کہہ کر باہر نکل آیا ۔ خواب گاہ کے اندر اسے بالکل آرام نہیں آرہا تھا ۔
رات بارہ بجے تک وہ یونھی مختلف اڈوں پر جا کر وقت کاٹتا رہا ۔آج باہر بھی وقت نہیں گزر رہا تھا ۔حالانکہ اس سے پہلے ایک دو بجنے کا پتا ہی نہیں چلتا تھا ۔اپنی خواب میں داخل ہو کر وہ ٹی وی دیکھنے لگا ۔صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے اس کی آنکھیں ریک کی جانب اٹھیں اس کے اوپر رکھی بوتل کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر تبسم کھلنے لگا ۔ٹی وی بند کر کے وہ بستر پر لیٹ گیا ۔تیز روشنی بجھا کر اس نے دھیما بلب جلایا اور سونے کی کوشش کرنے لگا ۔دن کو بھی وہ آرام نہیں کر سکا تھا ۔لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔رہ رہ کر اس کی نظریں تناوش کی خالی پڑی جگہ کی طرف اٹھ جاتیں ۔
”اس کے بغیر ایک ہی رات اس طرح گزر رہی ہے ، ہمیشہ کے لیے چلی جائے گی تب کیا ہوگا ؟“ایک روح فرسا خیال اس کے دماغ میں پیدا ہوا ۔
”شاید اس کی اصلیت کھل جانے پرمجھے قرار آجائے ۔“اس نے خود کو تسلی دی ۔
کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد بھی وہ نیند کی دیوی کو منانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا ۔تناوش کی معصوم ادائیں ،ناز نخرے ،پیش قدمی اور جارحیت اسے بے طرح یاد آرہی تھیں ۔سر کے بال ملائم انگلیوں کے لمس کو ترس رہے تھے ۔
”میں اس کا عادی نہیں ہوں ۔“اس نے پہلی بار یہی کہہ کر اس کے ہاتھ کو دور دھکیلا تھا ۔
کتنے بھول پن سے اس نے کہا تھا ۔”تو عادت ڈال لیں نا ۔“ اور اسے معلوم ہی نہیں ہوا کہ کب وہ عادی ہو گیا ۔
جب کافی کوششوں کے بعد بھی نیند نہ آئی تو اچانک اسے خیال آیا کہ کسی اور لڑکی کو بلا کر اسے بھلانے کی کوشش کرے ،مگر دل نے واویلا ہی مچا دیا تھا ۔تناوش کے بغیر اسے کوئی قبول نہیںتھی ۔جب نگی جیسی لڑکی اس کے جذبات ابھارنے میں ناکام رہی تھی تو کوئی اور کیا کارنامہ انجام دیتی ۔
اور پھر اس سے رہا نہ گیا ۔بستر چھوڑ کر اس نے انٹرکام کا رسیور اٹھایا۔اور چوکیدار کو بتانے لگا کہ الٰہی بخش کو کار لگانے کا کہے۔
وہ پوچھنے لگا ۔”محافظوں کو بھی اٹھا دوں دادا۔“
”نہیں ،الٰہی بخش کو کہو کار لگا کر وہ بھی واپس لوٹ جائے ،میں اکیلا ہی جاﺅں گا۔“
اس کی ۔”ٹھیک ہے دادا ۔“سن کر کبیردادا نے رسیور رکھ دیا ۔شب خوابی کا لباس اتار کر اس نے شلوار سوٹ پہنا اور باہر نکل آیا ۔الٰہی بخش کار کے ساتھ ہی کھڑا تھا ۔اسے آتے دیکھ کر اس نے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا اور کبیردادا کے اندر بیٹھتے ہی ادب سے دروازہ بند کر کے پیچھے ہٹ گیا ۔
کار سٹارٹ ہوتے ہی چوکیدار نے سرعت سے دروازہ کھول دیا تھا ۔وہ گھر سے باہر نکل آیا ۔تھوڑی دیر بعد وہ تناوش کی گلی میں موجود تھا ۔کوئی غیر مرئی طاقت جیسے اسے وہاں لے آئی تھی ۔ گھر کے سامنے کار روک کر وہ باہر نکلا گلی میں گھومنے والے ایک دو آوارہ کتے اس کے قریبآکر بھونکنے لگے تھے ۔ان سے بے پروا ہو کر اس نے موبائل فون نکالا اور تناوش کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔وہ ششدر رہ گیا جب پہلی گھنٹی جاتے ہی کال وصول کر لی گئی تھی ۔
”جی ۔“اس کی سریلی آواز نے کبیردادا کے کانوں میں رس انڈیلا ۔
”وہ ….وہ ….ہاں میری بوتل ختم ہو گئی ہے چابی کہاں رکھی ہے میں نے دوسری بوتل نکالنی ہے ۔“گڑبڑاتے ہوئے اس نے بہانہ گھڑا۔
”آپ اس وقت کہاں ہیں ؟“اس نے مدھر ہنسی سے پوچھا ۔
”میں ….میں نے کہاں ہوناہے ، بستر پر لیٹا ہوں ۔“اس نے فوراََ جھوٹ کا سہارا لیا ۔”اگر چابی ساتھ لے گئی ہو تو کسی کو تمھاری طرف بھیج کر منگوا لیتا ہوں ۔“
”اچھا ….آپ بستر پر ہیں ۔“اس کی معنی خیز ہنسی ابھری ۔”ویسے گھر میں کتے کب سے پال لیے ہیں ،سپیکر سے کتوں کے بھونکنے کی آواز آرہی ہے اور یہ آواز مجھے کافی جانی پہچانی لگ رہی ہے یوں جیسے میری گلی کے کتے ہوں ،بلکہ وہ کم بخت اب بھی بھونک رہے ہیں ۔“
”مم….مجھے کیا پتا ۔“کبیردادا منمنایا۔
”پھر کس کو پتا ہوگا ۔“وہ ایک دم دروازہ کھول کر باہر نکلی ۔سولہ سترہ کے چاند کی روشنی میں اس کا موہنا چہرہ دمک رہا تھا ۔موبائل فون کان سے ہٹاتے ہوئے وہ سبک روی سے اس کے قریب پہنچی ۔”تو یہ ہے آپ کی خواب گاہ ۔“
”میں تو بس چابی لینے آیا تھا ۔“کبیردادا نے ایک بار پھر جھوٹ بول کر اپنی بے ساختگی اور بے چینی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ۔
”سچ میں ۔“وہ شوخی سے ہنسی ۔
”ہاں ۔“کبیرداداخفیف ہو گیا تھا ۔کسی انجانی ڈور سے بندھا ہوا وہ وہاں پہنچ تو گیا تھا لیکن اب اسے اقرار کرتے ہوئے خفت محسوس ہو رہی تھی ۔
بشریٰ خاتون دروازے پر نمودار ہوئی ۔
”ماں جی،آپ دروازہ کنڈی کر دیں میں گھر جا رہی ہوں ۔“ماں کویکھتے ہی اس نے حیا آلود لہجے میں کہا ۔
”بیٹا، خیریت تو تھی ۔“بشریٰ نے معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے کبیردادا سے پوچھا۔
”خالہ ،یہ الماری کی چابی ساتھ لے کر آ گئی تھی ،میں ابھی گھر لوٹا تو سوچا چابی لے آﺅں ۔“
”ہاں تو چابی لے جائیں نا ۔“وہ دونوں کو تنگ کرنے کی خواہش میں تھی ۔
”امی جان !“تناوش نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا اور بشریٰ نے ہنستے ہوئے دروازہ بند کر دیا ۔کبیردادا نے اطمینان بھرا گہرا سانس لیا تھا
________
”چلیں بیٹھیں ،اس سے پہلے کہ وہ لوٹ آئیں ۔“تناوش نے شرارتی لہجے میں کہا اور کبیردادا فوراََ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔
”کھانا کھالیا تھا ۔“اس کے کار موڑتے ہی وہ کھسک کر قریب ہوئی اور اس کے کندھے پر سر ٹیک دیا ۔اس کی خوشبو سے کار کی اندرونی فضا مہک اٹھی تھی ۔کبیردادا کھوئے کھوئے لہجے میں بولا ۔”ہاں ….ہاں کھالیا تھا ۔“
ایک لمحہ خاموش رہ کر وہ تیقن سے بولی ۔”میں جانتی ہوں آپ نے نہیں کھایا ۔“
اس نے بے ساختہ پوچھا ۔”تم کیسے کہہ سکتی ہو ؟“
”کیوں کہ مجھ سے بھی نہیں کھایا گیا ۔“وہ اپنی وارفتگی اور چاہت پہلے بھی نہیں چھپاتی تھی اور اب بھی بے باکی سے اظہار کر رہی تھی ۔مشکل تو کبیردادا کو پیش آرہی تھی جس کا رواں رواں اس کا متلاشی ہونے کے باوجود وہ اظہار نہیں کر پا رہا تھا ۔
”نہیں جی ،ایسی کوئی بات نہیں ،تم گھر جا کر راحت خالہ سے پوچھ لینا ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ،لیکن مجھے ابھی کھانا کھانا ہے اور وہ بھی کسی ہوٹل میں ۔“
”اس وقت ۔“اس نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی ،سوئیاں دو کا ہندسہ عبور کر گئی تھیں ۔
وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔”ہاں ابھی اور اسی وقت ۔کسی ہوٹل میں کھانا کھا کر مجھے ساحل سمندر پر لے جانا ،میں چاند کی روشنی میں آپ کے ساتھ گھوموں گی ۔“
”پاگل ہوئی ہو ۔“
”لے جانا ہے کہ نہیں ۔“اس نے لاڈ بھری ناراضی سے پوچھا ۔اور کبیردادا نے افسوس بھرے انداز میں سرہلاتے ہوئے کار ساحل کی جانب موڑ دی وہیں کسی ہوٹل میں وہ اسے کھانا بھی کھلا سکتا تھا ۔رات کے اس وقت بھی سڑکوں پر اچھی خاصی ٹریفک رواں تھی ۔تھوڑی دیر بعد وہ ایک بڑے ہوٹل کی پارکنگ میں کار روک رہا تھا ۔
ہوٹل کے ہال میںاس وقت بھی کافی گاہک نظر آرہے تھے ۔کونے کی میز کا انتخاب کر کے اس نے نشست سنبھالتے ہوئے منیو کارڈ اٹھالیا۔
”کیا کھاﺅ گی ؟“
وہ شوخی سے بولی ۔”کوئی ایسی چیز جو آپ اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلا سکیں ۔“
”مستیاں نہ کرو یہ خواب گاہ نہیں ہوٹل کا ہال ہے ۔“
تناوش نے منھ بسورا۔”وہاں کون سا آپ مجھے گلے سے لگا کر رکھتے ہیں ۔“
کبیردادا کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”ناشکری کہیں کی ۔“
اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔
”اچھا بتا ﺅ نا کیا کھاﺅ گی ۔“
”کچھ بھی منگوا لو مگر اس کے بعد آئس کریم ضرور کھائیں گے ۔“
اور کبیردادا سر ہلا کر اپنی مرضی کا کھانا منگوانے لگا ۔تناوش کے ساتھ چند لمحے بتاتے ہی اسے بھی سخت قسم کی بھوک کا احساس ہو رہا تھا ۔بیرے کے کھانا لانے تک وہ اس سے دن کی کارگزاری سننے لگی ۔
”سویا رہا ہوں سارا دن کوئی کام ہی نہیں تھا ۔“کندھے اچکاتے ہوئے اس نے ایک اور جھوٹ بولا ۔
”اب مجھے جلائیں تو نا ں نا ۔“تناوش نے منھ بسورا اور کبیردادا کھل کھلا پڑا ۔
”اس میں جلنے کی کون سی بات ہے بھلا ۔“
”بس میں آپ سے نہیں بولتی ۔“مصنوعی انداز میں منھ پھلاتے ہوئے وہ ہاتھوں کے پیالے میں اپنا من موہنا چہرہ رکھ کر کبیردادا کو گھورنے لگی ۔کبیر دادا کی حالت غیر ہونے لگی تھی ۔ اس کا جی چاہا سب سے بے نیاز ہو کر اسے بانہوں میں بھر لے ۔وہ اتنی ہی معصوم ،بھولی بھالی اور پیاری لگ رہی تھی ۔اسی وقت بیرہ کھانے کی ٹرے اٹھائے نمودار ہوا ۔
”اتنا زیادہ کھانامیں کیسے کھاﺅں گی ۔“بیرے کو میز پر برتن سجاتے دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئی تھی ۔
”چلو ،میں بھی تمھارا ساتھ دے دوں گا ۔“کبیرادا نے اسے تسلی دی ۔اور پھر اسے خوب ڈٹ کر کھاتے دیکھ کر وہ معنی خیز لہجے میں بڑبڑائی ۔
”جھوٹا ۔“
”یہ جھوٹا کسے کہا ۔“کبیردادا نے اسے گھورا ۔
وہ کھل کھلائی ۔”جھوٹے کو ۔“
”کتنا منع کرتا ہوں کہ بد تمیزی نہ کیا کرو ۔“
وہ شرارت سے بولی ۔”یہ بد تمیزی نہیں ہے کبیر جی اظہارِ حقیقت ہے ۔“
”بد تمیز ۔“اس مرتبہ کبیردادا نے آئس کریم کا ادھ کھایا پیالہ اپنے سامنے سے ہٹا دیا ۔
”آئس کریم کھانا چھوڑا تو قسم سے اتنی زور زور سے رونا شروع کر دوں گی کہ پورا ہوٹل جمع ہو جائے گا ۔“وہ فوراََ دھمکی پر اتر آئی تھی ۔
اس نے دوبارہ پیالہ قریب کرتے ہوئے کہا ۔”پھر بکواس کیوں کرتی ہو ۔“
”کروں گی بکواس ۔کہوں گی ،کبیر ….کبیر ….کبیر….کبیر….آپ مجھے روک کر دکھائیں ۔“
”ایک تھپڑ سے ساری شوخی ہوا ہو جائے گی ۔“
”اب تو اکیلے میں کہہ رہی ہوں ،تھپڑ مارا تو سب کے سامنے بھی یہی کہوں گی ۔“
”کیا ….“
وہ بے ساختہ بولی ۔”کبیر۔“اور کبیردادا ہنس پڑا تھا ۔اسے ہنستے دیکھ کر ایک دم وہ شرما گئی تھی۔
”آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں ،ہے نا ۔“
”اچھا مذاق اڑانے والا بھی میں ہو گیا ۔“
”اچھا اب سارا کپ خود ہی تو خالی نہ کریں نا۔“اس کے سامنے پڑا کپ اٹھا کر تناوش نے اپنے کپ میں بچی ہوئی تھوڑی سی آئس کریم اس کے سامنے رکھ دی ۔
”اور منگوا لوں ۔“اسے یوں شوق سے آئس کریم کھاتا دیکھ کر کبیردادا نے بے ساختہ پوچھا ۔
”نہیں اب چلتے ہیں ۔“اپنا کپ خالی کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔کبیردادا نے بیرے کو اشارہ کر کے بل منگوایا ۔بل کے مندرجات پر ایک نظر ڈال کر اس نے جیب سے ایک بڑا نوٹ نکالا۔”باقی تم رکھ لینا ۔“کہہ کر وہ تناوش کو ساتھ لیے چل پڑا ۔
”شکریہ سر ۔“بیرے کی ممنونیت بھری آواز پر اس نے سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔
” جب گرل فرینڈ ساتھ ہوتی ہے تو لڑکے بڑی بڑی بخشش کیوں دیتے ہیں ۔“
اس کی شوخ بات نے ایک بار پھر کبیردادا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی ۔”تو تم میری گرل فرینڈ ہو ۔“
”لڑکی بھی ہوں ،دوست بھی ہوں ،محبوبہ بھی ہوں اور بیوی بھی ۔اتنے رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی مجھے نظر انداز کرتے رہتے ہیں آپ۔“اس نے منھ بسورا۔
”یہ محبوبہ اور دوست کب سے بن گئی ہو ۔“وہ کار کے نزدیک پہنچ گئے تھے جب کبیر نے یہ پوچھا ۔
”کیا نہیں ہوں ۔“کبیردادا کا ہاتھ پکڑ اس نے اپنی جانب متوجہ کیا ۔کارپارکنگ میں جلتی روشنی اس کے روشن چہرے کو جگ مگا رہی تھی ۔ کالی سیاہ آنکھیں کبیردادا پر جادو کرنے لگیں۔ وہ بے خود ہونے لگا تھا ۔دو تین لمحے یونھی اس کی آنکھوں میں دیکھنے کے بعد کبیردادا کے منھ سے پھنسے پھنسے الفاظ برآمد ہوئے ….”ہو نا ۔“
ایک خوب صورت مسکان اس کے لبوں پر ظاہرہوئی اور وہ مدھر لہجے میں بولی ۔ ”کبیر….“
کبیردادا مکمل ہپنا ٹائز ہو چکا تھا بے ساختہ بولا ۔”جی ۔“
نہ جانے اس کی آنکھوں میں کتنی چاہت امڈ آئی تھی ،تناوش نے فوراََشرما کر آنکھیں جھکا لیں ۔”چلیں ۔“
ایک دم جھری جھری لیتے ہوئے کبیردادا نے خود کواس منظر کے سحر سے نکالا اور کار کا دروازہ تناوش کے لیے کھول دیا ۔”بیٹھو ۔“
”وہ ناز بھرے انداز میں بیٹھ گئی ۔دروازہ بند کر کے کبیردادا گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آیا اور کار آگے بڑھا دی ۔
”ساحل پر جائیں گے ۔“اس نے فوراََ یاددہانی کرائی ۔
”ہونہہ۔“کبیردادا نے ہنکارا بھرا۔کار میں خاموشی چھا گئی تھی ۔کبیردادا اپنی بے خود ہوتی حالت پر خفت سی محسوس کر رہا تھا ۔خاموشی کو تناوش کی آواز نے توڑا،وہ پوچھ رہی تھی ….
”میرا کبیرکہنا آپ کو برا لگتا ہے ۔“
”اگر میرا جواب اثبات میں ہو تو ….“کبیردادا نے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے خود پرمصنوعی سنجیدگی طاری کی ۔
”پھر میں جانو،شہزادہ ،سرتاج وغیرہ کہہ کر پکار لیا کروں گی ۔“اس نے بھی اپنا لہجہ سنجیدہ ہی رکھا تھا ،مگر الفاظ سے ٹپکتی شرارت نے کبیرداداکو ہنسا دیا ۔
”تم لا علاج ہو ….“
کار کی فضا تناوش کے قہقہے سے گونج اٹھی تھی ۔”بتایا نہیں ۔“
اس نے منھ بنایا۔”کبیر ہی ٹھیک ہے ۔“اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں ایک منظر ابھرا کہ تناوش اسے” جانو ،میرے شہزادے ۔“کہہ کر مخاطب کر رہی ہے ۔اور یہ سنتے ہوئے پاشا اپنی کنپٹی پر پستول رکھ کر خود کشی کر رہا ہے ۔
جاری ہے
