Rakhail by Riaz Aqib Kohler NovelR50760 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03
No Download Link
503.3K
53
Rate this Novel
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode01 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode02 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03 (Watching)Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode04 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode05 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode10 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode13 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode14 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode15 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode16 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode17 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode18 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode20 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode21 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode22 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode24 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode25 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode27 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode28 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode30 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode32 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode34 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode35 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode36 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode37 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode38 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode40 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode43 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode44 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode45 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode46 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode47 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode48 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode50 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode51 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode52 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03
اگلے دن اس نے پھر حاجی منظور سے بات کی تھی ….
حاجی منظور کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے دکھی لہجے میں بولا ۔”میری بہن، میں بے بس اور مجبور ہوں۔اس غنڈے کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کے لیے پراپرٹی ڈیلر سے میںنے بات کی تھی ۔کل شام کو اس کا ایک آدمی میرے گھر یہ بتانے آیا تھا کہ یہ میری پہلی اور آخری غلطی تھی ، اس کے بعد میرے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے ….اور یہ کہ اگر میں آپ لوگوں کا زیادہ ہی ہمدرد ہوں تو اپنی بیٹی کو دلاور شیخ کے پاس بھیج دوں تاکہ وہ تناوش بیٹی سے دست بردار ہونے کے بارے سوچ سکے ۔“
بشریٰ صرف حاجی منظور نہیں تمام محلے والوں کی مجبوریاں جانتی تھی ۔ہر آدمی پہلے اپنے گھر کا سوچتا ہے اس کے بعد کسی دوسرے کا نمبر آتا ہے ۔یقینا اپنے پاﺅں کا کانٹا دوسرے کے برچھا لگنے سے بھی زیادہ اذیت دیتا ہے ۔اس کے دکھ درد سے زیادہ محلے والوں کو اپنے گھر بار اور اپنی بہنوں ،بیٹیوں کی فکر تھی ۔وہ یہ نہیں سوچتے تھے کہ آج اگر بشریٰ خاتون کی بیٹی پر ایک موذی آنکھیں گاڑے بیٹھا تھا تو اگلا نمبر ان کی بہن بیٹی کا بھی آسکتا تھا ۔جس درندے کوانسانی خون کا چسکا لگ جائے وہ بھرے پرے گاﺅں پر شب خون مارنے سے نہیں چوکتا ، اس سے بچنے کے لیے گھر کے دروازے بند کر دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ سب کو مل کر اس کا مقابلہ کر کے اسے فنا کر دینے سے مسئلہ حل ہوتا ہے ۔یہاں دلاور جیسے درندے سے بچنے کے لیے تمام اپنے گھروں کی کنڈیاں لگانے پر اکتفا کر رہے تھے ۔
بشریٰ خاموشی سے گھر لوٹ آئی ۔اس کا یہ منصوبہ بھی ناکام گیا تھا ۔
٭٭٭
اس کے بھائی کو مرے ہوئے مہینا ہونے کو تھا کہ ایک دن رات کے وقت مولوی محبوب الٰہی عشاءکی نماز کے بعد چھپتا ہوا ان کے گھر آیا۔ماں بیٹی اسے دیکھ کر حیران رہ گئی تھیں ۔ دلاور کی اتنی سخت دھمکی کے باوجود وہ ان کی مدد کرنے باز نہیں آرہا تھا ۔وہ بشریٰ خاتون کو مشورہ دیتے ہوئے بولا۔
”بشریٰ بہن !….بہتر یہی ہو گا کہ جلد سے جلد تناوش بیٹی کے ہاتھ پیلے کر دو ورنہ اس بد بخت خبیث سے کوئی بعید نہیں کہ کب کوئی گھٹیا حرکت کر گزرے۔“
”بھائی جان !….میں بھی تو یہی چاہتی ہوں ،مگر ایسا کون ہو گا جو میری بیٹی کا ہاتھ تھام لے ۔یقین مانومیں اپنی شہزادیوں کی طرح بیٹی کو کسی شریف آدمی کی دوسری بیوی بنانے پر بھی تیار ہوں مگر کوئی شریف آدمی حامی تو بھرے ۔“
”بہن !….یہ کام چوری چھپے کرنے والا ہے ،اگر راتوں رات ہم تناوش بیٹی کا نکاح کسی سے پڑھا کر اسے رخصت کردیں تو اس بد بخت کو کیا معلوم ہوگا ؟“
”یقین مانیں بھائی جان !….میں تو بیٹی کے ساتھ یہ گھر بیچ کر کہیں بھاگنے کا منصوبہ سوچے بیٹھی تھی ،مگر اس موذی کے گرگے گھر خریدنے والے کو زدوکوب کرنے سے بھی باز نہ آئے۔وہ ہمارے گھر کی نگرانی کروا رہا ہے ۔“
بشریٰ کی بات سنتے ہی مولوی صاحب کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمودار ہوئے۔ ”کہیں وہ اس وقت بھی گھر کی نگرانی نہ کر رہے ہوں َ“
”ویسے کوئی پتا نہیں اس موذیوں کا بھائی صاحب ۔“دلاور شیخ کو کوستے ہوئے بشریٰ کی آواز بھرا گئی تھی ۔”ہمارے تو نصیب ہی کھوٹے تھے جو اس بدبخت نے میری معصوم بیٹی پر اپنی گندی نظر رکھ لی ۔“
”اللہ پاک ،بہتر کرے گا میری بہن!….آزمائشیں اسی ذات کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ،لیکن یاد رکھنا وہ کسی آزمائش میں اپنے بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتا ۔ہر فرعون کے لیے اس نے موسیٰ بنایا ہے ۔دلاور بھی زیادہ دن اپنی من مانی نہیں کر سکے گا ۔“
”اگر میری بیٹی کی بربادی کے بعد یہ موذی اپنے انجام کو پہنچا بھی تو مجھے کیا حاصل ؟“
”پریشان نہیں ہوتے میری بہن ،اللہ پاک ضرور کوئی سبب پیدا کرے گا ۔“
” ہمارا سبب تو آپ ہی ہیں بھائی جان !….آپ کے علاوہ تو کوئی ہمیں اکیلے میںبھی تسلی نہیں دیتا ۔“بشریٰ کے لہجے میں شکر گزاری کا گہرا احساس پوشیدہ تھا ۔
”میں تو ایک ناکارہ سا بندہ ہوں بہن ،کاش میں تناوش بیٹی کو اس بد بخت سے چھٹکارا دلا سکتا ۔“
اس مرتبہ بشریٰ اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دے سکی تھی۔مولوی صاحب چند لمحے مزید وہاں بیٹھا اور پھر تناوش کے سر پر شفقت بھراہاتھ پھیر کر رخصت ہو گیا ۔
٭٭٭
اگلے دن ایک روح فرسا خبر ان کی منتظر تھی ۔رات کو مولوی صاحب کو کچھ آدمیوں نے بہت بے دردی سے پیٹا تھا ۔اس کا لہولہان جسم مسجد کی سیڑھیوں کے سامنے پڑا تھا ۔اس پر سب سے پہلے بوڑھے بابا کرم دین کی نظر پڑی تھی جو تہجد کی نماز کے لیے باقاعدگی سے مسجد جایا کرتے تھے ۔پہلی نظر میں تو انھوں نے سمجھا کوئی لاش پڑی ہے ۔ٹارچ کی روشنی میں مولوی صاحب کے معزز چہرے کو پہچاننے میں انھیں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی ۔
جائزہ لینے پر انھیں مولوی صاحب کی نبض چلتی نظر آئی ۔بوڑھے کرم دین میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ مولوی صاحب کو اکیلے اٹھا سکتے ۔اانھوں نے فوراََ قریبی گھر کے دروازے پر دستک دی ۔مسجد کے پڑوس میں رہنے والے جہانگیر کے مولوی صاحب سے بہت اچھے تعلقات تھے ۔ اس نے فوراََ کار نکالی اور وہ دونوں مل کر نزدیکی ہسپتال لے گئے ۔بڑی مشکل سے ایمرجنسی میں بیٹھا ڈاکٹر مولوی صاحب کو دیکھنے پر آمادہ ہوا تھا۔مولوی صاحب کی نبض بہت دھیرے دھیرے چل رہی تھی ۔
جس وقت بشریٰ خاتون تک یہ بات پہنچی اس وقت مولوی صاحب خطرے کی حدود سے تونکل گئے تھے،لیکن انھیں ابھی تک ہسپتال سے ڈسچارج نہیں کیا گیا تھا ۔مجرموں کو اچھی طرح پہچاننے کے باوجود مولوی صاحب نے رپورٹ درج کرانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔کیونکہ وہ پولیس کی کارکردگی سے اچھی طرح سے واقف تھے ۔
تمام محلے والوں کو بھی معلوم تھا کہ مولوی صاحب کو اس حال تک پہنچانے والی شخصیت کون سی ہے ۔مولوی صاحب کے انجام نے انھیں مزید محتاط بنا دیا تھا ۔اس سے پہلے اگر کسی کے دل میں تناوش اور اس کی ماں کے لیے ہمدردی کا جذبہ رینگ بھی رہا تھا تو مولوی صاحب کی حالت دیکھ کر وہ جذبہ اپنی موت آپ مر گیا تھا ۔
بشریٰ تناوش کو ساتھ لے کر مولوی صاحب کو ملنے ہسپتال گئی تھی ۔انھیں دیکھ کر مولوی صاحب کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی ۔
”میں معذرت خواہ ہوں بہن !….میں آپ کے معیار پر پورا نہ اتر سکا ،میں تناوش بیٹی کے لیے کچھ بھی نہ کر سکا ۔“
”اللہ پاک آپ کو دنیا اور آخرت کی کامیابی عطا کرے مولوی صاحب !….آپ کی اس حالت کی ذمہ دار بھی ہم ماں بیٹی ہیں ،ہمیں معاف کردینا ۔“بشریٰ خاتون گلوگیر ہونے لگی تھی۔
”پریشان نہ ہوں میری بہن !….میں اللہ پاک کی ذات سے مایوس نہیں ہوں ، اللہ پاک کوئی بہتر سبب نکالے گا ۔اس کے پاس دیر ضرور ہے ،اندھیر نہیں ہے ۔“
بشریٰ نے حسرت بھرے لہجے میں کہا ۔”کہیں یہ دیر حشر کے میدان تک طول نہ کھینچ جائے ۔“
اور مولوی صاحب اس کی بات کا جواب دیئے بغیر ٹھنڈا سانس بھرکر رہ گیا تھا ۔کیونکہ اللہ پاک کے کاموں میں چھپی تاخیر کی حکمتیں جاننا کسی انسان کے بس سے باہر ہے ۔
٭٭٭
ہفتے دس دن بعد مولوی محبوب الہٰی صحت یاب ہو کر گھر آگیا تھا ۔لیکن اب اس میں اتنی ہمت باقی نہیں رہی تھی کہ وہ دلاور شیخ کا مقابلہ کر سکتا ۔محلے والوں نے اس کام میں اس کی کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی ۔انھی دنوں تناوش کو ماں کی زبانی معلوم ہوا کہ مولوی محبوب الہٰی وہ محلہ چھوڑ کر کہیں اور جانے کی کوشش میں ہیں ۔ان جیسے مخلص انسان کے محلے سے چلے جانے کے خیال نے تناوش کو اداس کردیا تھا ،مگر وہ کچھ بھی تو نہیں کر سکتی تھی ۔
مولوی صاحب اپنے مکان کے لیے کوئی مناسب خریدار ڈھونڈ رہے تھے اس کے بعد انھوں نے چلے جانا تھا ۔ مولوی صاحب جیسے مخلص اور نیک شخص کو صرف اس وجہ سے محلہ چھوڑنا پڑ رہا تھا کہ وہ ان ماں بیٹی کی مدد نہیں کر پائے تھے ۔اور آنے والے دنوں میں دلاور شیخ کی مزید خباثتوں سے آنکھیں چرانے کے لیے وہ اپنا آبائی گھر چھوڑنے پر تیار ہو گئے تھے ۔محلے کے کافی بزرگوں نے دبے لفظوں میں مولوی صاحب کو اس اقدام سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن ،جو لوگ ایک غنڈے کے خلاف مولوی صاحب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے نہیں ہوئے تھے وہ اپنی بات منوانے کے مجاز نہیں تھے ۔ماں کے منہ سے مولوی صاحب کے جانے کی خبر سن کر وہ ساری رات سو نہیں پائی تھی
اگلے دن وہ اپنے کالج کے گیٹ کے سامنے سے گزرتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی ۔ اس کے دماغ میں عجیب طرح کی حسرت ہلکورے لے رہی تھی ۔کالج جانے یا پڑھائی کرنے پر اس کا دل بالکل بھی مائل نہیں ہو رہا تھا ۔ اپنی زندگی میں نہ تو اسے سکون کی کوئی رمق نظر آ رہی تھی اور نہ خوشی کی کوئی جھلک۔وہ زندگی کے جس دور سے گزر رہی تھی ،اس عمر میں ایک لڑکی کے دل میں چاہنے اور چاہے جانے کا گہرا احساس پنپ رہا ہوتا ہے ۔ایک جانا انجانا محبوب ہر وقت اس کی سوچوں میں بسا اسے سہانے سپنوں میں کھویا رکھتا ہے ۔اس کی تو شکل و صورت بھی ایسی تھی کہ کئی چاہنے والوں اس کے لیے دل کے دروازے وا رکھتے ۔اتنے کہ اس سے چناﺅ مشکل ہو جاتا۔ مگر کسی کی ایسی جسارت سے پہلے ہی ایک غلیظ ،کمینے اور گھٹیا شخص نے اس پر اپنا ظالمانہ تصرف جما لیا تھا ،وہ آزاد ہوتے ہوئے بھی اس کی قید میں تھی ۔اس سے جان چھڑانے کی ساری کوششیں بے کار گئی تھیں ۔
وہ کراچی کی تیز رفتار سرگرمیوں کو دیکھتی ہوئی کندھے سے کتابوں کا بیگ لٹکائے خاموشی سے آگے بڑھتی رہی ۔اس کے دائیں بائیںزندگی پوری قوت کے ساتھ رواں دواں تھی جبکہ اس کی مثال زندگی کے اس بہتے دریا میں کسی لاش کی سی تھی ۔خوشی اور غم کے احساسات کا تصور وہ کھو چکی تھی ۔ایک نفرت کا جذبہ تھا جس کے زیر اثر وہ زندگی سے چمٹی ہوئی تھی ۔ دلاور شیخ کی عبرت ناک موت ہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا،سب سے بڑی خواہش اور سب سے بڑی خوشی تھی ۔دلاور شیخ کی بیوی بننے سے موت کو گلے لگا لینا کئی گنا زیادہ آسان تھا ،لیکن مرنے سے پہلے وہ اس موذی کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتا ہوا مرتا دیکھنا چاہتی تھی ۔اس خوش کن منظر کو دیکھنے کے لیے وہ کوئی بھی قیمت دینے کو تیار تھی ۔مگر ہر وقت اسی سوچ میں کھوئے رہنے کے باوجود اسے کوئی مناسب حل نہیں سوجھ رہا تھا ۔وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنی اس خواہش کو کیسے پورا کر پاتی ۔ایسا کوئی طریقہ اسے نہیں سوجھ رہا تھا جس سے وہ اس ذلیل کا غلیظ سر اپنے ہاتھوں سے اس کے تن سے جدا کرتی ۔
وہ اپنے کالج سے کافی آگے آچکی تھی۔کپڑوں کے ایک بازار میں گھس کر وہ مختلف دکانوں کے آگے لٹکے خوب صورت لباس دیکھنے لگی ۔پلاسٹک کے مجسموں کو ایسے عجیب و غریب لباس پہنائے گئے تھے جو اس نے خود تو کیا کسی اور عورت کے بدن پر بھی نہیں دیکھے تھے ۔کپڑوں کی مارکیٹ سے نکل کر وہ جوتوں اور کی مارکیٹ میں گھس گئی ۔دکانوں کے سامنے سے آہستہ روی سے گزرتے ہوئے وہ حسرت ناک نگاہوں سے ان قیمتی جوتوں کو دیکھتی رہی جو اس کی قوت خرید سے کہیں باہر تھے ۔اپنے پاﺅں کی طرف نظر دوڑانے پراسے وہی پرانے جوتے نظر آئے جو وہ پچھلے دو سال سے پہنتی چلی آرہی تھی ۔کثرت استعمال سے جوتوں کے تلوے گھس گئے تھے ۔ ان کی اوپری چمک دمک بھی بس پالش کی مرہون منت تھی ۔
اس بازار سے نکل کر وہ سبزی بازار میں گھس گئی ۔ریڑھیوں اور سٹالوں پر سجے مختلف اقسام کے عمدہ پھل اس کی اشتہا بڑھانے لگے ۔بہت سارے پھلوں کا تو اسے ذائقہ تک معلوم نہیں تھا کہ کبھی چکھنے کااتفاق جو نہیں ہوا تھا ۔سبزی بازار کا اختتام نسبتاََ چوڑے بازار میں ہوا جہاں ہر قسم کا سامان سجا ہوا نظر آرہا تھا ۔وہ ماحول میں کھوئی خالی ذہنی سے آگے بڑھتی رہی ۔اس بازار کے بعد بڑی سڑک کی شروعات ہو گئی تھی جس کے جوانب میں بڑی عمارتیں ،کمرشل پلازے اور خوب صورت ہوٹل نظر آرہے تھے ۔ہوٹلوں کی پارکنگ میں نظر آنے والے رش سے اس نے اندازہ لگایا کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چلا تھا ۔جیب سے اپنا سستا سا موبائل فون نکال کر اس نے وقت دیکھا ،ڈیڑھ بج رہے تھے ۔اسے اچانک بھوک محسوس ہونے لگی ۔اس کے لنچ بکس میں رات کی باسی دال کے بنے ہوئے پراٹھے موجود تھے ،مگر اسے ایسی مناسب جگہ نظر نہ آئی جہاں بیٹھ کر وہ پیٹ پوجا کر سکتی ۔
کسی مناسب جگہ کو ڈھونڈنے کے لیے اس نے قدموں کی رفتار بڑھا دی تھی ۔اس وقت وہ ایک بڑے ہوٹل کے سامنے سے گزر رہی تھی ۔سیاہ رنگ کی خوب صورت کار میں ،سفید رنگ کا سوٹ پہنے ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھ رہا تھا ۔اس کے لیے عقبی نشست کا دروازہ ایک باوردی پولیس والے نے کھولا تھا ۔یقینا وہ کوئی با اختیار شخص تھا جس کے لیے پولیس کا باوردی شخص دروازہ کھول رہا تھا ۔اس کے کار میں بیٹھتے ہی پولیس والا کار کے عقب میں موجود پولیس جیب میں بیٹھ گیا ،جس میں اس کے علاوہ تین اور باوردی پولیس والے بھی ہتھیاروں سے مسلح بیٹھے تھے۔صاف نظر آرہا تھا کہ وہ اس کے محافظ تھے ۔
”کیا یہ اتنا با اختیار ہو گا کہ مجھے دلاور شیخ کے شر سے نجات دلاسکے۔“ایک امکانی سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔وہ اسے روکنے کے خیال سے چوڑی روش کے قریب ہو گئی ۔
”نہ جانے میرے اشارے پر رکے گا بھی کہ نہیں ۔“یہ سو چ ذہن میں رکھتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ اٹھانا چاہا مگر اس سے پہلے ہی اس کے کانوں میں بریکوں کی تیز چرچراہٹ گونجی،اس نے بے ساختہ اس جانب نگاہیں گھمائیں ایک کالے رنگ کی مرسڈیز نے چوڑی روش کے سامنے رک کر آنے والی گاڑی کا رستا روک دیا تھا ۔
مرسڈیز کے پیچھے دو کھلی چھت والی جیپیں بھی موجود تھیں ۔دونوں جیپوں میں چار چار افراد سوار تھے ۔مرسڈیز رکتے ہی جیب سے ایک مسلح شخص پھرتی سے اترا اور مرسڈیز کا عقبی دروازہ کھول دیا ۔
”اب نہ جانے اس میں کون سوار ہے اور کیا یہ سفید لباس والے سے بھی زیادہ با اختیار ہوگا ۔“اس کی محدود سوچیں ان دونوں گاڑیوں میں سوار شخصیتوں کی طاقت کا اندازہ لگانے لگیں ۔مرسڈیز کے کھلے دروازے سے کالی پتلون میں ملبوس ایک ٹانگ نمودار ہوئی ۔جس پاﺅں میں چمکتا ہوا سیاہ ہی رنگ کا عمد ہ بوٹ چمک رہا تھا ۔اور پھر بڑے انداز سے وہ مکمل ہی کار سے باہر آگیا ۔وہ دراز قد اور کسرتی جسم کا مالک تھا ۔چوڑی چھاتی ،اندر کی طرف گھسا ہوا پیٹ اسے کوئی منجھا ہوا ریسلر ظاہر کر رہا تھا ۔کار سے باہر آتے ہی اس نے کوٹ کے سامنے والے دو بٹن بند کیے،آنکھوں پرلگایا چشمہ اتار کر جیب میں ڈالا اور دونو ںہاتھ پتلون کی جیب میں ڈال کر کھڑا ہوگیا۔اس کی موٹی بھوری آنکھوں میں عجیب قسم کی بے رحمی ہویدا تھی ۔چوڑی پیشانی ،گالوں کی ابھری ہوہڈیاں ،اٹھی ہوئی باریک ستواں ناک ،پتلے پتلے ہونٹ ،ان پر موجود نفاست سے ترشی ہوئی مونچھیں اور تین چار دن کی بڑھی ہوئی شیو جیسی داڑھی ۔مردانہ وجاہت کا شاہکار ہونے کے باوجود مجموعی طور پر اس کے چہرے پر کوئی ایسی بات تھی کہ تناوش کی ٹانگیں لرزنے لگی تھیں ۔
اس نے ایک سرسری نگاہ تناوش پر ڈالی اورپھرکار کا دروازہ کھولنے والے کی طرف اسفتہامیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
اس نے جلدی سے اپنی جیب سے سگریٹ کی ڈبی نکال کراس کے سامنے پکڑلی ۔
ایک سگریٹ نکال کر اس نے اپنے باریک ہونٹوں میں پکڑی ۔سگریٹ پیش کرنے والے نے لائیٹر جلا کر سگریٹ سلگائی اور پیچھے ہو گیا ۔
جاری ہے
