Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08

ان کے لیے بس یہ بات باعث اطمینان تھی کہ کبیر دادا نے دلاور شیخ کے کارندوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے ان کے محلے سے دفع ہو جانے کا حکم دے دیا تھا ۔
محلے کی عورتوں میں بھی ہل چل مچی ہوئی تھی ۔کئی ایک نے تو دلاور شیخ کا انجام صحن میں آکر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔تناوش کے شوہر کو دیکھ کر تو ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئی تھیں ۔گو وہ تناوش سے عمر میں کافی بڑا تھا مگر اس کا رکھ رکھاﺅ ،رعب و دبدبہ ایسا تھا کہ عمر کا فرق بالکل ہی پسِ منظر میں چلا گیا تھا ۔سب سے بڑھ کر تناوش کا رویہ انھیں حیرت میں ڈالے ہوئے تھا ۔کوئی دلھن نکاح کے وقت یوں باتیں نہیں کیا کرتی ۔ نہ وہ اپنے حق مہر کے متعلق منھ کھولتی ہے اور نہ شوہر کو یوں مشورے دیا کرتی ہے ۔مگر وہاں اتنے عجیب حالات ظہور پذیر ہو ئے تھے کہ کسی کے گمان میں بھی نہیں آ سکتے تھے ۔وہ کس کس بات پر حیرت ظاہر کرتے۔
مولوی صاحب کے جانے کے بعد مرد حضرات بھی وہاں سے کھسک لیے تھے ۔ان کے جانے کے بعد عورتوں کو کھلی آازدی مل گئی تھی ۔تمام نے تناوش اور اس کی ماں کو گھیر لیا تھا ۔ یوں بھی شادی کے دن دلھن مرکز نگاہ ہوتی ہے مگر وہ تو ایسی دلھن تھی جس نے تمام کے دماغ کو چکرا کر رکھ دیا تھا ۔گھر میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔کوئی ماں بیٹی کو مبارک دے رہی تھی توکوئی دلاور شیخ جیسے موذی کی موت پراظہارتشکر کر رہی تھی اور کوئی اس حیران کن واقعے پر تبصرے میں مشغول تھی ۔غرض جتنے منھ اتنی باتیں ۔یوں بھی عورت ذات باتیں کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہے ،سننا اس نے کسی کی نہیں ہوتی ۔اپنی کہے جانا اور دوسرے کی سنے بغیر سر ہلاتے جانا عورتوں کی عادت ثانیہ ہوتی ہے اور اس وقت وہاں اسی عادت کا بھرپور طریقے سے اظہار ہو رہا تھا ۔
عورتوں کے سوالا ت سے بچنے کے لیے تناوش روایتی دلھن کی طرح خاموشی سے گھونگٹ میں چھپ گئی تھی ۔جوں جوں وقت گزر رہا تھا اس کا دل اندیشوں سے بھرتا جا رہا تھا ۔ کبیر دادا جیسی شخصیت کے بارے سوچ کر اس کی رہی سہی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی ۔دلاور شیخ کا انجام تو اس کی تمنا کے مطابق ہوگیا تھا مگر اپنی زندگی اسے اندھیروں میں گم نظر آرہی تھی ۔ نہ جانے کبیر دادا نے اسے کتنا عرصہ اپنے پاس رکھنا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ اگلے دن کا سورج طلوع ہونے تک وہ طلاق کے تین الفاظ کا تحفہ لیے گھر کی دہلیز پار کر چکی ہوتی ۔ایسا ہونے کی صورت میں ماں بیٹی لوگوں کا سامنا کیسے کرتے ۔تمام نے یہی کہنا تھا کہ۔” بڑے غنڈے سے اپنی عزت کا سودا کر کے چھوٹے غنڈے سے عزت بچانے کا کیا فائدہ ۔“
”کیوں نہیں ہے فائدہ ۔“اس نے زور و شور سے اپنی سوچ کی مخالفت کی تھی ۔”میں نے اپنے باپ جیسے بھائی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے ، پھر کبیر دادا سے میرا نکاح ہوا ہے اور نکاح کے بعد ہر مرد اپنی بیوی کے جسم کا حق دار بن جاتا ہے تو کبیرا دادا کو یہ حق کیوں نہیں مل سکتا ۔اور ہمارے ملاپ کو عزت فروشی کیسے کہا جا سکتا ہے ۔باقی رہی طلاق کی بات تو وہ تو پہلی رات کی دلھن کو بھی مل جایا کرتی ہے ۔“وہ دل ہی دل میں خود کو تسلی دیتی رہی ۔
اس ماں عورتوں کے سوالات پر ۔”یہ سب میرے مولا کا کرم ہے ۔“کے علاوہ کوئی جواب نہیں دے پا رہی تھی ۔وہ خود خاموش بیٹھی آنے والے ہول ناک وقت کو سوچتی رہی ۔ کبھی خود کو تسلیاں دینے لگتی اور کبھی اپنے اللہ پاک سے خیر و عافیت مانگنے لگتی ۔کبیردادا کے بارے بھی اس کا دل متضاد قسم کے احساسات کا شکا رتھا ۔ایک طرف وہ سوچتی کہ اچھا ہے جتنی جلدی طلاق دے دے اتنی جلدی ہی میں نارمل زندگی گزارناشروع کر دوں گی ۔اس کے ساتھ ہی اس کی نگاہوں میں کبیر دادا کاپر رعب اورمردانہ وجاہت سے بھرپور چہرہ گھومنے لگا ۔اس نے کسی ایسے ہی کے تو سپنے دیکھے تھے ۔کوئی ایسا جو اسے زمانے کے ہر سرد وگرم سے بچا سکے ،کوئی ایسا جو اس کی طرف بری نظر دالنے والے کی آنکھیں نکال سکے ،کوئی ایسا جس کا سہارا پا کر دنیا کا ہر خوف اور اندیشہ اس کے دل سے زائل ہو جائے ۔اور وہ ایسا ہی تو تھا ۔دلاور شیخ جسے غنڈے نے اسے دیکھتے اپنی شلوار گیلی کر لی تھی ۔پولیس کے پانچ چھے محافظ ساتھ پھرانے والے جسٹس کی ٹانگیں اسے دیکھتے ہی کانپنے لگ گئی تھیں ۔تو کوئی اور کیسے اس کا سامنا کرتا ۔
گھنٹے ڈیڑھ تک زیادہ تر عورتیں رخصت ہو گئی تھیں ۔بس دوتین پڑوسنیں اور تناوش کی چند قریبی سہیلیوں کے علاوہ وہاں کوئی باقی نہیں رہا تھا ۔باقی عورتوں کی طرح اس کی سہیلیاں بھی اصل بات جاننے کے لیے بے چین تھیں ۔عورتوں کے جاتے ہی وہ اسے کمرے میں لے آئیں اس کے ساتھ ہی سلمیٰ نے تمام کے ذہنوں میں مچلتے سوال کو الفاظ کی شکل دے دی ۔
”اری!…. کبیر خان کے متعلق تم نے جتنا بتایا تھا وہ اس سے کچھ زیادہ ہی شاندار شخصیت کے مالک نکلے ہیں ۔سچ بتاﺅ ایسا دولھا کہاں سے ڈھونڈا۔“
تناوش ہنسی ۔”کیوں ،تمھیں بھی کسی ایسے ہی کی تلاش تھی ۔“
سلمیٰ حسرت ناک لہجے میں بولی ۔”اللہ پاک کی قسم ،کوئی ایسا ملے تو خوشی سے مر نہ جاﺅں ۔“
تناوش اس پر چوٹ کرتے ہوئے بولی۔”مطلب،جسے تمھاری موت مطلوب ہو وہ تمھارے لیے ایسے ہی دولھا کی دعا کرے ۔“
”وہ تو میں نے بہ طور محاورہ بولا ہے ۔“سلمیٰ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔” اب اصل بات پھوٹو ۔“
”کون سی اصل بات ۔“
سلمیٰ نے کہا ۔”یہی کہ کبیر صاحب آپ کو کہاں ملے ،کیسے پسند کیا اور تم نے اتنا عرصہ ہم سے کیوں یہ بات چھپائے رکھی اور اس سے پہلے تم نے کبیر کو دلاور شیخ کے بارے کیوں خبر نہ دی ۔وغیرہ وغیرہ ۔“شازیہ ،نازیہ ،اقراءاور صالحہ بھی پر شوق انداز میں اس کی طرف متوجہ ہو گئی تھیں ۔
تناوش نے دھیمے لہجے میں کہا ۔”سچ تو یہ ہے ان سے میری کل ہی ملاقات ہوئی ہے۔“
”بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ،سمجھیں ۔“اقراءنے اس کی پیٹھ پر دھپا لگایا۔
”بکواس نہیں کر رہی حقیقت بتا رہی ہوں ۔“
شازیہ نے کہا۔”مگر ایسا کیسے ممکن ہے ۔“
”ہاں بالکل ۔“باقیوں نے بھی شازیہ کی تائید میں سر ہلادیے تھے ۔
”جب اللہ پاک چاہے تو سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے ۔“
سلمیٰ جل کر بولی ۔”کوئی واسطہ،کوئی تعارف ،کوئی میل ملاپ بھی ہوا یا کبیر خان صاحب براہ راست آسمان سے ٹپکے جنھیں محترمہ تناوش نے جھولی پھیلا کر سنبھال لیا ۔“
”یاد ہے نا کل میں کالج نہیں آئی تھی ۔“
سلمیٰ نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”ہاں اچھی طر ح یاد ہے ۔اور اگرکالج سے چھٹی کرنے پر کبیر خان جیسا دولھا مل سکتا ہے تومیں ہمیشہ کے لیے کالج جانے سے رک جاﺅں گی ۔“
تناوش نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”ہر اندھے کے پاﺅں تلے بٹیرہ نہیں آیا کرتا ۔نہ ہما ہر شخص کے سر پر بیٹھا کرتا ہے ۔“
اقراءنے بے صبری سے کہا ۔”یار فلسفے کو چھوڑو اور اصل بات بتاﺅ۔“
نازیہ بولی ۔”ہاں ہاں ،جلدی جلدی اصل واقعہ سناﺅ ،یہ نہ ہو کبیر خان صاحب محترمہ کو لینے پہنچ جائیں ۔آخر اتنی پیاری دلھن کے بغیر وہ بھی تو اداس ہو ں گئے ۔“
”کاش ایسا ہوتا ۔“حسرت ناک انداز میں سوچتے ہوئے اس کے منھ سے ٹھنڈا سانس خارج ہوا اور وہ انھیں تفصیل بتلانے لگی ۔
”کل میرا دل کالج جانے کو نہیں کر رہا تھا ،میں یونھی کسی سمت کا تعین کیے بغیر شہر میں پھرتی رہی ۔ایک بڑے ہوٹل کے سامنے سے گزرتے ہوئے میری نظر پولیس کے سپاہیوں کے جھرمٹ میں ہوٹل سے باہر آتی ایک شخصیت پر پڑی ۔میرے دل میں ایک دم اسے اپنے حالات بتانے کا داعیہ پیدا ہوا ۔وہ اپنی قیمتی کار میں بیٹھ کر ہوٹل سے باہر آنے والی روش پر آرہا تھا، میں اسے روکنے کے لیے آگے بڑھنے ہی لگی تھی کہ سڑک پر ایک مرسڈیز نے نمودار ہو کر اس شخص کا رستا روک دیا ۔اور جانتی ہو مرسڈیز میں وہ سوار تھے ۔“
”وہ کون ؟“شازیہ نے مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو بھی سوالیہ انداز حرکت دی تھی ۔
”ان کے ہونے والے وہ یا ر….اب خاموشی سے بات سنو ۔“سلمیٰ نے بیزاری بھرے انداز میں شازیہ کو جھڑکا ۔باقی بھی شازیہ کو خشمگین نظروں سے گھورنے لگی تھیں ۔
”اچھا سوری یار ،اب نہیں بولتی ۔“شازیہ نے فوراََ اپنے ہاتھ بلند کر لیے ۔
تناوش دوبارہ بولنے لگی ۔”ہوٹل سے نکلنے والی شخصیت ایک جج کی تھی ۔اور یقین مانو پولیس کے محافظوں میں گھرے اس جج نے جب انھیں دیکھا تو وہ تھرتھر کانپنے لگ گیا تھا ۔غالباََ ان کے کسی آدمی کا مقدمہ اس جج کی عدالت میں پھنسا تھا ۔انھوں نے جج کو کل تک اپنے آدمی کے حق میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا ،جسے جج نے بغیر کسی حجت کے مان لیا تھا ۔مجھے معلوم ہو گیا کہ مجھے کس کے سامنے فریاد کرنا چاہیے ۔پس موقع ملتے ہی میں نے اپنی پریشانی ان کے سامنے دہرا دی انھوں نے مجھ سے شادی کرنے کی شرط پر میری مدد کرنے کی حامی بھر لی ۔بس اتنی سی بات ہے۔باقی کا سارا واقعہ تو تم لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ۔“تناوش نے گول مول انداز میں انھیں سارا واقعہ سنا دیا ۔
”ارے کہیں وہ دالاور شیخ سے بھی بڑا….میرا مطلب ہے کوئی ایسا ویسا آدمی تو نہیں ہے ….“شازیہ نے محتاط انداز میں جو کہا وہی تمام کے دماغ میں گونج رہا تھا ۔
”اگر اس کے بعد انھیں ایسا ویسا کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ….“تناوش سچ مچ ناراض ہونے لگی ،حالانکہ یہ بات تو اسے اچھی طرح پتا تھی کہ کبیر داداکیا تھا ۔باقی تمام سہلیاں بھی خشمگین نظروں سے شازیہ کو گھورنے لگی تھیں ۔گو اندازہ تو انھیں بھی ہو گیا تھا کہ کبیر خان کی اصلیت کیا تھی مگر ایسے سچ پیٹھ پیچھے بولے جاتے ہیں منھ پر نہیں ۔
”مم….مم….میں نے تو بس یونھی ….“شازیہ منمنا کر رہ گئی تھی ۔
”بیٹی کھانا لاﺅں ۔“بشریٰ نے اندر آکر پوچھا ۔
”ماں جی !….دل نہیں چاہ رہا ۔“اس نے انکار میں سرہلایا۔
”تھوڑا سا کھا لواور تمھاری سہیلیاں بھی تو کھائیں گی نا ۔“بشریٰ مصر ہوتے ہوئے کھانا لینے چلی گئی ۔
سہیلیوں کی وجہ سے اس نے بھی تھوڑا سا کھانا زہر مار کر لیاتھا ۔اور پھر وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا کار کے ہارن پر اس نے پاس بیٹھی سلمیٰ سے وقت پوچھا ۔
وہ گھڑی پر نظریں دوڑاتے ہوئے بولی ۔”پونے نو ۔“
وہ سرسراتے ہوئے ہوئے لہجے میں بولی ۔”ان کی کاروقت سے گھنٹابھرپہلے ہی پہنچ گئی ہے۔“
سلمیٰ نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”ہاں جی ،صبر ہی کہاں ہو رہا ہوگا بے چارے سے ۔“
تناوش سرخ پڑتے ہوئے بولی ۔”بکواس نہ کرو ۔“
”اس میں بکواس کی کیا بات ہے ،خود ہی تو بتارہی تھیں آپ کے ،وہ دس بجے کار بھیجیں گے۔“
تناوش منھ بناتے ہوئے بولی ۔”تو تمھیں کوئی تکلیف ….“
سلمیٰ کھل کھلا کر ہنسی ۔”تکلیف تو خیر جس کو ہونی ہے اسے معلوم ہے ۔باقی میں نے آپ کے ان کا ارادہ ہی بتایا تھا ۔“
اسی وقت دروازے پر دستک ہونے لگی تھی ۔بشریٰ دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ دروازہ کھولنے پر اسے دو عورتیں اور ایک مرد کھڑے دکھائی دیے ۔گلی میں ایک چمکتی دمکتی کار بھی کھڑی تھی ۔
”آئیں جی ۔“اس نے ایک طرف ہوکر انھیں اندر آنے کا رستا دیا ۔
”میں کار میں بیٹھاہوں آپ لڑکی کو لے آئیں ۔“مرد نے اندر گھسنے سے احتراز برتا تھا ۔بشریٰ کو اس کا تناوش کے لیے دلھن کے بجائے لڑکی کا لفظ استعمال کرنا نہایت عجیب اور برا لگا تھا ،مگر اس نے کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور عورتوں کو ساتھ لے کرتناوش کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔اسے دونوں عورتیں ملازمہ نظر آرہی تھیں ،اسی وجہ سے وہ ان کا تعارف چاہے بغیر کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
”بیٹھیں میں کھانا لاتی ہوں ۔“بشریٰ نے انھیں بیٹھنے کی دعوت دی ۔
”نہیں شکریہ ،ہمارے پاس وقت کم ہے ۔“وہ عجلت میں دکھائی دے رہی تھیں ۔
تناوش کی سہیلیاں اسے سہارا دے کر اٹھانے لگیں ،باری باری تمام سے گلے مل کر وہ ماں سے مل کر رو پڑی تھی ۔
بشریٰ اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے اس کی تسلی دینے لگی مگر خود اپنے آنسو وہ نہیں روک پا رہی تھی ۔
”پلیز چلیں وقت کم ہے ۔“دونوں عورتیں نے ایک بار پھر عجلت ظاہر کی ۔
تناوش ان کے ہمراہ چل پڑی تھی ۔تمام سہیلیاں اور بشریٰ ان کے پیچھے تھیں ۔ دروازے سے نکلتے وقت وہ ایک بات پھر ماں سے لپٹ گئی تھی ۔اسے زیادہ جذباتی ہوتے دیکھ کر عورتوں نے ایک مرتبہ پھر وقت کی کمی کا رونا رو کر اسے چلنے کوکہا ۔
بشریٰ نے اس کی پیشانی چوم کر اسے خود سے علاحدہ کیا اور وہ دونوں عورتوں کے درمیان میں کار کی عقبی نشست پر بیٹھ گئی ۔اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ وہی مرد براجمان تھا جس نے دروازے پر دستک دی تھی ۔
تناوش کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے کار آگے بڑھا دی ۔بشریٰ ،حسرت بھری نظروں سے کار کو دور ہوتے جاتا دیکھتی رہی ۔
٭٭٭
تناوش سر جھکائے ان دونوں عورتوں کے درمیان بیٹھی گئی ۔نہ تو کسی نے اسے مخاطب کیا اور نہ اس نے خود کسی سے بات کرنے کی کوشش کی تھی ۔جوں جوں کار گھر سے دور ہوتی جا رہی تھی اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔
وہ سر جھکائے بیٹھی رہی ۔شرم و حیا ایک دلھن کی فطرت ثانیہ ہوتی ہے اور وہ تو ایسی دلھن تھی جس کے ساتھ اس کی کوئی واقف کار خاتون بھی موجود نہیں تھی ۔کار کافی دیر چلتی رہی، سر جھکا ہونے کی وجہ سے اسے نہ تو دائیں بائیں کے مناظر نظر آ رہے تھے اور نہ وہ دیکھنا چاہ رہی تھی ۔
کار رکتے ہی وہ باہر نکلی ۔دونوں عورتیں اسے ایک پر تعیش کمرے میں لے آئیں ۔اور بیڈ پر بٹھا کر باہر نکل گئیں ۔ان کے کمرے سے نکلتے ہی وہ سر اٹھا کر کمرے کا جائزہ لینے لگی ۔آرام دہ ڈبل بیڈ جس پرخوب صورت بیڈ شیٹ بچھی تھی۔ کھڑکیوں سے لٹکے قیمتی پردے ،فرش پر بچھا دبیز قالین جس میں پاﺅں دھنسے جا رہے تھے ،عمدہ صوفہ سیٹ اور بھی بہت کچھ ایسا جو اس نے صرف ٹی وی ڈراموں میں دیکھا تھا ،یا اپنی امیر سہیلیو ں سے اس کا ذکر سنا تھا ۔اوراب وہ بھی ایسی ہی خوب گاہ کی مالک بن گئی تھی ۔
”مالک….“اس کے دماغ میں طنزیہ سوچ ابھری اور تلخ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر چھا گئی ۔نا معلوم کبیرا دادا نے اسے کتنا عرصہ اپنے پاس رکھنا تھا ،یہ بھی ممکن تھا کہ آج اس خواب گاہ میں اس کی پہلی اور آخری رات ہوتی ۔
جانے کتنی دیر تک وہ سر جھکائے تلخ و شیریں خیالات میں گم رہی یہاں تک کہ دروازے پر کھٹکا ہوا اور اس سے پہلے کہ وہ گھونگٹ میں چہرہ گم کرتی تھری پیس سوٹ میں ملبوس ایک قبول صورت جوان اندر داخل ہوا ۔
”شاید یہ کبیر دادا کا سیکریٹری وغیرہ ہو گا ۔“اس کے دماغ میں ایک امکانی سوچ گونجی۔ لیکن جونھی کمرے میں داخل ہو کر اس نے دروازے کی کنڈی لگائی وہ ایک دم چونک پڑی تھی ۔
”کک….کون ہیں آپ ….کنڈی کیوں لگا دی ۔“وہ بے اختیار کھڑی ہو گئی تھی ۔
اس کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”بے بی !….خادم کو خاور کہتے ہیں، آج کی رات تم مجھے اپنا خدمت گار سمجھ سکتی ہو اورکنڈی اس لیے لگائی ہے کہ کوئی ہمیں ہماری تنہائی میں مخل نہ ہو سکے ۔“
”وہ ….وہ ….کہاں ہیں ۔“تناوش ہکلائی ۔
”وہ کون ….“اس نے چہرے پر مصنوعی حیرانی طاری کی اور پھر سر ہلاتے ہوئے بولا۔ ”اچھا ….اچھا ،تمھارا مطلب ہے کبیر دادا کہاں ہے ۔“ ایک لمحہ سوچنے کا انداز بناکر وہ کہنے لگا ۔”میرا خیال ہے اپنی کسی منظور نظر کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا ہوگا ….اور فکر نہ کرو تم نے کون سا روزانہ میرے ساتھ ہی ہو نا ہے ۔آج میں کل کوئی اور ہوگا ۔امید ہے کبھی نہ کبھی کبیردادا بھی تمھیں شرف ملاقات بخش دے گا۔“
”دیکھو ،میرے قریب آنے کی کوشش نہ کرنا ۔“وہ لڑکھڑاتے قدموں سے پیچھے ہٹی ۔ اس کے دماغ میں سائیں سائیں ہو رہی تھی ۔اتنی زیادہ توہین اور بے توقیری کا تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔وہ جسے دل و جان سے اپنے سر کا سائیں سمجھے بیٹھی تھی اس نے تو اسے اس قابل بھی نہیں سمجھا تھا کہ پہلی رات ہی اس کے پاس آجاتا ۔اس کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کے خواب شیشے کے برتن کی طرح کرچی کرچی ہو گئے تھے ۔کہاں تو وہ اسے جرم کی دنیا سے دور لے جانے کے منصوبے سوچ رہی تھی ،اسے اپنی وفا اور خدمت گزاری سے متاثر کرنے کا سوچے بیٹھی تھی اور کہاں وہ رکھیل اور داشتہ کے درجے سے بھی گر گئی تھی ۔
”ویسے یہ تو زیادتی ہے بے بی کہ مجھے اپنے قریب آنے سے منع کر رہی ہو آخر میرا قصور تو بتلاﺅ نا ۔“اس نے مکروہ لہجے میں کہا۔
”دیکھیں خدا کے لیے آپ کبیر دادا کو بلوائیں مجھے اس سے بات کرنا ہے ۔“
اس نے بھونڈے انداز میں کہا ۔”آئے ہائے ،کبیر دادا کو بلواﺅں یا انھیں ….“یہ کہتے ہوئے وہ دیوار میں بنی شیشے کی خوبصورت الماری کی طرف بڑھا۔پٹ کھول اس نے ترتیب سے رکھی ہوئی بوتلوں سے ایک بوتل باہر نکالی ۔بوتل کا لیبل تو تناوش کو نظر نہ آیا مگر اتنا اندازہ اسے ہو گیا تھا کہ وہ شراب کی بوتل تھی ۔ تپائی پر پڑانفیس گلاس اٹھا کر اس نے اپنے لیے شراب انڈیلی ۔
”تم پینا پسند کرو گی ۔“
خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے تناوش منمنائی ۔”پلیز مجھے کبیرا دادا سے ملوا دیں ۔“
”صبح مل لینا یار !….فی الحال تو موڈ خراب نہ کرو ۔“صوفے پر بیٹھ کر وہ گلاس خالی کرنے لگا ۔
”میں خودمل لیتی ہوں ۔“ ہمت مجتمع کرتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھی ۔
وہ دروازے سے دوتین قد م دور ہی تھی کہ وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔ ”دروازے پر میرے چار محافظ کھڑے ہیں اور انھیں میں بتا کر آیا ہوں کہ تمھارے کمرے سے باہر جانے کا مطلب یہ ہو گا کہ میری طرف سے تم فارغ ہو اور اب وہ اپنا حصہ وصول کر سکتے ہیں ۔ اگر اکٹھے چار کو بھگتانے کا شوق ہے تو تم شوق سے باہر جا سکتی ہو ۔“
تناوش کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے تھے ۔وہ ہاتھ باندھتے ہوئے گڑگڑائی ۔ ”خخ….خدا کے لیے ،مجھے ایک بار کبیر دادا سے ملوا دو ۔“
اس نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”تمھیں میرا قد کبیر دادا سے چھوٹا نظر آرہا ہے یا مجھ میں ہمت کی کمی نظر آرہی ہے جو تم بار بار کبیر دادا….کبیرا دادا کا نام الاپ رہی ہو ۔“
”وہ میرے شوہر ہیں ….ان سے نکاح ہوا ہے میرا ۔“تناوش جیسے پھٹ پڑی تھی ۔
اس نے چند لمحے سوچنے کی اداکاری کی اور پھر گھٹیا لہجے میں بولا ۔”ویسے شوہر بننے کے لیے جن لوازم کی ضرورت ہوتی ہے کیا مجھ میں وہ موجود نہیں ہیں ۔“
تناوش کو خاموش پا کر وہ دوبارہ بولا۔”چلو ٹھیک ہے ،آج کی رات مجھے موقع دے دو اگر تمھیں شکایت ہوئی تو کل کبیر دادا کے پاس چلی جانا ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے خالی گلاس تپائی پر رکھا اور تناوش کی طرف قدم بڑھا دئیے ۔“
”اگر مجھے ہاتھ لگایا تو میں چیخنا شروع کر دوں گی ۔“تناوش نے یوں دھمکی دی جیسے وہ کسی عوامی مقام پر کھڑی ہو۔
”میرے کانوں کے لیے پسندیدہ آواز عورتوں کی چیخیں ہی ہیں ۔“وہ قدم روکے بغیر اس کی طرف بڑھتا رہا ۔ الٹ قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے تناوش کی پیٹھ دیوار کے ساتھ جا لگی تھی ۔ اب مزید پیچھے ہونے کی گنجائش نہیں رہی تھی ۔
وہ گڑگڑائی ۔”خخ….خدا کے واسطے ….سوہنے نبی پاک ﷺ کے واسطے مجھے کچھ نہ کہو۔“اس کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا ۔ایک دلاور شیخ سے اپنی عزت بچانے کے لیے وہ کئی دلاوروں کے ہتھے چڑھ گئی تھی ۔
”بے بی !….موڈ خراب نہ کرو ۔“اس کے گڑگڑانے اور واسطے دینے کو کسی خاطر نہ لاتے ہوئے وہ اس کی طرف بڑھتا رہا ۔تناوش کی حالت بلی کے منہ میں آئی اس چوہیا کی سی تھی جس کے پاس فرار کا کوئی رستا نہ بچا ہو ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *