Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07

”مگر بیٹی ….“مولوی صاحب نے کچھ کہنے کے لیے لب ہلانے چاہے ۔اسی وقت دلاور شیخ اس کے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے دھاڑا ۔
”بکواس بند کرو بڈھے ،شاید تجھے اپنی زندگی کی پروا نہیں ہے ۔“
تناوش بلکتے ہوئے بولی ۔”دلاور شیخ ،شرم آنی چاہیے تمھیں ایک کمزور نہتے بزرگ پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے ۔“
”اس بڈھے کو بھی تو فتنے سے باز آ جانا چاہیے ،جب ایک لڑکی شادی کے لیے تیار ہے تو اسے کیا مسئلہ ہے ۔اس کی بیٹی سے تو نکاح نہیں کر رہا جو اسے تکلف ہو رہی ہے ۔“
”بیٹی نہیں ،بیٹی جیسی تو ہے ۔“مولوی صاحب نے حوصلہ کر کے زبان کھولی ۔
”ایسی کی تیسی تیری بیٹی اور تیری بیٹی جیسی کی ….چل نکاح پڑھانا شروع کر ۔“
محلے والوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا ۔تمام خوفزدہ انداز میں یہ ڈراما دیکھ رہے تھے۔ اگر وہ مولوی صاحب کا ساتھ دینے پر تیار ہو جاتے تو دلاور شیخ میں اتنی جرّات نہیں تھی کہ اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کر پاتا ۔مگر مقابلہ تو کجا وہ شادی میں شرکت کے فیصلے پر پچھتا رہے تھے ۔انھیں تو یہ خوف کھائے جا رہا تھا کہ کہیں مولوی صاحب کے بعد دلاور شیخ انھیں زدوکوب کرنا نہ شروع کر دے ۔
”اب بھی سوچ لے بیٹی !….میں اپنی زندگی گزار چکا ہوں ،میری موت سے اگر تمھاری زندگی بچ سکتی ہے تو انکار کر دے ۔“دلاور شیخ کی بکواس کے باوجود مولوی محبو ب الٰہی ہمت نہیں ہارا تھا ۔
”فکر نہ کر بڈھے ،تیرے مرنے کی خواہش کو میں جلد ہی پورا کردوں گا ۔“یہ بے ہودہ الفاظ دلاور شیخ کے ہونٹوں پر تھے کہ تناوش کے ہاتھ میں پکڑے موبائل فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔اس نے مایوسی بھری نگاہ سکرین پر ڈالی ،یہ دیکھ کر اس کا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا کہ وہ کال کبیر دادا کے نمبر سے آرہی تھی ۔اس نے بے صبری سے بٹن دبا کر رابطہ جوڑا۔
”اسلام علیکم !“اس کی آواز سے حد درجے کی شکر گزاری ابل رہی تھی ۔
وہ سلام کا جواب دیے بغیر گویا ہوا ۔”معذرت خواہ ہوں میرا موبائل فون ملازم کے ہاتھ میں تھا اور میں ورزش میں مشغول تھا ۔اس نے ابھی آکراطلاع دی ہے ۔میں بس تمھاری جانب نکل پڑا ہوں ۔“
”مم….میں منتظر ہوں ۔“خوشی کے مارے اسے بولنا مشکل ہو گیا تھا ۔
کبیر دادا نے مزید کوئی بات کیے بغیررابطہ منقطع کر دیا تھا۔
”دلاور شیخ !….برات میرے گھر تک آنے کے لیے چل پڑی ہے ۔“ایک بار پھر اس کے لہجے میں اعتماد در آیا تھا ۔
”شاید تم مزید مہلت حاصل کرنا چاہتی ہو ….لیکن یاد رکھنا آج دلاور تمھیں ساتھ لے کر ہی جائے گا ۔تمھیں اپنی مردانگی کا ثبوت بھی تو دینا ہے ۔“
وہ بے باکی سے بولی ۔”ضرور دینا ….بس بیس پچیس منٹ ٹھہر جاﺅ ۔“
اسی وقت دلاور کا چمچہ کرم دین سر پر مٹھائی کا ٹوکرا لادے دروازے سے نمودار ہوا ۔
”ہونہہ!…. مٹھائی تقسیم ہونے تک تمھارے یار کا بھی انتظار کر لیتے ہیں ….تمھیں اگر اس کی موت کے بعد ہی میری بیوی بننا ہے تو مجھے کیا اعتراض ۔“زہر خند لہجے میں کہتے ہوئے وہ اپنے آدمیوں سے بولا ۔”چلو بھئی حاضرین میں مٹھائی تقسیم کرو ….کیا یاد کریں گے یہ لوگ دلاور شیخ کی شادی میں شرکت کے لیے آئے ہیں اور اب تک پھیکا منھ لیے بیٹھے ہیں ۔“
”جی باس ۔“کہہ کر وہ سب سے پہلے مٹھائی کا ٹوکرا دلاور شیخ کے قریب لائے ۔
وہ ایک گلاب جامن اٹھا کر منھ میں رکھتے ہوئے بولا ۔”اس کھڑوس مولوی کا منھ بھی میٹھا کراﺅ۔“
انھوں نے مٹھائی کا ٹوکرا مولوی صاحب کے سامنے پکڑا۔ مولوی محبو ب الٰہی کا جی بالکل بھی نہیں چاہ رہا تھا کہ مٹھائی کو ہاتھ لگائے ۔اسے متذبذب دیکھ کر تناوش بولی ۔
”چچا جان !….بے فکر ہو کر مٹھائی لیں،تمھاری بیٹی کا دولھا چند منٹ میں پہنچے والا ہے ۔“
”ہا….ہا….ہا۔“دلاور شیخ نے زبردستی کا قہقہہ لگایا۔”دولھا نہیں قربانی کا بکرا کہو جس نے آج دلاور کے ہاتھوں ذبح ہو نا ہے ۔“
مولوی محبو ب الٰہی نے بے دلی سے مٹھائی کا ایک دانہ اٹھا لیا تھا ۔مگر اس نے وہ دانہ منھ میں نہیں ڈالا تھا ۔دلاور شیخ کی حرام کی مٹھائی کھانے کا اس کاکوئی ارادہ نہیں تھا ۔اس کے مٹھائی نہ کھانے پر دلاور شیخ نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا وہ تو بس خباثت بھری نگاہوں سے تناوش کو گھور رہا تھا جو دلھن کے روپ میں قیامت ڈھا رہی تھی ۔البتہ اس کے چہرے پر نظر آنے والا اطمینان اسے ضرور اچنبھے میں ڈالے ہوئے تھا ۔اس کے وہم و گمان میں بھی آنے والے ہولناک وقت کا تصور موجود نہیں تھا ورنہ وہ وہاں سے بھاگنے میں ایک منٹ بھی نہ لگاتا ۔
اس کے کارندے بہ مشکل لوگوں میں مٹھائی تقسیم کر پائے تھے کہ بریکوں کی زوردار چرچراہٹ کی آواز ان کے کانوں میں پڑی ۔تناوش کے ہونٹوں پر خوب صورت تبسم نمودار ہوا ۔ اس کا دولھا ،اس کے خوابوں کا شہزادہ پہنچ گیا تھا ۔تمام لوگ دروازے کی طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔
ایک جھٹکے سے دروازہ کھلااس کے ساتھ ہی کبیر دادا کے قدآور وجود نے تناوش کی نظروں کو ٹھنڈک بخشی۔ اس نے سپورٹس پاجامے کے اوپر ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی جس سے اس کے بازوﺅں کی مچھلیاں تڑپتی ہوئی نظر آرہی تھیں ۔یقینا وہ اپنی ورزش ادھوری چھوڑ کر تناوش سے کیا وعدہ نبھانے آن پہنچا تھا ۔اس کے عقب میں اسی کی طرح چارقدآور محافظ موجود تھے ۔ان میں سے دو تو دروازے پر رک گئے تھے جبکہ دوکبیردادا کے عقب میں چلتے رہے ۔ان کے ہاتھوں میں جدید رائفلیں نظر آرہی تھیں ۔کبیرداداحاضرین پر نظر ڈالنے کی زحمت کیے بغیر سیدھا تناوش کے قریب پہنچا۔
”میں آگیا ہوں ۔“اس کی دھیمی آواز بھی ایسی تھی جیسے بادل گرج رہا ہو۔تناوش کو لگا سچ مچ اس کا محبوب پہنچ گیا ہو ۔کبیردادا کا چہرہ ایک لمحہ اس کی چاہت بھری نگاہوں کے حصار میں مقید رہا اس کے بعدتناوش نے اپنی نگاہیں دلاور شیخ کی طرف موڑیں ۔اس کی ٹانگوں کی لرزش واضح طور پر نظر آرہی تھی ۔
”آپ بیٹھیں نا ۔“اس نے چاہت بھرے لہجے میں کبیر دادا کو بیٹھنے کی دعوت دی ۔
اثبات میں سرہلاتے ہوئے اس نے چارپائی پر جگہ سنبھال لی ۔دونوں محافظ اس کے عقب میں کھڑے ہو گئے تھے ۔
”دلاور شیخ !….میرا دولھا پہنچ گیا ہے ۔“تناوش اس کے قریب پہنچتے ہوئے اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔
”مم….میں ….کک….کبیر دادا ….وہ میں ….“تناوش سے نظریں چراتے ہوئے وہ کبیردادا کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا ۔
کبیر دادا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”سنا ہے تم نے میری ہونے والی بیوی کو کہا ہوا ہے کہ اس کے شوہر کو تم اپنے ہاتھوں سے ختم کرو گے ….چلو میں آگیاہوں اپنی قسم پوری کر لو۔“
”مم….مجھے ….معاف کر دو دادا ….مم ….میں نہیں جانتا تھا کہ ….یی….یہ آپ کی منظور نظر ہے ۔“
”معاف کیا ۔“کبیردادا نے بے پروائی سے ہاتھ لہرایا ۔”اب جا کر میری بیوی سے معافی مانگو ۔“
”مم….مجھے معاف کر دو ۔“دلاور شیخ نے فوراََتناوش کے سامنے ہاتھ باندھ دیے تھے ۔
”ہا……..“تناوش کے منھ سے اطمینان بھرا سانس خارج ہوا ۔”دلاور شیخ اس پل کے خواب میں جانے کب سے دیکھ رہی ہوں ۔تم سے بہت حساب کتاب رہتا ہے اور معافی بھیا سے مانگنا جنھیں تم نے بے گناہ قتل کیا تھا ۔اور اس کے لیے یقینا تمھیں ان کے پاس ہی جانا پڑے گا ۔“
یہ کہتے ہی وہ ماں کی جانب مڑی۔”چلیں ماں جی !….ہمارا انتظار تو اختتام پذیر ہوا۔“
”ہاں بیٹی !“بشریٰ نے باورچی خانے کی دیوارکے سہارے کھڑی دو لاٹھیاں اٹھائیں، ایک تناوش کو دے کر دوسری اس نے خود تھام لی ۔ان مضبوط لاٹھیوں کا بندوبست انھوں صبح ہی سے کر کے رکھا ہوا تھا ۔
”مم ….معاف کر دو خالہ ….“ان کے تیور دیکھ کر دلاور شیخ کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں ۔
”کر دیں گی ،پہلے کفارہ تو ادا کر لو ۔“بشریٰ کو خود اپنی آواز بے گانی لگ رہی تھی ۔ اس کے جوان بیٹے کو دردناک موت کے حوالے کرنے والا اس کے سامنے موجود تھا ۔شاہ نواز کا کٹا پھٹا خوں چکاں جسم ہمیشہ اس کی نگاہوں کے سامنے رہتا ۔نہ جانے مرنے سے پہلے اس کا بے گناہ بیٹا کن اذیتوں سے گزرا تھا ۔اور اس سب کا ذمہ دار دلاور شیخ اب بے بسی کی حالت میں اس کے سامنے موجود تھا ۔
دوسری طرف تناوش تھی ،جس کی زندگی اس نے اجیرن کر دی تھی ۔جس کی آنکھوں کے سپنے اس نے چھین لیے تھے ۔جس کا گبھرو بھائی اس نے اس وجہ سے قتل کر دیا تھا کہ اس نے اپنی بہن کی عزت کی حفاظت کی کوشش کی تھی ۔آج اس بہن کو اپنے بھائی کی موت کا بدلہ لینے کا موقع مل گیا تھا ۔بھائیوں پر تو بہنیں تو یوں بھی قربان ،صدقے واری جاتی ہیں ۔وہ کیسے اپنے بھائی کے قاتل کو معاف کر دیتی ۔
ماں بیٹی نے ہاتھ میں پکڑی لاٹھیاں بلند کیں ۔
”پلیز…. پلیز ….خدا کے لیے ….“دلاور شیخ گڑگڑایا۔مگر اس کی منت زاری کی پرواکیے بغیر ان کی لاٹھیاں ایک جھٹکے سے نیچے آئیں اور دلاور شیخ کے دفاعی انداز میں اٹھے ہوئے ہاتھوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی ۔اس کے منھ سے بلند بانگ چیخ نمودار ہوئی ….
”ہائے ….مر گیا ۔“
تناوش اور اس کی ماں کے کلیجوں تک ٹھنڈک کی لہر اتر گئی تھی ۔اس کے بعد ان کی لاٹھیاں ایک تواتر سے دلاور شیخ کے جسم پر برسنے لگیں ۔وہ اس کے نچلے دھڑ کو نشانہ بنائے ہوئے تھیں ۔دلاور شیخ کی چیخ و پکار اور اس کے تڑپنے کا منظر اتنا خوش کن تھا کہ وہ جلدی جلدی اس کھیل کو ختم نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔مضبوط لاٹھیوں کی ضربوں نے چند لمحوں میں دلاور شیخ کو زمین بوس کر دیا تھا ۔ماں بیٹی دل جمعی سے اس پر لاٹھیا ںبرساتی رہیں ۔یہاں تک کہ دلاور شیخ کے منھ سے آوازیں نکلنا موقوف ہو گیا تھا ۔چھاتی پر پڑنے والی لاٹھی کی زور دار ضربوں نے اس کی پسلیوں کو توڑ کر دل کو ناکارہ کر دیا تھا ۔اس کے باوجود ماں بیٹی کے ہاتھ مسلسل چلتے رہے ۔
کبیر دادا بڑی دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔حاضرین محفل کے دل بھی خوف سے دھڑک رہے تھے ۔ایک طرف تو انھیں دلاور شیخ کے انجام سے خوشی ہو رہی تھی تو اس کے ساتھ وہ کبیر دادا کی پر رعب شخصیت سے بھی خوف محسوس کر رہے تھے ۔نہ جانے وہ اپنی ہونے والی بیوی کو دکھ پہنچانے کے گناہ میں کس کس کو تشدد کا نشانہ بناتا ۔دروازے پر کھڑے اس کے قوی ہیکل محافظوں کی موجودی میں کوئی گھر سے باہر بھی تو نہیں نکل سکتا تھا ۔دلاور شیخ کے کارندوں کے چہروں پر موت کی زردی کو صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا ۔
دلاور شیخ کی بھیانک موت کے بعد بھی جب ماں بیٹی کا لاٹھیاں برسانا جاری رہا تو مولوی محبو ب الٰہی ہمت کر کے آگے بڑھا اور تناوش کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا ۔
”بس کرو بیٹی !….یہ موذی اپنے کرتوتوں کے ساتھ اللہ پاک کی عدالت میں پہنچ گیا ہے ۔“اس کے ساتھ ہی اس نے بشریٰ کی لاٹھی بھی تھام لی تھی ۔
دونوں ماں بیٹی چونکتے ہوئے جیسے کسی گہرے سپنے سے بیدار ہوئی تھیں ۔مسلسل لاٹھیاں برسانے سے ان کا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا ۔
ان کے رکتے ہی کبیر دادا کی پر رعب آواز ابھری ۔”دلاور شیخ کے کارندے سامنے آئیں ۔“
وہ چاروں سورما لرزتی ٹانگوں سے سامنے ہوئے اور بھاگ کر کبیر دادا کے قدموں سے لپٹ گئے ۔
”اللہ پاک کا واسطہ ہمیں معاف کر دو،ہمارے باپ کی توبہ جو آئندہ غلط کام کیا۔“ چاروں یک زبان ہو کر واویلا کرنے لگے ۔
”پیچھے ہٹ کر بات کرو ۔“کبیر دادا نے انھیں دور جھٹکنے کی کوشش کی ۔
”جب تک آپ ہمیں معاف نہیں کر دیتے ہم قدموں سے سر نہیں اٹھائیں گے ۔“ چاروں معافی لیے بغیر اٹھنے پر تیار نہیں تھے ۔
کبیر دادا عقب میں موجود اپنے محافظوں کو مخاطب ہو ا۔”میرے تین گننے تک ان میں سے جو کھڑا نہ ہو پائے اسے گولی مار دینا ۔“مگر اس کے گنتی شروع کرنے سے پہلے وہ چاروں ہاتھ باندھتے ہوئے کھڑے ہو گئے تھے ۔
”ان کے ساتھ کوئی حساب کتاب کرنا ہے ؟“اس مرتبہ اس کا مخاطب تناوش تھی جو عقیدت بھری نظروں سے اسے گھور رہی تھی ۔
تناوش نے نفی میں سرہلادیا۔
”اپنے سرغنہ کی لاش کو ٹھکانے لگانا تم چاروں کی ذمہ داری ہے ۔اگر یہ لاش پولیس کو مل گئی توشاید انھیں مزید چار لاشوں کی تفتیش بھی کرنا پڑ جائے ۔“
”کک ….کسی کو بھی نہیں ملے گی دادا !“ان میں سے ایک نے جرّات کر کے زبان کھولی تھی ۔
”اب دفع ہو جاﺅ اور اس کے بعد تم یا تمھارا کوئی ساتھی بھی اس محلے میں نظر آیا تو وہ ہمیشہ کے لیے نظر آنا بند ہو جائے گا ۔“
”کبھی بھی نہیں آئیں گے ….یہاں سے گزریں گے بھی نہیں ۔“چاروں پر ابھی تک لرزہ طاری تھا ۔جرم کی دنیا میں کبیردادا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں تھا ۔زیرزمین حلقوں میں وہ ایک افسانوی کردار جیسی شہرت رکھتا تھا ۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس عام سے محلے کے سب سے غریب گھر میں وہ ایک دم یوں آکر بیٹھ جائے گا ۔اور وہ لڑکی جسے پچھلے ڈیڑھ سال سے وہ تنگ کر تے آرہے تھے اسے اپنی بیوی کا خطاب دے دے گا ۔
کبیر دادا نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں دفع ہونے کاکہا اور تناوش کی طرف متوجہ ہوا ۔
”میرا خیال ہے میرا کام ختم ہوگیا ۔“
”جی ہاں ….بس ایک چھوٹی سی رسم باقی ہے ۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتی ہوئی اس نے سر پر دوپٹا درست کیا اور مولوی محبو ب الٰہی کی طرف متوجہ ہوئی ۔”چچا جان !…. ہمارا نکاح پڑھا دیں ۔“
مولوی محبو ب الٰہی کی آنکھوں میں شدید حیرانی کی لہریں اٹھیں مگر اس نے کوئی سوال پوچھنے کے بجائے وہ ۔”بسم اللہ ۔“پڑھ کر نکاح کا خطبہ پڑھنے لگا ۔خطبہ پڑھتے ہی اس نے کبیر خان سے نام مع ولدیت پوچھا ۔
اس نے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔”کبیر علی ولد عمر علی ۔“
”حق مہر ….؟“اس مرتبہ وہ بشریٰ خاتون سے مستفسر ہوا تھا ۔
ماں کے کچھ کہنے سے پہلے تناوش بولی ….”حق مہر دلاور شیخ کی موت ہی تھا ۔“
”مگر بیٹی ….“
وہ اصرار کرتے ہوئے بولی ۔”چچا جان !جو عرض کر رہی ہوں اسے مان جائیں ۔“
اور مولوی محبوب الٰہی تکرار کیے بغیر ایجاب و قبول کرانے لگا ۔کبیردادا نے اس ضمن میں زبان نہیں کھولی تھی ۔وہ بس دلچسپی سے تناوش کی باتیں سنتا رہا ۔اس چھوٹی سی لڑکی میں خوب صورتی کے علاوہ بھی کوئی تو خاص بات تھی جو وہ اس کی باتوں پر یوں محظوظ ہو رہا تھا ۔
نکاح کی رسم پوری ہوتے ہی وہ کھڑا ہو کر تناوش سے پوچھنے لگا ۔
”تمھیں لینے کے لیے کس وقت گاڑی بھیجوں ؟“
”میں آپ کے ساتھ ہی چل رہی ہوں ۔“وہ پختہ لہجے میں بولی ۔
”نہیں ۔“کبیردادا نے نفی میں سرہلایا۔”رات کے دس بجے تمھیں لینے کے لیے کار پہنچ جائے گی ۔اپنے گھر والوں کے ساتھ چند گھنٹے مزید بھی گزار لو ۔اور کوئی رسم وغیرہ رہتی ہو تو وہ بھی پوری کر لو ۔“آخری فقرہ اس نے متبسم ہو کرکہا تھا ۔تناوش کو محسوس ہوا کہ وہ مسکراتے ہوئے مزید اچھا لگنے لگتا ہے۔مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ تبسم اس کے چہرے پر خال خال ہی نمودار ہوتا تھا ۔
اس کے رخصت ہوتے ہی مولوی صاحب نے بھی جانے کی اجازت مانگی ۔
مولوی محبوب الٰہی کے سامنے سر جھکا تے ہوئے وہ ممنونیت سے بولی ۔”چچا جان!…. آپ کے احسانات ہمیشہ قرض رہیں گے ۔“
”چچا بھی کہتی ہو اور احسانا ت کا ذکر بھی کرتی ہو ۔پگلی بیٹیوں پر احسان نہیں کیے جاتے ان کا حق ادا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔“مولوی محبوب الٰہی اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرنے لگے۔
”اللہ پاک ہر لڑکی کو ایسا ہی سرپرست عطا کرے ۔“گلو گیر لہجے میں کہہ کر وہ ماں طرف مڑی اور اس کے گلے لگ کر روپڑی ۔
محلے والے بھی نادم اور خفیف انداز میں ماں بیٹی کے قریب ہو کر انھیں مبارک باد دینے لگے ۔گو وہ ساری کہانی ان کے سروں سے کافی اونچی گزری تھی ۔کبیردادا جیسی شخصیت کی آمد ،دلاور شیخ کی بھیانک موت ،ماں بیٹی کی کارروائی ،تناوش کا نکاح ۔سب کچھ نہایت عجیب تھا مگر وہ سوال کرنے کی جرّات نہیں کرپارہے تھے ۔ان کے لیے بس یہ بات باعث اطمینان تھی کہ کبیر دادا نے دلاور شیخ کے کارندوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کے محلے سے دفع ہو جانے کا حکم دے دیا تھا ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *