Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12

صبح نہا کر تناوش نے وہی کپڑے دوبارہ پہن لیے تھے کہ گھر سے وہ ایک جوڑا ہی لے کر آئی تھی ۔خواب گاہ اور پھر ڈارئینگ روم میں جائے نماز ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کے بعد وہ باہر لان میں نکل آئی ۔نرم و ملائم گھاس پر نماز پڑھتے ہوئے اسے عجیب سی فرحت کا احساس ہوا تھا۔ نماز پڑھ کر وہ کافی دیر ہاتھ اٹھائے اپنے رب سے ہم کلام رہی ۔نہ جانے وہ اس بے نیاز داتا سے کیا کیا مانگتی رہی کہ جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔دعا مانگ کر وہ ننگے پاﺅں گھاس پر ٹہلنے لگی ۔شیر کے مجسمے کے گرد اڑتا فواروں کا پانی بہت بھلا محسوس ہورہا تھا ۔وہ فوارے کے گرد گھومتی رہی ۔
داخلی دروازے پر دو مسلح چوکیدار موجود تھے ۔جبکہ اندرونی عمارت کے دونوں کونوں پر بھی دوآدمی اپنے ہتھیار گود میں رکھ کر کرسی پر بیٹھے تھے ۔تمام کی نظریں تناوش کی جانب ہی نگران تھیں ۔اسے نماز پڑھتے دیکھ کر ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھلنے لگی تھی ۔
”دستگیر بھائی !….یہ ملانی کبیردادا کہاں سے پکڑ لایا ہے ۔“ایک چوکیدار دبے لہجے میں دوسرے کو مخاطب ہوا ۔
دستگیر نے دانت نکالتے ہوئے کہا ۔”جانتے ہو گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور جب مرد پر برا وقت آتا ہے تو وہ کسی عورت کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔“
”تمھارے کہنے کا مطلب ہے ،کبیردادا اس بالشت بھر کی چھوکری کی محبت میں مبتلا ہو گیا ہے ۔“
دستگیر نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”نیاز بھائی ،کہنے والے تو یہی کہہ رہے ہیں ۔“
”کون کہہ رہا ہے ؟“نیازمستفسر ہوا ۔
”رات کو امتیاز کی زبانی جو تفصیل معلوم ہوئی ہے اس مطابق تو یہی لگتا ہے کہ کبیر دادا اس لڑکی پر بری طرح فریفتہ ہے ۔اس لڑکی کی خاطر اس نے اخلاق حسین شاہ جیسے آدمی پر ہاتھ اٹھایا ہے اور شاہ جی کے خاص آدمی خاور شیخ کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے ۔بلکہ کل عصر کے وقت اس نے خاور شیخ کے چھوٹے بھائی کو بھی اس لڑکی کے ہاتھوں مروا دیا ۔امتیاز اس کا نام دلاور شیخ بتا رہا تھا اور اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اس لڑکی کو آتے جاتے چھیڑتا تھا ۔“
نیاز نے حیرانی سے پوچھا ۔”اس نے ایک مرد کو قتل کیا ہے ؟“
”ہاں ،دلاور شیخ نے اس کے بھائی کو قتل کیا تھا اس نے ماں کے ساتھ مل کر بدلہ لے لیا اور دلاور شیخ تو اس لیے بھی چوں نہ کرسکا کہ وہاں کبیردادا موجود تھا ۔“
نیاز سمجھنے والے انداز میں سرہلاتے ہوئے بولا ۔”ویسے کبیردادا کو یہ ملی کہاں پر ہے۔“
”دو دن پہلے دن کے چوکیدار رحمت خان کی ڈیوٹی میں آئی تھی ۔خود کو کبیردادا کی دوست بتا رہی تھی ۔“
نیاز بولا ۔” تعلق کے بعد ملنے آئی ہو گی نا ؟….میں پوچھ رہا ہوں کہ دونوں کی آنکھ کہاں لڑی ہے ۔اور کیا اس بے وقوف کو معلوم نہیں کہ کبیردادا کس بلا کا نام ہے۔“
”چھوڑو نیاز بھائی !….خود ہی بھگتے گی ۔کبیردادا دوتین دن سے زیادہ کسی لڑکی کو قریب نہیں چھوڑتا ۔یاد نہیں جلوہ جیسی اداکار کو اس نے تین چار دن بعد ٹھینگا دکھا دیا تھا یہ تو بے وقوف سی گھریلو لڑکی نظر آتی ہے ۔یوں بھی کبیردادا جیسے شرابی غنڈے کی قربت میں کسی نمازی روزہ دار کا کیا کام ۔ “
تناوش ان کی باتوں سے بے خبر گھاس پر ٹہلتی رہی ۔ننگے پاﺅں گھاس پر گھومنا اسے بہت اچھا لگتا تھا ۔ پہلے وہ کبھی کبھار اسکول کے لان میں گھاس پر ٹہل لیتی تھی ۔مگر اسکول کی گھاس کے مقابلے یہ بہت اعلا قسم کی گھاس تھی ۔ یوں محسوس ہو رہاتھا جیسے وہ ریشم پر چل رہی ہو۔
طلوع آفتاب کے وقت وہ چپل پہن کر اندرکی طرف بڑھ گئی ۔گھر میں وہ صبح سویرے ناشتے کی عادی تھی ۔رات کی باسی روٹی توے پر گرم کر کے وہ چاے کے ساتھ کھالیا کرتی۔اس کے بعد وہ کالج جانے کی تیاری میں لگ جاتی اور ماں اس کے لیے دوپہر کا کھانا تیار کرنے لگتی ۔
اب اسے کالج تو نہیں جانا تھا مگر بھوک تو محسوس ہو رہی تھی ۔کچن کا دروازہ کھانے کے کمرے سے ملحق تھا ۔لمبی چوڑی کھانے کی میز کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ اس پر اکیلا کبیردادا بیٹھ کر کھانا کھاتا ہو گا ۔
اس کے ذہن میں خیال آیا ۔”شاید یہاں مہمانوں کی آمد رہتی ہے اور اس وجہ سے کبیردادا کو اتنی بڑی میز لگوانا پڑی ۔“
کھانے کے کمرے کی طرح باورچی خانہ بھی بہت بڑا تھا ۔ایک چھوڑ دو دو فریج وہاں موجود تھے ۔
ملازمہ ابھی تک نہیں پہنچی تھی کہ وہ کبیردادا کے جاگنے کے اوقات سے واقف تھی ۔ باقی ملازموں کے لیے یقینا ملازموں کے کوارٹرز ہی میں ناشتا بنتا ہوگا ۔لان میں ٹہلتے ہوئے اسے کوٹھی کے عقبی جانب کوارٹر نما کمروں کی جھلک نظر آئی تھی ۔اور لازماََ وہ ملازمین کی رہائش کی خاطر ہی استعمال ہوتے تھے ۔
خانساماں کے جاگنے کا انتظار کیے بغیر وہ باورچی خانے میں گھس گئی ۔ایک کونے میں بنے ہوئے سنک کے ساتھ کافی گندے برتن پڑے تھے ۔ایسے گندے برتن دیکھ کر اسے سخت کوفت ہوتی تھی ۔چولھے پر چائے کا پانی چڑھا کر وہ برتن دھونے لگی ۔برتن صاف کرنے کے ساتھ ساتھ وہ چاے بھی بنا چکی تھی ۔ابھی پراٹھا بنانے کے لیے وہ آٹا گوندنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ایک ادھیڑ عمر خاتون اندر داخل ہوئی ۔اسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئی تھی ۔
اس نے چھوٹتے ہی پوچھا ۔”جی آپ کون ؟“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولی ۔”فی الحال تو اس گھر کی مالکن کہہ سکتی ہو ۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی ۔”اس گھر کی مالکن تو شاید کبھی پیدا نہ ہو،آپ کو شاید صاحب کی نشے میں کی گئی گفتگو سے کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے ۔“
وہ فوراََ صفائی دیتے ہوئے بولی ۔”خالہ !….آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ کل میرا اور کبیر علی خان کا نکاح ہو چکا ہے ۔کیا آپ کو میرے کپڑوں سے اندازہ نہیں ہورہا کہ میں پہلی رات کی دلھن ہوں ۔“
وہ بے پروائی سے بولی ۔”آپ کھانے کی میز پر تشریف رکھیں میں ناشتا لگادیتی ہوں۔ باقی روزانہ نئے نکور اور قیمتی لباس والیاں ہی نظر آتی ہیں آج تک کوئی پھٹے پرانے لباس میں تو نظر آئی نہیں کہ آپ کو انوکھا سمجھوں ۔“
تناوش کو سخت قسم کی توہین کا احساس ہو رہا تھا مگر جھگڑ تو نہیں سکتی تھی کہ وہ اسے کبیردادا کی دلھن سمجھے ۔یوں بھی ایک ملازمہ سے اس بات پر جھگڑنا کہ وہ اسے کبیردادا کی بیوی سمجھے خاصا عجیب تھا ۔وہ چپکے سے باہر نکل آئی ۔تھوڑی دیر بعد ملازمہ اس کے لیے ناشتا لے آئی ۔جوس ،سیب ،ڈبل روٹی ،جیم،مکھن،انڈے اور جانے کیا کیا لوازمات وہ ٹرالی میں بھر لائی تھی ۔
ناشتا شروع کرنے سے پہلے اس نے پوچھا ۔”خالہ !….صاحب ناشتے میں کیا لیتے ہیں؟“
”وہ بھی یہی کچھ لیتے ہیں بی بی جی !….بس مقدار کچھ زیادہ ہوتی ہے ۔“
”شکریہ خالہ !….آج سے ان کا ناشتا میں خود لے جایا کروں گی بس آپ میری رہنمائی کر دیا کرنا ۔“
”کیا فائدہ بی بی جی !….آج آپ نے یوں بھی واپس چلے جانا ہے ۔“
وہ پر عزم لہجے میں بولی ۔”میں واپس جانے کے لیے نہیں آئی ۔“
ملازمہ نے منھ بنایا ۔”ہونہہ!….یہاں آنے والی ہر دوسری لڑکی یہی کہتی ہے ۔“
”آئندہ بولتے وقت کچھ سوچنے کی زحمت کر لینا ۔میں کوئی بازاری لڑکی نہیں ،کبیرعلی خان کی بیوی ہوں ۔“
”بی بی جی !….آپ تو خفا ہونے لگیں میرا مطلب یہ تھا کہ ……..“
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے سخت لہجے میں بولی ۔”چھوڑیں مطلب کو اور جائیں باورچی خانے کی صفائی کر لیں ۔آج تو گندے برتن میں نے دھو لیے تھے ،لیکن اس کے بعد مجھے باورچی خانے میں گندا برتن نظر نہیں آنا چاہیے ۔“
”خواہ مخواہ رعب جھاڑنے کی ضرورت نہیں بی بی جی !….میں صاحب کی ملازمہ ہوں آپ کی نہیں ۔“یہ کہتے ہوئے وہ بڑبڑاتے ہوئے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی ۔”ایک رات کے لیے آتی ہیں اور مالکن کی طرح حکم جمانے لگ جاتی ہیں ۔“
اس کی بلند خود کلامی تناوش کے کانوں تک بھی پہنچ گئی تھی ۔مگر اسے برداشت کرنا پڑا۔ گو وہ ایک رات والی نہیں تھی اور نہ اس کا کبیر سے تعلق شریعت کے دائرے سے باہر تھا مگر حقیقت تو یہی تھی کہ اس کا قیام بھی عارضی ہی تھا ۔سر جھٹک کروہ تلخ سوچوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئی ۔ناشتا کرتے ہوئے بھی اس کی سوچیں اسی مسئلہ میں سرگرداں رہیں ۔کبیر دادا کو جسم و جاں کا مالک ماننے کے بعد وہ اس سے دور نہیں جانا چاہتی تھی ۔وہ کوئی ایسا طریقہ سوچ رہی تھی کہ کبیر دادا صرف اسی کابن کر رہ جاتا ۔مگریہ بیل کسی طرح منڈھے چڑھتے دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔البتہ اتنا وہ جانتی تھی کہ کوشش کرنے والے ہی حصول کی لذت چکھتے ہیں جبکہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے والے بس مقدر کو کوستے رہتے ہیں ۔دلاور شیخ سے جان چھڑانے کے لیے اگر وہ ہاتھ پیر نہ ہلاتی تو کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو پاتی ۔اب کبیر دادا کے معاملے میں بھی وہ اتنی آسانی سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی ۔
ناشتا کر کے وہ کافی دیر وہیں بیٹھی رہی یہاں تک کہ ملازمہ برتن سمیٹنے پہنچ گئی ۔تناوش کے دماغ سے اب تک اس کی تلخ بات محو نہیں ہوئی تھی ۔
”خالہ!…. بات سنو ۔“وہ جونھی برتن اٹھا کر باورچی خانے کی طرف مڑی تناوش بول پڑی۔
”جی بی بی!“وہ رک گئی۔
”میں آج کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ کو تنبیہ کر رہی ہوں کہ اس کے بعد اگر مجھے موقع دیا یا کوئی ایسی ویسی بات کی تو نوکری سے فارغ کروا دوں گی ۔“
”اس کے علاوہ آپ کر بھی کیا کر سکتی ہیں ۔اگر ایک غریب کی روزی پر لات مار کر آپ کو خوشی ملتی ہے تو آج ہی فارغ کرادیں بی بی جی !“
”غریب کو بولنے کی تمیز بھی تو ہونا چاہیے ۔“وہ مزید برہم ہونے لگی ۔
”چلیں کچھ دن رہ گئیں تو آپ سے تمیز بھی سیکھ لوں گی ۔“عام سے لہجے میں اس پر چوٹ کرتے ہوئے وہ باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی ۔اس کے دماغ کی سوئی بس اسی بات پر اٹکی تھی کہ وہاں تناوش کا قیام ایک دو دن سے زیادہ نہیں ہونا تھا ۔کبھی کبھی تو خود تناوش کو بھی یہی لگنے لگتا کہ وہ بس ایک دو دن کی مہمان ہے،مگر پھر اس کے اندر ایک انجانا حوصلہ بیدار ہوتا جو اسے یقین دلاتا کہ کبیردادا اسے کسی صورت بھی طلاق نہیں دے گا ۔
وہ اٹھ کر ڈرائینگ روم میں آگئی ۔بڑی سکرین کی ایل ای ڈی کو آن کر کے وہ دھیمی آواز میں خبریں سننے لگی ۔وہ کافی دیر تک وہ وہیں بیٹھی رہی کیونکہ کبیر دادا نے دس بجے سے پہلے جگانے سے منع کیا تھا ۔اور اس سے پہلے اسے جگانے کی ہمت تناوش کو بھی نہیں ہورہی تھی ۔دس بجے اسے ملازمہ خواب گاہ کی طرف بڑھتی نظر آئی ۔اس نے پلیٹ میں شیشے کا گلاس بھی رکھا ہوا تھا۔
”خالہ کہاں جا رہی ہو ۔“اسے دروازے کے قریب روکتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی ۔
”صاحب کو جگانا تھا ۔“
”گلاس میں کیا ہے ؟“
”لیموں نچوڑے ہوئے ہیں ۔یہ کھٹا پانی ہی انھیں جگانے میں مدد دیتا ہے ۔“
”اچھا آپ ناشتا تیار کریں میں انھیں جگا دیتی ہوں ۔“
ملازمہ بغیر اصرار کیے بغیر لیموں پانی کا گلاس اس کے حوالے کرتے ہوئے واپس مڑ گئی ۔وہ خواب گاہ میں گھس گئی ۔کبیردادا کے بھاری سانس اس کے گہری نیند میں ہونے کا اعلان کر رہے تھے ۔اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے وہ چند لمحے اس کے چہرے کو گھورتی رہی ملگجی روشنی میں اس کا پر رعب چہرہ پرسکون دکھائی دے رہا تھا ۔
”کاش آپ پر میری ملکیت متعین ہو جائے ۔“اس کے دل کی گہرائیوں میں ایک تمنا جاگی اور اس کا ہاتھ کبیر دادا کے سر کی طرف بڑھ گیا ۔وہ اس کے گھنے بالوں میں ملائم انگلیاں کنگھی کی طرح پھیرنے لگی ۔اس کے بھاری سانس مدہم پڑنے لگے تھے ۔اور پھر اس نے آہستہ سے آنکھیں کھول دیں ۔چند لمحے خالی خالی نظروں سے تناوش کو گھورنے کے بعد اس کی نظروں کا زاویہ چھت کی طرف مڑ گیا ۔
بالوں سے ہاتھ نکال کر تناوش نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھاما اور چاہت سے بولی ۔”اٹھ جائیں نا دس بج چکے ہیں ۔“وہ سرجھٹکتا ہوا اٹھ بیٹھا ۔
تناوش نے فوراََلیموں پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھا دیا ۔
ایک ہی سانس میں کھٹا پانی معدے میں انڈیل کر وہ غسل خانے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ تناوش ڈریسنگ روم میں گھس کر اس کے لیے لباس نکالنے لگی ۔گہرے نیلے رنگ کا سوٹ الماری سے نکال کر اس نے ہینگر میں لٹکایااور ناشتا لینے چل دی ۔
ملازما ناشتا تیار کر رہی تھی ۔وہ خاموشی سے اسے ناشتا تیار کرتے دیکھتے رہی ۔اس نے جونھی ناشتا تیار کر کے ٹرالی میں ڈالاوہ بول پڑی۔
”آپ رہنے دیں خالہ!…. میں لے جاتی ہوں ۔“
وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولی ۔”آپ پہلی لڑکی ہیں جو صاحب جی کے کاموں میں اتنی دلچسپی لے رہی ہیں ،میری مانیں یہ کوشش چھوڑ دیں ۔کبیر علی خان جیسے آدمی کسی ایک کے ہو کر نہیں رہ سکتے ۔آج آپ ہیں کل دوسری ہو گی اور پرسوں تیسری ۔“
”خالہ!….ان شاءاللہ کل بھی میں ہی ہوں گی اور پرسوں بھی کوئی دوسری تیسری آپ کو نظر نہیں آئے گی ۔“یہ کہتے ہوئے وہ ٹرالی دھکیلتے ہوئے باورچی خانے سے باہر نکل آئی ۔ خواب گاہ میں داخل ہو کر اس نے میز پر ناشتا لگایا اور کھڑکی کے پردے ہٹا کر ملگجے اندھیرے کو روشنی میں تبدیل کر دیا ۔
کبیردادا ڈریسنگ روم میں کپڑے تبدیل کر رہا تھا ۔وہ اسی جانب بڑھ گئی ۔اسے سلپنگ سوٹ سنبھالتے دیکھ کر وہ بولا ۔
”ویسے اس کام کے لیے ملازمہ موجود ہے ۔“
”معلوم ہے ۔لیکن شاید آپ نہیں جانتے کہ ملازمہ کے رحم و کرم پر وہ مرد ہوتے ہیں جو کنوارے ہوں یا جن کی بیویاں پھوہڑ ہوں ۔“
”چند دنوں کی بیوی سے کیا کام لینا ۔“بالوں میں کنگھی پھیرتے ہوئے اس نے منھ بنایا ۔
”جب تک نعمت میسر ہو اس سے فائدہ اٹھاتے رہنا چاہیے ۔“
صوفے جانب بڑھتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا ۔”یہ غلط فہمی میں کب کی اپنے دماغ سے نکال چکا ہوں کہ بیوی نعمت ہو سکتی ہے ۔“
اس کے بیٹھنے تک وہ بھی اس کے پیچھے پہنچ گئی تھی ۔وہ سیب اٹھا کر دانتوں سے کترنے لگا ۔اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے تناوش پلیٹ سے انڈہ اٹھا کر چھلکا اتارنے لگی ۔
”یہ کام میں اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتا ہوں ۔“
وہ بے نیازی سے بولی ۔”اچھی عادت ہے ،لیکن جب تک میں موجود ہوں آپ کو یہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔“
”تمھاری ہر بات مجھے تھپڑ مارنے پر اکساتی ہے مگر یہ سوچ کر رک جاتا ہوں کہ دو تین دن کی مہمان ہو ۔“
”شاید یہ قیام اتنا بھی مختصر نہ ہو ۔“صاف انڈہ پلیٹ میں رکھ کر اس نے دوسرا انڈہ اٹھا لیا ۔
”تمھاری عادتیں دیکھ کر تو ایسا نہیں لگتا ۔“نہ چاہتے ہوئے بھی وہ مسکرا پڑا تھا ۔
اس کے مزید قریب ہوتے ہوئے وہ اس کے بازو سے چمٹ گئی ۔” آپ کی خدمت کرنا بری عادت ہے ۔“
”پھر وہی رومانس ۔“کبیردادا نے بیزاری بھرے لہجے میں کہا مگر اس نے تناوش کو دور نہیں کیا تھا ۔
”کمرے کے اندر تو آپ اجازت دے چکے ہیں نا ۔“
”کب؟“جوس کا گلاس خالی کرکے رکھتے ہوئے اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”رات کو جب آپ مجھے محافظوں کے سامنے ایسا کرنے سے منع کر رہے تھے اس وقت میں نے کمرے کی بابت دریافت کیا تھااور آپ خاموش رہے تھے ۔اورخاموش ہونے کا ایک ہی مطلب بنتا ہے کہ آپ کوکوئی اعتراض نہیں ہے۔“
”اگر تم کچھ دن اور یہاں رہیں تو میرے پاگل ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہے گا ۔“
وہ شرارت سے ہنسی ۔”یہ نہ ہو مجھے بھیج کر دیوانے ہو جائیں ۔“
ناشتے سے ہاتھ کھینچتے ہوئے وہ کھڑا ہو گیا ۔” صرف تم نہیں ،ہر خوب صورت لڑکی یہی سمجھتی ہے کہ اس کے بغیر مرد نہیں رہ پائے گا۔“
”واپس کس وقت لوٹیں گے ۔“وہ بھی اس کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی ۔
”اس بارے جاننا تمھارے لیے ضروری نہیں ہے ۔“کبیر دادا نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ۔
وہ جلدی سے بولی ۔”ایک منٹ رکیں ۔“
”اب کیا ہے ۔“قدم روکتے ہوئے وہ اس کی طرف مڑا ۔
اس کے قریب رک کر تناوش نے زیر لب کچھ بڑبڑا کر اس پر پھونکا ۔”اب جائیں ۔“
”تمھاری یہ حرکتیں مجھے کوفت میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔“بیزاری سے کہتے ہوئے وہ خواب گاہ سے نکل گیا ۔محافظوں نے گاڑیاں قطار میں لگائی ہوئی تھیں ۔ایک محافظ نے اسے آتے دیکھ کر عقبی نشست کا دروازہ کھول دیا ۔کار میں بیٹھتے ہوئے اچانک اس کے دماغ میں خیال آیا۔”محبت کی دعوے دار نے خواب گاہ ہی سے رخصت کر دیا ہے۔“یہ سوچتے ہوئے اس کی نظریں بے اختیار اندرونی عمارت کے دروازے کی طرف اٹھ گئی تھیں ۔تناوش دروازے سے باہر نکل کر اسی طرح دیکھ رہی تھی ۔
”بے وقوف ۔“خود کلامی کے انداز میں کہتے ہوئے اس کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہو ئی ۔گیٹ سے نکلتے ہوئے ایک بار پھر اس نے مڑ کر دیکھا وہ ابھی تک وہیں کھڑی اس کی طرف متوجہ تھی۔
_____
کبیردادا کے رخصت ہوتے ہی تناوش گھر جانے کے لیے ڈرائیور کو دیکھنے لگی۔ گیراج میں اسے وہی سفید کار کھڑی نظر آرہی تھی جس میں دودن پہلے وہ گھر تک گئی تھی ۔الٰہی بخش نامی ڈرائیور اسے گھر تک چھوڑ کر آیا تھا ۔ڈرائینگ روم میں آکر اس نے ملازمہ کو آواز دی ۔
”راحت خالہ !….بات سنیں ۔“
”جی بی بی ۔“وہ باورچی خانے سے برآمد ہوئی ۔
”الٰہی بخش کو کہو گاڑی لگائے میں نے گھر تک جانا ہے ۔“
بیزاری بھرے انداز میں سرہلاتے ہوئے وہ باہر نکل گئی ۔
اس کا ارادہ گھر سے اپنے کپڑے وغیرہ لانے کا تھا ۔گو وہ کبیردادا کو بھی کہہ کر نئے کپڑے منگوا سکتی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس بات پر وہ بیزاری کا اظہار بھی نہ کرتا مگر جانے کیوں وہ اسے اپنی کسی بھی ضرورت کے متعلق نہیں بتانا چاہتی تھی ۔
ملازمہ نے اسے گاڑی لگنے کی اطلاع دی اور وہ اٹھ کر باہر کی طرف چل دی ۔تیاری تو کوئی کرنا نہیں تھی کہ اس کے پاس ایک ہی کپڑوں کا جوڑا تھا ۔
اسے قریب آتا دیکھ کر ادھیڑ عمر ڈرائیور نے کار کا عقبی دروازہ کھول دیا ۔پچھلی مرتبہ کے بر خلاف اس دفعہ اس کے دل میں کار میں بیٹھتے ہوئے کوئی جھجک موجود نہیں تھی ۔گھر کے سامنے اترتے ہوئے اس نے ڈرائیور کو تین گھنٹے بعد آنے کا کہا اور گھر میں گھس گئی ۔ماں اسے گھر پر ہی ملی تھی ۔اسے دیکھتے ہی بشریٰ خاتون خوشی سے کھل اٹھی تھی ۔
”ارے میرے شہزادی آئی ہے ۔“ماں نے بھاگ کر اسے گلے سے لگا لیا تھا ۔اسے بھی یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بڑے عرصے بعد ماں کو مل رہی ہو ۔
”کبیر بیٹا نہیں آیا۔“ماں اس کی پیشانی چوم کر اسے ساتھ لیے چارپائی پر بیٹھ گئی ۔
”اس کے پاس اتنا وقت کہاں ماں جی ۔“
”اچھا رات کو کیا ہوا تھا ۔جب تم ملازموں کے ساتھ چلی گئی تھیں تو خود یہا ں دلھن لینے پہنچ گیا ۔“
”ہاں ….ماں وہ اصل میں بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔“تناوش جان بوجھ کر اصل بات گول کر گئی ۔
”بیٹی سچ سچ بتاﺅ خوش تو ہونا ۔“
”آپ سنائیں رات کیسی گزری ۔“اس نے ماں کی بات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
”رات تو اچھی گزری ہے ،مگر میں نے کچھ پوچھا ہے ۔“
”امی جان !….شادیوں اور معاہدوں میں فرق ہوتا ہے ۔کبیر علی خان کا احسان ہے کہ انھوں نے نکاح پڑھوا کر میری عزت رکھ لی ۔“
بشریٰ فلسفیانہ لہجے میں بولی ۔”تو کیا ضرورت تھی آسمان سے گرتے وقت کھجور میں اٹکنے کی ۔“
تناوش تلخی سے بولی ۔”جب سینے میں نفرت کی آگ جل رہی ہو تو وہ کچھ بہتر سوچنے کا موقع نہیں دیتی ۔“
”پچھتا رہی ہو ؟“بشریٰ نے دکھی دل سے پوچھا ۔
”بالکل بھی نہیں ،بس ڈرتی اس بات سے ہوں کہیں وہ مجھے طلاق نہ دے دیں ۔“
”باﺅلی تو نہیں ہوئی ہو۔“ بشریٰ نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔”ایک غنڈے کے ساتھ ساری زندگی گزارنا چاہتی ہو ۔اس سے بہتر تھا اسی دلاور شیخ سے شادی کر لیتیں ۔تمھارا بھائی تو نہ جاتا ۔“
”ماں جی !….میں اس قابلِ نفرت شخص کے ساتھ ساری زندگی کیسے گزارتی ۔“
”اور یہ کیسا ہے ۔“
”بتایا تو ہے ،ہمیشہ اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ۔“
”بے وقوف حرا م کی دولت کی چکا چوند بس عارضی خوشی فراہم کرتی ہے ۔“
تناوش نے منھ بنایا۔”اگر مجھے اس کی دولت سے کچھ لینا ہوتا تو گھر سے اپنے پرانے کپڑے سمیٹنے نہ پہنچ جاتی ۔“
”پھر کیا بات ہے ۔“
”ماں جی !….آپ نے ابوجان سے پسند کی شادی کی تھی نا ں؟“وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔
”ہاں بیٹی !….مگر وہ بے وفا ہمیشہ ساتھ رہنے کا عہد نہ نبھا سکا ۔“بشریٰ اپنے محبوب شوہر کی یاد میں کھو گئی تھی ۔
”ابو جان !….آپ کو کیوں اتنا پیارا تھا ماں جی !“
بشریٰ اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے شفقت سے بولی ۔”کسی کا پیارا لگنا اختیار میں تھوڑی ہوتا ہے پگلی ۔“
تناوش نے معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔”مطلب آپ جانتی ہیں کہ کسی کو چاہنا بے اختیاری فعل ہے ۔“
”ہاں جانتی ہوں ،مگر برابری اور مسابقت بھی کوئی حیثیت رکھتی ہے چندا!…. کبیر علی خان بہت بڑی شخصیت ہے اور ہم نہایت حقیر ہم کبھی اس کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے ۔تم اس کے نزدیک ایک کھلونے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ہو ۔اور جب کھلونے سے دل بھرجایا کرتا ہے تو اسے توڑ دیا جاتا ہے یا کسی کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔“
وہ عزم سے بولی ۔”فکر نہ کریں ماں جی !….اگر میں اس کے مقا م تک نہیں پہنچ سکتی تو اسے اپنی حیثیت تک لے آﺅں گی ۔“
”بہتر تو یہی ہو گا کہ طلاق لے کر دوبارہ اپنا گھر بسا لو ۔اگر لوگوں کی باتوں سے ڈرتی ہو تو ہم یہ گھر بیچ کر کہیں اور چلے جائیں گے۔اب تو یوں بھی اس موذی دلاور شیخ سے جان چھوٹ گئی ہے ۔“
ماں جی !….شریف لڑکیاں طلاق کا مطالبہ نہیں کیا کرتیں ۔“
بشریٰ ہنسی ۔”ٹھیک ہے جی شریف لڑکی نہ کرے مطالبہ ۔بدمعاش لڑکا خود ہی طلاق دے دے گا ۔“
”بد دعائیں تو نہ دیں ماں جی !….“
”اچھا کچھ نہیں کہتی میری گڑیا !…. یہ بتاﺅ کھانا کھاﺅ گی کہ نہیں ۔میرا تو دل نہیں چاہ رہا تھا اس لیے کچھ بھی نہیں بنایا ۔اگر تمھارا دل کر رہا ہے تو کچھ اچھا بنا لیتی ہوں ۔“
”ہاں بالکل کھاﺅں گی ،کوئی اچھی سی سبزی بنا لیں اتنی دیر میں میں اپنا سامان سمیٹ لوں ۔“
٭٭٭
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *