Rakhail by Riaz Aqib Kohler NovelR50760 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39
No Download Link
503.3K
53
Rate this Novel
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode01 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode02 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode04 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode05 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode10 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode13 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode14 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode15 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode16 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode17 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode18 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode20 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode21 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode22 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode24 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode25 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode27 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode28 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode30 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode32 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode34 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode35 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode36 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode37 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode38 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39 (Watching)Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode40 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode43 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode44 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode45 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode46 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode47 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode48 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode50 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode51 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode52 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39
چھوڑ دو ۔“کبیر دادا رکے بغیر آگے بڑھ گیا ۔ڈرائیوروں نے گاڑیاں موڑ کر کھڑی کی ہوئی تھیں ۔عظیم نے آگے بڑھ کر عقبی نشست کا دروازہ کھول دیا ۔کبیردادا وہاں بیٹھے بغیر دوسری جانب گھوم گیا ۔یقینا اس نے تناوش کے لیے خالی دروازہ چھوڑا تھا ۔تناوش خاموشی سے اندر گھس کر سر جھکا کر بیٹھ گئی ۔کبیر دادا کے بیٹھتے ہی عظیم ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا اور شہزاد نے کار آگے بڑھا دی ۔
”دیکھ لیا کیا کہا تھا ۔“امتیاز اپنے اندازے کی درستی پر بخش کو مخاطب تھا ۔
”یار ،پتا نہیں تمھیں کیسے اندازہ ہو جاتاہے ۔“بخش نے کھسیانے انداز میں سر ہلایا۔
امتیاز فلسفیا نہ لہجے میں بولا ۔”جگر ،کبیر دادا اتنا پریشان اور بد حواس اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔اور انسان کی ایسی حالت تب ہی ہوتی ہے جب اس کی عزت پر بنی ہو ۔“
”ویسے یہ نمازن ہر وقت کسی نہ کسی کے ہاتھوں پھنسی رہتی ہے ۔“بخش بھی امتیاز کی تقلید میں تناوش کو نمازن کہنے لگا تھا ۔
”یہ بھی تو دیکھو کہ اسے جس نے بھی میلے ہاتھ سے چھونے کی کوشش کی وہ عبرت ناک انجام سے دو چار ہواہے ۔دلاور شیخ ،خاور شیخ اور ا ب فاصی ہتھ چھٹ جیسا آدمی بھی نہ بچ پایا۔“
بخش نے کہا ۔”ویسے فاصی کی موت پر کافی ہنگامہ کھڑا ہوگا ۔“
امتیاز ہنسا ۔”کبیردادا ،ایسے ہنگاموں کو پاﺅں کی ٹھوکر وں میں اڑا دیتا ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“بخش نے اس کی تائید میں سر ہلادیا تھا ۔
کار کے آگے بڑھتے ہی عظیم نے پوچھا ۔”دادا کہاں جانا ہے ۔“
کبیردادا نے کہا ۔”تناوش کے گھر ۔“
تناوش کا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔اس سے پہلے اس کے دل میں ذرا سی امید بقایا تھی کہ شاید اسے خوابوں کی جنت میں جانے کا موقع مل جائے ،مگر اس کی یہ خواہش شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکی تھی ۔
تمام اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے ۔اس سے پہلے ہمیشہ تناوش نا محسوس انداز میں کھسکتے ہوئے کبیر دادا کے ساتھ لگ کر بیٹھ جایاکرتی تھی ،آج کبیردادا کا رواں رواں دستِ دعا بنا اس کی قربت کا متمنی تھا ۔مگر وہ سیٹ کے دوسرے کنارے سر جھکائے بیٹھی تھی ۔اس کے وجود سے اٹھتی ہوئی بھینی بھینی خوشبو کبیر دادا کے دل کی حسرتوں کو بڑھا رہی تھی ۔
تناوش کے گھر تک وہ خاموش بیٹھے رہے تھے ۔وہ کوشش کے باوجود اس سے کوئی بات نہیں کر سکا تھا ۔اورنہ وہ چاہتے ہوئے اپنے دل کا حال بیان کر سکی تھی ۔
تناوش کے گھر کے سامنے کار رکتے ہی وہ نیچے اترتے ہوئے بولا ۔”تم لوگ یہیں انتظار کرو۔“
اس کی دیکھا دیکھی تناوش بھی نیچے اتر گئی تھی ۔دروازے کے پٹ میں جھری دیکھتے ہوئے وہ دستک دینے کا ارادہ ترک کر کے دروازے کو دھکیلتا ہوا اندر گھس گیا ۔تناوش بھی اس کے پیچھے اندر داخل ہو گئی ۔مگر اسے کبیر دادا کے اپنے گھر میں داخل ہونے حیرانی ضرور ہو رہی تھی ۔
”شاید ،امی جان کو میری شکایت کرنے جا رہا ہو ۔“اس نے سوچا ،مگر اس کے ساتھ ہی اسے خیال آیا کہ۔” آخر کیا شکایت کرے گا ؟….میں کوئی اپنی مرضی سے تو وہاں نہیں گئی تھی۔ وہ مجھے اغواءکر کے لے گئے تھے ۔اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ۔“ذہن کے گھوڑے دوڑاتے وہ اس کے پیچھے چلتی رہی ۔بشریٰ کمرے ہی میں گھسی تھی ۔جونھی کبیردادا تناوش کو لیے گلا کھنکارتا ہوا اندر داخل ہوا ،پریشانی سے سر پکڑے بیٹھی بشریٰ خوشی سے چیختے ہوئے بیٹی کی طرف بڑھی ۔
”تم کہاں تھیں میری جان ۔“وہ ماں کے ساتھ لپٹ کر خاموشی سے آنسو بہانے لگی ۔ اتنا قریب آکر اس کا محبو ب پھر واپس لوٹنے والا تھا ۔
کبیردادا نے بھی بشریٰ کی بات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ تناوش کے اغواءکی بابت جان کر وہ پریشان ہوجائیں ۔
بشریٰ بیٹی کو تسلی بھرے چند الفاظ کہہ کر کبیر دادا کی طرف متوجہ ہوئی ۔
”تو اسے آپ لے گئے تھے ۔“کبیر دادا کی خاموشی کو اثبات جانتے ہوئے اس کی بات جاری رہی ۔”مگر کیوں ؟….آپ نے تو اسے دھتکار دیاتھا پھر ساتھ لے جانے کا خیال کیسے آیا ،جس لڑکی کو آپ گھر نہیں رکھ سکتے اس کے ساتھ عیاشی کرنے اور اس کی معصومیت سے فائدہ اٹھانے کی اجازت آ پ کو کس نے دی ہے ۔کیا اسی لیے ہماری مدد کی تھی کہ اس کے بعد ہمارا تماشا بنا دو ،آپ سے تو وہ دلاور شیخ ہی بہتر تھا جو میری بیٹی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنانا چاہتا تھا….“
”ماں جی نہیں ….“تناوش نے تڑپ کر ماں کو روکنا چاہا ،جبکہ کبیر دادا ششدر کھڑا اس کی باتیں سن رہا تھا ۔وہ ساری باتیں اس کے سر سے کافی اوپر گزر رہی تھیں ۔
”تم خاموش رہو ۔“بیٹی کو جھڑک کر وہ کبیردادا کی طرف متوجہ ہوگئی ۔
” آپ بھرے مجمع میں نکاح پڑھوا کر میری چاند سی معصوم بیٹی کودلھن بنا کر لے گئے اور چار دن کسی گاہک کی طرح اسے نوچ کھسوٹ کر دھتکار دیا ۔کیا آپ کے آفر کیے ہوئے روپے میری بیٹی کے دکھ درد کا درمان ہو سکتے ہیں ۔جانتے ہو وہ معصوم دو دن سے کیسے تڑپ رہی ہے۔ کیسے گڑگڑا رہی ہے کہ آپ کے پاس جا کر منت کروں کہ میری بیٹی کو بیوی نہیں ملازمہ ہی بنا کر رکھ لو ،تنخواہ بھی نہیں لے گی ،کسی حق کا مطالبہ نہیں کرے گی بس اسے خود سے دور نہ کرو ۔کیا جواب دیتی اپنے جگر کے ٹکڑے کو ،کیسے بہلاتی ،کیسے تسلی دیتی ۔جبکہ کسی محبت کرنے والے کے دل کو تسلی تو اس کے محبوب کا ساتھ ہی دے سکتا ہے نا اور یہاں معاملہ ایک بڑے آدمی کا تھا جسے نہ تو لڑکیوں کی کمی ہے اور نہ کسی پر خلوص محبت سے کوئی غرض ۔“بشریٰ سانس لینے کو رکی اور پھر اس کی بات جاری رہی ۔
”اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ چند ٹکے دے کر میری بیٹی کے دکھوں کا مداوا کر دیں گے یا کوئی گاڑی بنگلہ دے کر ہماری جھولی خوشیوں سے بھر دیں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے ۔ہم غریب ضرور ہیں مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ۔خاص کر حرام کی دولت کا ایک روپیا نہیں چاہیے ہمیں ….اور اب گزارش یہ ہے کہ میری بیٹی کا پیچھا چھوڑ دو اسے اپنے دکھوں اور غموں کے ساتھ رہنے دو ۔جتنی عیاشی کرنا تھی آپ نے کر لی ،میری بیٹی نے پورا پورا معاوضا ادا کر دیا ہے ۔امید ہے میری درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے آئندہ آپ یہاں نظر نہیں آئیں گے ۔“
”امی جان !“تناوش دکھ بھرے لہجے میں چیخ پڑی تھی ۔
”بکواس بند کرو ،ورنہ اپنے ہاتھوں سے تمھارا گلا گھونٹ دوں گی ۔“بشریٰ کو سخت غصہ آیا ہوا تھا ۔”یہ بے حیائی اوربے غیرتی نہیں تو کیا ہے ،دو دن پہلے گھر سے نکالا ،آج دل چاہا تو پھر اٹھا کر لے گیا اور چند گھنٹوں بعد دوبارہ واپس چھوڑنے آگیا ۔کیا طوائف ہو تم یا اتنی بے غیرت ہو گئی ہو کہ جسے اپنی عزت حیا اور شرم کا کوئی پاس نہیں ہے ۔“
”مجھے بات کرنے کی اجازت ہے خالہ ۔“بشریٰ کے ہونٹوں کی حرکت رکتے ہی اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا ۔
”آپ کو بات کرنے سے کون روک سکتا ہے صاحب جی !….باقی آپ نے جو فلسفہ بیان کرنا ہے وہ مجھے پہلے سے معلوم ہے ،ہر زور آور کا آخری فیصلہ یہی ہوتا ہے کہ، مستند ہے اس کا فرمایا ہوا۔“
”خالہ جان !….آپ مجھے الزام دیے جائیں گی یا اپنی بیٹی سے کچھ پوچھنے کی زحمت بھی کریں گی ۔آپ کو حرام کا ایک روپیا نہیں چاہیے اور آپ کی بیٹی میری تجوری سے کروڑوں روپے نکال کے لائی ہوئی ہے ۔آپ کو میری ملازمہ بن کر رہنے کا کہنے والی خود کوٹھی اور کار ملنے کی خوشی میں مجھے ٹھوکر مار کر آئی ہے ۔اسے عیش و آرام کی زندگی درکار تھی کبیر کا ساتھ نہیں ۔اور پھر اتنی جرّات بھی مفقود ہے کہ میرا سامنا کر سکے ۔اور جہاں تک آج اسے ساتھ لے جانے کی بات ہے تو یہ خود آپ کو بتا دے گی کہ اسے کیسے اغواءکیا گیا ۔ میں تو بس بروقت اس کی جان بچانے پہنچا تھا اور وہیں سے سیدھا یہاں لے آیا۔“
”آپ ٹھیک نہیں کہہ رہے ہیں ۔“آنکھوں میں حیرانی بھرے تناوش گلو گیر لہجے میں بولی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبیر دادا اس پر چوری جیسا گھٹیا الزام لگائے گا ۔ ”میں اللہ پاک کی قسم کھاتی ہوں میں نے آپ کی تجوری کو ایک بار بھی کھول کر نہیں دیکھا ۔اور میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے جب آپ پاشا بھائی کو کہہ رہے تھے کہ کسی بھی قیمت پر مجھ سے آپ کی جان چھڑوا دیں ۔ اسی وجہ سے پاشا بھائی نے کوٹھی وغیرہ کی بات کی تھی لیکن میں نے منع کر دیا ۔ آپ ابھی پاشا بھائی سے تصدیق کر سکتے ہیں ۔“اس کی سیاہ آنکھیں آبشار بن گئی تھیں ۔ اس کا معصوم ، سیدھا اور سچا لہجہ ایسا نہیں تھا جو کبیر دادا کے دل پر اثر نہ کرتا ۔وہ الجھ گیا تھا ۔یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ پاشا اس سے غلط بیانی کرتا یا اس کی تجوری سے پیسے نکالتا ،پھر وہ خود اپنے کانوں سے تناوش کے الفاظ سن چکا تھا ۔یہ ساری الجھن پاشا ہی دور کر سکتا تھا ۔یا تو تناوش ،عیش و آرام کی زندگی گزارنے کی خواہش کو ماں سے چھپا کر کوئی کھیل کھیل رہی تھی یا پاشا کوئی ڈنڈی مار رہا تھا ۔ تناوش کا لہجہ اور انداز ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے جھوٹا سمجھ سکتا ۔پاشا سے اصل بات معلوم کرنے کی خواہش میں وہ تناوش کی بات کا جواب دیے بغیر ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے نکل گیا
________
تناوش تیز سسکی بھرتے ہوئے ماں سے لپٹ گئی تھی ۔”چلے گئے ہیں نا ،اب کبھی نہیں لوٹیں گے ۔میں جانتی ہوں وہ کبھی نہیں آئیں گے ۔وہ مجھے ملازمہ رکھنے پر بھی راضی نہیں ہیں ماں جی ۔ان کے نزدیک میری کوئی اہمیت نہیں ہے ۔وہ تو بس اپنی انا اور اپنی زبان کی پاسداری میں میری عزت بچانے آئے تھے کیوں کہ مجھے کسی دوسرے کے ہاتھوں نقصان پہنچنے پر ان کی ناک کٹ جاتی اور وہ اپنی اونچی ناک بچانے کے لیے مجھ پر احسان کرنے چلے آئے ۔“
”چپ کر جا میری جان ،اتنا نہیں روتے ۔“بشریٰ اسے اپنے ساتھ لپٹا کر تسلی دینے لگی ۔مگر دل بے ایمان تسلیوں سے کہاں مانا کرتا ہے ۔
”امی جان ،آپ کو اتنے سخت الفاظ تو استعمال نہیں چاہئیں تھے نا ۔پہلے مجھ سے پوچھ تو لیتں کہ میں ان کے ساتھ کس مقصد سے تھی ۔وہ تو مجھے بچانے آئے تھے ۔ایک غلیظ ،بدکردار درندے کے چنگل سے مجھے چھڑانے آئے تھے ،آپ کی بیٹی کی طرف بڑھنے والا گندہ ہاتھ کاٹنے آئے تھے ،آپ کی بیٹی کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھوں کو پھوڑنے آئے تھے اور آپ نے ان کی بے عزتی کر دی ۔جانتی نہیں آپ کی بیٹی کتنی بد نصیب ،سبز قدم اور جنم جلی ہے ۔پیدا ئش کے ساتھ ایسی پیچیدگیاں لائی کہ آپ دوبارہ ماں ہی نہ بن سکیں ،بابا کہنا سیکھاتو پیار کرنے والے ابو جان منھ موڑ گئے ،جوان ہوئی تو پیارے بھیا روٹھ گئے اور شادی کے ایک ہفتے بعد ماں کے دروازے پر آن بیٹھی ….“
وہ سسکیاں بھرتے کبھی کبیر دادا کی شکایت کرنے لگتی ،کبھی ماں کو گلہ کرنے لگتی اور کبھی اپنی بدنصیبی کا رونا رونے لگتی ۔ بشریٰ بھی آنکھوں میں پیدا ہونے والی نمی کو روکے اسے مسلسل پچکار کر تسلیاں دے رہی تھی ۔
”ماں جی کیا میں خوب صورت نہیں ہوں ۔“ہچکیاں بھرتے ہوئے اس نے بے ساختہ پوچھا۔
”پگلی نہ ہو تو ….تم تو شہزادی ہو شہزادی ۔“
”پھر انھیں اچھی کیوں نہیں لگتی ماں جی ۔“
”اچھا لگنے کا انحصار صورت پر تو نہیں ہوتا میری جان ۔اور چھوڑو جانے دو اگر اسے تمھاری ضرورت نہیں تو تم کیوں خود کو ہلکان کر رہی ہو ۔“
”مجھے تو ان کی ضرورت ہے نا ماں جی ۔“اس نے گلو گیر لہجے میں کہا ۔
”وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے میری جان ،کچھ عرصہ بعد تمھیں اس بے وفا کا نام بھی بھول جائے گا ۔یہ شہر ہم یوں بھی چھوڑ دیں گے ۔اور پھردیکھ لینا میں اپنی شہزادی کے لیے کیسے راج کمار کا رشتا ڈھونڈتی ہوں ۔اس کے ساتھ مل کر نئی زندگی گزارنا ۔“
تناوش ہولے سے بڑبڑائی ….
زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا
گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہو گا
جس کے ہونے سے میرا سانس چلا کرتا تھا
کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارا ہو گا
”اب اپنی ان پڑھ ماں کو شاعری سنائے گی ۔“بشریٰ نے ہنس کر اس کا موڈ ٹھیک کرنا چاہا،مگر وہ آنکھیں نم کیے ماں کی گود میں لیٹی رہی ۔
٭٭٭
”سر، کام ہو گیا ہے ۔“ ایس پی کو شکیل احمد کی کال موصول ہوئی ۔
”شاباش ….“تحسین آمیز نعرہ بلند کرتے ہوئے اس نے پوچھا ۔”اور تم اس وقت کہاں ہو ۔ذرا صورت حال پر روشنی ڈالو۔“
شکیل تفصیل بتاتا ہوا بولا۔”وہیں کوٹھی میں موجود ہوں ۔جونھی کبیر دادا اپنا کام ختم کر کے چلا گیا میں فوراََ اندر گھس گیا ۔فاصی صاحب کے دونوں محافظ اور چوکیدار بے ہوش پڑے ہیں ایک خوفزدہ ملازمہ تھرتھر کانپتی باورچی خانے میں چھپی ہے ،جبکہ فاصی صاحب باقی نہیں رہے ۔ کبیر دادا نے بہت درندگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔اس کے دونوں بازو توڑ دیے، آنکھیں پھوڑ دیں ۔ بے چارے کی لاش اوندھے منھ بیت الخلا میں پڑی ہے ۔“
”تم تھوڑی دیر وہیں ٹھہرو ،میرا ایک آدمی آرہا ہے پھر تمھارا کام ختم ہو جائے گا ۔اور فاصی گینگ کا نمبر ٹو بننے کی پیشگی مبارک باد قبول ہو ۔“
”بہت بہت شکریہ سر ۔“شکیل احمد خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔
مزید کوئی بات کیے بغیرایس پی نے رابطہ منقطع کیا اور ایک دوسرا نمبر ملانے لگا ۔
”جی سر ۔“کال فوراََ ہی وصول کر لی گئی تھی ۔
”وقت آگیا ہے ،وہ اندر ہی ہے ۔بے ہوش پڑے محافظوں سے کوئی تعرض نہ کرنا ۔ ملازمہ اور شکیل کا ٹکٹ کاٹ دو ۔“
”ٹھیک ہے سر ۔“کہتے ہی رابطہ کاٹ دیا گیا ۔
ایس پی گھومنے والی کرسی سے ٹیک لگا کر اس کی جوابی کال کا انتظار کرنے لگا ۔دس منٹ بعد ہی اسے اطلاع مل گئی تھی ۔
”کام ہو گیاہے ۔“مختصر الفاظ میں کہتے ہی کال کٹ گئی تھی ۔
”واہ ،بہت خوب۔“نعرہ بلند کرتے ہوئے وہ اخلاق حسین کا نمبر ملانے لگا ۔
”جی جناب ۔“اسے اخلاق حسین کی آواز کے ساتھ لوگوں کا شور بھی سنائی دے رہا تھا ۔
ایس پی خوشی سے چہکا ۔”بے چارہ فاصی اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔“
”اوہ نو ….بہت افسوس ہوا یہ سن کر ،کیسے ہوا یہ سب ؟“اس نے دائیں بائیں بیٹھے آدمیوں کو سنانے کی غرض سے جان بوجھ کر ایسے فقرے ادا کیے تھے ۔
”سارے ثبوت ختم کر دیے ہیں ۔فاصی کے دونوں محافظوں کو کبیر دادا بے ہوش چھوڑ کر گیا ہے لازما دونوں نے اس کی شکل دیکھی ہو گی ۔وہی بتائیں گے کہ یہ کام کس کا ہے ۔تم بس اہم آدمیوں کو لے کر موقع پر پہنچو ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر اخلاق حسین نے کال کاٹ دی ۔اس کے ساتھ ہی وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر بیٹھ گیا ۔نوشاد اور نقیب اللہ جان اس کے دائیں بائیں بیٹھے تھے ۔
”کیا ہوا شاہ جی ۔“نوشاد آفریدی نے انجان بنتے ہوئے پوچھا ۔
”بہت برا ہوا یار ،ایس پی ضمیر حسین صاحب بتا رہے ہیں فصیح الدین کو ان کی اورنگ زیب کالونی والی کوٹھی میں کسی نے بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔ہمیں وہاں جانا چاہیے ۔“
”چلیں ۔“نوشاد آفریدی فوراََ کھڑا ہو گیا ۔چند منٹ بعد سرگوشی میں یہ بات تمام گینگ کے بڑوں تک پہنچ گئی تھی ۔تقریب کو عورتوں کے حوالے کر کے وہ اپنی اپنی کار میں مطلوبہ سمت کو روانہ ہو گئے ۔پولیس وہاں پہلے سے پہنچی ہوئی تھی ۔فصیح الدین کے دونوں محافظ اور چوکیدار پولیس کی حراست میں تھے ۔ایس پی بہ ذات خود وہاں موجود تھا ۔اس نے تمام کو پہلے تو فصیح الدین کی مسخ لاش دکھائی اور پھر ایک علاحدہ کمرے میں لے جاکر بولا ۔
”نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ کام کبیر دادا کا ہے ۔فصیح الدین کے دونوں محافظ ہمیں بے ہوش پڑے ملے ۔انھی سے پتا چلا کہ کبیر دادا اپنے محافظوں کے ہمراہ وہاں آیا تھا۔دونوں محافظوں کو بھی کبیر دادا ہی نے بے ہوش کیا ۔“
”یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔“پاشا نے نفی میں سر ہلایا ۔”کبیر دادا کسی پر چھپ کر وار نہیں کرتے۔“
”پاشا ٹھیک کہہ رہا ہے ،مجھے بھی یہ کوئی سازش لگتی ہے ۔“کاشف راجپوت نے فوراََ اس کی تائید کی تھی ۔
”کیا بچکانہ باتیں کر رہے ہو یا ر۔“ایس پی نے منھ بنایا۔”دونوں محافظوں کی اتنی جرّات کہ بغیر کسی خوف کے کبیر دادا کا نام بک دیں ۔“
”ایک منٹ میں دادا سے بات کرتا ہوں ۔“پاشا موبائل فون نکال کے کبیر دادا کا نمبر ملانے لگا ۔
”فوراََ میرے پاس پہنچو ۔“کال وصول کرتے ہی کبیر دادا بغیر رسمی کلمات کی ادائی کے بولا۔
”ٹھیک ہے دادا آرہا ہوں ،لیکن ایک بری خبر ہے فصیح الدین کو کسی نے قتل کر دیا ہے۔“
”میں نے کیا ہے ،تم یہاں پہنچو بہت ضروری بات کرنا ہے ۔“
”ٹھیک ہے دادا میں آرہا ہوں ۔“پاشا فون جیب میں ڈالتا ہوا ایس پی کی جانب متوجہ ہوا ۔
”دونوں محافظ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔آپ انھیں پولیس کے پاس نہ جانے دیں ۔“
ایس پی کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری ۔”پاشا صاحب ،آپ کے کہنے سے پہلے ہی میں دونوں محافظوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر چکا ہوں ۔“
”میں دادا کے پاس جا رہا ہوں اور میرا خیال ہے کل کے دن بیٹھک رکھ لیں ۔“پاشا مشورہ چاہنے کے انداز میں شہاب قصوری کی طرف متوجہ اورشہاب قصوری کے سر ہلانے پر وہ باہر نکل گیا ۔
شہاب قصوری کہنے لگا ۔”تقریباََتمام ہی یہاں موجود ہیں ۔کل ایک بجے اس مسئلہ پر بات چیت ہو گی ۔“
”فصیح الدین کی جگہ ،تیمور علی آ جائے گا ۔“نوشاد آفریدی نے مشورہ چاہا ۔”وہ فصیح الدین کا نمبر ٹو تھا ۔“
شہاب قصوری نے سر ہلایا۔”ٹھیک ہے ،اگر تمام راضی ہیں تو اسی کو بانٹ دو ۔“
اخلاق حسین نے لقمہ دیا ۔”یہ ضروری بھی ہے ،ورنہ تو باقی کے تمام سربراہ اس کے گینگ پر قبضہ کرنا چاہیں گے اور خطرہ ہے کہ اس سے جھگڑا جڑ پکڑے گا ۔“
”میں اسے سمجھا دیتا ہوں ۔“ایس پی کمرے وہاں سے نکل کر اس طرف چل دیا جہاں تیمور علی موجود تھا ۔ایس پی کے علاوہ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اس تمام منصوبے میں تیمور علی پیش پیش رہا تھا ۔اس کا مطمح نظر گینگ کی سربراہی کا حصول تھا ۔اور اب ایس پی اسے یہی خوش خبری سنانے جا رہا تھا ۔اس بارے تو ایس پی نے نوشاد آفریدی اور اخلاق حسین کو بھی بے خبر رکھا تھا ۔
٭٭٭
کبیر دادا کو بے چینی کے عالم میں ڈرائینگ روم کے اندر ٹہلتے دیکھ کر پاشا نے سمجھا شاید وہ فصیح الدین کے قتل کی وجہ سے پریشان ہے ۔
”کیا ہوا تھا ۔“اس نے اندر داخل ہوتے ہی پوچھا ۔
اسے دیکھتے ہی کبیر دادا کے قدم رک گئے تھے ۔”تجوری سے رقم کس نے نکالی تھی ۔“ اس نے پاشا کے سر پر بم پھوڑا ۔
”یقینا ،فاصی ہتھ چھٹ نے تو نہیں نکالی ہو گی ۔“پاشا اطمینان بھرے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا ۔
”کھڑے ہو کر بات کرو ۔“کبیر دادا کے لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ پاشا کا دل نا خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔
”جی ۔“وہ ہونٹ بھینچتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔
”تجوری سے پیسے کس نے نکالے تھے ؟“کبیردادا نے سوال دہرایا۔
”اس بارے ہم پہلے بات کر چکے ہیں ۔“
”میں سچ سننا چاہتا ہوں ۔“کبیر دادا کی آنکھوں سے چھلکتی سرخی نے پاشا کو احساس دلادیا کہ اسے کچھ نہ کچھ سن گن ضرور تھی ۔
”تمام رقم اوپر میری الماری میں پڑی ہے ۔“اس نے سچ اگل دیا ۔
”کیا تناوش نے طلاق کا مطالبہ کیا تھا اور کوٹھی ،کار وغیرہ کے حصول کی خواہش ظاہر کی تھی ۔“ کبیر دادا نے اگلا سوال پوچھا ۔
پاشا کو معلوم ہو گیا کہ تمام بات کھل گئی ہے ۔یقینا اسے تناوش ہی نے ساری بات بتائی تھی ۔”نہیں ،وہ آپ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی ،یہ سارا میرا ہی منصوبہ تھا۔مجھے اس کا آپ کے قریب رہنا پسند نہیں تھا ،آپ بھی اس سے جان چھڑا نا چاہتے تھے ۔مجبوراََ مجھے یہ ڈراما ترتیب دینا پڑا ۔“پاشا نے لولے لنگڑے دلائل کا سہارا لینے کے بجائے حقیقت بیان کر دی ۔
”یاد ہے ،میں نے کیا کہا تھا کہ اسے خراش نہیں آنا چاہیے ۔“کبیردادا کی آواز میں شامل غصہ اس کے لیے غیر متوقع تھا ۔
”ہاں ….“پاشا نے کچھ کہنے کے لب کھولنے چاہے ،مگر چہرے پر پڑنے والے تھپڑ نے اسے بات پوری نہیں کرنے دی تھی ۔
”گھٹیا انسان ،اس کی حفاظت کس نے کرنا تھی ۔“کبیر دادا کے اگلے تھپڑ نے اسے فرش پر اچھال دیا تھا ۔
وہ قالین سے اٹھ کر باچھوں سے رستا خون صاف کرنے لگا ۔
”تمھاری بے پروائی اور گندے منصوبے کی وجہ سے اس غلیظ فاصی نے میری بیوی کو بے لباس کیا ،اس کے پاکیزہ بدن کو چھوا ،جس کے بال کبھی غیر مرد نے نہیں دیکھے وہ کپڑوں کے بغیر اپنی عزت بچانے کی بھیک مانگ رہی تھی ۔اور یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے تمھاری وجہ سے۔“کبیر دادا نے اس پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی ۔پاشا نے ان ٹھوکروں سے بچنے کی کوشش نہیں تھی ۔وہ چپ چاپ زمین پر پڑا مار کھاتا رہا ۔فصیح الدین کی موت کا معمہ بھی حل ہو گیا تھا ۔اچانک راحت خالہ باورچی خانے سے نکل کر بھاگی ۔
”صاحب جی !….خدا کے واسطے بس کریں ۔وہ مر جائے گا ۔بس کریں صاحب جی۔“وہ کبیر دادا کے قدموں سے لپٹ گئی ۔
وہ گہرے گہرے سانس لیتا ہوا پیچھے ہٹا ۔”راحت خالہ اس بے غیرت کوکہو ،میرے گھر سے دفع ہو جائے اور اس کے بعد میں اس کی منحوس صورت نہیں دیکھنا چاہتا ۔“
راحت خالہ روتے ہوئے بولی ۔”ابھی چلا جاتا ہے صاحب جی ، آپ کمرے میں جا کر آرام کریں ۔“
مگر کبیر دادا تیز قدموں سے باہر کی طرف چل پڑا ۔اس کے دل میں ہلچل مچی ہوئی تھی ۔تناوش نے بے وفائی نہیں کی تھی ،اس نے نہ تو کبیر دادا کو جھوٹ بولا تھا اور نہ اسے دھوکا دیا تھا ۔اسے دولت نہیں کبیر دادا کا ساتھ درکار تھا ۔ایک دکھ دینے والی سوچ اس کے دماغ میں گونجی۔ ”جانے وہ کتنا روتی رہی ہو گی ،کیسے مجھے آوازیں دیتی رہی ہو گی ،کیسے کیسے صفائیاں پیش کرتی رہی ہو گی اور میں اسے دھوکے باز سمجھ کر کوستا رہا ۔مرسڈیز میں بیٹھ کر وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھا ،عظیم اس کے ساتھ جانے کے بھاگا تھا ،مگر وہ اسے ہاتھ سے واپس جانے کا اشارہ کر کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔
ڈرائینگ روم میں راحت خالہ چیختے ہوئے ملازموں کو بلا رہی تھی ۔عظیم اسی طرف بڑھ گیا ۔وہاں پاشا کو زخمی حالت میں بے ہوش پڑا دیکھ کر وہ حیران رہ گیا تھا ۔
”کیا ہوا ۔“اس نے پریشان ہو کر پوچھا ۔
”سیڑھیوں سے گر گئے ہیں ۔اب انھیں کمرے میں لے جانا ہو گا ۔“راحت خالہ نے اصل بات بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
عظیم بچہ نہیں تھا کہ اس کے جھوٹ سے بہل جاتا مگر اس نے کریدنے کے بجائے ملازموں کو ،پاشا کو اٹھانے کا اشارہ کیا ۔تھوڑی دیر بعد انھوں نے پاشا کو اس کے کمرے میں منتقل کر دیا ۔راحت خالہ وہیں اس کی تیمارداری کرنے لگیں ۔
٭٭
جاری ہے
