Rakhail by Riaz Aqib Kohler NovelR50760 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23
No Download Link
503.3K
53
Rate this Novel
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode01 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode02 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode04 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode05 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode10 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode13 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode14 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode15 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode16 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode17 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode18 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode20 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode21 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode22 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23 (Watching)Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode24 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode25 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode27 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode28 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode30 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode32 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode34 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode35 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode36 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode37 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode38 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode40 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode43 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode44 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode45 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode46 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode47 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode48 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode50 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode51 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode52 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23
”دادا !….آپ سے بات کرنا ہے ۔“کال وصول کرنے کا بٹن دباتے ہی کبیردادا کے کانوں میں پاشا کی لجاجت بھری آواز پڑی ۔
کبیر دادا نے پوچھا ۔”کہاں پر ہو ۔“
”اپنے جواءخانے والے دفتر میں بیٹھا ہوں ۔“
”آدھے گھنٹے تک آ رہا ہوں ۔“یہ کہتے ہی وہ ڈرائیور کو پاشا کے ہوٹل کی طرف جانے کا کہنے لگا ۔ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ پاشا کے دفتر میں داخل ہو رہا تھا ۔اسے دیکھتے ہی پاشا نے کھڑے ہو کر استقبال کیا اور اپنی کرسی چھوڑ دی ۔کبیردادا کی موجودی میں وہ کبھی بھی اس کرسی پر نہیں بیٹھا تھا ۔
کبیردادا گھومنے والی کرسی پر بیٹھتے ہی مستفسر ہوا ۔”جی فرمائیں ۔“وہاں وہ دونوں اکیلے ہی تھے ،کبیردادا کے محافظ اور عظیم وغیرہ باہر ہی رک گئے تھے ۔
”کھانے پینے کو کیا منگواﺅں ۔“پاشا نے خاصا سنجیدہ نظر آرہا تھا ۔
”کافی کا بتا دو اور میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔“یہ کہتے ہی کبیردادا نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی ۔
انٹرکام اٹھا کرپاشا نے دو پیالی کافی کے بتائے اور کبیردادا کی طرف متوجہ ہوتا ہوا بولا۔”میرا خیال ہے اب آپ کو گھر جانے کی کچھ زیادہ ہی جلدی ہوتی ہے ۔“
”بکواس نہ کرو ،مطلب کی بات پرآﺅ ۔“کبیردادا نے اسے جھڑکا ۔
وہ اطمینان سے بولا ۔”اسی بکواس کے لیے آپ کو زحمت دی ہے ۔“
کبیردادا نے اسے ڈرایا۔”شاید کافی دنوں سے تمھیں تھپڑ نہیں پڑا ۔“
پاشا خوفزدہ ہوئے بغیر بولا ۔”سچ کہا ،آج ایک نہیں کافی تھپڑ کھانے کا ارادہ کیے بیٹھاہوں ۔“
کبیردادا بگڑ کر بولا ۔”اگر سچ میں وہی بکواس کرنا ہے تو میں جا رہا ہوں ۔“
”میں بہت پریشان ہوں دادا۔“پاشا بالکل سنجیدہ تھا ۔
”اچھا بکو ،کیا پریشانی ہے ۔“کبیردادا نے گویا ہتھیار ڈال دیے تھے ۔
”وہ خوب صورت ڈائن آپ کو ضائع کر دے گی ،کبیردادا ایک دہشت ،خوف، اور ڈر کی علامت ہے ۔کبیرداداآہنی ارادے ،چٹانی حوصلے اور فولادی عزم کا نام ہے ۔کبیردادا کی شخصیت ،کرداراور صلاحیتوں کی ایک دنیا معترف ہے آپ ایک چھوکری کے پیچھے اسے بدنام نہ کریں۔یقین مانیں اپنے دکھی ہیں اور پرائے ہنس رہے ہیں دفع کریں اسے ٹھوکر لگا کر اپنی زندگی سے دور پھینکیں ۔“
کبیردادا کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”بکواس اچھی کر لیتے ہو مگر بے مقصد ۔“
”جب آنکھوں پر کسی دلربا کے نو خیز حسن کی پٹی بندھی ہو تو ہمدردوں کی نصیحتیں بکواس ہی لگتی ہیں ۔“
”میرا خیال ہے شادی کرنے والا میں پہلا گینگسٹر نہیں ہوں ۔“
”بالکل صحیح اور میرا اعتراض آپ کے شادی کرنے پر بالکل بھی نہیں ہے ۔شادی بھی دوسرے گینگسٹرز نے کی ہے اور تھوڑی بہت روایتی محبت بھی ان میں موجود ہو گی ۔مگر ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے پاﺅں کی جوتی کو سر کا تاج بنا لیا ہو ۔“
”الزام پر الزام دھرے جا رہے ہو بے غیرت آدمی ۔“کبیردادا نے اسے ڈانٹ کر خاموش کرنا چاہا ۔
اسی وقت ایک ملازم اجازت مانگ کر اندر داخل ہوا اور ان کے سامنے کافی کے بھرے مگ رکھ کر سرجھکائے باہر نکل گیا ۔
پاشا کافی کا ہلکا سا گھونٹ لیتا ہوا بولا ۔”یہ سچ ہے کبیردادا۔کل رات تقریب میں میری نظر آپ دونوں ہی پر تھی ۔اس دوغلی ڈائن نے آپ کو اپنی بناوٹی محبت کا یقین دلانے کے لیے ایک لمحے کے لیے بھی آپ پر سے نظریں نہیں ہٹائیں ۔یقینا اسے کسی نے خوب پڑھا لکھا کر آپ کے پاس بھیجا ہے اور آپ بھی گاہے گاہے نظریں چرا کر اس کی دید سے آنکھیں ٹھنڈی کر رہے تھے ۔اور پھر محفل موسیقی میں جو محبت بھرے میسج لکھے جا رہے تھے ایسا تو ہائی اسکول کے طلبہ ہی کر سکتے ہیں ۔اور معاف کرنا اس چڑیل کے ساتھ تو چلیں یہ جچتا بھی ہے کہ میرے خیال میں وہ فرسٹ ائیر یاسیکنڈ ایئر کی طالبہ ہے ۔ آپ خود کو دیکھیں کیا اتنے اونچے مقام سے نیچے اترنا آپ کو روا تھا ۔“
کبیردادا صاف گوئی سے بولا ۔”کوئی محبت بھری گفتگو نہیں تھی یار،اس نے مجھے گھر چلنے کا لکھا اور میں نے اسے ڈانٹ دیا ۔“
”ایک چھوکری کی اتنی ہمت کہ وہ کبیرداداکو محفل چھوڑ کر گھر چلنے کا کہے اور ایک بار بھی نہیں بار بار میسج کرے ۔درجن بھرمیسج ٹون تو میں نے گنی تھیں ،یقینا آپ کی طرف سے ڈھیل تھی ورنہ وہ ایسی حرکت نہ کرتی ۔اور ایک دو میسج پڑھنے کا تو مجھے بھی اتفاق ہوا تھا وہ کوئی ناچنے گانے کی بکواس کر رہی تھی اورآپ اپنی مسکراہٹ نہیں روک پا رہے تھے ۔“
کبیردادا چڑ کر بولا ۔”بے وقوف آدمی، وہ کم عمر لڑکی ہے نادانی میں ایسی حرکتیں کر گزرتی ہے اب کیا اس کی پٹائی شروع کر دوں ۔“
”ہونہہ!….کم عمر نادان لڑکی نہیں ،پوری چار سو بیس ہے ۔اگر آپ کو تگنی کا ناچ نہ نچا یا تو مجھے پاشا نہیں کھوتا کہنا ۔“
”پیٹھ پیچھے تو اب بھی یہی کہتا ہوں یار۔“کبیردادا نے قہقہہ لگایا ۔
”پھر سامنے بھی کہنا ،بلکہ میں اپنا نام ہی یہی رکھ لوں گا ۔“
”بہرام میری جان ،بے وقوفوں کی سی بات نہ کرو ،یہ پریشانیاں اور الجھنیں اپنے دل و دماغ سے نکال دو ،مجھے نہ تو اس لڑکی سے محبت ہے اور نہ میں اپنے مقام اور جگہ ہی سے ناواقف ہوں ۔“کبیردادا نے اسے اصلی نام سے پکارا ۔
”مجھے ثبوت درکار ہے ۔“پاشا کو تسلی نہیں ہوئی تھی ۔
”کیا ثبوت چاہیے ۔“کبیرداداکے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”شہاب قصوری ،اخلاق حسین ،نوشاد آفریدی اوروہ سالا ایس پی وغیرہ تمام ہر دوسرے دن نت نئی لڑکیوں کے ساتھ رات گزرتے ہیں اور ان کی یہ بے غیرتیاں ان بیویوں سے بالکل بھی چھپی ہوئی نہیں ہیں ….“پاشا سانس لینے کے لیے رکا ،مگرکبیردادا سے صبر نہیں ہوا تھابے ساختہ اس کے ہونٹوں سے پھسلا ۔
”تو ……..؟“
پاشا اطمینان سے بولا ۔”تو یہ کہہ آپ اپنی روز مرہ پر آجائیں ہر دوسرے دن آپ کی خواب گاہ میں نئی لڑکی ہونی چاہیے ،بالکل اس طرح جیسے شادی سے پہلے کیا کرتے تھے ۔“
کبیردادا نے منھ بنایا ۔”میری شادی کو عرصہ ہی کتنا ہوا ہے ۔“
”تین راتیں اس ڈائن کے ساتھ گزار لی ہیں اتنا کافی ہے ۔“
کبیردادا نے افسوس بھرے انداز میں دائیں بائیں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”کسی اور لڑکی کے ساتھ رات گزارنے سے کیا ہو گا ۔“
پاشا جھٹ بولا۔”مجھے یقین آ جائے گا کہ آپ اس فراڈن کو اتنی اہمیت نہیں دے رہے اور میرے اندیشے غلط ہیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“کبیردادا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جان چھڑائی ۔”جیسے ہی میرے معیار کی کوئی لڑکی نظر آئی تمھاری یہ تمنا بھی پوری کر دوں گا ۔“
”وعدہ ۔“پاشا کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
”ایک بار کہہ تو دیا ہے ۔“کبیردادا جھلاتے ہوئے بولا ۔”اگر تمھاری نصیحتیں اختتام پذیر ہو گئی ہوں تو میں واپس چلا جاﺅں ۔“
”ایک منٹ ۔“وہ جیب سے موبائل فون نکالتے ہوئے کسی کو گھنٹی کرنے لگا ۔پہلی ہی گھنٹی پر کال وصول کر لی گئی تھی شاید جسے کال کی گئی تھی وہ اسی کال ہی کا منتظر تھا ۔ پاشانے مختصراََ ”آجاﺅ۔“کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”کون ہے ۔“کبیردادا نے حیرانی سے پوچھا ۔مگر پاشا کے جواب دینے سے پہلے دروازے کو دھکیلتے ہوئے کوئی اندرداخل ہوا ۔آنے والی شخصیت کو دیکھتے ہی کبیردادا گہرا سانس لینے پر مجبور ہو گیا تھا ۔
اس کااصل نام تو کبیردادا کو معلوم نہیں تھا اور نہ اس نے کبھی جاننے کی کوشش ہی کی تھی، البتہ وہ نِگی کے نام سے مشہور تھی ۔شاید اس کا اصل نام نگینہ ،نگین ،نگہت یا نغمہ وغیرہ تھا ۔چند دن کبیردادا کی منظور ِ نظربھی رہ چکی تھی ۔کبیردادا ہی کی وساطت سے اسے ماڈلنگ کے شعبے میں کافی آگے تک جانے کا موقع ملا تھا اورآج کل وہ چوٹی کی ماڈل تھی ۔کبیردادا کے بارے اس کے دل میں پسندیدگی کے گہرے جذبات پوشیدہ تھے جنھیں جاننے والوں کے گوش گزار کرنے میں اس نے کبھی بخل سے کام نہیں لیا تھا ۔لیکن اس کے ساتھ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کبیرداداکے لیے کسی ایک لڑکی کا ہو کر رہنا ناممکن تھا ۔مگر اب پاشا کی زبانی اسے جو خبر ملی تھی ،پاشا پر یقین ہوتے ہوئے بھی اس خبر کے بارے وہ شک میں پڑی تھی ۔
”نگی تم ۔“کبیردادا نے گفتگو کی ابتداءکی ۔
”شکر ہے آپ کو میرا نام تو یاد ہے ۔“پاشا سے مصافحہ کرتے ہوئے وہ کبیردادا کے قریب پہنچی اور اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر بے باکی سے اسے چومنے لگی ۔
اسے نرمی سے دور کرتے ہوئے کبیردادا نے پوچھا ”کیسی ہو ۔“جانے کیوںاسے نگی کی قربت اچھی نہیں لگی تھی ۔ایک دم تناوش کا خوشبو دار اور ملائم وجود اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا،اسے یوں لگا جیسے وہ اسے دیکھ رہی ہو ۔
نگی اچک کر میز کے کونے پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔”بالکل ٹھیک ۔“
”میرا خیال ہے نگی کی آمد کی وضاحت کرنا ضروری نہیں ہے ۔“پاشا نے زبان کھولی۔
”پاشا ،میرے پاس ان چونچلوں کے لیے وقت نہیں ہے ۔“کبیردادا ایک دم بیزار ہو گیا تھا ۔
”دادا،یہ وہی نگی ہے جسے چھونے کی پاداش میں تین تھپڑمیرے چہرے پر اور ایک بھرپور لات میری تشریف پر لگی تھی ۔قسم سے اس دن کے بعد آج تک اسے مصافحے کے علاوہ نہیں چھو پایا۔“
”سچ کہہ رہا ہے یہ جھوٹا ۔“نگی نے بھرپور قہقہہ لگاتے ہوئے پاشا کی تائید کی تھی ۔
”پاشا تھوڑی دیر پہلے میں نے کیا کہا تھا ۔“
”یہی کہ ”جیسے ہی آپ کے معیار کی کوئی لڑکی نظر آئی آپ میری یہ تمنا بھی پوری کر دیں گے ۔“
”تو بس ٹھیک ہے ۔“کبیردادانے کندھے اچکائے ۔
”آئے ہائے ،اب ہم آپ کے معیار سے بھی گر چکے ہیں ۔“نگی بے باکی سے اسے گھورتے ہوئے بازاری لہجے میں بولی ۔
”دادا،ہاں یا ناں میں جواب دیں ۔نگی کو سستی لڑکی نہیں ہے ۔بڑے بڑے نامی گرامی لوگ اس کے لیے ترستے ہیں ۔یہ تو بس آپ کی محبت میں دوڑی چلی آئی ۔“
”آج کل یہ جھوٹا سچ بولنے پر تلا ہوا ہے ۔“نگی ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی ۔
کبیردادا بے بسی سے بولا ۔”تویوں تمھیں چین آجائے گا ۔“
”ہاں ۔“پاشا نے بھرپور انداز میں سر ہلایا۔
کبیردادانے بیزاری بھرے لہجے میں کہا ۔”تو اس قسم کے اور کتنے ثبوت دینا پڑیں گے ۔“
پاشا نے عزم ظاہر کیا ۔”ہر دوسرے تیسرے دن ایک جل پری آپ کی خواب گاہ کی زینت بناﺅں گا یہاں تک کہ وہ ڈائن خود ہی کہیں دفع دفعان ہو جائے ۔“
”کھوتے وہ تیرے استاد کی بیوی ہے ۔“
”میں نہیں مانتا ۔“پاشا نے نفی میں سر ہلایا۔
”ہائیں آپ کی بیوی ۔“نگی نے چیختے ہوئے پریشانی کا اظہار کیا ۔
کبیردادانے اس کی بات پر توجہ نہیں دی تھی ۔”کیا نہیں مانتے، مجھے استاد یا اسے میری بیوی ۔“
”کیا میری زندگی میں یہ ممکن ہے کہ میں آپ کو استاد نہ ماننے کے بارے سوچ بھی سکوں ۔“
کبیردادا سنجیدگی سے بولا ۔”دوبارہ اسے غلط نام سے نہ پکارنا ،وہ جیسی بھی ہے ،مگر عزت دار خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور باکردار لڑکی ہے ۔“
”ٹھیک ہے بھابی کہہ دیا کروں گا ۔“پاشا نے منھ بنایا۔
”رات نو بجے میری کوٹھی پر آجانا۔“نگی کو کہتے ہی کبیردادانے بات چیت ختم ہونے کا اعلان کیا اور اٹھ کر باہرکی طرف چل پڑا ۔نگی اور پاشا کے چہرے خوشی سے کھل گئے تھے ۔نگی کو وہیں بیٹھنے کا اشارہ کر کے پاشا کبیردادا کو رخصت کرنے باہر نکل گیا ۔
٭٭٭
”یار ، میں نے تو سوچا تمھاری جھوٹ کی عادت اب تک نہیں گئی ،مگر یہاں تو سچ مچ انقلاب آگیا ہے ۔اس ضدی ،ہٹ دھرم اور اکھڑ نے شادی کر لی ہے ، وہ بھی کسی لڑکی سے ۔“ پاشا کے واپس آتے ہی نگی شروع ہو گئی تھی ۔وہ اس سے کافی بے تکلف تھی ۔البتہ پاشا کی یہ بات بالکل ٹھیک تھی کہ وہ کبھی ہاتھ ملانے سے زیادہ نگی کے قریب نہیں گیا تھا ۔
پاشا جھلاتے ہوئے بولا۔”تو لڑکیوں ہی سے شادی کی جاتی ہے احمق لڑکی ۔“
”نہیں میرا مطلب ہے ،میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ کبیرداداکی اس حرکت کے بعد کیا کہوں ،کیا کروںاورکہاں جاﺅں ۔“وہ بد حواس سی لگ رہی تھی ۔
”کہیں جانے اورکچھ کہنے کا تو پتا نہیں ہے البتہ تمھارے پاس خود کشی کرنے کا اچھا موقع ہے۔اس طرح کم از کم دادا کو یہ یقین تو آجائے گا کہ اس خوب صورت ڈائن بھابی کے علاوہ بھی اسے کوئی چاہتا ہے ۔ “پاشا نے خلوص بھرے انداز میں مشورہ دیا ۔
”کیسی ہے وہ ،میرا مطلب شکل و صورت کے لحاظ سے ۔“نگی کی حیرانی اب تک برقرار تھی ۔اس نے خود کشی والے مشورے پر جوابی وار سے احترازبرتا تھا ۔
”پوری کی پوری ڈائن ….اوہ سوری ۔“ایک دم اسے کبیردادا کا حکم یاد آیا اور اس نے زبان دانتوں میں دبا لی ۔”میرا مطلب بھابی کو دیکھتے ہی آپ کے دل سے یہ پھانس نکل جائے گی کہ کبیردادا نے کیوں شادی کی ہے ۔“
”مجھ سے بھی خوب صورت ہے ۔“نگی کے لہجے میںچھلکتا اپنی خوب صورتی کا زعم واضح تھا۔
پاشا صاف گوئی سے بولا ۔”اگر تمھیں کوئی لڑکی خود سے زیادہ خوب صورت لگتی ہے تو وہ اس سے بھی خوب صورت ہو گی۔“
”میں تو الیگزنڈراڈڈاریو،شائلن وڈلے ،کترینہ کیف ،کرینہ کپور،ماہرہ خان اورکبریٰ خانم کی شکلوں کو بھی خود سے بہتر تو کیا اپنے جیسا نہیں سمجھتی۔“اس نے تینوں فلم انڈسٹریز کی خوب صورت لڑکیوں کو بے جھجک مسترد کر دیا تھا۔
”فکر نہ کرو میری ڈائن بھابی کو دیکھ کر تمھاری خود سے خوب صورت لڑکی کو دیکھنے کی حسرت تو کم از کم ضرور پوری ہو جائے گی ۔“
”تو پھر میری دال وہاں کیا گلے گی ۔“نگی روہانسی ہونے لگی ۔
پاشا نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔”تمھیں دال گلانے بھیج کون رہا ہے بے وقوف ،کسی اور کی پکی ہوئی ہنڈیا الٹانی ہے۔“
وہ خفت بھرے لہجے میں بولی ۔”میں نے سوچا شاید تم مجھے کبیردادا کو پھانسنے کا موقع دے رہے ہو ۔“
”یہ کام اس وقت کرنا تھا جب کبیردادا تم پر فریفتہ ہوا تھا ۔“
”خاک فریفتہ ہوا تھا اکھڑ ،بد مزاج ۔بس اپنی عیاشیو ں کے چکر میں تھا اور مجھے یقین ہے اب بھی وہی سلسلہ ہے ۔تمھارے اندیشے بے جا ہیں ۔“
”کاش ایسا ہی ہو ،مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے اور یقین مانو کہ مجھے تمھاری کامیابی میں شبہ محسوس ہو رہا ہے۔“
”ا ب اتنی بھی گئی گزری نہیں ہوں ۔“نگی کی نسوانی انا جاگ گئی تھی ۔یوں بھی اس کی خوب صورتی کسی تعریف کی محتاج نہیں تھی ۔لیکن پاشا کے دماغ میں پلنے والے اندیشوں سے وہ نا واقف تھی ۔
”خیر آج تم نے کبیرداداکو پوری رات مصروف رکھنا ہے ۔ اور اس ….میرا مطلب ہے بھابی کو کمرے کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دینا ۔کل پرسوں بھی اگر تم کبیردادا کو سنبھالنے میں کامیاب رہیں تو خوش آمدید ورنہ مجھے کسی اور جل پری کا بندوبست کرنا پڑے گا ۔“
”ویسے مزاج کی کیسی ہے ؟“
پاشا صاف گوئی سے بولا ۔”بالکل گھریلو ،سادہ ،معصوم اور بھولی بھالی ۔“
”کیا….“نگی چیخ پڑی تھی ۔”تھوڑی دیر پہلے تو ڈائن ،چڑیل اور جانے کیا کیا کہہ رہے تھے ۔“
”فکر نہ کروہمارے ہاں ڈائن،بلا اور چڑیل بدکردار نہیں باکردار،ایمان دار اور خاندانی لڑکیوں کو کہتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے ،اب کچھ طے کر لیتے ہیں ۔سیٹھ مسکین کی طرف میرے بیس لاکھ بقایا ہیں ،صبح تک سونے نہیں دیا تھا خبیث نے اور اب میری کال ہی وصول نہیں کر رہا ۔“
پاشا ہنسا ۔”کب کی بات ہے ؟“
”دو ہفتے سے اوپر ہو گیا ہے ۔“
”اور کچھ ؟“پاشا مستفسر ہوا ۔
”فیروز ملک نے وعدہ کیا تھا کہ نئی ڈرمہ سیریل میں مرکزی کردار مجھے ملے گا ، معاوضا وصول کر لیا مگر اب ایک نئی ہیروئن کو آگے لا رہا ہے اور مجھے اگلی سیرل پر ٹرخانا چاہتا ہے۔“
پاشا سنجیدگی سے بولا ۔”ان دونوں کے موبائل فون نمبر مجھے دو ۔“
نگی نے فوراََ اپنے موبائل فون سے ان کے نمبر نکال کر پاشا کو نوٹ کر ا دیے ۔
فیروز ملک کا پتا بھی نوٹ کر کے پاشا کسی کا نمبر ملانے لگا ۔دوسری طرف سے کال وصول ہوتے ہی وہ بغیر کسی تمہید کے فیروز ملک کا پتا دہراتے ہوئے بولا ۔”اسے اگلے ایک گھنٹے میں خصوصی کوٹھی میں ہونا چاہیے ۔“اور پھر دوسری طرف کی بات سنے بغیر اس نے رابطہ منقطع کیا اور سیٹھ مسکین کا نمبر ملانے لگا ۔سیٹھ مسکین کو وہ ذاتی طور پر بھی جانتا تھا ۔شہر کی بڑی بڑی مچھلیوں سے ان کی یوں بھی واقفیت ناگزیر تھی ۔
”ہیلو ۔“دو تین گھنٹیوں کے بعد ہی اس نے پاشا کی کال وصول کی تھی ۔یقینا پاشا کا نمبر اس کے پاس نہیں تھا ورنہ یوں بے پروائی سے ہیلو نہ کرتا ۔
”سیٹھ مسکین،پاشا بات کر رہا ہوں ۔“
”پپ پاشا ….پاشا دادا۔“اس نے گویا تصدیق چاہی تھی ۔
”یاداشت تو کافی اچھی ہے سیٹھ ورنہ پچھلے دو تین ماہ سے کسی تقریب وغیرہ میں ملاقات نہیں ہو پائی ہے ۔“
وہ جلدی سے بولا ۔”جی جی ….ویسے کیسے یاد فرمایاخادم کو ۔“
”کچھ نہیں ،بس یونھی آج نگی سے ملاقات ہوئی تمھیں یاد کر رہی تھی میں نے سوچا ہیلو ہائے ہی کر لیں ۔“
”سیٹھ مسکین کی ہکلاتی ہوئی آواز آئی ۔”نن….نگی ۔ہاں ….ویسے بہت اچھی لڑکی ہے ۔آج ہی میں اپنے سیکرٹری کو کہہ رہا تھا کہ اس کے اکاﺅنٹ میں بیس لاکھ جمع کرادے اس سے ادھار لیے تھے ۔ بے وقوف کو بھول ہی گیا ہے۔وہ غریب انتظار کرتی رہی ہو گی ۔خیر اسے بتا دینا کہ کل ضرور اسے اپنے پیسے مل جائیں گے ۔“
پاشا ہنسا ۔”چلو آپ کا پیغام پہنچا دیتا ہوں کہ اگر کل صبح دس گیارہ بجے اس کے اکاﺅنٹ میں مطلوبہ رقم جمع نہ ہوئی تو پرسوں سیٹھ مسکین دگنی رقم جمع کرا دے گا اور اسی طرح ہر گزرتے دن کے ساتھ رقم دگنی کرتا جائے گا ۔سیٹھ مسکین ہے ہی اتنا اچھا آدمی ۔“
”جج….جی ….جی ….جی ۔“سیٹھ مسکین نے ہکلاتے ہوئے جی جی کی گردان شروع کر دی اور پاشا مزید کچھ کہے بنا رابطہ منقطع کرتے ہوئے سامنے بیٹھی نگی کو مخاطب ہوا ۔
”سن تو لیا ہو گا ۔“
”ہاں نگی نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”دوسرے کام سے بھی بے فکر ہو جاﺅتمھیں رات کبیردادا کے پاس جانے سے پہلے خوش خبری مل جائے گی ۔لیکن مجھے خوش کرنا اب تمھاری ذمہ داری ہے ۔“
”کبیردادا کو پھنسانا ضرور مشکل تھا ،کسی دوسری لڑکی کا پتا کاٹنا اتنا مشکل نہیں ہوتا ،فکر ہی نہ کرو کبیردادا سے ایسے دور بھاگے گی جیسے تم ایمان داروں سے بھاگتے ہو ۔“
اور پاشا اطمینا بھرے انداز میں گردن ہلانے لگا ۔
٭٭٭
”گھر چلو ۔“پاشا سے رخصت لے کر گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ عظیم کو مخاطب ہوا ۔اس کے ساتھ ہی وہ موبائل فون نکال کر تناوش کا نمبر ملانے لگا۔
”اسلام علیکم !“گھنٹی وصول کرتے ہی اس کی چہکتی کھنکتی سریلی آواز نے کبیردادا کے کانوں میں رس گھولا ۔
”ایسا کرو آج امی کے گھر ہی رہ جاﺅ میں کہیں مصروف ہوں ۔“کبیر دادا کو رات کی صورت حال سے نمٹنے کا اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں سوجھا تھا ۔
وہ اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بولی ۔”میں ابھی آپ کی جرابیں دھو رہی تھی۔آپ کی کال وصول کرنے کے لیے مجھے کام درمیان میں چھوڑنا پڑا ۔“
”یہ ملازمہ کے کرنے کے کام ہیں ۔“
” آپ کی یاداشت کمزور ہے یا بار بار میرے منھ سے سن کر اچھا لگتا ہے کہ میں آپ کا کوئی کام کسی دوسرے کو کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی ۔“
کبیردادا نے منھ بنایا۔”تم ہو نا تان سین کی پوتی کہ تمھاری آواز بار بار سننا چاہوں گا۔“
”ہا….ہا….ہا۔“تناوش کے نقرئی قہقہے نے اس کے فقرے کی پھسپھساہٹ کو واضح کیا ۔
”اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے ۔“وہ چڑ گیا تھا ۔
”جنا ب جی آپ رات میری دس پندرہ منٹ کی گنگناہٹ سن کر نیند کی میٹھی وادیوں میں ڈوب گئے تھے ۔“
”تھکا ہوا تھا ۔“کبیردادا نے صفائی پیش کی ۔
وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔”ہائے اللہ جی کتنا چھپاتا ہے یہ لڑکا اپنی محبت کو ۔“
”ہر وقت بکواس نہ کیا کرو ۔“لڑکے کا لقب سن کر اسے غصہ آگیا تھا ۔
”بکواس تو خیر نہیں ہے ۔“
اس کی گنگناتی آواز کبیردادا کو مزید تپا گئی تھی ۔ڈرائیور اور عظیم کی موجودی فراموش کرتے ہوئے وہ دھاڑا ۔”تمھاری محبت والی غلط فہمی تو آج ضروردور کر دوں گا ۔“
”کیااپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھلاﺅ گے ۔“تناوش اس کے غصے کو خاطر میں لائے بغیر شوخی پر آمادہ رہی ۔
”احمق عورت ۔“اس نے رابطہ منقطع کر دیا تھا ۔
”پلیز گھر آ جائیں نا ،کتنی دیر سے آپ کا چہرہ نہیں دیکھا ۔“فوراََ پیغام آگیا تھا ۔
جواب لکھے بغیر وہ خاموشی سے باہر دیکھنے لگا ۔
موبائل فون کی مسیج ٹون دوبارہ بجی ۔”آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں ،شاید بارش بھی ہو جائے آجاﺅ نامیں پکوڑے اور چٹنی بنا تی ہوں کھڑکی سے بارش کا نظارہ کرتے ہوئے اکٹھے بیٹھ کر کھائیں گے ۔“
میسج پڑھتے ہی کبیر دادا نے کار کی کھڑکی سے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی واقعی بادل اکٹھے ہو گئے تھے اورکسی بھی لمحے برس سکتے تھے ۔اگر وہ اسے متوجہ نہ کرتی تو شاید بارش شروع ہونے کے بعد ہی اس کی توجہ اس طرف جاتی ۔یوں بھی بارش کا ہونا نہ ہونا اس کے نزدیک برابر تھا۔ زندگی میں پہلی بار اس پر انکشاف ہو رہا تھا بارش کے موسم کی کوئی اہمیت بھی ہوتی ہے ۔
ایک اور میسج کی ٹون بجی ۔”کبیر !….آجائیں نا ،میرا بڑا دل کررہا ہے آپ کے ساتھ بارش میں بھیگنے کو ۔چھت پر چڑھ جائیں گے کسی ملازم کو نظر بھی نہیں آئے گا ۔“
اپنا نام پہلی بار بغیر کسی سابقے لاحقے کے پڑھ کر اسے عجیب مگر بہت اچھا لگا تھا ۔اس کے ساتھ ہی اس پر بارش کی مزید اہمیت اجاگر ہوئی ۔اس نے چشم تصور سے دیکھا کہ وہ چھت پر تناوش کے ساتھ موجود ہے تیزبارش ہو رہی ہے وہ آنکھیں بند کیے اپنے بازو دائیں بائیں پھیلائے کسی بچی کی طرح گھوم رہی ہے اور وہ اسے بھیگتا ہوا دیکھ رہا ہے ۔لباس اس کے جسم سے چپک کر اس کی دلکشی کو چار چاند لگائے ہوئے ہے ۔کبیردادا کے جسم میں انجانے جذبے بیدار ہوئے ۔اس کے دل میں شدت سے اس منظر کو آنکھوں کے سامنے دیکھنے کی خواہش بیدار ہوئی ۔ اگلی میسج ٹون نے اسے پھر موبائل فون کی طرف متوجہ کیا ۔
جاری ہے
