Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31

قریب ہو کر کبیردادا نے فٹ بال کو کک مارنے کے انداز میں ان پر چند ٹھوکریں برسائیں ۔وہ واویلا کرتے ہوئے لیٹے رہے اٹھنے کی جرات کسی نے نہیں کی تھی ۔
”نوید ،اڈے انچارج کو کال کر کے یہیں بلالو ،اس کی آمد تک کان پکڑ کر مرغا بنے رہو ۔میں ذرا آگے تک جا رہا ہوں واپسی پر اسے یہاں موجود ہونا چاہیے ۔اور اسے کال بھی مرغابنے بنے کرو گے ۔“
کبیردادا کی بات ختم ہوتے ہی انھوں نے اس سرعت سے مرغا بنتے ہوئے کان پکڑے تھے کہ تناوش کھل کھلا پڑی۔نوید نامی آدمی اسی ہیئت میں کان پکڑے اپنے اڈے کے انچارج کو کال کرنے لگا ۔کبیردادا تناوش کو لے کر ان سے دور ہٹنے لگا ۔
”یہ لوگ آپ سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں،حالاں کہ اتنے پیارے اور نرم دل ہیں آپ ۔“وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بھول پن سے پوچھنے لگی ۔
وہ مسکرایا ۔”پاگل ،تم نے کبیردادا کا صرف ایک ہی روپ دیکھا ہے ۔“
”میں اپنے کبیر کے سارے روپ دیکھ چکی ہوں ۔“
”پھر بھی ڈر نہیں لگتا ۔“
وہ معصومیت سے بولی۔”بہت لگتا ہے ،آپ کے دور جانے کا ، بچھڑنے کا ،روٹھنے کا، کسی اور لڑکی طرف متوجہ ہونے کا اور مجھے دھتکار دینے کا ڈر ہر وقت میرے دل کو لرزاتا رہتا ہے۔“
وہ صاف گوئی سے بولا ۔”صحیح کہا ،جس دن سے تم میری زندگی میں آئی ہو میری یہی کوشش رہی ہے ،کاش میں اس میں کامیا ب ہو گیا ہوتا ۔“
”اللہ پاک نہ کرے ایسا ہو ۔مر جاﺅں گی اور پھر روتے رہیں گے آپ ۔“اس دھمکی سے کبیردادا پر منکشف ہوا کہ شاید پاشا کی کوششیں بے کار جائیں ۔اتنے خلوص بھرے لہجے میں کوئی جھوٹ نہیں بول سکتا تھا ۔اس کی آنکھوں میں نگی کی آمد کے بعد تناوش کے چہرے پر نمودار ہونے والے تاثرات نمودار ہوئے اور اسے بغیر کسی شک و شبے کے یقین ہو گیا کہ وہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔اس کے باوجود وہ اسے سمجھانے سے باز نہیں آیا تھا۔
”تم کسی اور سے شادی کر کے گھریلو زندگی گزار سکتی ہو ،ایسی شرافت بھری زندگی جس کی تم حق دار بھی ہو ۔ایک شریف اور باکردار مرد ہر وہ خوشی ،ہر وہ سکون اور اطمینان تمھاری زندگی میں لے آئے گا جس کی تم حقداربھی ہو ،میرے ساتھ سوائے خواری اور کچھ بھی نہیں ملنے والا ۔“
”اگر آئندہ ایسا کچھ کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔“اس نے زندگی میں پہلی بار اس انداز میں دھمکی دی تھی ۔
”کیا کہا ۔“کبیردادااس کی طرف متوجہ ہوا ۔
”وہی جو آپ نے سنا ۔“ہنس کر کہتے ہوئے وہ بھاگ پڑی۔وہ بھی اس کے بچپنے میں دلچسپی لیتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگ پڑا۔تناوش کی رفتار کافی تیز تھی ،مگر وہ جتنی بھی تیز ہوتی کبیردادا کا مقابلہ تو نہیں کر سکتی تھی ۔اس نے جلدی ہی تناوش کو جالیا تھا ۔مگر اس سے پہلے کہ وہ اسے پکڑ تا تناوش ۔”ہائے ۔“کہتے ہوئے ریت پر لیٹ گئی ۔
”کیا ہوا ؟“کبیردادا پریشان ہو کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔
”پاﺅں میں موچ آگئی ہے ،افف….بہت درد ہو رہا ہے ۔“ٹخنے پر زور دیتے ہوئے وہ کراہی ۔
”دکھاﺅ مجھے ۔“گھٹنے ساحل کی گیلی ریت پر ٹیکتے ہوئے وہ اس کا ٹخنہ سہلانے لگا۔
تناوش نے کراہتے ہوئے اس کے کندھے پر ماتھارکھ دیا تھا۔
”کس نے کہا تھا بھاگو۔“اس نے پریشانی بھرے لہجے میں اسے ڈانٹا ۔
”اب غصہ تو نہ کریں نا ،ہائے درد ہو رہا ہے ۔“وہ روہانسی ہونے لگی ۔
”اچھا ٹھیک ہو جائے گا ،روتے نہیں ہیں ۔“اس کی روتی آواز سن کر کبیردادا کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا۔
وہ منھ بسورتے ہوئے کہنے لگی ۔”آپ کو تو بس ڈانٹنا ہی آتا ہے ۔“
”اچھا نہیں ڈانٹتا۔“وہ پیار بھرے انداز میں اسے پچکارنے لگا ۔
”میں نہیں بولتی آپ سے ،آپ کی وجہ سے میرے پاﺅں میں موچ آئی ہے ۔ہائے اللہ جی ،اب میں کیسے چلوں گی ۔“
”کچھ نہیں ہوتا اور اب اٹھو چل سکتی ہو یا نہیں ۔“کبیردادا نے بازو سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا ۔
”نہیں چل سکتی ۔“وہ پاﺅں پر بالکل زور نہیں دے رہی تھی ۔
”کوئی بات نہیں ۔“کبیردادا نے اطمینان سے اسے بازوﺅں میں بھر کر اوپر اٹھا لیا ۔
ایک دم خوش ہوتے ہوئے اس نے کبیردادا کے گلے میں بانہیں ڈال کر سر اس کی چھاتی پر رکھ لیا ۔ کبیردادا کو وہ پھو ل کی طرح ہلکی لگی تھی ۔کبیردادا واپس چل پڑا ۔
”کیا میرا وزن بہت زیادہ ہے ۔“
”ہاں ۔“کبیردادا نے اثبات میں سر ہلایا۔”گلاب کے پھول سے تھوڑا سا زیادہ ہو گا ۔“وہ اس کی” ہاں “سن کر منھ پھلاتے ہوئے اسے ناراضی بھری نظروں سے گھورنے لگی تھی ،مگر اگلا فقرہ سن کر خوشی سے کھل اٹھی ۔
”ہائے اللہ جی !….یہ لڑکا بھی ،اکیلی لڑکی دیکھ کر کیسے پٹا رہا ہے ۔“
کبیردادا ترکی بہ ترکی بولا ۔”تم میری بیوی ہو محترمہ ۔“
وہ کہاں ہار ماننے والی تھی فوراََبولی ۔”اسی لیے تو میں بھی حیران ہوں کہ آپ بیوی پر کیوں ٹھرک جھاڑ رہے ہیں ۔“
کبیرداداکھسیاتے ہوئے بولا ۔”میں تمھیں یونھی تو دماغ چوس نہیں کہتا ۔“
وہ مصر ہوئی ۔”اچھا بتائیں نا ،کیا سچ میں میرا وزن بہت زیادہ ہے ۔“
”کہہ تو دیا ہے پھول کی طرح ہلکی لگ رہی ہو ۔“
”تو پھر پہلے اٹھاتے نا،مجھے موچ آنے کا بہانہ تو نہ کرنا پڑتا ۔“
”کیا ….یہ بہانہ ہے ۔“اس نے رکتے ہوئے تناوش کو گھورا ۔
اس نے آنکھیں بند کر کے نیچے والا ہونٹ اوپر والے ہونٹ پر چڑھایااور اوپر نیچے سر ہلا دیا۔اس عالم میں وہ کبیردادا کو ننھی بچی ہی لگی تھی ۔
”دل کرتا ہے نیچے پھینک دوں ۔“
وہ جلدی سے بولی ۔”سچ مچ چوٹ لگ جائے گی اور ہر وقت اٹھا کر پھرانا پڑے گا ۔“
”اچھا اترو نیچے ۔“کبیردادا نے بادل نخواستہ اسے نیچے اتارا وہ ہنستے ہوئے اس کے ساتھ لگتے ہوئے بولی۔
” اپنے موبائل سے میری تصویر ہی کھینچ لیتے کتنی پیاری لگ رہی ہوں ۔“
”اتنی خوب صورت بھی نہیں ہو ۔“کبیردادا نے اسے چڑایا ۔
”ٹھیک ہے نہیں کھنچواتی ۔“اس نے دور ہونے کی کوشش کی مگر کبیردادا نے فوراََ ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر اسے قریب سمیٹ لیا ۔”مذاق کر رہا تھا دماغ چوس ۔“یہ کہہ کر وہ اپنے قیمتی موبائل فون سے دھڑا دھڑا اس کی تصویریں اتارنے لگا ۔پہلے پہل تو وہ مختلف پوز بناکر تصویریں کھنچواتی رہی پھر شرارتی لہجے میں بولی ۔
”اچھا اب بس کریں نا ،اتنی زیادہ تصویروں کی بھی اجازت نہیں دی ہے ۔“
”اجازت مانگی کس نے ہے ۔“کبیردادا نے کہا ۔
”بس دھونس جماتے رہنا ،یہ نہیں کہ چھوٹی سی بچی کا ذراسا مان ہی رکھ لیں ۔“
”اچھا جی، نہیں کھینچتا ۔اب چلیں ۔“وہ موبائل فون جیب میں ڈال کر اسے ساتھ لیے آگے بڑھ گیا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ ان آدمیوں کے قریب پہنچ چکے تھے ۔چاروں آدمی مرغا ہی بنے ہوئے تھے ۔ایک پانچواں آدمی ان کے ساتھ کھڑا دکھائی دے رہاتھا ۔یقینا وہ اڈہ انچارج تھا ۔ اس نے وہاں پہنچنے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگائی تھی ۔
”صنوبر ،یہ تمام صبح سورج ابھرنے تک یونھی کان پکڑے رہیں گے اور تم یہیں کھڑے ہو کر ان کی نگرانی کرو گے ،اگر کسی نے بھی کان چھوڑے یا تم نے بیٹھنے کی کوشش کی تو ورثاءکو کفن دفن کی ہدایت کرنا نہ بھولنا۔“
”جی دادا!“اس نے ندامت سے سر جھکا لیا تھا ۔
”خیرتمھاری باقاعدہ کلاس تومیں کل لوں گا ۔“کبیردادا کا گھمبیر لہجہ مخالف کا پتا پانی کرنے کے لیے کافی تھا ۔”غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے بھی کچھ اصول ضرور ہوتے ہیں ۔ان کے بارے اڈے پر آکر روشنی ڈالوں گا۔“
”غلطی ہو گئی دادا،معاف کردیں ۔“کان پکڑے نوید کی کراہتی ہوئی آواز بلند ہوئی۔ باقی بھی پکارنے لگے ۔”معاف کردیں دادا،ایک موقع دے دیں دادا۔“
”زندہ چھوڑ کر ،موقع ہی تو دے رہا ہوں ۔“
”آج انھیں معاف کر دیں ۔“خاموش کھڑی تناوش نے ایک دم کبیردادا کا ہاتھ تھام کر التجا کی ۔
”تم بیچ میں دخل نہ دو ۔“کبیردادا نے اس کی طرف سخت نظروں سے گھورا ۔
”میں کہہ رہی ہوں نا ں انھیں ایک اور موقع دے دیں ۔“وہ مصر رہی ۔
”اٹھو اور دفع ہو جاﺅ ۔“اس مرتبہ کبیردادا تناوش کا حکم نہیں ٹال سکا تھا ۔
وہ چاروں کھڑے ہو کر اپنی جیپ کی طرف بھاگ پڑے تھے ۔
”تم بھی ۔“کبیردادا نے صنوبر کو کہا اور وہ بھی ان کے پیچھے بھاگ پڑا ۔
ان کے غائب ہوتے ہی اس نے تناوش سے پوچھا ۔”اب چلیں یا صبح کی آذان یہیں سننا ہے ۔“
”چلیں ۔“کبیردادا کو محبت پاش نظروں سے گھورتی ہوئی وہ کار کی طرف بڑھ گئی ۔
٭٭٭
”یار ،تمھارے پاس کوئی اور موضوع نہیں ہے ۔“کاشف راجپوت نے سامنے بیٹھے پاشا کی بات سنتے ہی بیزاری ظاہر کی ۔
پاشا مصر ہوا ۔”دادا ،آپ میری بات تو مکمل ہونے دیں ۔“
”اچھا بولو۔“کاشف نے گویابادل نخواستہ کہا۔
” کبیردادا نے خود اعتراف کر لیا ہے ،اب تو آپ بھی مان جائیں ۔“
”اچھا مان لیا ،لیکن میں کر کیا سکتا ہوں ،جب کبیردادا خود اس مسئلے کو حل نہیں کر پارہا تو میں کیا کروں گا ۔“
”مجھے پکا یقین ہے کہ وہ کمینی ،کبیردادا کو جھوٹی محبت کے جال میں پھنسا رہی ہے ۔“
”تو وہ نہ پھنسے ۔“کاشف راجپوت نے منھ بنایا۔
”شکار کبھی پھنسنا نہیں چاہتا ،شکاری اپنی چالوں اور مہارت کو بروے کار لا کر شکار کو اپنے بس میں کرتا ہے ۔“
”چلو مان لیا وہ دوغلی ہے اور کبیردادا کو جھوٹی محبت کے جال میں پھانس رہی ہے ، کبیردادا نے بھی تمھیں کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔لیکن اب کیا لائحہ عمل اپناﺅ گے ۔کیا وہ لڑکی تمھاری آفر کو قبول کرتے ہوئے ایک بڑی رقم کا مطالبہ کرے گی اور کبیردادا کی زندگی سے دفع ہو جائے گی یا کوٹھی بنگلے کار وغیرہ کے بدلے کبیر دادا کی زندگی سے نکلنے پر تیار ہو جائے گی ۔“
”ہاں ایسا ہی ہے ۔“پاشا نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”تو عمل کرو نا اپنے منصوبے پر، کبیردادا کی غیر موجودی میں گھر چلے جاﺅ اوراس سے اطمینان سے بات کر لو ۔لیکن یاد رکھنا ،اگر تمھارے تیئں وہ اتنی ہی چالاک اور تیز ہے تو آسانی سے کوئی آفر قبول نہیں کرے گی ۔“
”جانتا ہوں ،اسی لیے اسے موقع دوں گا کہ وہ ہنسی خوشی میری آفر قبول کر لے ۔ دوسری صورت میں ماں بیٹی کا عدم آباد کاٹکٹ کٹوا کر کبیردادا کو کہہ دوں گا کہ میری آفر قبول کر کے دونوں ماں بیٹی کہیں چلی گئی ہیں اور چونکہ ندامت کی وجہ سے وہ آپ کا سامنانہیں کر پا رہی تھی اس لیے وہ آپ کوملنے نہیں آ سکی ۔“
”یار ،کیوں غریب کی زندگی کے پیچھے پڑ ئے ہو ۔وہ معصوم ، بھولی بھالی اور گھریلو لڑکی ہے ۔ایسی لڑکیاں جس سے شادی کر لیں اس کی ساری خامیوں کو بغیر کسی کراہیت کے قبول کر لیتی ہیں ۔ان کا مقصد زندگی ہی شوہر کا آرام وسکون اور خدمت گزاری ہوتا ہے ۔یہ جو تمھیں اس کی مکاریاں اور چالاکیاں نظر آرہی ہیں نا ،یہ اس کی فطرت ہے ۔اس نے بھائی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے کبیردادا کا ہاتھ تھاما۔اور جب ہر قدم پر معاشرے کی زیادتیوں کا شکار لڑکی کو تحفظ اور سہارا ملا تو وہ جی جان سے تحفظ فراہم کرنے والے کی خدمت میں جت گئی ۔اپنا سب کچھ اسی کو سمجھنے لگی ۔اور یقین مانو جب کوئی عورت خلوص دل سے کسی کا خیال رکھتی ہے ،اس کے کام کرتی ہے اور گھریلو زندگی کے ہر مرحلے میں مرد کو مصروف عمل نظر آتی ہے تب مرد کا دل بھی اس کی طرف کھنچتا ہے ۔وہ اسے پاﺅں کی جوتی نہیں سر کا تاج سمجھنے لگتا ہے اور یہی کبیردادا کے ساتھ ہوا ہے جسے تم اس معصوم لڑکی کی چالاکیاں سمجھنے لگے ۔رہنے دو بے چاری کو کبیردادا کے پاس ۔باقی گینگسٹرز نے بھی تو شادیاں کی ہوئی ہیں نا ۔تھوڑا عرصہ تو گزرنے دو، نئی نویلی دلھن کے نخرے شوہر ہنسی خوشی برداشت کر لیتا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ نئی جوانی کا بخار اترتا ہے مرد سنبھل جاتاہے اوراس کی پرجوش محبت میں ٹھہراﺅ آجاتا ہے ۔ “
”میں آپ سے بالکل متفق نہیں ہوں ،کیونکہ کوئی گھریلو لڑکی اتنی جلدی کبیردادا کو اپنے قابو میں نہیں کر سکتی ۔شادی کو ہفتہ نہیں ہو ا، اور کبیر داداکو اس کے علاوہ کچھ سوجھتا نہیں ۔ اگر شروعات میں یہ حالت ہے تو آگے چل کر جانے وہ کیا غضب ڈھائے۔“
”پاشا ،تمھارا سنکی اور خبطی پن جانے کب ختم ہو گا۔ایک بار جو خیال تمھارے دماغ میں بیٹھ جاتا ہے اسے نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے ۔“
”ایسی کوئی بات نہیں دادا ،وہ ایسی ہی ہے ۔اور میں اسے بے نقاب کر کے رہوں گا۔“
”اگر کسی دن کبیردادا کو یہ معلوم ہو گیا کہ وہ خود اسے چھوڑ کر نہیں گئی تھی بلکہ پاشا نے اسے قتل کیا تھا ۔سوچو اس وقت کیا ہو گا ۔“
”کبیر دادا جانتے ہیں کہ وہ میرے لیے کیا حیثیت رکھتے ہیں ،باقی میں اس ڈائن کو ایک موقع دوں گا کہ کبیردادا کی جان چھوڑ دے ۔اگر اس نے میری بات نہ مانی تب میں انتہائی قدم اٹھاﺅں گا ۔“
”اچھا اسے قتل کرنے سے پہلے ایک بار پھر مجھ سے مشورہ کر لینا ۔“کاشف راجپوت نے گویابات ختم کرنے کا اعلان کیا ۔
”آپ وعدہ کریں کبیردادا کو یہ بات نہیں بتائیں گے ۔“
”پاشا ،تم صرف کبیرداداکے نہیں میرے لیے بھی چھوٹے بھائیوں جیسے ہو ۔میں کبھی نہیں چاہوں کا کہ کبیردادا تم سے متنفر ہو ۔باقی تم ایک بار کوشش کر کے دیکھ لو ،ہو سکتا ہے اس وقت تک میں کوئی مناسب حل سوچ لوں۔یقینا اس لڑکی کا قتل اس مسئلے کا حل نہیں ہے ۔جب کبیردادا کے دل میں اس کی محبت کا خیال بیٹھا ہوا ہے تو اس کی موت کبیردادا کو کوئی نقصان بھی پہنچا سکتی ہے ۔اور ایسے معاملوں انسان ساری زندگی نہیں سنبھل پاتا ۔شاید وہ خود کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا بیٹھے ۔اس لیے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔“
”آپ مجھے ڈرا رہے ہیں ۔“پاشا حقیقتاََ پریشان نظر آنے لگا تھا۔
”ڈرا نہیں سمجھا رہا ہوں ۔“
”ٹھیک ہے دادا ،میں آپ کو بتا کر ہی یہ انتہائی قدم اٹھاﺅں گا ۔“پاشا نے کھڑے ہو کر الوداعی مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھادیا ۔
٭٭٭
رات کو دیر تک جاگنے کی وجہ سے وہ صبح تاخیر سے جاگا تھا ۔تناوش بھی نماز پڑھ کر دوبارہ سو گئی تھی ۔دن کے بارہ بجے کبیردادا کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے پہلو میں بے خبر سوتی دکھائی دی ۔نیند کی حالت میں اس کی معصومیت اور زیادہ اجاگر ہو گئی تھی ۔
”اٹھنا نہیں ہے ۔“کبیردادا نے اس کے گالوں کو تھپتھپایااور وہ جاگ گئی ۔
”نہیں ۔“وہ کروٹ بدل کر اس کے قریب ہوئی ۔
”بارہ بج رہے ہیں محترمہ۔“
”تو کیا ،ساری رات بھی تو آپ نے نہیں سونے دیا نا ۔“
”ویسے غلط بیانی اور الزام لگانے کاکوئی ڈپلوما کیا ہوا ہے یا قدرتی ہی ایسی ہو ۔“
”رات کو دو بجے جا کر مجھے بے آرام کرنے والا کون ہے ….آپ۔ کھانا کھلانے کے لیے ہوٹل پر لے جانے والا کون ہے ….آپ ۔ساحل سمندر پر مجھے گود میں اٹھا کر وقت ضائع کرنے والا کون ہے ….آپ۔گھر واپسی پر ……..“وہ جلد بازی میں مزید کوئی راز افشا کرنے والی تھی ،کہ ایک دم چپ ہو گئی ۔
”کہو ناں خاموش کیوں ہو گئی ہو ۔“کبیردادا نے اسے چھیڑا ۔
وہ حیا آلود لہجے میں بولی ۔”رہنے دیں ۔“
”رہنے کیوں دیں بات تو مکمل کرو ۔“کبیردادا کو اسے چھیڑنے میں مزا آرہا تھا ۔
”تنگ نہ کریں نا ۔“اس نے ایسے انداز میں کہا کہ کبیردادا کو مانتے ہی بنی۔
”اچھا ،اب گپوں کا وقت نہیں ہے ،مجھے سچ میں دیر ہو گئی ہے ۔جلدی سے اٹھ کر کچھ کھانے کو لاﺅ ۔“اس کا سنجیدہ لہجہ سن کر وہ سرہلاتی ہوئے اٹھی ،مگر بستر چھوڑنے سے پہلے وہ اس کے چہرے پر جھک کر شرارت کرنا نہیں بھولی تھی ۔
ناشتا وغیرہ کر کے کبیردادا رخصت ہو گیا اور وہ کتابیں کھول کر بیٹھ گئی ۔ظہر کی آذان سن کر اس نے وضو کر کے نماز پڑھی اور پھر پڑھنے بیٹھ گئی ۔اسی وقت راحت خالہ دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوئی ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *