Rakhail by Riaz Aqib Kohler NovelR50760 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09
No Download Link
503.3K
53
Rate this Novel
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode01 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode02 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode04 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode05 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09 (Watching)Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode10 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode13 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode14 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode15 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode16 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode17 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode18 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode20 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode21 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode22 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode24 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode25 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode27 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode28 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode30 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode32 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode34 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode35 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode36 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode37 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode38 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode40 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode43 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode44 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode45 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode46 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode47 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode48 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode50 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode51 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode52 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09
”کہاں جانا ہے دادا!….“تناوش کے گھر سے باہر نکلتے ہی وہ جونھی کار میں بیٹھا ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے مودّبانہ لہجے میں پوچھا ۔
”گھر ۔“مختصراََ کہتے ہوئے اس نے کار کی سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں ۔ ایک دم تناوش کا خوب صورت سراپااس کی آنکھوں کے سامنے ابھرا اور سرجھٹکتے ہوئے اس نے آنکھیں کھول دیں ۔کار چوڑی گلی سے نکل کر سڑک پر چڑھ رہی تھی ۔وہ باہر دوڑتی گاڑیوں کو دیکھنے لگا ۔
اس کا دماغ اپنے رویے پر الجھا ہوا تھا ۔ایک کم سن لڑکی کے لیے یوں وقت ضائع کرنا اس کی اپنی سمجھ سے بھی بالاتر تھا ۔تناوش کی خوب صورتی میں کوئی کلام نہیں تھا لیکن اسے زندگی میں کبھی خوب صورت لڑکیوں کی کمی نہیں رہی تھی ۔تناوش کی طرح درجنوں خوب صورت لڑکیاں اس کی زندگی میں آ چکی تھیں ۔اس کی خواب گاہ میں آئے روز خوب صورت تتلیوں کی آمدورفت رہتی تھی ۔دولت اور اختیار ایسی چیزیں ہیں جو انسان کی کسی خواہش کو تشنہ نہیں رہنے دیتیں ۔دنیا کی ہر عیاشی دولت کے سامنے سرتسلیم خم کرتی نظر آتی ہے ۔وہ تو ایسا آدمی تھا کہ کسی لڑکی پر دل آجانے پر اسے ہر قیمت پر اپنی خواب گاہ کی زینت بنا سکتا تھا ۔لیکن اس کا مزاج ایسا نہیں تھا ۔ اس نے کبھی کسی عورت کو اٹھانے کا جرم نہیں کیا تھا ۔خود اس کے گروہ میں ایسی کئی خوب صورت لڑکیاں موجود تھیں جو اس کے اشارہ ابرو کی منتظر رہتیں ۔فلموں اور ڈراموں کی کئی اداکارائیں بھی اس کی دولت اور دھونس کے رعب میں آکر اسے نواز چکی تھیں ۔ اس کے باوجود نجانے تناوش میں ایسی کون سی بات تھی کہ وہ ایسی بے وقوفی کا ارتکاب کر بیٹھا تھا ۔ سب سے بڑھ کر اسے نکاح پڑھوانے پر حیرانی ہو رہی تھی ۔
”کوئی بات نہیں ایک دو دن بعد طلاق دے دوں گا ۔“وہ خود کو تسلی دینے لگا ۔
اچانک موبائل فون کی گھنٹی نے اسے خیالات کی دنیا سے باہر نکالا۔موبائل فون کی سکرین پر نظریں دوڑاتے ہی اس نے اٹینڈنگ بٹن دبا کر فون کان سے لگا لیا ۔
”ہیلو !“اس کے لہجے میں حیرانی کا عنصر نمایاں تھا ۔یقینا وہ اس وقت کسی ایسی کال کی توقع نہیں کر رہا تھا ۔
”کبیر دادا !….آپ سے ضروری بات کرنا تھی ۔“دوسری جانب ابھرنے والی آواز میں مودّبانہ جھجک کے بجائے بے تکلفی اور ہم سری کی کھنک شامل تھی ۔
”ابھی ….؟“کبیر دادا کا انداز جان چھڑانے والا تھا ۔
وہ مصر ہوا ۔”بالکل ،ابھی اور اسی وقت آپ کو میرے پاس آنا پڑے گا ،یا میں خود آجاتا ہوں ۔“
”اچھا میں آرہا ہوں ۔“رابطہ منقطع کرتے ہوئے وہ ڈرائیور کو مخاطب ہوا ۔ ”شہاب قصوری کی طرح چلو ۔“
”جی !“مودّبانہ انداز میں کہتے ہوئے ڈرائیور سیدھا چلتا رہا ۔تھوڑی دور جا کر اس نے یو ٹرن سے گاڑی موڑی اور مطلوبہ سمت کی طرف بڑھ گیا ۔آدھے گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد وہ وسیع کوٹھی کے داخلی دروازے پر رک رہا تھا ۔
ان کی گاڑیوں کو پہچانتے ہی چوکیدار نے دروازہ کھولا اور وہ گاڑیاں اندر لے گئے ۔ سیمنٹ کی پختہ روش کے اختتام پر کار رک گئی ۔کبیردادا نیچے اتر کر اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گیا ۔اس کے دونوں محافظ بھی اس کے پیچھے چل پڑے ،البتہ انھوں نے کبیردادا کے پیچھے ڈرائینگ روم میں گھسنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ پرتکلف ڈرائینگ روم میں دو آدمی اس کے منتظر تھے۔ دونوں نے کھڑے ہو کر اس سے ہاتھ ملایا ۔
نشست سنبھالتے ہی کبیردادا مستفسر ہوا ۔”شہاب بھائی !….خیریت تھی ؟“
”خیریت کہاں کبیردادا….“ادھیڑ عمر شہاب شاہ قصوری نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ ”جب کبیر دادا جیسا آدمی شادی کر لے گا تو خیریت کہاں رہے گی ۔“
”ہاہاہا….“کبیر دادا نے قہقہہ لگایا۔”یہ خبرآپ تک بڑی جلدی پہنچ گئی ہے ۔“
”باخبر رہنا توپڑتا ہے کبیر دادا !….ویسے اخلاق حسین شاہ صاحب آپ سے سخت خفا ہیں ۔“شہاب نے ساتھ بیٹھے دوسرے آدمی کی طرف اشارہ کیا ۔
”خدا خیر کرے شاہ صاحب !….یہ میں کیا سن رہا ہوں ؟“کبیر دادا اس کی طرف متوجہ ہوا ۔
”کبیردادا!….دلاور شیخ میرا خاص آدمی تھا ۔“اخلاق حسین کے لہجے سے بھی سخت قسم کی خفگی کا اظہار ہو رہا تھا ۔
”ہونہہ!….“کبیردادا نے سر ہلاتے ہوئے سرسری لہجے میں کہا ۔”اب تو نہیں رہا ناتو آپ کسی اور کو اپنا خاص آدمی بنا لیں ۔“
”سن لیا شہاب صاحب ۔“اخلاق حسین ،شہاب کی طرف متوجہ ہوا ۔
”کبیردادا آپ زیادتی کر رہے ہیں ۔“شہاب نے اخلاق حسین کی طرف داری کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
کبیردادا نے کندھے اچکاتے ہوئے بے پروائی سے کہا۔”یہ بھلا کون سی زیادتی ہے۔ دلاور شیخ ،اخلاق حسین کا رشتا دار تو تھا نہیں ۔ایک عام سا غنڈہ تھا ۔مر گیا ہے تو اس کی جگہ لینے والے کئی مل جائیں گے ۔“
اخلاق حسین غصے بھرے طنز سے بولا۔”صحیح کہا ،کسی بھی غنڈے کے مرنے کے بعد جگہ لینے والے کئی مل جاتے ہیں ۔“
کبیردادا کے چہرے پر گہری سرخی ابھری ،مگر جب وہ بولا تو اس کا لہجہ ان تاثرات سے میل نہیں کھا رہا تھا جو اس کے چہرے پر ہویدا تھے۔ ۔”شاہ صاحب !….میرا تجربہ کہتا ہے کہ سوچ کر بولنے والے زیادہ عرصہ زمین کے اوپر چلتے نظر آتے ہیں ۔“
شہاب نے فوراََ مداخلت کی ۔”آپ لوگ تو لڑنے لگے ۔“
”شہاب صاحب !….آپ نے دیکھ لیا کبیر دادا کا لہجہ اور انداز؟….زیادتی بھی یہ کرے اور دھمکیاں بھی یہ دے ۔ہم نے بھی کوئی چوڑیاں نہیں پہنیں ….سیاست میں حصہ لینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنا کام بھول گئے ہیں یا چھوڑ دیا ہے ۔“
”اچھا اب چھوڑو اس بحث و تکرار کو اور بات ختم کرو ….دلاور شیخ کا قتل کبیردادا کی جلد بازی ہے ،لیکن اس کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں کہ لڑائی کرنا پڑے ۔“
”ٹھیک ہے شہاب صاحب !….آپ کی بات مان لیتے ہیں ،لیکن کبیردادا نے وہاں نہایت غلط اعلان کیا ہے کہ آج کے بعد اس محلے میں میرا کوئی آدمی نہیں جائے گا ۔“
شہاب کبیردادا کو مخاطب ہوا ۔”یقینا اس بارے آپ کچھ سوچیں گے ۔“
کبیر دادا حتمی لہجے میں بولا ۔”میں سوچ کر فیصلہ کرتا ہوں، فیصلہ کر کے نہیں سوچتا ۔“
اخلاق نے طنزیہ لہجے میں شہاب کو متوجہ کیا ۔”سن لیا ۔“
”کبیر دادا!….“شہاب شاہ نے امید بھرے لہجے میں اسے پکارا ۔
کبیردادا نے کہا ۔”شہاب صاحب !….کیا کبیر دادا کی زبان اتنی ہلکی ہے ۔“
”سمجھنے کی کوشش کرو ۔“اس مرتبہ اخلاق حسین براہ راست اسے مخاطب ہوا ۔”اگر میں نے اس محلے والوں کو یونھی چھوڑ دیا تو وہ باغی ہو جائیں گے اور میرا رعب خاک باقی رہے گا۔“
”چند گھرانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔“کبیردادا اپنی زبان سے پھرنے کے لیے تیار نہیں تھا ۔
”شہاب صاحب !….ا ب مجھ سے گلہ نہ کرنا ۔“اخلاق حسین خفگی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہاں سے جانے لگا۔
”بات تو سنو ؟“شہاب نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر اخلاق حسین سنی ان سنی کرتا ہوا وہاں سے نکل گیا ۔
شہاب نے افسوس بھرے انداز میں سرہلایا۔”یہ اچھا نہیں ہوا ۔“
”صحیح کہہ رہے ہیں آپ ۔“کبیردادا نے اثبات میں سر ہلایا۔”غریب ایم این اے اور ایک گینگ کا سربراہ بے موت مارا جائے گا ۔“
شہاب ہنسا ۔”ویسے میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ کو ہو کیا گیا ہے ۔اس سے پہلے تو آپ نے کبھی کسی عورت کو اتنی اہمیت نہیں دی ۔“
”اہمیت کہاں دی ہے صرف نکاح پڑھایا ہے ،اگر کوئی عورت نکاح پڑھا کر ہی میری تنہائی کی ساتھی بننے کی خواہاں ہے تو مجھے کیا اعتراض ۔ان دو بولوں کی اہمیت تو بس اتنی ہی ہے کہ ایک لفظ تین بار دہرانے سے سب کچھ ختم ، ہر ذمہ داری اور ہر واسطہ خلاص ….“
”تو اس ایک لفظ کی تکرار کب ہو گی ؟“
وہ مسکرایا ۔”کبیر دادا کے ایک گھنٹے کی قیمت اتنی کم نہیں کہ دو تین دن میں اس کی قیمت وصول ہو جائے ۔چند دن اس سے لطف اندوز تو ہو لوں ۔یوں بھی ان چھوا مال ہے ۔“
”کیا اس کے بعد ہمیں بھی اس گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع مل سکتا ہے ۔سنا ہے لڑکی نہایت پرکشش ،جاذب نظر اور خوب صورت ہے ۔“
کبیرادادا نے قہقہہ لگایا۔”وہ کیا کہتے ہیں امید پر دنیا قائم ہے ۔“
”اچھا وہ بعد کا مسئلہ ہے ،فی الحال یہ بتائیں اخلاق حسین شاہ کے مسئلے کے بارے کیا سوچا ۔میرا تو مشورہ ہے جانے دیں ۔اس محلے میں سے کون سا کسی نے آپ کے پاس آکر شکایت کرنا ہے ۔“
کبیرا دادانے بے ساختگی سے کہا ۔”وہ تناوش کا محلہ ہے ۔“یہ کہتے ہی اسے احساس ہوا کہ وہ کچھ غلط کہہ گیا ہے ۔فوراََ وضاحت کرتے ہوئے بولا ۔”میرا مطلب ہے جب تک وہ میرے پاس موجود ہے ،یہ کہہ تو سکتی ہے کہ میرا اعلان بس ہوائی فائر ہی تھا ۔“
”یہ تناوش کون ہے ؟“شہاب معنی خیز لہجے میں مسکرایا ۔
کبیردادا جان چھڑانے والے انداز میں بولا ۔”میری بیوی سمجھ لو ۔“
”ویسے بیوی اور رکھیل میں فرق کیا ہوتا ہے؟“شہاب نے اسے چھیڑنا جاری رکھا تھا۔
”یار چھوڑو اس موضوع کو ۔“کبیر نے بے زاری کا اظہار کیا ۔
”ایسے بہت سارے سوالات کا سامنا کرنا تو باقی ہے کبیرا دادا،ابھی سے چیں بول گئی ہے ۔“
”مجھے چلنا چاہیے ۔“کبیردادا کھسیانی ہنسی ہونٹوں پر بکھیرے کھڑا ہو گیا ۔
”کب تک بھاگو گے ۔“شہاب کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اس کے ہمراہ اٹھ گیا تھا۔
کبیر دادا کو باہر آتا دیکھ کر ڈرائیور نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی اور اس کے قریب لے آیا ۔شہاب سے الوداعی مصافحہ کر کے اس نے عقبی نشست سنبھا ل لی ۔
”گھر چلو۔“ڈرائیور کے پوچھنے سے پہلے ہی اس نے بتا دیا تھا ۔ساڑھے آٹھ ہو گئے تھے اور دس بجے اس نے تناوش کو لینے جانا تھا ۔
گھر پہنچتے ہی محافظوں کو چند منٹ میں تیار ہو جانے کا حکم سنا کروہ اپنی خواب گاہ میں گھس گیا ۔
”ویسے دادا کل سے کچھ عجیب سی حرکتیں نہیں کر رہا ۔“کبیر دادا کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی اس کے ذاتی محافظ رخسار نے تبصرہ کیا ۔
بخش نے تائیدی انداز میں کہا ۔”کہہ تو صحیح رہے ہو ۔“امتیاز اور باقر نے بھی اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔
باقر نے خیال ظاہر کیا ۔”ویسے لڑکی بہت خوب صورت ہے جس کی وجہ سے باس سے رہا نہیں جا رہا۔“
امتیاز بولا۔”کئی خوب صورت لڑکیاں کبیر دادا کی زندگی میں آچکی ہیں ۔“
”ہاں مگر اس لڑکی میں کوئی نئی بات ضرور ہے ۔“باقر اپنی با ت پر قائم تھا ۔
رخسارنے قہقہہ لگا کر کہا ۔”نئی بات یہی ہے کہ نئی نکور ہے ۔“
بخش نے کہا ۔” دلاور شیخ کو قتل نہیں کرنا چاہیے تھا ،وہ اخلاق حسین شاہ کا خاص آدمی تھا۔اور ابھی دیکھا تھا کتنے غصے سے وہ شہاب صاحب کی کوٹھی سے رخصت ہو کرگیا ہے۔“
امتیاز نے لقمہ دیا ۔”تمھاری بھی بے عزتی کر دی ہے نا ۔“
”مجھے علم ہوتا تو کبھی بھی مصافحے کے لیے ہاتھ نہ بڑھاتا ۔بہ ہر حال اس بارے کبیر دادا کے سامنے منھ کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
باقر ہنسا ۔”بہتر تو یہی ہے کہ کبیر دادا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی وجہ سے ان کے محافظ کی کتنی بے عزتی ہو گئی ہے ۔“
بخش نے کہا ۔”چھوڑو یار !….سانڈوں کی لڑائی میں فصل ہی اجڑتی ہے ۔“
باقر نے کہا ۔”یہ تو خیر غلط بات ہے ،اخلاق حسین شاہ ہمارے لیے سانڈ ہو سکتا ہے ، کبیر دادا کے سامنے اس کی حیثیت بکری سے زیادہ نہیں ہے ۔“
امتیاز پوچھنے لگا ۔”ویسے اب اس لڑکی کی یہاں کیا حیثیت ہو گی۔کیا اس کے احکامات کی بھی پابندی کرنا پڑے گی ؟“
”اس کی مدتِ قیام دو تین دن سے زیادہ نہیں ہو گی ۔“بخش نے قہقہہ لگایا ۔”اور اتنے دنوں میں غریب کو خواب گاہ سے نکلنے کا موقع نہیں ملے گا احکامات خاک دے گی ۔“اس کی بات سن کر باقی بھی کھل کھلا ہنس پڑے تھے ۔
اسی وقت کبیردادا اندر سے برآمد ہوا ۔سیاہ رنگ کے تھری پیس سوٹ نے اس کی وجاہت میں اضافہ کر دیا تھا ۔
امتیاز دبے لہجے میں بولا ۔”آج تو دادا نے بڑی چمک نکالی ہوئی ہے ۔“
جاری ہے
