Rakhail by Riaz Aqib Kohler NovelR50760 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06
No Download Link
503.3K
53
Rate this Novel
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode01 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode02 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode03 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode04 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode05 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06 (Watching)Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode07 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode08 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode09 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode10 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode11 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode12 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode13 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode14 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode15 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode16 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode17 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode18 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode20 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode21 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode22 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode23 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode24 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode25 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode26 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode27 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode28 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode29 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode30 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode31 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode32 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode34 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode35 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode36 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode37 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode38 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode39 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode40 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode41 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode43 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode44 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode45 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode46 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode47 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode48 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode49 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode50 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode51 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode52 Rakhail by Riaz Aqib Kohler Last Episode
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06
Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode06
اسی وقت مولوی محبوب الٰہی کی بیوی چاے کے برتنوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئی ۔ اس نے باورچی خانے میں ان کی ساری گفتگو سنی تھی ۔پیالیوں میں چائے انڈیلتے ہوئے وہ تیکھے لہجے میں بولی ۔
”بشریٰ بہن !….بہتر ہو گا کہ اب ہمیں اپنے ساتھ گھسیٹنا بند کردیں، پہلے بھی آپ کی مدد کرنے کا صلہ ہم بھگت رہے ہیں ،یہ نہ ہو کوئی اور مسئلہ کھڑا ہو جائے ۔“
”یقینا آپ لوگوں نے اپنوں سے بڑھ کر ہمارا ساتھ دیا ہے اور ہماری وجہ سے آپ کو بہت زیادہ تکلیفیں بھی برداشت کرنا پڑیں ،مگر یقین مانیں بہن، اب خطرے والی کوئی بات نہیں ہے ۔بھائی جان پر کوئی آنچ نہیں آئے گی ۔“
”نہیں بہن!….آپ نکاح پڑھانے کے لیے کوئی اور مولوی بلوا لیں ۔“مولوی کی بیوی حامدہ دو ٹوک لہجے میں بولی ۔
”ایسا نہیں کہتے نیک بخت۔“مولوی ان کی گفتگو میں مخل ہوا ۔”زندگی اور موت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے ۔“
”آپ خاموش رہیں جی !“حامدہ شوہر پر برس پڑی ۔”پہلے بھی آپ کے نیکی کمانے کے شوق میں ہمیں یہ دن دیکھنا پڑا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ گھر کے ساتھ ہمیں عزت کے بھی لالے پڑ جائیں ۔“
’ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا چچی جان !“تناوش اسے تسلی دینے لگی ۔”ہم تو بس اس لیے آئے ہیں کہ چچا جان اپنی آنکھوں سے اس منحوس کا انجام دیکھ لے ۔“
”سپنے دیکھنے بند کرو لڑکی !….ایسا کچھ ڈراموں فلموں میں تو ہو سکتا ہے حقیقت میں نہیں ۔دلاور شیخ جیسے درندوںکی رسی کو مالک بھی ڈھیلا چھوڑے رکھتا ہے ۔ایسے موذی کا ہم جیسے کمزور لوگ کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔“
”بہن جی !….ہم مولوی صاحب کو دلاور شیخ سے لڑائی کرنے کی دعوت دینے نہیں آئے ۔اور خطرہ تو لڑکے والوں کو ہونا چاہیے نا ؟مولوی صاحب تو نکاح پڑھانے تشریف لائیں گے ،اور اس بات پر اس منحوس دلاور کو کیا اعتراض ہو گا۔“
”وہ تو ٹھیک ہے ….“حامدہ نے کچھ کہنے کے لیے پر تولے مگر مولوی محبوب الٰہی قطع کلامی کرتا ہوا بولا۔”ٹھیک ہے بہن جی !….اگر آپ کی خوشی اسی میں ہے تو میں بعد از نمازعصر حاضر ہو جاﺅں گا ۔“
”اللہ پاک آپ کو عزت دے بھائی جان !“بشریٰ نے ممنونیت سے کہا ۔مولوی صاحب کا حوصلہ دیکھ کر تناوش کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں تھیں ۔وہ بے صبری سے اس وقت کا انتظار کرنے لگی جب دلاور شیخ جیسا ظالم اپنے انجام سے دو چارہوتا۔
مولوی محبوب الٰہی کاحتمی جواب سن کر حامدہ نے بھی خاموش رہنا مناسب سمجھا تھا۔
چاے پی کر ماں بیٹی واپس گھر کی طرف چل پڑیں ۔مولوی صاحب کے گھر سے نکلتے ہی انھیں دلاور شیخ کا منحوس کارندہ نظر آ گیا تھا ۔گلی کی نکڑ پر کھڑا وہ مولوی صاحب کے گھر ہی کی جانب متوجہ تھا ۔وہ ماں بیٹی کے اکٹھے کہیں جانے پر ضرور ان کا پیچھا کرتے ۔اسکول جانے کے علاوہ تناوش اگر اکیلی کہیں جاتی، تب بھی وہ اس کا تعاقب کرتے ۔البتہ تناوش کے اسکول جاتے وقت وہ کبھی اس کے پیچھے چل پڑتے اور کبھی جانے دیتے ۔گزشتا کل بھی انھوں نے تناوش کا پیچھا نہیں کیا تھا ورنہ دلاور شیخ تک کبیر دادا اور تناوش کی ملاقات کی خبرضرور پہنچ جاتی ۔
اس منحوش شکل کے کارندے کے پاس سے گزرتے ہوئے نہ جانے تناوش کو کیا سوجھا کہ وہ اسے مخاطب کرتے ہوئے بولی ۔”دلاور شیخ کو بتا دینا ،آج بعد از نماز عصر میرا نکاح اور رخصتی ہے ۔اپنے چمچوں کے ساتھ ضرور شرکت کرئے ۔“
تناوش کی جرّات اور بے باکی پر دلاور شیخ کے آدمی کی آنکھوں میں حیرانی نمودار ہوئی ، مگر پھر حیرانی پر استہزاءکا عنصر غالب آگیا ۔وہ قہقہہ لگا کر ہنسا۔
”ضرور بھابی !“
تناوش اس کا جواب سننے کے لیے رکی نہیں تھی ۔یوں بھی دلاور شیخ کی وجہ سے ان میں سے کوئی بھی اسے چھیڑتا نہیں تھا ۔
٭٭٭
تناوش کو گھر پہنچا کربشریٰ خاتون نے محلے میں گھوم پھرکر تما م کو بیٹی کی شادی میں شرکت کی دعوت دی تھی ۔جس جس تک یہ بات پہنچتی گئی وہ ششدر ہوتا گیا ۔ہر ایک تفصیل جاننے کا خواہاں تھا مگر سب کے سوال کے جواب میں مسکرا کر بشریٰ خاتون یہ کہتی رہی ….
”اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے ۔“
گھر پہنچنے پر اسے تناوش افسردہ انداز میں بیٹھی نظر آئی ۔یقینا شادی کر کے گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہونا کسی بھی لڑکی کے لیے بہت اذیت ناک اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ پسند کی شادی کرنے والی لڑکی بھی اس موقع پر آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتی ،یہاں تو مسئلہ ہی اور تھا ۔اپنے بھائی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے اس نے اندھا جواءکھیلا تھا ۔نہ معلوم کبیر دادا اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ۔
ایک عجیب بات یہ تھی کہ اسے کبیر دادا سے کوئی ڈر اور خوف محسوس نہیں ہورہا تھا ۔ بلوغت کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی ہر لڑکی کی طرح اس نے بھی ایک ان دیکھے شہزادے کے خواب دیکھنا شروع کر دیے تھے جس نے اس کا دولھا بننا تھا ۔اس کے سپنوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دلاو شیخ کی صورت میں نمودار ہوئی، جس نے خوب صورت سپنوں کو چھین کر اس کی آنکھوں میں آگ و خون کے خواب سجا دیے تھے ۔اب کبیردادا سے ملنے کے بعد نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ہمیشہ سے اسی کے خواب ہی تو دیکھتی رہی تھی ۔
بشریٰ بیٹی کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی ۔”اب پریشان ہونے کا کیا فائدہ ….تیر کمان سے نکل چکا ہے ، بس نتیجے کا انتظار کرو ۔“
وہ ماں کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے بولی ۔”ماں جی !….میںاپنے فیصلے پر نہیں آپ سے جدائی کا سوچ کر دکھی ہوں ۔“
وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولی ۔”جدائی کون سی ،ایک ہی تو شہر میں ہوں گے ۔ میں روزانہ اپنی بیٹی کو ملنے جایا کروں گی ۔“
”نہیں ماں جی !“تناوش نے نفی میں سر ہلایا۔”آپ وہاں کبھی بھی نہیں آئیں گی ۔ جب بھی موقع ملا میں خود ملنے آ جایا کروں گی ۔“
”کیوں ؟“وہ حیران ہی تو رہ گئی تھی ۔”کیا یہ تمھارے ہونے والے شوہر کا حکم ہے۔“
”نہیں ۔“ایک مرتبہ پھر اس نے نفی میں سرہلایا۔”یہ بھی میرا اپنا فیصلہ ہے ۔ اور فکر نہ کریں ،جب بھی آپ کا دل چاہے گا میں ملنے آجایا کروں گی ۔“
بشریٰ مسکرائی ۔”تو کیا ، مجھ سے ملنے کو تمھارا دل نہیں چاہے گا۔“
”آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں ۔“تناوش شکوہ کناں ہوئی ۔
”مذاق کر رہی تھی چندا !“بشریٰ نے جھک کر بیٹی کا ماتھا چوم لیا ۔
اسی وقت دروازہ کھٹکھٹا کر تناوش کی دوسہلیاں گھر میں داخل ہوئیں ۔یقینا اسکول سے واپسی پر انھیں تناوش کی شادی کی بابت معلوم ہوا تھا اور وہ وہاں بھاگتی ہوئی وہاں پہنچی تھیں ۔ وہ دونوں سگی بہنیں تھیں ۔اسکول کے کپڑے تک وہ تبدیل نہیں کر سکی تھیں ۔بشریٰ انھیں خوش آمدید کہہ کر وہاں سے ہٹ گئی تھی ۔شازیہ اور نازیہ نے آتے ساتھ سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی ۔ انھیں بھی دلاور شیخ کے بارے مکمل معلوم تھا ۔بلکہ وہ کیا پورا محلہ اس بات کواچھی طرح جانتا تھا اور اب وہ حیران اس بات پر تھے کہ آخر دلاور شیخ کی مصیبت سے ان کی جان کیسے چھوٹی تھی ۔
وہ فخریہ لہجے میں بولی ۔”میرے ہونے والے شوہر کے سامنے دلاور شیخ کی حیثیت ایک کیڑے جتنی بھی نہیں ہے ۔“
شازیہ نے پوچھا ۔”ایک دم ایسا رشتا تم نے کہاں سے ڈھونڈ لیا ؟“
تناوش کے جواب دینے سے پہلے داخلی درواے پر ایک بار پھر حرکت ہوئی اور اس کی ایک اور سہیلی سلمیٰ گھر میں داخل ہوئی ۔ان دونوں بہنوں کی طرح وہ بھی آتے ساتھ حیرانی کا اظہار کرنے لگی ۔تناوش ان کی حیرانی سے محظوظ ہوتے ہوئے مسکرائی ۔
”وہ کیا کہتے ہیںجوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور یہ کہ اللہ پاک جب دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے ۔“
”بس محاورے ہی سناتی رہنا اصل بات سے پردہ نہ اٹھانا ۔“نازیہ نے تنگ آ کر دہائی دی ۔
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی ۔ ”کبیر خان نام ہے ،چھے فٹ سے اونچا قد ،کسرتی جسم ، چوڑی چھاتی ،گندمی رنگت ،کشادہ پیشانی ،موٹی ساحرانہ آنکھیں، مضبوط ہاتھ پاﺅں بہت بڑے کاروبار ،بنگلے اور کئی کاروں کا مالک ۔ساس سسر ،نند دیور کی آلودگی سے پاک….اتنا کافی ہے یا کچھ اور بتاﺅں۔“
سلمیٰ نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”بولتی رہو جھوٹ ،تم سے تو اللہ میاں ضرور پوچھے گا۔“
اس دوران اس کی دو تین اور سہلیاں بھی پہنچ گئی تھیں ۔تھوڑی دیر کبیردادا کی شخصیت کو موضوع گفتگو بنائے رکھنے کے بعد وہ تناوش کو دلھن بنانے کے درپے ہو گئیں ۔پہلے پہل تو تناوش نے سختی سے انکار کر دیا مگر پھر اسے اپنا رویہ مصنوعی لگا ۔شادی کے دن لڑکی کا بناﺅ سنگھار کرنا رسم و رواج کا حصہ تھا ۔بلکہ اس بارے تو شریعت کا حکم بھی موجود تھا ۔سب سے بڑھ کر وہ کبیر دادا کو خصوصی انعام سے نوازنا چاہتی تھی ۔جب اس سے معاہدہ ہو ہی گیا تھا تو اپنے الفاظ کا پاس رکھنے ہی میں اسے بھلائی نظر آئی ۔
اس کے پاس میک اپ کا کوئی سامان موجود نہیں تھا نہ وہ اس قسم کی عیاشیوں کی متحمل ہو سکتی تھی ۔زیادہ سے زیادہ سر پر تیل لگا کر کنگھی کردینا ہی اس کی تیاری میں شامل ہوتا تھا ۔ یوں بھی حسن کو سجاوٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔مگر اب اس کی شادی ہونے جا رہی تھی ۔اور دلھن کی سجاوٹ تیل کنگھی تک محدود نہیں ہوتی ۔اس کی سہلیوں کی نظر سے بھی اس کی غربت اوجھل نہیں تھی ۔اس کی ماں کے ہاتھوں بازار سے میک اپ کا سامان منگوانے کے بجائے سلمیٰ اپنا میک اپ بکس اٹھا لائی تھی ۔وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی ۔آج کل یوں بھی ایک صاحبِ حیثیت لڑکی کے پاس میک اپ کا اتنا سامان موجود ہوتا ہے کہ جس سے چھوٹے موٹے بیوٹی پارلر کی ضروریا ت پوری سکیں۔
ایک غریب عورت جو بیٹی کی ماں ہو وہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے جہیز کی فکر میں مصروف ہو جاتی ہے ۔شادی کی خریداری کے لیے امراءاور غریبوں کا طریقہ کار بالکل مختلف ہے ۔امیروں کی خریداری شادی سے چند دن پہلے شروع ہوتی ہے جبکہ غریب کی ساری زندگی بیٹی کا جہیز تیار کرتے گزر جاتی ہے ۔تناوش کی ماں نے بھی اس کے لیے تھوڑی بہت جیولری اور چند لباس خرید رکھے تھے ۔انھی میں سے ایک سرخ رنگ کا جوڑا تناوش کو پہنا کر انھوں نے دلھن کا روپ دے دیاتھا ۔شادی کی تقریب گھر کے اندر ہی ہونا قرار پائی تھی ۔ان کا گھر بارہ مرلے پر مشتمل تھا ۔دو کمرے ایک برآمدہ اور پھر اس کے سامنے کافی کھلا صحن بچ جاتا تھا ۔بشریٰ خاتون کے پاس اتنی استطاعت نہیں تھی ورنہ وہ اس گھر کو بہتر انداز میں تعمیر کرا کر کرائے پر بھی چڑھا سکتی تھی ۔وہ دو کمرے بھی اس کے شوہررفیق نے اپنی زندگی ہی میں بنا چھوڑے تھے ۔اب تو بشریٰ مشکل سے اپنا اور بیٹی کا پیٹ ہی پال رہی تھی تعمیر کی مد میں کہاں سے رقم لاتی ۔
بشریٰ نے شازیہ کے بھائی کو کہہ کر ایک قنات کرائے پر منگوا کر برآمدے کے سامنے لگا دی تھی تاکہ عورتوں اور مردوں کے درمیان پردہ قائم ہو سکے ۔کمروں میں موجود تین چار چارپائیاں انھوں نے مردوں کے بیٹھنے کے لیے صحن میں بچھا دی تھیں۔چند چارپائیاں وہ پڑوسیوں کے گھروں سے بھی مانگ کر لے آئے تھے ۔شادی کی تمام تیاریاں مکمل تھیں ۔محلے کے چند مرد صحن میں آکر بیٹھ گئے تھے ۔شادی میں شرکت کے لیے تو وہ ہمت کر کے آگئے تھے مگر انھیں رہ رہ کر دلاور شیخ کا خوف گھیرنے لگتا ۔وہ بہت پہلے سے تناوش سے شادی کا دعوے دار تھا اب اس کی شادی پر اس نے کہاں خاموش رہنا تھا ۔مگر اب تک وہ وہاں نہیں پہنچا تھا شاید وہ برات کی آمد کا منتظر تھا ۔اس کے ایک دو چمچے پڑوسیوں کوبشریٰ کے گھر کے گرد گھومتے نظر آئے تھے ۔
عصر کی آذان سن کر دو تین آدمی نماز کے لیے مسجد کی طرف بڑھ گئے جبکہ کچھ ازلی بے حسی سے مالک کائنات کی دعوت کو نظر انداز کیے وہیں بیٹھے رہے ۔یقینا انھیں فلاح کی ضرورت نہیں تھی ۔ورنہ فلاح کی ضمانت یعنی نماز سے غافل نہ رہتے ۔
نماز کے بعد مولوی محبوب الٰہی بھی پہنچ گیا تھا ۔محلہ داری میں لوگ آپس میں پردے کا اہتمام کم ہی کرتے ہیں اس کے باوجود مولوی محبوب الٰہی نے پردے کے قریب جا کر اندرجانے کی اجازت طلب کرنا ضروری سمجھا تاکہ کوئی عورت پردہ کرنا چاہے تو اسے اطلاع مل جائے ۔ بشریٰ نے اسے خوش آمدید کہتے ہوئے اندر بلالیا ۔وہ سیدھا تناوش کے قریب پہنچا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔
”میں آگیا ہوں بیٹی ۔“
”اللہ پاک آپ کو دنیا اور آخرت کی عزت عطا فرمائے مولوی صاحب !“تناوش نے ممنونیت بھرے انداز میں کہا ۔
”آمین ۔اللہ پاک ہم سب کو عزت سے نوازے ۔“دعائیہ انداز میں کہتے ہوئے مولوی محبوب الٰہی باہر نکل گئے ۔اسی وقت تناوش نے موبائل فون نکالا تاکہ کبیر دادا کا نمبر ڈائل کرسکے ۔اس سے پہلے کہ وہ نمبر ملاتی اس کے کانوں میں دلاور شیخ کی منحوس آواز پڑی۔
”ارے یہاں تو سچ مچ شادی کا ماحول بنا ہے ۔انھیں شاید دلاور شیخ کی طاقت کے بارے کوئی شبہ ہو گیا ہے ۔“
”لگتا تو یہی ہے باس ۔“اس کے ایک چمچے کی آواز ابھری ۔
”اور تم سب کو میرا کوئی خوف نہیں رہا کہ یہاں اکٹھے ہو گئے ہو ….یقینا یہ اس بڈھے عاشق مولوی کی کارستانی ہے ۔“ بے ہودہ انداز میں کہتے ہوئے وہ مولوی محبوب الٰہی کی طرف بڑھا ۔”کیوں بے مولوی تجھے کون سا کیڑا سدھرنے نہیں دے رہا ۔“
اس کے انداز سے تناوش سمجھ گئی تھی کہ وہ مولوی محبوب الٰہی کی طرف جا رہا ہے ۔سر پر دوپٹا جماتے ہوئے وہ سرعت سے باہر نکلی ۔اس وقت تک دلاور شیخ ،مولوی محبوب الٰہی کو گریبان سے تھام چکا تھا ۔
اس نے کڑک کر کہا ۔”ایک منٹ دلاور شیخ!“
وہ حیرانی سے اس کی طرف متوجہ ہوا ۔اسے دیکھتے ہی دلاور شیخ کے منحوس چہرے پر خباثت نمودار ہوئی ۔”ارے واہ ….یہاں تو میری دلھن کسی اور کے لیے سجی ہوئی ہے ۔“
”مولوی صاحب کو چھوڑ دو دلاور شیخ ۔“تناوش نے اپنی بات دہرائی ۔
”اگر کسی میں اتنی جرّات ہے کہ دلاور شیخ سے اس کا گریبان چھڑا لے تو آگے آجائے۔
”تو مرد ہے کہ ہیجڑا ۔“تناوش کے الفاظ ایسے نہیں تھے کہ دلاور شیخ آپے سے باہر نہ ہوتا ۔وہ کمینگی سے بولا۔
”بے فکر رہو،میری مردانگی کا ثبوت تمھیں آج رات مل جائے گابے بی ۔“
”وہ بعد کا مسئلہ ہے ،فی الحال مولوی صاحب کا گریبان چھوڑو ….کیاتم نے خودنہیں کہا تھا کہ جب کوئی میری برات لے کر آئے گا تو وہ خود بھی جان سے جائے گا اور تم میرے بی اے کرنے سے پہلے ہی مجھ سے شادی کر لو گے ۔“
”بالکل کہا تھا ۔“دلاور شیخ نے چھاتی چوڑی کی ۔
”تم نے نکاح پڑھانے والے کے بارے تو کوئی ایسی بات نہیں کی تھی پھر مولوی صاحب کی توہین کا مطلب ؟….میرے ہونے والے شوہر سے نبٹ لو ،شاید اس کے بعد مجھ سے نکاح پڑھانے کے لیے تمھیں بھی مولوی صاحب کی ضرورت پیش آجائے ۔“
”ہونہہ!….یہ تم نے کام کی بات کی ہے ۔“مولوی صاحب کا گریبان چھوڑ کر وہ اپنے چمچوں کی طرف متوجہ ہوا ۔
”کرمے !….جا ذرا پہلوان کی دکان سے ایک ٹوکرا مٹھائی کا تو اٹھا لا ….آج اس ٹنٹنے کو ختم ہی کرتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے باس ۔“کرمے نامی چمچے نے اثبات میں سر ہلا کر باہر کا رخ کیا ۔
”تو نکاح کی کارروائی شروع کریں ۔“دونوں ہاتھوں سے ہلکی سی تالی بجاتے ہوئے اس نے ہاتھ دھونے کے انداز میں ملے ۔
تناوش بے باکی سے بولی ۔”پہلے میرے شوہر سے تو نبٹ لو ۔“
”تو بلاﺅ اسے ….میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ کسی ٹٹ پونجیے کا انتظار کرتا رہوں ۔
تناوش نے ہاتھ میں پکڑے موبائل فون پر کبیر دادا کا نمبر ڈائل کیا اور موبائل فون کان سے لگا لیا ۔دو تین گھنٹیوں کے بعد کسی نے کال کاٹ دی تھی ۔اس کا دل انجانے خوف سے دھڑکا۔اور وہ دوبارہ نمبر ملانے لگی ۔مگر آگے سے ایک بار پھر نمبر مصروف کر دیا گیا ۔اس نے تیسری کوشش کی جس کا حال پہلی والی کوششوں سے مختلف نہیں تھا ۔ایک دم اس کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا ۔ اس کی بے باکی اور بہادری کے غبارے سے فوراََ ہوا نکل گئی تھی ۔یقینا کبیردادا کو اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔وقتی طور پر اسے ٹالنے کے لیے اس نے حامی بھری تھی ورنہ نہ تو اس کی زندگی میں خوب صورت لڑکیوں کی کمی تھی اور نہ اسے تناوش سے نکاح پڑھانے کا کوئی شوق تھا ۔ وہ اپنا قیمتی وقت کسی بے سہارا یتیم لڑکی پر ضائع نہیں کر سکتا تھا ۔تناوش کا دل ڈوبنے لگا ۔
وہاں موجود تمام مردوں کی نظریں اس کے چہرے پر گڑی تھیں ۔بغیر کوئی بات رابطہ منقطع ہونے پر دلاور شیخ چہکا ….
”بے بی !….یقینا تمھارے ہونے والے سورما شوہر کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ تم پر دلاور شیخ کی نظر ہے ۔ دلاور شیخ تو موت کا دوسرا نام اور موت کا سامنااس مولوی جیسا بے قوف ہی کر سکتا ہے ۔بہ ہرحال مولوی صاحب نکاح پڑھانا شروع کرو ۔“اس نے شاید زندگی میں پہلی بار مولوی محبوب الٰہی کو تمیز سے مخاطب کیا تھا۔
زمین اور آسمان تناوش کی نگاہوں میں چکرانے لگے تھے ۔بے اختیار وہ قریب پڑی چارپائی پر بیٹھ گئی ۔اس کی ماں فوراََ دہائی دیتے ہوئے کمرے سے باہرنکلی ۔
”نہیں دلاور شیخ !….تم نے خود چودہ جماعت کرنے تک کی مہلت دی ہوئی ہے اور میری بیٹی ابھی بارہویں کلاس میں ہے ۔“
”سن مائی !….میں نے کہا تھا کہ تم لوگ کوئی ایسی حرکت نہیں کرو گے جیسی اب کر چکے ہو ۔اور اب تمھاری مہلت ختم ۔میں خود ہی تمھاری بیٹی کو بی اے کروا لوں گا ۔بلکہ اس کی بہت اچھی ٹیوشن بھی رکھوں گا ۔“بشریٰ کو یہ کہتے ہی وہ مولوی محبوب الٰہی کو مخاطب ہوا ۔” ابے مولوی کی اولاد !….کیا کہا ہے نکاح پڑھانا شروع کر ۔“
”مم…. مگر لڑکی تیار نہیں ہے ۔“مولوی محبوب الٰہی ہکلاتے معترض ہوا ۔
”کیسے تیار نہیں ہے ….اپنے کسی یار کے لیے تو اس نے اتنا سنگھار کر لیا ہے عاشق کو بھی مایوس نہیں کرے گی ۔“
”مم….مگر جناب لڑکی رضامندی تو لازمی ہوتی ہے نا ۔“
”تم فکر نہ کرو ….وہ بالکل رضامند ہو گی ….یقینا اسے تمھاری لاش دیکھناپسند نہیں ہوگا ۔“یہ کہتے ہی اس نے جیب سے پستول نکال کر مولوی محبوب الٰہی کی کنپٹی پر رکھ دیا تھا
حیران و پریشان بیٹھی تناوش کے سر پو اور قیامت ٹوٹ پڑی ۔مولوی صاحب کو وہ بڑے اعتماد سے بلا کر لائی تھی ۔اس نے تو دعوا کیا تھا کہ دلاور شیخ اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکے گا اور اب مولوی صاحب کو جان کے لالے پڑ گئے تھے ۔
”خدا کے لیے یہ ظلم نہ کرو ۔“وہ دلاور شیخ کے سامنے ہاتھ باندھتے ہوئے گڑگڑائی ۔
وہ اطمینان سے بولا ۔”ٹھیک ہے ،تم میرے ساتھ نکاح پڑھوا لو ….مولوی کو کچھ بھی نہیں کہوں گا ۔“
تناوش کے پورے وجود کے اندر بے بسی بھر گئی تھی ۔اس کے دماغ میں مولوی کی بیوی حامدہ کی آواز ابھری ۔
”سپنے دیکھنے بند کرو لڑکی !….ایسا کچھ ڈراموں، فلموں میں تو ہو سکتا ہے حقیقت میں نہیں ۔دلاور شیخ جیسے درندوںکی رسی کو مالک بھی ڈھیلا چھوڑے رکھتا ہے ۔ایسے موذی کا ہم جیسے کمزور لوگ کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔“
اس کی بات بالکل سچ تھی ۔اب دلاور شیخ کی بات نہ مان کر وہ بس مولوی صاحب کی زندگی کی دشمن ہی بن سکتی تھی ۔ایک لمحہ سوچنے کے بعد وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی ….
”ٹھیک ہے ۔مولوی صاحب!….آپ نکاح پڑھانا شروع کریں ۔“
جاری ہے
