Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode42

کاشف پاشا کو کھینچتا ہوا باہر لے آیا تھا۔ڈرائیور کو دوسری کار میں آنے کا کہہ کر وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔پاشا نے بھی اپنے محافظوں کو پیچھے آنے کا اشارہ کر دیا تھا ۔
شہا ب قصوری کے ٹھکانے سے نکلتے ہی کاشف اس کی طرف متوجہ ہوا ۔”اتنا جذباتی ہونے کی وجہ ،کل تک تو وہ تمھیں فراڈن ،ڈائن ،کمینی اور جانے کیا کیا لگ رہی تھی ۔“
”بکواس کر رہا تھا ،سراسر غلطی پر تھا ۔“پاشا نے اعترافِ حقیقت میں بخل سے کام نہیں لیا تھا ۔
”پتا نہیں بکواس وہ تھی یا اب کر رہے ہو ۔“
”آپ کا اندازہ ٹھیک تھا دادا،وہ نہایت شریف ،گھریلو اور معصوم لڑکی ہے ۔ دھوکے ، فراڈ ،کمینگی اور خود غرضی کی دنیا سے نہایت دور۔بس اسے اپنے شوہر کی پروا ہے۔“
تمھارے جیسے خبطی سے مجھے یہ امید نہیں تھی کہ اتنی جلدی اس ڈائن کے قابو میں آجاﺅ گے ۔“یہ فقرہ کاشف نے ہنستے ہوئے کہا تھا ۔پاشا کے ہونٹوں پر کھسیانی ہنسی نمودار ہوئی ۔
”آج بتاﺅ نا یہ تبدیلی آئی کیسے ؟“
”آپ سے ملاقات کے اگلے دن میں کبیر دادا کی غیر موجودی میں اس سے ملنے چلا گیا ۔وہ اتنے خلوص ،محبت اور تمیز داری سے ملی کہ مجھے بات کرنا دشوار ہو گیا تھا ۔بڑی مشکل سے میں نے اپنا ما فی الضمیر بیان کیا اور ……..“پاشا نے ساری تفصیل دہرا دی ۔
”ویسے ہو سکتا ہے ،ایس پی ٹھیک کہہ رہا ہو اور تمھارا اندازہ غلط ہو کبھی کبھی معصوم چہروں کے پیچھے بھی مکروہ لوگ بستے ہیں ۔“
”دادا پلیز،میں آپ سے مار نہیں کھانا چاہتا ۔“پاشا کے لہجے میں ناگواری تھی ۔
”کیا ….“کاشف کے لہجے میں حیرانی تھی ۔”اس کے لیے مجھ سے جھگڑو گے ۔“
پاشا دکھی دل سے بولا ۔”دادا ،وہ میری بہن ہے ۔اس نے مجھے اتنا مان دیا ہے ،اس کے سر پر میں نے ہاتھ رکھا ہے ۔غنڈہ ضرور ہوں ،بے غیرت نہیں ہوں ۔“
کاشف نے قہقہہ لگایا ۔”اچھا ٹھیک ہے یار معذرت ۔“
”کبیردادا کے سیکرٹری عظیم اور محافظ امتیاز سے میری تفصیلی بات ہو چکی ہے ۔وہ اس وقت کبیر دادا کے ہمراہ تھے ۔انھوں نے دروازے کے باہر سے گڑیا کی چیخیں سنی تھیں ۔وہ فاصی بے غیرت کو خدا کے واسطے ڈال رہی تھی ۔اور گڑیا کی چیخیں سن کر ہی کبیر دادا نے اس کی یہ حالت کی ہے ۔باقی یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ اگر وہ اپنی مرضی سے وہاں گئی ہوتی تو واپس نہ آ پاتی ،اس معاملے میں کبیر دادا رعایت کا قائل نہیں ہے ۔“
کاشف راجپوت نے اپنے ٹھکانے کی جانب کار موڑتے ہوئے پوچھا ۔”میرے ساتھ رکو گے ؟“
پاشا نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،میں چلوں گا ۔“اور کاشف نے اسے نیچے اتارنے کے لیے کار روک دی ۔
٭٭٭
”کبیردادا ،آپ کہاں ہیں ۔“کبیر دادا نے شہاب قصوری کے ٹھکانے سے نکل کر گھر کا رخ کیا تھا ۔ اس وقت وہ گھر کے قریب پہنچنے والا تھا جب اخلاق حسین کی کال موصول ہوئی ۔
اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”شاہ جی ،میں تو گھر پہنچنے والا ہوں خیریت ۔“
” دو تین باتیں کرنا تھیں ،میرا خیال ہے پھر کبھی سہی ۔“
”اگر کوئی ضروری بات ہے تو گھر پر آجاﺅ ۔“
” کوئی خاص بات تو نہیں تھی ۔بس آپ کو احتیاط کی تاکید کرنا چاہتا تھا ۔“
کبیردادا کے ہونٹوں سے قہقہہ برا ٓمد ہوا ۔”شاہ جی کیا باتیں لے کے بیٹھ گئے ہو ۔ آپ کا کیا خیال ہے وہ ٹٹ پونجیا ایس پی مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔“
”میرا یہ مطلب نہیں تھا کبیر دادا ۔میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ وہ ایس پی ہے اور پولیس کی نوکری نے اسے کافی اختیار دیا ہوا ۔“اخلاق حسین نے کھسیاہٹ ظاہر کی ۔
”شاہ جی ،وہ کیا بھلی سی کہاوت ہے کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور پولیس والوں نے جب جان قربان کرناہو تو کبیر دادا کے متھے لگ جاتے ہیں ۔“
”اچھا کبھی بیٹھ کر اس موضوع پر تفصیلی بات کریں گے فی الحال آپ ،ہماری بھابی کے پاس جانے کے لیے بے چین نظر آتے ہیں ۔“اخلاق حسین نے جلدی سے بات سمیٹی ۔یوں لگ رہا تھا جیسے اس کا مطمح نظر پورا ہو گیا ہو۔
”شکریہ شاہ جی ۔“کبیر دادا نے رابطہ منقطع کر دیا ۔گاڑیاں کوٹھی میں داخل ہو گئی تھیں۔ اس کی پیاسی نظروں کو مایوسی نہیں ہوئی تھی ۔وہ اندرونی عمارت کے داخلی دروازے پر میٹھی مسکان ہونٹوں پر بکھیرے کھڑی تھی ۔اسے دیکھ کر کبیردادا ارد گرد کے مناظر سے بے نیاز ہو گیا تھا ۔اچانک اسے یاد آیا کہ وہ تو صبح اس سے ناراض ہو کر گھر سے نکلا تھا ۔گو بعد میں اس نے کال پر اسے راضی تو کر لیا تھا مگر وہ اتنی آسانی سے اس کی جان بخشی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔فوراََ ہی چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے اس نے تناوش سے نظریں پھیر لیں ۔
”آپ ابھی تک خفا نظر آرہے ہیں ۔“اس کے قریب پہنچتے ہی تناوش نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پریشانی ظاہر کی ۔
وہ جواب دیے بغیر خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا ۔
”اے !….بات تو سنیں ناں ۔“وہ اسے محبت سے پکارتی اپنی جانب متوجہ کرنے لگی۔
کبیر دادا یونھی موڈ بنائے صوفے پر بیٹھ گیا ۔فوراََ دبیز قالین پر بیٹھتے ہوئے اس نے کبیر دادا کے گھٹنوں پر ٹھوڑی ٹیکی ۔”میں نے رونا شروع کر دینا ہے ۔“اس نے اس انداز میں کہا تھا کہ کبیردادا ہنسی نہ روک سکا ۔
وہ خوش ہوتے ہوئے بولی ۔”پتا بھی ہے آپ ہنستے ہوئے کتنے اچھے لگتے ہیں ۔“
”اچھا جلدی سے تیار ہو جاﺅ شاپنگ کے لیے چلتے ہیں ۔“
”سچ ۔“وہ کھل اٹھی تھی ۔”میں نے لسٹ بھی بنا لی ہے ۔“اس نے میز پر پڑی کتاب سے ایک کاغذ نکال کر کبیر دادا کی آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔
کاغذ اس کے ہاتھ سے لے کر وہ مندرجات پر نظریں دوڑانے لگا ۔چھوٹی چھوٹی خواہشات کی طویل فہرست نے کبیر دادا کو دکھی کر دیا تھا ۔اسے افسوس ہونے لگا کہ اس نے پہلے دن ہی تناوش سے کیوں نہ پوچھا ۔
”بس اتنا تھوڑا سامان ۔“اس نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”چار پانچ گھنٹوں میں بس یہی چند چیزیں یاد کی ہیں ۔“
”آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں ۔“اس نے منھ بسورا۔
وہ وارفتگی سے بولا۔”اپنی گڑیا کی قسم سنجیدہ ہوں ۔“
”استاد جی کہتے تھے کہ غیراللہ کی قسم نہیں کھانا چاہیے ۔“وہ اس کی تصحیح کرنے لگی ۔
”یار، ان پڑھ سا بندہ ہوں اب پڑھی لکھی بیوی ملی تو آہستہ آہستہ سمجھ جاﺅں گا ۔“
”سچ بتائیں آپ کی تعلیم کتنی ہے ،کلاس میں کون سی پوزیشن لیتے تھے۔ استادوں کی مار کھائی ہے کہ نہیں اور امی جان ،ابوجان کیسے تھے ۔مجھے سب بتائیں نا کبیر، پلیز ۔“وہ ملتجی ہوئی۔
وہ اطمینان سے بولا ۔”ٹھیک ہے شاپنگ پر نہیں جاتے ،بس باتیں کرتے ہیں ۔“
”میں دو منٹ میں تیار ہو کر آئی ۔“وہ فوراََ کھڑی ہو گئی تھی ۔
اس کی تیزی دیکھتے ہوئے کبیر دادا ہنس دیا تھا ۔”اچھا ،وہی کالج والے کپڑے پہننے ہیں ۔“
اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ،لیکن جب باہر نکلی تو کالج ہی کے کپڑوں میں تھی ۔ اس کے کپڑے تبدیل کرنے کے دوران وہ عظیم کو ضروری ہدایا ت دے چکا تھا ۔جب وہ تناوش کے ساتھ باہر نکلا تو اس کی کار تیار کھڑی تھی ۔عظیم کو اس نے بتا دیا تھا کہ وہ خود ڈرائیو کرے گا ،اس لیے عظیم ڈرائیور کی جانب والا دروازہ کھولے کھڑا تھا ۔کبیر دادا نے خود تناوش کے لیے دروازہ کھولا اور اس کے بیٹھتے ہی دوسری جانب سے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔اس کے کہنے پر عظیم نے محافظوں کی ایک ہی جیپ تیا رکی تھی ۔
کار کے آگے بڑھتے ہی جیپ اس کے پیچھے چل پڑی ۔امتیاز ،بخش کو مخاطب ہوا ۔
”کہتا تھا نا یہ نمازن ،کبیر دادا کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی ،دیکھ لو کس طرح ناز نخرے اٹھا رہا ہے ۔دروازہ صرف کھولا نہیں خودبند بھی کیا ہے ۔“
بخش نے کہا۔”یہ تو بیوی کا حق بنتا ہے کہ اسے عزت دی جائے ،آخر وہ بھی تو کبیر دادا کی خدمت کرتی ہو گی ۔“
امتیاز صاف گوئی سے بولا ۔”ہم سے تو زن مریدی نہیں ہوتی بھئی ۔“
”جب تم خود اپنی بیوی کو عزت نہیں دے سکتے تو کسی دوسرے سے کیسے امید کر سکتے ہو کہ وہ تمھاری بیوی کی تکریم کرے گا ۔“
امتیاز بگڑکر بولا ۔”یار فلسفے بیان نہ کرو ،اس چھوکری کے لیے کبیر دادا یوں دروازہ کھولے ، حد نہیں ہو گئی ۔“
بخش فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”وہ چھوکری کبیردادا کی بیوی ہے ،اس کی عزت و حرمت ہے کوئی بازاری لڑکی نہیں ہے ۔ کل کو اسی سے کبیردادا کی نسل چلے گی ۔اسے ملازمہ اور پاﺅں کی جوتی بنا کر رکھنے سے اولاد بھی نوکر جیسی جنے گی اور شہزادی بنا کر رکھے گا تو شہزادے پیدا کرے گی۔“
”میٹرک تو کر نہ سکے اور باتیں کر رہے ہو پروفیسروں جیسی ۔“
”زندگی کا فلسفہ تعلیم نہیں تجربے کی مرہون منت ہو تا ہے ۔“
امتیاز طنزیہ لہجے میں بولا ۔”اتنے تجربہ کار ہوتے تو دو دفعہ شرط نہ ہارتے ۔“
”شرط ہارنے کو چھوڑو ،ابھی کبیر دادا اسے شاپنگ کے لیے لے جا رہا ہے تھوڑی دیر بعد تم اس کا خریدا ہوا سامان ہاتھوں میں اٹھا کر پھر رہے ہو گے ۔تب میں پوچھوں گا کہ ایک چھوکری کا سامان اٹھانے کی کیا ضرورت ہے ۔“
”یار کوئی اور موضوع نہیں ہے تم دونوں کے پاس ۔“ڈرائیور نے انھیں جھڑکا ۔اور دونوں ہونٹ بھینچ کر چپ ہو گئے ۔
تناوش کی سوچ کے بر عکس کبیر دادا نے سب سے پہلے ایک جیولر مارکیٹ میں کار روکی تھی ۔قیمتی زیورات کو دیکھتے ہوئے تناوش حیران ہو گئی تھی ۔جیولر، کبیر دادا کا جاننے والا تھا ۔ بیٹھتے ہی جیولر نے ان کے سامنے مختلف زیورات کا ڈھیر لگا دیا تھا ۔جڑاﺅ کنگن ،قیمتی موتیوں کا ہار ،بندیا ،ٹاپس ،بندے ،لاکٹ ،انگوٹھیاں ،نتھلی ،بالیاں ،نیکلس ،پازیب وغیرہ ۔کبیردادا نے تناوش کے ناک ،کان ، گلے ،ہاتھوں ،پاﺅں وغیرہ کے لیے دو دو تین تین زیور خریدے تھے ۔ تناوش محجوب سی بیٹھی کبیر دادا کو خریداری کرتے دیکھتی رہی ۔بل دیکھ کرکبیر دادا نے لاکھوں روپے کا چیک کاٹ کربے پروائی سے جیولر کی طرف بڑھا دیا ۔وہاں سے وہ اسے دوسری مارکیٹ میں لے آیا ۔میک اپ کا سامان اور پھر سینڈل وغیرہ خریدنے کے بعد وہ کپڑوں کی دکان میں پہنچے ۔ تناوش شیشے کے سامنے کھڑی ٹخنوں تک آتی قمیص کو دیکھ رہی تھی اور کبیر دادا اسے دیکھ رہا تھا ۔ اچانک اس کے کانوں میں ایک نسوانی آواز پڑی ۔
”اسلام علیکم سر !“ایک نوجوان لڑکی اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھی ۔وہ کبیرداداکو تھوڑی شناسا سی نظر آئی مگر اسے یاد نہ آیا کہ اسے کہاں دیکھ چکا ہے ۔
”جی میں ۔“وہ ذرا حیران ہوا ۔
”سر، میرا خیال ہے آپ مجھے بھول گئے ہیں ۔میں نے اس دن آپ کو کپڑوں کے انتخاب میں مدد دی تھی اور آپ نے مجھے ایک سوٹ تحفے میں بھی دیا تھا ۔“
”اوہ سوری ۔“کبیردادا کو فوراََ یاد آگیا تھا ۔
”کوئی بات نہیں سر ۔“کبیردادا کے یاد نہ رکھنے پر اسے ہلکی سی مایوسی ہوئی تھی ۔ شاید کبیر دادا کی طرف سے ملنے والے سوٹ کو اس نے کسی اور نظر سے دیکھا تھا ۔
”اچھا ،وہ سوٹ اس کے لیے لیا تھا ۔“کبیر دادا نے شیشے کے سامنے کھڑی تناوش کی طرف اشارہ کیا ۔”دیکھ لو جسمانی لحاظ سے آپ کی طرح لگتی ہے نا ۔“
وہ لڑکی تناوش کی طرف گھوم گئی ۔اس نے بھی کبیر دادا کے ساتھ ایک لڑکی کو کھڑے دیکھ لیا تھا۔ایک لحظے میں اسے شاپنگ وغیرہ بھول گئی تھی ۔وہ بس اسی جانب گھورتی رہ گئی ۔
کبیر دادا کو خطرہ محسوس ہوا اور وہ اس لڑکی کو بولا ۔”آئیں آپ کاتعارف کرادوں ۔“
”جی سر ۔“تناوش کو دیکھتے ہی وہ لڑکی مزید بجھ گئی تھی ۔
”تناوش ،اس لڑکی نے اس دن لباس خریدنے میں میری مدد کی تھی ۔مجھے تو تمھارا ناپ ہی معلوم نہیں تھا ۔“
”ہونہہ!“گہرا سانس لیتے ہوئے وہ لڑکی طرف متوجہ ہوئی ۔”شکریہ باجی ۔“اور اس کے ساتھ ہی اس نے کبیر دادا کو اتنی سخت نظروں سے گھورا کہ وہ بے ساختہ سر پر ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔
”اچھا سر ،میں چلوں گی ۔“تناوش کو سر کے اشارے سے آدا ب کہتی ہوئی اس نے گویا کبیر دادا سے جانے کی اجازت مانگی ۔
”شکریہ بہن ۔“کبیر دادا نے فوراََ کہا ۔وہ کن انکھیوں سے تناوش کو بھی دیکھ رہا تھا ۔
اس لڑکی کے جاتے ہی وہ بولی ۔”بہتر ہو گا ،یہاں میرے ساتھ کھڑے ہوکر کپڑے پسند کرنے میں میری مددکریں ۔“
”جی بیگم صاحب۔“ہونٹوں پر ہنسی بکھیرتا وہ اس کے قریب ہو گیا ۔
”زہر لگ رہی ہے یہ ہنسی ۔“تناوش کا موڈ اب تک بگڑا ہوا تھا ۔
”ایسا بھی کیا کر دیا ہے یار ۔“
”میں کچھ بھی نہیں خریدوں گی ،میں بتا رہی ہوں ۔“تناوش رونے پر تیارہو گئی تھی ۔
”میں نے سب کے سامنے بانہوں میں بھر لینا ہے ۔“کبیردادا نے دھمکی دی ۔
”بانہوں میں بھر لینا ہے ۔“اسے چڑاتے ہوئے وہ دوبارہ کپڑوں کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
”اچھا یہاں سے ہوٹل پر چلیں گے ،رات کا کھانا باہر ہی کھا کر لوٹیں گے ۔“اسے خوش کرنے کے لیے کبیر دادا نے تجویز پیش کی ۔
تناوش نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،رات کا کھانا گھر میں کھائیں گے ۔آج ایک مہمان کو بھی بلایا ہے ۔اور راحت خالہ کو خصوصی کھانا تیار کرنے کا بتا کر آئی تھی ۔“
”واہ ،مہمان بھی بلانا شروع کر دیے ۔“
”اگر آپ کو اچھا نہیں لگا تو منع کر دیتی ہوں ۔“
”تم بہانے بہانے سے لڑنے کی راہ کیوں ڈھونڈ رہی ہو ۔“
”ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔“کہہ کر وہ دوبارہ ہینگر میں لٹکے مختلف اقسام کے کپڑوں کی جانب متوجہ ہو گئی ۔خریداری کر کے وہ باہر نکل آئے ۔کار کی عقبی نشست اور ڈگی سامان سے بھر گئی تھی ۔
”تم خفا خفا سی لگ رہی ہو ۔“اسے خاموش دیکھ کر کبیردادا پوچھنے لگا ۔
وہ منھ بناتے ہوئے بولی ۔”اگر میرے بس میں ہو تو آپ کے چہرے پر تیزاب پھینک دوں ۔“
”دماغ تو ٹھیک ہے ۔‘کبیردادا حیران رہ گیا تھا ۔
”مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ لڑکیاں یوں آپ کے آگے پیچھے گھومیں ۔آپ کو محبت سے دیکھنے کا حق صرف اور صرف مجھے ہے ۔“
وہ ہنسا ۔”تو تیزاب سے تو میں تمھارے دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہوں گا ۔“
وہ وارفتگی سے بولی ۔”مجھے آپ ہر شکل ،ہر حالت میں قبول ہیں ۔“
”ویسے دوسرا دن ہے تمھارے تیور کچھ بدلے بدلے سے ہیں ۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔”اس کی وجہ بھی آپ ہیں ۔“
”لو نیا الزام بھی آگیا ۔“کبیردادا افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔” وضاحت کرنا پسند کریں گی ۔“
”ہاں ۔“اس کی جانب کھسکتے ہوئے تناوش نے اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا۔ ”جب ایک عورت کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا شوہر اس سے پیار کرتا ہے ،اس کی قدر کرتا ہے ،اسے سر آنکھوں پر بٹھاتا ،اس کے سارے لاڈ اور ناز نخرے برداشت کرتا ہے ۔تب عورت شوہر کے دل میں موجود اپنی اہمیت کو مدنظر رکھ کر کبھی کبھی ہٹ دھرمی اور بے جا ضد پر بھی اتر آتی ہے ۔ کیوں کہ وہ جانتی ہے اس کی ہٹ دھرمی اور بے جا ضد تسلیم کی جائے گی ۔خواہ مخواہ غصہ بھی دکھاتی ہے اور اس کا مطلب شوہر کی شان میں گستاخی کر نا نہیں ہوتا ہے ۔بلکہ وہ لاڈ کر رہی ہوتی ہے ۔اپنے اختیارات کی آخری حد جان رہی ہوتی ہے ۔“
ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ ویل سنبھالتے ہوئے کبیر دادا نے دوسرے ہاتھ سے اس کی ناک کی پھننگ کو مروڑا ۔
”افف….پھر وہی حرکت۔“تناوش نے اس کے ہاتھ پر آہستہ سے تھپڑ رسید کیا ۔
”جتنی بڑی بڑی اور فلسفیانہ باتیں کر رہی ہو اتنی سیانی نظر تو نہیں آتی ہو ۔“کبیردادا نے اسے چھیڑا ۔
وہ مسکرائی ۔”اگر سیانی نہ ہوتی تو کبیر کو چنتی ۔“
”یہ بھی خو ب رہی ۔“کہتے ہوئے کبیر دادا نے پھول بیچنے والے بچے کے پاس کار روک دی ۔ تناوش کے لیے گجرے خرید کر اس نے اس کی ریشمی کلائیوں میں پہنائے اور آگے بڑھ گیا ۔
گھر پہنچتے ہی کبیر دادا صوفے پر بیٹھ گیا ۔تناوش نے سب سے پہلے اس کے لیے چاے بنائی اورپھر تمام سامان کو الماریوں میں ترتیب سے رکھنے لگی ۔کبیر دادا اسے کام کرتے دیکھتے ہوئے چاے کی چسکیاں لیتا رہا ۔سامان کی ترتیب سے فارغ ہونے تک شام کی آذان ہو گئی تھی ۔نماز پڑھ کر اس نے شیشے کی میز کے ساتھ دو تپائیاں ملا کر رکھیں اور راحت خالہ کے ساتھ مل کر میز پر کھانا لگانے لگی ۔
”مہمان کو تو آنے دو ۔“کبیردادا نے اسے ٹوکا ۔
”مہمان بس پہنچنے ہی والا ہے ۔“وہ رکے بغیر کام میں لگی رہی ۔کھانا لگا کر وہ باہر نکلی اور چند منٹ لگا کر جب واپس آئی تو پاشا اس کے ہمراہ تھا ۔
اسے دیکھتے ہی کبیردادا کا موڈ بگڑ گیا تھا،وہ ایک دم کھڑا ہوتے ہوئے بولا ۔”ٹھیک ہے تم لوگ کھانا کھاﺅ مجھے ضروری کام ہے ۔“
”جہاں بھی جانا ہے کھانا کھا کر چلے جانا ۔“تناوش نے فوراََ اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا ۔
”تمھیں کہا نا ضد نہیں کرتے ۔“پاشا نے اسے ڈانٹا ۔
”میں ضد کروں گی ۔اور خدا کی قسم آپ نے کھانا نہیں کھایا تو نہ تو کھانا کھاﺅں گی اور نہ کبھی آپ کا تحفہ قبول کروں گی ۔“
”تمھارا دماغ خراب ہوا ہے ۔“کبیردادا جانے کا ارادہ موخّر کرتے ہوئے بیٹھ گیا ۔
”آپ خواہ مخواہ بھیا سے خفا ہو رہے ہیں ۔انھوں نے جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کیا تھا نا۔کیا انھیں میری عزت عزیز نہیں تھی ۔اور پھر یہ بھی دیکھیں کہ اس سے پہلے بھی میں گھر جا کر رہتی رہی ہوں کبھی کسی نے ایسی حرکت نہیں کی ۔اور یاد ہے نا شادی کے پہلے دن ہی مجھے خاور شیخ اغواءکر کے لے گیا تھا بتائیں اس وقت کس کی غلطی تھی ۔“
کبیر دادا اس کی بات کا جواب دیے بغیر خاموش بیٹھا رہا ۔
تناوش پاشا کوآنکھ مارتے ہوئے کہنے لگی ۔”اچھا بھیا آپ انھیں معذرت بولیں ۔“
پاشا منھ بناتے ہوئے بولا۔”ایسے رویہ دکھا رہا ہے گڑیا ،تم بیٹھو کھانا کھاﺅ۔اگر یہ دادا ہیں تو تمھارا بھائی بھی ایک گینگ کا سربراہ ہے ۔اور تمھارا بھائی کسی سے معافی نہیں مانگا کرتا ۔“
”تیری تو ….“کبیر دادا ایک دم اٹھ کر اس کی طرف بڑھا ۔
”معافی ،معذرت غلطی ہو گئی دادا ۔“پاشا نے فوراََ کان پکڑ لیے تھے ۔”پلیز اب میری چھوٹی بہن کے سامنے تو کچھ نہ کہیں ۔“
اس کا انداز دیکھتے ہوئے تناوش کھل کھلا کر ہنس پڑی تھی ۔
”بڑے ڈھیٹ ہو ۔“کبیردادا بھی ہونٹوں پر کھسیانی مسکراہٹ لیے بیٹھ گیا ۔
”دیکھا ،تمھیں کہا تھا نا اوپر اوپر سے رویہ دکھا رہے ہیں ۔“پاشا ،تناوش کی طرف متوجہ ہوا ۔
”بھیا اب بیٹھ جائیں ۔“تناوش کبیر دادا کے پہلو ہی میں بیٹھ گئی تھی ۔کھانے کے بعد وہ سبز چاے پی رہے تھے جب انٹرکام کی گھنٹی بجی ۔پاس پڑے فون کا سپیکر پاشا نے آن کر دیا ۔ عظیم بات کر رہا تھا ۔وہ ساحل والے اڈے پر کسی مسئلے کی بابت بتا رہا جس کے حل کے لیے کبیر دادا کا تھوڑی دیر کے لیے جانا ضروری تھا ۔
بات ختم ہوتے ہی کبیردادا پاشا کو مخاطب ہوا ۔”یار ،میرا خیال ہے تم جا کر دیکھ لو ۔“
پاشا سے پہلے تناوش نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔”بھیا نہیں ،آپ خود جائیںاور جلدی لوٹنا ۔“
کبیر دادا کے چہرے پر تو جیسے کسی نے تھپڑ مار دیا تھا ۔بڑی مشکل سے اس نے اپنا غصہ قابو کیا ۔پاشا کو بھی کبیر دادا کی حالت نظر آگئی تھی ،مگر تناوش ایسا کہہ کر برتن سمیٹنے لگی تھی اس لیے وہ کبیردادا کی کیفیات سے بے خبر تھی ۔
پاشا جلدی سے بولا ۔”ٹھیک ہے دادا میں چلا جاتا ہوں ۔“
”نہیں ،تم اپنا آرام مت خراب کرو میں جا رہا ہوں ۔“عجیب سے لہجے میں کہتے ہوئے کبیر دادا اٹھ کر تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گیا ۔
تناوش نے حیرت بھری نظروں سے اس کی پشت کو گھورا اور پھر برتن چھوڑ کر اس کے پیچھے بھاگ پڑی ۔
”بات تو سنیں ۔“اس نے آواز دے کر اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ رکے بغیر چلتا گیا ۔
”جلدی لوٹنا ،آپ کے لیے سرپرائز ہے ۔“وہ اس کی بے رخی کو نظر انداز کیے بولتی رہی ۔
گاڑیاں لگی ہوئی تھیں ۔اس کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے کار آگے بڑھا دی ۔اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا ۔اور پھر اس کی کار گیٹ سے نکل گئی ۔اور وہ اس کی ناراضی کو سوچتی رہ گئی ۔
”میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں ۔“پاشا کی آواز نے اسے چونکا دیا تھا ۔
”جی بھیا ۔“کہہ کر وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
”اس طرح نہیں کہتے بے وقوف ۔“اسے واپس لوٹتے دیکھ کر وہ خواب گاہ کے دروازے ہی پر رک گیا تھا ۔
”مم….میں نے کیا کہا ہے بھیا ۔“وہ سخت پریشان ہوگئی تھی ۔کبیردادا کی بے رخی وہ سہہ نہیں پا رہی تھی ۔ نہ تو اس نے تناوش کو دعا پڑھنے کا موقع دیا تھا اورنہ اس کی کسی بات کا جواب دیا تھا ۔
”جب وہ مجھے بھیج رہا تھا تو تمھیں اپنے بھیا کے آرام کی اتنی بھی فکر نہیں ہونا چاہیے تھی پگلی ۔اور اب رونے نہ بیٹھ جانا آجائے گا تھوڑی دیر تک ۔“اس کے سر پر ہلکی سی چپت مارتا ہوا وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔
وہ بجھے دل سے برتنوں کی طرف بڑھی اسی وقت راحت خالہ بھی باورچی خانے سے نکل کر اس کے پاس آئی اور برتن سمیٹنے میں اس کا ہاتھ بٹانے لگی ۔برتن راحت خالہ کے پاس باورچی خانے میں چھو ڑکر وہ خواب گاہ میں لوٹ آئی۔راحت خالہ کے ساتھ گپ شپ کو بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔ چند لمحے بیٹھ کر وہ اسے کال کرنے لگی ۔کال جاتے ہی صوفے پر پڑا موبائل فون بجنے لگا تھا ۔وہ اپنا موبائل وہیں چھوڑ گیا تھا ۔
”وضاحت دینے کا موقع تو دیا کریں نا ۔“اس کی آنکھوں میں نمی ابھری اور پھر کسی خیال کے آتے ہی وہ مسکرانے لگی ۔”دیکھ لینا واپس آکر آپ کی ناراضی فوراََ ہی ختم ہو جائے گی۔“وہ پر اعتماد انداز میں ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی ۔
٭٭٭
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *