Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode19

میں نہیں چاہتا کہ اس کے سر سے باپ کا سایا اٹھ جائے ۔“
”کبیردادا !آپ زیادتی کر رہے ہیں ۔“ اجمل رحیم کو غصے پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔
”میں لکھ کر دے رہا ہوں کہ ایس پی ضمیر حسین اوڈھو آپ کے جنازے میں شرکت سے زیادہ کچھ نہیں کر پائے گا ۔“
”شاید پولیس سے دشمنی آپ کو مہنگی پڑے ۔“
”سپنوں کی دنیا سے باہر نکلو راﺅ صاحب !….ایس پی ضمیر حسین کی زیر کمان دوسرے تھانیدار ایسی حرکت کیوں نہیں کر رہے ۔یقین مانوضمیر حسین تمھارے کندھے پر بندوق رکھ کر فائر کررہا ہے ۔“یہ کہہ کر وہ اٹھتے ہوئے بولا ۔”میرا کام تھا سمجھانا ،اب بس کل تک انتظار کروں گا ۔“وہ مڑ کر باہر جانے لگا ۔
”بات سنیں ۔“اس کے پکارنے پر کبیردادا رک کر اس کی جانب متوجہ ہوا ۔
”دس ہزار ماہانہ بڑھانے سے آپ کو کوئی فرق تو نہیں پڑے گا ،البتہ میری لاج رہ جائے گی ۔“
کبیردادا کے ہونٹوں پر دھیمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”اس شرط پر کہ یہ دس ہزار میری بھتیجی نادیہ کے جیب خرچ کا حصہ بنیں گے ۔“
”منظور ۔“راﺅ اجمل کے چہرے پر پہلی بار اطمینان چھلکا۔”اب چاے تو پی لیں ۔“
”ادھار رہی ۔“کہتے ہوئے وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا تھانے سے باہر آگیا ۔
٭٭٭
”جی پاشادادا!“اسے امتیاز کی آواز سنائی دی ۔
پاشا نے پوچھا ۔”سناﺅ بھائی ،کبیردادا اٹھا ہے کہ نہیں ۔“
”ہم یہاں تھانے پہنچے ہوئے ہیں ۔“
”اتنی جلدی ۔“پاشا کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”رات کو کبیر دادا آپ لوگوں کے جاتے ہی ہمیں کام پر بھیج کر خود گھر چلے گئے تھے ۔ آج سویرے ہی جاگ گئے ۔“
پاشا نے اندازہ لگایا۔”شاید اس چھوکری سے جان چھڑانے کی خوشی میں سویرے جاگے ہوں گے ۔“
امتیاز نے حیرانی سے کہا ۔”کس چھوکری سے ،وہ نمازن تو ابھی تک گھر میں ہے ۔“
”مگر رات کبیردادا کہہ رہے تھے کہ صبح سویرے اسے گھر بھیج دے گا ۔“
”اس بارے تو میں کچھ نہیں جانتا ، صبح آتے وقت حسبِ معمول وہ کبیردادا کو چھوڑنے دروازے تک آئی تھی اور گاڑیوں کے گھر سے نکلنے تک دونوں لیلیٰ مجنوں کی طرح ایک دوسرے کو گھورتے رہے ۔“
”نہ کر یا ر!“پاشا کے لہجے میں تشویش تھی ۔”رات کو کبیردادا نے اسے واپس بھیجنے کا وعدہ کیا تھا ۔“
امتیاز نے خیال ظاہر کیا ۔”ویسے عظیم کو دادا گھر میں چھوڑ آیا ہے شاید اسے بتایا ہو کہ ہمارے نکلنے کے بعد نمازن کو گھر تک چھوڑ آئے ۔“
”میں پتا کر لیتا ہوں ۔“رابطہ منقطع کر کے وہ عظیم کا نمبر ملانے لگا ۔
”جی دادا !….“عظیم نے فوراََ کال وصول کی تھی ۔کبیردادا کے گینگ کے افراد پاشا کا اتنا ہی احترام کرتے تھے جتنا کبیردادا کا ۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ کبیردادا کا کتنا چہیتا تھا ۔
پاشا نے بے صبری سے پوچھا ۔”یار کہاں ہو ؟“
”بیگم صاحبہ کے کام کے سلسلے میں کالج آیا تھا ۔“
”کون بیگم صاحبہ؟“
عظیم اطمینان سے بولا ۔”کبیردادا کی بیوی ۔“
”کبیردادا تمھیں گھر کیوں چھوڑ گئے تھے ۔“
”انھوں نے کہا کہ بیگم صاحبہ کے داخلے وغیرہ کا کوئی مسئلہ ہے میں اسی سے پوچھ کر وہ کام کر دوں۔“
”اچھا ٹھیک ہے ۔“رابطہ منقطع کرکے وہ سوچ میں پڑ گیا ۔چند لمحوں بعد وہ کبیردادا کا نمبر ملا رہا تھا ۔
”ہاں پاشا خیریت تو ہے ۔“کبیردادا نے کال وصول کرتے ہی پوچھا ۔
”خیریت ہے دادا ،بس ایک بات پوچھنا تھی۔“
”تناوش کے علاوہ کچھ ہے تو پوچھو ۔“
”مگر رات کو آپ نے حامی بھری تھی ۔“
”ہاں ،مگر بعد میں سوچا تو مناسب نہ لگا ۔“
”جینا مشکل دکھائی دے رہا ہے ۔“پاشا نے بغیر لگی لپٹی رکھے پوچھا ۔
”جب آدمی تھپڑ کی حدود سے باہرہو تو اسی قسم کی بکواس کرتا ہے ۔“
”دادا، میں تھپڑ سے نہیں ڈرتا مگر آپ کی تازہ روش سے ڈر گیا ہوں ۔“
”بکواس نہ کرو یار!….اس لڑکی کو ایک غنڈے سے پناہ دے کر میں خبیثوں کے ٹولے کے سامنے کس طرح پھینک دوں ۔جانتے ہو نوشاد آفریدی ،اخلاق حسین وغیرہ کسی گدھ کی طرح اس پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں ۔جس دن وہ گھر چلی گئی اس سے بہت برا برتاﺅ کریں گے ، صرف مجھے نیچا دکھانے کے لیے ۔اور اس وقت میں اس کی کوئی مدد بھی نہیں کر پاﺅں گا کیونکہ میں اس سے رشتا ختم کر چکا ہوں گا اور ایک انجان لڑکی کے لیے کسی گینگ کے سربراہ کو میں کچھ نہیں کہہ سکوں گا ۔“
پاشا اس کی باتوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بولا ۔”اس متعلق ہم پہلے بات کر چکے ہیں ۔آپ نے عوام کا ٹھیکا نہیں لے رکھا ۔“
”کبیردادا سے تعلق کے بعد وہ عام نہیں رہی ۔“
”کبیردادا جیسے شخص کو اپنا دیوانہ بنانے والی عام کیسے ہو سکتی ہے ۔“
کبیردادا زچ ہوتے ہوئے بولا ۔”یار! ایسی کوئی بات نہیں ،تم بس بات کا بتنگڑ بنا رہے ہو ۔“
”میں شام کو کوٹھی پر آرہا ہوں ،دیکھوں تو ہے کیسی ؟“
”آج شام کو اخلاق حسین کے ہاں دعوت ہے ،وہیں ملاقات ہو گی ۔“
”اوہ مجھے تو بھول ہی گیا تھا ۔“
”ہاں تمھیں بس استاد پر بکواس کرنا یاد رہتا ہے ۔“کبیردادا نے منھ بناتے ہوئے رابطہ منقطع کردیا ۔
٭٭٭
تھانے سے نکلتے ہی کبیردادا نے ڈرائیور کو برکت کے اڈے پر جانے کا بتا دیا ۔برکت ہی تنویر پلازہ اور عباسیہ مارکیٹ کے دکانداروں سے بھتہ وصول کیا کرتا تھا ۔رستے ہی میں اسے پاشا کی کال موصول ہوئی ۔اس سے بات ختم کرنے تک وہ برکت کے اڈے پر پہنچ چکے تھے ۔
کبیردادا کی گاڑی دیکھتے ہی وہ بھاگتا ہوا قریب پہنچا تھا ۔مرسڈیز کا دروازہ کھول کر اس نے کبیردادا کو باہر آنے کی دعوت دی ۔
”کیا چل رہاہے ۔“کبیردادانے گاڑی سے نکلنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی ۔
”چھوٹا سا مسئلہ چل رہا تھا ،اس بارے عظیم کو بتا دیا تھا ۔“
کبیردادا نے کہا ۔”وہ مسئلہ حل ہو گیا ہے ۔ابھی تھانیدار ہی سے مل کر آرہا ہوں ۔اس کے علاوہ کچھ ہے تو بتاﺅ ۔“
”باقی تو سب ٹھیک چل رہا دادا ۔“
”تھانیدار راﺅ اجمل کے ماہانہ خرچ میں دس ہزار کا اضافہ کردو اور اس کے بعد اگر اس کے تھانے کا کوئی سپاہی گڑبڑ کی کوشش کرے تو پھر کوئی دوسرا علاج ڈھونڈیں گے ۔“
”جی دادا!….“برکت نے اثبات میں سرہلا دیا ۔
”دفتر چلو ۔“ڈرائیور کو مخاطب ہوتے ہوئے اس نے بات ختم کرنے کااشارہ دیا ۔ برکت کار کے دروازے سے پیچھے ہٹا اور ڈرائیور نے کار آگے بڑھا دی ۔اس کا رخ کمپنی آفس کی طرف تھا ۔کنسٹریکشن کمپنی اس کا کالا دھن چھپانے کی آڑ تھی ،وہ ہفتے دس دنوں میں ہی چند منٹوں کے لیے دفتر کا چکر لگاتا تھا۔ورنہ کمپنی کا سارا کام منیجنگ ڈائریکٹر کے ذمہ تھا ۔آفس میں بیٹھ کر اس نے چاے پینے کے دوران ایم ڈی سے چند منٹ کی گپ شپ کی ،کام کے بارے سرسری سا پوچھا اور دفتر سے باہر نکل آیا۔ایم ڈی کبیردادا کی اصل شخصیت سے اچھی طرح واقف تھا اس وجہ سے اسے کبھی ہیراپھیری کرنے کی جرّات نہیں ہوئی تھی ۔یوں بھی کبیردادا کے لیے کنسٹریکشن کمپنی کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔
کار میں بیٹھتے ہوئے اس نے ڈرائیور کو ہوٹل جانے کا کہا ۔ہوٹل کے تہہ خانے میں بہت بڑا جوااڈہ تھا جو کبیرداداہی کی سرپرستی میں چل رہا تھا ۔ہوٹل کی پارکنگ میں کار روکتے ہوئے ڈرائیور نے جھجکتے ہوئے پوچھا ۔”دادا !….اگر چند منٹ یہاں گزارنے ہیں تو میں سامنے شاپنگ پلازہ سے تھوڑی خریداری کر لوں ۔“شاپنگ پلازہ ہوٹل سے مخالف جانب بنا تھا۔ درمیان میں صرف سڑک گزرتی تھی ۔
”چلے جاﺅ ۔“مختصراََ کہتے ہوئے وہ کار سے اتر کر ہوٹل کی اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گیا ۔چاروں محا فظ اس کے پیچھے چل پڑے تھے ۔ہوٹل کے ہال میں رش نہ ہونے کے برابر تھا ۔البتہ سڑھیوں سے اترتے ہوئے وہ نیچے پہنچے۔دروازے پر کھڑے محافظ نے اسے دیکھتے ہی موّدبانہ لہجے میں سلام کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا ۔ تہہ خانے میں کافی رش تھا ۔ مختلف میزوں پر جواری ہاتھوں میں تاش کے پتے تھامے اپنی قسمت آزمائی کر رہے تھے ۔کچھ جوامشینوں پر مقدر میں لکھا پیسہ ڈھونڈ رہے تھے ۔کبیردادا دائیں بائیں سرسری نظر دوڑاتا ہوا ایک کونے میں بنے ہوئے کالے شیشے کے کیبن کی طرف بڑھ گیا ۔اس کے چاروں محافظ جوا ہال ہی میں خالی کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے ۔بیرے نے فوراََ ان کے سامنے شراب کی بوتل اور گلاس لا کر رکھ دیے تھے ۔
شیشے کے کیبن کے سامنے بھی ایک ہتھیار بردار کھڑا تھا ۔کبیردادا کو دیکھتے ہی اس نے سلام کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا ۔
دروازہ کھلنے کی آواز پرگھومنے والی کرسی پر بیٹھے بھدے نقوش والا شخص دروازے کی طرف متوجہ ہوا ۔کبیردادا کو دیکھتے ہی وہ ہڑ بڑا کر کھڑا ہو ا اور اس کے ساتھ ہی اپنی کرسی چھوڑ کر ایک طرف ہو تے ہوئے بولا ۔”سلام دادا۔“
سر کی ہلکی سی جنبش سے اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے کبیردادا گھومنے والی کرسی پر بیٹھ گیا ۔
”بیٹھو ارشد۔“اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے کبیردادا دیوار میں لگی بڑی سکرینوں کی طرف متوجہ ہو گیا جہاں مختلف میزوں اور جوا مشینوں کا منظر نظر آرہا تھا ۔
”کیسا چل رہا ہے ۔“لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد وہ مستفسر ہوا ۔
”بہت اچھا دادا ۔“بوتل سے شراب کا گلاس بھر کر کبیردادا کے سامنے رکھتے ہوئے ارشدنے مودّبانہ لہجے میں جواب دیا ۔
کبیردادا نے گلاس سے گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا ۔”کوئی مسئلہ ۔“
”کوئی نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلادیا ۔
”پولیس کی طرف سے تو کوئی پریشانی نہیں ہورہی ۔“
”نہیں دادا ۔“ارشد کا جواب ایک بار پھر نفی میں تھا ۔
”ہونہہ!“گلاس میں بچی بقیہ شراب ایک سانس میں حلق میں انڈیلتے ہوئے وہ کھڑا ہو گیا ۔
”کھانے کا وقت ہے ۔“ارشد نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا ۔
”شکریہ ۔“کبیردادا نے دروازے کی جانب قدم بڑھا دیے ۔ارشد نے بھاگ کر دروازہ کھولا اور اس کے باہر نکلتے ہی اس کے پیچھے چلنے لگا ۔چاروں محافظ بھی اسے دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے تھے ۔تہہ خانے کے دروازے تک ارشد اس کے ساتھ گیا تھا ۔
پارکنگ میں جاتے ہی اس کی نظر سڑک پار کرتے ڈرائیور پر پڑی اس نے ہاتھ میں شاپر پکڑا ہوا تھا ۔ایک دم اس کے ذہن میں شام کی دعوت کا خیال آیا اور اس نے ڈیش بورڈ کھول کر بڑی مالیت کے نوٹوں کی آدھی گڈی اٹھا کر جیب میں ڈالی اور شاپنگ پلازے کی طرف چل پڑا ۔محافظوں کو اس نے وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کر دیا تھا ۔
سڑک عبور کر کے وہ ایک دکان میں داخل جس کے سامنے عورتوں کے مجسموں پر فیشن ایبل سوٹ چڑھا کر شوپیس کے طور پر کھڑے کیے گئے تھے ۔دکان میں داخل ہوتے ہی اسے خیال آیا کہ تناوش کا ناپ وغیرہ تو اسے معلوم ہی نہیں تھا ۔اور جس قسم کی وہ لڑکی تھی یقینا اس نے کبھی ریڈی میڈ کپڑے خریدے بھی نہیں ہوں گے ۔وہ مایوس ہو کر واپس مڑنے ہی لگا تھا کہ اس نظر شوکیس کے سامنے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی ۔جسمانی خال و خد کے لحاظ سے وہ تناوش کے بالکل مشابہ تھی ۔سیلز مین سے کسی چیز کی قیمت دریافت کر کے اس نے اپنا پرس کھول کر اندر نظر دوڑائی اور مایوسی سے سر ہلا کر دروازے کی طرف بڑھی ۔کالی قمیص کے نیچے اس نے نیلے رنگ کی جینز پہنی ہوئی تھی ۔
”بہن بات سنو ۔“کبیردادا نے اسے جھجکتے ہوئے مخاطب کیا ۔
وہ کبیردادا سے چند قدم کے فاصلے سے گزر رہی تھی ۔اس کی آواز سنتے ہی اس نے حیرانی سے پیچھے مڑ کر دیکھا اور کسی کو موجود نہ پا کر دوبارہ کبیردادا کو دیکھتے ہوئے اس نے اپنی جانب انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے استفہامیہ اشارہ کیا ۔
”ہاں آپ سے مخاطب ہوں ۔“کبیر دادا نے اثبات میں سر ہلایا۔
”جی بھائی ۔“اس کے قریب رکتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی ۔
”اگر خفا نہ ہوں تو ایک چھوٹی سی مدد درکار تھی ۔“
”جی بھائی بولیں ۔“اس کے لہجے میں شکوک کی پرچھائیاں لرزاں تھیں ۔
”میں نے اپنی بیوی کو تحفہ دینے کے لیے ایک سوٹ لینا تھا لیکن اس کے ناپ کا مجھے معلوم نہیں ہے اور اتفاق سے آپ کا قد وغیرہ بالکل اس سے مشابہ ہے ،کیا آپ اس سلسلے میں میری کوئی مدد کر سکتی ہیں ۔“
”کال کر لو ۔“اس نے مشورہ دینے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
وہ ہنسا ۔”پھر تحفہ لے جانے کا مزہ باقی نہیں رہے گا ۔“
”چلیں آپ سوٹ پسند کریں میں سیلز مین کو ناپ بتا دیتی ہوں ۔“اس نے مزید تکرار سے گریز کیا تھا ۔
”اگر اتنی مہربانی کر رہی ہیں تو اپنی پسند ہی کا ایک سوٹ دکھا دیں ۔“
کبیردادا کو گہری نظروں سے گھورتے ہوئے وہ پیچھے مڑی اورسیلز مین کے قریب پہنچتے ہوئے کہنے لگی ۔”وہ سوٹ دینا ۔“اس نے انگلی سے اشارے سے ہینگر میں لٹکتے ایک سوٹ کی طرف اشارہ کیا ۔شاید تھوڑی دیر پہلے بھی وہ اسی سوٹ کا پوچھ رہی تھی ۔کالی جینز اور ہلکے گلابی رنگ کی پھولدار قمیص۔
”مجھے تو یہ پسند ہے اور یہ میرے ناپ کے مطابق ہے ۔“وہ پاس کھڑے کبیر دادا کو کہہ کر وہ جانے کے ارادے سے مڑی ۔
”ٹھہرو بہن ۔“کبیردادا اسے روکتے ہوئے سیلز مین کو مخاطب ہوا ۔”اسی ناپ اور رنگ میں دو سوٹ علاحدہ علاحدہ پیک کر دیں ۔
”جی بھائی ۔“کبیردادا کے کچھ نہ کہنے پر وہ پوچھنے لگی ۔
”ایک منٹ ۔“کبیردادا اسے بتائے بغیر سیلز مین کی طرف متوجہ رہا ۔دونوں سوٹوں کے پیک ہوتے ہی اس نے ایک پیکٹ اس لڑکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔”یہ آپ کے لیے۔“
”مگر یونھی سر !….میں یہ کیسے لے سکتی ہوں ۔“لڑکی نے انکار میں سرہلایا۔
وہ ہنسا ۔”بھائی سمجھ کر مدد کی ہے ،بہن سمجھ کر دے رہا ہوں ۔“
”مگر بھائی یہ بہت قیمتی ہے ۔“اس کے انکار میں دراڑ پڑتی دیکھ کر کبیردادا نے کہا ۔
”ہاں ….آپ خود اعتراف کر چکی ہیں کہ آپ کی قوت خرید سے باہر ہے ،اسی لیے تو دے رہا ہوں ۔“
اس لڑکی نے جھجکتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پیکٹ لیا اور ”شکریہ بھائی جان !“کہتے ہوئے چل دی ۔کبیرداداان سوٹوں کی ادائی کے لیے کیش کاﺅنٹر کی طرف بڑھ گیا ۔بل ادا کر کے وہ باہر نکلا ،وہ لڑکی سڑک کے کنارے کھڑی اسی دکان کی طرف متوجہ تھی ۔شاید اسے ابھی تک کبیردادا کی مہربانی کی سمجھ نہیں آرہی تھی ۔کبیردادا کو دکان سے نکلتے دیکھ کر وہ بہ ظاہر سامنے دیکھنے لگی مگر کبیردادا جانتا تھا کہ وہ کن اکھیوں سے اسی کی طرف متوجہ ہے ۔
اپنی بے وقوفی پر وہ دائیں بائیں سرمارتا ہوا سڑک عبور کرنے لگا ۔ تناوش کو گھر لانے کے بعد اس سے مسلسل اوٹ پٹانگ حرکتیں سرزد ہو رہی تھیں ۔اسے قریب آتا دیکھ کر ڈرائیور نے کار کا دروازہ کھول دیا ۔اندر بیٹھتے ہوئے اس نے سڑک کے پار نگاہ دوڑائی وہ لڑکی ابھی تک سڑک کے کنارے کھڑی اس کی طرف متوجہ تھی ۔
”گھر چلو ۔“وہ ڈرائیور کو مخاطب ہوا ۔اور اس نے ۔”جی دادا !“کہتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی ۔
”میں قسم کھا سکتا ہوں کہ دادا نے اس نمازن کے لیے خریداری کی ہے ۔“امتیاز دوسروں محافظوں کو مخاطب تھا ۔
بخش ہنسا ۔”یار! تم تو پکے ہی اس بے چاری کے پیچھے پڑے ہو ۔“
امتیاز نے کہا ۔”اس نے بھی تو ہمارے باس کو ہر کام سے نکال دیا ہے ۔“
”اس غریب کا کیا قصور ۔“باقر کا ووٹ بھی بخش کی طرف تھا ۔
”قصور تو ہے نا ،نہ وہ اتنی خوب صورت اور معصوم ہوتی ،نہ کبیردادا اس بری طرح سے فریفتہ ہوتے ۔“
”پتر !جس دن کبیردادا نے یہ ہرزہ سرائی سن لی ، تمھارا دنیا میں آخر ی دن ہو گا۔“
”پاشا دادا سے بات ہوئی تھی ،اس کا ووٹ بھی میرے حق میں ہے ۔“امتیاز نے چھاتی پھیلائی ۔
بخش اسے تنبیہ کرتے ہوئے بولا ۔”اس سے اپنا موازنہ نہ کرو،وہ کبیردادا کا لاڈلا ہے ۔“
”یار میں نے کبیردادا کے خلاف تو کوئی بات نہیں کی نا ۔“امتیاز نے فوراََ صفائی پیش کی ۔
باقر نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔”اگر تمھارے بہ قول وہ نمازن کبیردادا کو اتنی ہی پیاری ہے تو سوچ لو اس کے خلاف کوئی بات سن کر کبیردادا تمھارا کیا حشر کرے گا ۔“
”میری توبہ یار آپ لوگ تو پیچھے ہی پڑ گئے ہو ۔“امتیاز کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے اپنے موقف سے ہٹ گیا ۔
ان کی گپ شپ کے دوران وہ گھر کے قریب پہنچ چکے تھے ۔کبیردادا کی کار کو گیٹ کی طرف مڑتے دیکھ کر امتیاز سے رہا نہیں گیا۔”خود دیکھ لوایک بجے واپس پہنچ گئے ہیں ۔کل بھی قریباََ اسی وقت پہنچے تھے ۔اور اس سے قبل پانچ بجے سے پہلے کبھی کوٹھی کا گیٹ نہیں دیکھا تھا ۔“
”آم کھاﺅ جگر ،پیڑ نہ گنو ۔اگر اس کی وجہ سے جلدی گھر آجاتے ہو تو اسے دعائیں دو۔“
”اس نمازن کو ہم جیسے گناہ گاروں کی دعا کی کیا حاجت ۔“اس مرتبہ امتیاز کے لہجے میں ہلکا سا دکھ ہلکورے لے رہا تھا ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *