Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33

Rakhail by Riaz Aqib Kohler Episode33

تناوش کو گھر چھوڑتے ہی اس نے دوبارہ کبیردادا کی رہائش گاہ کا رخ کیا اور خواب گاہ میں جاکر تصویر کے عقب میں چھپی تجوری کھول لی ۔ اس میں بھرے کروڑوں روپے ایک کالے لفافے میں ڈال کر وہ خوا ب گاہ سے باہر نکلا اوراوپری منزل پر موجود ایک بندکمرے کے دروازے پر جا کر رک گیا ۔وہ تالا کیا ہواکمرہ کافی عرصے تک اس کے استعمال میں رہ چکا تھا ۔اور یہاں سے جانے کے بعد بھی یہ کمرہ اسی کے نام پر مختص تھا ۔تالا کھول کر وہ اندرداخل ہوا اور کپڑوں کی الماری میں رقم چھپا کر باہر نکل آیا۔ کوٹھی سے نکلتے ہی وہ کبیردادا کو کال کرنے لگا۔وہ ساحل والے اڈے سے اٹھ کرگھر جانے کی تیاریوں میں تھا ۔
”دادا آپ تھوڑی دیر وہیں رک کر میرا نتظار کریں ایک بہت ضروری بات کرنا ہے۔“
”یار، یہ بات چیت بعد میں نہیں ہو سکتی ۔“کبیردادا کو تناوش کے پاس جانے کی جلدی تھی ۔گزشتا دو دن وہ مسلسل اپنے گھر جاتی رہی تھی اور آج وہ خوش قسمتی سے گھر پر موجود تھی ۔ کبیردادا جلد از جلد گھر جا کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانا چاہتا تھا ۔
”دادا کہا نا بہت ضروری مسئلہ ہے ،ایک بہت بڑی خوش خبری سنانا چاہتا ہوں ۔“
”اچھا جلدی آﺅ ۔“وہ گویا بادل نخواستہ مان گیا تھا ۔
پاشا کووہاں پہنچنے میں گھنٹا لگا تھا ۔کبیردادا بیزاری اور کوفت کاروپ دھارے اس کا منتظر تھا ۔
نشست سنبھالتے ہی وہ چہکا ۔”مبارک ہو دادا ،کام ہو گیا ۔“
”کیا ،کون سا کام ؟“اس کی آنکھوں میں حیرانی سمٹ آئی تھی اور دل کسی اندیشے سے دھڑکنے لگا تھا ۔
”بھابی چلی گئی ہے اور وہ کل پرسوں تک وہ ماں سے مشورہ کر کے اس شہر کا نام بتا دے گی جہاں انھوں نے منتقل ہونا ہے ۔“
”یار میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں ۔“کبیردادا نے بیزاری بھرے لہجے میں اسے جھڑکا ۔
پاشا اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”میں بھی ۔“
”اچھا ٹھیک ہے اب میں جاسکتا ہوں ۔“کبیردادا نے نشست چھوڑی ۔
”میری بات مکمل نہیں ہوئی دادا ۔“
” بکو ۔“نہ جانے کیوں کبیردادا کو بے اطمینانی محسوس ہونے لگی تھی ۔
”یہ سچ ہے ،لیکن اس مکار نے فوراََ مجھے بھائی بنا کر جذباتی طور پر دھونس جمائی اور یہ وعدہ لے لیا کہ وہ آپ کا سامنا نہیں کرے گی ۔“
”کیسے نہیں کرے گی سامنا ۔“کبیردادا کی آواز میں شامل غصے نے پاشا جیسے نڈر کو بھی لرزا دیا تھا ۔
”دادا ،آپ اپنے کہے سے پھر رہے ہیں ۔“
”نہیں یہ طے ہوا تھا ۔اور میں نے کہا تھا کہ میں اس کی آنکھوں میں ندامت دیکھنا چاہتا ہوں ،میں خود کانوں سے سن کر یہ یقین کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مجھے چھوڑکر جانے پر ہنسی خوشی راضی ہے ۔“
”اس کی مرضی میں آپ کو سنوا سکتا ہوں لیکن اس کے ساتھ آپ کو وعدہ کرنا پڑے گا کہ آپ اس سے بات نہیں کریں گے ۔“
”سناﺅ ۔“کبیردادا اپنی غیر ہوتی حالت پر مشکل سے قابو پائے ہوئے تھا ۔پاشا نے فوراََ تناوش کا نمبر ملا کر سپیکر آن کر دیا ۔
”اسلام علیکم بھیا ۔“کال وصول کرتے ہی اس کی مدھر آواز ابھری ۔ پاشا کو یوں بھیا کہنے پر کبیردادا کو کسی بڑی گڑ بڑ کا احساس ہوا تھا ۔
”وعلیکم اسلام بہنا ،کیا ماں جی سے مشورہ کرلیا ہے کہ کس شہر میں منتقل ہونا ہے ۔“
وہ دھیمے لہجے میں بولی ۔”ابھی تک نہیں کیا ۔“
”اچھا جلدی بات کرو ،کیونکہ تمھیں یہاں کافی خطرہ ہے اور میں جلد از جلد تمھیں کسی محفوظ جگہ پر منتقل کرنا چاہتا ہوں ۔باقی پریشان نہ ہونا تم نے جو کام بتایا ہے وہ ہو جائے گا ۔خواہ مخواہ نادم ہونے کی ضرورت نہیں ۔تم نے بڑا بھائی بنا لیا ہے تو بھائی بن کر دکھاﺅں گا ۔“پاشا نے اس کی کبیردادا کی تصویریں مانگنے والی بات کو ندامت سے جوڑ کر کبیردادا کی سوچوں کو من چاہا رخ دیا ۔
”شکریہ بھیا ۔“تناوش بھولے پن سے اس کی چال میں آگئی تھی ۔
”اور فکر نہ کرنا، جیسے ہی کبیردادا نے طلاق دی میں اسٹام پیپر پران کے دستخط کرا کر تمھارے حوالے کروں گا ۔اب یہ میری ذمہ داری ہے ۔“
”بھیا ….“تناوش یقینا کچھ الٹا سیدھا اگلنا چاہتی تھی۔پاشا نے فوراََ پیار بھرا انداز اپناتے ہوئے اسے جھڑکا۔
”اب بس ایک لفظ بھی نہ کہنا اس متعلق اور وعدہ کرتا ہوں کبیردادا تمھارے سامنے نہیں آئے گا ۔اپنا خیال رکھنا خدا حافظ ۔“اس نے تناوش کی بات سنے بغیر رابطہ منقطع کر دیا ۔ کبیردادا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی زندہ مثال بنا بیٹھا تھا ۔ساری گفتگو سن کر اسے پاشا پر ذرا سا بھی شک نہیں ہوا تھا ۔
”دادا آپ پریشان نظر آرہے ہیں ۔“موبائل فون جیب میں ڈالتے ہوئے وہ مستفسر ہوا ۔
کبیردادا اسے جواب دیے بغیر میز کی چکنی سطح پر نظریں جمائے کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہا تھا ۔
”دادا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ ہنسی خوشی جانا چاہے گی تو آپ نہیں روکیں گے ۔ اب آپ نے اپنے کانوں سے سن لیا ہے ۔اسے طلاق بھی چاہیے اور وہ آپ کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی ۔“
”سامنا تو اسے کرنا پڑے گا ۔“کبیردادا نے جیسے خود کلامی کی تھی ۔موت سے آنکھیں ملانے والا ایک لڑکی کی بے وفائی پر اپنے شاگرد سے نگاہ نہیں ملا پا رہا تھا ۔
اسی وقت پاشا کے موبائل فون پر پیغام کی گھنٹی بجی ۔تناوش نے پیغام بھیجا تھا ،وہ پڑھنے لگا ….
”بھیا ،پلیز انھیں کہہ دیں نا کہ مجھے طلاق نہ دیں ۔بے شک ساری زندگی انھیں منھ نہیں دکھاﺅں گی ۔پلیز وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے ۔“
’بے وقوف ہو تم ۔“اس نے فوراََ ہی جواب دے کر وہ پیغام مٹا دیا ۔
”بھیا ،پلیز اگر مجھے بعد میں لگا کہ طلاق لینا ضروری تھا تو میں اس وقت آپ کو کہہ کر طلاق لے لوں گی ،مگر فی الحال نہیں ۔پلیز انھیں کہیں نا کہ اگر انھوںنے مجھے طلاق دی تو مجھے کچھ ہو جائے گا ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ۔“اس نے دوسرے میسج کا جواب لکھ کر بھیجا اور دوسرا پیغام بھی مٹا دیا۔
”اسی کے پیغام ہیں ۔“کبیردادا کو جانے کیسے اندازہ ہوا تھا ۔
”ہاں ۔“پاشا نے اثبات میں سر ہلایا۔”مگر ایسے نہیں جو آپ کو پڑھائے جا سکیں ۔ وہ بے چاری ڈری ہوئی ہے ۔مجھے بار بار وعدے یاد دلا رہی ہے ،منتیں کر رہی ہے ۔اور کیوں نہ کرے آپ کا خوف اب تک ہمارے دلوں سے نہیں نکل سکا وہ بے چاری تو چھوٹی سی لڑکی ہے۔“
”وہ چھوٹی سی لڑکی ،عملوں کی پوری ہے ۔“کبیردادا نے دانت پیسے ۔
”دادا اگر اسے نادم اور شرمندہ کر کے آپ کی انا کو تسکین مل سکتی ہے تو چلیں ابھی اس کے پاس چلتے ہیں ۔وہ ایک غریب بے سہارا لڑکی ہے ،زندگی میں سوائے محرومیوں ،حسرتوں اور پوری نہ ہونے والی خواہشوں کے اس نے کچھ نہیں دیکھا ۔پہلی بار اے سی میں سوئی ،پہلی بار فرج کا ٹھنڈا پانی چکھا ،ناشتے میں باسی روٹی کھانے والی، شہد ،جام ،انڈے ،مکھن وغیرہ سے لطف اندوز ہوئی ۔اتنا آرام دہ بستر دیکھا ۔پر تعیش خواب گاہ اور آرام دہ باتھ روم کی سہولت محسوس کی ۔ ملازموں کی سی زندگی گزارنے والی کو ملازموں پر حکم چلانے کا موقع ملا اور بے چاری اس زندگی کے حصول کی خواہش میں جی جان سے جت گئی ۔میرے سامنے بھی پہلے تو اس نے اپنی محبت وغیرہ کا ڈھنڈورا پیٹا ،لیکن جب میں نے اسی طرح کی کوٹھی ،کار اور منھ مانگی دولت دینے کا وعدہ کیا تو اپنے دعوے پر قائم نہ رہ سکی اور پھر آپ کا سامنا نہ کرنے کی شرط پر ہنسی خوشی طلاق لینے پر آمادہ ہو گئی ۔اب آپ اسے کس بات پر شرمندہ کریں گے ۔یہی پوچھیں گے کہ وہ جھوٹی محبت ظاہر کرتی رہی ۔وہ خاموشی سے سر جھکا لے گی اور آپ کی انا کو تسکین مل جائے ہے نا ۔“
کبیردادا خاموش بیٹھا رہا ۔
”دادا یقین مانیں اس طرح بس میں اس کی نظروں سے گرجاﺅں گا ۔کچھ بھی ہے اس کو میں نے بہن کہا ہے ۔اور یقین مانیں اس کی باتیں سن کر وہ مجھے دھوکا باز نہیں لگی ۔گو وہ آپ سے جھوٹی محبت جتاتی رہی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ اس شادی کو قائم رکھنا چاہتی تھی ۔گو اس کے پش پردہ عیش و آرام کی زندگی کا حصول تھا ۔اب آپ کے بغیر اسے یہ زندگی مل رہی تھی تو اس نے آمادگی ظاہر کرنے میں دیر نہ لگائی ۔میں نے بھی اس سے سچ اگلوانے کے لیے بڑے وعدے اور قسمیں کھائیں کہ اسے آپ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔“
کبیردادانے گہرا سانس لے کر پاشا کی باتوں کو ہضم کرنے کی کوشش کی مگر اس کے اندر عجیب قسم کی آگ سلگ رہی تھی ۔تناوش ایسے کیسے جا سکتی تھی ۔اب جبکہ وہ اس کی محبت پر اعتبار کر بیٹھا تھا تو اس نے ایک دم اس کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی تھی ۔
”کیا سوچ رہے ہیں ۔“پاشا پھر اس کی سوچوں میں مخل ہوا ۔
چند لمحے سوچنے کے بعد وہ بولا۔”ٹھیک ہے ،اسے دوسرے شہر میں منتقل کرو ۔اس کے لیے بہت اچھی کوٹھی خریدنا ،کالے رنگ کی مرسڈیز لینا اور اتنی رقم دینا کہ اسے کسی سے مدد کی ضرورت باقی نہ رہے ۔“
پاشا مسکرایا ۔”رقم تو میرا خیال ہے اس نے حاصل کر لی ہے ،کیونکہ خواب سے نکلتے وقت دو تین کالے لفافے اس نے پکڑے ہوئے تھے ۔اور ایک لفافے میں مجھے بڑے نوٹوں کی گڈیوں کی جھلک بھی نظر آئی تھی ۔مزید گھر جا کر تسلی کر لینا ۔“
”دو اڑھائی کروڑ تو ہو گا ۔“کبیردادا کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
”اچھا یہ حساب کتاب تو بعد میں کرتے رہیں گے ۔پہلے آپ وعدہ کریں کہ اسے تنگ نہیں کریں گے ،میرا مطلب اسے کال وغیرہ بھی نہیں کریں گے ۔“
”کہہ دیا نا ٹھیک ہے ۔“کبیردادا چڑ گیا تھا ۔
”اچھا آپ اپنا موبائل فون مجھے دیں ۔“پاشا نے اس کی طرف ہاتھ پھیلایا۔
کبیردادا نے میز پر پڑا موبائل فون اس کی طرف دھکیل دیا ۔پاشا نے فوراََ تناوش کا نمبر کالیں اور پیغامات وغیرہ مٹا کر موبائل فون واپس کبیردادا کی طرف بڑھا دیا ۔
”میں نے اپنی بہن کانمبر مٹا دیا ہے ۔اگر اس کا دل چاہا تو آپ کو کال کر لے گی ورنہ آپ اسے کال نہیں کرسکیں گے ۔“
”تمھارا دماغ درست ہے ۔“کبیردادا دھاڑا ۔
”پہلے میری پٹائی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکال لیں اس کے بعد جواب دوں گا ۔“
”اس کا نمبر تو نہیں مٹانا چاہیے تھا ۔“
”کرنا کیا ہے اس کے نمبر کا ۔اگر اسے ضرورت ہو گی تو خود ہی کال کر لے گی ۔شاید ندامت وغیرہ کے اظہار کے لیے کال کر بھی لے جو کافی مشکل دکھائی دے رہا ہے ۔البتہ آپ کو ہلکا ہونے کی اجازت میں ہرگزنہیں دوں گا ۔کبیردادا ایک چھوٹی سی چھوکری سے محبت کی بھیک مانگتا پھرے یہ مجھے گوارا نہیں ۔“
”تم بس بکواس کر سکتے ہو ۔“کبیر دادا نے اسے جھڑکا۔
”نصیحت سمجھیں ،مشورہ جانیں یا بکواس کہیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔آج میرے سر سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے ۔آپ کی صلاحیتوں کو زنگ لگانے والی ،آپ کو مقصد سے دور کرنے والی اور آپ کی کامیابی و ترقی کی راہ کا سب سے بڑا روڑا آج میں نے ہٹا دیا ہے ۔اور فکر نہ کرنا اسے بہن کہا ہے تو اس کے لیے کوٹھی کار وغیرہ کا بندوبست میں اپنے پیسوں سے کر لوں گا۔“
”چلنا چاہیے ۔“اس کی بات کا جواب دیے بغیر کبیردادا کھڑا ہو گیا ۔
”مہربانی فرما کر اس کے گھر کا رخ نہ کر لینا ۔“پاشا آخری لمحوں میں اسے نصیحت کرنے سے نہیں چوکا تھا ۔البتہ تناوش کو طلاق دینے کا ذکر اس نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا کہ وہ کبیردادا کو تھوڑا سا موقع دینا چاہتا تھا ۔یوں ایک دم اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں تھا ۔اپنی پہلی محبت کو وہ اتنی جلدی تو نہیں دل سے نہیں نکال سکتا تھا ۔
”بھاڑ میں جائے یا ر۔“کبیردادا غم و غصے میں کھولتا ہوادفتر سے باہر نکل گیا ۔
٭٭٭
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ بھاں بھاں کرتی ہوئی ماں سے جا لپٹی ۔
”کیا ہوا میری شہزادی کو ۔“بشریٰ اسے ساتھ لپٹائے چارپائی پر بیٹھ گئی ۔مگر وہ جواب دیے بغیر سسکیاں بھرتی رہی ۔
اس کے ہاتھوں میں تھامے سامان کو دیکھتے ہی بشریٰ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کیوں رو رہی ہے ۔
”اچھا اتنا نہیں روتے ،میری شہزادی کے لیے رشتوں کی کوئی کمی ہے ،اتنے رشتے آئیں گے کہ حساب رکھنا مشکل ہو جائے گا ۔پھر میری گڑیا اپنی پسند کا شہزادہ چنے گی اور آرام سے بقیہ زندگی گزارے گی ۔
وہ چیخی ”مجھے ان کے علاوہ کوئی نہیں چاہیے ،کوئی بھی نہیں ،نہ شہزادہ نہ بادشا ہ یا وزیر ۔“
بشریٰ اسے سمجھانے لگی ۔”ہے نا پاگل ،ایک غنڈے موالی سے وفا اور محبت کی توقع رکھنا بے وقوفی ہی تو ہے ۔ شکر کرو اس نے اتنی آسانی سے تمھاری جان چھوڑ دی ۔“
”نہیں چھڑانا مجھے اپنی جان ،قید رہنا چاہتی ہوں ان کے پاس۔ آپ چلیں ان سے بات کریں کہ وہ مجھے طلاق نہ دیں ۔میں ان کی ملازمہ بن کر پڑی رہوں گی ،کوئی خواہش کوئی تمنا نہیں کروں گی ۔وہ جو مرضی آئے کرتے رہیں مگر مجھے خود سے دور نہ کریں ۔میں انھیں شراب پینے سے بھی منع نہیں کروں گی ۔چلیں نا ماں جی چلیں ان کے پاس وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے۔“وہ سسکیاں بھرتے ہوئے گڑگرانے لگی ۔
”ایسا نہیں کہتے میری جان ،اسے محبت نہیں کہتے ۔اگر اس کی نظروں میں تمھاری ذرا سی بھی وقعت ہوتی تو تمھیں یوں کیوں دھتکارتا ۔اپنی رہی سہی عزت گنوانے سے کیا ملے گا۔ جب اسے تم سے محبت ہی نہیں ہے تو میری منت کس کام کی ۔یاد ہے نا کیا کہا تھا کہ ،ایسے با اختیار اور صاحبِ حیثیت لوگوں کے لیے ہم غریب مخمل میں ٹاٹ کے پیوند جتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس نے بس تمھاری صورت دیکھ کر شادی کی حامی بھری تھی ۔اور صورت کے پجاری کا دل چند دنوں ہی میں سیر ہو جایا کرتا ہے ۔اب اسے کسی نئی صورت اور تازہ جوانی کی تلاش ہو گی تم اس کے لیے باسی ہو گئی ہو میری شہزادی ۔اس کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہوتی تو اسے معلوم ہوتا نا کہ اس نے کس ہیرے کو ٹھوکر ماری ہے ۔“
”نہیں ہوں میں ہیرا ،ایک بے حیثیت پتھر سے بھی کم اوقات ہے میری ۔ان کی ملازمہ بننے کے لائق بھی نہیں ۔نہ دیتے بیوی کے حقوق اپنی خدمت تو کرنے دیتے ۔اس بہانے انھیں دیکھتی تو رہتی نا ۔“وہ سسکیاں بھر بھر روتی رہی ۔
بشریٰ خاتون کی آنکھیں بھی بیٹی غم میں بھر آئی تھیں ،مگر وہ رو کر اپنی بیٹی کے دکھ کو بڑھانا نہیں چاہتی تھی ۔وہ اسے تسلیاں دیتی رہی ،سنہرے مستقبل ،ان دیکھے شہزادے اور آرام دہ خوشگوار ازدواجی زندگی کے بارے باتیں کر کے اس کا ذہن بٹاتی رہی ۔گھنٹے ڈیڑھ میں اس کی حالت سنبھل گئی تھی ۔بشریٰ تھوڑی دیر اسے گود میں لیے بیٹھی رہی اور پھر اسے چارپائی پر لٹا کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی ۔اس کے چاے بنانے سے پہلے موبائل فون کی گھنٹی بجی ۔تناوش ہڑبڑا کر موبائل فون کی طرف متوجہ ہوئی ۔پاشا کی کال نے اسے مایوس کر دیا تھا ۔کسی ان ہونی کی امید میں اس نے کال وصول کرنے کا بٹن دبا کر موبائل فون کان سے لگا لیا ۔گفتگو کے اختتام پر اس کی مایوسی دو چند ہو گئی تھی ۔
پھر اس سے صبر نہ ہو سکا اور وہ پاشا کو پیغام لکھنے لگی ۔
٭٭٭
کار سے اترتے ہی اس کی نظریں دروازے کی چوکھٹ کو دیکھنے لگیں جہاں ،سیاہ نشیلی آنکھوں میں محبت کی شمعیں روشن کیے ،خوب صورت ہونٹوں پر پیار بھری مسکان سجائے وہ اس کی منتظر کھڑی ہوتی تھی ۔
خواب گاہ میں داخل ہوتے ہی اس نے چاروں طرف نگاہیں دوڑائیں ۔شراب کی الماری کے تالے میں دھاگاپروئی چابی لگی ہوئی تھی ۔
”بس اتنا ہی خیال رکھنا تھا ۔اب شراب نوشی مجھے نقصان نہیں پہنچائے گی یا اب تمھارا مطمح نظر پورا ہوگیا ہے ۔“کبیردادا کے دماغ میں شکوہ کرتی سوچ ابھری اور وہ تجوری کی طرف بڑھ گیا ۔تالہ کھولتے ہی پاشا کی بات کی تصدیق ہو گئی تھی ۔پیسوں کے نام پر وہاں پھوڑی کوڑی بھی دکھائی نہ دی ۔البتہ اس کے ضروری کاغذات وغیرہ کو اس نے نہیں چھیڑا تھا ۔
”تو تمھیں دولت چاہیے تھی ،بہت ساری ۔“اس کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”ضرور ملے گی اور بھی ملے گی مگر سکون نہیں ملے گا ،کبھی بھی نہیں ،یقینا تم مجھ سے بھی بڑی گنیگسٹر نکلیں کہ مجھے چاروں شانے چت کر دیا ۔“اس کے دماغ میں تناوش کا فقرہ گونجا۔
”کبیرکو دادا کہتے ہو تو مجھے دادی کہا کرو ۔“اس وقت اس کے فقرے پر ہنسنے والے کو آج محسوس ہو رہا تھا کہ وہ واقعی تناوش دادی ہی نکلی تھی ۔
وہ ڈریسنگ روم میں داخل ہوا ۔اس کی الماری خالی تھی صرف کبیردادا کادیا ہوا لباس وہ وہیں چھوڑ گئی تھی ۔
”اتنے پیسے لے گئی ہو اپنے پرانے لباس ہی چھوڑ جاتیں ۔“اس کی سوچیں شاکی ہوئیں۔
اپنے ترتیب سے لٹکے ہوئے سارے لباس اس نے الماری سے باہر نکال کر پھینک دیے ۔ دراز میں موجودخوشبو میں بسی جرابیں بھی نیچے قالین پر بکھیر دیں ۔”نہیں چاہیے تمھاری کوئی خدمت ۔“غصے میں کہتے ہوئے اس نے ڈریسنگ روم میں ترتیب سے رکھی تمام اشیاءبکھیر دی تھیں ۔”ہاتھ بھی نہ لگانا میری چیزوں کو دفع ہو جاﺅ ،بڑی آئی محبت جتانے والی ….تم جانتی نہیں میں کبیردادا ہوں ،دنیا مجھ سے ڈرتی ہے ۔اور تمھاری یہ جرّات کہ مجھے کبیر کہو ۔دوبارہ ایسا کہنے کی کوشش بھی کی تو گردن توڑ دوں گا تمھاری ۔“وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکل آیا۔
”تمھارا کیا خیال ہے میرے ہاتھ نہیں ہیں ،اپنے بوٹ نہیں اتار سکوں گا ۔“میز پر بوٹ رکھ اس نے جھک کر باری باری دونوں جوتوں کے تسمے کھولے اور جوتے اتار کر بوٹ ریک کی طرف اچھالتا ہوا چلایا۔”کھول لیے ،کیا میرے ہاتھ گھِس گئے ہیں یا سانس چڑھ گیا ہے ۔ ٹائی بھی کھول لوں گا ۔“ٹائی کی گرہ ڈھیلی کر کے اتارتے ہوئے اس نے قالین پر پھینک دی ۔ کوٹ بھی اتار کر دور اچھال دیا ۔”بچہ نہیں ہوں ،سب کام کر سکتا ہوں ،بڑی آئی اپنی خدمت سے متاثر کرنے والی ،نہیں چاہیے تمھاری خدمت ،تمھاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔نہ گھر میں کوئی جگہ ہے اور نہ میری زندگی میں ۔“
صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔
”کھانا نہیں کھاتے تو چاے کی پیالی پی لو ….تھکے ہوئے آئے ہو ۔“اس کے دماغ میں تناوش کی آواز گونجی ۔
”کہا ناکچھ نہیں چاہیے ۔“وہ اتنی زور سے دھاڑا تھا کہ راحت خالہ بھاگتی ہوئی وہاں پہنچ گئی ۔
”جی صاحب جی ۔“
منھ سے کچھ کہے بغیر اس نے ہاتھ کے اشارے سے واپس جانے کا کہا اور آنکھیں بند کر لیں ۔
”نہیں پیوں گا چاے ،کھانا بھی نہیں کھاﺅں گا ،ہفتہ ہفتہ جرابوں کا ایک ہی جوڑا پہنے رکھوں گا تین تین بوتلیں شراب کی بھی پیوں گا ۔تم کون ہوتی ہو مجھے روکنے ٹوکنے والی ۔ہاں بتاﺅ نا تم کون ہومجھے روکنے والی ۔کبیر دادا عورت کو پاﺅں کی جوتی سمجھتا ہے ،کئی آئیں اور کئی گئیں اگر تم خود دفع نہ ہوتیں تو کل پرسوں تمھیں بھی ٹھوکر مار کر بھیج دیتا ۔“وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتا رہا ۔آنکھیں بند کرتے ہی وہ چھلانگ لگا کر پھر خیالوں میں آدھمکی ….اس کے بازو پر سر رکھ کر وہ اس کی چھاتی پر ملائم ہاتھ پھیر رہی تھی ۔
وہ پوچھنے لگا ۔”یہ تناوش بھلا کیسا نام ہے ؟“
اس کی مترنم ہنسی گونجی ۔”کبھی قرآن پڑھا ہوتو پتا چلے نا جناب کو بائیسویں پارے کی سورہ سبا میں میرا نام ذکر ہوا ہے ،پکڑے نہ جانا ،ہاتھ نہ آنا ،ناممکن الحصول ۔پتا نہیں آپ کے قابومیں کیسے آگئی ۔“
اس نے منھ بنایا۔”جی مجھے کسی کو قابو کرنے کا کوئی شوق نہیں ۔“
وہ وارفتگی سے بولی ۔”مگر مجھے تو آپ کے قابو میں آنے کا شوق ہے نا ۔“
”جھوٹی ،دورغ گو ،غلط بیاں دھوکے باز ….بکواس کرتی ہے ۔“وہ پھر غم وغصے میں بڑبڑاتا ہوا اٹھ بیٹھا۔اس کی نظر شراب کی الماری کی طرف اٹھی اور وہ اسی طرف بڑھ گیا ۔اکٹھی تین بوتلیں ہاتھ میں پکڑ کر وہ واپس صوفے پر آن بیٹھا ۔
”کسی میں اتنی جرّات نہیں کہ مجھے شراب نوشی سے روک سکے ۔جتنی مرضی ہو گی پیوں گا ۔بوتل کھول کر اس نے گلاس میں انڈیلنے کا تکلف کیے بغیر بوتل منھ سے لگا لی ۔تلخ سیال نے اس کی چھاتی میں آگ جیسی سلگا دی تھی ۔مگر وہ غٹا غٹ پیتا رہا ۔ایک بوتل خالی کر کے اس نے دوسری بوتل کھول لی ۔اور دوسری کے ختم ہونے پر تیسری کو ہونٹوں سے لگا لیا ۔ایک دم خالص شراب کی اتنی مقدار معدے میں انڈیلنے سے اس پر مدہوشی چھانے لگی ۔وہ چوتھی بوتل لینے کے لیے الماری کی طرف بڑھا ،لڑکھڑاتے قدموں نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا ۔وہ لہراتا ہوا قالین پر گرا ۔اس کا سر بڑی مشکل سے بیڈ سے ٹکرانے سے بچا تھا ۔ایک دو لمحہ اسی طرح پڑے رہنے کے بعد وہ سرجھٹکتا ہوا بیڈ کا کنارہ پکڑ کر اوپر اٹھا اور پھر اوندھے منھ ہی بیڈ پر لیٹ گیا ۔
” قریب نہ آنا ،مجھے کسی کی بھی ضرورت نہیں ،میں اپنا خیال رکھ سکتا ہوں ۔“اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی ہے ۔”اپنے گندے ہاتھ میرے سر سے دور رکھو ،میں کہہ رہا ہوں دور رکھو اپنے ہاتھ ۔“وہ ایک ہاتھ سے اسے دور جھٹکنے لگا ۔وہ شاید جلدی سے پیچھے ہٹ گئی تھی تبھی تو وہ اس کا ہاتھ پکڑ نہیں سکا تھا ۔مگر جیسے ہی وہ اپنا ہاتھ پیچھے کرتا وہ دوبارہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگتی ،اس کی شوخ ،مترنم اور چنچل ہنسی کبیردادا کو غصہ دلانے لگی ۔مگر اس میں اسے دور ہٹانے کی سکت نہیں رہی تھی ۔”دور ہوجاﺅ ….پرے ہو جاااااﺅوو….“اس کی آواز نیند میں ڈوب گئی ۔
”بس اتنی ہی محبت تھی تمھاری ۔“اسے قیمتی کار سے اترتے دیکھ کر کبیردادا نے طعنہ دیا۔”دھوکے باز کہیں کی ،مطلبی خود غرض ۔میرے جذبات سے کھیلتے ہوئے تمھیں ذرا سا بھی احساس نہ ہوا ۔“
وہ گھبرائے بغیراستہزائیہ لہجے میں بولی ۔”لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا قاتل ، شرابی اور بدکردار شخص مجھے اخلاق سکھا رہا ہے واہ ۔“
وہ چلایا ۔”بکواس بند کرو ۔“
”ورنہ کیا کر لو گے ،مجھے بھی قتل کر دو گے ….لو چلاﺅ گولی ،ڈرتی نہیں ہوں تم سے ۔ جو کر سکتے ہو کرلو ۔“
”تمھارے جیسی گھٹیا عورت میں نے آج تک نہیں دیکھی ۔“
”تعریف کرنے کا شکریہ ۔“اس کی گنگناتی ہنسی نے کبیردادا کے کانوں میں رس انڈیلا ۔اتنا غصہ ہونے کے باوجود وہ اس کی ہنسی سے خود کو متاثر ہونے سے نہیں روک سکا تھا ۔
”تمھیں یہاں بھی تو عیاشی بھری زندگی مل سکتی تھی ،پھر تم نے دور جانے کا فیصلہ کیوں کیا ۔“اس مرتبہ اس کے لہجے میں غصے کے بجائے شکوے کا عنصر نمایاں تھا ۔
اس نے کندھے اچکائے ۔”کسی کی ملازمہ بن کر رہنا کون پسند کرتا ہے مسٹر کبیر۔“
”ملازمہ اور بیوی میں فرق ہوتا ہے ۔“
”نام کی حد تک ،کام دونوں کا ایک ہی ہوتا ہے اور جب آزادی کی زندگی میسر ہو تو کیا ضرورت ہے قید میں رہنے کی ۔“
”پلیز ….“وہ منتوں پر اتر آیا ۔
”ہاہاہا۔“اس نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔”تم تو بہت بڑے دادا ہو،اتنی جلدی گھٹنے ٹیک دیے۔“ بے پروائی سے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی اور کبیردادا حسرت بھری نظروں سے اسے گھورتا رہ گیا ۔
٭٭٭
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *